61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 61:1–4

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

پاکی بیان کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے جو کچھ بھی ہے آسمان میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ اور وہ زبردست اور حکمت والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو تم وہ بات جو کرتے نہیں

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

بڑی ہے نفرت کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک یہ بات کہ تم کہو وہ جو تم نہیں کرتے

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کے راستے میں صف باندھ کر گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہے۔

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصف ہے جو اس کی چوتھی آیت میں آمدہ لفظ الصف سے موسوم ہے۔ صف قطار کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں جہاد کے لئے صف بندی کا ذکر ہے ، لہٰذا اس سورة کا نام الصف رکھا گیا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ مدنی زندگی میں یہ سورة …سورۃ التغابن کے بعد نازل ہوئی حالانکہ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ اس سے پہلے ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چودہ آیات اور دو رکوع ہیں اور یہ سورة 221 الفاظ اور 926 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة الممتحنہ میں خدا ، اس کے رسول ، اس کے دین اور اس کی طرف سے آمدہ پروگرام کے دشمنوں سے دوستی کی ممانعت کی گئی تھی۔ اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ ایک صحابی رسول سے یہ غلطی ہوگئی تھی کہ اس نے اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کی خاطر کفار مکہ کو مسلمانوں کے راز سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اللہ نے اس ضمن میں سخت تنبیہ فرمائی کہ یہ لوگ تمہارے کبھی دوست نہیں ہوسکتے۔ اگر انہیں کبھی تم پر تسلط حاصل ہوگیا تو یہ تمہیں تمہارے ایمان کی سزا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ فرمایا غیر حربی کافروں سے تو احسان کیا جاسکتا ہے۔ مگر وہ حربی کافر جو تمہیں ہجرت پر مجبور کرتے ہیں ان کے ساتھ کسی طرح بھی دوستی نہیں ہوسکتی۔ اب اس سورة میں ایک قدم اور بڑھ کر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں۔ اسلام کے پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور دین حق کو مٹاناچاہتے ہیں ان کے ساتھ جہاد کرنا ضروری ہے۔ تاکہ اس فتنہ کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔ گویا اس سورة میں جانبازی اور سرفروشی کا حکم دیا گیا ہے۔ توحید کا بیان : سورۃ کا آغاز توحید کے بیان سے ہوتا ہے جو دین کی جڑ بنیاد ہے اور جس کے ذریعے انسانی فکر صحیح ہوتی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان کو بلندی نصیب ہوتی ہے۔ اگر توحید میں کوئی خلل واقع ہوجائے تو انسان کا کوئی عمل اور کوئی نیکی قابل اعتماد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کو نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ اسی لئے اللہ نے سب سے پہلے توحید کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے سبح للہ مافی السموت ومافی الارض ، پاکی بیان کرتی ہے جو مخلوق بھی ہے آسمانوں اور زمین میں۔ تسبیح کا معنی تنزیہہ ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے شرک ، کمزوری عیب اور احتیاج سے پاک ہے ، غرضیکہ اللہ کی ذات ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ جب ہم لفظ اللہ بولتے ہیں تو اس میں یہ ساری حقیقت آجاتی ہے۔ علم عقائد والے سمجھاتے ہیں کہ اللہ سے مراد ایک ایسی ذات ہے ، جو ازلی ، ابدی قائم اور دائم ہے۔ اس کا وجود بذاتہ ہے اور وہ تمام صفات کمال کی جامع ہے۔ جب کوئی مسلمان اپنی زبان سے سبحان اللہ کہتا ہے یا سبح للہ کہتا ہے تو اس کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ ذات خداوندی تمام صفات کمال کے ساتھ موصوف ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ آتا ہے سبحن اللہ عما یشرکون خدا کی ذات پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ کوئی اللہ کی ذات میں شریک بناتا ہے ، کوئی صفات میں کوئی عبادت میں ، کوئی نذر ونیاز میں ، کوئی نام رکھنے میں ، کوئی دہائی دینے میں ، کوئی پکارنے میں ، کوئی انتہائی تعظیم کرنے میں۔ یہ سب کفر اور شرک کی باتیں ہیں۔ کسی مخلوق کے سامنے ایسی تعظیم کرنا جو صرف خداوند قدوس کے لائق ہے ، صریح شرک ہے۔ دنیا میں شرک کی مختلف قسمیں رائج ہیں۔ اللہ نے سورة الانعام میں ان تمام قسموں کو بیان کردیا ہے۔ کبھی مال میں شرک ہوتا ہے ، کبھی افعال میں اور کبھی عقائد میں۔ خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کو مخلوق میں ثابت کرکے لوگ مشرک بن جاتے ہیں لہٰذا شرک کی ہر قسم سے بیزاری کا اعلان کرنا ضروری ہے۔ پچھلی سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کا یہ اعلان گزر چکا ہے انا براء ئوامنکم ومما تعبدون من دون اللہ (الممتعنہ 4) ہم تم سے بھی بیزار ہیں اور ان سے بھی جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو۔ اور ہماری یہ بیزاری اس وقت تک قائم رہے گی حتیٰ تو منوا باللہ وحدہ یہاں تک کہ تم خدائے واحد پر ایمان لے آئو۔ خدا تعالیٰ کی تسبیح : فرمایا کہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح یعنی تنزیہہ بیان کرتی ہے۔ قرآن میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ شجر ، حجر ، آسمانی کرے ، جانور ، کیڑے مکوڑے غرضیکہ مخلوق کی ہر شے خدا کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ البتہ انسانوں میں آکر دو گروہ بن جاتے ہیں ان میں سے ایک گروہ تو دوسری اشیاء کی طرح تنزیہہ بیان کرتا ہے جب کہ دوسرا گروہ شرک کرنے لگتا ہے۔ تسبیح لسان حال سے بھی ہوتی ہے۔ اور لسان قال سے بھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ ہر چیز کی وضع اور شکل و صورت اور اس کا کام بتلاتا ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ خدا کے ساتھ کسی چیز میں کوئی شریک نہیں ارض وسما کی ہر چیز کی حالت ہی بتارہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کررہی ہے قرآن نے اس بات کی تصریح کردی ہے وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (بنی اسرائیل 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کررہی ہے۔ مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔ جب ہر چیز خدا کی تسبیح بیان کرتی ہے تو انسانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی تنزیہہ بیان کریں اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں۔ غرضیکہ اس سورة کی ابتداء میں یہی اصول سمجھایا گیا ہے۔ فرمایا وھوالعزیز الحکیم وہ خدا تعالیٰ زبردست اور غالب ہے ، کمال قدرت اور کمال قوت کا مالک ہے ، اور اس کی ہر بات حکمت پر مبنی ہے ایک ذرے سے لے کر بڑے بڑے سیارے تک اس نے ہر چیز کمال حکمت اور خاص مصلحت کے ساتھ قائم کررکھی ہے۔ جس میں کوئی عیب اور نقص نہیں سورة الملک میں اللہ نے فرمایا ہے کہ فارجع البصر ھل تری من فطور (آیت 3) آسمان کی طرف باربار نگاہ اٹھا کر دیکھ لو مگر تم اس میں کوئی نقص یا عیب نہیں پائو گے۔ یہ اس کمال قدرت اور کمال حکمت کے مالک خداوند تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے ، اس میں کوئی عیب نہیں ہوسکتا۔ شان نزول : آگے سورة کا اصل موضوع آرہا ہے یعنی خدا کے دشمنوں سے دوستی کی ممانعت ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم ۔ اس سورة مبارکہ کا شان نزول یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ روایت کرتے ہیں کہ موقع پر ہم بعض صحابہ ؓ بیٹھے تھے اور آپس ہیں باتیں کر رہے تھے ، کاش ہمیں معلوم ہوجائے کہ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا عمل کون سا ہے تاکہ ہم اس پر عمل کرسکیں۔ فرماتے ہیں کہ ہم یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے کسی شخص کو حضور ﷺ کی خدمت میں نہ بھیج سکے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے خود ان آدمیوں کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ تم نے یہ بات کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ پھر آپ نے ساری سورة ان کو سنادی جس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ قول وفعل کا تضاد : بعض فرماتے ہیں کہ جب تک جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ بعض لوگوں کی خواہش تھی کہ اجازت ملے تو ہم دشمنوں کے خلاف جہاد کریں۔ پھر جب جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو بعض لوگوں نے کمزوری دکھائی لہٰذا اللہ نے اس کی سخت مذمت بیان کی۔ چناچہ یہاں اسی بات کا تذکرہ ہورہا ہے کہ اگر انسان کوئی دعویٰ کرے اور پھر اس پر پورا نہ اترے تو یہ بہت بری بات ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون ، اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں کبرمقتا عند اللہ ان تقلوا ما لا تفعلون ، اللہ کے نزدیک یہ بات باعث نفرت ہے کہ تم وہ کچھ کہو جو خود نہیں کرتے۔ جب ایک چیز کا دعویٰ کرتے ہو تو پھر اس کے مطابق عمل بھی کرکے دکھائو۔ اگر جہاد کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے تو پھر بزدلی نہ دکھائو حقیقت میں قول وفعل کا یہ تضاد ومنافقت کی علامت ہے۔ اس بات کا مفصل ذکر آگے سورة المنافقون میں آئے گا۔ چناچہ عملی منافق جو دنیا میں کثرت سے پائے جاتے ہیں وہ اسی تضاد کا شکار ہوتے ہیں۔ انصاف سے دیکھا جائے تو ہم اسلام کے دعویدار بھی عملی منافق ہیں۔ کوئی اکادکا آدمی اس فہرست میں نہ آتا ہو وگرنہ مجموعی طور پر ہماری یہی حالت ہے۔ حضور ﷺ نے منافق کی یہ علامت بیان فرمائی ہے اذاحدث کذب ، جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اس کا عمل اس کے قول کے مطابق نہیں ہوتا۔ حکومتوں کی پالیسیاں ، ان کے بیانات ، تقریریں تحریریں ان کے اعمال سے بالکل مختلف ہیں۔ جن چیزوں کا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے ان کا تو نام ونسان بھی ہماری زندگیوں میں نہیں ملتا۔ سب زبانی کلامی بات ہے ، عمل کچھ بھی نہیں۔ اجتماعی کام سارے منافقت پر مبنی ہیں۔ کہتے ہیں کہ غربت ختم کردیں گے ، تعلیم عام کردیں گے ، ٹی بی ختم کردیں گے مگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں کرتے ، غربت اسی طرح ہے بلکہ بڑھ رہی ہے ، بےروزگاری عام ہے ، ہسپتالوں کا نظام ناگفتہ بہ ہے۔ سکولوں ، کالجوں میں داخلے نہیں ملتے ، بھلا ان کے دعوئوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ زبانی باتیں کرتے ہیں ، عملی ثبوت کوئی نہیں پیش کرتے۔ حدود آرڈیننس تو جاری ہوگیا۔ مگر اغواہ ، بدکاری اور بیحیائی تو اسی طرح ہے۔ کیا جرائم ختم ہوگئے ہیں ؟ کیا لوگ آرام کی نیند سو رہے ہیں ؟ کیا دن دیہاڑے ڈاکے نہیں پڑ رہے ہیں۔ اگر یہ باتیں درست ہیں تو پھر تمہارے دعوے کہاں گئے جن میں کہتے ہو کہ ملک کو امن وامان کا گہوارہ بنادیں گے ، بےروزگاری ختم ہوجائے گی ، کوئی بچہ تعلیم کے بغیر نہیں رہے گا اور ہر مریض کو علاد معالجے کی سولتیں حاصل ہوں گی۔ یہی تضاد بیانی ہے اور اسی کا نام منافقت ہے۔ جو ہر فرد میں پائی جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی ہر جماعت اور ہر حکومت میں عیاں ہے اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ؟ منافقت سے تکالیف دور نہیں ہوتیں بلکہ مصائب کا علاج سچائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ تضاد بیانی غیر مسلم اقوام میں تو ہے ہی ، روس ، امریکہ ، جاپان ، جرمنی ، برطانیہ ، فرانس سب تضاد بیانی کا شکار ہیں ، نہ کوئی کافر اس سے بچا ہوا ہے ، نہ یہودی ، نہ نصرانی ، نہ دہریہ اور نہ مسلمان۔ سارا معاشرہ ہی بگڑا ہوا ہے تاجر ہوں یا صنعت کار ، ملازم پیشہ لوگ ہوں یا مزدور سب اس بیماری میں مبتلا ہیں اعلان کرتے ہیں کہ رشوت کا قلع قمع کردیں گے مگر کب ؟ کوئی کام رشوت کے بغیر انجام نہیں پاتا۔ کوئی تو مجبوری سے اس لعنت میں گرفتار ہے اور کوئی اپنے اختیار اور ارادے سے اس دھندے میں لگا ہوا ہے۔ الغرض ! اللہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو ! جو کہتے ہو وہ کرتے کیوں نہیں۔ یہ تضاد بیانی اللہ کے ہاں سخت نفرت والی بات ہے۔ صف بندی کی اہمیت : آگے اللہ نے جہاد کے ضمن میں صف بندی کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا ، بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں اور اس وقت ان کی حالت یہ ہوتی ہے کانھم بنیان مرصوص ، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں۔ مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے جو اینٹ سیمنٹ ، پتھروغیرہ سے بنائی جائے اور جس میں کوئی رخنہ نہ ہو۔ ایک اینٹ دوسری کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ پھنسی ہوئی ہو۔ تو مجاہدین کی صفیں بھی ایسی ہی مضبوط ہونی چاہئیں جن میں کوئی رخنہ نہ ہو اور وہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں۔ صف بندی سے متعلق حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان اللہ یضحک ، اللہ تعالیٰ ہنستا ہے یعنی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس شخص کو جو رات کو اٹھ کر اس کی کی عبادت کرتا ہے جب کہ باقی لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نماز کے لئے صف بندی کرنے والوں کو بھی استحسان کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان ایمان والوں کو بھی پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے جو دشمن کے مقابلے میں صف بند کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ دو مواقع کی صفیں اللہ کے نزدیک بڑی اہمیت رکھتی ہیں ، ایک نماز کے موقع پر اور دوسری جہاد کے موقع پر۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیشہ نظم ونسق کو برقرار رکھنا چاہیے اور کسی بدنظمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ حضور ﷺ میدان جنگ میں مجاہدین کی صفیں اور مسجد میں نمازیوں کی صفیں خود سیدھی فرمایا کرتے تھے تاکہ کوئی رخنہ باقی نہ رہے۔ صف بندی کے عنوان سے دراصل نظم ونسق کی تعلیم دی گئی ہے۔ انسانی زندگی کے تمام کام نظم وضبط کے ساتھ انجام پانے چاہئیں۔ یہاں پر جہاد کے لئے صف بندی کا خاص طور پر ذکر کیا ہے تاکہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاسکے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے مجاہدوں کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے راستے میں صف باندھ کر مقابلہ کرتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہیں۔
