Al-Mumtahana 60:3

Al-Mumtahana · from ayah 3

60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُكُمْ ۛۚ— یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ۛۚ— یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟لَنۡ تَـنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُكُمۡ ۛۚ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ۛۚ يَفۡصِلُ بَيۡنَكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ‏

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Never will your relatives or your children benefit you; the Day of Resurrection He will judge between you. And Allah, of what you do, is Seeing.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:3

قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد اُس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور و ہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمہاری قرابتیں، رشتہداریاں، اور اوﻻد تمہیں قیامت کے دن کام نہ آئیں گی، اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ خوب دیکھ رہا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں ہرگز تمہارے کام آئیں گی، اور نہ تمہاری اولاد۔ اللہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اسے پوری طرح دیکھتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے رشتے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن، تمہیں ان سے الگ کردے گا اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تمہیں قیامت کے دن ہرگز نہ تمہاری (کافر و مشرک) قرابتیں فائدہ دیں گی اور نہ تمہاری (کافر و مشرک) اولاد، (اُس دن اللہ) تمہارے درمیان مکمل جدائی کر دے گا (مومن جنت میں اور کافر دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے)، اور اللہ اُن کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے جو تم کر رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قیامت کے دن ہرگز نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہیں فائدہ دیں گی اور نہ تمہاری اولاد، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناطے کچھ فائدہ دیں گے اور نہ تمہاری اولاد۔ وہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہارے رشتے ناتے اور تمہارے آل و اولاد قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قیامت کے دن نہ تو تمہاری رشتہ داریاں تمہیں کچھ کام دے سکیں گی اور نہ ہی تمہاری اولادیں اس روز اللہ فیصلہ فرمادے گا تمہارے درمیان اور اللہ خوب دیکھتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کر رہے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے رشتہ دار اور تمہاری اولاد تمہارے کچھ کام نہ آئے گی قیامت کے دن (اللہ ہی) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہیں ہرگز نفع نہیں پہنچائیں گے تمہارے رحمی رشتے اور نہ تمہاری اولادیں قیامت کے دن۔ اللہ فیصلہ کر دے گا تمہارے مابین۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناطے کام آئیں گے اور نہ اولاد اس روز وہی تم میں فیصلہ کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

On the Day of Resurrection neither your blood-kindred nor your own offspring will avail you. (On that Day) He will separate you. Allah sees all that you do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Neither your womb-relations nor your children will benefit you on the Day of Judgment. He will decide between you, and Allah is watchful of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

Neither your womb-relations nor your children will benefit you on the Day of Judgment. He will decide between you, and Allah is watchful of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Neither your relatives nor your children will benefit you on the Day of Resurrection. He will judge between you. And Allah is the All-Seer of what you do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Your ties of kindred and your children will avail you naught upon the Day of Resurrection. He will part you. Allah is Seer of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Never will your relatives or your children benefit you; the Day of Resurrection He will judge between you. And Allah, of what you do, is Seeing.

— Saheeh International

Your relatives and children will never be of any benefit to you on the Day of Judgment. God will separate you from them. He is All-aware of what you do.

— Muhammad Sarwar

Your relationship would not profit you, nor your children on the day of resurrection; He will decide between you; and Allah sees what you do.

— Muhammad Habib Shakir

There will profit you neither your kindred nor your children on the Day of Resurrection. He shall decide between; and Allah is of that which ye you work Beholder.

— Abdul Majid Daryabadi

Of no profit to you will be your relatives and your children on the Day of Judgment: He will judge between you: for Allah sees well all that ye do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

