65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الطلاق پچھلی دو سورتوں میں مسلمانوں کو یہ تنبیہ فرمائی گئی تھی کہ وہ اپنے بچوں کی محبت میں گرفتار ہو کر اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہوں، اب اس سورت اور اگلی سورت میں میاں بیوی کے تعلقات سے متعلق کچھ ضروری احکام بیان فرمائے گئے ہیں، ازدواجی تعلقات کے مسائل میں طلاق ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں عملاً بہت افراط وتفریط پائی جاتی ہے، چنانچہ قرآن کریم نے اس کے بارے میں متوازن طرز عمل اختیار کرنے کے لئے طلاق کے کچھ احکام سورة بقرۃ : ٢٢٦ تا ٢٣٠ میں بیان فرمائے ہیں، اب اس سورت میں طلاق کے وہ احکام بیان فرمائے گئے ہیں جو وہاں بیان نہیں ہوئے تھے، چنانچہ بتایا گیا ہے کہ اگر طلاق دینی ہو تو اس کے لئے صحیح وقت اور صحیح طریقہ کیا ہے، نیز جن عورتوں کو حیض نہ آتا ہو اس کی عدت کتنی ہوگی، عدت کے دوران ان کے سابق شوہروں کو ان کا خرچ کس معیار پر اور کب اٹھانا ہوگا، اگر اولاد ہوچکی ہو تو اس کو دودھ پلانے کی ذمہ داری کس پر ہوگی، اس قسم کے احکام بیان فرماتے ہوئے بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر مرد اور عورت کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنے چاہئیں، کیونکہ میاں بیوی کا تعلق ایسا ہے کہ ان کی ہر شکایت کا علاج عدالتوں سے نہیں مل سکتا، ایک متوازن خاندانی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک ہر فریق اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام نہ دے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہی کو دنیا اور آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی ! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو ، (1) اور عدت کو اچھی طرح شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے، ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں، (2) اور یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں اور جو کوئی اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود سے آگے نکلے، اس نے خود اپنی جان پر ظلم کیا، تم نہیں جانتے، شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کردے۔ (3)

