Explained with ayahs 4–6
عصبیت دین ایمان کا جزو لاینفک ہے
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو تم ہمیں اپنا دشمن سمجھوناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 6
یعنی ہم تمہارے کافر ہیں، نہ تمہیں حق پر مانتے ہیں نہ تمہارے دین کو۔ اللہ پر ایمان کا لازمی تقاضا طاغوت سے کفر ہے۔ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِا لطَّاغُوْتِ وَیُوْمِنْ باللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الوُثْقیٰ لَا انْفِصَامَ لَھَا۔ " پس جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے اس نے در حقیقت مضبوط سہارا تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں ہے "۔ (البقرہ، 256)
سورة الْمُمْتَحِنَة 7
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے حضرت ابراہیم کی یہ بات تو قابل تقلید ہے کہ انہوں نے اپنی کافر و مشرک قوم سے صاف صاف بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کردیا، مگر ان کی یہ بات تقلید کے قابل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اگلی آیات میں کفار سے ترک موالات کی تائید و تاکید کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا تو سارا خاندان مشرکین کا تھا، انہوں نے سب سے بیزاری اور برات کا ہی نہیں بلکہ عداوت کا اعلان کردیا اور بتلا دیا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ گے اور اپنے شرک سے باز نہ آؤ گے ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار حائل رہے گی، قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ (تا) حَتّٰى تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَحْدَهٗٓ کا یہی مطلب ہے۔
ایک شبہ کا جواب
اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو حضرت ابراہیم ؑ کے اسوہ حسنہ اور سنت پر چلنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور حضرت…
Read the full tafseer →(قد کا نت لکم اسوۃ خسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذقالوا لقومھم انا برئو مثکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابداء حتی تومنوا باللہ وحدہٗ الا قول ابراہیم لا بیہ لا ستغفرن لک وما املک لک من اللہ من شی ربنا علیکم توکلنا والیک انبنا والیک المصیر) (4)۔
(اسوہ ابراہیم کی پیروی کی تلقین)۔ فرمایا کہ اس معاملے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے جدامجد حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین قابل تقلید نمونہ پہلے سے موجود ہے۔ (قد کا نت) کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ…
Read the full tafseer →4۔ 1 کفار سے عدم اتحاد کے مسئلے کی وضاحت کے لئے حضرت ابراہیم ؑ کی مثال دی جا رہی ہے کہ ایسا نمونہ جس کی پیروی کی جائے
4۔ 2 یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق۔
4۔ 3 یعنی علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک کفر و شرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنالو گے۔
4۔ 4 مطلب یہ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چناچہ جب ان پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
2: مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم اور کنبے سے برأت کا اظہار کردیا تھا، لیکن شروع میں اپنے والد سے مغفرت کی دعا کا وعدہ ضرور کیا تھا، لیکن جیسا کے سورة توبہ (9۔ 114) میں گزرا ہے، جب انہیں یہ پتہ چل گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اللہ کا دشمن ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ہے تو انہوں نے اس دعا سے بھی علیحدگی اختیار فرمالی۔
Read the full tafseer →انہی لوگوں کے طرفز عمل میں تمہارے لئے ہر اس شخص کے لئے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے “۔
ایک مسلم جب تاریخ پر نظر ڈالتا ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کی ایک طویل تاریخی نسب نامہ اور شجرہ ایمان ہے۔ یہ ماضی کی تاریخ میں بہت دور تک پھیلا ہوا ہے ، دور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے عقائد ونظریات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا پیروکار ہے بلکہ اہل ایمان اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعوتی تجربات بھی ایک ہی جیسے ہیں اس لئے ایک مومن یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کے پاس تجربات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔…
