Al-Mumtahana 60:6

Al-Mumtahana · from ayah 6

60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ ؕ— وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۟۠لَقَدۡ كَانَ لَـكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ‌ ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ

تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

There has certainly been for you in them an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day. And whoever turns away - then indeed, Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:6

اِنہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو اِس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ (اور عمده پیروی ہے خاص کر) ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اور اگر کوئی روگردانی کرے تو اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز ہے اور سزا وار حمد وﺛنا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو) یقینا تمہارے لیے ان لوگوں کے طرز عمل میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روز آخرت سے امید رکھتا ہو۔ اور جو شخص منہ موڑے تو (وہ یاد رکھے کہ) اللہ سب سے بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارے لیے ان میں اچھی پیروی تھی اسے جو اللہ اور پچھلے دن کا امیدوار ہو اور جو منہ پھیرے تو بیشک اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تمہارے لئے ان میں بہترین نمونۂ (اِقتداء) ہے (خاص طور پر) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے، اور جو شخص رُوگردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ بے نیاز اور لائقِ ہر حمد و ثناء ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلا شبہ یقینا تمہارے لیے ان میں اچھا نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور جو کوئی منہ پھیرے تو یقینا اللہ ہی وہ ذات ہے جو بےپروا ہے، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہیں لوگوں میں تمہارے لئے ایک اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور جو کوئی سرتابی کرے تو بلاشبہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں محمود ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک تمہارے لیے ان لوگوں کے اندر بہترین نمونہ ہے۔ ان کے واسطے جو خدا اور آخرت کے متوقع ہیں اور جو اعراض کریں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں ستو دہ صفات ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ تمہارے لئے (اے مسلمانو !) بڑا عمدہ نمونہ ہے ان لوگوں (کی زندگیوں) میں یعنی ہر اس شخص کے لئے جو امید رکھتا ہو اللہ (سے ملنے) کی اور قیامت کے دن (کے آنے) کی اور جو کوئی روگردانی کرے گا تو (وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ) بیشک اللہ (سب سے اور ہر طرح سے) غنی (و بےنیاز اور) اپنی ذات میں آپ محمود ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ان لوگوں میں تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتا ہے اور جو کوئی روگردانی کرے گا سو اللہ تو (بالکل) بےنیاز ہے اور سزاوار حمد ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہارے لیے یقینا ان (کے طرزِعمل) میں ایک بہت اچھا نمونہ ہے اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ (سے ملاقات) اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کوئی اللہ کے سامنے جانے اور روز آخرت کے آنے کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال پر چلنا ضروری ہے اور جو نافرمانی کرے تو اللہ بےپرواہ ہے۔ اور اللہ پاک ہے حمد و ثنا اسی کے لیے ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed there is a good example for you in them; a good example for anyone who looks forward to Allah and the Last Day. As for him who turns away, Allah is All-Sufficient, Immensely Praiseworthy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, for you there is an excellent example in them, for anyone who hopes (to meet) Allah and the Last Day. And if one turns away, Allah is Free of all needs, Worthy of all Praise.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, for you there is an excellent example in them, for anyone who hopes (to meet) Allah and the Last Day. And if one turns away, Allah is Free of all needs, Worthy of all Praise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Certainly, there has been in them an excellent example for you to follow - for those who look forward to (the meeting with) Allah and the Last Day. And whosoever turns away, then verily, Allah is Al-Ghani, Al-Hamid.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily ye have in them a goodly pattern for everyone who looketh to Allah and the Last Day. And whosoever may turn away, lo! still Allah, He is the Absolute, the Owner of Praise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

There has certainly been for you in them an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day. And whoever turns away - then indeed, Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

— Saheeh International

They are the best examples for those who have hope in God and the Day of Judgment. Whoever turn away should know that God is Self-sufficient and Praiseworthy.

— Muhammad Sarwar

Certainly there is for you in them a good example, for him who fears Allah and the last day; and whoever turns back, then surely Allah is the Self-sufficient, the Praised.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly there hath been in them for you an excellent pattern-for him who hopeth for Allah and the last Day. And whosoever turneth away, then verily Allah! He is the Self-sufficient, the Praiseworthy.

