Ayahs 61:10–13ربط آیات :
پچھلی آیت میں ذکر تھا کہ اللہ نے اپنے برگزیدہ رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کردے خواہ مشرک لوگ اس کو ناپسندہی کریں۔ اللہ کے نزدیک سچا دین یہی دین اسلام ہے لہٰذا منشائے خداوندی یہی ہے کہ یہ دین باقی تمام ادیان پر غالب ہو۔ یہ غلبہ باعتبار دلیل اور برہان تو ہر وقت حاصل رہا ہے ، اور موجودہ دور میں بھی یہ غلبہ قائم ہے۔ مگر جس غلبہ کی بات یہاں ہورہی ہے اس سے ظاہری غلبہ مراد ہے یعنی اسلام کے نظام اور قانون کو بھی تمام ادیان عالم اور قوانین کے مقابلے میں غالب قرار دیاجائے… اور اس کو برتری حاصل ہو۔ اب اس مقصد کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کرنا اللہ کے نبی اور اس کے پیروکاروں کا کام ہے چناچہ سورة الفتح میں اللہ نے اس برگزیدہ جماعت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جنہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ محمد رسول…………………بینھم (آیت 28) حضرت محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ سچے اور آخری رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں یعنی صحابہ کرام ؓ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں اور آپس میں رحمدل ہیں۔ اولین جماعت صحابہ کرام ؓ کی تھی۔ جس نے کفر کا مقابلہ کرکے دین اسلام کو ظاہری طور پر بھی غالب بنایا۔ اور پھر ان کے بعد یہ ذمہ داری جماعت المسلمین پر عائدہوتی ہے کہ وہ دین حق کو دوسرے ادیان پر غالب رکھیں۔ ظاہر ہے کہ اس عظیم مقصد کے لئے بڑی جدوجہد اور جانی ومالی قربانی کی ضرورت ہے۔ ابتدائی دور میں اللہ نے دین اسلام کو ہر لحاظ سے دوسرے ادیان پر غالب کردیا مگر جب انحطاط پیدا ہوا تو مسلمانوں میں کمزوری آگئی اور دین کو عمومی غلبہ حاصل نہ رہا۔ چناچہ انحطاط کا یہ دور آج تک چل رہا ہے۔
اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دوباتوں کی تلقین فرما کر باور کرایا ہے کہ اگر تم یہ دوکام کر لوگ گے تو تم ہمیشہ کے عذاب سے بچ جائو گے۔ ان دو امور میں سے ایک ایمان ہے جس سے انسان کی انفرادی زندگی کی اصلاح ہوتی ہے ، اور دوسرا جہاد فی سبیل اللہ ہے جس سے اجتماعی اصلاح اور غلبہ دین حاصل ہوتا ہے۔
اللہ اور رسول پر ایمان :
ارشا د ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم ، کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتلائوں جو تمہیں آخرت کے درد ناک عذاب سے بچا لے ؟ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس میں کبھی نقصان نہیں ہوگا بلکہ انسان کامیاب وکامران ہوجائے گا۔ اس نفع بخش تجارت کا پہلا اصول یہ ہے تومنون باللہ ورسولہ کہ تم ایمان لائو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر پختہ طریقے سے یقین کرو اور قلب کی گہرائیوں سے تصدیق کرو کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود ، خالق ، مالک ، مدبر ، الٰہ اور مستحق عبادت ہے۔ وہ تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہے اور تمام عیوب ونقائص سے مبرا اور منزہ ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ وہ علیم کل ، قادر مطلق ، نفاع وضار ہے وہ اپنی ساری کائنات کا مالک ، مختار اور بلا شرکت غیر سے متصرف ہے۔
ایمان کا دوسرا جزو ایمان بالرسول ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور برگزیدہ نبی اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمائی ہے۔ آپ پوری کائنات کے سردار اور تمام بنی آدمی اور ملائکہ مقربین سے افضل ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے حبیب اور صاحب مقام محمود ہیں۔ اسی طرح تمام انبیاء اور رسل پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ نے ہر دور میں مخلوق کی ہدایت کے لئے نبی اور رسول مبعوث فرما۔ اور تمام انبیاء اور رسل اللہ کے برگزیدہ بندے اور معصوم ہیں۔ ہر ایک نے فریضہ رسالت مکمل طور پر ادا کیا اور اس میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کی۔
