Ayahs 63:1–4نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة المنافقون ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے اس سوۃ میں اللہ نے منافقوں کی مذمت بیان کی ہے لہٰذا یہ سورة انہیں کے نام پر موسوم ہے۔ پچھلی سورة کی طرح یہ بھی چھوٹی سورة ہے ، جس کی گیارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة 180 الفاظ اور 776 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس میں منافقوں کی قباحت ، ان کی سازش اور بزدل کا بیان ہے۔ اللہ نے ان منافقوں کی بداعمالیوں کی قلعی اس ورۃ میں کھولی ہے اور حضور ﷺ کو ان کی سازشوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس سورة کے علاوہ سورة البقرہ سورة آل عمران ، سورة مائدہ ، سورة توبہ ، سورة احزاب اور بعض دیگر سورتوں میں بھی منافقوں کا حال بیان ہوا ہے۔ ان منافقوں سے مراد بالعموم اعتقادی منافق ہیں۔ کافروں میں سے ایک قسم اعتقادی منافقوں کی ہے بلکہ یہ کافروں سے بھی زیادہ خطرناک لوگ ہوتے ہیں۔ جزائے عمل کے متعلق اللہ کا فرمان ہے۔ ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار (النساء 145) منافق لوگ جہنم کے سب سے نچلے اور خطراناک ترین گڑھے میں ہوں گے۔
بعض اصطلاحات :
شریعت میں بعض اصطلاحات ہیں جو کسی شخص کے عقیدے پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً کفر کا معنی انکار کرنا ہے اور کافر وہ شخص کہلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی توحید ، رسالت ، کتب سماویہ ، ملائکہ مقربین اور بعثت بعدالموت کا انکار کرتا ہے۔ اور جو شخص مذکورہ چیزوں کا اقرار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات میں شریک ٹھہراتا ہے۔ وہ مشرک کہلاتا ہے۔ پھر جو اللہ کا کلام پڑھ کر اس کا غلط مطلب اخذ کرتا ہے جیسا موجودہ زمانے کا پرویز ، تو ایسا شخص ملحد کہلاتا ہے اور الحاد کفر کی بدترین قسم ہے۔ جو شخص دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا دین اختیار کرے یا دہریہ بن جائے ، اسے مرتد کہیں گے۔ فاسق کا اطلاق دو قسم کے آدمیوں پر ہوتا ہے ، جو کفر میں حد سے بڑھ جائے یا جو دل سے مانتے ہوئے اس پر عمل نہ کرے۔
اعتقادی منافق :
اسی طرح منافق بھی ایک اصطلاح ہے۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں یعنی اعتقادی منافق اور عملی منافق۔ جن منافقین کا ذکر اس سورة میں آرہا ہے یا دیگر سورتوں میں ہوا ہے وہ منافقوں کی اعتقادی قسم ہے۔ نزول قرآن کے زمانہ میں زیادہ تر اعتقادی منافق تھے جنہوں نے دل سے اسلام کو قبول نہ کیا مگر اپنی اغراض اور مسلمانوں کی طرف سے کسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لئے ایسے لوگ زبان سے کلمہ پڑھ لیتے تھے۔ بظاہر نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ اور بادل نخواستہ جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے مگر ایمان ان کے دلوں میں نہیں اترا تھا۔ لہٰذا وہ منافق کہلاتے تھے۔
سورۃ البقرہ کی ابتداء میں اس قسم کے منافقوں کا تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ومن الناس من یقول……آیت 8 تا 20 مکمل تیرہ آیتوں میں منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم مومن ہیں مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ مومن نہیں بلکہ دھوکے باز ہیں اور ابدی جہنمی ہیں۔
عملی منافق :
یہ تو اعتقادی منافق تھے۔ ان کی دوسری قسم عملی منافقوں کی ہے۔ یہ ایمان تو رکھتے ہیں۔ دل سے توحید ، رسالت اور قیامت کی تصدیق بھی کرتے ہیں مگر عمل اس کے خلاف ہے ۔ یہ قول اور فعل کا تضاد ہے۔ حدیث میں انہی عملی منافقوں کی بعض نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً ایسا منافق جھگڑا کریگا تو گال گلوچ پر اتر آئے گا۔ اگر ا س کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے گا ، جب بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا ، وعدہ کرے گا تو خلاف کرے گا۔ اب اعتقادی منافقوں کا تو پتہ نہیں چل سکتا کین کہ غیب کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔ حضور ﷺ کو ایسے منافقوں کی اطلاع بذریعہ وحی کردی جاتی تھی۔ تاہم آج عملی منافقوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔ ان کو اخلاقی منافق بھی کہا جاتا ہے۔
شان نزول :
بخاری شریف ، ترمذی شریف ، اور بعض دوسری کتابوں میں یہ روایت موجود ہے کہ حضور ﷺ بنی مصطلق کے خلاف جہاد کے سلسلے میں مدینے سے باہر سفر پر تھے۔ راستے میں ایک مہاجر اور ایک انصاری کے درمیان پانی کے معاملہ میں کچھ اختلاف پیدا ہوگیا۔ جس کے نتیجے میں مہاجرنے انصاری بھائی کو زخمی کردیا۔ چناچہ انصاری نے مدد کے لئے انصار کو پکارا تو مہاجر نے مہاجرین کو بلا لیا۔ زخمی انصاری رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے خاندان کا آدمی تھا۔ اس نے اس واقعہ کو خوب اچھالا اور مہاجرین کے متعلق کہا کہ ہم واپس مدینہ پہنچ کر ان ذلیل لوگوں کو شہر سے نکال دیں گے۔ یہ باتیں ایک کم سن صحابی زید بن ارقم ؓ نے سن لیں اور اپنے چچا کے سامنے بیان کردیں۔ چچانے یہ باتیں حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیں۔ آپ نے عبداللہ بن ابی کو طلب کرکے اس واقعہ کی تصدیق چاہی مگر وہ صاف مکر گیا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ حضور ﷺ نے اس کی قسموں پر اعتبار کرتے ہوئے حضرت زید بن ارقم ؓ کو سخت سست کہا کیونکہ وہ اپنی بات ثابت نہیں کرسکے تھے۔ ان کے چچا نے بھی ملامت کی کہ تم نے ایسی بات کرکے ہمیں شرمسار کیا ہے۔
