Ayahs 60:1–3اس سورة مبارکہ کا نام سورة الممتحنہ ہے جو کہ امتحان کے مادہ۔ سے ہے اس سورة کی آیت نمبر 10 میں ان عورتوں کو بعیت لینے سے پہلے اچھی طرح جانچ لینے کا حکم ہے جو مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کی ہجرت کا مقصد اسلام لانے کے سوا کوئی اور تو نہیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کا نام سورة ممتحنہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں صلح حدیبیہ کے بعد 7 ھ کے قریب نازل ہوئی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سورة احزاب اس سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اس سورة کی تیرہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 348 الفاظ اور 1510 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
پچھلی سورة میں اللہ نے کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرمایا تھا۔ خواہ وہ خدا کے دشمن یہودی ہوں یا نصاریٰ ۔ یہاں پر بھی اللہ نے کافروں سے عدم دوستی اور منافقوں کی چالبازیوں سے ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے یہ لوگ دین کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانتے دیتے۔ اس سورة میں اللہ نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر فرمایا ہے اور ان کا اسوہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ حضور خاتم النیین ﷺ کا طریقہ اختیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
شان نزول :
ابتدائی آیات میں کافروں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور یہ ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان معاہدہ حدیبیہ دس سال کی مدت کے لئے کیا گیا تھا مگر مشرکین اسے ایک سال تک بھی نہ نباہ سکے۔ اور اس کے خلاف ورزی شروع کردی۔ چناچہ حضور ﷺ نے ان عہد شکنوں کو سبق سکھانے کا ارادہ کیا۔ اور اس بات کو عام لوگوں تک پہنچے بغیر جنگ کی تیاری شروع کردی۔ حضور ﷺ کی خواہش تھی کہ مکہ پر اچانک حملہ کردیا جائے تاکہ مشرکین کو تیاری کا موقع نہ مل سکے۔ اس دوران حضور ﷺ کے ایک صحابی حضرت حاطب ابن ابی بلتعہ ؓ سے ایک شدید غلطی ہوگئی۔ یہ صحابی خاندان قریش میں سے تو نہیں تھے مگر مکہ کے باشندے تھے۔ یہ خود تو ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے مگر ان کے بیوی بچے اور مال واسباب مکہ ہی میں تھے۔ اکثر مہاجرین کے رشتہ دار تو مکہ میں موجود تھے جو ان کے مفادات کی نگرانی کرتے تھے۔ مگر حاطب ؓ کا کوئی رشتہ دار بھی مکہ میں نہیں تھا جو ان کے بچوں اور اموال کی نگہداشت کرتا۔
چنانچہ انہوں نے قریش کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ان کو مسلمانوں کے ارادے سے بذریعہ خط آگاہ کرنا چاہا۔ ان دنوں بنوعبدالمطلب کی ایک آزاد کردہ لونڈی مدینے آئی ہوئی تھی۔ جب وہ واپس مکہ جانے لگی تو حضرت حاطب ؓ نے اسے قریش مکہ کے نام خط لکھ کردے دیا۔ اس خط میں مسلمانوں کے بعض راز افشا کیے گئے تھے۔ جن میں مکہ پر حملہ کا ذکر بھی تھا۔ بخاری اور مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں یخبرببعض امر رسول اللہ ﷺ ، یعنی اس خط میں حضور ﷺ کے بعض امور کی خبر دی گئی تھی۔ بہرحال مسلمانوں کے مکہ پر حملہ کی اطلاع کردی گئی مگر ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے یقین ہے کہ اگر حضور ﷺ تن تنہا بھی آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو غالب کردے گا۔
جب وہ عورت خط لے کر مدینہ سے روانہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وحی کے ذریعے مطلع کردیا۔ چناچہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت مقداد بن اسود ؓ کو اس عورت کے پیچھے جانے کا حکم دیا ، اور ساتھ یہ بھی بتادیا کہ وہ عورت تمہیں روضہ خاخ پر ملے گی ، اس سے وہ خط لے آئو۔ یہ حضرات گھوڑے دوڑاتے ہوئے جب اس مقام پر پہنچے تو عورت کو جالیا۔ اس سے خط کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کیا۔ حضرت علی ؓ نے سختی سے کہا کہ اگر تو نے ہمیں یہ خط خود بخود نہ دیا تو تمہاری جامہ تلاشی لینا پڑے گا۔ وہ عورت خوفزدہ ہوگئی۔ اس نے اپنے بالوں کے نیچے چھپایا ہوا خط دے دیا۔ جسے لاکر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔
خط کا مضمون پڑھ کر حضور ﷺ نے حضرت حاطب ؓ کی طلب کیا اور اس کے سامنے خط کھول کر رکھ دیا اور باز پرس کی۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ حضور ! اجازت دیں تو میں اس منافق کا سر قلم کردوں مگر آپ نے منع کردیا حضرت حاطب ؓ کہنے لگے کہ حضور ! جلدی نہ کریں ، پہلے میری بات سن لیں اس کے بعد جو چاہیں حکم دیں۔ حضرت حاطب ؓ نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ جب سے میں ایمان لایا ہوں اس کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں سوچی۔ میں نہ کافر ہوا ہوں ، نہ مشرک اور نہ مرتد بلکہ اللہ کے دین پر پوری طرح قائم ہوں۔ بات یہ ہے کہ قریش مہاجرین کے تو مکہ میں عزیز و اقارب ہیں جن کی وجہ سے مکہ والے ان کا لحاظ کرتے ہیں مگر میرا وہاں کوئی عزیز نہیں ہے جس کی بناء پر مجھے خطرہ ہے کہ وہ میرے بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ میں نے مکہ والوں کو ممنون احسان بنانے کے لئے یہ خط لکھا ہے ، وگرنہ مجھے اسلام کی حقانیت میں کوئی شبہ نہیں بلکہ یقین ہے۔ کہ اللہ آپ کو ضرور فتح عطا فرمائے گا۔ لہٰذا آپ میری خطاء کو معاف کردیں۔ حضور ﷺ نے صحابی کی اس صفائی کو قبول کیا اور فرمایا کہ یہ بدوی صحابی ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے ان کی لغزشیں معاف کردی ہیں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے اس کے ساتھ کوئی تعرض نہ کیا۔