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے علاوہ ملائکہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو کائنات کے نظام کو چلانے اور بنی نوع انسان کی مصلحت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہوچکا ہے ، ہورہا ہے یا ہونے والا ہے ، سب اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی مشیت سے ہورہا ہے یا ہونے والا ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی مشیت سے ہورہا ہے۔ اور پھر آخر میں قیامت کے برحق ہونے پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ بعث بعدالموت برحق ہے۔ جزاوسزا کی منزل آنے والی ہے۔ جس سے ہر انسان دوچار ہوگا۔
جہاد فی سبیل اللہ :
نفع بخش تجارت کا پہلا اصول اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اب دوسرا اصول جس پر غلبہ دین کا دارومدار ہے ، وہ یہ ہے و تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم ، کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے مالوں کے ساتھ اور اپنی جانوں کے ساتھ کہ یہ بھی عذاب الیم سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ہر سلیم الفطرت انسان کی انتہائی تمنا یہی ہوسکتی ہے کہ وہ دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں داخل ہوجائے۔ اللہ نے سورة آل عمران میں واضح طور پر فرمادیا ہے فمن زحزح……………………فقد فاز (آیت 185) جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا۔ اور جنت میں داخل کردیا گیا ، وہ کامیاب ہوگیا۔ بلا شبہ انسان کی حقیقی کامیاب یہی ہے۔ غرضیکہ یہ کامیابی دو چیزوں کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے یعنی ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ سے ایمان کے ذریعے انسان کو نفسی یاد روحانی ترقی نصیب ہوتی ہے۔ جب کہ جہاد کے ذریعے تکمیل غیر یا اصلاح عالم کا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ یہ دونوں پروگرام اللہ نے اپنی آخری کتاب قرآن حکیم میں واضح کردیے ہیں۔
دنیاوی اعتبار سے جہاد ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی نظام درست نہیں ہوسکتا۔ اس کے بغیر نہ ارتفاقات معاشیہ صحیح ہوں گے اور نہ معاشرہ کی حالت درست ہوسکتی ہے۔ حدود وتعزیرات کا قیام شروفساد سے بچنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اسی واسطے اللہ جہاد کی غرض وغایت اس طرح بیان فرمائی ہے۔ وقتلوھم …………………للہ (البقرہ 193) ان سے اس وقت تک لڑتے رہو حتیٰ کہ فتنہ و فساد ختم ہوجائے اور ملک میں صرف خدا کا دین قائم ہوجائے۔ مطلب یہ ہے کہ فتنہ و فساد فرو ہو کر دین کا قیام عمل میں آنا چاہیے اور پھر اس دین پر عمل کرنے والوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں ہونی چاہیے۔ لوگوں کے درمیان ظلم و زیادتی اور جورو عدوان اسی طریقے سے ختم ہو کر عدل و انصاف کی فضا قائم ہوسکتی ہے ، اور لوگوں کے پرامن زندگی گزارنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔
جہاد کی دو قسمیں :
امام شاہ ولی اللہ (رح) حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ جہاد دو قسم کا ہوتا ہے۔ یعنی دفاعی جہاد (Defensive War) اور اقدامی جہاد (War Affensive) دفاعی جہاد کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اموال کو لٹنے سے بچایا جائے ، ان کے اہل و عیال کو لونڈی غلام بننے سے بچایا جائے ، لوگوں کی عزت وآبرو کی حفاظت کی جائے اور قتل و غارت گری سے ان کا دفاع کیا جائے اس کی مثال بنی اسرائیل کے حالات میں ملتی ہے۔ ان کو بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا گیا۔ انہوں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کے اہل و عیال کو بےآبرو کیا گیا ، تو انہوں نے اپنے دور کے نبی کی خدمت میں عرض کیا اذقالوا……………………اللہ (البقرہ 246) کہ ہمارے لئے کوئی کمانڈر مقرر کردیں۔ جس کی سرکردیگی میں ہم دشمن کا مقابلہ اور اپنا دفاع کرسکیں۔ ہم اپنے ظالم دشمنوں سے ٹکرا جانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے دین ، مذہب اور عزت وآبرو کو ان کی دست برد سے بچا سکیں۔