حضرت زید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے مذکورہ باتیں اپنے کانوں سے سنی تھیں مگر ثابت نہ کرسکنے پر سخت پریشان ہوا۔ بیان کرتے ہیں کہ دوران سفر رات کے وقت حضور ﷺ میرے پاس سے گزرے تو میرا کا ن مروڑ اور مسکرائے ، اور پھر آگے چل دیے۔ پیچھے سے حضرت ابوبکر ؓ آئے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے تجھ سے کیا بات کی ہے۔ میں نے کہا بات تو کچھ نہیں ہوئی۔ البتہ میرا کان مروڑا ہے اور مسکرا کر آگے نکل گئے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا۔ زید ؓ ! تمہیں خوشخبری ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت عمر ؓ کا بھی گزر ہوا تو انہوں نے بھی مجھ سے وہی سوال کیا جو حضرت ابوبکر ؓ نے کیا تھا اور میں نے ان کو بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر ؓ کو دیا تھا۔ پھر انہوں نے بھی مجھے بشارت دی اس کے بعد صبح کے وقت حضور ﷺ نے اپنے پاس بلا کر فرمایا ، زید ؓ ! اللہ نے تمہاری تصدیق کے لئے قرآن میں سورة نازل فرمائی ہے پھر آپ نے یہ سورة مجھے پڑھ کر سنائی۔
حضرت زید ؓ کا بیان ہے کہ جس وقت حضور ﷺ نے میرے کان کو ہاتھ لگایا تھا اور مسکرائے تھے تو اس وقت مجھے اس قدر راحت حاصل ہوئی کہ اس کے مقابلے میں ساری دنیا بھی ہیچ ہے۔ بہرحال اللہ نے اس سورة کے ذریعے منافقوں کی برائیوں کو ظاہر کردیا تاکہ سچے مسلمان ان سے بچ سکیں۔
منافقوں کی کذب بیانی :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اذا جاء ک المنفقون اے پیغمبر ! جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں قالوا نشھد انک لرسول اللہ تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک البتہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ نے فرمایا ، یہ جملہ معترضہ ہے ، واللہ یعلم انک لرسولہ اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک آپ البتہ اللہ کے رسول ہیں۔ واللہ یشھدان ان المنفقین لکذبون۔ اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافقین البتہ جھوٹے ہیں۔ وہ نہ تو اللہ کی وحدانیت کو مانتے ہیں اور نہ آپ کی رسالت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں۔ صرف زبان سے کہہ رہے ہیں ، ان کے دلوں میں تو کفر ہی بھرا ہوا ہے۔ یہ اعتقادی منافق ہیں۔ جن کے نفاق کی اللہ تعالیٰ شہادت دے رہا ہے۔ ان کے دل اور زبانیں متضاد ہیں ، انہیں محض مال غنیمت یا دیگر مفادات سے غرض ہے ، اس لئے یہ ظاہر میں کلمہ پڑھتے وگرنہ دل سے کافر ہی ہیں۔
منافقوں کی اسلام دشمنی :
ارشاد خداوندی ہے اتخذوا ایمانھم جنۃ ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے۔ قسمیں اٹھا کر اہل ایمان کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم پکے سچے مسلمان ہیں۔ گویا ان قسموں سے وہ مسلمانوں کی طرف سے کئی ممکنہ کاروائی کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور عام طور پر اہل ایمان مان لیتے ہیں کہ یہ واقعی سچے مومن ہیں۔ ایک تو ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے اور دوسری بات یہ فصدوا عن سبیل اللہ کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے کی طرف آنے سے روکتے ہیں۔ اسلام کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرکے نئے مسلمان ہونے والوں کو اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورة توبہ کے آٹھویں رکوع میں اللہ نے واضح کردیا ہے کہ منافق ایسی سورة کے نزول سے خوف کھاتے ہیں جو ان کے ڈھول کے پول کھول دے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ اب تو ٹھٹا کرلو۔ مگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتوں کو ظاہر کرنے والا ہے۔ فرمایا جب ان سے پوچھا جائے کہ تم ایسی قبیح حرکات کیوں کرتے ہو تو کہتے ہیں انما …… ……ونلعب (التوبۃ 65) کو ہم تو بات چیت اور دل لگی کرتے ہیں۔ فرمایا انھم ساء ماکانوا یعملون ، بہت ہی برا کام ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
پھر فرمایا ذلک بانھم امنوا ثم کفروا ان کی یہ کارگزاری اس وجہ سے ہے کہ پہلے انہوں نے ایمان کا اظہار کیا ، اور پھر کفر کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا فطبع علی قلوبھم ، کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں۔ لہٰذا اب ان کے دلوں میں ایمان ، نیکی اور حق سرایت نہیں کرسکتا۔ ان کے دل ہر اچھے عقیدہ اور اچھے عمل سے بند ہوچکے ہیں۔ ان میں حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہی۔ فھم لا یفقھون ، پس یہ سمجھتے ہی نہیں۔
فرمایا واذا رایتھم تعجبک اجسامھم ، جب آپ ان کی طرف دیکھیں گے تو ان کے جسم آپ کو بڑے بھلے معلوم ہوں گے۔ ان کی ظاہری ڈیل ڈول اور وضع قطع بالکل ٹھیک ٹھاک اور متاثر کن ہے۔ وان یقولوا تسمع لقولھم اور ان کی بات چیت بھی ایسی ہے کہ آپ کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ اور آپ ان کی بات سنتے ہیں۔ مگر حقیقت میں یہ لوگ وہ کچھ نہیں جو ظاہر میں نظر آتے ہیں۔ فرمایا ان کی مثال ایسی ہے۔ کانھم خشب مسندۃ ، گویا وہ ایک لکڑی ہیں جسے دیوار کے سہارے کھڑا دیا گیا ہو ، وہ لوگ عقیدے اور ایمان کے لحاظ سے باطن سے اس قدر کھوکھلے ہیں کہ بغیر سہارے کے کھڑا بھی نہیں ہوسکتے ، حالانکہ یہ اوپر سے بالکل ٹھیک ٹھاک معلوم ہوتے ہیں۔
امام بخاری (رح) نے لکھا ہے کانوا رجالا اجمل شیء یہ لوگ شکل و صورت کے لحاظ سے خوبضورت تھے ، مگر اندر سے بالکل فراڈیے۔ اس قسم کے لوگ آج بھی دنیا میں با آسانی مل جاتے ہیں۔ جو خوش وضع ، خوش لباس اور خوش گفتار ہوں گے مگر اندر سے نرے دھوکہ باز جو لوگوں کو اپنی بارعب شخصیت سے مرعوب کرلیتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ منافقوں کا بھی یہی حال ہے کہ ان کے ظاہر اور باطن میں کوئی مطابقت نہیں پائی جاتی۔