دشمن سے دوستی کی ممانعت :
اس واقعہ کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے صحابی کو سخت ڈانٹ پلائی۔ اور کفار کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرمایا چاہے کسی کی نیت ٹھیک ہی کیوں نہ ہو۔ اور ساتھ یہ بھی کہ قرابتداری کی وجہ سے ایمان میں ضعف نہیں آنا چاہیے بلکہ ایمان کو ہر چیز پر مقدم رکھنا چاہیے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیائ ، اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنائو۔ کافر خدا کے بھی دشمن ہیں کیونکہ اس کی توحید کو نہیں مانتے اور تمہارے بھی دشمن ہیں کیونکہ تمہاری جان کے درپے ہیں۔ لہٰذا ان کو اپنادوست نہ بنائو۔ اس قسم کے احکام سورة آل عمران ، سورة توبہ اور بعض دیگر سورتوں میں بھی دیے جاچکے ہیں کہ کسی کافر کو ولی دوست نہ بنائو۔ ان کے ساتھ تجارت اور دیگر معاملات کیے جاسکتے ہیں اخلاق کے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔ مگر ان کے ساتھ رازداری کا معاملہ نہیں ہوسکتا ، کیونکہ اس سے دین کے نقصان کا خطرہ ہے۔ فرمایا تلقون الیھم بالمعودۃ تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو ، اور مسلمانوں کے راز کی بات ان تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ملک وقوم سے غداری کے مترادف ہے اور یہ کام کسی مسلمان کے لئے ہرگز مناسب نہیں۔
عدم دوستی کی وجوہات :
فرمایا یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے وقد کفروا بماجاء کم من الحق کہ انہوں نے اس دین حق کا انکار کردیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے دشمن ہیں اس کے نازل کردہ دین کے بھی دشمن ہیں۔ ان کی کاروائی یہ ہے یخرجون الرسول وایاکم یہ رسول کو بھی نکالتے ہیں اور تمہیں بھی۔ یہ واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے کہ کافروں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اللہ کے نبی کو جلاوطن کردیا یا قید کردیا جائے یا قھر قتل ہی کردیا جائے بالآخر قتل پر اتفاق ہوا اور لوگ تلواریں سونتے حضور ﷺ کے گھر سے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہے۔ مگر اللہ نے وحی کے ذریعے کفار کی اس سازش سے آگاہ کردیا۔ اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم دیدیا۔ اس طرح مکہ میں رہتے ہوئے تمہارے اوپر بھی عرصہ حیات تنگ کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے تم بھی ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ اور تمہارا اس کے سوا ا کوئی جرم تھا۔ کہ ان تومنوا باللہ ربکم تم اللہ پر ایمان لائے جو تمہارا پروردگار ہے۔ اسی جرم کی پاداش میں وہ تمہیں طرح طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ ذلت ناک سلوک کرتے تھے حتیٰ کہ کتنے ہی مسلمان مرد اور عورتوں کو شہید کردیا گیا۔ آخر تمہارا کیا قصور تھا ؟ یہی کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔ اصحاب الا خدود کے واقعہ میں بھی اسی طرح بیان فرمایا وما نقموا……………الحمید (البروج 8) ان بیچاروں کا اس کے سوا کیا قصور تھا کہ وہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لائے تھے۔ اسی طرح تمہارا بھی یہی قصور ہے جس کی بناء پر کفار مکہ نے تمہیں مکہ سے نکلنے پر مجبور کردیا۔
پھر اللہ نے براہ راست حضرت حاطب ؓ کے خط کی طرف اشارہ کیا۔ ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی ، اگر تم جہاد کرتے ہوئے میرے راستے میں نکلے ہو ، اور میری خوشنودی کی تلاش میں ہو ، تو پھر تم تسرون الیھم بالمودۃ کس طرح پوشیدہ طور پر ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو ۔ تم ان کے ساتھ کئی معرکوں میں جنگ بھی کرچکے مگر پھر اس دوستی کے پیغام کا کیا مقصد ؟ اللہ نے فرمایا وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ، حالانکہ میں جانتا ہوں جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ، وہ تو تمہارے سینوں کے رازوں اور نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے ، تم ان کے ساتھ دوستی کیسے کرتے ہو ؟ بہرحال اللہ نے صحابی کو سخت ڈانٹ پلائی تاہم اس کا عذر بھی قبول کیا کہ اس کا مقصد جاسوسی نہیں بلکہ اپنے بچوں کی حفاظت کا انتظام کرنا تھا۔ فرمایا ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل تم میں سے جس نے کبھی ایسا کام کیا تو سمجھ لو کہ وہ طراط مستقیم سے بہک گیا۔
کافروں کی اسلام دشمنی :
فرمایا تم ان کے ساتھ دوستی کا اظہار کرتے ہو ، مگر ان کافروں کا حال یہ ہے ان یثقفوکم یکونوا لکم اعداء کہ اگر خدانخواستہ وہ تم پر قابو پالیں تو پھر تمہارے دشمن ہی ثابت ہوں گے۔ یہ نہ سمجھو کہ تمہاری حیلہ سازی سے وہ تمہارے دوست بھی بن سکتے ہیں۔ نہیں ، بلکہ وہ ہمیشہ تمہارے دشمن ہی رہیں گے۔ ویبسطوا الیکم ایدیھم والسنتھم بالسوء اور اپنے ہاتھ اور زبانیں تمہاری ایذا رسانی کے لئے ہی بڑھاتے رہیں گے۔ کیونکہ و وداوا لو تکفرون ان کا مقصد یہ ہے کہ تم کسی طرح ایمان کو ترک کرکے کفر میں واپس آجائو۔ کافر خواہ یہودی کی شکل میں ہو یا نصرانی کی شکل میں ، مشرک ہو یا دہریہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں۔ ان کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ اگر مسلمان کافر یا مشرک نہ بھی ہوں تو کم از کم دین اسلام پر بھی قائم نہ رہیں۔
