62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 62:1–4

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 62:1 in the Quran reader

تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کے لئے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں ، جو بادشاہ پاک ، زبردست ، حکمتوں والا ہے

هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۗ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 62:2 in the Quran reader

وہ وہی ہے جس نے بھیجا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے۔ پڑھتا ہے ان پر اس کی آیتیں ، تزکیہ کرتا ہے ان کا ، اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت اور بیشک وہ تھے۔ اس سے پہلے البتہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے

وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 62:3 in the Quran reader

اور (بھیجا ہے اس نے رسول کو) دوسروں کے لئے جو نہیں ملے ان سے اور وہ غالب اور حکمتوں والا ہے

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 62:4 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے دیتا ہے وہ جس کو چاہے۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ ہے۔ کیونکہ اس میں بعض دیگر اہم باتوں کے علاوہ نماز جمعہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی یہ گیارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 748 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : پچھلی سورة میں اللہ نے یہودیوں کی ایذاء رسانی کا ذکر کرکے اہل ایمان کو خبردار کیا تھا۔ کہ تم بھی ان جیسے نہ ہوجانا۔ اور اب اس سورة میں یہودیوں کی نافرمانی کی وجوہات یعنی ان کی بیماری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پچھلی سورة میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو فرائض کا ذکر تھا ، ایک تو وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے اور دوسرا نبی آخرالزمان کی بعثت کی خوشخبری سناتے تھے ، اب اس سورة مبارکہ میں اللہ نے اس نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ذکر کیا ہے کہ اللہ نے آپ کو امیوں میں پیدا فرمایا۔ پچھلی سورة میں اللہ نے دین حق کو باقی ادیان پر غالب کرنے کا ذکر کیا ، اور اس سلسلے میں مال وجان کے ساتھ جہاد کرنے اور اللہ کے دین کے مددگاروں کے گروہ میں شامل ہونے کی تاکید فرمائی ، اس سورة میں ان چیزوں کی تائید آرہی ہے اس کے علاوہ اس سورة میں اہل علم کے فرائض بیان ہو رہے ہیں اور علم پر عمل کرنے کا طریقہ ذکر کیا جارہا ہے۔ مسئلہ توحید : گزشتہ سورة کی طرح اس سورة کی ابتداء بھی مسئلہ توحید سے ہوتی ہے۔ کیونکہ دین کا اصل الاصول مسئلہ توحید ہی ہے ، جب تک کسی شخص کا عقیدہ توحید پر کامل ایمان نہ ہو اس کی کوئی نیکی بھی کار آمد نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے قرآن حکیم میں یہ مسئلہ بالوضاحت سمجھایا گیا ہے۔ سورة محمد میں ہے فاعلم انہ لا الہ الا اللہ (آیت 19) خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ آج کل لوگ بڑے مصروف ہیں دنیا کے کاروبار سے فرصت نہیں ملتی مگر سب سے ضروری بات یہ ہے کہ انسان کا ایمان درست ہو۔ ہر شخص کو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرنی چاہیے تاکہ اس کے لئے دائمی کامیابی کی صورت پیدا ہوسکے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر سورة کی ابتداء ، انتہاء یا درمیان میں توحید کا مسئلہ ضرور سمجھایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یسبح للہ مافی السموت وما فی الارض پاکی بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے لئے جو کچھ بھی ہے آسمان میں اور جو کچھ ہے زمین میں ہے۔ زمینی مخلوق میں شجروحجر ، پہاڑ ، دریا ، سمندر ، نباتات ، چرند اور پرند ہیں ، یہ اور ان کے علاوہ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اس بات کا ذکر اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں بھی کیا ہے وان من شیء …………………تسبیحھم (آیت 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔ غرضیکہ پتہ پتہ ، ٹہنی ٹہنی ، ستارے اور سیارے سب اللہ کے ثناخواں ہیں۔ لہٰذا انسانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اللہ کی پاکی بیان کریں۔ تسبیح کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، نہ اس کی بیوی ہے نہ بچے ، وہ بینیاز ہے اور اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں جب کہ ساری مخلوق اس کی محتاج ہے۔ لہٰذا انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اور ہر وقت اس کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرنی چاہیے سورة الاحزاب میں ارشاد خداوندی ہے۔ یا یھا الذین………………… (آیت 41- 42) اے ایمان والو ! اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو ، اور اس کی صبح وشام تنزیہہ بیان کرو۔ فرشتے اور کائنات کی ہر چیز تسبیح بیان کرتی ہے۔ بعض صفات خداوندی : اس اللہ تعالیٰ کی جو الملک یعنی بادشاہ ہے پوری کائنات میں بادشاہی اسی کی ہے۔ دنیا کی بادشاہی عارضی ہے اور یہ اس رب العزت کی عطا کردہ ہے۔ لوگ اس کو اپنا کمال سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے جاہ واقتدار اپنی قابلیت ، ہوشیاری ، چالاکی اور ڈپلومیسی کی بناء پر حاصل کیا ہے حالانکہ یہ تو خدا تعالیٰ کا انعام ہے اور اس کی طرف سے ایک امانت ہے۔ حقیقی شہنشاہ وہی ہے۔ القدوس وہ ہر عیب ونقص سے پاک ہے۔ بیوی بچوں ، کھانے پینے ، سونے اونگھتے اور ہر احتیاج سے پاک ہے۔ العزیز ، وہ کمال قدرت اور کمال قوت کا مالک ہے۔ الحکیم ، حکمتوں کا مالک ہے یعنی اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ تعریف کے مقام میں ان الفاظ کو اکٹھا بھی بیان کیا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو الملک القدوس العزیز الحکیم بھی کہہ سکتے ہیں۔ بعثت نبی آخرالزمان : فرمایا کہ اس کی مہربانی اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ھوالذی بعث فی الامین رسولا منھم ، وہ وہی ذات ہے جس سے مبعوث کیا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے امیین سے مراد عرب کے لوگ ہیں جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور ناخواندہ ہونے کی وجہ سے امی کہلاتے تھے۔ ان میں دو تین فیصد سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے ، اولاد اسماعیل سینکڑوں ہزاروں شاخوں میں بٹ کر پورے عرب ، حتیٰ کہ ایران ، خراسان اور دیگر دور دراز علاقوں تک پھیل گئی اللہ کی یہ حکمت تھی کہ اس نے اپنا آخری نبی انہی میں سے بھیجا حالانکہ ارد گرد کے ممالک ایران ، روم ، شام اور مصر وغیرہ میں پڑھے لکھے لوگ موجود تھے اور ان کے اپنے دفتری نظام تھے ، ان کے ہاں کتابیں بھی تھیں اور تعلیم و تعلم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ ادھر عربوں میں نہ کوئی سکول نہ کالج نہ مدرسہ۔ کوئی لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا ساری یادداشت زبانی رکھی جتای تھی۔ تو اللہ نے انہی میں سے نبی بھی امی مبعوث فرمایا اس نے بھی کسی سے تعلیم حاصل نہ کی تھی مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ بقول شیخ سعدی (رح) ؎ یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست کتب خانہ چند ملت بشست ایک ایسا یتیم جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا۔ اس نے دنیا کی ملتوں کے سارے کتب خانے دھوڈالے۔ مطلب یہ کہ علم و حکمت کے وہ موتی بکھیرے کہ تمام قوموں کے کتب خانے ماند پڑگئے گویا کہ انہیں پانی سے دھوڈالا گیا۔ پھر فرماتے ہیں۔ نگار من کہ بمکتب نہ رفت وخط نہ نوشت بحیر تم کہ بہ غمزہ آموخت و صدر مدرس شد میرا محبوب عجیب ہے کہ اس نے پڑھنا لکھنا تو سیکھا نہیں۔ بس وہ اشارے کے ساتھ ہی سیکھ کر ساری کائنات کا صدر مدرس بن گیا ، گویا کہ دنیا میں اس جیسا معلم کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے بعثت معلما مجھے سب سے بڑا معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ غرضیکہ فرمایا کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے امیوں میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا۔ اور پھر ان امیوں کو وہ علم و حکمت نصیب ہوا۔ جو دنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ ہوسکا۔ آگے اللہ نے اس عظیم الشان رسول کے فرائض بھی بیان کیے ہیں۔ یتلوا علیھم ایتہ وہ اپنی امی قوم کو خدا تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگاہ کرتا ہے اور خود ان کو فرائض ومنہیات سے روشناس کراتا ہے ویزکیھم اور ان کا تزکیہ کرتا ہے۔ ان کو برے خصائل سے پاک کرکے ان کو سنوارتا ہے اور اچھے کاموں کی تربیت دیتا ہے ویعلمھم الکتب ، وہ انہیں کتاب کا علم سکھاتا ہے۔ تعلیم سے مراد صرف پڑھنا ہی نہیں بلکہ اس کو سمجھنا ، اس کے رموز ونکات سے واقف ہونا اور پھر اس کے احکام پر عمل کرنا بھی شامل ہے۔ فرمایا وہ نبی ان کو کتاب سکھاتا ہے والحکمۃ ، اور حکمت یعنی دانشمندی کی باتیں بھی۔ حکمت کی تعریف : قرآن اور سنت سارا حکمت پر مبنی ہے ۔ قدیم زمانے میں فلسفے کو بھی حکمت میں شمار کرتے تھے۔ یونانیوں کے نزدیک حکمت کا مطلب ہے معرفۃ الاشیاء بقدر طاقۃ البشریۃ ، یعنی کسی چیز کی حقیقت کو انسانی طاقت کے مطابق سمجھنا حکمت ہے…………حکمت کی دو قسمیں ہیں یعنی حکمت نظری اور حکمت عملی۔ قدیم یونانی تقسیم کے مطابق حکمت نظری میں فلکیات (AstrAnAmy) ، عناصر (Elements) اور الہٰیات سے متعلق چیزیں آتی ہیں اور حکمت عملی سے مراد وہ حکمت ہے جس کا تعلق تدبیر منزل یعنی ملکی سیاست اور انسانی اخلاق کی تہذیب سے ہوتا ہے اس میں ریاضی طلب ، نجوم وغیرہ جیسے علوم شامل ہیں۔ پرانے زمانے کے دانشور بقراط اور جالینوس طب میں مشہور تھے۔ ان کو دنیا میں بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ سقراط اور افلاطون ارسطو ، ذی مقراطیس ، دیوجالس کلبی ، فیثا غورث وغیرہ یونانی دور کے حکماء میں جن کی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں ، چناچہ افلاطون کی کتاب ” جمہوریت “ آج بھی موجود ہے۔ اس کے ترجمے مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ارسطو کی سیاست سے متعلق کتاب بھی بعض جگہ کالجوں کے نصاف میں شامل ہے۔ انگریزوں نے انہی پرانے نظریات کو ترقی دے کر اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ پھر مسلمانوں کے علوم کے تراجم کرکے ان کو آگے بڑھایا ہے۔ بہرحال اس قسم کی چیزیں حکمت کہلاتی ہیں۔ البتہ اسلام اور شریعت کی رو سے حکمت وہ علم ہے جس کے ذریعے اللہ کی پہچان ہوسکے۔ حدیث شریف میں آتا ہے راس الحکمۃ مخافۃ اللہ ، حکمت کی جڑ بنیاد خوف خداوندی ہے۔ اور خوف اس شخص کو ہوگا۔ جو اللہ کی پہچان رکھتا ہے۔ اسی طرح انسان کی ابتداء اور انتہاء کو جاننا بھی حکمت میں شامل ہے۔ نیز نبوت و رسالت اور احکام شرع کا علم حاصل کرنا اور اس کے علوم ومعارف کو جاننا ، تزکیہ نفس والی چیزوں کو جاننا اور ان قوانین کا علم حاصل کرنا جن سے انسان میں طہارت ، عدل ، اخبات اور سماحت والے اخلاق پیدا ہوتے ہیں ، بھی حکمت کہلاتا ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا فرمان ہے الحکمۃ ضالۃ المومن حکمت مومن کا گمشدہ چیز ہے۔ جہاں سے ملے لے لیتا ہے۔ بہرحال دین ، سنت اور احکام شریعت کی معرفت ، انسان کی تہذیب نفس اور مبداء اور معاد کو جاننا حکمت میں داخل ہے۔ قبل از نبوت : فرمایا اللہ کا نبی لوگوں پر آیتیں پڑھتا ہے ، ان کا تزکیہ کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین اور بیشک وہ لوگ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔ جب پیغمبر آخر الزمان کی بعثت ہوئی تو عرب کے ننانوے فیصد لوگ کفر اور شرک میں ڈوبے ہوئے تھے باقی دنیا پر بھی اندھیرا ہی چھایا ہوا تھا اور پاکیزہ عقیدے والا کوئی اکا دکا آدمی ہی ملتا تھا۔ مشرکین عرب کی حالت یہ تھی کہ اصل ملت ابراہیمی سے بہک چکے تھے ، اور فسق و فجور اور کفر وشرک کا نام ملت ابراہیمی رکھ لیا تھا۔ اخلاقی طور پر جنگ وجدل اور شراب نوشی ان میں عام تھی ۔ البتہ ان میں بعض خوبیاں بھی تھیں۔ وہ بڑے جفا کش بہادر ، وفادار اور انتہائی ذہین لوگ تھے۔ اللہ نے اپنے آخری نبی کی بعثت کے لئے خط بھی وہ منتخب کیا جو لا شرقیۃ ولا غربیۃ نہ وہ مشرقی ہے نہ مغربی بلکہ زمین کا وسطی خطہ ہے۔ پھر اس خط سے تہذیب و تمدن کے سمندر بہائے اور تہذیب کے اصول اٹھائے ، اللہ نے ان امیوں کو علوم ومعارف اور حکمت کا رازداں بنایا۔ یہی لوگ دانشور بنے اور اللہ کے آخری بنی کی تربیت حاصل کرکے ساری دنیا کے معلم بن گئے۔ بعد میں آنے والے : پھر فرمایا وآخرین منھم لم لیحقوا بھم اور اللہ کا یہ آخری رسول ان لوگوں کے لئے بھی مبعوث ہوا ہے جو حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ سے نہیں ملے۔ اس سے مراد عجمی لوگ ہیں۔ جن کی ملاقات عربوں سے نہیں ہوئی۔ گویا حضور ﷺ عرب وعجم سب کے لئے اللہ کے رسول ہیں۔ لم یلحقوا کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فضیلت اور عمل کے اعتبار سی حضور ﷺ کے اولین مخاطبین سے نہیں ملتے۔ مطلب یہ کہ اگرچہ غیر عرب اور صحابہ کرام ؓ کے بعد میں آنے والے لوگ صحابہ ؓ کی فضیلت کے برابر نہیں ہوں گے۔ مگر رسول اللہ کی بعثت ان کی طرف بھی ویسی ہی ہے جیسی عربوں اور بالخصوص صحابہ کرام ؓ کی طرف ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ غیر عربوں نے بھی دین کی بہت خدمت کی ہے اور دنیا میں شہرت حاصل کی ہے۔ اسی محنت کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کے ہاں بھی سرخرو ہوئے ہیں۔ اسی لئے شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے اول عربوں کو پیدا کیا۔ جنہوں نے اس دین کو تھام لیا ، اور پھر ان کے بعد عجم میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے دین کی آبیاری کا حق ادا کردیا۔ چناچہ صحاح ستہ کے مولفین محدثین کرام (رح) سب عجمی تھے جنہوں نے حدیث کی کتابیں تدوین کرکے دین کی بہت بڑی خدمت انجام دی اور جن سے قیامت کت کے لوگ مستفید ہونگے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کب آئیگی ؟ آپ نے الٹا سوال کیا کہ تو نے قیامت کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا کہ میں نے کوئی بڑا سامان تو تیار نہیں کیا ، البتہ اتنا ضرور ہے احب اللہ ورسولہ کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا انت مع من احببت ، تم آخرت میں اسی کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔ یہ سن کر حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا الحمدللہ مجھیحضور ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ محبت ہے اگرچہ میں ان جیسے کام نہیں کرپایا۔ فرمایا وھوالعزیز الحکیم وہ اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے جس نے ان اوصاف کے ساتھ اپنے آخری نبی کو عرب وعجم کی طرف مبعوث فرمایا۔ فرمایا ذلکت فضل اللہ یوتیہ من یساء یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمادے۔ ایمان ، علم ، حکمت ، تزکیہ نفس ، عقیدے اور فکر کی درستگی اور اچھا اخلاق اللہ کا فضل ہے جسے نصیب ہوجائے۔ پھر اس سے بڑھ کر جسے قرآن جیسی عظیم کتاب اور محمد مصطفیٰ ﷺ جیسا نبی اور رسول مل جائے اس جیسا فضل کون سا ہوسکتا ہے ؟ فرمایا ایسا کیوں نہ ہو جب کہ واللہ ذوالفضل العظیم ، اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے۔ جب وہ کسی پر مہربانی کرنا چاہتا ہے ۔ تو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آسکتی۔
Ayah 62:5

مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:5 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جن پر بوجھ رکھا گیا تھا تورات کا ، پھر انہوں نے اس کو نہیں اٹھایا ، گدھے کی مثال ہے جو اٹھاتا ہے کتابوں کا بوجھ۔ بری ہے مثال اس قوم کی جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو ، اور اللہ تعالیٰ نہیں راہ راست دکھاتا بےانصاف لوگوں کو

ربط آیات : ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہہ بیان ہوئی۔ پھر اللہ کے آخری نبی کی امیوں کی طرف بعثت اور ان کے فرائض کا ذکر ہوا۔ اللہ نے امیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بھی اپنے رسول کو مبعوث فرمایا۔ گزشتہ سورة میں اللہ نے فرمایا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل سے خطاب کرکے فرمایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم مجھے کیوں تکلیف پہنچاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔ اس میں اہل ایمان کے لئے تنبیہ ہے کہ کہیں وہ بنی اسرائیل کی طرف اپنے نبی کے لئے اذیت کا باعث نہ بنیں۔ اہل کتاب ہونے کے باوجود ان میں خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے وہ اللہ کے پیغمبروں کو ستاتے تھے ، لہٰذا اللہ نے ان کا شکوہ بیان کیا۔ حاملین تورات کی مثال : آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تورات کے ماننے والے یہودیوں کی بری خصلت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے مثل الذین حملوا التوراتہ ، مثال ان لوگوں کی جن پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا ، اس سے مراد یہودی ہیں جو حاملین تورات ہیں۔ یہ کتاب امت موسیٰ کی خواہش پر ان کو دی گئی تھی۔ فرعون کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے قانون کی کوئی کتاب ہونی چاہیے جس پر ہم عمل کرسکیں۔ چناچہ انہوں نے کوہ طور پر چالیس دن تک اعتکاف کیا تو اللہ نے تورات جیسی عظیم الشان کتاب عطا فرمائی۔ اور ساتھ حکم دیا خذواما……………ماقیہ (البقرہ 63) اس کو مضبوطی سے پکڑ لو ، گویا تم اس کتاب کے محافظ ہو ، اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کو یاد کرو ، اور اس کے مطابق عمل کرو۔ ان لوگوں پر تورات کا بوجھ ڈالنے کا یہی مطلب ہے کہ یہودیوں کو اس کی حفاظت اور اس پر عملدرآمدکا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت تھی مگر اہل کتاب نے اس کی قدر نہ کی۔ اس لئے فرمایا کہ جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا۔ ثم لم یحملوھا پھر انہوں نے اس بوجھ کو اٹھایا نہیں یعنی اس کی حفاظت اور اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا۔ کمثل الحمار یحمل اسفارا ان کی مثال اس گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ جس طرح گدھا کتابیں اٹھانے سے عالم فاضل اور کتابوں کا عامل نہیں بن جاتا۔ اسی طرح وہ انسان بھی گدھے کی مانند ہیں۔ جن کے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے۔ مگر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے ، نہ ان کی فکر کتاب کے مطابق ہے ، نہ اخلاق اور نہ عمل۔ ان کی حیثیت تو گدھے پر کتابیں لادنے سے زیادہ نہیں ہے۔ گدھے کی مثال اس لئے دی گئی ہے کہ سورة النحل میں بھی گدھے کا ذکر آیا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے والخیل …………………زینۃ (آیت 8) اللہ نے گھوڑے ، خچر اور گدھے پیدا کیے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرو اور تمہارے لیے زینت کا سامان بھی ہیں۔ گھوڑا سب سے زیادہ پاکیزہ ، وفادار اور خوبصورت جانور ہے۔ انسانی تاریخ میں اس نے تمام جانوروں سے زیادہ کام کیا ہے خاص طور پر دوران جنگ اس کی خدمات بڑی مفید ثابت ہوئی ہیں ، اور یہ زینت میں بھی سب جانوروں سے آگے ہے۔ خچر گھوڑے کی نسبت کم تر خصوصیات کا حامل ہے مگر اس میں بھی زینت کا سامان ہے اور گدھا اس سے بھی کم تر ہے۔ شکل و صورت اور قد کاٹھ کے لحاظ سے اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، لہٰذا اس کی زینت بھی کم ہی ہوتی ہے۔ البتہ بار برداری کے لئے یہ جانور زیادہ کار آمد ہے مگر بیوقوفی میں بھی مشہور ہے۔ بیوقوف آدمی کو گدھے کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اور اس معاملہ میں یہ ضرب المثل بن چکا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں جب حلال و حرام کی تمیز نہیں تھی تو گدھے کا گوشت اس دور میں بھی نہیں کھایا جاتا تھا کہ کہیں اس کو کھانے والا بھی بیوقوف نہ بن جائے۔ بیوقوف ہونے کے علاوہ گدھے کی آواز بھی بڑی بھیانک ہوتی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو بھی بھدی آواز نکالنے سے منع فرمایا ہے تورۃ لقمان میں ہے کہ حضرت لقمان ؓ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا واغضض …………………الحمیر (آیت 19) اپنی آواز کو پست رکھو ، کیونکہ بدترین آواز گدھے کی ہے۔ اللہ نے جہنمی لوگوں کی چیخ و پکار زفیر اور شہیق کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ گدھے کی ابتدائی بلند آواز کو زفیر اور آخری دھیمی آواز کو شہیق کہتے ہیں۔ شیخ سعدی (رح) نے بھی کہا ہے : نہ محقق شدی نہ دانش مند چار پایہ برو کتابیں چند نہ وہ تحقیق کرنے والے بنے اور نہ ان میں عقلمندی کی بات آئی۔ بس وہ گدھے کی مانند ہیں جن پر کتابیں لادی ہوئی ہیں۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے۔ انعق بما شئت تجد انصارا ضم اسفارا تجد حمارا گدھے کی آواز نکالو ، کوئی نہ کوئی مددگار تو مل ہی جائیں گے۔ کتابوں کا دفتر باندھ لو کیونکہ اٹھانے کے لئے گدھا تو مل ہی جائے گا۔ گدھے کی مثال کے علاوہ سورة الاعراف میں اللہ نے کتے کی مثال بھی بیان کی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں بلعم بن باعور نامی بڑا عابد زاہد اور مستجاب الدعوات شخص تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر اس شخص کے علاقے میں پہنچے تو وہاں کے بادشاہ کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے علاقے پر قبضہ ہی نہ کرلیں۔ اس نے بلعم بن باعور کو کہا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں بددعا کرے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ پہلے تو اس شخص نے ایسا کرنے سے لیت ولعل کیا۔ پھر بادشاہ نے اس شخص کو مال و دولت اور عورت کا لالچ دیا تو وہ بددعا کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ اگرچہ وہ شخص ایسی بددعا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا ، تاہم اللہ نے فرمایا فمثلہ کمثل الکلب (الاعراف 176) ایسے شخص کی مثال کتے کی ہے۔ جس کو ڈانٹ دو یا چھوڑ دو ، وہ ہانپتا ہی رہتا ہے۔ کتے میں بھی یہی دو خصلتیں ہیں ، ایک تو وہ لالچی ہوتا ہے اور دوسرا شہوت پرست ، تو اللہ نے ایک یہ کتے کی مثال بھی بیان کی ہے۔ اسی طرح اللہ نے کافروں اور مشرکوں کو جانوروں کی طرح بیان کیا ہے۔ اولئک کالانعام (الاعراف 179) وہ جانوروں کی طرح ہیں۔ جانوروں کا مقصد حیات بھی کھانا پینا اور شہوت رانی ہے اور کفار ومشرکین کی زندگی کا مقصد بھی اس سے زیادہ نہیں ، لہٰذا ان کی مثال جانوروں کی ہے۔ بہرحال یہاں پر اللہ نے حاملین تورات کو گدھے کیس تاھ تشبیہ دی ہے جس نے کتابوں کا بوجھ اٹھارکھا ہو مگر ان سے مستفید نہیں ہوتا۔ یہ مثال صرف اسرائیلیوں تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ تمام لوگوں کو بات سمجھائی جارہی ہے کہ اگر کوئی شخص علم رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتا۔ اس کی مثال گدھے کی ہے ، جس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں اسی لئے حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا ہے اللھم انی اعوذبک من علم لا ینفع ، اے اللہ ! میں ایسے علم سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو غیر مفید ہو۔ دوران خطبہ کلام کی ممانعت : مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ خطبہ جمعہ کے وقت حضور ﷺ نے مکمل خاموشی کا حکم دیا ہے حتیٰ کہ درود شریف پڑھنے کا حکم بھی نہیں ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص امام خطبے کے دوران بات چیت کرتا ہے ھو کمثل الحمار یحمل اسفارا ، وہ اس گدھے کی مانند ہے جس پر کتابوں کا دفتر لادا ہوا ہو ، نیز فرمایا کہ جو شخص کسی بولنے والے شخص کو کہتا ہے کہ خاموش رہو ، وہ بھی جمعہ کا مخصوص ثواب حاصل نہیں کرسکتے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اس حکم پر عمل درآمد کے لئے کسی دوسرے شخص کو بول کر تلقین بھی نہیں کی جاسکتی ، یہ اتنا نازل مسئلہ ہے۔ مسجدوں میں عام طور پر خاموشی اختیار کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ ہمارے ہاں لوگ چھوٹے بچوں کو مسجد میں لے آتے ہیں جو شور کرکے مسجد کے احترام کو خراب کرتے ہیں ہاں جب بچتہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز سکھانے کے لئے مسجد میں لانے کی اجازت ہے۔ مسجد کے مذکورہ اندرونی شور کے علاوہ بیرونی شور وشر بھی نماز میں خلل انداز ہوتا ہے ایک مسجد میں نماز ہورہی ہے تو دوسری مسجد میں لائوڈ سپیکر پر درس ہورہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔ مگر بلند آواز سے درس دینے والوں کا مقصد محض یہ ہے کہ ان کے فرقے کی بات غالب آجائے۔ یہ کوئی نیکی کی بات نہیں ہے بلکہ حدیث کے خلاف عمل ہے ایک دوسرے کے سامنے تو قرآن کی آواز بھی بلند نہیں کرنی چاہیے۔ تاکہ دوسروں کی عبادت میں خلل نہ پڑے۔ مولانا رومی (رح) اور علم : مولانا رومی (رح) نے اپنی ” مثنوی “ میں دین کے حقائق طرح طرح کی مثالوں کے ذریعے سمجھائے ہیں۔ اس میں عقیدے ، عمل اور اخلاق کی باتیں بھی ہیں۔ آپ نے علم سے متعلق بھی بعض بہت اچھی مثالیں دی ہیں۔ مثلاً علم ہائے اہل دل عمال شاں علم ہائے اہل تن حمال شان ترجمہ : جن کا عمل دل پر اثر انداز ہوتا ہے وہ اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں مگر جن لوگوں کا علم جسم تک محدود ہوتا ہے ، وہ ان پر بوجھ ہی ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ اہل بدعت اور باطل فرقوں والے قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یعنی اس کا اثر دل پر نہیں ہوگا۔ علم چوں بر دل زند یارے بود علم چوں برتن زند بارے بود ترجمہ : جس علم کا اثر تمہارے دل پر ہوگا۔ وہ تمہارا دوست بنے گا۔ اور جس علم کا اثر صرف جسم تک ہوگا۔ وہ تو محض بوجھ ہی ہوگا۔ جس کا فائدہ کچھ نہیں ہوگا۔ چوں بہ دل خوانی زحق گیری سبق چوں بہ گل خواہی شماری ورق ترجمہ : جس چیزکو دل سے پڑھو گے تو حق کی جانب سے سبق حاصل ہوگا۔ اور اگر گارے یعنی جسم سے ہی پڑھو گے تو محض ورق گردانی ہوگی ۔ فائدہ کچھ نہیں ہوگا۔ شیخ سعدی (رح) نے بھل علم کی تعریف اس طرح کی ہے۔ ؎ سعدی بشوئے دل لوح از نقش غیر دوست علمے کہ راہ بحق نہ نماید ضلالت است ترجمہ : اے سعدی (رح) دل کی تختی کو اپنے دوست کے نقش کے سوا ہر چیز سے دھو ڈال۔ کیونکہ جو علم حق کی راہ نہیں دکھاتا۔ وہ تو گمراہی ہے۔ ظاہر ہے کہ حقیقی دوست تو اللہ تعالیٰ ہے جیسے اس کا فرمان ہے۔ اللہ ولی الذین امنو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا دوست ہے ، وہی رفیق اور کارساز ہے ، وہی الٰہ اور معبود برحق ہے ، اس کے نقش کے سوا دل کی تختی کو دھو ڈال۔ غرضیکہ اللہ نے یہ مثال کے طور پر فرمایا ہے کہ جن کو حاملین تورات قرار دیا گیا تھا۔ اور انہوں نے اس کا حق ادا نہیں کیا تو ان کی مثال گدھے کی ہے جو کتابوں کا بوجدھ اٹھائے ہوئے ہے ۔ انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو آج ہم بھی اس مثال پر پورے اترتے ہیں۔ ہم قرآن کے حاملین ہیں مگر بےعملی کی وجہ سے گدھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ گدھا کتابوں سے کیا فائدہ اٹھ اسکے گا۔ یہ تو محض بوجھ اٹھانے والی بات ہے۔ فرمایا بئس مثل القوم الذین کذبوا بایت اللہ بری ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا۔ اگر اسرائیلیوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تو آج کے مسلمان بھی ان سے کم نہیں۔ یہ بھی اپنے عقیدہ ، اخلاق ، عمل اور زبان غرضیکہ ہر طریقے سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو جھٹلاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعویٰ اور پھر ان کی تاویلیں کرتے ہیں اور اس طرح کتاب وسنت کی تکذیب کرتے ہیں۔ فرمایا واللہ لا یھدی القوم الظلمین اللہ بےانصاف لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔ البتہ ان چیزوں سے توبہ کرلینے کی صورت میں ہدایت نصیب ہوجاتی ہے بشرطیکہ کوئی شخص ہدایت کا طلبگار ہو ، ضد ، عناد ، ہٹ دھرمی اور بےانصافی پر قائم رہنے سے ہدایت حاصل نہیں ہوسکتی اور نہ ہی انسان منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔
Ayahs 62:6–8

قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 62:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے اے وہ لوگو جو یہودی بنے ہو ، اگر تم دعویٰ کرتے ہو کہ تم اللہ کے دوست ہو۔ دوسرے لوگوں کے سوا ، پس تم خواہش کرو موت کی اگر تم سچے ہو

وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 62:7 in the Quran reader