— Abdul Majid Daryabadi

There was indeed in them an excellent example for you to follow,- for those whose hope is in Allah and in the Last Day. But if any turn away, truly Allah is Free of all Wants, Worthy of all Praise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

عصبیت دین ایمان کا جزو لاینفک ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو تم ہمیں اپنا دشمن سمجھوناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 9 یعنی جو اس بات کی توقع رکھتا ہو کہ ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے، اور اس چیز کا امیدوار ہو کہ اللہ اسے اپنے فضل سے نوازے اور روز آخر میں اسے سرخروئی نصیب ہو۔ سورة الْمُمْتَحِنَة 10 یعنی اللہ کو ایسے ایمان لانے والوں کی کوئی حاجت نہیں ہے جو اس کے دین کو ماننے کا دعویٰ بھی کریں اور پھر اس کے دشمنوں سے دوسری بھی رکھیں۔ وہ بےنیاز ہے۔ اس کی خدائی اس کی محتاج نہیں ہے کہ یہ لوگ اسے خدا مانیں۔ اور وہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے، اس کا محمود ہونا اس بات پر موقوف نہیں ہے کہ یہ اس کی حمد کریں۔ یہ اگر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے کسی فائدے کے لیے نہیں، اپنے فائدے کے لیے لاتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

اگلی آیات میں کفار سے ترک موالات کی تائید و تاکید کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا تو سارا خاندان مشرکین کا تھا، انہوں نے سب سے بیزاری اور برات کا ہی نہیں بلکہ عداوت کا اعلان کردیا اور بتلا دیا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ گے اور اپنے شرک سے باز نہ آؤ گے ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار حائل رہے گی، قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ (تا) حَتّٰى تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَحْدَهٗٓ کا یہی مطلب ہے۔ ایک شبہ کا جواب اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو حضرت ابراہیم ؑ کے اسوہ حسنہ اور سنت پر چلنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لقد کان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) (6)۔ (ایک برجمع تنبیہ) یہ (قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ) سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلان برأت و عداوت میں نمونہ تو بیشک نہایت بہترین ہے لیکن ان کے اس اسوہ کی پیروی کرنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس کا حوصلہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ کی نصرت کی امید بھی رکھتے ہوں اور آخرت کے ظہور کے بھی متوقع ہوں۔ جن کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہ ہوں وہ یہ بازی نہیں کھیل سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے گھر در، اموال واملاک، وطن اور قوم ہر چیز سے دست بردار ہو کر اٹھ کھڑے ہونا صرف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی ابراہیم ؑ کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔ 6۔ 2 کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات و واقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ 6 ۔ 3 یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–6

