Ayahs 60:12–13ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ نے مہاجر عورتوں کے امتحان کا قانون بیان فرمایا کہ اگر کوئی عورت مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو بیعت کرنے سے پہلے ان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیا کرو کہ کیا واقعی انہوں نے دین کی خاطر ہجرت کی ہے یا اس سے کوئی دیگر دنیوی مفاد وابستہ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ خاوندوں سے ناراض ہو کر آئی ہوں یا وہ کسی دوسرے شخص کی محبت کی وجہ سے آگئی ہیں ، لہٰذا ان کے متعلق تحقیق کرلینا ضروری ہے۔ اگر قرائن سے معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی محض دین کی خاطر ہجرت پر مجبور ہوئی ہیں تو پھر ان کو اپنے ہاں روک لو اور واپس کافروں کی طرف نہ بھیجو۔
عورتوں کے لئے بیعت :
اب آج کے درس میں اللہ نے عورتوں کی بیعت کی شرائط کا ذکر کیا ہے۔ سورة الفتح میں گزر چکا ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر مردوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی مگر اب عورتوں سے بیعت لینے کا قانون بیان ہورہا ہے اگر عورتیں مذکورہ شرائط پر پورا اتریں گی تو کامیابی سے ہمکنار ہوں گی وگرنہ خالی بیعت بےسود ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے بیعت سے متعلق القول الجمیل نامی کتاب تحریر فرمائی ہے۔ جس میں بیعت کی مختلف شرائط اور اس کے کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بیعت کرنا کوئی فرض واجب نہیں بلکہ سنت ہے ، اور حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ اور خیرالقرون میں بیعت کرنے کا طریقہ رائج تھا ، ہاں ! اگر کوئی شخص ایمان کی تمام صفات پوری کرتا ہے مگر کسی کی بیعت نہیں کرتا تو اس پر اعتراض بھی نہیں کیا جاسکتا۔
بیعت کی قسمیں :
بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں ایک بیعت اسلام کہلاتی تھی۔ یہ وہ بیعت تھی جو کوئی شخص کوئی غیر مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ حضور ﷺ کے بعد بیعت خلافت ہوئی تھی۔ اس کے ذریعے لوگ احکام الٰہی کا انجام دہی اور خلیفہ کی پیروی کا اقرار کرتے تھے۔ ہر خلیفہ کے انتخاب پر یہ بیعت ہوتی رہی۔ اس کے علاوہ ایک بیعت بیعت ہجرت ہوتی تھی جس کے ذریعے لوگ اقرار کرتے تھے کہ وہ اللہ کے راستے ہیں ہجرت کریں گے۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں جہاد کے لئے بھی بیعت ہوتی تھی۔ حضور ﷺ سے تقویٰ اور سنت کی اتباع کی بیعت بھی ثابت ہے۔ اسی طرح ارکان اسلام کی پابندی کرنے کے لئے بیعت بھی نبی (علیہ السلام) سے ثابت ہے۔
بعض آدمیوں سے بتکرار بیعت بھی ثابت ہے۔ حضرت سلمہ بن الاکوع ؓ بڑے بہادر آدمی تھے۔ حدیبیہ کے مقام پر آپ سے تین دفعہ بیعت لی گئی اور یہ بیعت بھی درست ہے کہ کوئی اقرارکرے کہ میں سنت کا اتباع اور بدعت سے اجتناب کروں گا۔ حضور ﷺ نے بعض عورتوں سے جو بیعت لی تھی اس میں یہ وعدہ بھی شامل تھا ان لا تنحن کہ وہ نوحہ نہیں کرینگی ، یعنی کسی کو موت پر نہ بین کریں گی ، نہ کپڑے پھاڑیں گی اور نہ چہرہ نوچیں گی۔ حضور ﷺ نے بعض فقرامہاجرین سے یہ بیعت بھی لی تھی ان لا یسئلوا احد یعنی وہ کسی سے سوال نہیں کریں گے۔ چناچہ بعض صحابہ ؓ اس قدر محتاط ہوگئے تھے کہ سواری پر سوار ہو کر جاتے وقت اگر ہاتھ سے چھڑی وغیرہ گر پڑتی تو کسی کو پکڑانے کے لئے نہیں کہتے تھے ، بلکہ خود سواری سے نیچے اتر کر پکڑتے تھے۔ حضرت جریر بن عبداللہ سیجلی ؓ نے حضور ﷺ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ میں نماز کی پابندی کروں گا زکوٰۃ احتیاط سے ادا کروں گا والنصح لکل مسلم اور ہر مسلمان بھائی کے ساتھ غیر خواہی کا سلو کروں گا۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ بعض لوگوں نے اس عہد پر بیعت کی ان لا یخافوا لومۃ لائم یعنی وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہیں کھائیں گے وان یقولو الحق این ماکانو اور وہ جہاں کہیں بھی سچی بات ہی کریں گے ، خواہ اس کے لئے کتنا بھی خطرہ مول لینا پڑے۔ ایسے لوگ بڑے سے بڑے جابر کے سامنے بھی کلمہ حق کہنے سے دریغ نہیں کرتے۔