Read the full tafseer →9 یعنی جو لوگ مسلمان ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہوتے گئے اپنے اپنے وقت پر سب نے قولاً یا فعلاً اسی علیحدگی اور بیزاری کا اعلان کیا۔
10 یعنی تم اللہ سے منکر ہو۔ اور اس کے احکام کی پروا نہیں کرتے ہم تمہارے طریقہ سے منکر ہیں اور ذرہ برابر تمہاری پروا نہیں کرتے۔
11 یعنی یہ دشمنی اور بیر اسی وقت ختم ہوسکتا ہے جب تم شرک چھوڑ کر اسی ایک آقا کے غلام بن جاؤ جس کے ہم ہیں۔
1 یعنی صرف دعا ہی کرسکتا ہوں۔ کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ خدا جو کچھ پہنچانا چاہے اسے میں نہیں روک سکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی پھر اپنی قوم کی طرف منہ نہیں کیا۔ تم بھی وہی کرو۔ ایک…
Read the full tafseer →آیت 4 { قَدْ کَانَتْ لَـکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } ”تمہارے لیے بہت اچھا نمونہ ہے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے طرزِعمل میں۔“
{ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”جب انہوں نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم بالکل بری ہیں تم سے اور ان سے جنہیں تم پوجتے ہو اللہ کے سوا۔“
ہم تم سے بھی اور ان سے بھی اعلانِ براءت اور اظہارِ لاتعلقی کرتے ہیں۔
{ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا } ”ہم تم سے منکر ہوئے ‘ اور اب ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت…
Read the full tafseer →8 سیدنا ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا اپنی قوم کو دو ٹوک جواب تمہارے لئے نمونہ ہے :۔ تم سے پہلے تمہارے لیے ایک اچھی مثال موجود ہے اور وہ تمہارے لیے قابل تقلید ہے۔ جس طرح تم اللہ کے رسول پر ایمان لائے ہو، اسی طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی کچھ لوگ ایمان لائے تھے۔ جوں جوں وہ ایمان لاکر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ملتے گئے۔ اپنی قوم اور اپنے گھر والوں سے بیزار ہوتے گئے اور انہوں نے واضح طور پر اپنی قوم اور اپنے تعلق داروں سے کہہ دیا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اب کوئی تعلق نہیں رہا، نہ رشتہ داری کا نہ دوستی کا۔ بلکہ اس کے بجائے ہم تمہارے دشمن ہیں۔ اور ہماری یہ دشمنی تم سے اس…
Read the full tafseer →5۔ یعنی پیروی اس نمونہ حسنہ کی کرو جو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ مومنین، کافروں اور اعدائے دین کے ساتھ تعلقات رکھنے کے باب میں قائم کرگئے ہیں۔ قرآن مجید اپنے حسب معمول حکم دینے کے ساتھ ساتھ مزید رغبت وشوق پیدا کرنے کے لئے، نیز عمل میں مزید سہولت پیدا کرنے کے لئے ماضی سے عملی نظیریں بھی پیش کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” والذین معہ “۔ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے ساتھ یہ معیت یا شرکت ایمان و اطاعت میں تھی۔
6۔ (اور اس لئے تم سے قولا وفعلا ہر طرح قطع تعلق کرتے ہیں۔ (آیت) ” انا .... بکم “۔ یعنی ہم تمہارے عقائد سے بیزار ہیں، اور تمہارے معبودوں کی الوہیت کے منکر ہیں۔ یہ تبری بلحاظ عقائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ان یثقفوکم یکونوا لکم اعداء یعنی ان کافروں سے بحالت موجودہ کسی بھلائی کی امید مت رکھو، خواہ تم کتنی ہی روا داری اور دوستی کا اظہار کرلو گے وہ کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، انتہائی روا داری کے باوجود اگر تم پر ان کا قابو چڑھ جائے تو کسی قسم کی برائی اور دشمنی سے درگزر نہ کریں گے، زبان سے ہاتھ سے غرضیکہ ہر طرح سے ایذاء پہنچائیں گے اور ان کی یہ خواہش ہوگی کہ تم کفر میں وکا پس پلٹ آئو، کیا ایسے شریر اور بد باطن اس لائق ہیں کہ ان کو دوستانہ پیغام بھیجاجائے۔
Read the full tafseer →قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذ قالوا لقومھم انا برء وا منکم و مما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وابدا بیننا و بینکم العداوۃ والبغضا ابدا تو منوا باللہ وحدہ
” تمہارے لیے ایک عمدہ نمونہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) (کی زندگی اور قول و عمل) میں اور ان لوگوں (کے قول و عمل) میں جو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھی تھے ‘ جب ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور ان سے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (یعنی بتوں اور ستاروں وغیرہ سے) بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (مذہب اور عقیدہ و عمل کے) منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ…