2: مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم اور کنبے سے برأت کا اظہار کردیا تھا، لیکن شروع میں اپنے والد سے مغفرت کی دعا کا وعدہ ضرور کیا تھا، لیکن جیسا کے سورة توبہ (9۔ 114) میں گزرا ہے، جب انہیں یہ پتہ چل گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اللہ کا دشمن ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ہے تو انہوں نے اس دعا سے بھی علیحدگی اختیار فرمالی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لقد کان .................... الحمید (06 : 6) ” انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لئے اور ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔ لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی صری اس شخص کے لئے نمونہ ہیں جو اللہ سے امیدوار ہو اور آخر ت کی جواب دہی کے لئے فکر مند ہو۔ صرف ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں حضرت ابراہیم کے تجربات کی قدر ہوسکتی ہے۔ اور وہ ان کے لئے نمونہ اور اسوہ ہوسکتے ہیں۔ اور ان کو دیکھ کر کوئی رہنمائی پاسکتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کے مقاصد اللہ اور آخرت ہوں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نمونے کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی تم مسلمانوں کو یا بالفاظ دیگر ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ سے ملنے اور آخرت کے قائم ہونے کے امیدوار ہیں، ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے رفقاء کی چال اختیار کرنی چاہیے۔ دنیا خواہ تم کو کتنا ہی متعصب اور سنگدل کہے، تم اس راستہ سے منہ نہ موڑو جو دنیا کے موحد اعظم نے اپنے طرز عمل سے قائم کردیا۔ مستقبل کی ابدی کامیابی اسی راستہ پر چلنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اگر اس کے خلاف چلو گے اور خدا کے دشمنوں سے دوستانہ گانٹھو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کیا پروا ہے وہ تو بذات خود تمام کمالات اور ہر قسم کی خوبیوں کا مالک ہے۔ اس کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچ سکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ”تمہارے لیے یقینا ان کے طرزِعمل میں ایک بہت اچھا نمونہ ہے“ لیکن یہ نمونہ اور اسوہ فائدہ مند کس کے لیے ہوسکتا ہے ؟ { لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ } ”اس کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہو۔“ بالکل یہی الفاظ سورة الاحزاب میں حضور ﷺ کے اسوہ کے حوالے سے آئے ہیں : { لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا۔ } یعنی حضور ﷺ کی شخصیت اور سیرت یقینا اسوہ کاملہ ہے ‘ لیکن اس سے مستفیض صرف وہی لوگ ہو سکیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 سیدنا ابراہیم کے ساتھیوں کے تین اوصاف :۔ یعنی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے یہاں اللہ تعالیٰ نے تین اوصاف بیان فرمائے۔ ایک یہ کہ انہوں نے مشرکوں سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیا تھا اور یہ قطع تعلق دائمی تھا، تاآنکہ مشرک شرک سے باز آجائے۔ دوسرے وہ صرف اللہ پر توکل رکھتے تھے، تیسرے وہ اپنے حق میں اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی توفیق کی دعائیں بھی کرتے رہتے تھے اور بجا بھی لاتے ہیں۔ یہ صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اگر تم لوگ فی الواقع اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے اور اس سے جزائے اعمال کی امید رکھتے ہو تو تمہیں بھی ان جیسے کام کرنے چاہئیں۔ 14 تَوَلَّ کا ایک معنی تو وہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ (ہرحال میں اپنے جامع صفات کمالیہ ہونے کی بناء پر۔ (آیت) ” فیھم “۔ ضمیر ھم ابراہیم (علیہ السلام) اور اصحاب ابراہیم (والذین معہ) کی جانب ہے۔ (آیت) ” فیھم اسوۃ حسنۃ “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ سنت مصطفوی ﷺ کی طرح سنت ابراہیمی (علیہ السلام) کا اتباع بھی مومنین کے حق میں سرتا سر خیر اور علامات ایمان میں سے ہے۔ (آیت) ” ومن یتول “۔ اور جو کوئی روگردانی اور بےالتفاقی کرے گا اس حکم تبری ومقاطعہ کی تعمیل یا کسی حکم الہی کی بھی تعمیل سے۔ (آیت) ” ھو الغنی “۔ ضرر اس ذات بےنیاز کا بالکل نہیں، ضرر تمامتر اسی نافرمان بندہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–6

ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا (الآیۃ) یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ اور تسلط عطا نہ فرما، اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں، یوں ہم ان کے لئے فتنہ کا باعث بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد کان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ و الیوم الاخر ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید . ” بیشک ان لوگوں (کے قول ‘ عمل اور عقیدے) میں تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے (یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ (کے سامنے جانے) کا اور روز آخرت کا یقین رکھتا ہو اور جو شخص (اس حکم سے) روگردانی کرے گا تو (اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ) اللہ بالکل بےنیاز (اور) سزاوار حمد ہے۔ “ لَکُمْ : یعنی تمہارے لیے اے مسلمانو ! فِیْھِمْ : یعنی ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کے دستور زندگی اور اعتقاد و عمل) میں۔ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُو اللہ وَالْیُوْمَ الْاٰخِرَ : یہ جملہ لکم سے بدل ہے یعنی ان لوگوں کے لیے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے حاطب تمہارے لیے ابراہیم اور ان کی اتباع کرنے والوں کے اقوال میں ایک عمدہ نمونہ ہے جو کہ اللہ اور قیامت پر اعتقاد رکھتا ہو تو تم نے اس طریقہ پر کیوں دعا نہ کی، باقی جو حکم خداوندی سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ تو بالکل بےنیاز ہے اور تعریف کے لائق ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔۔۔۔: اس سے پہلے ”قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم“ میں یہی بات ذکر ہوئی ہے ، لام قسم کے ساتھ اسے دوبارہ لانے سے ایک تو اس حکم کی تاکید مقصود ہے اور ایک اس کے بعد ”لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر“ لا کر یہ بتانا مقصود ہے کہ ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھی ان لوگوں کے لیے نمونہ نہیں جن کی ساری جدوجہد دنیا کے لیے ہے ، بلکہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے نمونہ ہیں جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں۔ 2۔ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ احزاب (21) کی تفسیر۔ 3۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہ ہُوَ الْغَنِیُّ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیات۔ 6۔ 7 تفسیر لقد کان لکم فیھم، ھم ضمیر سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ انبیاء و اولیاء ہیں۔ اسوۃ حسنۃ یعنی کفار سے براءت کا اظہار کرنے میں بہترین اسوہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکید کے لئے اسے مکررذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ذکر کیا گیا ہے : دوسری آیت پہلی آیت کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی، قرآن حکیم میں اکثر تکرار اسی وجہ سے ہے۔ ومن تول جو آدمی اسلام اور ان مواعظ کو قبول کرنے سے اعراض کرے…… اللہ تعالیٰ غنی ہے، اس نے اپنی کسی حاجت کی وجہ سے انہیں اپنا بندہ نہیں بنایا۔ الحمید۔ وہ اپنی ذات وصفات میں محمود ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں نے مشرک رشتہ داروں سے دشمنی شروع کردی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا کے بارے میں فرمایا کہ تو ان کو ہم پر مسلط نہ فرما کہ وہ ہم کو فتنہ میں ڈالیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَقَدْ كَان لَكُمْ فِيْهِمْ : یقینا ہوچکا ہے تمہارے لیے ان لوگوں میں ][ اُسْوَةٌ حَسَـنَةٌ: ایک بھلائی والا نمونہ ][ لِمَنْ كَان : اس کے لیے جو ہے (کہ)][ يَرْجوا اللّٰهَ : وہ امید رکھتا ہے اللہ (سے ملنے) کی ][ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ : اور اس آخری دن (کے قائم ہونے) کی ][ وَمَنْ يَّتَوَلَّ : اور جو روگردانی کرے گا ][فَان اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ہے ][هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : (کہ) وہی بےنیاز ہے ہمیشہ حمد کیا ہوا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ (الآیہ) یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کے طرز عمل میں اس شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا اور قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتا ہو۔ ﴿ وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ (رح) 006﴾ اور جو شخص رو گردانی کرے گا، سو اللہ بےنیاز ہے اور حمد کا مستحق ہے جو کوئی شخص کافروں سے موالات کرے گا ان کی طرف جھکے گا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ غنی ہے بےنیاز ہے اور حمید بھی ہے ہمیشہ تعریف کا مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

ترغیب اہل اسلام برائے اسوہ حسنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔ (ربط) سورة ممتحنہ کی گزشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی پر وعید ومذمت تھی اور اس طرح کا ایک واقعہ حاطب ؓ کے ساتھ پیش آگیا تھا اس پر تنبیہ کرکے فرمادیا گیا تھا کہ مسلمان کو اپنے اور خدا کے دشمن کے ساتھ دوستانہ روابط ومراسم قائم کرنے کی قطعی اجازت نہیں۔ تو اب ان آیات میں دشمنان اسلام اور دشمنان خدا کے ساتھ جو بغض ونفرت کے جذبات مسلمان کے قلب میں ہونے چاہئیں ان کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے، فرمایا اے مسلمانو ! بیشک تمہارے واسطے ایک بہترین نمونہ ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” لقد کان لکم “ یرجو، یخاف (جلالین) ۔ جس مؤمن کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جسے مجازات آخرت کا ڈر ہو اس سے تو یہی توقع ہے کہ وہ مشرک رشتہ داروں اور دوستوں کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے نقش قدم پر چلے گا۔ ” ومن یتولھم الخ “ مومن کامل کی شان تو یہی ہے کہ کافروں سے بالکلیہ قطع تعلق کرے لیکن اس واضح بیان کے بعد بھی جو اس سے باز نہ آئے تو اس پر تف ہے اور اس سے وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بلکہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور اگر وہ کافروں کی دوستی سے باز آگیا تو اس سے اللہ کو کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ وہ اپنی عاقبت ہی سنوارے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز اور ہر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–6