حضرت حاطب بن ابوبلتہ ؓ کے بارے میں اس سورت کی شروع کی آیتیں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہوا کہ حضرت حاطب مہاجرین میں سے تھے بدر کی لڑائی میں بھی آپ نے مسلمانوں کے لشکر میں شرکت کی تھی ان کے بال بچے اور مال و دولت مکہ میں ہی تھا اور یہ خود قریش سے نہ تھے صرف حضرت عثمان ؓ کے حلیف تھے اس وجہ سے مکہ میں انہیں امن حاصل تھا، اب یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ شریف میں تھے یہاں تک کہ جب اہل مکہ نے عہد توڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر چڑھائی کرنا چاہی تو آپ کی خواہش یہ تھی کہ انہیں اچانک دبوچ لیں تاکہ خونریزی نہ ہونے پائے اور مکہ شریف پر قبضہ ہوجائے اسی لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ باری تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 3 یہ اشارہ ہے حضرت حاطب کی طرف انہوں نے اپنی ماں، اپنے بھائی، اور اپنی اولاد کو جنگ کے موقع پر دشمنوں کی ایذا سے بچانے کے لیے یہ کام کیا تھا۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے جن کی خاطر اتنے بڑے قصور کا ارتکاب کر ڈالا وہ قیامت کے روز تمہیں بچانے کے لیے نہیں آئیں گے۔ کسی کی یہ ہمت نہیں ہوگی کہ خدا کی عدالت میں آگے بڑھ کر یہ کہے کہ ہمارے باپ یا ہمارے بیٹے یا ہمارے بھائی نے ہماری خاطر یہ گناہ کیا تھا اس لیے اس کے بدلے کی سزا ہمیں دے دی جائے۔ اس وقت ہر ایک کو اپنی ہی پڑی ہوگی، اپنے اعمال ہی کے خمیازے سے بچنے کا سوال ہر شخص کے لیے بلائے جان بن رہا ہوگا، کجا کہ کوئی کسی دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ ڔ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ڔ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ”یعنی قیامت کے روز تمہارے رشتے ناتے اور تمہاری اولاد تمہارے کام نہ آئیں گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز یہ سب تعلقات ختم کردیں گے اولاد ماں باپ سے اور ماں باپ اولاد سے بھاگتے پھریں گے، اس میں حضرت حاطب کے عذر کی تردید ہے کہ جس اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر یہ کام کیا تھا سمجھ لو کہ قیامت کے دن وہ اولاد تمہارے کچھ کام نہ آئے گی اور اللہ تعالیٰ سے کوئی راز اور خفیہ چیز چھپنے والی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(لن تفعکم ارحا مکم ولا اولاد کم یوم القیمۃ یفصلی بینکم واللہ بما تعملون بصیر) (3)۔ (قیامت میں رشتے کام نہیں آئیں گے)۔ ارحام یہاں قرابات یعنی رشتے ناتے کے مفہوم میں ہے۔ یہ تنبیہ ہے کہ جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابل میں اپنے رشتوں باتوں کو زیادہ اہمیت دیں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام رشتہ داروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اس دن کی تصویر یوں کھینچی گئی ہے۔ (وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّبَصَّرُوْنَھُمْط یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 یعنی جس اولاد کے لئے تم کفار کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے ہو، یہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گی، پھر اس کی وجہ سے تم کافروں سے دوستی کرکے کیوں اللہ کو ناراض کرتے ہو۔ قیامت والے دن جو چیز کام آئے گی، وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہے، اس کا اہتمام کرو۔ 3۔ 2 دوسرے معنی ہیں تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ یعنی اہل اطاعت کو جنت میں اور اہل معصیت کو جہنم میں داخل کرے گا، بعض کہتے ہیں آپس میں جدائی کا مطلب کہ ایک دوسرے سے بھا گیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے جس واقعے کے پس منظر میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ہیں وہ اوپر سورت کے تعارف میں تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے، غیر مسلموں کے ساتھ دوستی کی کیا حد ہونی چاہئیں ؟ اس کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة آل عمران (آیت : 28) کا حاشیہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لن تنفعکم .................... بصیر (06 : 3) ” قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔ اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے “۔ مومن نیکی کرتا ہے اور آخرت کام اجر چاہتا ہے۔ وہ دنیا میں بوتا ہے اور آخرت میں کاٹے گا۔ اور اس پر یہ بات اثرانداز ہوتی ہے کہ جب آخرت میں ایمان اور عقیدے کا تعلق نہ ہوگا تو رشتہ داری کا تعلق بھی کٹ جائے گا ، تو اس طرح اس دنیا کی مختصر زندگی میں اس کے دل سے اس رشتہ داری اور قرابت داری کے تعلقات کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ اور وہ ایسے تعلق کو اہمیت دینے لگتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں مفیدہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 حاطب نے وہ خط اپنے اہل و عیال کی خاطر لکھا تھا۔ اس پر تنبیہ فرمائی کہ اولاد اور رشتہ دار قیامت کے دن کچھ کام نہ آئینگے، اللہ تعالیٰ سب کا رتی رتی عمل دیکھتا ہے۔ اسی کے موافق فیصلہ فرمائے گا اس کے فیصلہ کو کوئی بیٹا، پوتا، اور عزیز و اقارب ہٹا نہیں سکے گا۔ پھر یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ ایک مسلمان اہل و عیال کی خاطر اللہ کو ناراض کرلے۔ یاد رکھو ! ہر چیز سے مقدم اللہ کی رضامندی ہے۔ وہ راضی ہو تو اس کے فضل سے سب کام ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن وہ ناخوش ہو تو کوئی کچھ کام نہ آئے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”تمہیں ہرگز نفع نہیں پہنچائیں گے تمہارے رحمی رشتے اور نہ تمہاری اولادیں ‘ قیامت کے دن۔“ { یَفْصِلُ بَیْنَکُمْط } ”اللہ فیصلہ کر دے گا تمہارے مابین۔“ { وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ } ”اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 تم نے یہ کام صرف اس لیے کیا کہ مکہ میں تمہارے بال بچے کافروں کی ایذا رسانی سے محفوظ رہیں۔ تم نے اپنے بال بچوں کے مفاد کو اسلام کے اجتماعی مفاد کے مقابلہ میں ترجیح دی۔ حالانکہ قیامت کے دن تمہارے یہ بال بچے تمہارے کسی کام نہ آسکیں گے۔ بال بچوں کی خاطر جس خطرناک غلطی کا تم نے ارتکاب کیا ہے۔ اگر اللہ تمہیں اس کی پاداش میں پکڑے تو کیا یہ بال بچے تمہیں اللہ سے بچا سکیں گے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (پس ہر عمل کا فیصلہ بھی بالکل ٹھیک ہی ٹھیک کرے گا) (آیت) ” لن ..... القیمۃ “۔ کافروں اور بےدینوں سے تعلقات بڑھانے کا محرک اکثر یہی اہل و عیال کی فلاح ونفع کا خیال ہوتا ہے۔ ! یہاں اسی کی جڑکاٹی ہے۔ یعنی جن عزیزوں قریبوں کی خاطر آج تم اللہ کی نافرمانی کررہے ہو، وہ آخرت میں جو مستقل فیصلہ کا وقت ہوگا تمہیں ذرا بھی نہ بچاسکیں گے۔ (آیت) ’ مرشد تھانویرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دنیوی علاقوں، رابطوں کی رعایت معاملات دینی میں ناجائز ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–4