Read the full tafseer →اے حاطب تمہارے لیے ابراہیم کے فرمان اور ان مومنین کے اقوال میں جو کہ ان کے ساتھ تھے ایک عمدہ نمونہ ہے۔
جبکہ ان سب نے اپنے رشہ دار کافروں سے کہہ دیا کہ ہم تمہاری رشتہ داری اور تمہاری اس بت پرستی کے طریقہ سے بےزار ہیں ہم تمہارے دین کے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ عداوت اور قلبی دشمنی ظاہر ہوگئی جب تک تم اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہ کرو لیکن اتنی بات تو ابراہیم کی اپنے والد سے ضرور ہوتئی تھی کہ میں تمہارے لیے استغفار کروں گا اور مجھے اللہ کے عذاب کے مقابلے میں کسی چیز کا اختیار نہیں کیونکہ یہ بات بھی ایک وعدہ کی وجہ سے تھی۔
مگر جب ان کے باپ نے کفر کیا تو انہوں نے اس سے بےزاری ظاہر کردی اب…
Read the full tafseer →1۔ قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ :”اسوۃ“ اور ”قدوۃ“ کے معنی ہیں جس کی پیروی کی جائے ، نمونہ (اچھا ہو یا برا) اس لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کو اسوۂ حسنہ فرمایا۔ یعنی اللہ کے دشمن کفار و مشرکین کے ساتھ دوستی کے سلسلے میں تمہارے لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں میں پہلے سے ایک اچھا نمونہ موجود تھا جو تمہارے پیش نظر رہنا چاہیے تھا۔”والذین معہ“ سے مراد ان پر ایمان لانے والے ساتھی ہیں۔
2۔ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ۔۔۔۔”بر وا“ ”بری“ کی جمع ہے ، جیسے ”کریم“ کی جمع ”کرماء“ ہے۔ یعنی ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھی تمہارے لیے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آیات۔ 4۔ 5
تفسیر
قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرہیم جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ دوستی سے منع کیا تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا۔ آپ کی سیرت میں یہ بات تھی کہ آپ نے کفار سے برا ئت کا اظہار کیا۔ یعنی تم آپ کی اقتداء کرو مگر جو آپ نے اپنے اب آذر کے لئے استغفار کی اس میں اقتدا نہ کرو۔ اسوۃ اور اسوہ اسے کہتے ہیں جس کی اقتدا کی جائے۔ جس طرح قدوہ اور قدوہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھو اسوتک یعنی وہ تیری اور تو اس کی مثل ہے۔ عاصم نے اسے اسوۃ پڑھا ہے دو لعنتیں ہیں۔
والذین معہ یعنی مومنین میں سے جو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے صحابہ تھے۔ ابن زید نے کہا : مراد انبیاء ہیں (1) ۔ اذ قالو………
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ احمد والحمیدی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد اور الترمذی والنسائی وابو عوانہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً فی الدلائل حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو بھیجا۔ اور فرمایا چلے جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچو ایک عورت ہودے میں سوار تمہیں ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے آؤ۔ پس ہم نکل پڑے یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچ گئے۔ اچانک ایک عورت ہودے پر سوار ملی۔ ہم نے اس سے کہا خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا خط نکال ورنہ کپڑے اتار آخر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کردیا۔ ہم…
Read the full tafseer →[قَدْ كَانتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ: ہوچکا ہے تمہارے لیے ایک بھلائی والا نمونہ ][ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِينَ مَعَهٗ : ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھ تھے ][ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ : جب ان لوگوں نے کہا اپنی قوم سے ][ انا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ : بیشک ہم بیزار ہیں تم لوگوں سے ][ وَمِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اور اس سے جس کی تم بندگی کرتے ہو اللہ کے علاوہ ][ كَفَرْنَا بِكُمْ : ہم نے انکار کیا تمہارا ][ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ : اور ظاہر ہوئی ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان ] [ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ : دشمنی اور بغض ][اَبَدًا : ہمیشہ کے لیے…