ربط آیات : سورۃ ہذا کی پہلی تین آیات میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے مشرکین کو ان پر مسلمانوں کے حملے کی تیاری کی سلسلے میں خط لکھا تھا۔ مگر اس کی اطلاع اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی کردی تو آپ نے وہ خط راستے سے ہی واپس لے لیا۔ جب اس صحابی ؓ سے کوتاہی کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے عذر پیش کیا کہ اس نے یہ کام اپنے بچوں کی حفاظت کی غرض سے مشرکین مکہ کو اعتماد میں لینے کے لئے کیا تھا اللہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا اور اہل ایمان کو سختی کے ساتھ منع کردیا۔ کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ فرمایا کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی ، لہٰذا ان کے ساتھ دوستانہ رکھنا سخت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْہِمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ۝ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہَ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝ 6 ۧ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–6

ترکیب : فی ابراھیم الخ صفۃ ثانیۃ لاسوۃ اوخبر لکانت ولکم بیان اوحال من المستکن فی حسنۃ اوصلۃ لھا اذ قالوا لخبر کان براء جمع بریٰ کظریف وظریف قریٔ براء بالکسر مثل ظراف بالفتح اسم مصدر مثل سلام والتقدیر اناذوبرائ۔ الا قول استثناء منقطع من قولہ تعالیٰ اسوۃ حسنۃ فان استغفار ابراہیم (علیہ السلام) لابیہ وان کان جائزالہ قبل النھی عنہ لکنہ لیس ان یوشی بہ لمن کان بدل من لکم۔ تفسیر : کفار کی محبت و مودت سے دوسرے پیرائے میں منع کرتا ہے فقال قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ کہ اے مسلمانو ! تم کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کا عمدہ طریقہ اور بہتر رویہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ ط وَمْن یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الممتحنۃ : 6) (بےشک تمہارے لیے ان لوگوں کے طرزعمل میں بہترین نمونہ ہے، (بالخصوص) ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتے ہیں، اور جو شخص اس سے اعراض کرے تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے۔ ) اسوہ کی پیروی کے سلسلے میں ایک تنبیہ یہ قَدْ کَانَتْ لَـکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلانِ برأت و عداوت میں نمونہ تو بیشک نہایت بہترین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت اور استقامت ہراس شخص کے لیے نمونہ ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ انبیائے کرام میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واحد پیغمبر ہیں جن کی سیرت طیبہ کو نبی آخرالزمان ﷺ اور آپ کی امت کے لیے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نبی آخر الزمان ﷺ کے جد امجد اور ملت حنیف کے داعی ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا راستہ مشکل ترین راستہ ہے۔ اسے وہی شخص اختیار کرے گا جو اللہ کی ملاقات پر ایمان اور قیامت کے قائم ہونے کا یقین رکھتا ہے۔ جو اس راستے سے پھر گیا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ (بیشک ان لوگوں (کے عمل و عقیدے) میں تمہارے لئے عمدہ نمونہ ہے ایسے شخص کیلئے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے اور روز آخرت کا یقین رکھتا ہو) پھر دوبارہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کے اسوئہ حسنہ کی پیروی کا حکم دیا۔ تاکہ بات اور پختہ ہوجائے اور خوب تاکید ہوجائے اسی لئے اس کو مصدر کی صورت میں قسم کے ساتھ ذکر کیا۔ کیونکہ یہ تاکید کا انتہائی طریقہ ہے البتہ یہاں لکمؔ کی بجائے لمن کان یرجوا اللہ کو لائے۔ یرجو اللہؔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا ثواب مراد ہے۔ یا اس کا معنی یخشی اللّٰہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا “ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو ہم پر غلبہ نہ دے۔ پس وہ گمان کرنے لگیں گے کہ وہ حق پر ہیں تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں تو ہمیں ان کے ہاتھوں سے عذاب نہ دے اور نہ اپنی طرف سے عذاب دے۔ پس وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ چیز نہ پہنچتی۔ ” واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَـنَةٌ) تحقیق تمہارے لیے انہی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔ اور ہر شخص کے لیے اس نمونے کی پیروی کرنا آسان نہیں یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے (لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ ۭ ) جو اللہ سے ملنے اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔ کیونکہ ایمان اور اجر وثواب کی امید بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کردیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیا ومرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بےانتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ (وَمَنْ يَّتَوَلَّ ) جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–7