ان یثقفوکم یکونوا لکم اعداء یعنی ان کافروں سے بحالت موجودہ کسی بھلائی کی امید مت رکھو، خواہ تم کتنی ہی روا داری اور دوستی کا اظہار کرلو گے وہ کبھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، انتہائی روا داری کے باوجود اگر تم پر ان کا قابو چڑھ جائے تو کسی قسم کی برائی اور دشمنی سے درگزر نہ کریں گے، زبان سے ہاتھ سے غرضیکہ ہر طرح سے ایذاء پہنچائیں گے اور ان کی یہ خواہش ہوگی کہ تم کفر میں وکا پس پلٹ آئو، کیا ایسے شریر اور بد باطن اس لائق ہیں کہ ان کو دوستانہ پیغام بھیجاجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لن تنفعکم ارحامکم ولا اولادکم یوم القیمۃ یفصل بینکم واللہ بما تعملون بصیر قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہارے کام آئیں گی ‘ نہ اولاد۔ خدا تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور اللہ تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔ اَرْحَامُکُمْ : تمہاری رشتہ داریاں۔ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ : یعنی مشرک رشتہ دار اور اولاد جن کی وجہ سے تم مشرکوں سے موالات کرو گے۔ قیامت کے دن تمہارے کام نہیں آئیں گی ‘ اس آیت میں حاطب بن ابی بلتعہ اور ان جیسے دوسرے اہل ایمان کے عذر کی تردید ہے۔ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ : تم کو الگ الگ کر دے گا ‘ تمہارا فیصلہ کر دے گا ‘ مؤمنوں کو جنت میں اور مشرکوں کو دوزخ میں بھیج دے گا ‘ پھر آج اللہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