ہروقت کھٹکا :
فرمایا منافق لوگ اندر سے کھوکھلے ہیں اور اس قدر بزدل ہیں کہ یحسبون کل صحیۃ علیھم وہ ہر چیز کو اپنے خلاف ہی گمان کرتے ہیں۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ منافقوں کو ہر وقت کھٹکا لگارہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کوئی سورة نازل کرکے ان کا کچا چٹھا نہ کھول دے۔ مسلمانوں کو تو وہ بظاہر دھوکہ دیتے رہتے تھے مگر جب ان کی ریشہ دوانیاں بڑھ جاتیں تو اللہ تعالیٰ قرآن میں آیات نازل فرما کر ان کی سازشوں سے آگاہ کردیتا۔ اور اس طرح ان کی سکیم ناکام ہوجاتی۔ شاعر لوگ بھی تلقین کرتے ہیں کہ ظاہری شکل و صورت دیکھ کر دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔
لا یخد عنک الحی ولا الصور
تسعۃ اعشار من تری بقر
یہ داڑھیاں اور ظاہری شکل وصورتیں تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دیں کیونکہ انسان کے دس میں سے نوحصے گائے بیل کی طرح ہیں یعنی وہ انسانیت سے عاری ہیں۔ اور منافقوں کی بزدلی کا حال یہ ہے۔
ما زلت تحسب کل شیء بعدھم
خیلا تکر علیھم ورجالا
جب شکست بدحالی اور زوال آجائے ، تو پھر آدمی ہر چیز کو یہی خیال کرتا ہے کہ میرے خلاف گھوڑوں اور آدمیوں کا لشکر آرہا ہے۔ مطلب یہ کہ ذرہ سی آہٹ پائی تو سمجھے کہ اب ہماری تباہی و بربادی آئی۔ متنبی شاعر نے بھی ایسے لوگوں کی بذدلی کے متعلق کہا ہے۔
ضاقت الارض حتی صارھا ربھم
اذا را شیاء ظنہ رجلا
ایسے لوگوں پر زمین تنگ ہوجاتی ہے۔ اگر خیالی صورت بھی ذہن میں آجائے تو بھاگنے والا یہ یخیال کرتا ہے کہ اس کے پیچھے آدمی لگے ہوئے ہیں۔
منافقوں سے بچنے کی ضرورت :
فرمایا ان منافقوں کا بھی یہی حال ہے۔ ھم العدو یہ مسلمانوں کے پکے دشمن ہیں فاحذرھم لہٰذا ان سے بچتے رہو۔ مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے منافقوں کی کچھ علامات بیان کی ہیں ، جن کے ذریعے ان کو پہچانا جاسکتا ہے۔ فرمایا میل ملاقات کے وقت ان کی زبان پر برائی ہی ہوتی ہے ، ان کا کھانا لوٹ مار کا ہوتا ہے یعنی حلال نہیں ہوتا۔ وہ غنیمت کے مال میں خیانت کرتے ہیں ، نماز کے لئے مساجد کی طرف نہیں آتے بلکہ نماز ہو چکنے کے بعد محض نمازیوں میں نام لکھوانے کے لئے آتے ہیں۔ جماعت کا خیال نہیں کرتے ، نماز کی فکر نہیں ہوتی مغرور ہوتے ہیں۔ بھائی بندوں سے الفت نہیں ہوتی۔ رات کو خشک لکڑی کی طرح سوئے رہتے ہیں اور دن کے وقت شوروشر کرتے ہیں۔
فرمایا منافق اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔ قاتلھم اللہ اللہ ان کو غارت کرے انی یوفکون یہ کدھر پھرے جا رہے ہیں۔ نہ سوچنے ہیں ، نہ سمجھتے ہیں اور نہ ان کی کوئی بات ٹھیک ہوتی ہے۔ ہر وقت دھوکہ فریب ، خود غرضی اور جھوٹی قسمیں ان کا معمول ہے۔ ان میں حق کو سمجھنے کی ذرا بھی تمیز نہیں۔ انہیں سابقہ اعمال سے توبہ کرکے حق کو قبول کرلینا چاہیے۔
Ayahs 63:5–8ربط آیات :
اللہ منافقین کے فریب اور جھوٹ کی قلعی کھولی ہے اور ان کی بزدلی کا حال ذکر کیا ہے اور یہ کہ وہ جھوٹی قسمیں اٹھا کر بات کرتے ہیں اور پھر جھوٹی قسم اٹھا کر انکار کردیتے ہیں۔ بظاہر کہتے ہیں کہ ہم ایماندار ہیں اور اللہ کے رسول کو رسول جانتے ہیں ، مگر یہ بات ان کے دل میں نہیں ہوتی۔ اظہار ایمان کے بعد دل میں کفر کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ ظاہری ڈیل ڈول اور شکل و صورت کے اعتبار سے بہت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن اندر سے اس طرح کھوکھلے ہیں جیسے کسی دیمک خوردہ لکڑی کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کردیا گیا ہو۔ یہ لوگ پرلے درجے کے بزدل بھی ہیں۔ جونہی کوئی چیخ آتی ہے تو سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے تباہ ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقوں سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔
معافی کی درخواست سے اعراض :
آج کے درس میں اللہ نے منافقوں کی بعض دوسری برائیوں کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واذا قیل لھم تعالوا یستغفرلکم رسول اللہ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اللہ کے رسول تمہارے لئے اللہ سے بخشش طلب کرے لووا رء وسھم ، یہ لوگ اپنے سروں کو مٹکاتے ہیں۔ ورایتھم یصدون اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ رکتے ہیں وھم مستکبرون اور وہ غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ منافقین کے فائدے کی بات کی جاتی ہے کہ تمہاری شرارتیں ، کذب بیانی ، خیانت وغیرہ کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔ اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے دعا کر ائو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ان غلطیوں کو معاف کرے تو وہ اکڑ دکھاتے ہیں اور حضور ﷺ کے پاس حاضر نہیں ہوتے اور بعض بدبخت تو صاف طور پر کہہ دیتے ہیں ، کہ ہمیں دعا کرانے اور خدا تعالیٰ سے معافی طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سورة نساء میں اس بات کو اللہ نے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ جب یہ لوگ اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے ، پھر اگر تمہارے پاس آجاتے اور خدا تعالیٰ سے بخشش مانگتے اور اللہ کا رسول بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتا لوجدوا اللہ توابا رحیما (آیت 64) تو وہ خدا تعالیٰ کو معاف کرنے والا اور مہربان پاتے۔ مگر یہ لوگ اس قدر مغرور تھے کہ کہنے کے باوجود نبی (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی طلب کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔
نبی کی دعا :