بیعت کی ایک قسم بیعت توبہ بھی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ میں ملوث ہوجاتا ہے اور پھر وہ کسی مرشد برحق کے پاس جاکر اقرار کرتا ہے کہ میں اپنے کردہ گناہ سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ تو یہ بھی درست ہے۔ بہت سے لوگ یہ بیعت بھی کرتے ہیں جس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بیعت بیعت شرک بھی ہے۔ بعض لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے تھے کہ حضور ! ان کو بیعت کرلیں۔ آپ (علیہ السلام) ان کے سر پر دست شفقت پھیر دیتے تھے اور بعض سے تبرکاً بیعت بھی لے لیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے والدین نے ان کو سات آٹھ سال کی عمر میں حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے برکت کے لئے ان سے بیعت لی۔ اس قسم کی بیعت بھی حضور ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض بزرگان دین کے سلسلے میں شامل ہونے کے لئے بھی بیعت کی جاتی ہے۔
شاہ رفیع الدین (رح) نے بیعت کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ایک بیعت وسیلہ ہے جو کسی سلسلہ میں منسلک ہونے کے لئے کی جاتی ہے۔ دوسری قسم کی بیعت ، احکام شریعت کی پابندی اختیار کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ تیسری قسم کی بیعت یہ ہے کہ انسان درودوظائف پر پابندی اختیار کرنے کے لئے بیعت طریقت کرتا ہے۔ اور اگر انسان صاحب ہمت ہو ، محنت کرسکتا ہو تو و وہ مشاہدات حاصل کرنے کے لئے چوتھی قسم کی بیعت بیعت حقیقت کرتا ہے۔
مرشد کامل کے اوصاف :
شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ کوئی انسان تربیت کے بغیر خود بخود درجہ کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔ مذکورہ تربیت اصولاً درست ہے اور اس کی بہت سی قسمیں ہیں مگر اس کے ساتھ شرائط بھی ہیں جن کا پایا جانا مرشد کامل میں ضروری ہے۔ چناچہ بیعت اس شخص کی کرنی چاہیے جس میں یہ اوصاف پائے جائیں ۔ فرماتے ہیں کہ مرشد کامل کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول کا علم رکھتا ہو۔ اس نے استاذ سے تعلیم حاصل کی ہو ، اور اگر یہ نوبت نہیں آئی تو کم از کم اہل علم کے پاس بیٹھ کر اور ان سے سن کر کتاب وسنت کا علم حاصل کیا ہو۔ اگر کسی نے ان میں سے کسی ذریعہ سے بھی علم حاصل نہیں کیا تو اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا درست نہیں۔
فرماتے ہیں کہ دوسری شرط یہ ہے کہ بیعت کنندہ میں عدالت اور تقویٰ پائے جائیں یعنی وہ فاسق نہ ہو ، تقویٰ کے خلاف کوئی کام کرنا ہو۔ کباڑ سے اجتناب کرتا ہو اور صغائر پر مصر نہ ہو۔ تیسری شرط یہ ہے کہ بیعت کرنے والا آخرت میں رغبت رکھتا ہو اور دنیا سے بےرغبت ہو ، اس کے بغیر وہ بیعت کے قابل نہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ شخص امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہو۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ اس نے یہ طریقہ مشائخ اور بزرگوں سے سیکھا ہو ، نہ کہ خود بخود پیر بن کر بیٹھ گیا ہو۔ یہ پانچ شرائط ہیں۔ اگر یہ کسی شخص میں پائی جائیں تو اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا درست ہے البتہ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اس قسم کی بیعت کو سنت کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی وجہ سے معصیت سے بچائو ہوگا اور ترقی جلدی نصیب ہوجائے گی۔ بایں ہمہ یہ بیعت کوئی فرض یا واجب نہیں ہے۔
بعض لوگ ظاہری شکل و صورت سے تو اچھے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ مگر وہ حقیقت سے خالی ہوتے ہیں۔ رومی صاحب (رح) نے ایسے ہی لوگوں کے متعلق کہا ہے ؎
بے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دست نہ باید داد دست
بعض لوگ انسان نما شیطان ہوتے ہیں لہٰذا بلا سوچے سمجھے ہر کسی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے کہ بیعت کنندہ میں مذکورہ بالا شرائط پائی جاتی ہیں یا نہیں۔ ایسے بیعت کنندہ سے اجتناب کرنا چاہیے جو محض رسومات باطلہ اور بدعات انجام دینے کی تلقین کرتا ہو۔