لیکن اگر تم نے ایمان لانے اور ہجرت کرنے کے بعد کفر کیا تو قیامت کے دن عذاب الہی کے مقابلہ میں تمہارے مکہ کے رشتہ دار کچھ کام نہیں آئیں گے۔ وہ قیامت کے دن تمہارے اور مومنین کے درمیان یا یہ کہ اس چیز پر فیصلہ فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہاری نیکی و برائی کو خوب دیکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْج یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ :”ارحام“ ”رحم“ کی جمع ہے ، رشتہ داری۔ مراد ”ذو وا الارحام“ ہے ، رشتہ دار۔ یعنی وہ رشتہ دار اور اولاد جن کی خاطر تم اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمہیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دیں گے کہ تمہیں اس گناہ کی سزا سے یہ کہہ کر بچا لیں کہ انہوں نے ہماری خاطر خاطر یہ غلطی کی تھی۔ 2۔ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ قیامت کے دن تمہارے درمیان اور تمہارے ارحام و اولاد کے درمیان جدائی ڈال دے گا ، کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا ، جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت 3 تفسیر لن تنفعکم ارحامک جب حضرت حاطب نے معذرت پیش کی کہ ان کی قریش مکہ کے ہاں اولاد اور رشتہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اہل اور اولاد قیامت کے روز کچھ نفع نہ دیں گے اگر اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی۔ …… وہ مومنوں کی جنت میں اور کافروں کو آگ میں داخل فرمائے گا۔ یفصل میں سات قرائیتیں ہیں۔ عاسم نییفصل قراءت کی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے اسے یفصل پڑھا ہے۔ طلحہ اور نخفی نے نفصل قراءت کی ہے۔ علقمہ سے نفصل مروی ہے۔ قتادہ او بو حیوہ نے یفصل قرا ئت کی ہے۔ یہ افصل سے مضارع کا صیغہ ہے۔ باقی قراء نے یفسل قرات کی ہے ؛ ابو عبیدہ نے اسے ہی پسند کیا ہے۔ جس نے اسے تختیف کے ساتھ پڑھا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1۔ احمد والحمیدی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد اور الترمذی والنسائی وابو عوانہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً فی الدلائل حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو بھیجا۔ اور فرمایا چلے جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچو ایک عورت ہودے میں سوار تمہیں ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے آؤ۔ پس ہم نکل پڑے یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچ گئے۔ اچانک ایک عورت ہودے پر سوار ملی۔ ہم نے اس سے کہا خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا خط نکال ورنہ کپڑے اتار آخر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کردیا۔ ہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَنْ تَنْفَعَكُمْ : ہرگز نفع نہیں دیں گی تم کو ][ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ : تمہاری رشتہ داریاں اور نہ تمہاری اولادیں ][يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ][يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ : وہ فیصلہ کرے گا تمہارے مابین ][وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ: اور اللہ اس کو جو تم لوگ کرتے ہو دیکھنے والا ہے ] نوٹ۔ 1 : جس واقعہ کے حوالہ سے ان آیات میں اہل ایمان کو ہدایات دی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ جب قریش نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ پر حملہ کی تیاریاں شروع کردیں۔ اسی زمانے میں مکہ سے ایک عورت آئی جو پہلے بنی عبد المطلب کی لونڈی تھی پھر آزاد ہو کر گانے بجانے کا کام کرتی تھی۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنے کی ممانعت ان آیات کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے متعلق ہے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کا واقعہ : انہوں نے اہل مکہ کو (جو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے) ایک خفیہ خط لکھا جس کا واقعہ امام بخاری (رح) نے کتاب الجہاد صفحہ 422 اور کتاب المغازی صفحہ 567، صفحہ 286 اور کتاب التفسیر صفحہ 726 میں یوں لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو (اور بعض روایات میں حضرت ابومرثد غنوی ؓ کا نام بھی ہے) (یہ چاروں حضرات گھوڑا سوار تھے) رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا کہ تم روانہ ہوجاؤ اور چلتے رہو یہاں تک کہ روضہ خاخ تک پہنچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا الا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء ..... الی ..... واللہ بما تعملون بصیر “۔ (ربط) حاطب بن ابی بلتعہ ؓ اگرچہ ایک مخلص صحابی تھے جن کو عزوۂ بدر کی شرکت نصیب ہوئی تھی اور جملہ اہل بدر خدا کی نظر میں وہ مقدس ہستیاں تھے جن کے لیے بارگاہ خداوندی سے پروانہ مغفرت جاری ہوچکا تھا مگر بہرکیف غلطی خواہ کسی سے بھی ہو اچھی بات نہیں ہے اس سے بچنا ہر ایک کے لیے لازم ہے تو حکم خداوندی نازل ہوا کہ مسلمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ خدا کے دشمنوں اور خود اپنے دشمنوں کو اپنا دوست بنائیں اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن کے قلب میں کفر اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ ” لن تنفعکم “ جن رشتہ داروں اور جس اولاد کی خاطر تم مشرکین پر احسانات کر رہے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے کام نہیں آسکیں گے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری آل و اولاد اور خویش و اقارب کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اگر اولاد اقارب کافر ہوں تو جدائی کا حکم ظاہر ہے اور اگر مسلمان ہوں تو ہول محشرک کی وجہ سے ہر ایک اپنے رشتہ داروں سے جدا ہوگا۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” یوم یفر المء من اخیہ وامہ وابیہ و صاحبتہ وبنیہ (عبس) ای یفرق اللہ تعالیٰ بینکم بما یکون من الھول الموجب لفرار کل منکم من الاخر (روح ج 28 ص 69) ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور تمہیں اعمال کی پوری جزا و سزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–3