اقدامی جہادوہ جہاد ہے جو انسانی سوسائٹی کے گندے عناصر کے قلع قمع کے لئے عمل میں لایا جائے۔ جب درندہ صفت لوگ اپنی درندگی کا اظہار اپنی قبیح حرکات اور شنیع افعال سے کرنے لگیں ، اپنی شہوانی خواہشات کو غلط ذریعہ سے پورا کرنے کی کوشش کرنے لگیں تو ان کی سیرت بگڑ جاتی ہے اور وہ زمین میں فساد پھیلانے کا موجب بنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے انبیاء کے ذریعے انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ پھر اگر ایسے لوگوں کی اصلاح کسی صورت میں بھی ممکن نہ ہو تو انہیں قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ ایسے لوگوں کی مثال انسانی جسم میں پیدا ہوجانے والے فاسد مادہ از قسم پھوڑا وغیرہ کی ہوتی ہے کہ جس کا کاٹنا ضروری ہوجاتا ہے وگرنہ سارے جسم کے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ جس طرح باقی جسم کو بچانے کے لئے جسم کے متاثرہ عضو کو کاٹ ڈالنا ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ عنصر باقی معاشرے کی خرابی کا باعث نہ بنے۔ یہی اقدامی جہاد ہے جس سے معاشرہ کی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام قائم کردیا ہے کہ ایک ظالم کو دوسرے ظالم کے ذریعے معاشرے سے نابود کردیا جاتا ہے تاکہ انسانی سوسائٹی میں مزید بگاڑ پیدا نہ ہو۔ اللہ نے سورة الحج میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے ولولا دفع……………………ببعض (آیت 40) اگر اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو عیسائیوں کے گرجے ، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں ظالموں کی دست برد سے محفوظ نہ رہتیں۔ اسی لئے اللہ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ ایسے شریر لوگوں کا مقابلہ کرتے ہو تاکہ زمین شروفساد سے پاک رہے اور انسانی سوسائٹی امن کا گہوارہ بن جائے۔ یہ اقدامی جہاد کی برکت ہے کہ مسلمانوں کو غلبہ اور عزت حاصل ہوتی ہے ، ورنہ وہ غلام بن کر عذاب الیم کا مزا چکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب بھی مسلمانوں میں جذبہ جہاد کمزور پڑجاتے ہے وہ اسی قسم کے حالات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
مسلمانوں کی زبوں حالی :
انصاف سے دیکھا جائے تو ساتویں صدی ہجری کے بعد تاتاریوں کی یلغار نے لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا اور ان کی تہذیب و تمدن کے بیشتر آثار مٹا دیے۔ اس وقت سے لے کر دور حاضر تک دنیا کی اکثر خطوں میں مسلمان غلامی کے بدترین ادوار سے گزرتے رہے ہیں۔ تاتاریوں کے بعد یورپ اور مغرب کی عیسائی طاقتوں نے مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھائے ہیں وہ تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہوچکے ہیں۔ آخری دور میں انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر زوال آیا۔ اور ان کی کمزور سی رہی سہی خلافت بھی معدوم ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا بھر کے مسلمان پراگندہ اور منتشر ہو کر غلامی کی سخت ترین زنجیروں میں جکڑے گئے۔ جب انگریزوں کو زوال آیا ہے تو ان کا جانشین امریکہ ٹھہرا۔ بظاہر تو وہ یہودیت اور نصرانیت کا دم بھرتا ہے مگر حقیقت میں وہ تمام سفاکوں سے بڑھ کر سنگدل اور ظالم ہے ۔ مسلمانوں کی دنیا میں کم وبیش پچاس ریاستوں کے باوجود یہ لوگ دنیا میں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا دینی اور ملی تشخص ختم ہوچکا ہے اور یہ اغیار کے دست نگر بن کر رہ گئے ہیں۔ اب پوری دنیا کے مسلمان سیاسی ، معاشرتی اور معاشی لحاظ سے عیسائیوں ، یہودیوں یادہریوں کے غلام بن چکے ہیں۔ یہودیت اور عیسائیت کی بگڑی ہوئی شکل وہریت اور اشتراکیت ہے جس نے گزشتہ ستر سال سے اللہ کی مخلوق کا بےدریغ خون بہایا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے سبعیت ، سفاکی اور درندگی کا پورا پورا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن بالآخر یہ بھی اپنے انجام کی طرف رواں دواں ہے ، ادھر برطانیہ ، فرانس اور امریکہ جیسی سپر طاقتیں اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کے لئے دائو پیچ کھیل رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں قوت ایمانی اور جذبہ جہاد پیدا کردے اور ان ظالموں اور سفاک طاقتوں کو نیست ونابود کردے۔ آمین۔
بہرحال فرمایا کہ اے ایمان والو ! کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتائوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے ۔ وہ سوداگری یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون ، یہی چیز تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
آخرت میں کامیابی :
فرمایا اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ یغفرلکم ذنوبکم ، اللہ تعالیٰ تمہارے سابقہ گناہ معاف کردے گا ویدخلکم جنت تجری من تحتھا الانھر ، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کریگا جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں ومسکن طیبۃ فی جنت عدن ، وہاں تمہارے لئے رہنے کے باغوں میں پاکیزہ محلات ہوں گے جو ہمیشہ رہیں گے یعنی یہ انعامات ختم نہیں ہوجائیں گے بلکہ دائمی ہوں گے۔ ذلک الفوز العظیم اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس خوش بخت کو نصیب ہوجائے۔
فرمایا واخری تحبونھا اس کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جس کو تم پسند کرتے ہو۔ اور وہ ہے نصرمن اللہ وفتح قریب ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور قریب الحصول فتح۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنائی جارہی ہے کہ اگر وہ دنیا میں ایمان اور جہاد کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنالیں گے۔ تو پھر انہیں دنیا میں بھی غلبہ حاصل ہوگا اور آخرت میں تو انعامات کا لامتناہی سلسلہ ہوگا۔ جو ان کو حاصل ہونے والا ہے اور یہ چیز اہل ایمان کے حق میں یقینا کامیابی و کامرانی ہے۔ فرمایا وبشر المومنین ، آپ اہل ایمان کو اس بات کی خوشخبری سنادیں کہ ایمان اور جہاد کے اصول وہ اپنالیں ، تو ان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذکرہ اللہ تعالیٰ اٹھالے گا۔
Ayah 61:14ربط آیات :
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ نے دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے سلسلے میں فرمایا کہ اس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی لگا دی کہ غلبہ ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ پھر اللہ نے ایک ایسی تجارت کا ذکر کیا۔ جس میں خسارے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بلکہ اس میں ابدی فائدہ ہے۔ فرمایا یہ تجارت اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں مال وجان کے ساتھ جہاد کرنا ہے۔ فرمایا اس تجارت کا فائدہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ پر ہوگا۔ آخرت کا فائدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں بہشتوں میں داخل کرے گا ، جہاں پاکیزہ مکانات میں ہر طرح کا آرام و آسائش حاصل ہوگا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ پھر اللہ نے دنیاوی فائدے کے متعلق فرمایا کہ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال ہوگی اور تمہیں دشمن کے مقابلے میں فتح حاصل ہوگی۔
