62. Surah Al-Jumu'a

الجمعةFriday · 11 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 62:9–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 62:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جس وقت اذان پکاری جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن ، پس کوشش کرو اللہ کے ذکر کی طرف ، اور چھوڑ دو خرید وفروخت۔ یہ بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 62:10 in the Quran reader

پس جب پوری کرلی جائے نماز تو پھیل جائو زمین میں اور تلاش کرو اللہ کے فضل سے ، اور یاد کرو اللہ کو کثرت سے تاکہ تم فلاح پاجائو

جمعہ کی فضیلت : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجمعہ اسی لئے ہے کہ اس کے دوسرے رکوع میں جمعہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ جمعہ کے دن اور اس کی نماز کو دین میں خصوصیت حاصل ہے۔ نمازجمعہ نماز ظہر کے قائم مقام پڑھی جاتی ہے۔ تاہم یہ ظہر سے زیادہ موکدہ ہے۔ جمعہ کے دن کو حضور ﷺ نے سعید الایام فرمایا ہے اور قیامت والے دن یہ بڑی نمایاں حیثیت میں ظاہر ہوگا۔ یوم الجمعہ کے فضائل کے ضمن میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰحضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا ، اسی دن آپ کو جنت میں داخل کیا اور اسی دن وہاں سے نکالا قیامت بھی بروز جمعہ ہی برپا ہوگی۔ حضور ﷺ کو ایک آئینہ دکھایا گیا جس کے درمیان میں ایک نقطہ تھا۔ آپ کو بتلایا گیا کہ یہ جمعہ ہے۔ جمعہ کی رات اور جمعہ کا دن دونوں بابرکت ہیں۔ لیلۃ مبرکۃ ویوم اظھر اس کی رات بابرکت اور دن بڑا نمایاں ہے۔ جمعہ کے دن ایک ایسی مبارک گھڑی آتی ہے کہ اس دوران ایماندار آدمی جو مناجات کرتا ہے یا دعا کرتا ہے۔ وہ قبول ہوتی ہے۔ مسلم شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک کے وقفہ میں ہوتی ہے۔ جو شخص جمعہ کے دن سورة کہف کی تلاوت کرتا ہے اس کے لئے خدا تعالیٰ دس دن تک روشنی پیدا کردیتا ہے۔ بعض دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ زمین سے آسمان تک روشنی پیدا ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فتنہ دجال سے حفاظت کا سامان پیدا کرے گا۔ اگر ساری سورة کی تلاوت نہ کرسکے تو اس کی پہلی اور آخری دس دس آیتیں ہی پڑھ لے ۔ اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو پہلی دس آیتیں یا کم از کم تین آیات ہی تلاوت کرلے تو اللہ تعالیٰ پھر بھی مختلف درجات عطا فرمائے گا۔ بہرحال اس تلاوت کی فضیلت کا تعلق جمعہ کے دن سے ہے۔ جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے کی بھی بڑی فضیلت آئی ہے اور حضور ﷺ نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ درود تو ہر دن اور ہرو قت باعث فضل ورحمت ہے ۔ جمعہ کے دن اس کی خاص فضیلت ہے۔ نماز جمعہ کے لئے جلدی آنے کی بھی حضور ﷺ نے بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ جو شخص جمعہ کی نماز کے لئے سب سے پہلے مسجد میں آتا ہے تو فرشتے اس کے لئے اونٹ صدقہ کرنے کے برابر ثواب لکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر آنے والے کے لئے گائے صدقہ کرنے کا ثواب ، پھر اسی طرح درجہ بدرجہ مرغی اور انڈے تک کی فضیلت رہ جاتی ہے۔ حتیٰ کہ جب اہام خطبہ شروع کردیتا ہے تو فرشتے نام لکھنا بند کردیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ جمعہ کی اذان : ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنو ، اے ایمان والو ! اذا نودی لصلوٰۃ من یوم الجمعۃ جس وقت اذان پکاری جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن عام نمازوں کے لئے ایک ہی اذان ہوتی ہے ، مگر نماز جمعہ کے لئے دو اذانیں کہی جاتی ہیں۔ پہلی اذان امام کے خطبہ دینے سے کافی پہلے دی جاتی ہے جب کہ دوسری اذان اس وقت ہوتی ہے جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے۔ ابتداء میں یہ دوسری اذان ہی دی جاتی تھی ، تاہم حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں جب آبادی بڑھ گئی تو مدینہ کے مقام زوراء پر پہلی اذان دینے کا حکم ہوا ، اور دوسری اذان وہی قائم رہی جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے ساتھ ہی کہی جاتی ہے۔ حضرت عثمان ؓ خلیفہ راشد تھے۔ اور انہوں نے ہی دوہری اذان کا طریقہ جاری کیا مگر کسی صحابی ؓ نے اعتراض نہیں کیا کہ یہ نیا کام شروع ہوگیا ہے ، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اذان تمام صحابہ ؓ کے اتفاق سے شروع ہوئی۔ ویسے بھی حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری اور خلفائے راشدین ؓ کی سنت کو لازم پکڑو کیونکہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ تو اس لحاظ سے بھی خلیفہ راشد حضرت عثمان ؓ کی جاری کردہ اذان درست ہے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں۔ جمعہ کے بعض مسائل : نماز جمعہ تمام مسلمان مردوں پر فرض ہے ، البتہ عورتیں ، مسافر ، بیمار اور معذور آدمی سے یہ فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ اندھے کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر اس کو پکڑ کر مسجد میں لانے والا آدمی موجود ہے تو نماز جمعہ اس پر بھی فرض ہوگی ، جو لوگ جمعہ کی نماز ادا کرلیں گے ان کے لئے ظہر کی نماز باقی نہیں رہے گی۔ جمعہ کی نماز کے لئے خطبہ شرط ہے ، اگر خطبہ نہیں ہوا تو نماز جمعہ نہیں بلکہ ظہر کی نماز ادا کی جائیگی ، خطبہ میں اللہ کی حمدوثنا بیان کی جاتی ہے ، قرآن کی کوئی آیت تلاوت کی جاتی ہے ، مسلمانوں کو کوئی وصیت کی بات کی جاتی ہے اور آخر میں دعا کی جاتی ہے۔ یہ خطبے کے اجزاء ہیں۔ اگر نماز جمعہ کے لئے جانے میں وقت پیش آجائے مثلاً سخت بارش ہورہی ہے ، تیز آندھی یا طوفان اٹھ رہا ہو تو پھر جمعہ کے لے حاضر ہونا ضروری نہیں رہتا بلکہ اپنے ٹھکانے پر نماز ادا کی جائے گی۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جمعہ کا خطب مکمل خاموشی کے ساتھ سننا چاہیے جو شخص خطبہ کے دوران کلام کرتا ہے اس کی مثال گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لادا ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کلام کرنے والے شخص کو بول کر کہتا ہے کہ خاموش رہو تو اس کا جمعہ بھی باطل ہوجاتا ہے (یعنی جمعہ کی نماز کا مخصوص اجروثواب اس کو حاصل نہیں ہوگا) لہٰذا خطبہ کے دوران مکمل خاموشی لازمی ہے اگر کوئی شخص دوران خطبہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو دوسرے ائمہ فرماتے ہیں کہ دو رکعت ہلکی نماز پڑھ لے ، تاہم امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں کہ اس وقت کوئی نماز نہ پڑھے بلکہ بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ خطبہ سنے۔ نماز جمعہ کسی شہر یا اس کے شاملات ، کسی بڑی بستی یا قصبہ میں درست ہے البتہ کسی بادیہ ، گھاٹ ، کنوئیں ، جنگل یا صحرا میں جمعہ کی نماز ادا کرنا درست نہیں شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ امت نے یہ بات معنوی طور پر سمجھ لی ہے کہ جمعہ کے لئے کسی نہ کسی درجے میں تمدن کا ہونا ضروری ہے۔ چناچہ امام شافعی (رح) اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ جہاں چالیس آدمی اکٹھے ہوجائیں وہاں جمعہ درست ہے البتہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ شہر ، قصبہ ، بڑی بستی ، بازار یا منڈی ہونی چاہیے۔ خواہ آبادی کم ہی کیوں نہ ہو۔ جمعہ ظہر کے وقت میں ہی ہوسکتا ہے ۔ اگر ظہرکا وقت نکل گیا تو پھر جمعہ نہیں ہوگا۔ شہر کے متعدد مقامات پر بھی جمعہ پڑھنا روا ہے بشرطیکہ اس کی ضرورت ہو۔ تاہم ہر مسجد میں بلا ضرورت جمعہ کرانا درست نہیں کیونکہ یہ اسلام کی اجتماعیت کے خلاف ہے۔ اسلام نے تو اجتماعیت کا درس دیا ہے ، مگر آج حالت یہ ہے کہ دھڑا بندی کی وجہ سے ہر چھوٹی بڑی مسجد میں جمعہ ادا کیا جاتا ہے۔ جمعہ کے دن غسل کرنا ، خوشبو لگانا ، مسواک کرنا ، حجامت بنوانا ، ناخن ترشوانا ، مسنونہ اعمال ہیں جن کی تاکید آئی ہے۔ فرض نماز جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت ظہر ہی کی طرح موکدہ ہیں ، البتہ فرائض کے بعد والی سنن میں اختلاف ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت کے مطابق فرائض کے بعد چھ رکعت سنت ہیں ، بعض چار پڑھتے ہیں اور امام احمد (رح) دو پر اکتفا کرتے ہیں تاہم صحیح بات یہ ہے کہ چھ رکعت سنت موکدہ ہیں۔ نماز جمعہ کے لئے اہتمام : فرمایا جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان کہی جائے فاسعوا الی ذکر اللہ تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو۔ امام ابوبکر حبصاص (رح) اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر دوڑنے سے مراد بھاگ کر جانا نہیں بلکہ اللہ کے ذکر کے لئے کوشش کرنا مراد ہے۔ نماز کے لئے دوڑ کر جانا تو ویسے ہی مکروہ ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب نماز کے لئے جائو تو نہایت سکون اور اطمینان کے ساتھ چل کر جائو۔ اسی طرح نماز کا جتنا حصہ جماعت کے ساتھ مل جائے ادا کرو اور جو رہ جائے اسے بعد میں پڑھ لو۔ فاسعوا سے مراد خواہش کرنا ، کوشش کرنا ، وضو کرنا ، کپڑے بدلنا ، سواری کا انتظام کرنا۔ یا نماز سے متعلق دیگر امور انجام دینا بھی ہے۔ اس کے علاوہ باقی ہر کام کو ترک کردو۔ امام غزالی (رح) پانچویں صدی میں ہوئے ہیں۔ ان کے زمانے میں نماز جمعہ کا بڑا اہتمام کیا جاتا تھا حتیٰ کہ لوگ دس بجے ہی گھروں سے نکل کھڑے ہوتے تھے اور گلیاں لوگوں سے پر ہوجاتی تھیں۔ مگر آج کل حالت یہ ہے کہ لوگ گھروں میں بیٹھے گپیں مارتے رہتے ہیں ، ہیچ دیکھتے رہتے ہیں ، ریڈیو یا ٹیلیویژن پر گانے سنتے رہتے ہیں۔ پھر جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو دوڑنا شروع کردیتے ہیں۔ ایسی نماز میں کیا برکت آئے گی اور اللہ کی کیا خوشنودی حاصل ہوگی ؟ فاسعوا کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ بہرحال یہاں پر ذکر سے مراد خطبہ اور نمازجمعہ ہے۔ فرمایا اذان ہونے پر نماز جمعہ کا اہتمام کرو وذروا البیع اور خریدوفروخت کو چھوڑ دو ۔ مفسرین کرام (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے صرف خرید وفروخت کا ترک کردینا مقصود نہیں بلکہ نماز کی تیاری کے علاوہ تمام کاموں کو چھوڑدینا مطلوب ہے۔ کوئی شخص کھیتی باڑی کرتا ہے ، صنعت وحرفت کا کام کررہا ہے ، ملازم ہے غرضیکہ ہر کام کو چھوڑ کر مسجد میں آجائو اور خطبہ سنو اور پھر نماز ادا کرو۔ اس وقت میں خریدوفروخت حرام ہوجاتی ہے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ امام کے منبر رپ بیٹھنے اور اذان ہونے کے بعد اگر کوئی شخص خریدوفروخت کرے گا تو وہ بالکل ہی ناجائز ہوگی۔ اس وقت میں نکاح پڑھنا بھی درست نہیں بلکہ بعض ائمہ تو اسے حرام قرار دیتے ہیں اور تجدید نکاح کا حکم دیتے ہیں۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ نکاح جمعہ کے وقت نہ رکھا جائے۔ ہمارے ہاں بھی عجیب حال ہے ادھر اذان ہورہی ہوتی ہے تو ادھر نکاح پڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جمعہ کی اذان سے لے کر اختتام نماز تک نماز کے اہتمام کے علاوہ باقی تمام کاموں کو چھوڑ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اذان سے پہلی اذان مراد ہے یا دوسری جب امام خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھ جاتا ہے اس سلسلے میں حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) لکھتے ہیں کہ اس اذان سے دوسری اذان مراد ہے۔ اس کی توجیہہ یہ ہے کہ پہلی اذان تو حضرت عثمان ؓ کے دور سے شروع ہوئی۔ جب کہ مذکورہ حکم نزول قرآن کے زمانہ کا ہے۔ تاہم دیگر امور کے علاوہ خرید وفروخت کی ممانعت پہلی اذان سے لاگو ہوجاتی ہے کیونکہ دونوں اذانوں کی علت ایک ہی ہے۔ البتہ دوسری اذان (خطبے والی) کا حکم قطعی ہے جب کہ پہلی اذان کا حکم ظنی ہے۔ فرمایا ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو۔ اس بہتری سے مراد آخرت کی بہتری ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص دنیا کا نفع بخش کاروبار چھوڑ کر اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے آجائے گا۔ نماز پڑھے گا ، وعظ ونصیحت سنے گا ، مسلمانوں کے خیر وشر میں شریک ہوگا تو یہ چیزیں دنیا کے فوائد سے بلند تر ہوں گی۔ اسی لئے فرمایا کہ اگر تم میں شعور کا مادہ ہے تو نماز کی دعوت پر لبیک کہنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ نماز جمعہ کے بعد : ارشاد ہوتا ہے فاذا قضیت الصلوٰۃ فانتشروا فی الارض اور جب نماز پوری کرلی جائے تو زمین میں پھیل جائو۔ زمین میں پھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ بازار میں جاکر کام کاج کرو۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص بازار میں جاکر یہ کلمات پڑھے اللہ تعالیٰ اس کو ایک لاکھ نیکی عطا فرمائے گا ، ایک لاکھ چھوٹی موٹی غلطیاں معاف فرمائے گا۔ اور ایک لاکھ درجات بلند کرے گا۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی و یمیت وھو علی کل شیء قدیر۔ بہرحال فرمایا نماز ختم کرنے کے بعد اپنی اپنی ڈیوٹی پر چلے جائو۔ کوئی شخص جو بھی کام کرتا ہے اسے اجازت ہے کہ اب وہ کام شروع کرسکتا ہے۔ یہودیوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ ہفتے والے دن وہ سوائے عبادت کے اور کوئی کام نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ ان کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑے رہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے یہ آسانی پیدا فرمادی ہے کہ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر وہ اپنے کام پر جاسکتے ہیں۔ البتہ جمعہ کی اذان سے لے کر نماز ختم ہونے تک کاروبار بند رکھنے کا حکم ہے۔ فرمایا زمین میں پھیل جائو وابتغوا من فضل اللہ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ فضل سے مراد اسباب معیشت ۔ چناچہ طلب رزق حلال اللہ کے فضل میں داخل ہے۔ علماء کی مجلس میں جاکر علمی استفادہ حاصل کرنا ، کسی کی بیمار پرسی کرنا ، جنازہ پڑھنا ، مومنوں سے ملاقات کرنا ، حصول علم وغیرہ سب چیزیں فضل میں داخل ہیں۔ جملہ اجتماعی اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ ہے۔ جب لوگوں کا اجتماع ہو تو پھر مسلمانوں کے عام مفاد یعنی تبلیغ ، تنظیم اور جہاد کی بات چیت ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے یداللہ علی الجماعۃ جماعت پر اللہ کا دست شفقت ہوتا ہے یعنی باہمی مشورہ سے کام کرنے میں بڑی برکت ہوتی ہے اور یہ موقع جمعہ کا اجتماع بخوبی مہیا کرتا ہے لہٰذا سارے کام کاج چھوڑ کر اس اجتماع میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عراک ابن مالک ؓ نماز پڑھ کر مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوجاتے اور پھر یہ دعا پڑھتے اللھم اجبت دعوتک وصلیت فریضتک وانتشرت کما امرتنی وارزقنی من فضلک و انت خیرالرازقین ، اے اللہ میں نے تیری دعوت کو قبول کیا ، تیری فرض نماز ادا کی ، اور اب میں تیرے حکم کے مطابق منتشر ہوتا ہوں ، پس مجھے اپنے فضل سے روزی عطا فرما کہ تو بہتر روزی عطا کرنے والا ہے۔ ذکر الٰہی : فرمایا نماز کے بعد رزق حلال کی تلاش میں نکل جائو۔ اور ساتھ ساتھ واذکروا اللہ کثیرا اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو۔ ذکر کی کوئی حد نہیں۔ جتنا چاہیں اور جس وقت چاہیں اللہ کا ذکر کریں۔ ذکر کی آسان ترین صورت ذکر لسانی ہے جس میں کتاب اللہ کی تلاوت ، درود شریف ، استغفار اور اللہ کی تسبیح وتنزیہہ کرنا شامل ہے امام جزری (رح) فرماتے ہیں کل مطیع للہ ذاکر نیکی اور اطاعت کا کام کرنے والا ہر آدمی ذاکر ہے۔ تاہم زبانی ذکر کے یہ چار کلمات بہت پسندیدہ ہیں سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر لسانی ذکر کے علاوہو ذکر قلبی اور روحی بھی ہوتا ہے جو بزرگان دین سکھلاتے ہیں۔ الغرض ! فرمایا کہ اللہ کا کثرت سے ذکرو لعلکم تفلحون تاکہ تم فلاح پاجائو۔ حضور ﷺ مل فرمان ہے کہ عذاب سے بچانے والی چیزوں میں ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے ذکر کرنے سے اللہ راضی ہو کر عذاب سے بری کردیتا ہے۔
Ayah 62:11

وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا اِ۟نْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآئِمًا١ؕ قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠ Open ayah 62:11 in the Quran reader

اور جب دیکھتے ہیں یہ لوگ تجارت یا کھیل تماشے کو تو متفرق ہوجاتے ہیں اس کی طرف اور چھوڑ دیتے ہیں آپ کو کھڑا ہوا۔ آپ کہہ دیجئے جو اللہ کے پاس ہے بہتر ہے کھیل تماشے اور تجارت سے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