Read the full tafseer →حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ قابل اقتداء ہے اور کافر کے لئے استغفار ممنوع ہے
ایمان اور کفر کی ہمیشہ سے لڑائی رہی ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے جو اپنی قوم سے اور اپنی باپ سے مباحثے ہوئے جگہ جگہ قرآن مجید میں مذکور ہیں، ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے بغیر کسی مداہنت کے اپنی قوم کے سامنے اعلان کردیا کہ ہم تم سے اور تم اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کرتے ہو ان سے بھی بیزار ہیں، اس اعلان کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ ہم تمہارے منکر ہیں ہم تمہارے دین کو نہیں مانتے اور ہمارے تمہارے درمیان بغض ہے اور دشمنی ہے اور یہ دشمنی ہمیشہ رہے گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ترغیب اہل اسلام برائے اسوہ حسنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) سورة ممتحنہ کی گزشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ دوستی پر وعید ومذمت تھی اور اس طرح کا ایک واقعہ حاطب ؓ کے ساتھ پیش آگیا تھا اس پر تنبیہ کرکے فرمادیا گیا تھا کہ مسلمان کو اپنے اور خدا کے دشمن کے ساتھ دوستانہ روابط ومراسم قائم کرنے کی قطعی اجازت نہیں۔
تو اب ان آیات میں دشمنان اسلام اور دشمنان خدا کے ساتھ جو بغض ونفرت کے جذبات مسلمان کے قلب میں ہونے چاہئیں ان کی ہدایت وتاکید فرمائی جارہی ہے، فرمایا اے مسلمانو ! بیشک تمہارے واسطے ایک بہترین نمونہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
7:۔ ” قد کانت لکم “ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کے عمل میں تمہارے لیے اقتداء و اتباع کا بہت عمدہ نمونہ تھا۔ انہوں نے اپنے مشرک اعزہ و اقارب سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمارے تمہارے تعلقات اب ختم ہیں اور ہم تم سے اور تمہارے خود ساختہ معبودوں سے بیزار ہیں اور جن معبودوں کو تم اللہ کے سواء پکارتے ہو ان کی معبودیت اور کارسازی کا انکار کرتے ہیں اب ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے بغض و عداوت قائم ہوچکی ہے۔ ہاں اگر تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان لو اور ہمارا دین قبول کرلو تو تم ہمارے بھائی ہو۔ البتہ ابراہیم (علیہ السلام) حسب وعدہ اپنے باپ کیلئے ہدایت کی دعا مانگتے رہے۔ ” ساستغفر لک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ربط آیات :
سورۃ ہذا کی پہلی تین آیات میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے مشرکین کو ان پر مسلمانوں کے حملے کی تیاری کی سلسلے میں خط لکھا تھا۔ مگر اس کی اطلاع اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی کردی تو آپ نے وہ خط راستے سے ہی واپس لے لیا۔ جب اس صحابی ؓ سے کوتاہی کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے عذر پیش کیا کہ اس نے یہ کام اپنے بچوں کی حفاظت کی غرض سے مشرکین مکہ کو اعتماد میں لینے کے لئے کیا تھا اللہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا اور اہل ایمان کو سختی کے ساتھ منع کردیا۔ کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ فرمایا کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی ، لہٰذا ان کے ساتھ دوستانہ رکھنا سخت…
Read the full tafseer →قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَۃٌ حَسَـنَۃٌ فِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَہٗ 0 ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ 0 ۡكَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللہِ مِنْ شَيْءٍ 0 ۭ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ 4
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ترکیب : فی ابراھیم الخ صفۃ ثانیۃ لاسوۃ اوخبر لکانت ولکم بیان اوحال من المستکن فی حسنۃ اوصلۃ لھا اذ قالوا لخبر کان براء جمع بریٰ کظریف وظریف قریٔ براء بالکسر مثل ظراف بالفتح اسم مصدر مثل سلام والتقدیر اناذوبرائ۔ الا قول استثناء منقطع من قولہ تعالیٰ اسوۃ حسنۃ فان استغفار ابراہیم (علیہ السلام) لابیہ وان کان جائزالہ قبل النھی عنہ لکنہ لیس ان یوشی بہ لمن کان بدل من لکم۔
