Al-Mumtahana 60:5

Al-Mumtahana · from ayah 5

60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۚ— اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۟رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَاغۡفِرۡ لَـنَا رَبَّنَا‌ ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Our Lord, make us not [objects of] torment for the disbelievers and forgive us, our Lord. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise."

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:5

اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا دے اور اے ہمارے رب، ہمارے قصوروں سے درگزر فرما، بے شک تو ہی زبردست اور دانا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور اے ہمارے پالنے والے ہماری خطاؤں کو بخش دے، بیشک تو ہی غالب، حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنائیے اور ہمارے پروردگار ! ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ، اور صرف آپ کی ذات وہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کے لئے سببِ آزمائش نہ بنا (یعنی انہیں ہم پر مسلّط نہ کر) اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے پروردگار! بیشک تو ہی غلبہ و عزت والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! ہمیں ان لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا جنھوں نے کفر کیا اور ہمیں بخش دے اے ہمارے رب ! یقینا تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں (کے مظالم) کا تختہ مشق نہ بنانا۔ اور اے ہمارے رب ! ہمیں معاف فرما دے۔ بیشک تو ہی زبردست ہے، حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب، ہم کو ان لوگوں کا تختہ مشق نہ بننے دینا جنہوں نے کفر کیا ہے اور اے ہمارے رب ہم کو بخش، بیشک تو عزیز و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہمارے پروردگار ہمیں فتنہ (اور آزمائش کا سامان) نہ بنانا کافروں کے لئے اور بخشش فرمادے ہم سب کی اے ہمارے رب بلاشبہ تو ہی ہے سب پر غالب بڑا ہی حکمت والاف

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنانا اور اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ معاف کردے بیشک تو ہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پروردگار ! تو ہمیں کافروں کے لیے تختہ امتحان نہ بنا دینا اور تو ہمیں بخش دے اے ہمارے پروردگار ! یقینا تو ہی زبردست اور حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے رب ہم کو کفار کے ہاتھوں عذاب نہ دلوانا، اور اے ہمارے رب ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Our Lord, do not make us a test for the unbelievers, and forgive us, our Lord. Surely You are Most Mighty, Most Wise.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Our Lord, do not make us persecuted by those who disbelieve, and forgive us, our Lord! You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Our Lord, do not make us persecuted by those who disbelieve, and forgive us, our Lord! You, only You, are the All-Mighty, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Our Lord! Make us not a trial for the disbelievers, and forgive us, Our Lord! Verily, You, only You, are the Almighty, the All-Wise."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Our Lord! Make us not a prey for those who disbelieve, and forgive us, our Lord! Lo! Thou, only Thou, are the Mighty, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Our Lord, make us not [objects of] torment for the disbelievers and forgive us, our Lord. Indeed, it is You who is the Exalted in Might, the Wise."

— Saheeh International

They prayed, "Lord, we have trust in You, turned to You in repentance, and to You we shall all return. Lord, save us from the evil intentions of the disbelievers. Our Lord, forgives us. You are Majestic and All-wise".

— Muhammad Sarwar

Our Lord! do not make us a trial for those who disbelieve, and forgive us, our Lord! surely Thou art the Mighty, the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! make us not a trial for those who disbelieve, and forgive us, our Lord! verily Thou! Thou art the Mighty, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

"Our Lord! Make us not a (test and) trial for the Unbelievers, but forgive us, our Lord! for Thou art the Exalted in Might, the Wise."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–6

عصبیت دین ایمان کا جزو لاینفک ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو تم ہمیں اپنا دشمن سمجھوناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 8 کافروں کے لیے اہل ایمان کے فتنہ بننے کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں جن سے ہر مومن کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافر ان پر غالب آجائیں اور اپنے غلبہ کو اس بات کی دلیل قرار دیں کہ ہم حق پر ہیں اور اہل ایمان برسر باطل، ورنہ کیسے ہوسکتا تھا کہ ان لوگوں کو خدا کی رضا حاصل ہوتی اور پھر بھی ہمیں ان پر غلبہ حاصل ہوتا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اہل ایمان پر کافروں کا ظلم و ستم ان کی حد برداشت سے بڑھ جائے اور آخر کار وہ ان سے دب کر اپنے دین و اخلاق کا سودا کرنے پر اتر آئیں۔ یہ چیز دنیا بھر میں مومنوں کی جگ ہنسائی کی موجب ہوگی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