ناقابل بیعت پیر :
آج تو انحطاط کا زمانہ ہے ۔ نویں صدی کے بزرگ خواجہ عبدالقدوس گنگوہی (رح) نے اپنے مکتوبات میں اپنے دور کا شکوہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں ” ہیہات ہیہات امروز بد روز ما است کہ جہاں از پیری ومریدی پرشدہ واہیچ خبر مسلمانی نیست “ افسوس ! آج ہمارا زمانہ کتنا برا ہے کہ جہان پیری مریدی سے بھرا ہوا ہے مگر مسلمانی کی کسی کو خبر نہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ایمان ، اسلام اور دین کیا ہے ؟ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ ” افسوس ! آج ہماری بدنصیبی کا یہ عالم ہے کہ پیری مریدی بت پرستی اور خود پرستی بن چکی ہے اور درویشی لقمہ فروشی کا نام بنا ہوا ہے۔ ہم بدنصیب لوگ دعا کریں گے کہ خدا تعالیٰ ایسی درویشی اور دین فروشی سے توبہ کی توفیق دے۔ اول بار مسلمانی درست کنیم بعدہ درویشی ، یعنی پہلے ہم اسلام اور مسلمانی تو درست کرلیں ، درویشی اور پیری مریدی تو بعد کی بات ہے “۔ اس وقت جتنی گدیاں اور پیر ہیں ان میں سے اکثر خلاف شرع کا م کرتے ہیں فاسق ، فاجر ہیں ، شرکیہ اور بدعتیہ رسوم انجام دیتے ہیں اور دوسروں کو اس کی تلقین کرتے ہیں۔ ایسے لوگ قطعاً بیعت کے لائق نہیں۔ ان سے بیعت کرنے میں فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہوگا۔
عورتوں کی بیعت کے لئے شرائط :
اب آج کی پہلی آیت میں عورتوں کی بیعت سے متعلق شرائط کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا النبی اے پیغمبر ! اذا جاء ک المومنت یبایعنک جب آپ کے پاس عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں علی ان لا یشرکن باللہ شیئا اس بات پر کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی یعنی وہ نہ تو اللہ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھہرائیں ، نہ صفات میں اور نہ افعال میں گویا کسی طرح کا بھی شرک نہیں کریں گی۔ اور دوسری بات یہ کہ ولا یسرقن اور وہ چوری نہیں کریں گی ولا یزنین اور بدکاری نہیں کریں گی ولا یقتلن اولادھن اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ اپنی بچیوں کو عار کی وجہ سے زندہ درگور کردیتے تھے۔ اور بعض فقر کے ڈر سے بھی بچوں کو قتل کردیتے تھے۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ تم خود رازق بن رہے ہو حالانکہ ہم ان بچوں کو بھی روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ بہرحال اس قسم کا ظلم بھی ہوتا رہا ہے جسے بیعت کی شرائط میں داخل کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ اس شرط پر بھی بیعت کریں ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن واجلھن ، اور اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان بہتان نہ باندھیں گی۔ مطلب یہ کہ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو اپنے خاوندوں کی طرف منسوب نہیں کریں گی۔ اس بہتان میں جھوٹی قسم ، جھوٹا دعویٰ اور جھوٹا الزام بھی آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ولا یعصینک فی معروف وہ نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ فرمایا اگر بیعت کے لئے آنے والی عورتیں ان شرائط پر پوری اترتی ہوں فبایعھن تو آپ ان سے بیعت کرلیں۔
مفسرین اس آخری شرط پر کلام کرتے ہیں کہ اللہ نے معروف یعنی نیکی کے کام میں نافرمانی نہ کرنے کی شرط کیوں لگائی ہے جب کہ اللہ کا نبی تو ہمیشہ نیکی کا حکم ہی دیتا ہے اور کبھی برائی غلط بات کی دعوت دے ہی نہیں سکتا۔ امام ابوبکر حبصاص ؓ فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کا نبی کبھی غلط کام کا حکم نہیں دیتا۔ مگر یہ شرط اس لئے لگائی ہے تاکہ کوئی شخص اس کو غلط اطاعت کے لئے بہانہ نہ بناسکے۔ عام طور پر لوگ امرائ ، سلاطین اور مطلق العنان لوگوں کی غلط کام میں اطاعت کے لئے عذر پیش کرتے ہیں کہ ایمرجنسی تھی یا ہم مجبور تھے اور اس کے بغیر چارہ نہیں تھا۔ اللہ نے معروف کی شرط لگاکر غلط کام میں اطاعت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے۔ جب اللہ کے معصوم نبی اور افضل البشر کا اتباع بھی صرف نیکی کے کام میں ہوسکتا ہے تو کسی عام انسان کی برائی کے کام میں اطاعت کیسے ہوسکتی ہے ؟ اگر کوئی بادشاہ ، خلیفہ حاکم ، امیر یا استاد کسی خلاف شرع کام کا حکم دے گا تو اس کی اطاعت نہیں ہوگی کیونکہ انما الطاعۃ فی المعروف اور اطاعت تو نیکی کے کام میں ہی ہوسکتی ہے۔ واذا امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ اور جب کسی گناہ یا نافرمانی کا حکم دیا جائے گا تو نہ اس کو سنو اور نہ اس کی اطاعت کرو۔
عورتوں سے بیعت کا طریقہ :
فرمایا اگر ان شرائط پر عورتیں بیعت کرنا چاہیں تو آپ ان کو بیعت کرلیں مردوں سے بیعت لینے کا طریقہ تو یہ ہے کہ مرشد اپنے مرید کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ مگر عورتوں کے لئے یہ طریقہ نہیں ہے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نے بیعت کے لئے کسی عورت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ ایک عورت نے مصافحہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی مگر آپ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے۔ میری بات ایک عورت یا سو عورتوں کے لئے یکساں ہے میں جو بات زبان سے کرتا ہوں اس کی پابندی کرو ، یہی کافی ہے۔ ہاں اگر تبرک کے لئے ضروری ہی کچھ کرنا ہو تو کسی برتن میں پانی ڈال کر بیعت لینے والے اس پانی میں ہاتھ ڈالے۔ اور پھر اسی پانی میں عورت بھی ہاتھ ڈال لے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی کپڑا لے کر اسی کا ایک کنارہ پیر پکڑلے اور دوسرا کنارہ عورت پکڑلے۔
فرمایا آپ ایسی خواہشمند عورتوں سے بیعت بھی لے لیں واستغفرلھن اللہ اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے بخشش کی دعا بھی کریں کہ مالک الملک ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمادے ان اللہ غفور رحیم ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ وہ آپ کی دعائوں کو پذیرائی بخشے گا۔
مغضوب علیہم سے دوستی کی ممانعت :
جو مضمون سور ۃ کی ابتداء میں بیان کیا گیا تھا ، اب آخر میں اسی کو دہرایا جارہا ہے یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم ، اے ایمان والو ! نہ دوستی کرو ان لوگوں سے جن پر اللہ ناراض ہوا۔ یہ حکم خاص طور پر مدینے کے اطراف میں آباد یہودیوں کے لئے ہے۔ ان پر اللہ کا غضب ہوا اس لئے سورة فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ اے مولا کریم ! ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا ، اور نہ ان لوگوں کی راہ پر غیر المغضوب علیھم ، جن پر تیرا غضب ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم مغضوب علیہ لوگوں سے دوستی کرو گے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی طرح تم پر بھی ناراض ہوگا۔ اس کے علاوہ مطلق کفر اور شرک بھی خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔
فرمایا ان لوگوں کا حال یہ ہے قد یئسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحب القبور ، کہ یہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہوچکے ہیں جس طرح کافر لوگ قبروں میں جاپڑنے والوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح کافر مردوں کی دوبارہ زندگی اور جزائے عمل سے مایوس ہیں کہ نہ وہ دوبارہ زندہ ہوں گے اور نہ ان کا حساب کتاب ہوگا۔ اسی طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ خود بھی دوبارہ نہیں اٹھیں گے اور نہ کوئی جزائے عمل کی منزل آئے گی۔ یہودی اہل علم تھے اور آخرت کا تصور بھی رکھتے تھے مگر غافل ہو کر وہ بھی کافروں کی طرح ہی ہوگئے۔ آج کے دور میں اکثر وبیشتر مسلمانوں کی حالت بھی یہی ہے۔ آخرت کے بارے میں ان پر بھی مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ وہ کوئی کام پورے یقین کے ساتھ نہیں کرتے گویا کہ انہیں حساب کتاب کے لئے اللہ کے حضور پیش ہی نہیں ہونا۔