حقیقت یہ ہے کہ نبی کی دعا بہت بڑی چیز ہے۔ آپ کے صحابہ ؓ بڑے خوش قسمت لوگ تھے جن کے لئے اللہ کے نبی نے بخشش کی دعائیں کیں۔ حضرت جابر ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے ایک رات میں ان کے لئے پچیس مرتبہ دعا مانگی۔ اسی طرح باقی صحابہ ؓ بھی حضور ﷺ کی دعا کو اپنے لئے کامیابی کا زینہ سمجھتے تھے۔ اللہ نے سورة نور میں فرمایا۔ لا تجعلوا……… ……بعضا (آیت 63) لوگو ! نبی کی دعا کو اپنی دعائوں کی طرح نہ سمجھو۔ نبی کی دعا اللہ کے ہاں زیادہ مقبول ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ منافقوں کو ایک قبیح حرکت یہ بھی ہے کہ جب انہیں اللہ کے نبی کے پاس مغفرت کی دعا کے لئے بلایا جاتا ہے ، تو وہ اعراض کرتے ہیں۔
منافقین کے لئے عدم معافی کا اعلان :
پھر اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا۔ سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم ، ان کے لئے برابر ہے ، آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں لن یغفر اللہ لھم اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ اللہ نے اپنے نبی پر بھی واضح کردیا ہے کہ یہ ایسے بد بخت لوگ ہیں کہ اگر وہ لوگ آپ کے پاس آبھی جائیں اور آپ ان کے لئے دعا بھی کریں ۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہیں کریگا۔ کیونکہ اس کا قانون یہ ہے ان اللہ لا یھدی القوم الفسقین بیشک اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ یہ لوگ ضدی ، عنادی اور دل کے کھوٹے ہیں ، وہ اس حالت سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے ، اس واسطے ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔
خرچ کرنے سے اعراض :
حضور ﷺ اکثر نادار مہاجرین کی مالی اعانت کی تلقین فرمایا کرتے تھے ایک سفر کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ منافقین نے آپس میں مشورہ کیا ہم خواہ مخواہ مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ ذرا ان سے ہاتھ روک کر رکھو ، یہ ہمارے گلے پڑگئے ہیں ، اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الہل نے فرمایا ھم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عندرسول اللہ حتی ینفضوا یہ وہی منافق ہیں جو کہتے کہ مت خرچ کرو ان لوگوں پر جو اللہ کے رسول کے پاس بیٹھے ہیں حتیٰ کہ یہ متفرق ہوجائیں یعنی ادھر ادھر چلے جائیں۔ اللہ نے ان کی اس بات پر بھی مذمت فرمائی اور انہیں باور کرایا کہ جو مال تمہارے پاس ہے اور جس کو تم خرچ کرنے سے اعراض کرتے ہو ، یہ تمہارا نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ وہ جس کو چاہے عطا کردے اور جس سے چاہے چھین لے ، اس کی حکمت میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ فرمایا حقیقت یہ ہے وللہ خزائن السموت والارض ، آسمانوں اور زمین کے تمام خزانے تو اللہ کے پاس ہیں۔ اگر تم مستحقین پر خرچ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کسی اور کو دے دیگا جو اس کے حکم کے مطابق خرچ بھی کریں گے۔ فرمایا ولکن المنفقین لا یفقھون ، مگر منافق اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ورنہ وہ خرچ کرنے میں بخل سے کام نہ لیتے۔ اللہ تعالیٰ تو اس پر بھی قادر ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کے لئے وافر روزی کا بندوبست کردے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اہل ایمان کو بڑی تکالیف آئیں۔ انہوں نے اغیار کے طعنے سنے ، جسمانی تکالیف برداشت کیں ، فاقے کاٹے مگر پھر وہ وقت بھی آیا کہ بیشمار مال و دولت ، حکومت اور اقتدار اللہ نے دیا حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔ تو فرمایا ، کیا منافقوں کو پتہ نہیں کہ خزانوں کا بھی آیا جب زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔ تو فرمایا ، کیا منافقوں کو پتہ نہیں کہ خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ کیسی ناسمجھی کی بات کر رہے ہیں۔
اگلی آیت میں اللہ نے منافقوں کے غرور وتکبر کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یقولون لئن رجعنا الی المدینۃ جب ہم مدینے کی طرف واپس لوٹیں گے لیخرجن الاعزمنھا الاذل تو ہم میں سے عزت والے ان ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ منافق مدینے کے پرانے باشندے تھے۔ انہوں نے اپنے آپ کو باعزت قرار دیا اور مہاجرین کے لئے ذلیل کا لفظ استعمال کیا۔ کہنے لگے انہوں نے ہماری معیشت بھی خراب کردی ہے ، ہم ان کو مدینے میں نہیں رہنے دیں گے۔
منافقین کا غرور :
یہ واقعہ 6 ھ کے قریب پیش آیا۔ حضور ﷺ غزوہ بنی مصطلق سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ایک مہاجر اور ایک انصاری میں جھگڑا ہوگیا۔ مہاجر نے انصاری کے سر پر کوئی چیز دے ماری جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ انصاری نے زور سے نعرہ بلند کیا یالا الانصار اے انصاری لوگوں ! میری مدد کو پہنچو ، اس مہاجر نے مجھے زخمی کردیا ہے ادھر مہاجر نے بھی یا لا المہاجرین کا نعرہ لگا دیا کہ میری مدد کرو اور مجھے انصاروں سے بچائو۔ جب حضور ﷺ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو فرمایا مابال دعوی الجاھلیۃ ، لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ جاہلیت کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ ایسا تو جاہلیت کے زمانے میں مشرک لوگ کیا کرتے تھے ، جب وہ اپنے قبیلے یا برادری کو مدد کے لئے پکارتے تھے تو آنے والے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ کیا معاملہ ہوا ہے ، بس وہ اپنے حمایتی کی مدد کے لئے میدان میں کود جاتے تھے۔ یہی جاہلانہ تعصب تھا کہ بلا تحقیق کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف فیصلہ کرلیا جاتا۔