اگلی آیات میں کفار سے ترک موالات کی تائید و تاکید کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا تو سارا خاندان مشرکین کا تھا، انہوں نے سب سے بیزاری اور برات کا ہی نہیں بلکہ عداوت کا اعلان کردیا اور بتلا دیا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ گے اور اپنے شرک سے باز نہ آؤ گے ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار حائل رہے گی، قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ (تا) حَتّٰى تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَحْدَهٗٓ کا یہی مطلب ہے۔ ایک شبہ کا جواب اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو حضرت ابراہیم ؑ کے اسوہ حسنہ اور سنت پر چلنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم) (5) یہ بھی اسی دعا کا حصہ ہے جو اوپرمذکور ہوئی۔ فتنۃ یہاں ہدف فتنہ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو تیری توحید کی غیرت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان برأت و عداوت کردیا۔ اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں۔ لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہم کو اپنے مظالم کا تختہ شق بنا لیں۔ (واغفرلنا ربنا) اے ہمارے رب ہماری کمزوریوں اور ہمارے گناہوں کو بخش، ہمارے گناہ اس بات کا سبب نہ بن جائیں کہ ہمارے دشمن ہمیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ وتسلط عطا نہ فرما اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور یوں ہم ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ہاتھوں یا اپنی طرف سے ہمیں کسی سزا سے دو چار نہ کرنا اس طرح بھی ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ تکلیف کیوں پہنچتی ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–6