تفسیر : کفار کی محبت و مودت سے دوسرے پیرائے میں منع کرتا ہے فقال قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ کہ اے مسلمانو ! تم کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کا عمدہ طریقہ اور بہتر رویہ تمہارے…
Read the full tafseer →قَدْ کَانَتْ لَـکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ ج اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْـکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِز کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗٓ اِلاَّ قَوْلَ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَـکَ وَمَـآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْ ئٍ ط رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ ۔ (الممتحنۃ : 4)
(تمھارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے صاف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ہر حال میں اپنے سامنے رکھنے کا حکم۔ بالخصوص ان مسلمانوں کو جو کفار سے دوستی رکھنے کا ذہن رکھتے ہیں۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے اپنی اولاد کی خاطر مسلمانوں کا راز اہل مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی جو دنیا اور آخرت کے حوالے سے انتہائی نقصان دہ اقدام تھا۔ مسلمانوں کو ایسے اقدام اور نقصان سے بچنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ تمہیں ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا فرمان اور اسوہ حسنہ اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ ہم تم…
Read the full tafseer →بیزاری کا عمدہ نمونہ :
4 : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ (تمہارے لئے ایک عمدہ نمونہ ہے) اھل سے بیزاری کا عمدہ نمونہ حَسَنَۃٌ فِیْ اِبْرٰھِیْمَ (ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی اور قول میں) یہاں اقوال مراد ہیں اسی لئے اس سے قول ابراہیم کو مستثنیٰ کیا۔ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ (اور وہ لوگ جو ان کے ساتھی تھے) ایمان والے ایک قول یہ ہے وہ انبیاء (علیہم السلام) تھے۔ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَئٰٓ ؤُا مِنْکُمْ (جب ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے) برئٰٓ ؤا جمع بریٌ جیسے ظریف جمع ظرفاء وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَاوَبَیْنَکُمُ الْعَدَوَاۃُ…
Read the full tafseer →3 ۔” لن تنفعکم ارحامکم “ ان کا معنی ہے نہ پکارے تم کو اور نہ ابھارے تم کو تمہاری رشتہ داریاں اور قریبی تعلقات اور تمہاری اولاد جو مکہ میں ہے رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی خیانت پر اور ان کی خیر خواہی چھوڑنے پر اور ان کے دشمنوں سے دوستی کرنے پر کیونکہ یہ رشتہ داریاں تمہیں ہرگز کوئی نفع نہ دیں گی۔ ” ولا اولادکم “ جن کی وجہ سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ ” یوم القیامۃ یفصل بینکم “ پس اس کی اطاعت کرنے والے جنت میں اور اس کی نافرمانی کرنے والے جہنم میں داخل ہوں گے۔ عاصم اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” یفصل “ یاء کے زبر اور صاد کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے تخفیف کے ساتھ اور حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…
Read the full tafseer →اے مومنوں کے گروہ تمہارے لیے ( اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمہیں فائدہ دے گی ( فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ ۚ ) ابراہیم میں اور ان کے مومن رفقاء میں ہے۔ تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کا اتباع کرو۔ (اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) یعنی جب حضرت ابراہیم اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے برات کا اعلان کیا جنہیں وہ مشرک اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی چناچہ انہوں نے کہا ( كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا) ہم…