1: جب میاں بیوی میں طلاق کے ذریعے علیحدگی ہوجائے تو عورت کو دوسرا نکاح کرنے کے لئے کچھ مدت انتظار کرنا ضروری ہوتا ہے، اس مدت کو عدت کہا جاتا ہے، سورة بقرہ (2: 228) میں گزرچکا ہے کہ جن عورتوں کو طلاق ہوگئی ہو، ان کی عدت یہ ہے کہ طلاق کے بعد ان کو تین ماہواریاں آجائیں، اب اس آیت میں طلاق دینے والوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر انہیں طلاق دینی ہو تو وہ ایسے وقت طلاق دیں کہ عدت شروع ہونے والی ہو، حضور اکرم ﷺ نے اس کی تشریح یہ فرمائی ہے کہ ایسے وقت طلاق نہ دی جائے جب بیوی کو ماہواری آرہی ہو، بلکہ ایسے طہر یعنی پاکی کی حالت میں طلاق دی جائے جس میں بیوی سے جماع بھی نہ کیا ہو، اس حکم میں دو مصلحتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں، ایک یہ کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ اول تو جب میاں بیوی کا رشتہ ایک مرتبہ قائم ہوجائے تو وہ قائم رہے، اور اگر طلاق کے ذریعے اس کے ٹوٹنے کی نوبت آئے تو وہ بھی اچھی طرح سوچ سمجھ کر شریفانہ طریقہ پر ہو جس میں فریقین میں سے کوئی دوسرے کے لئے ناواجبی تکلیف کا سبب نہ بنے، اگر ماہواری کی حالت میں طلاق دی جائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ وقتی نفرت کی وجہ سے دی جارہی ہو، یا اگر ایسی پاکی کی حا لت میں دی جائے جس میں دونوں جماع کرچکے ہوں تب بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی کی طرف شوہر کی رغبت کم ہوگئی ہو، اس کے برخلاف اگر ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں ایک مرتبہ بھی جماع نہ ہوا ہو تو عام طور پر یہ وقت ایسا ہوتا ہے جب بیوی کی طرف شوہر کی رغبت اپنے شباب پر ہوتی ہے، اس کے باوجود اگر وہ طلاق دے رہا ہے تو اس بات کی علامت ہے کہ طلاق کسی وقتی بےرغبتی کا نتیجہ نہیں ہے، دوسری مصلحت یہ ہے کہ اگر ماہواری کے دوران طلاق دی جائے تو عورت کے لئے عدت کا زمانہ بلا وجہ لمبا ہوجاتا ہے، کیونکہ جس ماہواری کے دوران طلاق دی گئی ہے، وہ عدت میں شمار نہیں ہوگی اس لئے عدت اس وقت شروع ہوگی جب عورت اس ماہواری سے پاک ہوجائے، پھر دوبارہ ماہواری آنے کا انتظار کرے، اس سے عورت کو تکلیف ہوسکتی ہے، لہذا حکم یہ دیا گیا ہے کہ طلاق ایسے طہر میں دی جائے جس میں جماع نہ ہوا ہو۔ یہ اس آیت کی وہ تفسیر ہے جو اکثر مفسرین نے اختیار کی ہے اور اس کی تائید کچھ صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے، بعض مفسرین نے اس کی ایک اور تفسیر کی ہے وہ آیت کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ انہیں عدت کے لئے طلاق دو ، اور مطلب یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ انسان جب بیوی کو طلاق دے تو رجعی طلاق یعنی ایسی طلاق دے جس سے عدت کے دوران رجوع کرنا ممکن ہو، گویا عدت تک کے لئے طلاق دی جائے، اس دوران سوچنے سمجھنے کا موقع ہوگا، اور اگر حالات معمول پر آجائیں تو طلاق سے رجوع کرلیا جائے جیسا کہ اگلی آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔ 2: عدت کے دوران شوہر کے ذمے واجب ہے کہ جس بیوی کو طلاق دی ہے اس کو اپنے گھر میں رہائش فراہم کرے، اور عورت کے ذمے بھی یہ واجب ہے کہ وہ شوہر ہی کے گھر میں عدت گزارے، اور کہیں نہ جائے، البتہ اللہ تعالیٰ نے وہ صورت اس سے مستثنی فرمادی ہے جب عورت کسی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ کسی بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھے، اور دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ لڑائی جھگڑے میں بدزبانی کرنے لگے، اس صورت میں بھی اس کا شوہر کے گھر میں رہنا ضروری نہیں ہے۔ 3: یہ اسی طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات باہمی جھگڑے کی وجہ سے لوگ طلاق دے ڈالتے ہیں، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان صلح صفائی کرادیتے ہیں، ایسی صورت میں نکاح کا رشتہ دوبارہ قائم ہوسکتا ہے، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب طلاق رجعی دی گئی ہو، اس لئے اس آیت میں ترغیب یہی دی گئی ہے کہ طلاق دینی بھی ہو تو رجعی طلاق دینی چاہیے، کیونکہ طلاق بائن کے بعد شوہر کے ہاتھ سے رجوع کا اختیار نکل جاتا ہے اور طلاق مغلظہ (تین طلاقوں) کے بعد میاں بیوی دونوں کے ہاتھ سے دوسرا نکاح کرنے کا اختیار بھی ختم ہوجاتا ہے۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ عورتیں اپنی (عدت کی) میعاد کو پہنچنے لگیں تو تم یا تو انہیں بھلے طریقے پر (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا پھر بھلے طریقے سے ان کو الگ کردو، (4) اور اپنے میں سے دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو عدل والے ہوں۔ (5) اور اللہ کی خاطر سیدھی سیدھی گواہی دو ، (6) لوگو ! یہ وہ بات ہے جس کی نصیحت اس شخص کو کی جارہی ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔

4: یہ اس صورت کا تذکرہ ہورہا ہے جب شوہر نے طلاق رجعی دی ہو، اس صورت میں جب عدت پوری ہونے سے پہلے شوہر کو فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آیا وہ طلاق سے رجوع کرکے بیوی سے ازدواجی تعلق بحال کرنا چاہتا ہے یا اب بھی علیحدگی ہی مناسب سمجھتا ہے، دونوں صورتوں میں اسے یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ جو کام بھی کرے بھلے طریقے سے کرے، اگر نکاح کا رشتہ باقی رکھنا ہے تو طلاق سے رجوع کرلے اور آئندہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اگر علیحدگی چاہتا ہے تب بھی شریفانہ انداز میں بھل منسی کے ساتھ بیوی کو رخصت کرے۔ 5: رجوع کی صورت میں ترغیب دی گئی ہے کہ دوگواہوں کی موجودگی میں شوہر یہ کہے کہ میں نے طلاق سے رجوع کرلیا، عدل والے گواہوں سے مراد گواہوں کا نیک ہونا ہے، یہ رجوع کا پسندیدہ طریقہ ہے ؛ لیکن رجوع کی لازمی شرط نہیں ہے، اسی طرح اگر شوہر زبان سے کچھ نہ کہے ؛ لیکن بیوی سے حقوق زوجیت ادا کرلے ؛ بلکہ بوس وکنار ہی کرلے، تب بھی رجوع ہوجاتا ہے۔ 6: یہ ان گواہوں سے خطاب ہے جن کی موجودگی میں شوہر نے طلاق سے رجوع کیا ہو کہ اگر کبھی رجوع کو ثابت کرنے کے لئے گواہی دینی پڑے تو ٹھیک ٹھیک گواہی دیں
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ (البتہ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ (7)

7: یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کا کام بنا دیتا ہے، لیکن کام بنانے کی نوعیت اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ خود مقر فرماتا ہے، کیونکہ اس نے ہر چیز کا ایک نپا تلا اندازہ طے فرما رکھا ہے۔
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری عورتوں میں سے جو ماہواری آنے سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں (ان کی عدت کے بارے میں) شک ہو تو (یاد رکھو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے، (8) اور ان عورتوں کی (عدت) بھی (یہی ہے) جنہیں ابھی ماہواری آئی ہی نہیں، اور جو عورتیں حاملہ ہوں، ان کی (عدت کی) میعاد یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں۔ اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تم پر اتارا ہے، اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کردے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

8: سورة بقرہ (2: 228) میں طلاق یافتہ عورتوں کی عدت تین ماہواری بتائی گئی ہے، اس پر بعض حضرات کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ جن عورتوں کی ماہواری بڑی عمر میں پہنچنے پر بند ہوجاتی ہے ان کی عدت کیا ہوگی ؟ اس آیت نے واضح فرمادیا کہ تین ماہواری کے بجائے ان کی عدت تین مہینے ہوگی، اور اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی ماہواری آنی شروع ہی نہیں ہوئی ان کی عدت بھی تین مہینے ہوگی، اور جن عورتوں کو حمل کی حالت میں طلاق دی گئی ہو اس کی عدت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے یا حمل کسی وجہ سے گرجائے، چاہے وہ تین مہینے سے کم مدت میں ہو یا زیادہ مدت میں۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

ان عورتوں کو اپنی حیثیت کے مطابق اسی جگہ رہائش مہیا کرو جہاں تم رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے انہیں ستاؤ نہیں، (9) اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو اس وقت تک نفقہ دیتے رہو جب تک وہ اپنے پیٹ کا بچہ جن لیں۔ (10) پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت ادا کرو، اور (اجرت مقرر کرنے کے لیے) آپس میں بھلے طریقے سے بات طے کرلیا کرو، اور اگر تم ایک دوسرے کے لیے مشکل پیدا کرو گے تو اسے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی۔ (11)