ربط آیات : گزشتہ دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے احکام بیان فرمائے۔ جن میں جمعہ کی فرضیت ، اذان کا مسئلہ ، اجتماع المسلمین ، خطبہ سننا ، نماز ادا کرنا اور نماز سے متعلقہ امور کے علاوہ تمام کاموں کو ترک کردینا وغیرہ شامل ہیں۔ نماز کے اختتام پر اللہ نے اجازت دے دی کہ زمین میں پھیل جائو یعنی اپنے کاروبار یا محنت مزدوری پر چلے جائو اور اللہ کا فضل یعنی رزق حلال تلاش کرو۔ فرمایا جمعہ کے اجتماع میں شرکت کرنا ، اس کے فیوض وبرکات سے مستفید ہونا اور ممکن حد تک اللہ کا ذکر کرنا باعث نجات ہے۔ شان نزول : سورۃ کی اس آخری آیت میں اللہ نے ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے ، مدنی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ جب کہ نماز جمعہ فرض ہوچکی تھی ، حضور ﷺ جمعہ کے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ یہاں پر قدرے اختلاف ہے کہ نماز جمعہ ادا ہوچکی تھی یا ابھی ہونے والی تھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ ابتدائی میں جمعہ کا خطبہ عیدین کے خطبے کی طرح نماز کے بعد ہوتا تھا اور اس طریقے کے مطابق نماز ادا ہونے کے بعد خطبہ ہورہا تھا۔ تاہم بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جمعہ کا خطبہ ہمیشہ نماز سے پہلے ہی رہا ہے اور اس موقع پر بھی خطبہ ہورہا تھا اور نماز ابھی ادا ہونی تھی۔ اس دوران میں ایک تجارتی قافلہ آگیا۔ بعض روایات کے مطابق یہ قافلہ حضرت دحیہ ابن خلیفہ کلبی ؓ کا تھا جو شام سے اناج لے کر آیا تھا ، اس زمانے میں مدینہ میں اناج کی قلت تھی اور مطلوبہ مال کا آجاتا لوگوں کے لئے غیر معمولی کشش کا باعث بن گیا۔ رواج کے مطابق اس قسم کے قافلوں کی آمد یاروانگی کے وقت ڈھول وغیرہ پیٹے جاتے تھے تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے اور وہ اپنی اشیائے ضرورت کی خریدوفروخت کرسکیں۔ اس موقع پر بھی جونہی قافلے کی آمد کا نقارہ بجا تو خطبہ سننے والے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور قافلے کی طرف چلے گئے جو مسجد کے قریب ہی اترا تھا۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ تمام لوگ خطبہ چھوڑ کر چلے گئے۔ حتیٰ حضور ﷺ کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے جن میں حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمر ؓ اور حضرت جابر ؓ بھی شامل تھے۔ جانے والوں کو خطبہ جمعہ کی اہمیت کا علم نہیں تھا یا انہوں نے اس کو عید کے خطبے کے حکم پر محمول کیا اور اس کی فرضیت کو نہ جانا حالانکہ خطبہ جمعہ کا سننا واجب ہے۔ اس آیت کے ذریعے اللہ نے صحابہ ؓ کی اس لغزش پر تنبیہ فرمائی ہے۔ بعض روایات میں حضور ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اگر سارے لوگ خطبہ چھوڑ کر چلے جاتے تو سب پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوجاتا ، اور ایسی آگ بھڑک اٹھتی جس میں سب جل کر راکھ ہوجاتے۔ بہرحال اس تنبیہ کے بعد صحابہ ؓ نے ایسی غلطی پھر کبھی نہیں کی۔ خطبہ جمعہ اور تجارت : ارشا ہوتا ہے واذا راوا تجارۃ اولھون انفضوا الیھا اور جب یہ کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا کہ یہ تجارت کی بات ہی تو تھی کیونکہ تجارتی قافلہ غلہ لے کر آیا تھا اور کھیل تماشا اس لئے کہ وہاں ڈھول پیٹا جارہا تھا یا کوئی نقارہ بج رہا تھا جو کہ لہو ولعب میں شمار ہوتا ہے۔ تو فرمایا لوگ ادھر چلے جاتے ہیں وتراکوک قائما اور آپ کو خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ جاتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ خطبہ جمعہ سننا ضروری ہے اور دوسری یہ کہ خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا چاہیے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ بنی مروان کا ایک گورنر بیٹھ کر خطبہ دے رہا تھا کہ حضرت کعب ابن عجرہ ؓ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور فرمایا ، اس خبیث کی طرف دیکھو جو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے۔ حالانکہ یہ خلاف سنت ہے اور یہ معذور بھی نہیں ہے۔ اور حضور ﷺ کے متعلق اللہ کا فرمان ہے وترکوک قائما یہ لوگ آپ کو کھڑے ہوئے چھوڑ جاتے ہیں ، گویا خطبہ کھڑے ہو کردینا ہی سنت ہے ۔ جب نبی (علیہ السلام) خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ پر اس قدر جوش طاری ہوجاتا تھا گویا کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں۔ روزی مقرر ہے : فرمایا قل ماعنداللہ خیر من اللھو ومن التجارۃ واللہ خیر الرزقین ، اے پیغمبر ! آپ ان خطبہ چھوڑ کر چلے جانے والوں سے کہہ دیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ تجارت اور کھیل کود سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے بہترروزی دینے والا ہے۔ ظاہر ہے ۔ وعظ ونصیحت سننے ، ذکر و اذکار کرنے اور نماز جمعہ ادا کرنے سے اللہ کے ہاں جو اجر ملنے والا ہے ۔ اس کے سامنے اس دنیا کی تجارت یا لہو ولعب کی کوئی حیثیت نہیں۔ لوگ اناج لینے کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے تھے حالانکہ رزق تو ہر ایک نفس کے لئے اللہ نے خود مقرر کررکھا ہے جو اسے مل کر رہے گا۔ اس کے لئے نماز کو ترک کردینا کسی طور پر مناسب نہیں ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ دنیا کو اچھے طریقے سے طلب کرو کیونکہ ہر ایک کو اتنا حصہ ہی ملے گا جتنا اللہ کے علم میں اس کے لئے مقرر ہوچکا ہے۔ امام سرخسی (رح) نے ” المبسوط “ میں روایت بیان کی ہے کہ طلب تو ضروری ہے لیکن ایسے موقع پر نہیں کہ آدمی خطبہ اور نماز چھوڑ کر روزی کے پیچھے بھاگ جائے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے اطلبو الرزق فی خبایا الارض ، زمین کے کونے کونے سے روزی تلاش کرو۔ اللہ نے رزق کے بہت سے اسباب پیدا کر رکھے ہیں لہٰذا ، اجملوا فی الطلب روزی اچھے طریقے سے تلاش کرو۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشا ہے لیس الغنی عن کثرۃ المال ولکن غنی النفس مال کی کثرت سے تونگری نہیں آتی بلکہ اصل غنا نفس کا ہے جسے حاصل ہوجائے۔ اگر انسان کا نفس ہی بھوکا ہے ، تو وہ شخص غنی نہیں ہوگا۔ نیز فرمایا ان اللہ یعطی عبدہ ماکتب لہ ، اللہ تعالیٰ بندے کو وہی کچھ دیتا ہے جو اس نے اس کے لئے لکھ دیا ہے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا خذوا ماحل ودع ماحرم ، حلال چیز کو لے لو اور حرام چیز کو چھوڑ دو فرمایا ، ان الرزق لیطلب العبد کما یطلبہ الاجل بیشک روزی بندے کو اسی طرح تلاش کرتی ہے۔ جس طرح موت اس کو تلاش کرتی ہے جو دانہ کسی کی قسمت میں لکھا ہے وہ اسے مل کر رہے گا۔ اسی طرح جتنے بھی حیلے کرو ، کہیں بھاگ جائو ، موت ضرور آپکڑے گی۔ آسودہ حال لوگ لندن ، امریکہ اور پتہ نہیں علاج کے لئے کہاں کہاں جاتے ہیں مگر انسان جہاں بھی ہو موت اس کو تلاش کرلیتی ہے اور اسی طرح روزی بھی انسان کو پہنچ جاتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے خیرالذکر الخفی وخیر الرزق مایکفی بہتر ذکر وہ ہے جو آہستہ آواز سے ہو اور بہتر روزی وہ ہے جو کفایت کرجائے۔ لوگ ذکر بالجہر بھی کرتے ہیں۔ مگر یہ افضل نہیں کیونکہ اس میں ریا کا شائبہ پایا جاتا ہے اور دوسروں کو تکلیف بھی ہوتی ہے۔ اب لائوڈ سپیکر پر درود شریف پڑھنے کا عام رواج ہوگیا ہے ، لوگ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو تکلیف ہوگی تو درود شریف مقبول ہوگا ورنہ نہیں۔ رزق بھی وہی بہتر ہے جس سے لازمی ضروریات پوری ہوسکیں۔ بسا اوقات زیادہ مال و دولت غلط راستے پر ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا قل وکفی خیر مما کثر والھی جو تھوڑا ہو اور کفایت کر جائے وہی بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور انسان کو غفلت میں ڈال دے۔ ایسے زیادہ رزق کا کیا فائدہ ہے جو ذکر الٰہی میں رکاوٹ بن جائے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لئے یہ دعا کی اللھم اجعل رزق ال محمد قوتا ، اے اللہ ! خاندان محمد کو وہ روزی عطا فرما جس سے وقت بسر ہوجائے۔ آپ نے رزق کی کشادگی کی دعا نہیں کی بلکہ ایک دوسری حدیث میں فرمایا کہ پروردگار ! مجھے اس قدر عطا فرما کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھائوں اور دوسرے دن فاقہ کروں۔ پیٹ بھر کر کھائوں گا۔ تو تیرا شکرکروں گا اور بھوکا رہوں گا تو صبر کروں گا۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ حضور ﷺ کو اللہ نے اختیار دیا تھا۔ کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کے لبے بطحا کے پہاڑ سونے کے بنادئیے جائیں مگر آپ نے یہی عرض کیا تھا۔ اشبع یوما واجوع یوما یعنی ایک دن پیٹ بھر کر ملے اور ایک دن بھوکا رہوں۔ روزی اور موت : روزی اور موت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کے بس میں بالکل نہیں ہیں ، شاعرلوگ کہتے ہیں۔ دو چیز آدمی راکشد زور زور یکے آب و دانہ وگر خاک گور دو چیزوں آدمی کو زبردستی کھینچ کرلے جاتی ہیں ، ایک رزق اور دوسری قبر کی مٹی حدیث میں آتا ہے کہ جہاں انسان کی موت مقدر ہوتی ہے۔ اللہ کسی نہ کسی بہانے سے اسے وہاں لے جاتا ہے اور وہیں اس کی موت واقع ہوجاتی ہے ، حضرت عاصم ابن ابی النحود (رح) محدث کا قول ہے۔ لابد للمومن ھمان ھم العاش وھم المعاد ، مومن کے لئے دو فکر بہت ضروری ہیں ، ایک معیشت کی فکر یعنی روزی کمانے کا مسئلہ اور دوسری قیامت کی فکر۔ اسی لئے ایک روایت میں آتا ہے طلب الرزق فریضۃ من بعد الفرائض ، اللہ کے مقررہ کردہ فرائض کے بعد رزق حلال کی تلاش بھی ایک فرض ہے۔ تمام اسباب رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں ، وہ کسی نہ کسی ذریعہ سے انسان کو روزی پہنچا دیتا ہے۔ جو لوگ ناجائز ذرائع سے روزی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ اپنے مقدر رزق سے زیادہ حاصل نہیں کرسکتے۔ البتہ ناجائز ذریعہ اختیار کرکے خدا تعالیٰ کی ناراضگی ضرور مول لے لیتے ہیں۔ توکل علی اللہ : ملامعین الدین (رح) صاحب تفسیر حسینی لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے زمانے میں ایک مجذوب بزرگ حضرت بہلول (رح) تھے گویا ” دیوانہ بکار خود ہوشیار “ نیکی میں بہت کامیاب مگر لوگوں کی نظر میں مجذوب ہے کیونکہ ان کی حرکتیں ہی ایسی تھیں۔ انہوں نے راستہ چلتے روٹی کھانا شروع کردی۔ قریب سے اما ابوحنیفہ (رح) کا گزر ہوا تو فرمایا ، بھائی کھڑے کھڑے کیوں کھا رہے ہو ، کہیں بیٹھ جاتے تو اچھا ہوتا۔ حضرت بہلول (رح) نے فوراً پوری سند کے ساتھ حدیث پڑھی اور کہا حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ مطل الغنی ظلم یعنی غنی آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اگر کسی کا حق دینا ہے تو فوراً دے دینا چاہیے۔ چناچہ جس وقت سمجھے کھانا ملا میں نے اس کا حق ادا کرنا شروع کردیا۔ امام صاحب (رح) مسکرائے کہ اس کی نظر بہت وسیع ہے۔ ایک دفعہ حضرت بہلول غسل خانے میں نہا رہے تھے کہ کسی نے پگڑی یا رومال اٹھالیا۔ باہر نکلے تو کپڑا موجود نہ تھا ، وہاں سے دوڑے اور سیدھے قبرستان میں جا بیٹھے ، کسی نے پوچھا ، کیا بات ہے ؟ کہنے لگے میرا کپڑا کوئی شخص چوری کرکے لے گیا ہے ، اس کی تلاش میں ہوں۔ وہ شخص کہنے لگا کہ اپنے چور کو کہیں گلی محلے میں تلاش کرتے ، یہاں قبرستان میں کہاں ملے گا۔ کہنے لگے کہ میں اس لئے یہاں اس کے انتظار میں بیٹھا ہوں کہ بالآخر اسے یہیں آنا ہے۔ ایک دفعہ خلیفہ وقت نے حضرت بہلول (رح) سے کہا کہ اگر چاہو تو میں تمہارا کچھ وظیفہ مقرر کردوں تاکہ آپ معاش کے معاملہ میں بےفکر ہوجائیں۔ آپ نے کہا کہ اس معاملہ میں تم نے تین غلطیاں کی ہیں ، اگر یہ نہ ہوتیں تو میں تمہاری پیش کش قبول کرلیتا پہلی غلطی یہ ہے کہ تم نہیں جانتے کہ مجھے کس چیز کی ضرورت ہے مگر پیش کش کردی ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ تمہیں یہ بھی علم نہیں کہ مجھے کیسا چاہیے اور تیسری یہ کہ مجھے کتنا چاہیے۔ اس کو تو اللہ ہی جانتا ہے اور وہی عطا بھی کرے گا۔ نیز اس میں یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر تم کسی وقت مجھ سے ناراض ہوگئے ، تو وظیفہ بند کردو گے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو کبھی کسی کی روزی بند نہیں کرتا۔ مشرک ، کافر ، دہریے ، آتش پرست سب کے وظیفہ خوار ہیں۔ کسب رزق کے افضل پیشے : طبرانی شریف میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ بہترین پیشہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے میری روزی نیزے کے نیچے رکھی ہے۔ اسی لئے مال غنیمت ، اطیب الاموال یعنی سب سے پاکیزہ مال ہے۔ فرمایا دوسرے نمبر پر افضل پیشہ تجارت کا ہے۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشھداء یوم القیمۃ قیامت والے دن سچا اور امانت دار تاجر نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کی قطار میں کھڑا ہوگا۔ فرمایا تیسرے نمبر پر بہتر پیشہ زراعت ہے کیونکہ اس میں انسان کو اپنے ہاتھ سے صدقہ کیے بغیر صدقے کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کوئی درخت یا پودا لگاتا ہے یا کوئی فضل بوتا ہے اور پھر اس میں سے جانور ، پرندے۔ کیڑے مکوڑے وغیرہ کھاتے رہتے ہیں اور مالک اگرچہ ان کو روکتا ہے ، اڑاتا ہے مگر پھر بھی وہ جس قدر کھا جاتے ہیں ، اس کے بدلے میں اسے صدقے کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ گانے بجانے کی حرمت : اللہ نے تجارت اور لہو ولعب کی بات کی ہے کہ اللہ کے ہاں ملنے والا اجران سے کہیں بہتر ہے۔ تجارت اور پھر روزی سے متعلقہ بعض باتیں میں نے عرض کردیں۔ باقی رہی دوسری چیز تو قرآن پاک کے مطابق گانا بجانا اور تمام آلات موسیقی لہو میں داخل ہیں۔ فرمان خداوندی ہے۔ ومن الناس………………………بغیر علم (لقمان 6) اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرسکیں۔ یہ ڈرامے ، رقص و سرور کی محفلیں آلات موسیقی حتیٰ کہ ان آلات کے ساتھ گانا بھی حرام ہے کیونکہ یہ چیزیں لہوالحدیث میں شامل ہیں۔ اللہ نے نوحہ کرنے والی اور گانے والی آواز کو شیطانی آواز قرار دیا ہے۔ بخاری شریف کی صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آخری دور میں ایسے لوگ ہوں گے یحلون الخمر والحریر والمعازف جو شراب ریشم اور آلات موسیقی کو حلال سمجھیں گے ، کہیں گے کہ یہ تو روح کی غذا ہے ، مولوی بھی ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شراب ایک قطعی حرام چیز ہے ، جس کا بنانا ، خریدنا اور فروخت کرنا بھی حرام ہے۔ اور ریشم مردوں کے لیے حرام ہے۔ اور آلات موسیقی کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے ان کو مٹانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ یہ سب شیطانی کاروبار ہیں۔ سب سے پہلے رقص کرنے والا شیطان ہے۔ پھر سامری کے ساتھیوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پوجا کی اور اور اس کے گرد رقص کیا۔ سب سے پہلے گانے والا بھی شیطان ہے۔ خواجہ علی ہجویری (رح) اپنی کتاب کشف المجوب میں لکھتے ہیں کہ رقص کا جواز نہ شریعت میں ہے اور نہ عقل میں غرضیکہ گانا بجانا اور رقص و سرور سب حرام ہیں۔ البتہ گانا اگر اچھا ہو تو بغیر موسیقی کے گانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر عورتیں گائیں اور مرد سنیں تو یہ تو سخت بےحیائی کی بات ہے۔ مگر افسوس ہے کہ اب پوری دنیا اس قباحت میں مبتلا ہوچکی ہے اور ریڈیو اور ٹیلیویژن نے گھر گھر میں رقص و سرور کے اڈے کھول دیے ہیں۔ بہرحال ڈھول کی آواز کو اللہ نے لہو سے تعبیر کیا اور فرمایا کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ خطبہ سنو ، نماز پڑھو ، ذکر کرو ، رزق حلال تلاش کرو کیونکہ اللہ بہتر روزی رساں ہے۔ وہ تمہیں تمہاری مقدر روزی ضرور عطا کرے گا اور اگر اس نے کسی چیز سے محروم رکھنا ہے۔ تو ساری دنیا مل کر بھی ایک دانہ تک تمہیں نہیں دے سکتی۔ حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا ہے اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ، اے اللہ ! جو چیز تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ سورة جمعہ اور سورة منافقین حضور ﷺ جمعہ کی نماز میں تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اسی طرح سورة الاعلی اور سورة الغاشیہ کا ذکر بھی آتا ہے کہ آپ اکثر جمعہ کی نماز میں پڑھتے تھے۔ حضور ﷺ کے پڑوس میں ڈیڑھ سال تک اقامت پذیر ہونے والی ایک صحابیہ ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تھے تو سورة ق ٓ بکثرت تلاوت فرماتے تھے۔ کہتی ہیں کہ یہ سورة میں نے حضور ﷺ کی زبان سے سن کر یاد کرلی تھی اگرچہ نماز میں کوئی بھی سورة پڑھی جاسکتی ہے ، تاہم بعض سورتوں کو حضور ﷺ کی اتباع میں پڑھنا زیادہ ثواب کا باعث ہے۔