2: مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم اور کنبے سے برأت کا اظہار کردیا تھا، لیکن شروع میں اپنے والد سے مغفرت کی دعا کا وعدہ ضرور کیا تھا، لیکن جیسا کے سورة توبہ (9۔ 114) میں گزرا ہے، جب انہیں یہ پتہ چل گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اللہ کا دشمن ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ہے تو انہوں نے اس دعا سے بھی علیحدگی اختیار فرمالی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس قصے کے دوران حضرت ابراہیم کی دعا کا یہ حصہ بھی اہم ہے۔ ربنا لا ........................ کفروا (06 : 5) ” اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دے “ ان کافروں کو ہم پر مسلط نہ کر ، کہ یہ تسلط ان کافروں کے لئے فتنہ ہوجائے ، وہ یہ کہیں کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے اور ان کا ایمان ان کو بچا سکتا ، تو ہم ان پر کس طرح غالب ہوجاتے۔ اور یہی شبہات ہر دور میں اہل ایمان کے دلوں میں بھی پیدا ہوتے ہیں ، جب اہل باطل اور اہل کفر اہل ایمان پر غالب ہوجاتے ہیں۔ اور باغی اور سرکشی اہل ایمان پر غالب ہوتے ہیں اور اس میں بھی اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور یہ غلبہ ایک وقت کے لئے ہوتا ہے۔ مومن ان ابتلاؤں پر صبر کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی ہم کو کافروں کے واسطے محل آزمائش اور تختہ مشق نہ بنا۔ اور ایسے حال میں مت رکھ جس کو دیکھ کر کافر خوش ہوں، اسلام اور مسلمانوں پر آوازیں کسیں اور ہمارے مقابلہ میں اپنی حقانیت پر استدلال کرنے لگیں۔ 4 یعنی ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما۔ اور تقصیرات سے درگزر کر۔ 5 تیری زبردست قوت اور حکمت سے یہی توقع ہے کہ اپنے وفاداروں کو دشمنوں کے مقابلہ میں مغلوب و مقہور نہ ہونے دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”پروردگار ! تو ہمیں کافروں کے لیے تختہ امتحان نہ بنا دینا“ اے ہمارے پروردگار ! ایسا نہ ہو کہ تو کافروں کو ہمارے ذریعے سے آزمائے۔ ایسا نہ ہو کہ تو انہیں آزمانے کے لیے ہم پر ظلم کرنے کی چھوٹ دے دے۔ کسی کے لیے فتنہ یا تختہ مشق بننے کے مفہوم کو حضور ﷺ کے مکی دور میں مسلمانوں اور مشرکین کی مثال سے سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کی رسی دراز کر کے انہیں آزمانا چاہتا تھا کہ ٹھیک ہے تم میرے بندوں پر جتنا ظلم کرسکتے ہو کرلو ! میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم کس حد تک جاتے ہو ! لیکن مشرکین کی اس آزمائش میں تختہ ستم تو ظاہر ہے مسلمان بنے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 یہاں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ فتنہ کے معنی آزمائش، دکھ، رنج، رسوائی، دیوانگی، عبرت، عذاب، مرض سب کچھ آسکتا ہے اور یہ لفظ عموماً برے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس جملہ یا دعا کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر خدانخواستہ کافر ہم پر غالب آگئے تو ہمیں ہمارے دین پر قائم نہ رہنے دیں گے۔ اور پھر سے کفر و شرک میں مبتلا کرنے کا باعث بن جائیں گے۔ نیز وہ یہ سمجھیں گے کہ ہم ہی سچے دین پر ہیں۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایسے اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی توفیق دے کہ کافر لوگ ہماری طرف انگشت نمائی نہ کرسکیں اور طعنے نہ دے سکیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (تیرے لئے ہماری اس عرضداشت کو قبول کرلینا کیا مشکل ہے) (آیت) ” لا .... کفروا “۔ یعنی اس مقاطعہ وتبری کے بعد ایسا نہ ہونے پائے کہ یہ کافر ہم کو ہر طرح ستانے اور مصیبت میں ڈالنے پر قادر ہوجائیں۔ (آیت) ” واغفرلنا ربنا “۔ جتنی کو تاہیاں اور لغزشیں ہم سے تیرے ارشاد کی تعمیل میں ہوجائیں، تو ان سب کو معاف اور نظر انداز کرکے ہمیں اپنے دامن رحمت ہی سے وابستہ رکھیو۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ ایسے اسباب فتنہ سے جن سے اہل حق پر اہل باطل کا شبہ ہونے لگے، بچنا ہی عین مطلوب ہے، اور ان میں جو اسباب غیراختیاری ہیں، ان سے بچنے کی تدبیر یہی ہے کہ دعا کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–6

ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا (الآیۃ) یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ اور تسلط عطا نہ فرما، اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں، یوں ہم ان کے لئے فتنہ کا باعث بن جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم . اے ہمارے رب ! ہم کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنانا اور ہمارے رب ہم کو معاف کر دے (ہمارے قصور بخْشدے) بیشک تو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ “ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا ..... مناجات کو محکم کرنے اور درخواست رحم میں مزید قوّت پیدا کرنے کے لیے ربنا کا دوبارہ ذکر کیا۔ فِتْنَۃً لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : یعنی کافروں کو ہم پر مسلط نہ کرنا کہ وہ ہم کو سخت ایذائیں دے سکیں اور ہم سے مواخذہ کریں اور اس وقت ان کے لیے فتنہ ہو ‘ یعنی ان کو عذاب دینے کا سبب پیدا ہوجائے۔ زجاج نے کہا : ان کو ہم پر غالب نہ کر۔ ہم پر ان کو قابو نہ دے جس کی وجہ سے وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ہمیں کفار مکہ کے لیے سخت مشق نہ بنایے کہ وہ ہم پر غلبہ کر کے کہنے لگیں کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں جس کی وجہ سے ان کی ہم پر اور دلیری ہوجائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجیے آپ زبردست حکمت والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : اس کی تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ یونس (85) کی تفسیر۔ 2۔ وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا۔۔۔۔: پہلی تمام دعائیں حرف عطف کے بغیر ہیں اور یہ واؤ عطف کے ساتھ ہے ، کیونکہ پہلی تمام دعاؤں میں دنیوی زندگی میں اپنے دین کی اصلاح اور اس پر استقامت مانگی گئی ہے اور اس میں اخروی زندگی کی اصلاح کی درخواست ہے۔ دونوں کے درمیان مغایرت کی وجہ سے درمیان میں واؤ عطف لائی گئی ہے۔ ابن عاشور)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