حضور ﷺ نے فرمایا ان کو ترک کردو انھا مفتنۃ یہ تو بدبودار نعرے ہیں اسی سفر میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بھی شریک تھا۔ جب اس کو پتہ چلا کہ ایک مہاجر نے انصاری کو زخمی کردیا ہے تو وہ بولا کہ مدینہ پہنچ کر ہم باعزت لوگ ان ذلیل مہاجروں کو وہاں سے نکال دیں گے۔ یہ بات کسی صحابی ؓ نے سن لی اور اس کا ذکرحضور ﷺ کے سامنے ہوا۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ، حضور ! مجھے اجازت دیں۔ کہ میں اس منافق کی گردن اتاردوں۔ آپ نے فرمایا دعہ لا یتحدث الناس ان محمد یقتل اصحابہ ، اس کو چھوڑ دوں لوگ پراپیگنڈا کریں گے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو ہی قتل کر رہے ہیں اور یہی چیز اسلام کے راستے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ کی حق پرستی :
حضرت عبداللہ ؓ ، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کا بیٹا اور مخلص مسلمان تھا۔ اس کا اصلی نام حباب تھا جس کا معنی شیطان ہوتا ہے۔ تاہم جب وہ اسلام میں داخل ہوا ، تو حضور ﷺ نے اس کا نام عبداللہ ؓ رکھ دیا۔ اس نے عرض کیا ، حضور ! اگر آپ اجازت دیں تو میں خود اپنے باپ کا سر اتار کر پیش کردوں جس نے ایسے غلط کلمات کہے ہیں۔ آپ نے اس کو بھی منع کردیا کہ ایسا نہ کرنا ، جب تک یہ بدبخت ہمارے ساتھ ہے ہم اس سے اچھا سلوک ہی کریں گے ، پھر جب یہ سب لوگ واپسی پر مدینہ شہر کے قریب پہنچے تو بیٹا تلوار سونت کر باپ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اور کہنے لگا۔ واللہ لا تنقلب حتی تقرانک ذلیل ورسول اللہ عزیز ، اللہ کی قسم میں تجھے اس وقت تک شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا ۔ جب تک تو اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور اللہ کے رسول باعزت ہیں۔ جب باپ نے دیکھا کہ بیٹا اس معاملہ میں سنجیدہ ہے تو اسے یہ اقرار کرکے جان چھڑانا پڑی۔
عصبیت کے نعرے :
عصبیت کے جو نعرے اس واقعہ میں بلند ہوئے اور جو اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بکثرت بلند ہوتے تھے ، وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی دنیا میں بلند ہو رہے ہیں۔ اس زمانے میں بھی وطن ، زبان ، قومیت ، رنگ اور نسل کے نعرے لگائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے پر برتری جتائی جاتی ہے۔ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ سب گندے اور بدبودار نعرے ہیں۔ اگر خود مسلمان جو ایک خدا ایک رسول ، ایک قرآن اور ایک کلمہ کو پڑھنے والے ہیں ، ایسے نعرے لگانا شروع کردیں تو اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کیا نکل سکتا ہے۔ دیکھ لیں بنگالی اور غیر بنگالی کے نعرے نے کیا گل کھلائے ، آدھا ملک ہی جدا ہوگیا۔ اب باقی ماندہ ملک پاکستان میں بھی بلوچی ، سندھی ، پشتون اور پنجابی کے نعرے لگنے لگے تو اس ملک کا کیا بنے گا مصر ، شام اور یمن میں مختلف قومیتوں کے نعرے بلند ہوئے ، نتیجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح صوبائیت کے نعرے بھی تاہ کن ہوسکتے ہیں ، اہل پاکستان کو فرقہ واریت سے بچنا ہوگا۔ ورنہ ہر صورت میں نقصان ملت اسلامیہ ہی کا ہوگا۔ عصبیت کے یہ نعرے نفاق کی علامت ہیں اور بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اس وقت دنیا میں کالے اور گورے کی تفریق پائی جاتی ہے۔ امریکہ اور جنوبی افریقہ میں گوروں اور کالوں کے ہوٹل ، سکول اور ہسپتال الگ الگ ہیں۔ کسی گورے کے ہوٹل میں کوئی کالی نسل کا آدمی داخل نہیں ہوسکتا۔ اسمبلی میں گورے اور کالے یکجا نہیں بیٹھ سکتے۔ حتیٰ کہ گوروں کے سکولوں اور کالجوں میں کسی کالے کو داخلہ نہیں مل سکتا۔ یہ سب جاہلانہ عصبیت ہے جو آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی موجود ہے۔
برصغیر میں ہندو کی ذہنیت بھی ایسی ہی ہے۔ وہاں بھی ذات پات کی تفریق موجود ہے۔ کوئی ادنی ذات کا ہندو اعلیٰ ذات کے ہندو کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ انہیں شودر یعنی حقیر اور ذلیل کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی چھوٹی ذاتوں کے ہوٹل بڑی ذات والوں سے الگ ہیں ، بلکہ ان کے برتن بھی الگ الگ ہیں۔ غیر اقوام مسلمانوں کو بھی اسی رنگ میں رنگنا چاہتی ہیں اور ان میں بھی باہمی تفرقہ پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ جس کی اللہ کے نبی نے سخت مذمت بیان کی ہے اور اسے جاہلیت کی عصبیت قرار دیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے انما …………اخوۃ (الحجرات 10) مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں مگر آج بھائی کو بھائی سے لڑایا جارہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کو اجتماعی لحاظ سے کمزور کیا جارہا ہے۔
عزت کا معیار :
باقی رہا عزت کا حقیقی معیار ، تو اللہ نے یہاں فرمایا ہے وللہ العزۃ والرسولہ وللمومنین اصل میں عزت تو اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور عام مومنوں کے لئے ہے۔ اصل عزت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جو کمال قدرت اور کمال قوت کا مالک ہے ، اور پھر اس کے رسول کی جو اس کا نائب ہے اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مرضیات کو نافذ کرنے والا ہے۔ اس کے بعدایمانداروں کا نمبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے نبی کی نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کے پروگرام کو دل وجان سے آگے بڑھاتے ہیں۔ مال و دولت عزت کا معیار نہیں ہے کیونکہ یہ تو مومن اور کافر سب کے پاس ہوسکتی ہے۔ عزت کا معیار تو دین ، ایمان ، اخلاق اور کردار ہے۔ جس میں یہ چیزیں پائی جائیں وہی عزت کا مالک ہے۔ اور جو شخص برے اخلاق ، برے اعمال انجام دیتا ہے اور برا عقیدہ رکھتا ہے ، وہ کبھی باعزت نہیں ہوسکتا۔ وہ تو ذلیل ہی ہوگا اگرچہ سونے میں کھیلتا ہو۔ بزرگان دین کا مقولہ بھی ہے۔ من یعص اللہ فھوا السفلہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ وہ ذلیل اور کمینہ ہے۔ اس کے برخلاف اگر معمولی خاندان کا نادار آدمی بھی ایمان والا ہے تو وہ عزت کا مالک ہے کیونکہ عزت تو خدا ، اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے۔