Read the full tafseer →قول باری ہے (قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ۔ بیشک تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے شریک حال لوگوں میں ایک عمدہ نمونہ ہے) تاآخر آیت۔ قول باری (والذین معہ) سے مراد ایک قول کے مطابق انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ ایک قول ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ کافروں سے دشمنی کے اظہار اور ان سے ترک موالات کے سلسلے میں ان لوگوں کی تقلید کی جائے۔ ارشاد ہوا (انا برآء منکم و مما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدابیننا وبینکم العداوۃ و البغضاء ابدا، ہم تم سے اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں۔ ہم تمہارے…
Read the full tafseer →[ 10] اسوہ ابراہیمی کی تذکیر و یاد دہانی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ تمہارے لیے [ اے مسلمانو !] ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں عمدہ نمونہ ہے۔ یعنی عقیدہ و ایمان کے اعتبار سے کہ اصل اور معتبر قرابت و معیت یہی دین و ایمان اور عقیدہ و مذہب کی قرابت و معیت ہے۔ پس تم لوگوں نے اگر اپنانا ہے تو اسی اسوہء ابراہیمی کو اپناؤ جو کہ دین و ایمان پر مبنی نہایت پاکیزہ اسوہ ہے، اور جو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ اور وسیلہ ہے، اور جس کی اساس و بنیاد یہ ہے کہ دین کا تقاضا دوسرے ہر تقاضے پر مقدم اور فائق ہو۔ سو اس سے منکرین مکہ کو تنبیہ کرتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں
تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6۔
اسرار ومعارف۔
اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ہماری راہ توحید کو اختیار نہ کرو گے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی اپنے شرک رشتہ داروں سے الگ ہوگئے تھے۔ اسی طرح تمہارا بھی یہ فرض ہے کہ اپنے مشرک رشتہ داروں سے کسی قسم کا تعلق رکھو۔2 یعنی اس قول میں حضرت ابراہیم کی پیروی جائز نہیں اور انہوں نے یہ وعدہ اس وقت کیا جب کہ حضرت ابراہیم کو معلوم نہ تھا کہ مشرک کے لئے مفغرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ بعد میں جب انہیں معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمن کے لئے مففرت کی دعا نہیں کی جاسکتی اور ان کا والد اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے الگ ہوگئے۔ دیکھیے (توبہ 114)3 یعنی صرف درخواست کرسکتا ہوں نفع کو نقصان کا مجھے اتخیار نہیں ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →(60:4) قد کانے لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ : قد ماضی پر آئے تو تحقیق کا معنی دیتا ہے اور ماضی کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔
اسوۃ : الاسوۃ والاسوۃ : (قدوۃ وقدوۃ کی طرح) اس ہے ۔ انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں وہ دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالت اچھی ہو یا بری۔ ہی اتباع الغیر علی الحالۃ التی یکون علیہا حسنۃ او قبیحۃ (اضواے البیان) سرور بخش ہو یا تکلیف دہ۔ اسی لئے آیت ہزا میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لائی گئی ہے۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (22:21) عربی میں کہتے ہیں کہ :۔ تاسیت بہ۔ میں نے اس کی اقتداء کی۔ اسوۃ مادہ اس و سے مشتق ہے اور قرآن مجید میں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن۔
ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔
تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔
اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔
(ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…
Read the full tafseer →[3] یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی مشرک قوم سے کھلم کھلا بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کرنا تو تمہارے لئے قابل اتباع ہے، لیکن ان کا اپنے کافر باپ کے لئے دعائے مغفرت کرنا قابل اتباع نہیں کیونکہ یہ ایک وعدے کی بناء پر تھا جو انہوں نے گھر سے نکالے جانے پر اپنے باپ سے کیا تھا (ملاحظہ ہو سورة مریم آیت 47 صفحہ 706) ۔ اسی وعدے کی بناء پر انہوں نے دو مرتبہ اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کی (ملاحظہ ہو سورة ابراہیم آیت 41 صفحہ 580 اور سورة شعراء آیت 86 صفحہ 870) لیکن جب ان کو احساس ہوا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اعلان کردیا (ملاحظہ ہو سورة توبہ آیت 114 صفحہ 444) لہذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