Ayah 61:5

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! مجھے تم کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف پس جب وہ ٹیڑھے چلے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں راہ دکھاتا اس قوم کو جو نافرمانی کرنے والی ہو۔

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید وتنزیہہ کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان سے فرمایا کہ ان کی زندگی میں قول وفعل کا تضاد نہیں ہوناچاہیے یعنی کوئی ایسی بات نہ کریں جس پر خود عمل پیرانہ ہوں یہ بات اللہ کے نزدیک بہت ہی بری اور مبغوض ہے۔ سچے ایمانداروں کا یہ شیوہ ہرگز نہیں ہوسکتا یہ تو منافقوں کی روش ہے اس کے بعد اللہ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے کا ذکر کیا اور اس کو احب الاعمال یعنی پسندیدہ کام بتلایا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اس کے راستے میں صف باندھ کر جہاد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جہاد کی اہمیت : اس سورة مبارکہ کا مرکزی مضمون دین کی خاطر جانی اور مالی قربانی پیش کرنا ہے۔ پچھلی سورة میں دشمنان خدا ، دشمنان رسول ، دشمنان کتاب اور دشمنان دین کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا گیا تھا ، اور اس سورة میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے ذروۃ سنامہ الجھاد اسلام کی کوہان کی بلندی جہاد ہے جس طرح کوہان اونٹ کے جسم کا بلند ترین حصہ ہوتا ہے ، اسی طرح اسلامی احکام میں بلند تر حکم جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اسی کی وجہ سے اہل ایمان کو عزت حاصل ہوتی ہے اور دین کو عزت ، وقار اور غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ دشمن کو مغلوب کرنے کے لئے بھی جہادضروری ہے کیونکہ دشمن ہمیشہ دین کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا ہے اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے۔ کہ جو کمزوری موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں پیدا ہوگئی تھی وہ کمزوری حضور خاتم النبیین ﷺ کی امت میں نہیں آنی چاہیے۔ جس طرح قوم موسیٰ اپنے نبی کے حکم کی تعمیل میں پس وپیش کرتی تھی ، اس طرح مسلمانوں کو نہیں کرنا چاہیے بلکہ نبی کے ہر حکم کی مکمل اطاعت کرنی چاہیے۔ حضور ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات میں مماثلت : قرآن پاک سے معلوم ہوتا ہے حضور ﷺ کے حالات موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سے مماثبت رکھتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے نبی بھی تھے اور حاکم بھی۔ آپ کو اللہ نے ایک عظیم الشان کتاب بھی عطا فرمائی تھی۔ اللہ نے آپ کو اس دور کی سب سے بڑی طاقت فرعون کے ساتھ مقابلہ کے لئے بھیجا تھا۔ انہوں نے ابتداء میں بڑے مصائب برداشت کیے اور ان پر صبر کیا۔ حضور خاتم النبیین ﷺ بھی اپنی قوم کی طرف رسول تھے انا ارسلنا………… ……رسولا (المزمل 15) ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا جو تم پر گواہ ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا…………اور پھر آپ کو بھی اللہ نے حکومت عطا فرمائی۔ اللہ نے آپ کی طرف آخری اور سب سے عظیم کتاب نازل فرمائی۔ آپ کو بھی قریش مکہ جیسی سرکشی قوم سے واسطہ پڑا جو فرعون سے بھی زیادہ متکبر تھی۔ جس وقت فرعون غرق ہورہا تھا تو اس نے ایمان لانے کی کوشش کی ۔ اور کہنے لگا امنت………………المسلمین (یونس 90) یعنی میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایا اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔ مگر اللہ نے فرمایا آلئن وقد…………………المفسدین (آیت 91) اب ایمان لاتے ہو ساری عمر تو نافرمانی اور غنڈہ گردی کرتے رہے اور اب جب کہ موت کے فرشتے نظر آگئے اور غیب کا پردہ اٹھ گیا تو ایمان لاتے ہو ، اب یہ ایمان قابل قبول نہیں ہے۔ قریش مکہ کا غرور وتکبر بھی اس سے کم نہیں تھا ، جنگ بدر میں ابوجہل کو دو نوجوانوں نے قتل کردیا۔ وہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس کی گردن اتارنے کے لئے اس کے سینے پر چڑھ گئے۔ اس عالم میں بھی ابوجہل کا غرور اس درجہ کا تھا کہ کہنے لگا کہ تو تو بڑی اونچی گھاٹی پر چڑھ گیا ہے وہ بد بخت کہہ رہا تھا کاش کہ کوئی کاشتکار مجھے قتل نہ کرتا۔ کوئی میری حیثیت کا آدمی مجھے مارتا تو مجھے حسرت نہ رہتی۔ کسریٰ کا غرور : حضور ﷺ کو کسریٰ جیسی سپر طاقت کے ساتھ بھی واسطہ پڑا۔ اس کے غرور تکبر کے اظہار کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ حضور ﷺ نے 7 ھ کے قریب مختلف بادشاہوں کو بذریعہ خطوط اسلام کی دعوت دی۔ ان میں ایک خط کسریٰ ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کی طرف تھا۔ جب یہ خط حضرت عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے بادشاہ کو پیش کیا تو وہ پڑھ کر غصے میں آگیا اور خط کو پھاڑ دیا ، کہنے لگا ، اب عرت کے بدو بھی ہمیں دعوت نامے بھیجنے لگے ہیں ہم ہزاروں سال پرانی بادشاہی کے مالک ہیں۔ بھلا یہ ہمیں کیا دعوت دیں گے ؟ اس بد بخت نے حضرت عبداللہ ؓ کی تذلیل کی حتیٰ کہ ان کے سر پر مٹی کا ٹوکرا اٹھوا دیا۔ آپ بڑے ذہین آدمی تھے ، جب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو ان کو خوشخبری دی کہ دیکھ لو کسریٰ نے ایران کی سرزمین خود میرے سر پر رکھدی ہے۔ پھر جب اس واقعہ کی اطلاححضور ﷺ کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی سلطنت کو پارہ پار ہ کردے گا۔ چناچہ کچھ عرصہ بعد ہی وہ آپس میں لڑنے لگے اور یہ سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ، پھر حضرت عمر ؓ کے زمانے میں یہ سلطنت مکمل طور پر فتح ہوگئی۔ یہ مجبوسی مذہب رکھتے تھے۔ جن میں سے اکثر مسلمان ہوگئے۔ قوم موسیٰ کا بگاڑ : بنی اسرائیل یعنی قوم موسیٰ (علیہ السلام) میں ایک بڑی خرابی یہ تھی کہ وہ اپنے نبی کے حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے بلکہ ٹال مٹول سے کام لیتے تھے۔ مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک قتل کے سراغ کے لئے ان سے کہا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم کو لگائو تو وہ تمہیں اپنے قاتل کی نشاندہی کردے گا۔ مگر بنی اسرائیل نے طرح طرح کی حجت بازی کی۔ پہلے کہنے لگے کہ اے موسیٰ ! کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ جب انہوں نے یقین دلایا کہ یہ مذاق نہیں بلکہ حقیقت ہے تو کہنے لگے بتلائو وہ گائے کیسی ہونی چاہیے۔ اس کا رنگ کیسا ہو ، وغیرہ اسی طرح جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اس ارض مقدس میں داخل ہوجائو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا کرے گا۔ تو وہ کہنے لگے کہ اے موسیٰ ! ہم اس شہر میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے۔ جب تک کہ قوم عمالقہ وہاں موجود ہے لہٰذا فاذھب انت وربک…………قعدون (المائدۃ 24) تو اور تیرا رب جاکر ان سے لڑو ، ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ ان کی ایک بہت بری خصلت یہ بھی تھی کہ وہ اللہ کے کلام میں تحریف کرتے تھے۔ مثلاً سورة النساء آیت 46 میں موجود ہے یحرفون…………………وعصینا ، یہ لوگ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا ہے مگر مانا نہیں۔ جب اسرائیل فرعون کی غلامی سے آزاد ہوئے تو انہوں نے خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ہمارے لئے کوئی قانون ہونا چاہیے۔ جس کی ہم پابندی کریں۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ چالیس دن کوہ طور پر اعتکاف کرو تو تمہیں کتاب عطا کی جائے گی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مقررہ مدت پوری کرلی تو اللہ نے تورات جیسی عظیم الشان کتاب عطا فرمائی جس میں حلت و حرمت وغیرہ کے تمام قوانین موجود تھے۔ جب یہ کتاب موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو پیش کی تو وہ اسی میں مندرج احکام کی تعمیل میں پس وپیش کرنے لگے۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر اللہ نے فرمایا ورفعنا قوکم الطور ، کہ ہم نے تمہارے اوپر کوہ طور کو اٹھا کر کھڑا کردیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے دی ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو ، اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے ۔ اس کو سنو۔ مگر وہ کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا ہے مگر مانتے نہیں (البقرہ 93) الغرض ! بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے اللہ نے فرمایا وجعلنا………قسیۃ (المائدہ 13) ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ پھر یہی خرابی بڑھتے بڑھتے ان کی گمراہی کا ذریعہ بن گئی اور وہ مغضوب ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اس قوم کی اصلاح کے لئے ہزاروں نبی آئے۔ مگر انہوں نے ان نبیوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔ حضور ﷺ پر صحابہ ؓ کی جاں نثاری : قوم موسیٰ کے برخلاف حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کی جاں نثاری کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ بدر کے موقعہ پر (الکامل لابن الاثیر ص 120 ج 2 وتاریخ طبری ص 434 ج 2) پر حضور ﷺ نے مہاجرین اور انصار دونوں سے خطاب کیا تاکہ جنگ سے متعلق ان کی رائے دریافت کی جاسکے مہاجرین کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور پھر حضرت ؓ نے اچھی بات کہی۔ پھر حضرت مقدار بن عمرو ؓ اٹھے اور عرض کیا کہ حضور ! اللہ نے آپ کو جو راہ دکھائی ہے ، آپ اس پر رواں دواں رہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم ہم آپ سے وہ بات نہیں کریں گے۔ جو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہی تھی کہ اے موسیٰ ! تم اور تمہارے خدا جاکر لڑو ، ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ حضور ﷺ بار بار فرما رہے تھے کہ لوگو ! مجھے مشورہ دو ۔ آپ کا اشارہ انصار کی طرف تھا چناچہ (تاریخ طبری ص 435 ج 3 والکامل لابن الاثیر ص 120 ج 2) انصار میں سے حضرت سعد (مسلم ص 102 ج 2 میں سعد بن عبادہ ؓ سے یہی الفاظ منقول ہیں (فیاض) بن معاذ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ! ہم تو آپ پر ایمان لائے ہیں اور آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں وہ برحق ہے۔ اگر آپ ہمیں حکم دیں گے تو ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے۔ ہم آپ کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے ، اور ہر مشکل سے مشکل مہم پر جانے کے لئے تیار ہیں یہ سن کر حضور ﷺ پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور آپ نے جنگ کا فیصلہ کرلیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قوم سے شکوہ : بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی پے درپے نافرمانیوں سے تنگ آکر ان کا شکوہ بیان کیا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ واذقال موسیٰ لقومہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا یقوم لم توذوننی اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں اذیت پہنچاتے ہو وقد تعلمون انی رسول اللہ الیکم حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔ ان تکالیف کا قرآن میں اجمالی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا لا تکونو………………(الاحزاب 69) حضور ﷺ کے امتیوں سے خطاب ہے کہ تم بھی ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تکالیف پہنچائیں۔ صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بڑے ہی با حیا انسان تھے۔ حتیٰ کہ وہ لوگوں کے سامنے کبھی برہنہ نہیں ہوئے تھے۔ اس پر اسرائیلوں نے پراپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ آپ کو ادرہ کی بیماری ہے جس میں انسان کے فوطے پھول جاتے ہیں۔ کبھی ان میں پانی بھر جاتا ہے اور کبھی چربی آجاتی ہے جس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کوئی بیماری نہیں تھی بلکہ وہ توحیاداری کی وجہ سے ہمیشہ باپردہ نہاتے رہتے تھے۔ تاہم فبراہ اللہ مما قالوا (الاحزاب 69) اللہ نے آپ کو اس الزام سے بھی بری کیا۔ اس کے علاوہ آپ کے برادر زادے قارون نے آپ پر بدکاری کا الزام لگایا (العیاذ باللہ) مگر اللہ نے اسی کو ذلیل کیا حتیٰ کہ وہ بمع مال و دولت زمین میں دھنس گیا۔ اس قسم کی اذیتیں تھیں جو اسرائیلی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیتے رہتے تھے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ! مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ایسا ہی واقعہ حضور ﷺ کی سیرت میں بھی ملتا ہے ۔ جنگ حنین کے موقع پر مال غنیمت تقسیم ہورہا تھا تو ایک شخص نے کہا ، اللہ کے رسول ! آپ انصاف کریں۔ اس پر آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو دنیا میں اور کون انصاف کرے گا۔ خدا کے فرشتے اور خود اللہ تعالیٰ بھی مجھے امین سمجھتا ہے مگر تم مجھے خائن سمجھتے ہو۔ کس قدر ظلم کی بات ہے آپ نے فرمایا رحم اللہ موسیٰ لقد اوذی باکثرمن ھذا فصبر ، اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ان کو تو اس سے بھی زیادہ تکالیف دی گئیں مگر انہوں نے صبر کیا ۔ الغرض ! موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم مجھے تکلیف دیتے ہو حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ دلوں کی کج روی : بہرحال بنی اسرائیل کی ایذاء رسانیوں کی وجہ سے فلما زاغوا جب وہ لوگ کج رفتار ہوگئے یعنی ٹیڑھا چلنے لگے ازاغ اللہ قلوبھم تو اللہ نے ان کے دلوں کو بھی ٹیڑھا کردیا۔ جب کوئی شخص کسی بدعملی پر اصرار کرتا ہے۔ تو پھر وہ اس میں پختہ ہوجاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کوئی انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک چھوٹا سا سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ داغ دھل جاتا ہے۔ اور اگر اس گناہ پر اصرار کرتا ہے تو داغ بڑھ جاتا ہے حتی کہ ختم ……… قلوبھم (البقرہ 7) اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔ پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اس میں صحیح چیز کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی اور انسان نیکی کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی گناہ کو حقیر نہ جانو کیونکہ تنکا تنکا جمع ہو کر بھی پہاڑ بن جاتا ہے۔ اسی طرح کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ اگر مسجد سے ایک تنکا اٹھا کر باہر پھینک دو تو یہ بھی ایک نیکی ہے۔ نیکیاں اور برائیاں ساری جمع ہوتی رہتی ہیں ، ان کو حقیر نہ جانو کیونکہ یہ آگے چل کر پہاڑوں کی صورت نظرآئیں گے۔ بنی اسرائیل نے اپنی کجروی کی وجہ سے اپنے نبی کو ایذا پہنچائی تو ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے اور آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی وہ تنگ دل اور سیاہ باطن ہی ہیں مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اسرائیلیوں نے بدترین سلوک کیا حتیٰ کہ آپ کی جان کے درپے ہوگئے۔ آپ کو دجال کہتے اور منہ پر تھوکتے تھے ، پتھر مارتے الزام تراشی کرتے اور گالیاں دیتے تھے۔ ان کے دل بھی ٹیڑھے ہوگئے اور ان میں نیکی کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہی۔ ایسے لوگ برائیاں لے کر ہی اگلے جہان میں جاتے ہیں ان حالات میں اصول یہ ہے واللہ لایھدی القوم الفسقین ، کہ اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کی راہنمائی نہیں کرتا۔ جب تک کوئی شخص کفر ، شرک فسق ، بدعت اور معصیت کو ترک نہیں کرتا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 61:6

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے اے بنی اسرائیل ! بیشک میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف۔ میں تصدیق کرنے والا ہوں اس کی جو میرے آگے ہے تورات۔ اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کے ساتھ جو آنے والا ہے تیرے بعد اور جس کا نام احمد ہے۔ پس جب آئے ان کے پاس وہ کھلی نشانیاں لے کر تو کہنے لگے وہ لوگ کہ یہ تو کھلا جادو ہے

ربط آیات : پہلے اللہ نے اپنی توحید اور تنزیہہ کا ذکر کیا اور پھر قول اور فعل کے تضاد کو رفع کرنے کے لئے فرمایا کہ اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو کرتے نہیں۔ یہ تو اللہ کے نزدیک بڑی ناراضگی والی بات ہے۔ فرمایا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل دشمنوں کے ساتھ صف بستہ ہو کر جنگ کرنا ہے پھر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا حال بیان کیا۔ اور ان کی نافرمانی اور معصیت کا شکوہ کیا۔ کہا تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ مگر وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کرتے اور ان کو اذیتیں پہنچاتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دل ٹیڑے ہوگئے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ یہ ذکر کرکے اللہ نے آخری رسول کی آخری امت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ قوم موسیٰ جیسے کام کرکے اپنے نبی کو اذیت نہ پہنچائیں ورنہ ان کے دل بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے اور وہ نیکی سے محروم ہوجائیں گے۔ سابقہ کتب کی تصدیق : موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے جس میں آپ کے دو فرائض کو بیان کیا ہے۔ پہلا یہ کہ آپ سابقہ کتب کے مصدق ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ آخری نبی کی بشارت سنانے والے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ واذ قال عیسیٰ ابن مریم اور اس بات کو دھیان میں لائو جب عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) نے کہا۔ قرآن حکیم میں مسیح (علیہ السلام) کو عیسیٰ ابن مریم کہہ کر ہی خطاب کیا گیا ہے آپ کی نسبت ماں کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ تو آپ نے کہا یبنی اسرآء یل ، اے نبی اسرائیل ! یہ وہی لوگ ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) یعقوب (علیہ السلام) اور دوسرے انبیائے کرام کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو آپ نے کہا انی رسول اللہ الیکم میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، اور میں کسی چیز کو مٹانے کے لئے نہیں آیا بلکہ مصدقا لما بین یدی من التورۃ میں اپنے سے پہلے آنے والے کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں کہ وہ اللہ کی عظیم الشان اور برحق کتاب ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ ہر نبی اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء اور کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ ہاں اگر کوئی حکم اللہ تعالیٰ منسوخ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اگلے نبی کی زبان سے واضح کردیا جاتا ہے۔ اس کی مثال عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ بیان ہے جس کو اللہ نے سورة آل عمران میں نازل فرمایا ہے۔ ومصدقا لما……………………علیکم (آیت 50) میں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور بعض چیزیں جو تمہارے لئے حرام قرار دی گئی تھیں انہیں اللہ کے حکم سے حلال قرار دیتا ہوں۔ اسی اصول کے مطابق اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم سابقہ تمام کتب سماویہ کی تصدیق کرتی ہے البتہ ان باتوں کی نشاندھی بھی کرتی ہے جن میں پہلی امتوں نے گڑبڑ کی ہے ، اور جن احکام میں تحریف کی ہے ان کو واضح کرتی ہے کیونکہ قرآن حکیم مہیمن بھی ہے۔ جو سابقہ کتب کے مضامین کا محافظ ہے۔ چونکہ بنی اسرائیل مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ انہیں دجال تک کہا ، لہٰذا آپ نے اپنی پوزیشن کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تورات کا مخالف نہیں بلکہ اس کا مصدق ہوں ، لہٰذا تم میری مخالفت بلاوجہ کر رہے ہو۔ اپنے رویے پر نظر ثانی کرو اور مجھے تسلیم کرلو۔ بہرحال عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر کرکے امت محمدیہ کو یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح تم بھی کہیں اپنے نبی کی مخالفت نہ کر بیٹھنا بلکہ ان سے اچھا سلوک کرنا۔ آخری نبی کی بشارت : مسیح (علیہ السلام) نے دوسری بات یہ کی ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آنے والا ہے اور جس کا نام احمد ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی تبلیغ کے دوران یہ دونوں باتیں کرتے تھے۔ اپنی رسالت کا اعلان کرتے اور اپنے بعد آنے والے اللہ کے رسول کی خوشخبری دیتے۔ بخاری شریف اور مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کہا ان لی اسماء یعنی میرے کئی نام ہے۔ انا محمد وانا احمد میں محمد بھی ہوں اور احمد بھی ﷺ۔ فرمایا میرے گھر والوں کا تجویز کردہ نام محمد ہے جس کا معنی ہے تعریف کیا ہوا۔ اور میرا نام احمد ہے یعنی خدا تعالیٰ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والا۔ پھر فرمایا میرا نا ماحی بھی ہے۔ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کی بعثت کے وقت ہزاروں میں کوئی اکا دکا آدمی ہی ایمان اور توحید پر قائم ہوگا۔ وگرنہ ساری دنیا کفر ، شرک اور معصیت سے بھری ہوئی تھی۔ اللہ نے آپ کے ذریعے ان قباحتوں کو ختم کیا ، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ صرف پچاس سال کے عرصہ میں دنیا کا نصف سے زیادہ حصہ اسلام کے زیر تسلط آچکا تھا اور باقی نصف دنیا بھی لوگ اسلام سے روشناس ہوچکے تھے۔ غرضیکہ آپ کا نام ماحی (مٹانے والا) اس لئے ہے کہ اللہ نے آپ کے ذریعے کفر وشرک کا قلع قمع کیا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرا نام حاشر ہے۔ میرے سامنے لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ اللہ نے دنیا میں بھی مختلف اقوام کو آپ کے سامنے جمع کیا ، اور قیامت والے دن جب مقام محمود پر فائز ہونے کا وقت آئے گا تو ساری کائنات آپ کے سامنے اکٹھی ہوجائیگی۔ فرمایا میں عاقب یعنی سب کے بعد میں آنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ دعائے خلیل اور نوید مسیحا : مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ نے عرض کیا ، حضور ! اپنی نبوت کی ابتداء کے متعلق کچھ فرمائیں ، تو آپ نے فرمایا انا دعوۃ ابی ابراھیم یعنی میں اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا نتیجہ ہوں آپ نے دعا کی تھی ربنا……………منھم (البقرہ 129) پروردگار ! اس امت میں ایک عظیم الشان رسول برپا کر۔ یہ اس وقت کی دعا ہے جب حضرت ابراہیم اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ کی بےآب وگیاہ زمین میں آباد کیا تھا آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اپنی والدہ کے خواب کی تعبیر ہوں۔ میری ولادت سے پہلے میری والدہ نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے پہلو سے ایک ایسی روشنی نمودار ہوئی ہے۔ جس نے مشرق ومغرب کو روشن کردیا۔ چناچہ یہ خواب بھی پورا ہوا۔ اور آپ کے ذریعے سے کفر وشرک کے اندھیرے دور ہوئے اور مشرق ومغرب میں ایمان اور توحید کی روشنی پھیلی۔ انگریز کے زمانے میں برصغیر کے مسلمانوں کی حالت بڑی ابتر تھی۔ ہر شریف آدمی کو ذلیل کیا جاتا تھا۔ سورة النمل میں بھی آتا ہے۔ ان الملوک……………………اذلۃ (آیت 34) جب ملوک کسی بستی یا ملک میں داخل ہوتے ہیں تو فتنہ و فساد کا بازار گرم کرتے ہیں ، قتل و غارت ہوتا ہے اور وہاں کے شرفاء کو ذلیل کرکے رکھ دیتے ہیں۔ برصغیر میں بھی ایسا ہی ہوا۔ لوگوں کو سزائے موت دی گئی ، بعض کو کالے پانی بھیجا گیا ، جیلوں میں ڈال دیا گیا اور جائیدادیں ضبط کرلی گئیں۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو کمزور کیا اور ہندوئوں کو آگے لانے کی کوشش کی۔ اس دوران پانی پت میں مولانا حالی پیدا ہوئے۔ 1857 ھ میں دہلی میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آپ مولانا قاری عبدالرحمان پانی پتی (رح) کے شاگرد تھے جو مولانا شاہ اسحاق محدث دہلی (رح) …کے شاگرد تھے۔ بعد میں مولانا حالی نے بڑی شہرت پائی۔ انہوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی کا ذکر اپنی مشہورزمانہ نظم مدجزر اسلام میں کیا۔ یہ نظم مسدس حالی کے نام سے مشہور ہے اس میں آپ نے حضور ﷺ کی ولادت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔ ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا دعائے خلیل و نوید مسیحا انجیل میں تحریفات : اصل انجیل سریانی زبان میں تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ مسیح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے لوگو ! میں اپنے پروردگار کے پاس جائوں گا۔ اور وہاں سے تمہارے پاس فارقلیط آئے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا اور جس کی شریعت دائمی ہوگی۔ فار قلیط احمد کا ہم معنی لفظ ہے یعنی تعریف والا ، ستود ہ صفات اور خدا تعالیٰ کی بہت تعریف کرنے والا۔ پچھلی صدی تک انجیل میں یہ لفظ موجود تھا۔ مگر آج کل جو عہد نامہ جدید اور عہد نامہ قدیم ہے ، اس میں سے یہ لفظ نکال کر اس کی جگہ مددگار یا شفیع کا لفظ لکھ دیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فارقلیط کے لفظ سے دین اسلام کی صداقت ظاہری ہوتی تھی جو عیسائیوں کے لئے قابل قبول نہیں لہٰذا انہوں نے تحریف کرکے یہ لفظ ہی نکال دیا۔ انجیل میں یہ پیشین گوئی بھی موجود تھی کہ فارقلیط دس ہزار قدسیوں کی جماعت کے ساتھ فاران کی چوٹیوں سے آئے گا ، چناچہ فتح مکہ کے دین پر پیشین گوئی بھی پوری ہوگئی۔ حضور ﷺ دس ہزار صحابہ ؓ کی جماعت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ چونکہ اس سے بھی دین اسلام کی صداقت ظاہر ہوتی تھی لہٰذا عیسائیوں نے اس مقام پر بھی دس ہزار کی بجائے موجودہ انجیل میں لاکھوں کا لفظ لکھ دیا ہے۔ خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ یہ بڑے غلط کار لوگ ہیں۔ چناچہ ان کی کتاب کے ہر ایڈیشن میں کوئی نہ کوئی تحریف کردی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عیسائی حضور ﷺ کو بھی اس طرح نبی تسلیم نہیں کرتے جس طرح یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکر ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے تمام نبیوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور کسی ایک کا انکار بھی کفر کے مترادف ہے۔ تکذیب رسل : بہرحال مسیح (علیہ السلام) کا ایک فریضہ یہ بھی تھا کہ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی آمد کی بشارت سناتے تھے۔ مگر ہوا کیا ؟ فلما جاء ھم بالبینت جب وہ اللہ کا آخری نبی کھلی نشانیاں لے کر آگیا قالوا ھذا سحر مبین تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے۔ جاء سے مسیح (علیہ السلام) بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اللہ کے آخری نبی محمد حضور ﷺ بھی۔ جب مسیح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو یہودیوں نے ان کی تکذیب کردی اور جب حضور خاتم النبیین تشریف لائے تو یہودیوں اور عیسائیوں دونوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ یہ وہ رسول نہیں ہے جس کی بشارت سابقہ کتب میں دی گئی ہے۔ اسی طرح قریش مکہ نے بھی آپ کی رسالت کا انکار کیا بلکہ آپ پر طرح طرح کے الزامات لگائے ، کبھی کاہن کہا ، کبھی شاعر اور کبھی جھوٹا (العیاذ باللہ) کبھی کہتے کہ یہ شخص کسی عجمی…غلام سے سیکھ کر آتا ہے اور ہمارے سامنے قرآن بنا کر پیش کردیتا ہے جس انہوں نے شق القمر جیسا واضح معجزہ دیکھا تو کہنے لگے سحر مستمر (القمر 2) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ، پہلے بھی چلتا تھا اور آج بھی چل رہا ہے۔ الغرض ! حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کا ذکر کرکے اہل ایمان کو بات سمجھائی گئی ہے کہ وہ ان انبیاء کی قوموں کی طرح نہ ہوجائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو ، کہ تمہارے دل بھی سیاہ ہوجائیں اور ہدایت سے ہی محروم ہوجائے۔ اس سلسلے کا ذکر آگے بھی آرہا ہے۔
Ayahs 61:7–9

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ، اور اس کو دعوت دی جارہی ہے اسلام کی طرف۔ اور اللہ تعالیٰ نہیں راہ دکھاتا ظالم قوم کو

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے ، اور اللہ تعالیٰ پورا کرنے والا ہے اپنے نور کو اگرچہ کافر اس کو ناپسند کریں

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہ وہی اللہ کی ذات ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کردے تمام ادیان پر ، اگرچہ اس کو ناپسند کرتے ہیں شرک کرنے والے