لوگ سخت دھوکے میں ہیں جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ ہمارا ذخیرہ خواہ ہے یا برطانیہ ہماری مدد کریگا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی باطل طاقتیں مسلمانوں کو کبھی پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ سب لوگ ، خدا ، اس کے رسول ، قرآن ، اسلام حتیٰ کہ انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر مسلمان دین پر قائم رہیں گے تو مادی کمزور ی کے باوجود اللہ تعالیٰ غلبہ عظا فرمائے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمان مادی قوت نہیں بلکہ ایمانی قوت کی بدولت غالب آئے تھے اور قیصرو کسریٰ جیسی عظیم طاقتیں بھی ان کے سامنے نہ ٹھہر سکیں ، یہ دین ، ایمان ، خلوص اور خدا پر بھروسے کا نتیجہ تھا۔ حضور ﷺ کے پاس بدر کے میدان میں کون سی مادی طاقت تھی ؟ آپ نے دعا کی کہ مولا کریم ! جو کچھ مختصری پونجی ہمارے پاس تھی ، وہ ہم نے پیش کردی ہے۔ اگر یہ چھوٹی سی جماعت مغلوب ہوگئی تو دنیا پر تیرا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا۔ پھر کیا ہوا ؟ اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مدد بھیج دی اور کافر تمام تر مادی قوت اور سروسامان کے ساتھ مغلوب ہوگئے افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمان بھی مادی طاقت کے ذریعے کفار پر غالب آنا چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں۔ تم جتنی بھی ترقی کرلو وہ تم سے پچاس سال آگے ہی رہیں گے مقصدیہ کہ اگر دین کا غلبہ چاہتے ہو تو قوت ایمانی پیدا کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو ، وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ کامیابی کا راستہ ایک ہی ہے۔ جیسے خدا تعالیٰ کا فرمان ہے وانتم الاعلون ان کنتم مومنین اگر ایمان پر قائم رہو گے تو تم ہی غالب رہو گے (آل عمران 129)
آخرت کام کا :
ارشا ہوتا ہے لن تنفعکم ارحمامکم ولا اولادکم تمہاری قرابتداری اور اولاد ہرگز تم کو فائدہ نہیں پہنچائیگی یوم القیمۃ قیامت والے دن۔ تم بیوی بچوں کی خاطر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کام کرتے ہو مگر آخر ت میں یہ تمہارے کچھ کام نہ آسکیں گے۔ وہاں تو ایمان ، نیکی ، خالص نیت ، توحید اور صداقت ہی کام آئے گی۔ یفصل بینکم اس دن اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اور یہ نہ سمجھو کہ جس طرح تم اس دنیا میں لوگوں کو دھوکہ دے لیا کرتے تھے۔ وہاں بھی کوئی ایسا حلیہ بہانہ چل جائے گا۔ نہیں ، بلکہ واللہ بما تعملون بصیر تم جو کچھ کر رہے ہو۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ قیامت والے دن وہ تمہارے تمام اچھے اور برے اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ اور انہی کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ کرے گا۔
Ayahs 60:4–6ربط آیات :
سورۃ ہذا کی پہلی تین آیات میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے مشرکین کو ان پر مسلمانوں کے حملے کی تیاری کی سلسلے میں خط لکھا تھا۔ مگر اس کی اطلاع اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی کردی تو آپ نے وہ خط راستے سے ہی واپس لے لیا۔ جب اس صحابی ؓ سے کوتاہی کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے عذر پیش کیا کہ اس نے یہ کام اپنے بچوں کی حفاظت کی غرض سے مشرکین مکہ کو اعتماد میں لینے کے لئے کیا تھا اللہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا اور اہل ایمان کو سختی کے ساتھ منع کردیا۔ کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں۔ فرمایا کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی ، لہٰذا ان کے ساتھ دوستانہ رکھنا سخت نقصان دہ ہوگا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تم کفار کے ساتھ کتنا بھی ہمدردی کا اظہار کرو ، اگر وہ تم پر غالب آگئے تو سخت دشمنی کا سلوک کریں گے اور اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ تم اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کفر میں داخل ہوجائو۔ اس قسم کی تنبیہ سورة توبہ میں بھی موجود ہے۔ وہاں اللہ نے فرمایا۔ وان یظھروا…………………ذمۃ (آیت 8) اگر تم پر غلبہ پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد و پیمان کا۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اہل ایمان کی دلی دوستی کیسے ہوسکتی ہے ؟ محض بیوی بچوں کی خاطر کافروں سے دوستانہ کرنا اور انہیں راز کی بات بتانا بہت بری بات ہے۔ اللہ نے اس پر تنبیہ کی ہے اور فرمایا کہ جس اولاد کی خاطر تم نے یہ کام کیا ہے۔ قیامت والے دن وہ تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء کا نمونہ پیش کیا ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کی خاطر ہر چیز کی قربانی پیش کردی۔ ارشاد ہوتا ہے قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ البتہ تحقیق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی اختیار کی۔ اذ قالوا لقومھم انا براء منکم جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم بیزار ہیں تم سے ومما تعبدون من دون اللہ اور ان چیزوں سے جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن مالوف عراق تھا۔ جہاں وہ اپنی بیوی اور بھتیجے سمیت رہتے تھے۔ یہ تو سچے ایماندار تھے۔ باقی ساری قوم بادشاہ سے لے کر ادنی چرواہے تک سب کافر اور مشرک تھے ، ان کی اکثریت ستارہ پرست تھی۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ پہلی آیت میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا لوگو ! ان کو دوست نہ بنائو ، یہ عدوی وعدوکم میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ سورة ابراہیم میں آپ کی دعا کا ذکر بھی ہے جس میں عرض کیا ، پروردگار ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں سے دور رکھ۔ رب انھن………………ما الناس (آیت 36) پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ لہٰذا ہم ان بتوں سے بھی بری ہیں۔ اور ان کی پوجا کرنیوالوں سے بھی بیزار ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے یہ بھی کہا کفرنا بکم ، ہم تمہارا انکار کرتے ہیں۔ تم نے اللہ کی توحید کا انکار کیا ہے ، ہم تمہارے عقیدہ اور عمل کا انکار کرتے ہیں مطلب یہ کہ ہم تمہارے طریقہ کی ذرہ بھر بھی حمایت نہیں کرسکتے۔ تمہاری اس غلط روش کی وجہ سے وبدابیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض ظاہر ہوگیا ہے حتیٰ تو منوا باللہ وحدہ یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آئو۔ ہماری اور تمہاری دوستی کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اگر اسے مان لو تو بہتر ورنہ تمہارے اور ہمارے درمیان نفرت وعداوت کی دیوار کھڑی ہوچکی ہے۔
اسوہ ابراہیمی :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب تک عراق میں رہے تکالیف برداشت کرتے رہے حتیٰ کہ آپ کو آگ میں پھینک دیا گیا مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی اور آپ توحید خداوندی پر جمے رہے۔ آپ کو سات سال تک قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں ، ساری قوم دشمن ہوگئی۔ باپ نے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا مگر آپ نے ایمان پر کبھی سودے بازی نہیں کی۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی کو اپنے لئے نمونہ پکڑو ، جب وہ عراق سے نکلے تھے تو پھر واپس نہیں گئے۔ مگر تم بیوی بچوں کی خاطر کافروں کے ساتھ دوستی کرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن اور کافر کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ قوم برادری ، رشتہ داری ، وطن سب ثانوی چیزیں ہیں اور ایمان کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کافروں کے ساتھ عہد و پیمان ، لین دین یا احسان کی بات آگے آرہی ہے۔ مگر جو لوگ کفر کا برملا اظہار کرتے ہیں ان کے ساتھ دوستی یا محبت ہرگز ممکن نہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ سے یہی بات سامنے آتی ہے۔
باپ کے لئے بخشش کی دعا :
جب ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے آپ کی دعوت قبول نہ کی تو آپ نے ان سے علیحدہ ہوتے وقت الا قول ابراھیم لابیہ ، اپنے بات سے یہ بات ضرور کی تھی لا ستفغرن لک ، میں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کروں گا۔ اور یہ میری عرضداشت ہوگی وگرنہ وما املک لک من اللہ من شیء مگر میں اللہ سے تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں کیونکہ مالک تو اللہ ہے وہ چاہے تو دعا کو قبول کرلے اور اگر نہ چاہے تو نہ قبول کرے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عداوت اور دشمنی کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) میں شفقت کا مادہ موجود تھا۔ اور یہ شفقت اس لئے تھی کہ کسی طرح آپ کا باپ ایمان قبول کرلے۔ تاہم یہ دعا بھی محدود طریقے پر تھی۔ سورة توبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لئے بخشش کی دعا مانگنا ایک وعدے کا سبب تھا فلما……………………منہ (آیت 114) پھر جب آپ پر واضح ہوگیا کہ یہ دشمن خدا ہے تو اس سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ پہلے توقع تھی کہ شاید وہ ایمان قبول کرے گا ، مگر جب امید بالکل ختم ہوگئی کہ اب یہ ایمان نہیں لائیگا تو آپ نے اس سے اعلان برات کردیا۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا یہی اسوہ مسلمانوں کو اختیار کرنا چاہیے ، کسی کافر مشرک باپ ، بھائی ، بہن کے لئے بخشش کی دعا کرنا بھی جائز نہیں۔ بھلا جس کے لئے دعا نہیں ہوسکتی اس کے ساتھ دوستی کیسے ہوسکتی ہے ؟ وہ تو دین کے پروگرام کو مغلوب کرکے کفر کے پروگرام کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔ اہل ایمان کو مالی ، جسمانی اور ذہنی ہر طرح کی اذیت پہنچانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اور اگر وہ اہل ایمان پر غالب آجائیں تو دشمنی کا پورا پورا حق ادا کریں ، تو ایسے لوگوں سے دوستی کا کیا امکان رہ جاتا ہے ؟
دعائے ابراہیمی :
ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے سچے پیروکار یہی کہتے ہیں ربنا علیک توکلنا ، اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری ہی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی مدد پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ والیک اتبنا اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں والیک المصیر اور سب کو تیری طرف پلٹ کر آنا ہے۔ یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ اگر تم نے مکہ سے ہجرت کی ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی بابل سے جرت کی……………تھی اور پھر انہوں نے کبھی اپنی قوم کی طرف رخ نہیں کیا۔ اب وہی کام تم بھی کرو۔ اب مدینہ کو ہی مستقل ٹھکانا بنالو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت تک باپ کے لئے دعا کی جب تک ان پر حقیقت حال واضح نہیں تھی۔ پھر جب معلوم ہوگیا کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہی ہوگا۔ تو پھر آپ نے بخشش کی دعا نہیں کی۔ لہٰذا تمہیں بھی چاہیے کہ اپنے مشرک والدین یا عزیز و اقارب کے لئے بخشش کی دعا نہ کرو ، کہ اسوہ ابراہیمی یہی ہے۔
آپ نے یہ دعا بھی کی۔ ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کے لئے آزمائش نہ بنا۔ ایسا نہ ہو کہ ہم کافروں کا تختہ مشق بن جائیں اور وہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان ہی پہنچاتے رہیں۔ مولا کریم ! ہمیں اس آزمائش میں نہ ڈالنا کیونکہ آزمائش میں پورا اترنا بڑا مشکل کام ہے۔ واغفرلنا ربنا پروردگار ! ہمارے گناہوں کو معاف فرمادے۔ انک انت العزیز الحکیم بیشک تو زبردست اور حکمت والا ہے۔
مسلمانوں کی زبوں حالی :
آج کل مسلمانوں پر بحیثیت مجموعی آزمائش آئی ہوئی ہے۔ جب سے تاتاریوں کی یلغار ہوئی ہے اس وقت سے اکثر وبیشتر ممالک کے مسلمان کافروں کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی فلسطینوں پر زیادتیاں سب کے سامنے ہیں۔ برما کے دو تین لاکھ مسلمانوں کو ملک بدر کردیا گیا ہے اور ان کی جائیدادیں چھین لی گئیں ہیں فلپائن کے مسلمان بالکل قلیل تعداد میں ہیں مگر سخت مشکلات میں گرفتار ہوچکے ہیں روسی مسلمان کھل کر اپنے مذہب کا اظہار بھی نہیں کرسکتے۔ ہندوستان میں تقسیم کے بعد ہزاروں مسلم کش فساد ہوچکے ہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ الغرض ! کافر کوئی بھی ہوں الکفر ملۃ واحدۃ کے مصداق سب مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہیں۔ مسلمان کتنا عرصہ تک انگریزوں کے مصائب جھیلتے رہے ہیں اور ان کے پیدا کردہ مصائب سے آج تک جان نہیں چھوٹی۔ آج پوری دنیا میں مسلمان مغلوب ہیں ، ان کی کوئی آواز نہیں ، کوئی آزادانہ حیثیت نہیں۔ ہر جگہ سپر طاقتوں کا تسلط ہے اور وہ پس ماندہ ملکوں کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں۔ مگر یہ بیچارے کچھ نہیں کرسکتے۔ ایران ، عراق جنگ ، افغانستان پر بیرونی طاقت کا قبضہ جس کے نتیجے میں بیس لاکھ افغان ہلاک اور پچاس لاکھ جلاوطن ہوچکے ہیں سب سپر طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ ہے بڑی طاقتوں کو محض اپنا مفاد عزیز ہے اور وہ چھوٹے ملکوں کو مہروں کی طرح چلاتے رہتے ہیں آج کی دنیا میں مسلمان خاص طور پر تختہ مشق بنے ہوئے ہیں جو کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔
آخر میں دوبارہ تاکیدہورہی ہے لقدکان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ البتہ تحقیق تمہارے لئے ان لوگوں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں میں اچھا نمونہ ہے مگر یہ اس شخص کے لئے لمن کان یرجو اللہ والیوم الاخر جو خدا کی ذات اور قیامت کے دن جزائے عمل کی امید رکھتا ہے ۔ اس کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن کا ڈر رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات اور ان کے پیروکاروں میں اچھا نمونہ ہے جس کو لوگ اختیار کرکے ان کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ ایسا شخص کفر اور شرک سے بیزاری کا اظہار کریگا۔ اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرے گا لہٰذا وہ اس نمونے سے فائدہ اٹھ اسکے گا۔ ومن یتول اور جو شخص روگردانی کریگا۔ اس اسوہ سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔ فان اللہ ھوالغنی الحمید تو خدا تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے اس کو کسی کی پرواہ نہیں ہے روگردانی کرنے سے اللہ تعالیٰ کا تو کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ البتہ ایسا شخص خود ہی گھاٹے میں رہے گا۔
Ayahs 60:7–9ربط آیات :
حضور ﷺ کے صحابی سے غلطی ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے راز مشرکین مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سخت تنبیہ کی کہ…ایسی غلطی کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر اللہ نے کافروں کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیا اور ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرمادی۔ فرمایا اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح دوستی نہیں ہوسکتی ، نہ انہیں اپنا راز دار بنایا جاسکتا ہے کیونکہ جب بھی انہیں موقع ملے گا وہ مسلمانوں کو نقصان ہی پہنچائیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اہل ایمان کو اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ فرمایا تم نے تو یہ کام اپنے بیوی بچوں کو مصلحت کے لئے کیا ہے مگر قیامت والے دن رشتہ دار اولاد اور مال کسی کے کام نہیں آئیں گے۔ تمہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسوہ اختیار کرنا چاہیے۔ جنہوں نے اپنی قوم ، برادری حتیٰ کہ اپنے باپ سے بھی بیزاری کا اظہار کردیا اور فرمایا کہ جب تک تم اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان نہیں لائو گے ہمارے اور تمہارے درمیان نفرت وعداوت کی دیوار حائل رہے گی۔ درمیان میں اللہ نے اہل ایمان کی دعا کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنائے اور کسی آزمائش میں نہ ڈالے۔
