66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة التحریم جیسا کہ پچھلی سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، اس سورت کا بنیادی موضوع بھی یہ ہے کہ میاں بیوی کو آپس میں اور اپنی اولاد کے ساتھ کس طرح معتدل اور متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے، ایک طرف ان سے معقول حدود میں محبت بھی دین کا تقاضا ہے، اور دوسری طرف ان کی یہ نگرانی بھی ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے انحراف نہ کریں، اسی سلسلہ میں ایک واقعہ خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پیش آیا تھا کہ اپنی کچھ ازواج مطہرات کی خوشنودی کی خاطر آپ نے یہ قسم کھالی تھی کہ آئندہ شہد نہیں پیونگا، جس کی تفصیل آیت نمبر : ١ کی تشریح میں آرہی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ فرمایا کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کی ہے، اسے آپ اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں ؟ اس لئے سورت کا نام تحریم ہے، جس کے معنی ہیں حرام کرنا۔

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی ! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے، تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اسے کیوں حرام کرتے ہو ؟ (1) اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

1: حضور اقدس ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے، اس معمول کے مطابق آپ حضرت زینب ؓ کے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو شہد پیش کیا جو آپ نے پیا، اس کے بعد آپ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے تو دونوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے (مغافیر ایک گھاس کا نام ہے جس میں کچھ بوہوتی ہے) آپ نے نفی میں جواب دیا، تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے منہ میں یہ بو کیسی ہے ؟ آپ کو اس سے شبہ ہوا کہ شاید جو شہد میں نے پیا تھا، اس کی مکھی نے مغافیر چوسا ہو، چونکہ آپ کو اپنے مبارک منہ سے کوئی ناگوار بو محسوس ہونا انتہائی ناپسند تھا، اس لئے آپ نے اس وقت یہ قسم کھالی کہ میں آئندہ شہد نہیں پیوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، (2) اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

2: آنحضرت ﷺ نے شہد نہ پینے کی جو قسم کھالی تھی، اس پر اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ آپ وہ قسم توڑدیں اور کفارہ ادا کردیں، چنانچہ ایک حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی نامناسب قسم کھالے تو اسے قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینا چاہیے، کفارہ وہی ہے جو سورة مائدہ (5: 89) میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ (3) پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، (4) اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ (5) پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ؟ نبی نے کہا کہ : مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔

3: راز کی بات آپ نے حضرت حفصہ ؓ سے یہ فرمائی تھی کہ میں نے شہد نہ پینے کی قسم کھالی ہے، مگر یہ بات کسی کو بتانا نہیں تاکہ حضرت زینب ؓ جن کے گھر میں آپ نے شہد نوش فرماتے تھے ان کا دل نہ ٹوٹے۔ 4: یعنی حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو بتلا دی۔ 5: آنحضرت ﷺ نے حضرت حفصہ کو یہ تو جتلا دیا کہ انہوں نے راز کی بات جو حضرت عائشہ کو بتائی، اس کا علم مجھے ہوگیا ہے، لیکن پوری بات نہیں بتلائی تاکہ ان کو زیادہ شرمندگی نہ ہو۔
Ayahs 66:4–5

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

(اے نبی کی بیویو) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کرلو (تو یہی مناسب ہے) کیونکہ تم دونوں کے د ل مائل ہوگئے ہیں، (6) اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے ایک دوسری کی مدد کی، تو (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو ان کے پروردگار کو اس بات میں دیر نہیں لگے گی کہ وہ ان کو (تمہارے) بدلے میں ایسی بیویاں عطا فرما دے جو تم سب سے بہتر ہوں، مسلمان، ایمان والی، طاعت شعار، توبہ کرنے والی، عبادت گزار اور روزہ دار ہوں، چاہے پہلے ان کے شوہر رہے ہوں، یا کنواری ہوں۔

6: یہ خطاب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ کو ہو رہا ہے، اور اس کا مطلب اکثر مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ : ”تم دونوں کے دل حق سے مائل ہوگئے ہیں،
Ayahs 66:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے (7) اس پر سخت کڑے مزاج کے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے کفر اختیار کرنے والو ! آج معذرتیں پیش مت کرو، تمہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کیا کرتے تھے۔

7: پتھر سے مراد پتھر کے وہ بت ہیں جنہیں بت پرست لوگ پوجا کرتے تھے۔ ان کو دوزخ میں عبرت کے طور پر ڈالا جائے گا، تاکہ بت پرست ان پتھروں کا انجام دیکھیں جن کو انہوں نے خدا بنایا ہوا تھا۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں تم سے جھاڑ دے، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ (8) وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کردیجیے (9) اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔

8: اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہوں گے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سورة حدید :12 میں گذر چکا ہے۔ 9: یعنی آخر تک اسے برقرار رکھیے، کیونکہ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن بعد میں ان سے نور سلب کرلیا جائے گا۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو (10) اور ان کے مقابلے میں سخت ہوجاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

10: جہاد کے معنی در اصل جد و جہد کے ہیں۔ اس میں پر امن جد و جہد بھی داخل ہے جس کے ذریعے کسی کو دین کی دعوت دی جائے، اور دین کی نشر و اشاعت اور اس کی تنفیذ کے لیے کام کیا جائے، اور مسلح جد و جہد بھی داخل ہے جس کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کیا جائے، مگر یہ مسلح جد و جہد کافروں ہی کے مقابلے میں ہوسکتی ہے، منافق چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، اس لیے دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا معاملہ کیا جاتا ہے، اور عام حالات میں ان سے لڑائی نہیں کی جاتی، الا یہ کہ وہ بغاوت پر اتر آئیں۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے دو ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بےوفائی کی، (11) تو وہ دونوں اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے اور (ان بیویوں سے) کہا گیا کہ : دوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔

11: حضرت نوح ؑ کی بیوی لوگوں سے اپنے مقدس شوہر کو مجنون کہا کرتی تھی، اور حضرت نوح ؑ کے راز ان کے دشمنوں کو بتادیا کرتی تھی، اور حضرت لوط ؑ کی بیوی بھی آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتی تھی۔ (روح المعانی) یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ متنبہ فرما رہے ہیں کہ کسی قریب ترین رشتہ دار کا ایمان بھی انسان کو فائدہ نہیں دے سکتا جب تک وہ خود ایمان نہ لائے۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا ہے ان کے لیے اللہ، فرعون کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ (12) جب اس نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دیدے، اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی نجات عطا فرما۔

12: فرعون کی بیوی کا نام آسیہ تھا، اور جب حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جادوگروں پر فتح عطا فرمائی تو ان جادوگروں کے ساتھ وہ بھی حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئی تھیں، جس کے نتیجے میں فرعون نے ان پر بہت ظلم ڈھائے، اس موقع پر انہوں نے یہ دعا فرمائی اور بعض روایات میں آیا ہے کہ فرعون نے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ کر اوپر سے ایک پتھر پھینکنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرمالی۔ (روح المعانی)
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

نیز عمران کی بیٹی مریم کو (مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی، (13) اور انہوں نے اپنے پروردگار کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ طاعت شعار لوگوں میں شامل تھیں۔

13: اسی روح سے حضرت عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے، اسی لیے ان کو ”روح اللہ“ کہا جاتا ہے۔