امام زمحشری (رح) نے اپنی تفسیر میں ایک نیک عورت کا واقعہ بیان کیا ہے ، جس کی ظاہری حالت بالکل معمولی تھی۔ کسی نے اس کو طعنہ دیا کہ تم حقیر ہو ، تو اس نے جواب میں کہا الست علی الاسلام کیا میں اسلام پر نہیں ہوں ؟ اور اگر میں مسلمان ہوں تو پھر سن لو ھوالعزۃ الذی لاذل معہ کہ اسلام سے وابستگی وہ عزت ہے جس کے ساتھ کبھی ذلت نہیں ہوگی۔ یہ وہ غنا ہے جس کے ساتھ فقر نہیں۔ کہنے لگی عزت مال و دولت اور اچھے لباس اور اچھی سواری سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے۔ کسی شخص نے حضرت حسن ؓ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ میں کچھ اکٹر پائی جاتی ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ اکڑ نہیں بلکہ عزت ہے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی واللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین فرمایا ہم غرور وتکبر نہیں کرتے بلکہ عزت نفس کو برقرار رکھتے ہیں۔
فرمایا یادرکھو ! عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے لئے ہے۔ ولکن المنفقین لا یعلمون ، مگر منافق اس بات کی سمجھ ہی نہیں رکھتے۔ وہ تو مال وزر کو عزت کا باعث سمجھتے ہیں ، قومیت ، وطن اور جتھے پر نازاں ہیں حالانکہ عزت ان چیزوں سے نہیں ہے۔ کسی دولت مند یا صاحب اقتدار کی عزت کرنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔ یہ چیزیں تو آنی جانی ہیں ، لہٰذا عزت کا معیار نہیں سن سکتیں۔ عزت کا معیار وہی ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔
Ayahs 63:9–11ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور اب ایمان والوں کو غفلت سے بچنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ پہلے منافقوں کی سازش ، ریشہ دوانی ، بخل اور برائی اور بداخلاقی کے دیگر امور کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ان کے فاسد خیالات اور اعتقادات کی نفی فرمائی۔ اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مکی زندگی میں تو نفاق پیدا نہیں ہوا ، وہاں تو مومن تھے یا کافر ، البتہ مدنی دور میں آکر اعتقادی منافق پیدا ہوگئے ، جو زبان سے تو کلمہ توحید پڑھتے تھے اور بعض دیگر نیکی کے کام بھی کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں کفر ہی بھرا ہوا تھا۔ منافقوں کی یہ قسم کافروں کی بدترین قسم ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔
منافقین کی بعض دیگر اقسام :
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اعتقادی اور عملی منافقوں کے علاوہ ان کی بعض دیگر اقسام کا ذکر بھی کیا ہے ، مثلاً منافقوں کی ایک قسم ان لوگوں کی ہے ، جو اسلام میں داخل ہوتے وقت کمزوری دکھاتے ہیں اور پوری دلجمعی کے ساتھ اسلام قبول نہیں کرتے۔ یہ لوگ اپنے قومی اور خاندانی طور پر طریقے کو ہی جاری رکھتے ہیں ، اور بظاہر اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ منافقوں کی ایک قسم وہ ہے جن کے دلوں میں دنیاوی لذات کا غلبہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے محروم ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ منافقوں کی ایک قسم وہ ہے جو مال کی حرص ، حسد اور کینہ وغیرہ جیسی روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں وہ خدا تعالیٰ کے سامنے مناجات کرنے میں لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔
کچھ لوگ امور معاش میں اس قدر انہماک رکھتے ہیں کہ امور معاد کی فکر ہی نہیں ہوتی یہ بھی نفاق ہی کی ایک قسم ہے۔ بعض لوگوں کے دلوں میں اللہ کے نبی کی نبوت و رسالت کے متعلق شکوک و شبہات ہوتے ہیں کیونکہ وہ درحقیقت نبی پر نازل ہونے والے شرعی احکام کے ساتھ موافقت پیدا نہیں کرسکتے۔ یہ بھی منافقوں ہی کی ایک قسم ہے ۔ منافقوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ، جو اپنی قوم قبیلے اور خاندان کی مدد کرنا لازمی سمجھتے ہیں۔ خواہ وہ مدد اسلام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگ اسلام کے معاملے میں سستی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ہر زمانے میں ہوتے رہے ہیں اور آج بھی دنیا ایسے منافقوں سے پر ہے۔ ان سب اقسام کے منافقوں کی نشاندہی حدیث میں کردی گئی ہے۔
مال واولاد ذریعہ غفلت :
