64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 64:1–4

یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 64:1 in the Quran reader

تسبیح بیان کرتی ہے جو چیز بھی ہے آسمانوں میں اور جو بھی ہے زمین میں۔ اسی کے لئے بادشاہی اور اسی کے لئے ہے تعریف ، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 64:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ، اور جو کچھ تم کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو دیکھنے والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 64:3 in the Quran reader

پیدا کیا ہے اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔ اور تمہیں صورت بخشی ، پس بہت اچھی صورت عطا کی تم کو ، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 64:4 in the Quran reader

جانتا ہے وہ جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں ۔ اور جانتا ہے ان باتوں کو جن کو تم چھپاتے ہو اور جن کو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سور ۃ التغابن ہے جو کہ اس کی آیت 9 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے ۔ تغابن غبن کے مادہ سے ہے ۔ جس میں نقصان کا معنی پایا جاتا ہے اور یوم التغابن قیامت کے دن کو کہا گیا ہے جس کا ذکر اس سورة میں آرہا ہے زیادہ تر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں سورة تحریم کے بعد نازل ہوئی ، تاہم بعض فرماتے ہیں کہ اس کی کچھ آیات مکی ہیں اور کچھ مدنی ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اٹھارہ آیات اور دو رکوع ہیں۔ اور یہ سورة 241 الفاظ اور 1070 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : پچھلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کی مذمت بیان فرمائی ، جو حضور ﷺ کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ اعتقادی منافق تو کافروں کی ہی ایک بدترین قسم ہے۔ تاہم عملی منافق کے قول اور عمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ لوگ بھی انسانی سوسائٹی میں نقصان کا باعث ہوتے ہیں۔ نفاق ہر حالت میں بری خصلت ہے۔ خواہ وہ اعتقادی ہو یا عملی۔ بہرحال اللہ نے منافقوں کی سازشوں اور ان کی غلط کاروائیوں کا ذکر پچھلی سورة میں کیا۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ دنیاوی زندگی میں منہمک ہو کر ذکر و عبادت سے غافل ہوجاتے ہیں وہ بھی ایک قسم کے نفاق ہی کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ایک سچے مومن میں بری خصلت نہیں پائی جاتی۔ پھر اسباب غفلت کے طور پر اللہ نے مال اور اولاد کا ذکر فرمایا کہ اکثر لوگ انہی دو چیزوں کی محبت میں مبتلا ہو کر آخرت کی فکر سے غافل ہوجاتے ہیں ، اللہ نے اس سلسلے میں تنبیہ فرمائی کہ اگر ایسا کرو گے تو ہمیشہ کے نقصان میں پڑجائو گے ، منافقوں کی ایک یہ صفت بھی اللہ نے بیان فرمائی کہ وہ نادار مہاجرین کی مالی اعانت سے منع کرتے تھے ، تاکہ ان کی جماعت کی تقویت حاصل نہ ہو ، وہ اپنے آپ کو باعزت اور مہاجرین کو ذلیل کہتے تھے ، اللہ نے اس کی بھی مذمت بیان فرمائی۔ سورۃ کے آخر میں اللہ نے اہل ایمان سے انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق خاص طور پر خطاب فرمایا اور تنبیہ کی کہ مال واولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے ہاتھ نہ روک لینا۔ یہ ہمارا دیا ہوا مال ہے جس میں خرچ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ یہ کوئی تمہاری ذاتی ملکیت نہیں۔ ہر چیز کا مالک اللہ ہے ، اس نے تمہیں مجازی طور پر بعض چیزوں کا محدود عرصہ کے لئے مالک بنایا ہے تو تم اس کے حقیقی مالک نہ بن جانا۔ قرآن پاک کی اکثر سورتوں میں انفاق کی ترغیب دی گئی ہے۔ مثلاً سورة در میں فرمایا۔ واتوھم…………………اتکم (آیت 33) اس مال میں سے مستحقین کو دو جو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے۔ پچھلی سورة المنافقون میں بھی گزر چکا ہے وانفقوا………رزقنکم (آیت 10) ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرو۔ وگر نہ جب موت کا وقت آجائے گا تو انسان اس وقت تمنا کرے گا کہ اسے کچھ مہلت مل جائے تو صدقہ خیرات کرکے نیکوکاروں میں شامل ہوجائے مگر اس وقت مہلت نہیں ملے گی۔ مضامین سورة : گزشتہ سورة میں بیان کی گئی بہت سی باتیں اس سورة میں بھی اللہ نے بیان فرمادی ہیں۔ اس سورة میں قیامت کو یوم التغابن کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جس کو ترجمہ شاہ عبدالقادر (رح) ہار جیت کا دن کرتے ہیں ۔ جن کے پاس نیکی نہیں ہوگی وہ اس دن ہار جائیں گے اور جن کے پاس ایمان اور نیکی ہوگی وہ جیت جائیں گے اس سورة میں مال اور اولاد کے فتنے کا ذکر بھی ہے۔ یہاں پر نیکی کے بلند ترین اصول بیان کیے گئے ہیں اور کفر کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ رسالت کے سلسلہ میں انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کا ذکر ہے اور مشرکین کی جہالت اور بیوقوفی کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ الغرض ! اس سورة مبارکہ میں اللہ نے سب سے پہلے دین کا اصل الاصول اور بنیادی مسئلہ ، مسئلہ توحید بیان فرمایا ہے اور پھر رسالت کا بیان ہے۔ اس میں مشرکین اور نبوت و رسالت میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والوں کا رد ہے۔ انسان کے مال اور اولاد کو اس کے حق میں فتنہ قرار دیا گیا ہے اور تاکید کی ہے کہ حسب استطاعت دین کا کام زیادہ سے زیادہ انجام دیا جائے۔ توحید باری تعالیٰ : دین میں سب سے پہلے انسان کی فکر کا پاک ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی شخص کو کمال حاصل نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ توحید پر اسی لئے زور دیا جاتا ہے تاکہ انسان کی فکر پاک ہو اور اس کے دل و دماغ میں نور ایمان راسخ ہوجائے ، اور اس کو ظاہر و باطن کی طہارت حاصل ہوجائے۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی شخص جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر مکمل یقین نہ رکھتا ہو ، اس کو کمال مطلوب کبھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ توحید کی وجہ سے انسان کی فکر پاک ہوتی ہے ، ورنہ انسان نجاست میں ہی مبتلارہتا ہے اسی لئے مشرکین کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے انما المشرکون نجس (التوبہ 28) بیشک مشرک لوگ ناپاک ہیں۔ جب تک انسان کا اندرپاک نہ ہو ، اس کا دل و دماغ اور روح پاک نہ ہو ظاہری طہارت کا کچھ فائدہ نہیں۔ اللہ نے منافقوں کے متعلق بھی فرمایا ہے۔ انھم رجس وماوھم جھنم وہ پلید ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اللہ نے اسی روحانی نجاست کے متعلق فرمایا ہے فاجتنبوا الرجس من الاوثان (الحج 30) بت پرستی کی نجاست سے بچو۔ سورة المدثر میں اللہ کا فرمان ہے والرجز فاھجر (آیت 5) نجاست کو ترک کردو۔ اس سے ہر قسم کی گندگی مراد ہے۔ سب سے پہلی نجاست اعتقاد کی ہوتی ہے ، مشرک بظاہر تو بالکل صاف ستھرا معلوم ہوتا ہے ، جو غسل کرتا ہے ، خوشبو لگاتا ہے اور اچھے کپڑے پہنتا ہے۔ مگر اس کی روحانی نجاست کی بناء پر اللہ نے اس کو نجس کہا ہے۔ روحانی نجاست انسان کے باطن کو تاریک کردیتی ہے۔ اس کی موجودگی میں انسان کے دل میں بصیرت پیدا نہیں ہوسکتی۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اعتقاد کی طہارت کے بغیر انسان کا قدم خطیرۃ القدس کی طرف نہیں اٹھ سکتا ، بلکہ وہ بھٹکتا ہی رہتا ہے۔ قرآن میں اشارتاً موجود ہے کہ ایسا شخص نیچے گڑھے میں ہی گرے گا۔ مرنے کے بعد بدعقیدہ آدمی کی روح اوپر کی طرف کوشش کریگی۔ جب کہ اس کا فاسد عقیدہ اور برے اعمال نیچے کو کھینچیں گے اور اس کشمکش میں اسے تکلیف پہنچے گی۔ غرضیکہ سب سے پہلے اللہ نے ایمان اور توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ تاکہ انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست ہوجائے اور وہ تریقی کی منازل طے کرسکے۔ اس طرح وہ اپنے لئے خدا کی طرف سے لکھا ہوا کمال حاصل کرسکے گا۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کو صحیح طریقے سر نہیں مانتا وہ ملحد ہے۔ جب کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کی واحدنیت اور اس کیتقدیر پر یقین کرلیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک دروازہ واہوجاتا ہے اور بندے کو ترقی نصیب ہوجاتی ہے۔ طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اس سورة کی ابتدائی پانچ آیتیں ہر شخص کی پیشانی پر لکھی ہوئی ہیں۔ چناچہ ابتداء میں بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا کل مولود یولد علی الفطرۃ ہر بچہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ بچہ خواہ کسی یہودی ، نصرانی ، ہندو ، سکھ ، بدھ یا دہریہ کے گھر پیدا ہوا ہو۔ اس کی فطرت بالکل صحیح ہوتی ہے۔ پھر بعد میں اس کے والدین اور اس کا ماحول اسے یہودی ، عیسائی یا ہندو وغیرہ بنادیتے ہیں۔ پانچ آیتوں کا ذکر کرکے حضور ﷺ نے کنایتاً بات سمجھائی ہے کہ نومولود ہمیشہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس پر ماحول کا اثر نہ ہو تو وہ ان پانچ آیات میں بیان کردہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی مذکورہ صفات پر مکمل یقین رکھنے والا ہو۔ خدا تعالیٰ کی تسبیح : ارشاد ہوتا ہے یسبح للہ مافی السموت ومافی الارض پاکی بیان کرتی ہے اللہ تعالیٰ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں میں اور جو زمین میں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی تسبیح وتنزیہہ بیان کرتا ہے۔ تنزیہہ کا معنی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات ہر عیب ، نقص ، کمزوری اور ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ اللہ نے سورة نحل میں فرمایا ہے کہ ہر چیز اپنی فطرت کے مطابق خدا کی تسبیح بیان کرتی ہے ، البتہ انسانوں میں آکر دو گروہ بن جاتے ہیں۔ بعض اللہ تعالیٰ کی توحید پر مستقیم رہتے ہیں اور بعض شرک کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ ان کے سائے بھی خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہی ناشکرگزار ہے جو اپنے خالق اور مالک کا حق نہیں پہچانتا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتا ہے حالانکہ اللہ کا واضح فرمان ہے فتعلی………یشرکون (الاعراف 190) اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے بلندو برتر ہے جس کو لوگ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ خدا کی ذات ازلی ابدی اور عیب اور نقص سے پاک ہے۔ آسمان کے سیارے اور ستارے فرشتے اور ساری مخلوق حتیٰ کہ پتا پتا ، ٹہنی ٹہنی ، شجر وحجر اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بادشاہی : فرمایا لہ الملک بادشاہی بھی اسی کی ہے جو معبود برحق ہے اور جس کی سبھی تنزیہہ بیان کرتے ہیں۔ سورة الملک کے آغاز میں فرمایا تبرک الذی بیدہ الملک (آیت 1) بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں حقیقی بادشاہی ہے ، دنیا کی بادشاہی اور اقتدار تو عارضی ہے اور ختم ہوجانے والا ہے ، لوگ خواہ مخواہ اس پر مغرور ہوجاتے ہیں۔ حقیقی بادشاہ وہی ہے جس کی بادشاہی کو کبھی زوال نہیں ہے۔ یہ بادشاہی صرف زمین پر انسانوں کی حد تک محدود نہیں بلکہ لہ ملک………والارض (الزمر 44) آسمانوں اور زمین کی ساری سلطنت اسی کی ہے ، بادشاہی اس کی ہے ولہ الحمد اور تعریف بھی اسی کی ہے ، صفات کمال کا مالک وہی ہے وھو علی کل شیء قدیر ، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اللہ کی ذات فعال لمایرید (البروج 16) جو چاہے کرے اس کے راستے میں کوئی چیزرکاوٹ نہیں بن سکتی ، اس کی صفت یہ ہے کہ وہ ملک الملک………………… …ممن تشآء (آل عمران 26) بادشاہوں کا بادشاہ ہے ، جس کو چاہے ، جس کو چاہے اقتدار عطا کردے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے۔ ہر چیز پر قدرت اسی کو حاصل ہے ، دنیا میں کتنی بھی بڑی سلطنت کا مالک ہو ، مگر وہ ہر کام نہیں کرسکتا۔ یہ صرف خدا کی ذات ہے جو ہر شے پر قادر ہے اصلی اور حقیقی بادشاہی اسی کی ہے ، لہٰذا انسانوں کا فرض ہے کہ اس کو احکم الحاکمین تصور کریں ، اس کی توحید کو تسلیم کریں اور اس کے ساتھ شرک نہ کریں۔ خدا تعالیٰ کی صفت خلق : فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے۔ ھوالذی خلقکم وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ وہ خود ازلی ابدی ہے اور باقی سب مخلوق ہے۔ سورة الزمر میں ہے اللہ خالق کل شیء (آیت 26) جو ہر چیز کا خالق ہے ، رب بھی وہی ہے اور معبود بھی وہی ہے ، پھر دوسروں کی عبادت کیوں کی جائے ؟ ان کے سامنے انتہائی درجے کی تعظیم کیوں بجا لائی جائے ؟ اللہ کے علاوہ ہر جاندار اور بےجان چیز مخلوق ہے۔ اور مخلوق عاجز اور سوالی ہے۔ ہر جن وانس ، ملائکہ ، کیڑے مکوڑے ، چرند پرند ، آبی مخلوق سب اللہ کے سوالی ہیں۔ دینے والا صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دو صفات کو تو سبھی مانتے ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی خود بخود ہے۔ اس کے علاوہ کسی چیز کا وجود ذاتی نہیں بلکہ خدا کا عطا کردہ ہے۔ اللہ کی دوسری صفت خلق ہے ۔ جس پر تمام مذاہب والے متفق ہیں کہ پیدا کرنے والا بھی خدا تعالیٰ ہی ہے۔ البتہ تیسری صفت میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ مدبر بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ہر چیز کی وہی تدبیر کرتا ہے مگر مشرک لوگ دوسروں کو بھی مدبر مانتے ہیں۔ عیسائی (علیہ السلام) کو مدبر تسلیم کرتے ہیں۔ جب کہ نجومی ستاروں میں کرشمہ مانتے ہیں۔ قبر پرست ، قبروالوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا یدبر…………الارض (السجدۃ 5) آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر وہی کرتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو تھی صفت تدلی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلی کا عکس ہر انسان کی روح میں پڑتا ہے۔ آج انسان پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس عکس کو محسوس نہیں کرتا۔ جب انسان پر موت واقع ہو کر اس کا مادی خول اتر جاتا ہے اور اصل انسان ظاہر ہوجاتا ہے تو اس وقت اس کو اللہ کی تجلی کا اثر محسوس ہوتا ہے جو اس کا اوپر عالم بالا کی طرف کھینچتی ہے۔ اگر وہ شخص صاحب ایمان ہے تو اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اور اگر وہ توحید پر قائم نہ رہا تو تدلی کی کشش تو اوپر کی طرف ہوگی جب کے انسان اپنے فاسد عقیدے کی وجہ سے نیچے کی طرف جائے گا ، لہٰذا اس کشمکش میں اسے تکلیف ہوگی۔ مومن اور کافر : فرمایا وہی ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا فمنکم کافر ومنکم مومن پھر تم میں سے کوئی کافر بن جاتا ہے اور کوئی مومن بن جاتا ہے۔ کافر کا معنی انکار کرنے والا یعنی جس شخص نے اللہ کی توحید ، رسالت ، کتب سماویہ ، ملائکہ مقربین ، اور قیامت کا انکار کیا وہ کافر شمار ہوگا۔ کافر کا دوسرا معنی ناشکر گزار بھی ہے اور یہاڈ دونوں معنی صادق آتے ہیں۔ یعنی تم میں سے بعض ناشکر گزار اور بعض شکر گزار ہوتے ہیں۔ اللہ نے ناشکر گزاروں یا کافروں کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اکثریت انہی کی ہوتی ہے۔ سورة سبا میں بھی اللہ کا ارشاد ہے۔ وقلیل…………الشکور (آیت 13) میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہیں۔ چناچہ ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ دنیا کی پانچ ارب آبادی میں سے مسلمان صرف ایک ارب کے قریب ہیں۔ باقی چار ارب کی آبادی کافر ہے۔ فرمایا واللہ بما تعملون بصیر اور اللہ تعالیٰ تمہارے انجام دیے جانے والے تمام امور کو دیکھنے والا ہے۔ تمہارا چھوٹے سے چھوٹا عمل حتیٰ کہ نیت اور ارادہ بھی اللہ کی نگاہ میں ہے۔ جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے جس میں ہر شخص کے عقیدہ اور عمل کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا۔ تخلیق کائنات : آگے ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے خلق السموت والارض بالحق جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ۔ اس کی کوئی تخلیق بےسود نہیں ہے بلکہ اس نے ہر چیز کو اپنی خاص مصلحت اور حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا ہے فرمایا کافروں کا یہ خیال باطل ہے کہ اللہ نے ارض سما کو فضول پیدا کیا ہے ، نہیں بلکہ ان کا کوئی مقصد ہے ، اور اس کا نتیجہ نکلنے والا ہے ، پھر فرمایا ارض وسماء کی تخلیق کے علاوہ وصورکم فاحسن صورکم ، اے انسانو ! تمہیں صورت بخشی اور بہت اچھی شکل و صورت عطا فرمائی ، اللہ کا ارشاد ہے لقد خلقنا……………تقویم (التین 4) ہم نے انسان کی بہترین صورت میں پیدا کیا۔ اللہ نے انسان جیسی خوبصورت شکل کسی دوسری مخلوق کو عطا نہیں کی۔ ذرا غور کریں کہ انسان کا چہرہ صرف چھ سات انچ مربع جگہ میں مگر اربوں چہروں میں ہر چہرہ مختلف ہے۔ جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کا بہت بڑا شاہکار ہے۔ انسان کے پیچیدہ اعضاء کو کمال قدرت کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر فٹ کیا ہے کہ وہ ساٹھ ، ستر ، سو سو سال تک کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ خدا کی قدرت کا اعجاز ہے۔ کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔ کہ وہ دماغ جیسی پیچیدہ چیز اور حواس ظاہرہ و باطنہ کو پیدا کرسکے ، فرمایا یہ بہترین شکل و صورت انسان کو عطا کی ہے۔ والیہ المصیر ، اور بالآخر اسے خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ اسے بارگاہ رب العزت میں پیش ہو کر اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہے۔ خدا تعالیٰ علیم کل ہے : آگے اللہ تعالیٰ کی صفت علیم کل کا ذکر ہے۔ یعلم مافی السموت والارض ، وہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں ہے۔ ارض وسما کی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے ، وہ علم محیط کا مالک ہے۔ ویعلم ماتسرون وما تعلنون ، اور وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جن کو تم چھپاتے ہو اور ان کو بھی جن کو تم ظاہر کرتے ہو۔ وہ تمہارے تمام ظاہر و باطن سے واقف ہے حتیٰ کہ واللہ علیم بذات الصدور ، وہ تمہارے سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے انسان مخلوق سے تو کئی چیزیں مخفی رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ چیزیں عمر بھر راز ہی رہتی ہیں مگر اللہ کی ذات وہ ہے کہ جس سے کوئی راز بھی نہیں چھپایا جاسکتا ۔ وہ انسان کی نیت اور ارادے تک کو جانتا ہے۔ اللہ نے سورة الملک میں واضح کیا ہے الا یعلم من خلق ، وھوا لطیف الخبیر ، کیا وہی تمہارے حالات کو نہیں جائے گا ، جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ؟ یقینا وہ کائنات کے ذرے ذرے سے واقف ہے اور انسان کے رگ وریشے کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ یہی بات ہے جو انسان کو غلط کاروائی سے روکتی ہے۔ جو مالک الملک ہر چیز کو جانتا ہے ، حساب کتاب کے وقت اس سے کون سی چیز چھپائی جاسکے گی ؟
Ayahs 64:5–10