اس سورة مبارکہ کا نام سورة الممتحنہ ہے جو کہ امتحان کے مادہ۔ سے ہے اس سورة کی آیت نمبر 10 میں ان عورتوں کو بعیت لینے سے پہلے اچھی طرح جانچ لینے کا حکم ہے جو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کی ہجرت کا مقصد اسلام لانے کے سوا کوئی اور تو نہیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کا نام سورة ممتحنہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں صلح حدیبیہ کے بعد 7 ھ کے قریب نازل ہوئی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سورة احزاب اس سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس سورة کی تیرہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 348 الفاظ اور 1510 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : پچھلی سورة میں اللہ نے کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ۝ 0 ۚۛ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ 0 ۚۛ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ۝ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝ 3 نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( نع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : تلقون الخ حال من ضمیر الفاعل فی تتخذوا اوصفۃ لاولیاء اواستیناف والباء زائدۃ ‘ وقدکفروا الخ حال من فاعل تلقون وقیل من فاعل لاتتخذوا یخرجون الخ حال من فاعل کفروا اواستیناف مبین لکفر ھم وصیغۃ المضارع لاستحضار الصورۃ۔ ان تو منوا مفعول لہ معمول یخرجون ان کنتم جو ابہ محذوف دل علیہ لاتتخذوا جہادا مصدر فی موضع الحال اومعمول فعل محذوف دل علیہ الکلام تسرون توکید لیقلون بتکریر معناً وانااعلم حال وقیل اعلم مضارع والباء مزیدۃ ماموصولۃ اومصدر۔ تفسیر : سورة حشر میں منافقوں کی بدسیرت کا بیان تھا جس سے حذر کرنا چاہیے۔ اب اس سورة میں منافقانہ سیرت کی مذمت کرتا ہے۔ اور اس سورة کی شان نزول میں بخاری (رح)…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَآ اَوْلاَ دُکُمْ ج یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ج یَفْصِلُ بَیْنَـکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ (الممتحنۃ : 3) (قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہیں فائدہ پہنچائیں گی اور نہ تمہاری اولاد، اس دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، اور تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ) بات تو عمومی انداز میں فرمائی جارہی ہے لیکن اشارہ حضرت حاطب کی طرف ہی ہے۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اہل و عیال کو بچانے کے لیے قریش کو خط لکھا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ انھوں نے اسلام اور مسلمانوں کے وسیع تر مفاد پر اپنے اہل و عیال کے مفاد کو ترجیح دی تھی۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–3