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام باتوں میں تقلید کرنے کا حکم دیا۔ البتہ کافر بات کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی بات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔ قول باری ہے۔ (ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنا) قتادہ کا قول ہے : ” یعنی انہیں ہم پر غالب کرکے ، اور پھر وہ یہ سمجھ لیں کہ وہ حق پر ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان کو ہم پر مسلط نہ کر کہ پھر وہ ہمیں اپنا تختہ مشق بنالیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 22] عقیدہ آخرت اصلاح احوال کی اصل اساس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا اعتقاد و یقین اصلاح احوال کیلئے اہم اساس اور بنیاد ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اس اسوہ حسنہ سے فائدہ ایسے ہی لوگ اٹھا سکتے ہیں، ورنہ یہ نمونہ تو سب کے لئے عام ہے، معلوم ہوا کہ عقیدہ آخرت، اصلاح احوال کی اصل اساس اور بنیاد ہے، اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اس کے بغیر انسان سبجیدہ نہیں ہوتا، اور جب کوئی شخص کسی امر کے بارے میں سنجدیہ نہیں ہوتا وہ بات کو توجہ سے سنتا ہی نہیں، اور جب کوئی کسی کی بات کو توجہ سے سننے ہی کے لئے تیار نہ ہو تو اس کیلئے اس سے مستفید ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ پس قیامت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی آخرت کی بازپرس کا ڈر ہو۔6 یعنی اقنا نقصان آپ کرو گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کوئی پروا نہیں۔ وہ اپنی ذات سے تمام خوبیوں اور تمام کمالات کا مالک ہے تم دشمنی کر کے اسے کیا نقصان پہنچا سکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:6) لکم : ای یا امۃ محمد ﷺ ۔ اے امت محمد ﷺ تمہارے لئے۔ فیہم : فی ابراہیم ومن معہ (حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے دستور زندگی میں اور اعتقاد و عمل میں۔ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔ یہ بدل ہے لکم سے۔ یعنی ان لوگوں کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی پیشی اور اس کے ثواب کا نیز روز قیامت کے آنے کا یقین رکھتے ہیں۔ یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ وہ امید رکھتا ہے وہ اندیشہ رکھتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے۔ اللہ بحالت مفعول منصوب ہے۔ اسی طرح الیوم منصوب ہے۔ ومن یتول : واؤ عاطفہ۔ من شرطیہ ، جملہ شرط ہے۔ یتول مضارع مجزوم بالشرط۔ اصل میں یتولی تھا۔ تولی (تفعل) مصدر سے اور جو منہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن۔ ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔ تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔ (ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] یعنی جو اس بات کی توقع رکھتا ہو کہ ایک روز اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور آخرت میں اللہ کے فضل کا امیدوار ہو۔ [6] یعنی اگر تم ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء کے راستے پر نہ چلو گے اور اللہ کے دشمنوں سے دوستانہ گانٹھو گے تو خود نقصان اٹھاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی دوستی یا دشمنی کی کیا پروا ہے، وہ تو بذات خود تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے۔ اس کی کبریائی دوسروں کے بل پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے بل پر قائم و دائم ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–6