آیات۔ 4۔ 5 تفسیر قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرہیم جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ دوستی سے منع کیا تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا۔ آپ کی سیرت میں یہ بات تھی کہ آپ نے کفار سے برا ئت کا اظہار کیا۔ یعنی تم آپ کی اقتداء کرو مگر جو آپ نے اپنے اب آذر کے لئے استغفار کی اس میں اقتدا نہ کرو۔ اسوۃ اور اسوہ اسے کہتے ہیں جس کی اقتدا کی جائے۔ جس طرح قدوہ اور قدوہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھو اسوتک یعنی وہ تیری اور تو اس کی مثل ہے۔ عاصم نے اسے اسوۃ پڑھا ہے دو لعنتیں ہیں۔ والذین معہ یعنی مومنین میں سے جو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے صحابہ تھے۔ ابن زید نے کہا : مراد انبیاء ہیں (1) ۔ اذ قالو………

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–6

17۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا کے بارے میں فرمایا کہ تو ان کو ہم پر مسلط نہ فرما کہ وہ ہم کو فتنہ میں ڈالیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً : اے ہمارے رب تو مت بنا ہم کو ایک آزمائش ][ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا ][ وَاغْفِرْ لَنَا : اور تو بخش دے ہمارے لیے (ہمارے گناہ)][ رَبَّنَا : اے ہمارے رب ][ انكَ انتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : بیشک تو ہی بالا دست ہے حکمت والا ہے ] نوٹ۔ 3: آیت۔ 5 ۔ میں فتنۃ کا لفظ ہدف فتنہ کے معنی میں آیا ہے۔ اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تیری توحید کی غیرت میں ان مشرکوں سے اعلان عداوت کردیا اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دیجئے) یعنی انہیں ہمارے اوپر مسلط نہ کیجئے کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچا سکیں۔ ﴿اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا﴾ (اور ہماری مغفرت فرما دیجئے اے ہمارے رب) ۔ ﴿ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 005﴾ (بےشک آپ زبردست ہیں حکمت والے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

ترغیب اہل اسلام برائے اسوہ حسنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔ (ربط) سورة ممتحنہ کی گزشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی پر وعید ومذمت تھی اور اس طرح کا ایک واقعہ حاطب ؓ کے ساتھ پیش آگیا تھا اس پر تنبیہ کرکے فرمادیا گیا تھا کہ مسلمان کو اپنے اور خدا کے دشمن کے ساتھ دوستانہ روابط ومراسم قائم کرنے کی قطعی اجازت نہیں۔ تو اب ان آیات میں دشمنان اسلام اور دشمنان خدا کے ساتھ جو بغض ونفرت کے جذبات مسلمان کے قلب میں ہونے چاہئیں ان کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے، فرمایا اے مسلمانو ! بیشک تمہارے واسطے ایک بہترین نمونہ ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

7:۔ ” قد کانت لکم “ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے عمل میں تمہارے لیے اقتداء و اتباع کا بہت عمدہ نمونہ تھا۔ انہوں نے اپنے مشرک اعزہ و اقارب سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارے تمہارے تعلقات اب ختم ہیں اور ہم تم سے اور تمہارے خود ساختہ معبودوں سے بیزار ہیں اور جن معبودوں کو تم اللہ کے سواء پکارتے ہو ان کی معبودیت اور کارسازی کا انکار کرتے ہیں اب ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے بغض و عداوت قائم ہوچکی ہے۔ ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان لو اور ہمارا دین قبول کرلو تو تم ہمارے بھائی ہو۔ البتہ ابراہیم (علیہ السلام) حسب وعدہ اپنے باپ کیلئے ہدایت کی دعا مانگتے رہے۔ ” ساستغفر لک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–6