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے ساتھ دوستی نہ کرنے کی ایک اور وجہ۔ کفار کے ساتھ دلی دوستی اور اپنا راز ظاہر کرنے سے اس لیے بھی روکا گیا ہے کہ اگر کافر مسلمانوں پر غلبہ پالیں تو وہ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں اور زبان سے تکلیف دینے سے باز نہیں آئیں گے ان کی خواہش ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی طرح کافر بن جائیں۔ اے مسلمانو ! جس اولاد اور رشتہ داروں کی خاطر کفار کے ساتھ دلی دوستی رکھتے ہو اور انہیں اپنا راز بتلاتے ہو وہ قیامت کے دن تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اللہ ہی تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ پوری طرح دیکھتا ہے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ (ہرگز تمہارے کام نہ آئیں گی تمہاری رشتہ داریاں) قرابت داریاں۔ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ (اور نہ تمہاری اولادیں) جن کی وجہ سے تم کفار سے موالات برتنے والے ہو۔ اور ان کو بچانے کیلئے کفار کے ہاں قرب حاصل کرتے ہو۔ پھر فرمایا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ (قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا) اور تمہارے اقارب اور اولاد کے مابین جبکہ ہر شخص کا یہ حال ہوگا : یوم یفرالمؤمن اخیہ الاٰیۃ ] عبس : 34[ پھر تم اللہ تعالیٰ کے حق کا آج اس کی خاطر انکار کرتے ہو جو کل تم سے بھاگ جائے گا اور تمہارے ذرا بھر کام نہ آئے گا۔ قراءت : عاصم نے یَفْصِلُ علی، حمزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” ان یثقفوکم “ تم پر کامیاب ہوجائیں اور تمہیں دیکھیں۔ ” یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیھم “ مارنے اور قتل کے ساتھ ” والسنتھم بالسوئ “ گالیوں کے ساتھ۔ ” وودوا لو تکفرون “ جیسا کہ وہ خود کافر ہیں۔ فرماتے ہیں تم ان کی خیر خواہی نہ کرو کیونکہ وہ بھی تمہاری خیرخواہی نہیں کرتے اور نہ تم سے محبت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو (لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ ) اللہ کے مقابلے میں تمہارے رشتے ناتے اور تمہاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی ( وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں کفار کے موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمہیں نقصان دے گی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–3