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 64:5 in the Quran reader

کیا نہیں آئی تمہارے پاس خبر ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا اس سے پہلے۔ پھر چکھا انہوں نے وبال اپنے معاملے کا۔ اور ان کے لئے عذاب ہے درد ناک

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 64:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس آئے تھے ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر ، وہ کہتے تھے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ پس کفر کیا انہوں نے اور منہ موڑ لیا۔ اور اللہ نے بھی بےپرواہی اختیار کی۔ اور اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور تعریفوں والا ہے

زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 64:7 in the Quran reader

کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ ہرگز نہیں وہ اٹھائے جائیں گے ، (اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں ؟ اور میرے رب کی قسم تم البتہ ضرور اٹھائے جائو گے ، پھر تم کو بتلادیا جائے گا جو کچھ تم عمل کرتے تھے۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِیْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 64:8 in the Quran reader

پس (اے لوگو ! ) ایمان لائو اللہ پر ، اور اس کے رسول پر ، اور اس نور پر جس کو ہم نے اتارا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ان کی خبر رکھنے والا ہے

یَوْمَ یَجْمَعُكُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ یَوْمُ التَّغَابُنِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 64:9 in the Quran reader

جس دن کو جمع کرے گا تم کو ایک جمع ہونے کے دن۔ یہ دن ہار جیت کا دن ہے۔ اور جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور نیک عمل کیا ، اللہ معاف کردے گا اس کو اس کی کوتاہیاں ، اور داخل کرے گا اس کو بہشتوں میں کہ بہتی ہیں ان کے سامنے نہریں ، ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان میں ، یہ ہے کامیابی بڑی

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 64:10 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو ، یہی لوگ ہیں دوزخ والے ، ہمیشہ رہیں گے اس میں ، اور بہت بری ہے جگہ لوٹ کر جانے کی