ف 1: فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور ان کے فرمانبرداروں میں تمہارے لئے لائق اقتدار اسوہ ہے ۔ غور کرو ۔ کہ جب وہ مبعوث ہوئے ہیں ۔ ان کے گرد وپیش کی فضا کیسی تھی ؟ کس درجہ شرک کا دور دورہ تھا ۔ پوری قوم بت پرست تھی اور حکومت ان کی پشت پر ۔ مگر انہوں نے پوری جرات کے ساتھ کہہ دیا کہ میں تمہارے ان عقا ئد سے کاملا بیزار ہوں ۔ اور اعلان توحید کے بعد اب میں تمہارا کھلا دشمن ہوں ۔ مجھ سے کسی رعایت کی توقع نہ رکھنا ۔
چنانچہ حضرت ابراہیم کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے ۔ کہ انہوں نے کبھی باطل کے سامنے اور قوت کے مقابلہ میں اپنا سر نہیں جھکایا ۔ اور کبھی مخالفت اور عناد کی پرواہ نہیں کی الا قول ابراھیم سے غرض یہ…
Read the full tafseer →(4) بلا شبہ تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھی اور شریک حال تھے ایک عمدہ نمونہ اور بیشک تم کو چال چلنی ہے اچھی ابراہیم (علیہ السلام) کی اور جو اس کے ساتھ تھے جبکہ ان سب نے اوقات مختلفہ میں اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اور جن کی پرستش کیا کرتے ہو سخت بیزار ہیں ہم تمہارے عقائد باطلہ کے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور دشمنی ظاہر ہوگئی تاوقتیکہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لے آئو مگر ہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی بات جو اس نے اپنے باپ سے کہی تھی کہ میں تیرے لئے استغفار ضرور کروں گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ف 5۔ یہ آیتیں ایک قصہ کے متعلق ہیں اور وہ قصہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے فتح مکہ کے لئے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو کہ اہل بدر سے ہیں اور رہنے والے یمن کے ہیں اور مکہ میں آرہے تھے اور ان کے بھائی اور والدہ اور اولاد واہل عیال و اموال اب بھی مکہ میں تھے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تم پر چڑھائی کرنے والے ہیں اور یہ خط ایک عورت کو دیدیا کہ مکہ والوں پہنچا دے، آپ ﷺ کو وحی سے یہ بات معلوم ہوگئی، آپ نے حضرت علی اور چند صحابہ کو حکم دیا کہ فلاں جگہ وہ عورت ملے گی اس سے وہ خط لے آو، یہ گئے اور وہ عورت ملی، اور ان کے دھمکانے سے وہ خط اس نے دیا اور یہ لائے، آپ ﷺ نے حاطب سے…
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کا تفصیلی ذکر
4 ؎ ( اسوۃ) کی اصل اس و ہے جس کے معنی چال ، ڈھنگ ، نمونہ اور عمل کے ہیں ۔ یہ اسم ہے غیر کی اتباع اور پیروی میں انسان جس چال پر ہوتا ہے اس کا نام اسوۃ ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بری ، منفعت پہنچانے والی ہو یا ضروررساں ( اسوۃ) کا لفظ قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے اور ہر بار ( اسوۃ) کے ساتھ ( حسنۃ) کا لفظ آیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی ( اسوۃ حسنۃ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں اسوۃ حسنہ ہے اور ان لوگوں کی زندگی میں بھی جو آپ کے ساتھ تھے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ ۔ ۔ ۔ حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ (Indeed, there is an excellent example for you in Ibrahim and those with him, when they said to their people, "We disown you and what you worship instead of Allah. We disbelieve in you. Enmity and hatred has arisen between us and you forever, unless you believe in Allah alone",....60:4). This verse supports and emphasizes the abstaining from maintaining close friendly relations with non-believers. This rule of law is illustrated by the excellent example of Holy Prophet Ibrahim (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →6 That is, "We reject you: we neither consider you to be in the right nor your religion. " The inevitable demand of the faith in Allah is denial of taghut (Satan) : "Whoever rejects taghut and believes in Allah has taken a firm support that never gives way." (Al-Baqarah: 256) .
7 In other words, it means: "Though there is an excellent example for you in Abraham's conduct in that he expressed disapproval of his pagan people and broke off all connections with them, yet his promise to pray for the forgiveness of his pagan father and then carrying it out practically is not worth following, for…
Read the full tafseer →