9: مرد کو یہ نہ سوچنا چاہیے کہ اب بیوی کو رخصت کرنا ہی ہے، اس لئے اسے ستاکر رخصت کروں، اس کے بجائے اس کے گھر میں رہنے کے دوران اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے، اور اسی آیت سے حنفی حضرات نے یہ بھی استدلال کیا ہے کہ مطلقہ چاہے رجعی ہو یا بائنہ عدت کے دوران اس کا نفقہ شوہر کے ذمے واجب ہے کیونکہ نفقہ نہ دینا ستانے کا ہی ایک طریقہ ہے، جس سے اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے۔ 10: عام حالت میں تو عدت تین مہینے کے قریب قریب پوری ہوجاتی ہے ؛ لیکن چونکہ حمل کی مدت اس سے لمبی بھی ہوسکتی ہے، اس لئے اس حالت کا خاص طور پر ذکر فرما کر حکم دیا گیا ہے کہ نفقہ بچے کی پیدائش تک جاری رہے گا، چاہے اس میں کتنی دیر لگے۔ 11: مطلقہ عورت خود اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لئے اپنے سابق شوہر اور بچے کے باپ سے اجرت کا مطالبہ کرسکتی ہے اور آیت میں ترغیب دی گئی ہے کہ اجرت آپس کی رضا مندی سے طے کرلینی چاہیے، نہ تو شوہر اس میں بخل سے کام لے ؛ کیونکہ اگر آپس کی رضامندی سے بات طے نہ ہوسکی تو کسی اور عورت کو رکھنا پڑے گا اور ظاہر ہے کہ وہ رواج کے مطابق اجرت مانگے گی ، ، لہذا کیوں نہ بچے کی ماں ہی کو وہ اجرت دے دی جائے، نیز ماں کو بھی یہ نہ چاہیے کہ وہ رواج سے زیادہ اجرت کا مطالبہ کرے ؛ کیونکہ اس صورت میں بچے کا باپ کسی اور عورت سے دودھ پلوانے پر مجبور ہوگا، اور ماں کے لئے یہ اچھی بات نہیں ہے کہ وہ محض زیادہ پیسوں کے لالچ میں اپنے بچے کو کسی اور سے دودھ پلوائے۔
Ayahs 65:7–9

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

ہر وسعت رکھنے والا اپنی وسعت کے مطابق نفقہ دے۔ اور جس شخص کے لیے اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہو، تو جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اسی میں سے نفقہ دے، اللہ نے کسی کو جتنا دیا ہے، اس پر اس سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ (12) کوئی مشکل ہو تو اللہ اس کے بعد کوئی آسانی بھی پیدا کردے گا۔

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت حساب لیا، اور انہیں سزا دی، ایسی بری سزا جو انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

چنانچہ انہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھا، اور ان کے اعمال کا آخری انجام نقصان ہی نقصان ہوا۔

12: شوہر پر بیوی بچوں کو جو نفقہ واجب ہوتا ہے، وہ اس کی اپنی مالی حیثیت کے مطابق واجب ہوتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔
Ayahs 65:10–11

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

(اور آخرت میں) ہم نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لہذا اے عقل والو جو ایمان لے آئے ہو، اللہ سے ڈرتے رہو۔ (13) اللہ نے تمہارے پاس ایک سراپا نصیحت بھیجی ہے۔

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

یعنی وہ رسول جو تمہارے سامنے روشنی دینے والی اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آئیں، اور جو شخص اللہ پر ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے، اللہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں جنتی لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق طے کردیا ہے۔

13: یہ قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جو احکام عطا فرماتا ہے، ان کے آگے پیچھے بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے احساس سے ڈرتے رہنا چاہیے، یہی وہ احساس ہے جو تمہارے لئے ان احکام پر عمل کرنا آسان بنادے گا۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی انہی کی طرح (14) اللہ کا حکم ان کے درمیان اترتا رہتا ہے، تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

14: احادیث سے اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔ البتہ ان کی کوئی تفصیل قرٓان و حدیث نے نہیں بتائی کہ یہ سات زمینیں تہہ بر تہہ ہیں، یا ان کے درمیان فاصلہ ہے، اور اگر فاصلہ ہے تو وہ کہاں واقع ہیں۔ کائنات کی بیشمار چیزیں ایسی ہیں جن تک ابھی انسان کے علم کی رسائی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کی حقیقت جانتا ہے، اور قرآن کریم کے مقصد کے لیے یہ ساری تفصیلات جاننا ضروری بھی نہیں ہے۔ آیت کا اصل مقصد یہ ہے کہ کائنات کے ان حقائق سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر ایمان لانا ہی عقل سلیم کا تقاضا ہے۔