دشمنان خدا اور رسول سے دوستی کی ممانعت قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولئک تلقون الیھم بالمودۃ، اے ایمان والو ! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو) ایک قول کے مطابق آیت کا نزول حاطب ؓ بن ابی بلتعہ کے بارے میں ہوا تھا۔ انہوں نے خفیہ طور پر کفار قریش کو خط لکھوا کر انہیں خیر خواہانہ مشورے دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دے دی۔ آپ نے حاطب کو طلب کرکے ان سے خط کے متعلق استفسار کیا، انہوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا آپ نے ان سے پوچھا کہ آخر تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے عرض کیا بخدا ! جب سے میں مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 8] قیامت کے روز دنیاوی رشتے کچھ کام نہیں آئے گے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز نہ تمہارے رشتے ناطے تمہارے کچھ کام آسکیں گے اور نہ ہی تمہاری آل و اولاد، پھر ان کی وجہ سے اللہ پاک اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کرنا کہاں کی دانش مندی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ، سو یہ تنبیہ ہے ان لوگوں کو جو دینی تقاضوں کے مقابلے میں اپنے رشتوں ناطوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، کہ یاد رکھو یہ چیزیں قیامت کے روز تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں ہیں، اس روز یہ سب رشتے ناطے کٹ جائیں گے اور اللہ ایسے لوگوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا، پس جو لوگ ایسے رشتوں ناطوں کی بناء پر دینی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں وہ اس روز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں تشریح : یہ آیات بڑے پکے اصول بیان کرتی ہیں۔ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ ، مجاہد قتادہ، عروہ بن زبیر حضرات کی متفقہ رائے یہ ہے کہ مکہ پر حملہ کرنے کی خبر کو بالکل راز میں رکھا گیا تھا تاکہ مکہ میں خون خرابہ نہ ہو اور مکہ فتح ہوجائے۔ یہ ایک بہت بڑا عسکری راز تھا۔ جس کو بڑی رازداری سے سیدنا حاطب ابی بلتعہ، نے مکہ کے سرداروں تک پہنچانے کی کوشش کی صرف اس خیال سے کہ مکہ کے سرداروں کی ہمدردی حاصل ہوجائے تو وہ ان کے خاندان کی حفاظت کرلیں گے جو کہ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ ہجرت مدینہ کے بعد مکہ میں تنہا رہ رہے تھے۔ سیدنا حاطب ابی بلتعہ ؓ کی یہ بہت بڑی غلطی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی تم اپنے ایمان کی بدولت جنت میں جائو گے اور وہ اپنے کفر کی بدلوت دوزخ میں تمہارا اور ان کا کیسا ؟ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہارا اور ان کا فیصلہ کر دیگا لہٰذا یہ کافر رشتہ دار تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:3) لن تنفعکم۔ مضارع منفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب۔ نفع (باب فتح) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہارے کام نہیں آئے گی۔ یا نہیں آتی ہے ۔ وہ تم کو نفع نہیں دیتی یا نہیں دے گی۔ ارحامکم : ارحام جمع رحم کی۔ رحم عورت کے پیٹ کا وہ حصہ جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے مجازا قرابت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے کیونکہ اہل قرابت ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر مضاف الیہ۔ ارحامکم : تمہاری قرابتیں۔ یوم القیمۃ : مجاف مضاف الیہ۔ یوم منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے۔ قیامت کے دن۔ یفصل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ فصل (باب ضرب) مصدر۔ وہ فیصلہ کر دے گا۔ یعنی قیامت کے دن تمہارا فیصلہ کر دے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن۔ ابتغاء۔ تلاش کرنا۔ یثقفوا۔ وہ پکڑتے ہیں۔ یبسطوا۔ وہ کھولتے ہیں۔ ارحام۔ رشتہ داریاں۔ اسوۃ ۔ نمونہ۔ حسنۃ۔ بہترین۔ براء و ا۔ وہ بری ہیں۔ بدا۔ وہ ظاہر ہوا۔ استغفر۔ میں مغفرت (کی دعا ) مانگوں گا۔ تشریح : نبی کریم ﷺ نے مکہ والوں سے صلح حدیبیہ میں ایک معاہدہ کیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے پوری طرح عمل کیا لیکن کفار مکہ نے جگہ جگہ عہد شکنی کی اور معاہدہ کے اصولوں کی پابندی نہیں کی۔ قریش مکہ کی ان حرکتوں کی وجہ سے آپ نے نہایت رازداری اور خاموشی کے ساتھ کفار قریش کو اس کی سزا دینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں۔ ان تیاریوں کا علم چند صحابہ ؓ کے علاوہ کسی اور کو نہیں تھا۔ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔ (ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–3