انصار اللہ کا گروہ :
آج کے درس میں اللہ نے ایمان والوں سے خطاب فرمایا ہے کہ اگر تم نفع بخش تجارت کے خواہشمند ہو تو پھر اللہ کے گروہ میں شامل ہوجائو۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنو اے ایمان والو ! کونوا انصار اللہ ، ہو جائو اللہ کے مددگار۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے دین اور اس کے رسول کے مددگار بن کر اللہ کے حکم کی تعمیل کرو۔ اور دین کی تائید وتقویت ، اس کی نشرواشاعت اور قیام وبقا کے لئے محنت کرو۔ تو انصار اللہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کے دین کی خاطر اس کے گروہ میں شامل ہوجائیں گے۔
آگے اللہ نے اس گروہ سے متعلق عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال بیان فرمائی ہے کما قال عیسیٰ ابن مریم للحوارین من انصاری الی اللہ ، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) نے حواریوں سے کہا کہ اللہ کے راستے میں میرا کون مددگار ہے ؟ اس کے جواب میں قال الحواریون نحن انصار اللہ حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری اللہ کے دین کے مددگار بن کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق دین کی تائید اور نشرواشاعت کرتے تھے تو اللہ نے آخرت امت کے ایمان والوں کو بھی یہی حکم دیا ہے کہ اللہ کے دین کے مددگار بن جائو ، جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری دین کے مددگار بن گئے تھے۔
عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری :
حواری حور کے مادہ سے ہے ۔ عربی میں حور سفیدی کو کہتے ہیں حورعین کا تعلق بھی اسی مادے سے ہے۔ حواری اس مخلص آدمی کو کہتے ہیں جس کے دل میں صفائی ہو اور وہ پاکیزہ محبت رکھتا ہو۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری مالدار لوگ نہیں تھے بلکہ غریب غربا لوگ تھے۔ البتہ مخلص ضرور تھے۔ حواری آٹے سے نکالے ہوئے میدے کو بھی کہتے ہیں جو چھلکے وغیرہ سے پاک اور سفید ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا حواری میرا پھوپھی زاد بھائی زبیر بن عوام ؓ ہے جو بڑا بہادر آدمی تھا اور جس نے اسلام کے لئے بڑی قربانیاں پیش کیں۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کچھ حواری تو مچھلیاں پکڑنے والے تھے۔ جب آپ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا ، تم مچھلیاں کیا پکڑتے ہو آئو میں تمہیں انسانوں کو پکڑنا سکھا دوں۔ اسی طرح حواریوں میں سے کچھ لوگ دھوبی تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ میرے ساتھ آئو میں تمہیں انسانوں کے دلوں کی صفائی کرنا سکھادوں۔ بہرحال عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارہ حواری بہت مشہور ہوئے ہیں۔ یہ بڑے مخلص لوگ تھے ، آپ نے انہی کے ذریعہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ ان کو اسرائیلیوں کے پاس بھی بھیجا گیا اور یونانیوں کے پاس بھی۔ کلمہ حق سنانے کی پاداش میں لوگ ان کو مارتے تھے حتیٰ کہ بعض کو قتل بھی کردیا گیا ۔ غرضیکہ ان لوگوں نے بڑی تکالیف اٹھائیں۔ مسیح (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے بعد یھی یہ لوگ تبلیغ کا کام کرتے رہے تاہم بعد میں بگاڑ پیدا ہونا شروعہوگیا۔
شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) لکھتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے بڑی محنت و کاوش سے دین کی آبیاری کی اور دین کی نشرواشاعت کرتے رہے۔ حضور ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد خلفائے راشدین ؓ نے بھی وہی کام کیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے کیا۔ بہرحال سمجھانا یہ مقصود ہے کہ فائدہ مند تجارت کے لئے نبی کے حواری بننا ضروری ہے تاکہ دین کی اشاعت کا کام جاری رہ سکے۔
حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ :
حضور ﷺ کے ساتھی آپ کے صحابہ کرام ؓ کہلائے۔ انہوں نے دین حق کی خاطر وہ قربانی ، ایثار اور خلوص پیش کیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری بھی نہ پیش کرسکے ، خود عیسائی مورخ سرولیم میور مصنف نے (Life Af Muhammad) میں صریح طور پر اعتراف کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں اور حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کا کوئی تقابل نہیں ، کیونکہ صحابہ کرام ؓ حواریوں سے ہر کام میں آگے تھے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں حضور ﷺ اور دین اسلام کی سخت مخالفت کی گئی۔ آپ تبلیغ حق کے لئے منی ، عکاظ یا ذوالمجاز وغیرہ مقامات پر لگنے والی منڈیوں اور میلوں میں جاتے۔ آپ باہر سے آنے والے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے اور مکہ والوں کی سخت مخالفت کے پیش نظر باہر کے لوگوں کو کہتے کہ کون ہے جو میری حفاظت کرے گا۔ تاکہ میں خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچائوں۔ اس کے جواب میں بعض لوگ آپ کی مدد کے لئے تیار بھی ہوتے مگر قریش مکہ ان کو روک دیتے اور ورہ خوفزدہ ہو کر چلے جاتے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کو اس کام پر مامور فرمایا۔ وہ حج کے موقع پر مکہ آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ آپ کی ہر طریقے سے مدد کریں گے۔ کہنے لگے کہ ہم اسودہ احمر کے مقابلہ میں آپ کی تائید کریں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں تھا کہ حضور ﷺ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو اہل مدینہ نے آپ کی پوری پوری مدد کی۔ ادھر مکہ کے مہاجر بھی تھے ان سب نے حضور ﷺ کی تائید کی اور آپ کے حواری بن گئے۔
عیسائی فرقے :
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھالیا تو دین میں بگاڑ شروع ہوگیا اور آپ کے پیروکار مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک فرقے نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کہہ دیا ، یہ فرقہ یعقوبی کہلایا۔ دوسرے فرقے نے کہا کہ مسیح (علیہ السلام) خا نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے۔ وہ ہمارے درمیان کچھ عرصہ کے لئے آئے اور پھر چلے گئے۔ یہ نسطوری فرقہ تھا۔ تیسرا فرقہ تثلیت کا قائل تھا اس نے باپ ، بیٹا اور روح القدس کا عقیدہ بنالیا۔ البتہ ایک فرقہ ایسا بھی تھا جو کہتا تھا کہ مسیح (علیہ السلام) نہ تو خدا تھے ، نہ اس کے بیٹے بلکہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ جب تک خدا نے چاہا ان کو زمین پر رکھا ، پھر جب چاہا اٹھالیا یہ فرقہ اہل ایمان کا تھا۔
اب یہ فرقے آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے اور اہل ایمان کے خلاف بہت زیادہ غلو کرنے لگے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ اہل ایمان مغلوب رہے حتیٰ کہ اللہ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اہل ایمان نے آپ کو حق پر پایا اور آپ پر بھی ایمان لے آئے۔ اس طرح اللہ نے ان کو دلیل وبرہان کے اعتبار سے بھی اور اجتماعی اعتبار سے بھی غلبہ عطا فرمایا۔ اسی بات کا ذکر اللہ نے یہاں کیا ہے فامنت طائفۃ من بنی اسرائیل پس نبی نسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آثا وکفرت طائفۃ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔ جو لوگ حضور ﷺ پر ایمان نہ لائے بلکہ عقیدہ ابنیت یا الوہیت یا تثلیث پر اڑے رہے انہوں نے گویا کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ اور ایمان لانے والا وہی فرقہ تھا۔ جنہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول مانا ، اور یہ عقیدہ اختیار کیا تھا کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کا کلمہ ہیں۔ جنہیں اس نے فرشتے کے ذریعے حضرت مریم ؓ کے گریبان میں پھونکا تو حمل قرار پایا۔ اور اللہ نے آپ کو اپنی قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا کردیا۔ یہ کامل درجے کا انسان ، صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی تھا۔