ربط آیات : سورۃ ہذا کی پہلی تین آیات میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے مشرکین کو ان پر مسلمانوں کے حملے کی تیاری کی سلسلے میں خط لکھا تھا۔ مگر اس کی اطلاع اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی کردی تو آپ نے وہ خط راستے سے ہی واپس لے لیا۔ جب اس صحابی ؓ سے کوتاہی کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے عذر پیش کیا کہ اس نے یہ کام اپنے بچوں کی حفاظت کی غرض سے مشرکین مکہ کو اعتماد میں لینے کے لئے کیا تھا اللہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا اور اہل ایمان کو سختی کے ساتھ منع کردیا۔ کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ فرمایا کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی ، لہٰذا ان کے ساتھ دوستانہ رکھنا سخت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا۝ 0 ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ 5 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–6

ترکیب : فی ابراھیم الخ صفۃ ثانیۃ لاسوۃ اوخبر لکانت ولکم بیان اوحال من المستکن فی حسنۃ اوصلۃ لھا اذ قالوا لخبر کان براء جمع بریٰ کظریف وظریف قریٔ براء بالکسر مثل ظراف بالفتح اسم مصدر مثل سلام والتقدیر اناذوبرائ۔ الا قول استثناء منقطع من قولہ تعالیٰ اسوۃ حسنۃ فان استغفار ابراہیم (علیہ السلام) لابیہ وان کان جائزالہ قبل النھی عنہ لکنہ لیس ان یوشی بہ لمن کان بدل من لکم۔ تفسیر : کفار کی محبت و مودت سے دوسرے پیرائے میں منع کرتا ہے فقال قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ کہ اے مسلمانو ! تم کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کا عمدہ طریقہ اور بہتر رویہ تمہارے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا ج اِنَّـکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الممتحنۃ : 5) (اے ہمارے رب ! ہمیں ان لوگوں کا تختہ مشق نہ بننے دینا جنھوں نے کفر کیا ہے، اور اے ہمارے رب ! ہمارے قصوروں سے درگزر فرما، بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے۔ ) گزشتہ دعا کا ایک حصہ یہ بھی اوپر والی دعا کا حصہ ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے یہ دعا مانگی ہے کہ یا اللہ ! ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا۔ یہاں فتنہ سے مراد ہدف فتنہ ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کافر ہم پر غالب آجائیں اور اپنے غلبہ کو اس بات کی دلیل قرار دیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی مزید دعائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان انبیائے میں سر فہرست ہیں جنہوں نے بیک وقت اپنے اہل خانہ اور قوم سے تکلیفیں اٹھانے کے ساتھ ساتھ وقت کے حکمران کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان سے اذّیت اٹھائی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنی قوم اور حکمرانوں کے ساتھ کشمکش اتنی شدید ہوئی کہ وہ اور ان کے ساتھی پکار اٹھے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر اعتبار سے غالب اور حکمت رکھنے والا ہے۔ قرآن مجید نے فتنہ کا لفظ کئی معانی میں استعمال کیا ہے۔ یہاں فتنہ کا لفظ چار معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اکثر اہل علم نے یہاں فتنہ کا مفہوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (اے ہمارے رب ہم کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنانا) دشمن کو ہم پر مسلط نہ فرما کہ وہ سزا کے ذریعہ ہمیں فتنہ میں ڈالیں۔ وَاغْفِرْلَنَا رَبَّنَا اِنّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (اور اے ہمارے رب ہم کو معاف کر دے بیشک تو زبردست حکمت والا ہے) غالب وحاکم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” قد کانت لکم اسوۃ “ پیشوا ” حسنۃ فی الراھیم والذین معہ “ اہل ایمان میں سے۔ ” اذقالوا لقومھم “ مشرکین سے۔ ” انا برء وامنکم “ بری کی جمع ہے۔ ” ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم “ ہم نے تمہارے دین کے انکار کیا۔ ” وبدا بیننا وبینکم العداوۃ ہوالبغضاء ابدا حتی تومنوا باللہ وحدہ “ حضرت حاطب ؓ اور دیگر مومنوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اقتداء کرنے کا حکم دیا ہے اور ان لوگوں کا جو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے مشرکین سے برات ظاہر کرنے میں۔ ” الاقول ابراھیم لابیہ لا ستغفرن لک “ یعنی تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے امور میں اچھا طریقہ ہے مگر ان کے اپنے مشرک باپ کے لئے استغفار کرنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا) یعنی اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا ایسا نہ کرنا کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کردیں اور ہمیں ان امور ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انہیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جایں گے۔ (وَاغْفِرْ لَنَا) ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے وہ ہمیں معاف کردے۔ (رَبَّنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–7