کفاہ دوستی امیہ :
اب آج کے درس میں اللہ نے کافروں سے دوستی نہ کرنے کی حکمت بیان کی ہے ، اور اس کے ساتھ ایک قسم کی پیشین گوئی کی ہے اور ساتھ توقع بھی دلائی ہے کہ دشمن کا سلسلہ ہمیشہ تو نہیں رہے گا۔ خدا تعالیٰ چاہے تو وہ اس دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرنے پر بھی قادر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منھم مودۃ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان دوستی کی فضا پیدا کردے اور وہ تمہارے دوست بن جائیں۔ مگر جب تک درمیان میں کفر کی دیوار کھڑی ہے ، وہ ہمیشہ نقصان پہنچانے کے ہی درپے رہتے ہیں ، ایسی حالت میں ان کے ساتھ دوستی نہیں ہوسکتی۔ تم اس قانون کی پابندی کرو۔ مگر ناامید نہ ہو ، شاید کہ تمہارے اور ان کے درمیان اللہ تعالیٰ دوستانہ تعلقات قائم کردے۔
چنانچہ کچھ عرصہ بعد ایسا ہی ہوا۔ اللہ نے بدترین دشمنوں کے دلوں کو بھی پھیر دیا اور وہ ایمان لے آئے۔ فتح مکہ کے دن مشرکین مکہ میں سے کوئی شاذ آدمی ہی رہ گیا ہوگا۔ جس نے ایمان قبول نہ کیا ہو۔ اس ضمن میں ابوسفیان ؓ کی مثال سامنے ہے وہ کل تک بدترین دشمن تھا مگر آج نثار بن چکا تھا۔ مکہ کے بعد خاندان ، ابوجہل ، والید بن مغیرہ ، امیہ بن خلف اور ابوسفیان ؓ وغیرہ اسلام کے سخت ترین دشمن تھے مگر جب انہوں نے اور ان کی بیوی ہندہ ؓ نے اسلام قبول کرلیا تو کہنے لگے حضور ! آج سے پہلے ہمارے نزدیک آپ کے گھر سے زیادہ مبغوض دنیا میں کوئی گھر نہیں تھا ، اور ہماری تمنا ہوتی تھی کہ آپ کو سب سے زیادہ ذلت حاصل ہو۔ مگر آج معاملہ بالکل برعکس ہے۔ آج ہمیں آپ کا گھر تمام گھروں سے زیادہ محبوب ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ جذبہ ابھی مزید بڑھے گا۔ اللہ آپ کو مزید اخلاص عطا فرمائے گا۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ کی پیشین گوئی کے مطابق بعض بدترین دشمن اسلام قبول کرکے بہترین دوست بن گئے۔
ابوسفیان ؓ کی درخواست :
اسلام قبول کرنے کے بعد ابوسفیان ؓ نے حضور ﷺ سے تین چیزوں کی درخواست کی۔ پہلی یہ کہ جس طرح زمانہ جاہلیت میں اسلام کے خلاف لڑا تھا۔ اب اجازت دیں کہ اس سے بڑھ کر کافروں کے ساتھ جہاد کروں۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے چناچہ فتنہ مرتدین کے سلسلہ میں سب سے بڑے مرتد ذرالخمار کے خلاف ابو سفیان ؓ نے ہی علم جہاد بلند کیا۔ معرکہ یرموک تاریخ اسلام کا بہت بڑا معرکہ ہے جو حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں پیش آیا اور جس میں دشمن کی تعداد دو لاکھ تھی۔ ابو سفیان ؓ اگرچہ بوڑھے ہوچکے تھے اور جہاد میں ایک آنکھ بھی ضائع ہوچکی تھی ۔ مگر اس کے باوجود اس معرکہ میں شرکت کی۔ آپ مجاہدین کو خطاب کرتے اور ان کو حوصلہ دلاتے مطلب یہ ہے کہ ایک وقت آیا جس اسلام کے بدترین دشمن بہترین دوست بن گئے۔
ابوسفیان ؓ ے دوسری درخواست یہ پیش کی کہ ان کے بیٹے کو کاتب بنالیا جائے چانچہ حضور ﷺ نے ان کی یہ درخواست بھی قبول کرلی۔ تیسری گزارش یہ تھی مجھے اپنی بیٹی ام حبیبہ ؓ کے حضور ﷺ کے ساتھ نکاح کے سلسلہ میں وہی عزت واحترام حاصل ہونا چاہیے جو ایسے باپ کو حاصل ہوتا ہے جو اپنی بیٹی کا نکاح خود اپنے اختیار اور ارادے سے کرتا ہے۔ یادر رہے کہ حضرت ام حبیبہ ؓ بہت پہلے ایمان لاکر ابوسفیان ؓ کی مرضی کے خلاف حضور ﷺ کے عقد میں آچکی تھیں۔ بہرحال نبی (علیہ السلام) نے ابو سفیان ؓ کی یہ درخواست بھی قبول کرلی اور فرمایا کہ تمہیں اسی عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا جیسے کوئی باپ خود اپنی بیٹی کا نکاح کرتا ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ موجودہ حالات میں کافروں سے دوستی نہیں ہوسکتی۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردیں گے جس نے تمہارے اور ان کے درمیان دوستی کی فضا قائم ہوجائے۔ واللہ قدیر اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے۔ واللہ غفور رحیم وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ جب کوئی شخص تائب ہو کر اس کے دروازے پر آجاتا ہے تو وہ سابقہ تمام خطائیں معاکرکے اس کے ساتھ نہایت مہربانی کا سلوک کرتا ہے اور اس کو دنیا وآخرت کی نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ کسی شخص کو مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کی رحمت اور مہربانی بڑی وسیع ہے۔
غیروں سے دوستی :
پہلے عام کافروں کا ذکر تھا کہ ان کے ساتھ دوستی نہیں ہوسکتی۔ اب اللہ نے حربی کافروں کا ذکر کیا ہے یعنی وہ کافر جو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ نہ ہوں یا وہ ذی بن کر اسلامی قوانین کا احترام کرتے ہوں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین اللہ ایسے لوگوں کے متعلق منع نہیں کرتا جو تم سے جنگ نہیں کرتے دین کے معاملہ میں ولم یخرجوکم میں دیارکم اور تمہیں گھروں سے بھی نہیں نکالتے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے منع نہیں کرتا ان تبروھم کہ تم ان کے ساتھ نیکی کا سلوک کرو۔ وتقسطوا الیھم اور ان سے انصاف کرو۔ یعنی اللہ تعالیٰ غیر حربی اور ذمی کافروں کے ساتھ انصاف کا حکم بھی دیتا ہے کیونکہ ان اللہ یحب المقسطین ، وہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