اہل ایمان کی تائید :
اللہ نے فرمایا فاید ناالذین امنوا علی عدوھم فاصبحوا ظاھرین ، پس ہم نے تائید کی ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں پس ہوگئے۔ وہ غالب آنے والے۔ یعنی بلحاظ دلیل اور بلحاظ اجتماعیت دونوں طریقوں سے اہل ایمان کو ہی غلبہ حاصل رہا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ غلبہ بلحاظ دلیل حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول تک برابر قائم رہے گا۔ مگر اجتماعی غلبہ اس وقت حاصل ہوگا جب اہل اسلام وہ شرط پوری کریں گے جس کا ذکر اللہ نے سورة نور میں کیا ہے کہ وہ خالص میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ اسلام کے اجتماعی نظام کے لئے صحابہ کرام ؓ ، خلفائے راشدین ؓ ، پھر تابعین ، تبع تابعین اور سلف صالحین نے بڑی کوشش کی مگر بعد میں اجتماعی نظام میں ملوکیت دخیل ہوگی۔ جس کی وجہ سے یہ نظام خراب ہوگیا اور آج تک اپنی اصلی حالت پر نہیں آسکا۔
آج دنیا میں مسلمانوں کی پچاس ریاستیں ہیں لیکن ان میں اسلام برائے نام ہی ہے۔ اسلام کا مکمل نظام کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ تمام ملکوں میں کافروں ، دہر یول ، یہودیوں اور عیسائیوں کے نظام حکومت چل رہے ہیں۔ موجودہ حکمران اسلام کے نظام کو پسند ہی نہیں کرتے۔ غیراقوام کی دیکھا یہ بھی کہنے لگے کہ اسلام کا نظام فرسودہ ہوچکا ہے اور یہ موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نظام سے بہتر دنیا میں کوئی نظام نہیں مگر یہ لوگ اس کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ دین کو سمجھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کردیتا ہے۔ غرضیکہ یہ لوگ اغیار کے نظام کو ہی بہتر خیال کرتے ہیں اور اس کو رائج کرتے ہیں۔ اس دور میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں یا حضور ﷺ کے صحابہ ؓ اور سلف صالحین کی بات کہیں پر نہیں ہے۔ اس وقت باالعموم نہ ہمارے امام درست ہیں ، نہ علماء نہ پیر ، نہ دولت مند اور نہ صاحب جاہ واقتدار ، سب کے سب بگڑے ہوئے ہیں۔ اللہ کے لشکر میں شامل ہونے اور اللہ کے دین کے مددگار بننے والی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ اغیار کو ہم پر شب خون مارنے کا زیادہ موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے صرف ہمیں ظاہر غلبے سے محروم کردیا ہے بلکہ وہ ہمارے ایمان پر بھی مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ کہیں عیسائیت کو ترقی حاصل ہورہی ہے۔ اور کہیں اشتراکیت چھارہی ہے۔ ہر طرف بےدینی اور الحاظ کا دور دروہ ہے کیونکہ آگے میدان خالی ہے۔ مسلمان اپنی اپنی اغراض کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ، کسی کا مقصد دولت کمانا ہے اور کسی کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے ھل ادلکم علی تجارۃ ، والا تو مقصدہی فوت ہوچکا ہے۔ اب نہ وہ ایمان باقی رہا ہے اور نہ یقین۔ نہ ہمارا عمل صحیح ہے اور نہ جان ومال کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ان حالات میں نہ کوئی انصار اللہ میں شمولیت کا دعویٰ کرسکتا ہے اور نہ اسے تائید خداوندی حاصل ہوسکتی ہے۔
بہرحال اللہ نے ترغیب دی ہے کہ اگر ابدی فلاح حاصل کرنا چاہتے ہو تو پھر اللہ کے گروہ میں شامل ہو کر سردھڑ کی بازی لگانا ہوگی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں اور حضور ﷺ کے صحابہ ؓ نے محنت اور کوشش کی ، دین کی خاطر قربانیاں پیش کیں تو دنیا میں اسلام کو غلبہ نصیب ہوا۔ جب سے مسلمانوں نے انصار اللہ کی رکنیت ترک کردی ہے ان پر اجتماعی زوال طاری ہوگیا۔