[1] یعنی جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابلے میں رشتے ناتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن تمام رشتے اور تعلقات توڑ دئیے جائیں گے اور ہر شخص کو اپنا ہی حساب دینا ہوگا اور اپنے کئے کی سزا خود ہی بھگتنی ہوگی۔ [2] حاطب ؓ بن بلتعہ جو ایک بدری صحابی تھے خود تو ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے لیکن ان کے اہل و عیال مکہ ہی میں تھے۔ جب کفار مکہ نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کو توڑ ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرکے اس کے لئے خفیہ تیاری شروع کردی۔ حاطب ؓ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ عنقریب مکہ پر چڑھائی ہونے والی ہے۔ آپ ﷺ کو وحی الٰہی سے اس کی خبر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة الممتحنہ 1: اس سورة کی شان نزول یہ ہے ۔ کہ جب حضور ﷺ نے یہ طے کیا ۔ کہ مکہ میں دس ہزار قدسیوں کے ساتھ داخل ہوں ۔ تو حاطب بن ابی بلقعہ جو ایک صحابی تھے انہوں نے ازراہ بشریت ایک مکتوب مکہ والوں کو لکھا ۔ اور مسلمانوں کے عزائم سے ان کو قبل ازوقت آگاہ کردینے کی نیت سے اس کو ایک عورت کے ہاتھ بھجوادیا ان کی غرض محض یہ تھی کہ اس طرح مکہ والے میرے ممنون ہوں اور لڑائی کے وقت میرے اہل و عیال سے جو مکہ میں تھے ۔ تعرض نہیں کرینگے ۔ یہ یہ ایک نوع کی کمزوری تھی ۔ حاطب سادگی کی وجہ سے اس کے خطرناک نتائج پر متنبیہ نہیں ہوسکے ۔ ان کا خیال تھا ۔ کہ حضور ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ اس لئے شکست کی تو کوئی وجہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) قیامت کے دن تمہاری رشتہ داریاں اور قرابت داریاں تم کو کچھ نفع نہیں دے سکتیں اور نہ تمہاری اولاد تمہارے کچھ کام آسکتی ہے اللہ تعالیٰ تمہارے مابین فیصلہ فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو جو تم کررہے ہو دیکھتا ہے۔ یعنی قرابت داری اور اولاد وغیرہ کی وجہ سے اس قسم کی کمزوریاں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ اسی کو فرمایا کہ یہ چیزیں نفع دینے والی نہیں ہیں قیامت کے دن ان میں سے کوئی بھی چیز کام آنے والی نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ فرمادے گا مومن جنت میں ہوں گے اور یہ منکروں کو جہنم میں بھیج دیا جائے گا لہٰذا کام آنے اور نفع دینے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ تمہارے تمام اعمال کو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–6

ف 5۔ یہ آیتیں ایک قصہ کے متعلق ہیں اور وہ قصہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے فتح مکہ کے لئے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو کہ اہل بدر سے ہیں اور رہنے والے یمن کے ہیں اور مکہ میں آرہے تھے اور ان کے بھائی اور والدہ اور اولاد واہل عیال و اموال اب بھی مکہ میں تھے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تم پر چڑھائی کرنے والے ہیں اور یہ خط ایک عورت کو دیدیا کہ مکہ والوں پہنچا دے، آپ ﷺ کو وحی سے یہ بات معلوم ہوگئی، آپ نے حضرت علی اور چند صحابہ کو حکم دیا کہ فلاں جگہ وہ عورت ملے گی اس سے وہ خط لے آو، یہ گئے اور وہ عورت ملی، اور ان کے دھمکانے سے وہ خط اس نے دیا اور یہ لائے، آپ ﷺ نے حاطب سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اولاد اور رشتہ داریاں قیامت کے روز کسی کو عذاب الٰہی سے نہیں بچائیں گے 3 ؎ اولاد اور رشتہ داریوں کی محبت میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن قرآن کریم نے اس کی بار بار اور مختلف پیرایوں میں وضاحت کی ہے کہ اولاد کی محبت ہو یا عزیز و اقارب کی اس کی دین اسلام کے مقابلہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے اور اگر کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے مقابلہ میں ان کو زیادہ اہمیت دے دی تو وہ سراسر خسارے میں رہا اور یہ خسارہ وہ خسارہ ہے جس کو پورا ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم میں سورة التوبہ کی آیت 23 ، 24 میں کردی گئی ہے اور آگے اسی زیر نظر جلد میں مزید تفصیل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَن تَنفَعَكُمْ أَرْ‌حَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ ۚ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌ (Neither your womb-relations nor your children will avail you on the Day of Judgment. He will decide between you, and Allah is watchful of what you do...60:3). The verse refutes the plea of Sayyidna Hatib ؓ . He did what he did for the love of his children, but they will be of no help on the Day of Resurrection. All relations on that day will come to an end. Parents will flee from their children, and children from their parents, and no secret will ever remain…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 The allusion is to Hadrat Hatib. As he had acted thus only in order to ensure that his mother and brother and children remained safe in the event of a war, it is being said: "The relations for whose sake you have committed this grave error, will not save you on the Day of Resurrection. No one will dare come forward in the Court of Allah and say: `Our father, or our son, or our brother had committed this sin for ow sake; therefore, we may be punished instead of him. At that time everyone will be worried only about himself, and weighed down with the anxiety of somehow saving himself from the…

Read the full tafseer →