امام ابوحنیفہ ؓ کا فتویٰ ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی جان ، مال اور عزت مسلمانوں کی جان ، مال اور عزت کی طرح محفوظ ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس اصول کے تحت اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کافر کو قتل کرے گا۔ تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ ایک مسلمان کے ہاتھ سے دو کافر مارے گئے تھے تو حضور ﷺ نے ان کے لئے مسلمانوں کے لئے مقرر کردہ دیت سو سو اونٹ دلائے تھے۔ فرمایا ، ہمارا ان کے ساتھ معاہدہ تھا اور ان کو امن حاصل تھا ، لہٰذا ان کی دیت ادا کی جائیگی۔
صلح حدیبیہ کے زمانے کا واقعہ ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی مطلقہ بیوی اور اسمائ ؓ کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزی مدینہ آئی تو حضرت اشماء بنت ابوبکر ؓ کو تردد ہوا۔ کہ آیا میں اپنی مشرکہ والدہ کی خدمت کرسکتی ہوں یا نہیں ؟ انہوں نے اس سلسلہ میں حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ میرا اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ میں نے تو ابھی تک اسے اپنے گھر میں بھی داخل نہیں ہونے دیا۔ کیا میں اسی کے ساتھ صلہ رحمی کا سلوک کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا ، ہاں ! تم اس کو اپنے ہاں ٹھہرا سکتی ہو ، اور اس کے ساتھ نیکی کا سلوک بھی کرسکتی ہو۔ اگر وہ ناوار ہے تو اس کی مالی اعانت بھی کرسکتی ہو۔ تو فرمایا کہ جو کافر تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرتے ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرسکتے ہو ، اور ان کے ساتھ بھی انصاف کرو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کرتے ہو۔
حربی کفار سے دوستی کی ممانعت :
البتہ اللہ نے حربی کافروں کے ساتھ عدم دوستی کی پھر تاکید فرمائی اور کہا۔ انما ینھکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین ، بیشک اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے تم کو ان لوگوں سے جو تم سے دین کے معاملے میں لڑے ہیں واخرجوکم من دیارکم اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے۔ وظاھروا علی اخراجکم ، اور انہوں نے تمہارے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی ہے تو اللہ تمہیں منع کرتا ہے ان تولوھم کہ ان سے دوستی کرو۔ یہ حربی کافر اور دشمن خدا ، دشمن رسول اور دشمن دین ہیں لہٰذا ان سے کوئی راہ ورسم جائز نہیں۔ زکوٰۃ تو ویسے ہی کافروں کو نہیں دی جاسکتی ، ایسے حربی کافروں کو صدقہ دینا بھی روا نہیں۔ البتہ غیر حربی کافروں کو صدقہ کی ادائیگی کی اجازت اللہ نے قرآن میں دے دی ہے ، اور ایسے لوگوں کے ساتھ دوسرا احسان بھی کیا جاسکتا ہے۔
چنانچہ اس بناء پر اللہ نے غیر حربی کافر عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اگر کوئی جنگ میں حصہ لیتا ہے یا کوئی عورت سپاہیوں کی معاون ہوتی ہے تو پھر وہ بھی گردن زونی شمار ہوگی۔ راہب قسم کے لوگ جو جنگ میں حصہ نہ لیتے ہوں ، ان کی جان کو بھی امن حاصل ہے بلکہ ان کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ہے۔ البتہ جو کافر تمہیں گھروں سے نکالتے ہیں یا نکالنے میں مدد دیتے ہیں جیسا کہ بنو خزاعہ نے عہد شکنی کرکے دوسروں کی مدد کی تھی۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ جنگ ہوگی۔
فرمایا اس حکم کے برخلاف ومن یتولھم جو شخص ایسے لوگوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا۔ فاولئک ھم الظلمون ، تو اللہ کے نزدیک یہ لوگ ظالم شمار ہوں گے۔
Ayahs 60:10–11ربط آیات :
گزشتہ درس میں اللہ نے غیر حربی کا فروں کے ساتھ احسان کرنے کی اجازت دی اور حربی کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا۔ معاہدہ حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر کافروں کا کوئی آدمی بھاگ کر مدینہ آجائے گا تو مسلمان اسے واپس کردیں گے ، اور اگر مسلمانوں کا کوئی آدمی مکہ چلا جائے گا۔ تو کفار اسے واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ تو مردوں کے لئے تھا مگر جب کچھ عورتیں مکہ سے ہجرت کرکے مدینے آگئیں اور ان کے اقرباء ان کے پیچھے آئے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کو ٹھہرانے یا واپس کرنے کے متعلق کیا احکام ہیں ؟ مشرکین مکہ نے عورتوں کو بھی مردوں پر محمول کیا اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا کیونکہ معاہدہ میں واپسی کی شرط موجود تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کی مذکورہ شرط صرف رجال (مردوں) کے لئے تھی اور عورتوں پر یہ شرط عائد نہیں ہوتی تھی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں احکام نازل فرمائے جو آج کے درس میں بیان ہوئے ہیں۔
مہاجر عورتوں کے متعلق :
ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اذا جآء کم المومنت مھجرت فامتجنوھن اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کا امتحان لے لیا کرو ، اور چھی طرح تحقیق کرلیا کرو کہ وہ کن حالات میں مکہ سے مدینہ آئی ہیں اللہ اعلم بایمانھن ، اللہ تعالیٰ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے مگر تمہارا بھی فرض ہے کہ اچھے طریقے سے جانچ لو کہ کیا وہ واقعی دین کی خاطر آئی ہیں یا پس پردہ کوئی دوسرا مقصد کار فرما ہے ہوسکتا ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند سے ناراض ہو کر چلی آئی ہو جسے وہ تنگ کرنا چاہتی ہو یا کسی دوسرے شخص کی محبت میں گرفتار ہو کے آئی ہو یا کسی لالچ کی وجہ سے آگئی ہو۔ تو فرمایا اپنے طریقے پر تحقیق کرلیا کرو۔ کہ ان کا مقصد دین کی محبت ہے یا کوئی اور مقصد ہے۔ چناچہ اس حکم کے مطابق حضور ﷺ نے خود بھی بعض عورتوں سے سوال جواب کیے اور حضرت عمر ؓ کو بھی اس کام پر مامور کیا۔