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام باتوں میں تقلید کرنے کا حکم دیا۔ البتہ کافر بات کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی بات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔ قول باری ہے۔ (ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنا) قتادہ کا قول ہے : ” یعنی انہیں ہم پر غالب کرکے ، اور پھر وہ یہ سمجھ لیں کہ وہ حق پر ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان کو ہم پر مسلط نہ کر کہ پھر وہ ہمیں اپنا تختہ مشق بنالیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 19] فتنوں سے پناہ کی دعا و درخواست کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے رب کے حضور اپنی دعا میں مزید عرض کیا کہ اے ہمارے رب ہمیں فتنہ نہ بنانا کافروں کیلئے۔ کہ وہ ہم پر غالب آکر ہم پر ظلم و ستم کرنے لگیں، اور اپنی اس کامیابی کو وہ اپنی حقانیت کی دلیل قرار دے کر حق سے اور دور ہوجائیں، اور دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے دور اور محروم کرنے لگیں، نیز یہ کہ ہمارے اندر کوئی ایسی کمزروی پیدا نہ ہونے پائے جس سے ہمارے دشمنوں کو ہم پر عیب گیری کا موقع ملے، سو فتنہ کی نکارت و تعمیر ایسی سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے، ہم نے تیری توحید کی عزت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان براءت کردیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی ہمیں نیک عمل اور پختہ کردار کی توفیق دے ایسا نہ ہو کہ ہماری بد عملی اور اخلاقی کمزوری کو دیکھ کر یہ کافر ایمان لانے سے باز رہیں اور غلط راہوں پر چلتے رہیں۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کافروں کو ہم پر غلبہ نصیب نہ فرما۔ کیونکہ اس صورت میں وہ یہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر اور اس طرح وہ ایمان لانے سے باز رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:5) ربنا : مناجات کو محکم کرنے اور درخواست رحم میں مزید قوت پیدا کرنے کے لئے ربنا کا دوبارہ ذکر کیا گیا۔ لاتجعلنا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر جعل (باب فتح) مصدر۔ تو ہم کو نہ بنا، تو ہم کو نہ کر۔ فتنۃ۔ ایک کثیر المعانی لفظ ہے۔ فتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھڑا کھوٹا ہونا معلوم ہوسکے۔ اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن مجید میں ہے یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔ آیت زیر غور میں اس کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں :۔ (1) ہم کو کافروں کے ظلم و ستم کا تختہ مشق نہ بنا۔ (2) کافروں کو ہم پر مسلط نہ کر۔ کہ وہ ہم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن۔ ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔ تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔ (ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–6