اور نہیں تمنا کریں گے یہ موت کی کبھی بھی ان کاموں کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ظلم کرنے والوں کو

قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْهُ فَاِنَّهٗ مُلٰقِیْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 62:8 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے بیشک وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو ، پس وہ یقینا تم سے ملنے والی ہے۔ پھر تم لوٹائے جائو گے اس پروردگار کی طرف جو چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے پس وہ ظاہر کردے گا تمہارے سامنے جو کام تم کیا کرتے تھے

ربط آیات : اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہہ بیان کرنے کے بعد نبی آخر الزمان کی بعثت کا ذکر ہوا۔ یہ بعثت عرب کے امیوں کی طرف بالخصوص اور باقی لوگوں کے لئے بالعموم ہے۔ پھر اہل کتاب میں سے یہودیوں کا ذکر ہوا ، جنہیں تورات کا حامل بنایا گیا تھا۔ مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔ اللہ نے ان کی مثال گدھے کے ساتھ دی جس پر کتابوں کا دفتر لدا ہوا ہے مگر وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح یہودی بھی اللہ کی کتاب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے بےانصاف لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی۔ موت کی تمنا : اہل کتاب کا دعویٰ تھا لن یدخل الجنۃ ……………اونصری (البقرہ 111) یہودی کہتے ہیں کہ صرف یہودی جنت میں جائیں گے۔ اور نصاری کا دعویٰ ہے کہ صرف اور صرف وہی جنت کے مالک ہیں اللہ تعالیٰ نے اس دعویٰ کی تردید فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں یایھا الذین بھادوا اے وہ لوگو ! جو یہودی بنے ہو ان عمتم انکم اولیاء للہ من دون الناس اگر تم دوسروں کے سوا اللہ کے دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہو ، اور سمجھتے ہو کہ صرف تم ہی جنت کے وارث ہو فتمنوا الموت ان کنتم صدقین ، تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص مرنے کے بعدہی جنت میں جاسکتا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کے پیارے ہو تو موت کی تمنا کرو تاکہ تم جلدی جنت میں پہنچ جائو۔ اللہ نے ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ یہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں لہٰذا ولا یتمنوتہ ابدا یہ کبھی بھی موت کی خواہش نہیں کریں گے بما قدمت ایدیھم ان کاموں کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں سے آگے بھیجے ہیں۔ ان کی سیاہ کاریاں ان کے سامنے ہیں اور یہ جانتے ہیں مرنے کے بعد نہیں کبھی جنت نصیب نہیں ہوگی بلکہ یہ جنم کے گندہ ما تراش ہیں کے اللہ نے سورة البقرہ میں فرمایا ہے کہ یہ تو ۔۔۔۔ سے بھی زیادہ حریص ہیں اور چاہتے ہیں لو نعمر الف سنہ ( آیت 96) کہ انہیں ایک ہزار سال زندگی مل جائے ، بھلا یہ موت کی تمنا کیسے کرسکتے ہیں ؟ حقیقت ہے کہ جو آدمی اپنے دعویٰ میں سچا ہوگا وہ موت سے نہیں ڈرے گا۔ الموت جسر یوصل الخبیب الی الحبیب ، کیونکہ موت تو ایک پل ہے جو دوست کو دوست کے ساتھ ملاتا ہے۔ مگر یہ لوگ بزدل اور غلط کار ہیں۔ نہ ان میں سچی محبت ہے اور نہ یہ موت کی تمنا کریں گے۔ موت سے محبت : حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کی موت سے محبت کے متعلق بہت سی باتیں منقول ہیں۔ وہ جہاد میں بخوشی شریک ہوتے اور کہتے غدا نلق الاحبۃ محمدا وحزبہ کل ہم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کے گروہ کے ساتھ جاملیں گے۔ وہ شہادت میں خوشی محسوس کرتے اور کہتے یا حبذا الجنۃ واقترابھا طیبۃ وماء بارد شرابھا ، کیا ہی اچھی ہے جنت اور اس کا قرب پاکیزہ ہے اور ٹھنڈا پانی اس کا مشروب ہے ، وہ لوگ موت کو قریب آتے ہوئے دیکھ کر کہتے تھے حبیب جاء علی فاقۃ فاقہ کی حالت میں موت آرہی ہے اور یہ کتنی پیاری چیز ہے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کا وہ خط تاریخ میں موجود ہے جو انہوں نے اپنے مدمقابل عراقی طاقت کو لکھا تھا۔ آپ نے اس خط میں تنبیہ کی تھی کہ یادرکھو ! ہمارے نزدیک موت اس قدر محبوب ہے کہ تمہارے نزدیک اتنی محبوب شراب بھی نہیں ہے ، ہمیں اپنی جانوں کی ہلاکت کی کوئی فکر نہیں کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید ، اور آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ حضرت علی ؓ سے بھی منقول ہے۔ کہ انہوں نے اپنے بیٹوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا یا بنی لا یبالی ابوک ان سقط علیہ الموت اوسقط علیہ اے بیٹے تیرا باپ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ موت اس پر گر جائے یا وہ موت پر جاگرے۔ یہی بات حضور ﷺ کی دعائے مبارکہ میں بھی پائی جاتی ہے لو دت انی اقتل فی سبیل اللہ ثم احی ثم اقتل میری خواہش ہے کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کیا جائوں ، پھر زندہ کیا جائوں ، پھر شہید کیا جائوں ، پھر زندہ کیا جائوں ، پھر شہید کیا جائوں۔ یہ چیز موت سے محبت کی علامت ہے کیونکہ اس کے بدلے میں جو کچھ آگے ملنے والا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ حضور ﷺ نے یہ دعا بھی سکھائی ہے۔ اللھم حبب الموت الی من یعلم ان محمد رسولہ ، اے اللہ ! موت کو اس شخص کے نزدیک پسندیدہ ٹھہرا دے جس کو یقین ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ موت ایک بھیانک چیز ہے۔ لہٰذا اہل ایمان کو آخرت میں ملنے والے آرام و راحت کے پیش نظر فرمایا لا یدوقون الموت الا الموتہ الاولی ان کو پہلی موت کے علاوہ موت کی دوبارہ تلخی نہیں آئے گی۔ نیز فرمایا فاصعا بتکم مصیبۃ الموت ، تمہیں موت کی مصیبت یعنی اس کی تلخی والی ہے۔ اسی لئیحضور ﷺ نے دعا میں سکھایا اللھم ھون علی سکرت الموت وغمرت الموت ، پروردگار ! مجھ پر موت کی غشی اور اس کی تلخیاں آسان فرمادے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کل … ……………الموت (آلعمران 185) کہ ہر جان نے موت کا ذائقہ ضرور چکھنا ہے اور اس سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔ البتہ سچا اور ایماندار آدمی دنیا پر حریص نہیں اور نہ وہ موت سے ڈرتا ہے۔ ایک دفعہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر میں نے محمد ﷺ کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے ہوئے پالیا تو میں اسکی گردن روند ڈالوں گا۔ جب یہ بات حضور ﷺ کو معلوم ہوئی تو فرمایا لو فعل لا خذتہ الملئکۃ عیانا ، اگر وہ بد بخت ایسا کر گزرتا تو اللہ کے فرشتے اسے فوراً پکڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیتے۔ اسی بات کا اشارہ اللہ نے سورة العلق میں فرمایا ہے ، ارء یت…………… ……اذا صلی (آیت 9- 10) کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جو ایک بندے کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے ؟ حضور ﷺ نے ایک روایت میں یہ بھی فرمایا ہے لو ان الیھود تمنوا الموت لما توا ولرائو مقاعد ھم من النار ، اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو فوراً مرجاتے اور اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ لیتے۔ یہ بد بخت حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بھلا عربوں میں بنوت کہاں سے آگئی ، یہ تو ہمیشہ سے ہمارے خاندان کے ساتھ وابستہ ہے۔ اسی طرح دائود (علیہ السلام) کی نسل کے لوگ بھی کہتے تھے کہ یہ کہاں کے نبی بن گئے ، نبوت تو ہمیشہ کے لئے دائود (علیہ السلام) کی نسل میں رہی ہے۔ پھر یہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا حقدار ثابت کرتے تھے اور خدا کے محبوب بنتے تھے ، بہرحال فرمایا کہ اگر یہودی موت کی خواہش کرتے تو فوراً ہلاک ہوجاتے اور سیدھے دوزخ میں پہنچ جاتے۔ سورة آل عمران میں یہ واقعہ موجود ہے کہ نجران کے کچھ عیسائی حضور ﷺ سے مناظرہ کرنے کے لئے آئے تھے۔ جب وہ بحث مباحثہ کے ذریعے ماننے پر آمادہ نہ ہوئے تو حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے انہیں مباہلہ کی دعوت دیدی مگر وہ بھاگ گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر وہ مباہلہ کو چیلنج قبول کرلیتے ، لوجعوا ولا یجدون اھلا و لا مالا تو وہ اس حال میں واپس جاتے کہ ان کے اہل و عیال تباہ ہوجاتے اور ان کے پاس کچھ باقی نہ رہتا۔ بہرحال فرمایا کہ یہ لوگ موت کی تمنا کبھی نہیں کرینگے ، کیونکہ انہیں اپنی کرتوتوں کا علم ہے۔ واللہ علیم بالظلمین اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو خوب جانتا ہے ، وہ ان سے ذرے ذرے کا حساب لے لیگا۔ موت سے مضر نہیں : ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں ان الموت الذی تفرون منہ بیشک جس موت سے تم بھاگتے ہو فانہ ملقیکم وہ یقینا تم سے ملنے والی ہے تم موت سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے ، موت کی آمد تمہاری خواہش کے ساتھ مشروط نہیں بلکہ یہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور آجائیگی طبرانی شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ موت سے بھاگنے والے شخص کی مثال اس لومڑی کی ہے جس نے زمین کا قرض ادا کرنا تھا۔ جب زمین اس سے قرضہ واپس طلب کیا تو وہ بھاگ کھڑی ہوئی تاکہ کہیں دوسری جگہ چلی جائے جہاں زمین قرضہ طلب نہ کرسکے ، مگر وہ جہاں بھی جاتی زمین پر ہی ہوتی اور زمین اس بےقرضہ طلب کرتی۔ لومڑی بھاگتے بھاگتے تھک ہار کر ہلاک ہوگئی ، مگر زمین سے باہر نہ نکل سکی اور زمین میں برابر اس سے قرضہ کی واپس کا مطالبہ کرتی رہی۔ موت سے بھاگ جانے والے کی مثال بھی ایسی ہے کہ وہ خواہ کہیں بھی جلا جائے موت تو اسے مل کر رہے گی اور ضرور واقع ہوگی۔ موت کے اٹل ہونے کے متعلق بعض شعراء نے بھی بات سمجھائی۔ ؎ من ھاب اسباب المنا یا ینلنہ ولو وام اسباب السماء بسلم جو شخص موت کے اسباب سے بھاگتا ہے وہ تو اس کو پکڑ ہی لیتے ہیں اگرچہ وہ سیڑھی لگا کر آسمان پر ہی کیوں نہ چلا جائے۔ یلیت شعری وھم المرء ینصبہ ولیس لہ فی العیش تحزیر کاش مجھے علم ہوتا کہ انسان کی فکر مندی اس کو غم میں مبتلا کرتی ہے ، اور انسان کو موت سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ موت کا کوئی علاج نہیں ہے۔ موت کے لئے دعا کا مسئلہ : خود موت طلب کرنے کا بھی ایک مسئلہ ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ موت سے ڈرنا تو نہیں چاہیے مگر مصیبت سے تنگ آکر موت کے لئے دعا کرنا بھی درست نہیں۔ آپ نے فرمایا لضر نزلہ بہ خدانخواستہ کوئی تکلیف پہنچ جائے ، بیماری لاحق ہوجائے ، مال ضائع ہوجائے ، اور اولاد باقی نہ رہے ، تو ایسی پریشانی سے تنگ آکر موت نہیں مانگنی چاہیے۔ ہاں اگر دین کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو تو پھر موت کی تمنا کی جاسکتی ہے۔ آپ نے یہ دعا بھی سکھائی ہے اللھم ماعلمت الحیوۃ خیرا الی فاحینی پروردگار ! جب تک تو جانتا ہے کہ دنیا کی زندگی میرے لئے بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ ، اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو پھر وہ عطا کردے۔ امام ابوبکر حبصاص (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہحضور ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر دلیل بھی ہے۔ اللہ نے یہاں پر فرمایا ہے کہ اگر یہودی سچے ہیں تو وہ موت کی دعا کریں اور ساتھ پیشین گوئی بھی کردی کہ وہ ہرگز ایسی دعا نہیں کریں گے۔ یہ دونوں چیزیں واقع نہیں ہوئیں نہ تو یہودیوں نے موت کی دعا کی اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو سچا ثابت کیا ، لہٰذا وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ مسلمان یہود کے نقش قدم پر : اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بارے میں جس قدر باطل نظریات اور رسوم کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ ساری قباحتیں آج مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہودیوں نے جھوٹے عقیدے بنارکھے ہیں ، باطل رسوم نکالی ہوئی ہیں ، ایمان سے خالی ہیں ، ان میں مشرکوں سے بڑھ کر عناد پایا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ہدایت کو قبول کرتے ہیں۔ وگرنہ اکثریت اس سے محروم ہی رہتی ہے۔ یہی چیزیں مسلمانوں میں بھی موجود ہیں ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ تم بھی یہود کے نقش قدم پر چلو گے ، جو بزدلی ، خیانت اور باطل رسوم اس وقت یہودیوں میں پائی جاتی ہیں وہی تمہارے اندر بھی آجائیں گی۔ یہودیوں کی طرح تم بھی اللہ کی کتاب اور دین کو پس پشت ڈال دوں گے ، جس طرح ان کی مثال اللہ نے گدھے کے ساتھ دی ہے تمہارا حشر بھی وہی ہوگا ۔ چناچہ انصاف کی بات یہ ہے کہ یہود ومشرکین میں پائی جانے والی تمام فاسد رسوم آج مسلمانوں میں بھی موجود ہیں۔ یہ ان کے مزاجوں میں راسخ ہوچکا ہے اور یہ انہیں کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ان کا خصوصی مظاہرہ خوشی اور غمی کے مواقع پر ہوتا ہے جب اسلامی طریقے کے برخلاف لوگ غیر اسلامی قبیح رسوم میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھر ان پر اصرار کرتے ہیں۔ ہندوئوانہ رسوم مسلمانوں میں : مفسر حقانی (رح) لکھتے ہیں کہ مولانا عبیداللہ (رح) آف پاٹل آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے مسلمان ہوئے۔ آپ برہمن تھے۔ پھر دین کی تعلیم حاصل کی اور مشرقی پنجاب میں سینکڑوں ہندوئوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ انہوں نے ” تحفت الہند “ نامی کتاب لکھی ہے جس میں ان لوگوں کے نام بھی لکھے ہیں جو آپ کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔ اس کتاب میں انہوں نے ان تمام رسومات باطلہ کا ذکر کیا ہے جو مسلمانوں نے ہندوئوں سے اخذ کی ہیں۔ برہمنوں نے اپنے لالچ کی خاطر ہندوئوں میں بہت سی رسوم جاری کردیں۔ وہ مرنے والے کے وارثوں سے کہتے کہ تمہارا مردہ نرک (دوزخ) میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر اسے وہاں سے رہائی دلانی ہے تو ایک گائے دان (صدقہ) کرو تاکہ مرنے والا اس کی دم پکڑ کر دوزخ سے باہر نکل سکے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ ہمارے ہاں بھی قل ، تیجا ، دسواں ، ساتواں ، چالیسواں وغیرہ جیسی باطل رسم نکل آئی ہے جن پر پھل اور کھانا وغیرہ کھلایا جاتا ہے ، کپڑے ، لوٹا ، مصلیٰ ، برتن ، اناج وغیرہ دیا جاتا ہے تاکہ مولوی کا پیٹ بھرے اور مردے کے لئے ختم پڑھ کر دعا کرے تو اس کی جان چھوٹے۔ یہ سب برہمنوں کی جاری کردہ رسوم ہیں جو مسلمانوں نے اپنالی ہیں۔ اس کے برخلاف ملت ابراہیمیہ کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مرنے والے ایماندار آدمی کو صدقہ خیرات ، دعا ، استغفار وغیرہ فائدہ دیتا ہے۔ اگر قرآن کریم پڑھ کر بخشا جائے تو اس کا بھی فائدہ ہوگا۔ تاہم اگر معاوضہ دے کر پڑھایا تو وہ رسم ہوگئی اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اور خرچ کردہ مال باطل راستے میں ضائع ہوگیا۔ اسی طرح ہندوئوں نے دسہرے کے تہوار پر ہنومان کی شبیہ بنائی تو مسلمانوں نے محرم کے موقع پر ان کی نقالی کرلی ، ہندوئوں نے دیوالی پر چراغاں کیا تو مسلمانوں نے شب برات اور معراج کے موقع پر لائٹیں لگائیں ، آتشبازی کی اور جھنڈیاں وغیرہ لگا کر ان کے ہاں میں ہاں ملادی۔ بعض جگہوں پر مرنے والی کی میت پر سرخ دوپٹہ ڈالا جاتا ہے جو کہہندوانہ رسم ہے ، خاص طور پر میت پر قرآن پاک کی آیات سے مزین چادر ڈالنا تو قرآن کی توہین کے مترادف ہے جس سے قرآن کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ یہ بھی یہودیوں کا سکھایا ہوا سبق ہے۔ قرآن کا حق تو یہ ہے کہ خود پڑھ کر مردے کو ثواب پہنچائے یا قرآن خرید کر کسی محتاج کو دے دے کہ وہ پڑھے اور مرنے والے کو اس کا فائدہ پہنچے۔ مسلمانوں کا بوہرا فرقہ کراچی ، بمبئی ، کاٹھیاوار اور مدراس وغیرہ میں رہتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے مولوی سے چھٹی لکھوا کر مردے کے کفن میں رکھ دیتے ہیں یہ چھٹی بھائی جبرائیل (علیہ السلام) کے نام ہوتی ہے کہ یہ مرنے والا ہمارا آدمی ہے اس کو اناج ، کھجور ، پھل وغیرہ دینا تاکہ یہ کسی چیز سے محروم نہ رہے۔ غرضیکہ اس قسم کی رسومات یہودی اور ہندو ادا کرتے ہیں تو ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی شروع کردی ہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ یہودی تو زندگی پر پرلے درجے کے حریص ہیں۔ یہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے ، مگر جس موت سے یہ بھاگتے ہیں وہ آکر رہے گی۔ فرمایا ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ ، پھر تم ظاہر و باطن کو جاننے والے پروردگار کی طرف لوٹائے جائو گے ، مطلب یہ ہے کہ اس زندگی میں انجام دیے گئے اعمال کی جزا کے لئے ہر ایک کو موت کی گھاٹی پر لازمی چڑھنا ہے۔ اور اس سے کسی طور پر بھی راہ فرار اختیار نہیں کی جاسکتی۔ سورة الم السجدۃ میں بھی اللہ کا فرمان ہے۔ قل یتوفکم……………………ترجعون (آیت 11) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اللہ کا مقررہ کردہ موت کا فرشتہ تمہیں وفات دیگا۔ اور پھر تمہیں اپنے پروردگار کی طرف جزائے عمل کے لئے جانا ہوگا۔ فینبئکم بما کنتم تعملون ، پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جو کچھ تم کام کیا کرتے تھے۔ تمہارے سارے اعمال اس کے ہاں محفوظ ہیں جن کو نکال کر وہ تمہارے سامنے رکھ دے گا اور پھر تمہیں ان کی جوابدہی کرنا ہوگی۔