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ منافق نادار مہاجرین پر خرچ کرنے سے اعراض کرتے تھے کیونکہ وہ مال کی محبت میں مبتلا تھے۔ اللہ نے آج کی آیات میں ایسے منافقوں کی مذمت بیان کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا ، اے ایمان والو ! لا تلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ ، تمہارے اموال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ کے ذکر سے غفلت میں نہ ڈال دیں۔ جب لوگ ان دو چیزوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے کر ان میں زیادہ منہمک ہوجاتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ کی یاد میں تمام فرائض اور واجبات آتے ہیں۔ جن کی ادائیگی ہر اہل ایمان پر لازمی ہے۔ مگر لوگ مال واولاد کی خاطر ان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ فرمایا ومن یفعل ذلک اور جو کوئی ایسا کرے گا یعنی فرائض و واجبات کو ترک کردے گا۔ فرمایا فاولائک ھم الخسرون ، پس یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ دنیا کے تمام لوازمات فانی ہیں جب کہ اللہ کی یاد اور اس کی عبادت کا نتیجہ دائمی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص دائمی چیز کو چھوڑ کر فانی چیز کے پیچھے لگے گا ، وہ نقصان ہی اٹھائے گا۔ سورة طہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو شخص میری یاد سے غفلت اختیار کرے گا ہم اس کی معیشت کو تنگ کردیں گے۔ یعنی مال و دولت کی فراوانی کے باوجود اس کو اطمینان قلب حاصل نہیں ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جب سکون ہی حاصل نہ ہو تو زندگی کا گزران تنگ ہوجاتا ہے فرمایا ایسے شخص کو قیامت والے دن ہم اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ وہعرض کرے گا ، پروردگار ! مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا گیا ہے ، حالانکہ دنیا میں تو میں بینا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایسا ہی ہے اتتک ایتنا فنسیتھا وکذلک الیوم تنسی (طہ 126) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں مگر تو نے ان کو بھلادیا یعنی آیا کہ بیشمار مال و دولت ، حکومت اور اقتدار اللہ نے دیاحتی کہ ایک وقت ایسا کی طرف دیکھا بھی نہیں ، لہٰذا آج تیرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوگا ، تم بھلا دیے جائو گے اور تمہاری کوئی فریاد رسی نہیں ہوگی۔ اس طرح گویا دنیا کے کاروبار میں منہمک ہو کر یاد الٰہی کو فراموش کردینے والے دائمی خسارے میں رہیں گے۔
مال اور اولاد فتنہ ہیں :
حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ انسان کا مال اور اولاد اس کے لئے فتنے کا باعث ہے۔ اولاد انسان کو بخل پر آمادہ کرتی ہے اور وہ اولاد کی خاطر جمع کرنے میں لگا رہتا ہے اور فرائض وواجبات میں بھی خرچ نہیں کرتا۔ اولاد بیشک خدا کی نعمت ہے مگر یہ فتنے کا باعث بھی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان حلال و حرام کا امتیاز کھو بیٹھتا ہے اور خدا کی یاد سے بھی غافل ہوجاتا ہے ۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ہر امت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا فتنہ مال ہے ، اکثر لوگ مال و دولت کی طلب میں ہی سرگرداں رہتے ہیں اور حدود شرع کو فراموش کردیتے ہیں۔ پھر ان میں حلال حرام ، جائز ناجائز کی تمیزباقی نہیں رہتی۔ اسی لئے فرمایا کہ مال اور اولاد انسان کے لئے فتنہ کا باعث ہیں۔ اس مقام پر بھی اس بات کا ذکر ہورہا ہے کہ جو شخص خدا کی یاد ، اس کی اطاعت اور عبادت سے غافل ہو کر مال و دولت کے پیچھے ہی دوڑتا رہے گا۔ اور اولاد کی جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل میں لگا رہے گا۔ وہ ہمیشہ کا نقصان اٹھانے والا ہوگا۔
بروقت انفاق :
منافق لوگ تو محتاجوں پر خرچ کرنے سے منع کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا وانفقوا من مارزقنکم ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرو۔ حقیقت میں دینے والی ذات تو خدا تعالیٰ کی ہے۔ وہی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے للہ مافی………………الارض (سورۃ البقرہ 284) آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر یہ کس قدر بد قسمتی کی بات ہے کہ اس کے عطا کردہ مال میں سے اس کے حکم کے مطابق خرچ نہ کیا جائے ، جو لوگ انفاق فی سبیل اللہ سے اعراض کرتے ہیں ، وہ دنیا کے مال کو اپنی ذاتی کمائی خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ دولت اپنے علم اور ہنر کے ذریعے کمائی ہے۔ اسی چیز کی اللہ نے یہاں نفی کی ہے اور فرمایا کہ اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہیں دیا ہے ۔ من قبل ان یاتی احدکم الموت پیشتر اس کے کہ تم میں سے کسی پر موت وارد ہوجائے فیقول رب لو لا اخرتنی الی اجل قریب ، پھر وہ یوں کہے گا کہ پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی سی مزید مدت کے لئے مہلت کیوں نہیں دی فاصدق واکن من الصلحین ، تاکہ میں صدقہ خیرات اور ذکر و عبادت کرکے تیرے نیک بندوں میں شامل ہوجاتا مگر اس وقت مہلت نہیں ملے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے فاذا جآئ……………………یستقدمون (اعراف 34) جب کسی کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو پھر گھڑی بھر بھی وہ وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا اور انسان کو اس جہان سے جانا ہی پڑتا ہے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ وہ وقت آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو تاکہ تمہارے لئے وہ ذخیرہ آخرت بن جائے اور بعد میں حسرت نہ اٹھانی پڑے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جس شخص کے پاس مال ہے مگر اس نے حج نہیں کیا ، زکوٰۃ واجب تھی وہ ادا نہیں کی ، وہ شخص مرتے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی تمنا کرے گا ، ایک شخص نے عرض کیا کہ یہ بات تو کافروں کے حق میں معلوم ہوتی ہے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی یا یھا الذین امنوا انفقوا…الایتہ یہ اہل ایمان ہی سے خطاب ہے کہ دنیا میں دوبارہ جانے کی تمنا کریں گے تاکہ واپس جاکر نیکی کے کام کرسکیں ۔ مگر مہلت نہیں ملے گی ۔ کسی نے کہا ہے۔ ؎
اجل لگائے گھات ہر کسی پہ ہے
بہ ہوش باش کہ عالم رواروی میں ہے
غالب نے بھی کہا ہے ؎
عالم روا روی میں ہے
ہر چند کہیں ہے نہیں ہے
مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کی قدر نہیں کرتا۔ سعدی صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ ؎
خوش است عمرو ریفا کی جاودانی نیست
بس اعتماد بریں پنج روز فانی نیست
یہ عمر تو بڑی اچھی ہے مگر افسوس کہ یہ دائمی نہیں ہے ، لہٰذا اس پانچ روزہ زندگی پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے ، نامعلوم یہ کس وقت ختم ہوجائے۔
جہاں برآب نہاد ست و زندگی برباد
غلام ہمت آنم کہ دل برو نہ نہاد
اس جہان کو خدا تعالیٰ نے پانی پر رکھا ہے۔ جب کہ زندگی کا دارومدار ہوا پر ہے۔ میں اس کا غلام ہوں جس نے اس زندگی میں دل نہ لگایا کیونکہ یہ فانی چیز ہے۔
بے بدیدہ حسرت زپس نگاہ کند
کسے کہ برگ قیامت از پیش نہ فرستاد
دو آدمی کئی دفعہ حسرت سے نگاہ اٹھائے گا جس نے قیامت کا سامان پہلے نہیں بھیجا۔
خرچ کی مدات :
فرمایا خرچ کرو اس روزی میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے ۔ خرچ کا اولین محل زکوٰۃ ہے جو سال بھر میں ایک دفعہ ادا کرنا ضروری ہے۔ جب مال نصاب کو پہنچ جائے خواہ وہ مال تجارت ہو ، زیور ہو یا نقدی ہو اس پر زکوٰۃ لازمی ہے۔ یہ فرض بھی ہے اور عبادت بھی اس کے بعد پھر عیدالفطر کے موقع پر صدقہ فطر ضروری ہے اور جب حج کا موسم آئے تو جانور کی قربانی بھی لازمی ہے بشرطیکہ مال موجود ہو محتاجوں کے لئے صدقہ خیرات کی مد بھی ہے۔ اگر کوئی بیماری ہے تو اس کا علاج کرایا جائے ، یتیم ، مسکین ، مقروض اور معذور ہے تو اس کی مالی اعانت کی جائے۔ اگر کسی مسافر کے پاس زادہ راہ ختم ہوچکا ہے تو اس کی مدد کی جائے۔ یہ ساری خرچ کی مدات ہیں جن میں حسب توفیق حصہ لینا چاہیے۔ اگر اللہ نے وافر مال دیا ہے تو وہ ناداروں یا رفاہ عامہ کے لئے وقف بھی کرسکتا ہے۔ اور اپنے مال کے ایک تہائی کے برابر ایسے کام کے لئے وصیت کرسکتا ہے۔
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمانوں کو ان چیزوں کا خیال نہیں آتا ، انہیں تو سینما گھر بنانے اور آڈیو ، ویڈیو کیسٹیں تیار کرنے سے غرض ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ بےحیائی کی طرف مائل ہوں۔ بعض لوگ عیاشی کے لئے کلب بنا لیتے ہیں ، کھیلوں کے لئے حکومتی سطح پر بڑے بڑے سٹیڈیم بنائے جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف ابن حوقل نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ سنکیانگ سے لے کر مکہ مکرمہ تک جگہ جگہ مسافر خانے بنے ہوئے تھے ، جہاں مسافروں کو فری رہائش میسر تھی۔ اس کے ساتھ مفت کھانا اور ساتھ جانور ہے تو اس کا چارہ بھی فری ہوتا تھا ، یہ اس وقت کے مسلمانوں کا کار خیر تھا۔ حج پر جانے والے قافلوں کو تمام ضروریات بلا قیمت مہیا کی جاتی تھیں۔ آج نام نہاد ترقی یافتہ ممالک نے ہوٹلوں کا شیطانی نظام قائم کردیا۔ جہاں ایک عام آدمی کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ غرضیکہ آج کے زمانے میں انفاق فی سبیل اللہ کا سلسلہ ہی ختم کردیا گیا ہے اور ہر کوئی ہوس زر میں مبتلا نظر آتا ہے۔
حج کا خرچہ بذات خود ایک معقول خرچہ ہے جس کے ساتھ جسمانی مشقت اور وقت کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔ انفاق کے لئے جہاد کی کئی قسمیں ہیں ، جو جہاد دشمن کے مقابلہ میں کیا جاتا ہے۔ اس میں ذاتی محنت کے علاوہ خرچے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تبلیغ بھی جہاد ہی کی ایک قسم ہے۔ اور تعلیم وتصنیف بھی اسی مد میں آتے ہیں۔ عام انفاق فی سبیل اللہ کا بدلہ تو اللہ کے ہاں دس گنا ملتا ہے۔ تاہم حدیث شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں اجر سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔
اپنی بیوی اور چھوٹی اولاد کا خرچہ بھی صاحب خانہ پر ضروری ہے۔ اس کے علاوہ قریبی اعزہ جو محتاج ہوں ، ان کا خرچہ بھی صاحب حیثیت آدمی پر لازم آتا ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ جس مالدار آدمی کے اقرباء غریب ہوں۔ اس پر ان غرباء کا خرچہ بھی واجب ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے وات ذالقربیٰ………………السبیل (آیت 26) اقرباء ، یتیم اور مسافر کو اس کا حق ادا کرو۔ غرضیکہ انفاق میں فرائض سے لے کر مستجات تک تمام امور شامل ہیں اور اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔
صحیحین کی روایت میں آتا ہے ، کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اجر کے لحاظ سے کون سا صدقہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ایسی حالت میں کیا جانے والا صدقہ بہترین ہے جب کہ تم تندرست بھی ہو ، فقر کا ڈر بھی ہو اور مالدار بننے کی خواہش دل دماغ کے کسی کونے میں موجود ہو ، فرمایا اس کو موخر نہ کیا کرو ، ایسا نہ ہو کہ جب جان گلے میں آکر اٹک جائے تو پھر خرچ کرنا شروع کردو۔ ایسے وقت کا خرچ کیا ہوا کیا مفید ہوگا۔ جب کہ زندگی بھر تو اس طرف دھیان ہی نہیں آیا۔ فرمایا اگر تندرستی کی حالت میں دیتا تو اچھا تھا۔ اب جو بچ گیا۔ وہ تو ورارثوں کا مال ہے۔ اب اس کے خرچ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا انسان خواہش کرے گا کہ اسے تھوڑی سی مہلت مل جائے تو وہ صدقہ خیرات کرکے نیکوکاروں میں شامل ہوجائے گا۔ مگر اللہ نے فرمایا ولن یوخر اللہ نفسا اذا جاء اجلھا اللہ ہرگز نہیں مہلت دیگا کسی جان کو جب کہ اس کے وعدے کا وقت آن پہنچا۔ واللہ خبیر بما تعملون ، اور اللہ تعالیٰ ان کاموں کی پوری خبر رکھتا ہے۔ جو تم انجام دیتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری اندرونی استعداد سے لے کر بیرونی اعمال تک ہر چیز سے واقف ہے اور اسی کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