ربط آیات : پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا تاکہ لوگ آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے راستے میں آنے والی تکالیف کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کریں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قوم سے خطاب اور حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی بعثت کی بشارت کا ذکر ہوا۔ مگر جب حضور ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کی رسالت کا انکار کردیا۔ یہ بات خود مسیح (علیہ السلام) پر بھی صادق آتی ہے کہ جب انہوں نے نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو حق کی طرف دعوت دی تو انہوں نے نہ صرف آپ کی نبوت کا انکار کیا بلکہ آپ کو جھوٹا دجال کہا۔ بہرحال اللہ نے منکرین کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے اور اہل ایمان کو خبردار کیا ہے کہ وہ دین حق پر ثابت قدم رہیں۔ خواہ اس راستے میں کتنے بھی مصائب برداشت کرنا پڑیں۔ نجاشی کا قبول اسلام : جب حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہوئی تو مشرکین مکہ نے صاف انکار کردیا اور آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کو طرح طرح کی تکالیف پہنچانا شروع کردیں حتیٰ کہ مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی اس ضمن میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ہمیں نجاشی والی حبشہ کی طرف روانہ کیا کیونکہ وہ ایک منصف مزاج آدمی تھا۔ چناچہ تقریباً اسی مردوں اور کچھ عورتوں کا قافلہ حبشہ کی طرف چلا گیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت جعفر ؓ ، حضرت عثمان بن مظعون ؓ ، حضرت عثمان بن عفان ؓ اور حضور ﷺ کی صاحبزادی رقیہ ؓ بھی شامل تھیں۔ جب یہ لوگ حبشہ پہنچے تو مشرکین مکہ نے ان کو وہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ چناچہ انہوں نے انپے دو آدمیوں عمرو ابن العاص ؓ اور عار ابن ولید کو حبشہ بھیجا تاکہ وہاں کے بادشاہ کو بہلا پھسلا کر مسلمانوں کے اخراج پر آمادہ کیا جاسکے۔ یہ دونوں اشخاص اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے سخت مخالف تھے تاہم حضرت عمر وابن العاص ؓ بعد میں جاں نثاران اسلام میں شامل ہوگئے۔ حبشہ کے بادشاہ کا نام اصحمہ اور نجاشی لقب تھا۔ جب یہ دونوں نجاشی کے دریار میں پہنچے تو اس کو سجدہ کیا اور پھر دائیں بائیں بیٹھ کر کہنے لگے کہ ہمارے کچھ آدمی آپ کی سرزمین میں بھاگ آئے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمارا پرانا دین چھوڑ کر نیا دین اختیار کرلیا ہے ، لہٰذا ان کہ ہمارے ساتھ واپس کیا جائے۔ بادشاہ نے پوچھا کہ وہ لوگ کہاں ہیں تو کہنے لگے کہ آپ کے ملک میں فلاں جگہ مقیم ہیں ، اپنے آدمی بھیج کر بلوالیں ، چناچہ مسلمانوں کو بلوایا گیا ۔ ان کے نمائندہ کے طور پر حضرت جعفر ؓ آگے بڑھے مگر نجاشی کو سجدہ کیے بغیر دربار میں چلے گئے۔ بادشاہ نے پوچھا تم نے یہاں کے قانون کے مطابق مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ تو حضرت جعفر ؓ نے کہا اللہ نے ہمارے پاس ایک رسول بھیجا ہے جس نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے لئے سجدہ روا نہیں ہے اللہ کے اس نبی نے ہمیں نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے اتنے میں مشرکین کے نمائندوں نے کہا کہ بادشاہ ! یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق آپ سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں۔ نجاشی نے پوچھا کہ بتائو عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے ؟ حضرت جعفر ؓ نے جواب دیا کہ ہم تو جو کچھ کہتے ہیں اللہ کے نافرمان کے مطابق ہی کہتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کا کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم ؓ کے گریبان میں پھونک کر بغیر باپ کے پیدا کیا۔ گویا وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روح ہے جو مریم ؓ کے گریبان میں ڈالی گئی جب کہ مریم ؓ دوشیزہ تھی۔ نجاشی نے یہ بات سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہنے لگا کہ حبشہ والو سن لو ، اللہ کی قسم ہے جو کچھ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بیان کیا ہے وہ اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہیں۔ پھر کاشی نے حضرت جعفر ؓ کو مرحبا کہا اور اس ہستی کو بھی جس کی طرف سے وہ آئے تھے۔ کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے جس ہستی کا ذکر کیا ہے وہ واقعی خدا کا رسول ہے اور وہ وہی ہے جس کی بشارت انجیل میں موجود ہے۔ پچھلے درس میں گزر چکا ہے ومبشرا برسول …………… …احمد (آیت 6) عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے کہا کہ میں تمہیں اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام نامی احمد ہوگا۔ اور یہ وہی ہیں یجدونہ… ……والانجیل (الاعراف 157) جس کا نام اہل کتاب تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ بہرحال ساری بات سن کر نجاشی نے حضرت جعفر ؓ اور آپ کے ساتھیوں سے کہا کہ تم میرے ملک میں جہاں چاہو رہ سکتے ہو ، تم پر کوئی پابندی نہیں ۔ اس نے مشرکین مکہ کے مطالبے کو کچھ وقعت نہ دی اور جو تحائف انہوں نے بھیجے تھے وہ بھی واپس کردیے۔ اس طرح مشرکین مکہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ نجاشی معتدل مزاج اور سلیم الفطرت آدمی تھا۔ اس نے حضرت جعفر ؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا اور کہنے لگا کہ اگر یہ بادشاہی کا کاروبار میرے ذمے نہ ہوتا تو اللہ کی قسم میں اس پیغمبر کے پاس جاتا اس کے جوتے اٹھاتا ، اس کے پائوں دھوتا اور اس کو وضوکراتا۔ پھر کئی سال بعد جب نجاشی فوت ہوا تو اللہ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی خبر دی کہ نجاشی فوت ہوگیا ، اس کا جنازہ پڑھا جائے۔ حضور ﷺ لوگوں کو باہر عیدگاہ کے میدان میں لے گئے اور پھر نجاشی کا جنازہ پڑھا گیا۔ یہ نجاشی کی خصوصیت تھی۔ بہرحال منصف مزاج لوگ حق بات کو قبول کرلیتے ہیں مگر ظالم قبول نہیں کرتے۔ منکرین اسلام کے لئے وعید : آج کی آیات بھی گزشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہیں۔ پچھلے درس میں تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو نبی آخر الزمان کے آنے کی خوشخبری سنائی مگر جب وہ اللہ کا آخری نبی آگیا یا خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے آئے تو لوگوں نے کھلا جادو کہہ کر انکار کردیا۔ اب ایسے منکرین کی مذمت بیان ہورہی ہے ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا وھو یدعی الی السلام حالانکہ اسے اسلام کی طرف دعوت دی جارہی ہے۔ اسے یہ حقیقت بتلائی جارہی ہے کہ یہ سچا دین ہے جو سارے نبیوں کا دین ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی دین پر کاربند تھے۔ یہ وہی توحید ، عقائد اور ایمانیات ہیں۔ جو شروع سے چلے آرہے ہیں۔ زمانے کے لحاظ سے بعض انبیاء کے ادوار میں بعض فروعات میں کچھ ردوبدل ہوتا رہا ہے وگرنہ اصول دین میں تو سارے نبی متفق ہیں۔ اللہ نے سارے نبیوں سے یہی فرمایا ہے ان ھذہ………واحدۃ (الانبیاء 92) کہ یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں۔ فرمایا۔ یہ لوگ ہٹ دھرمی ضد اور عناد پر قائم ہیں۔ واللہ لا یھدی القوم الظلمین اور اللہ تعالیٰ بےانصاف قوم کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ جب تک کوئی شخص ظلم اور ناانصافی کو ترک نہ کرے اسے راہ راست نصیب نہیں ہوسکتا۔ فرمایا یریدون………………بافواھھم ، یہ لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا دین چار دانگ عالم میں روشنی نہ پھیلا سکے بلکہ یہیں ختم ہوجائے ، اسی لئے وہ سابقہ کتب میں آنے والی پیشین گوئیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ واللہ متم نورہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے۔ ولوکرہ الکفرون اگرچہ کافر لوگ اس کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ چناچہ مخالفوں کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں اور وعدے کے مطابق اللہ نے اپنے دین کو مکمل کردیا۔ غلبہ دین کی بشارت : اگلی آیت میں غلبہ دین کی بشارت سنائی جارہی ہے ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا۔ یہ آیت سورة توبہ اور سورة فتح میں بھی آچکی ہے جو کہ حضور ﷺ اور دین اسلام کی صداقت کی دلیل ہے اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ، تاکہ اے تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کردے اگرچہ شرک کرنے والے اسے ناپسند کرتے ہیں۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں کی حالت بہت کمزور تھی اور تعداد بھی بالکل کم تھی۔ ایسی حالت میں اسلام کے غلبے کا دعویٰ کرنا شان خداوندی ہی کے لائق ہے۔ پھر تھوڑے ہی عرصہ میں اللہ نے دین حق کو عروج عطا فرمایا اور اس قدر فتوحات حاصل ہوئیں کہ دنیا کی کوئی طاقت مقابلے میں آنے کی جرات نہیں کرتی تھی۔ یہ عمومی غلبہ تھا جو حضور ﷺ کی نبوت کے دلائل میں سے ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں یہودیت ، نصرانیت اور مجوسیت دنیا میں عام تھی کہیں صابیوں کا دین تھا اور کہیں ہندوستان میں بت پرست بھی تھے۔ جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو باقی تمام ادیان کی روشنیاں ماند پڑگئیں اور اس آیت کے مطابق مسلمانوں کو عمومی غلبہ حاصل ہوگیا۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں یہ غلبہ صرف ملک عرب تک محدود رہا ، باقی ممالک خلفائے راشدین ؓ کے زمانہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے خلفائے راشدین ؓ نبی (علیہ السلام) کے اعضاء وجوارح کی مانند تھے جنہوں نے آپ کے مشن کی تکمیل کی۔ خلفائے راشدین ؓ کے زمانے کی کامیابیاں بھی حضور ﷺ کی طرف ہی منسوب کی جاتی ہیں کیونکہ ایک عام اصول ہے کہ جب کوئی فوج ملک فتح کرتی ہے تو وہ فتح بادشاہ یا خلیفہ کی طرف ہی منسوب کی جاتی ہے جس نے مذکورہ فوج کشی کا فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے حضور ﷺ کے بعد حاصل ہونے والا غلبہ بھی دراصل حضور ﷺ اور دین حق کا غلبہ ہی سمجھا جائے گا۔ غرضیکہ اللہ نے دین کے عمومی غلبے کا وعدہ پورا فرمادیا۔ عمومی غلبے کے لئے شرائط : عمومی غلبے کے متعلق مفسرین کرام تین باتیں بیان کرتے ہیں۔ پہلی یہ کہ حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر واقعہ صفین تک پچاس سال کے عرصہ میں تقریباً نصف دنیا پر اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا تھا۔ اور دوسری بات یہ کہ اسلام کو دوبارہ عمومی غلبہ اس وقت حاصل ہوگا۔ جب مسیح (علیہ السلام) دوبارہ دنیا میں نزول فرمائیں گے۔ آپ زمین پر حضور ﷺ کے ایک نائب اور امتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمام باطل ادیان کو ختم کردیگا اور صرف دین اسلام ہی باقی رہ جائے گا۔ درمیانی عرصہ میں اب اسلام کو سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہے اگرچہ دلیل اور برہان کے لحاظ سے ہمیشہ غالب رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس عرصہ میں مسلمانوں میں کمزوری آگئی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کا تسلط قائم نہیں رہا۔ اس سلسلے میں تیسری بات مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ عمومی غلبہ اسلام کے لئے اللہ نے سورة نور میں یہ شرط لگا دی ہے۔ یعبدو… ……شیئا (آیت 55) کہ اہل ایمان خالص خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہوں اور اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں۔ اگر مسلمان یہ شرط پوری کریں گے تو ان کو کو تمام اقوام عالم اور ادیان پر غلبہ حاصل ہوگا۔ چناچہ جب تک مسلمان اس معیار پر قائم رہے ان کو دنیا پر سیاسی غلبہ حاصل رہا ہے۔ مگر جب بےعملی کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ تو اللہ نے عمومی غلبہ سے بھی محروم کردیا۔ مسلمانوں پر زوال آنا شروع ہوگیا حتیٰ کہ انگریزوں کے عروج کے زمانہ میں خلافت کا ڈھانچہ بھی ختم ہوگیا اور دنیا بھر کے مسلمان انتشار کا شکار ہوگئے آج وہ غالب ہونے کی بجائے مغلوب اور مقہور ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ وہ اسلام کے اصول کو ترک کرچکے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کی ذمہ داری : مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمان قوم اور ان کے حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ اسلام کے عمومی غلبے کو قائم رکھتے۔ غلبہ چھن جانے کی کوئی توجیہہ خدا کے ہاں قابل قبول نہیں ہوگی۔ اگر ہم دین اسلام کے اصولوں پر قائم نہ رہے اور جس کے نتیجے میں یہ غلبہ چھن چکا ہے تو اس میں قصور ہمارا ہے لہٰذا ہم سب عنداللہ مجرم بن جائیں گے آج نفاذ اسلام کا دعویٰ تو کیا جارہا ہے کہ اس کو بتدریج نافذ کریں گے مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ دراصل موجودہ دنیا کے مسلمان حکمران بھی نفاذ اسلام میں مخلص نہیں ہیں۔ یہ تو منافقت ہے کہ دعویٰ اسلام کا کیا جارہا ہے مگر ہر حکومتی معاملہ میں یہودونصاری اور دہریے دخیل ہیں۔ اس قوت مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کا نہ عقیدہ درست ہے نہ ایمان اور نہ اخلاق۔ دراصل انہیں اسلام کی حقانیت پر یقین ہی نہیں ہے اسی لئے تو روس امریکہ ، برطانیہ اور جرمنی وغیرہ کے نظام کو پسند کیا جاتا ہے اور ہر معاملے میں ان سے مشورہ لیا جاتا ہے حالانکہ اسلام کا اپنا نظام حیات ہے جس کو اپنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس ضمن میں جرات سے کام لے کر اسلام کو مکمل طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ ورنہ درمیانی راستہ کوئی نہیں ہے۔ جس پر چل کر منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔ رفاہیت بالغہ کے تمام سلسلے بند کرنا ہونگے اصول کی پابندی ہر چھوٹے بڑے کے لئے یکساں کرنا ہوگی ، اسلامی عبادات کا نظام رائج کرنا پڑے گا ، اقتصادی طور پر اغیار کی غلامی سے نجات حاصل کرنا ہوگی ، تب جاکر نفاذ اسلام کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ بعض اچھی باتیں تو غیر مذاہب اور لامذہب لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں ، محض ان پر بھروسہ کرکے اسلام نافذ نہیں کیا جاسکتا تمام مسلمانوں کی عمومی اور حکمرانوں کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ غلبہ اسلام کے لئے عملی کوشش کریں اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب کہ نظام اسلام مکمل طور پر نافذ کردیا جائے۔ بہرحال اللہ نے ابتدائی دور میں غلبہ اسلام کا وعدہ پورا کردیا جس کے بعد میں خود مسلمانوں نے ضائع کردیا۔ احادیث کی کتابوں اور علمائے کرام کی زبانوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وعدہ آخری دور میں مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول پر پھر پورا ہوگا۔ جب دنیا میں اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