ف 1: فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور ان کے فرمانبرداروں میں تمہارے لئے لائق اقتدار اسوہ ہے ۔ غور کرو ۔ کہ جب وہ مبعوث ہوئے ہیں ۔ ان کے گرد وپیش کی فضا کیسی تھی ؟ کس درجہ شرک کا دور دورہ تھا ۔ پوری قوم بت پرست تھی اور حکومت ان کی پشت پر ۔ مگر انہوں نے پوری جرات کے ساتھ کہہ دیا کہ میں تمہارے ان عقا ئد سے کاملا بیزار ہوں ۔ اور اعلان توحید کے بعد اب میں تمہارا کھلا دشمن ہوں ۔ مجھ سے کسی رعایت کی توقع نہ رکھنا ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے ۔ کہ انہوں نے کبھی باطل کے سامنے اور قوت کے مقابلہ میں اپنا سر نہیں جھکایا ۔ اور کبھی مخالفت اور عناد کی پرواہ نہیں کی الا قول ابراھیم سے غرض یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اے ہمارے پروردگار نہ جانچ ہم پر کافروں کو اور ہم کو کافروں کے لئے محل آزمائش نہ بنا اور اے ہمارے پروردگار ہم کو بخش دے اور ہمارے گناہوں کو معاف کردے بلا شبہ تو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی پھر اپنی قوم کی طرف منہ نہ کیا تم بھی وہی کرو ایک ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا چاہی تھی بات کے واسطے جب تک معلوم نہ تھا تم کو معلوم ہوچکا تم کافر کی بخشش نہ مانگو نہ جانچ ہم پر کافروں کو یعنی ہم کو کافروں کے واسطے محل آزمائش نہ کر۔ خلاصہ : یہ ہے کہ تم کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 5۔ یہ آیتیں ایک قصہ کے متعلق ہیں اور وہ قصہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے فتح مکہ کے لئے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو کہ اہل بدر سے ہیں اور رہنے والے یمن کے ہیں اور مکہ میں آرہے تھے اور ان کے بھائی اور والدہ اور اولاد واہل عیال و اموال اب بھی مکہ میں تھے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تم پر چڑھائی کرنے والے ہیں اور یہ خط ایک عورت کو دیدیا کہ مکہ والوں پہنچا دے، آپ ﷺ کو وحی سے یہ بات معلوم ہوگئی، آپ نے حضرت علی اور چند صحابہ کو حکم دیا کہ فلاں جگہ وہ عورت ملے گی اس سے وہ خط لے آو، یہ گئے اور وہ عورت ملی، اور ان کے دھمکانے سے وہ خط اس نے دیا اور یہ لائے، آپ ﷺ نے حاطب سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ہمارے رب ! ہمیں کافروں کے لیے فتنہ مت بنا دے 5 ؎ زیر نظر آیت میں ایک خاص دعا کا تذکرہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں دست طلب دراز کیے ہوئے عجز و نیاز کے ساتھ یہ عرض کر رہے ہیں کہ ” اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ان لوگوں کے لیے (فتنۃ) مت بنا جو کافر ہیں “ (فتنۃ) فتن سے مآخوذ ہے۔ جب سونے کو اس لیے آگ میں تپاتے ہیں کہ کھوٹ اور میل جل کر خالص سونا باقی رہ جائے تو اس کے لیے ” فتن الذھب “ بولتے ہیں ۔ اب اصلاح میں امتحان اور آزمائش اور پرکھ کو کہتے ہیں اور اسی لیے حضرت انسان پر جو شدائد و مصائب آتے ہیں وہ اسی مناسبت سے ( فتنۃ) کہلاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ مال ، اولاد اور منصب و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَ‌اهِيمَ ۔ ۔ ۔ حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ (Indeed, there is an excellent example for you in Ibrahim and those with him, when they said to their people, "We disown you and what you worship instead of Allah. We disbelieve in you. Enmity and hatred has arisen between us and you forever, unless you believe in Allah alone",....60:4). This verse supports and emphasizes the abstaining from maintaining close friendly relations with non-believers. This rule of law is illustrated by the excellent example of Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

8 There are several ways in which the believers can become a cause of trial for the disbelievers, for which every believer should seek Allah's refuge. For example, (1) the disbelievers may gain in upper hand over them and consider it a proof of their being in the right and the believers' being in the wrong; otherwise it could not be that in spite of Allah's good pleasure that they claim to enjoy, the disbelievers would have been able to gain an upper hand over them; (2) the persecution of the believers by the disbelievers may become unbearable with the result that they may yield to them and…

Read the full tafseer →