پھر فرمایا کہ تحقیق کرنے کے بعد فان علمتموھن مومنت اگر تم جان یعنی اس نتیجے پر پہنچو کہ یہ واقعی مومنہ ہیں اور انہوں نے محض دین کی خاطر ہجرت کی ہے فلا ترجعو ھن الی الکفار تو پھر انہیں کافروں کی طرف مت لوٹائو۔ بلکہ اپنے ہاں پناہ دو کیونکہ لاھن حل لھم ، اب یہ کافروں کے لئے حلال نہیں ہیں۔ ولا ھم یحلون لھن ، اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ ایمان لانے کے بعد ان عورتوں کا نکاح کافر مردوں کے ساتھ ختم ہوچکا ہے ہاں ، اگر خاوند بھی مسلمان ہوجائے یا اس کی توقع ہو تو پھر ایسی عورت اپنے خاوند کی طرف پلٹا دی جائے گی۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ کا عمل ہمارے سامنے موجود ہے آپ کی صاحبزادی حضرت زینب ؓ مسلمان تھی جب کہ اس کا خاوند ابو العاص مشرکین مکہ میں سے تھا۔ حضرت زینب ؓ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آگئیں۔ پھر کئی سال بعد جب خاوند بھی مسلمان ہو کر آگیا تو آپ نے اپنی صاحبزادی کو خاوند کے پاس جانے کی اجازت دیدی۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔
اس سلسلہ میں مسئلہ تبائن وارین بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر مومنہ عورت کافر خاوند کو چھوڑ کر دارالاسلام میں آجائے تو اس کا سابقہ نکاح تو ختم ہوگیا ۔ کیا نکاح ثانی کے لئے اسے عدت گزارنا پڑے گی یا نہیں ؟ اس ضمن میں امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر عورت حاملہ نہ ہو تو اسے عدل گزارنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہے تو پھر وضع حمل تک عدت پوری کرنا ہوگی۔
مہر کی۔۔۔۔۔ :
اب یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ جب کوئی عورت ایمان لاکر دارالاسلام میں آجائے یا کوئی مسلمان عورت مرتد ہو کر دارالکفر میں چلی جائے تو نکاح ثانی کے لئے ان کے مہر کا کیا حکم ہے ، اور جو مہر پہلا خاوند اداکر چکا ہے اس کا کیا بنے گا ؟ اس سلسلے میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی عورت کافر خاوند کو چھوڑ کر تمہارے پاس آجائے واتوھم ما انفقوا ، تو کافروں کو وہ مہر وغیرہ کا خرچہ دے دو جو انہوں نے ایسی عورتوں سے نکاح کرتے وقت کیا تھا۔ اور پھر اگر تم اس سے نکاح کرنا چاہو ، ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب کہ تم ان کو مہر ادا کردو۔ گویا نکاح ثانی کے لئے تمہیں پھر مہر ادا کرنا ہوگا۔
اس کے برعکس اگر کوئی مومنہ عورت مرتد ہو کر کافروں کے پاس چلی جائے۔ ولا تمسکوا بعصم الکوافر تو کافر عورتوں کے ناموس کو اپنے پاس مت روکو ، کیونکہ مرتد ہونے کے بعد ان کا مومن آدمی کے ساتھ نکاح خود بخود فتح ہوگیا ہے لہٰذا ان کو روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ البتہ واسئلوا مانفقتم ، تم نے ان عورتوں پر مہر کی صورت میں جو خرچ کیا ہے وہ کافروں سے طلب کرلو۔ اور کوئی کافر خاوند کی بیوی ایمان لاکر تمہارے پاس آجاتی ہے ولیسئلو ما انفقوا ، تو چاہیے کہ وہ بھی مانگ لیں جو انہوں نے ایسی عورتوں پر خرچ کیا ہے۔ یہ دو طرفہ معاملہ ہے اگر کوئی عورت ایمان لاکر آگئی ہے تو اس کے کافر خاوند کو اس کا خرچہ ادا کرو اور اگر یہاں سے کوئی عورت مرتد ہو کر دارالکفر میں چلی جاتی ہے تو اس پر کیا گیا خرچہ مسلمانوں کو ملنا چاہیے۔
فرمایا ذلکم حکم اللہ یہ اللہ کا حکم ہے جو تمہیں دیا گیا ہے ، اور اس پر عملدرآمد ضروری ہے یحکم بینکم اسی نے تمہارے درمیان فیصلہ کیا ہے۔ واللہ علیم حکیم ، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے۔
عدام ادائیگی کی صورت میں :
مسلمان تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے پابند تھے مگر سوال یہ ہے کہ کیا کافر بھی اس قسم کے تبادلہ مہر کے لئے تیار تھے ؟ ہوسکتا ہے کہ جو عورت مرتد ہو کر ان کے پاس چلی جائے وہ اس کا خرچہ ادا نہ کریں۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے اللہ نے فرمایا وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار ، اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کچھ کفار کی طرف چلی جائیں فعاقبتم پس تم گرفت کرو یعنی اگر ادھر سے کوئی عورت مسلمان ہو کر آجائے جس کا خرچہ تم پر کافروں کو واجب الاد ہو تو اس کو روک لو فاتو الذین ذھبت ازواجھم مثل ما انفقوا اور یہ رقم ان لوگوں کو ادا کردو جن کی بیویاں مرتد ہو کر چلی گئی ہیں اور کفار ان کا خرچہ ادا کرنے کے لئے تیار نہیں۔
بعض فرماتے ہیں کہ عاقبتم یعنی گرفت کرو کہ مطلب یہ ہے کہ تم کافروں کے خلاف جہاد کرو اور وہاں سے حاصل ہونے والا مال بیت المال میں جمع کرو اور پھر اس بیت المال میں سے اس شخص کا خرچہ ادا کرو جو اس نے اپنی مرتد ہوجانے والی بیوی پر کیا تھا۔ والتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کرو۔ بلکہ صلح وجنگ کے ہر قانون کی پابندی کرو۔ اس اللہ ڈرو الذی انتھم بہ مومنون جس پر تم ایمان لاچکے ہو ۔ اسی نے اپنے رسول اور کتابیں نازل فرما کر احکام نازل فرمائے ہیں۔ اس سے ڈرو اور قانون پر عملدرآمد کرو۔