ف 1: فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور ان کے فرمانبرداروں میں تمہارے لئے لائق اقتدار اسوہ ہے ۔ غور کرو ۔ کہ جب وہ مبعوث ہوئے ہیں ۔ ان کے گرد وپیش کی فضا کیسی تھی ؟ کس درجہ شرک کا دور دورہ تھا ۔ پوری قوم بت پرست تھی اور حکومت ان کی پشت پر ۔ مگر انہوں نے پوری جرات کے ساتھ کہہ دیا کہ میں تمہارے ان عقا ئد سے کاملا بیزار ہوں ۔ اور اعلان توحید کے بعد اب میں تمہارا کھلا دشمن ہوں ۔ مجھ سے کسی رعایت کی توقع نہ رکھنا ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے ۔ کہ انہوں نے کبھی باطل کے سامنے اور قوت کے مقابلہ میں اپنا سر نہیں جھکایا ۔ اور کبھی مخالفت اور عناد کی پرواہ نہیں کی الا قول ابراھیم سے غرض یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) البتہ تم کو بھلی چال چلنی ہے ان کی جو کوئی ایمد رکھتا ہو اللہ تعالیٰ کی اور پچھلے دن کی اور جو کوئی منہ پھیرے تو اللہ تعالیٰ وہی ہے بےپروا سب خوبیوں سراہا۔ ترجمہ اور تیسیر میں حاصل ترجمہ اور لفظی ترجمہ کی وجہ سے فرق ہوگیا۔ لمن کان یرجو اللہ ہے بدل ہے لقد کان لکم سے ترجمہ کا خلاصہ اس طرح ہے بیشک ابراہیم اور ان کے متبعین میں تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ اور قابل اتباع نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے جانے اور قیامت کے آنے کا اعتقاد رکھتا ہو اور جو شخص اس حکم سے یا ان کا اتباع سے روگردانی کرے گا تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ بالکل بےنیاز اور سزاوار حمد ہے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جو بات اوپر ارشاد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 5۔ یہ آیتیں ایک قصہ کے متعلق ہیں اور وہ قصہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے فتح مکہ کے لئے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو کہ اہل بدر سے ہیں اور رہنے والے یمن کے ہیں اور مکہ میں آرہے تھے اور ان کے بھائی اور والدہ اور اولاد واہل عیال و اموال اب بھی مکہ میں تھے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تم پر چڑھائی کرنے والے ہیں اور یہ خط ایک عورت کو دیدیا کہ مکہ والوں پہنچا دے، آپ ﷺ کو وحی سے یہ بات معلوم ہوگئی، آپ نے حضرت علی اور چند صحابہ کو حکم دیا کہ فلاں جگہ وہ عورت ملے گی اس سے وہ خط لے آو، یہ گئے اور وہ عورت ملی، اور ان کے دھمکانے سے وہ خط اس نے دیا اور یہ لائے، آپ ﷺ نے حاطب سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ” اسوہ حسنہ “ ہے 6 ؎ سچے دل سے ایمان لانے والوں کے لیے جب وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی پر غور و فکر کریں گے تو ان گنت اسباق حاصل کریں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے نیک لوگوں کی زندگیوں کو بیان کیا گیا ہے کہ ان سے ایمان والے مستفید ہو سکیں اور اپنی زندگیوں کو سنوار سکیں ۔ بلا شبہ ان کے تذکار سے وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جن کے دلوں میں قیامت کی زندگی کا سچا اور صحیح تصور موجود ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہوتا وہ ایسے واقعات کو پڑھ کر ہنس دیتے ہیں اور ان کو فرضی اور بناوٹی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَ‌اهِيمَ ۔ ۔ ۔ حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ (Indeed, there is an excellent example for you in Ibrahim and those with him, when they said to their people, "We disown you and what you worship instead of Allah. We disbelieve in you. Enmity and hatred has arisen between us and you forever, unless you believe in Allah alone",....60:4). This verse supports and emphasizes the abstaining from maintaining close friendly relations with non-believers. This rule of law is illustrated by the excellent example of Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 "Who is hopeful Or Allah and the Last Day": who expects that one Day he will have to present himself before AIIah and is hopeful that Allah will treat him benevolently and help him attain to success in the Hereafter. 10 That is, "Allah has be need of such believers, who profess to believe in His Religion as well as maintain friendly relations with His enemies. He is Self Sufficient: His Godhead does not require that they should acknowledge Him as God. He is Self-Praiseworthy, i.e.'His being praiseworthy is not dependent on the people's praising and glorifying Him. , If they affirm the…

Read the full tafseer →