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا جو دین کی اصل اور بنیاد ہے۔ پھر اللہ کی صفت بادشاہی ، صفت خلق اور صفت علم کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے دو بنیادی باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے رسالت کا ذکر ہے۔ اور پھر قیامت کا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور پھر سب سے آخر میں حضور خالم النبیین (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ نبوت اور قیامت کے بارے میں کافر اور مشرک شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جن کا اللہ نے رد فرمایا ہے۔ اور اس انکار پر سخت سرزنش کی ہے۔ انکار رسالت پر سزا : پہلے رسالت کے بارے میں فرمایا الم یاتکم نبوا لذین کفروا من قبل کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے کفر کیا اس سے پہلے یہ نزول قرآن کے زمانہ کے کافروں اور مشرکوں کو بات سمجھائی جارہی ہے کہ کیا تمہیں سابقہ کافروں کی خبر نہیں پہنچی ؟ جس طرح آج تم رسالت کا انکار کر رہے ہو اس طرح پہلے لوگوں نے بھی اپنے نبیوں کا انکار کیا۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا فذاقواوبال امرھم ، کہ انہوں نے اپنے کام کی سزا کا مزہ چکھ لیا۔ اس قسم کی سزا کا ذکر اللہ نے قرآن کی مختلف سورتوں میں کیا ہے۔ قوم عاد ، ثمود ، قوم ابراہیم ، قوم لوط ، اور قوم صالح اور قوم فرعون نے توحید و رسالت کا انکار کیا تو ان کا کیا حشر ہوا ؟ اللہ نے انہیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادیا۔ ولھم عذاب الیم ، اللہ نے ان نافرمان قوموں کو درد ناک عذاب میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر سابقہ اقوام انکار کی وجہ سے ہلاک ہوسکتی ہیں تو تم اس جرم کی سزا سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ بشریت رسل پر اعتراض : فرمایا ذلک بانہ کانت تاتیھم رسلھم بالبینت ، یہ سزا ان کو اس وجہ سے ملی کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے۔ بینات میں نشانیاں معجزات ، دلائل اور احکام سبھی چیزیں شامل ہیں۔ اللہ کے نبی یہ ساری چیزیں لے کر ان کی ہدایت کے لئے آتے رہے۔ فقالوا ابشر یھدوننا تو وہ کہنے لگے کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ انہوں نے گویا رسول کی بشریت پر اعتراض کیا کہ جو شخص رسالت ونبوت کا دعویٰ کررہا ہے وہ تو ہماری طرح کا انسان ہے بھلا ہمارے جیسا انسان ہمیں کیا ہدایت دیگا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے کہا ما نرئک الا بشرا مثلنا (ھود 27) ہم تو تجھے اپنے جیسا بشر خیال کرتے ہیں۔ ہود (علیہ السلام) کی قوم نے بھی کہا کہ یہ شخص تمہارے جیسا انسان ہی ہے۔ جو تم کھاتے ہو ، وہی وہ کھاتا ہی اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہ بھی وہی کچھ پیتا ہے۔ اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی پیروی کی انکم اذا لخسرون (المومنون 34) تو نقصان میں پڑ جائو گے خود حضور ﷺ کے متعلق کفار مکہ نے کہا مال ھذا……………… ……سواق (الفرقان 7) یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے۔ اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ مطلب یہ کہ سابقہ اقوام نے بھی نبی کے انسان ہونے کا انکار کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر خدا نے کوئی نبی ہی بھیجنا تھا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا ، جو نہ کھاتا نہ پیتا اور نہ اس کے بیوی بچے ہوتے۔ وہ مالدار ہوتا ، اس کے سونے چاندی کے محلات ہوتے ، فوج اور پہریدار ہوتے۔ اس کا تو ہمارے جیسا ٹوٹا پھوٹا مکان ہے ، ہم اس کو کیسے نبی مان لیں ؟ اللہ نے اس بات کو قرآن میں مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ انسانوں کی ہدایت کے لئے انسان ہی بطور نبی مناسب ہو سکتا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا۔ فرمایا اگر ہم فرشتے کو نازل کردیتے تو ان کا معاملہ ختم ہوجاتا اور پھر ان کو مہلت بھی نہ ملتی۔ اور فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجتے للبسانا لیھم ما یلبسون (آیت 9) تو پھر بھی اسی ضد پر قائم رہتے اور کہتے کہ یہ فرشتہ نہیں بلکہ انسان ہے اور ان کی پھر بھی تسلی نہ ہوتی اور نہ وہ رسالت کو تسلیم کرتے۔ بہرحال فرمایا کہ نوع انسانی کی طرف انسان ہی نبی بن کر آسکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ نبی کا انسان ہونا کوئی عجیب بات نہیں ، دیکھو ! وما ارسلنا……………………الاسواق (الفرقان 20) آپ سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں ، وہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ مطلب یہ کہ وہ بھی انسان تھے۔ اور تمام انسانی لوازمات ان میں پائے جاتے تھے لہٰذا انسان ہونا نبوت کے ہرگز منافی نہیں ہے۔ اللہ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کی زبان سے بھی کہلوایا۔ قل انما ………………یوحی الی (الکہف 110) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں البتہ مجھ پر وحی کا نزول ہوتا ہے۔ شان نبوت : جس انسان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ وہ منصب نبوت پر فائز ہوتا ہے۔ جو کہ انسانیت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔ اللہ کا نبی معصوم ہوتا ہے…اور اسے گناہوں سے پاک ہونے کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی باقاعدہ حفاظت کا انتظام ہوتا ہے۔ اس کا اخلاق ، کردار ، اور عمل نہایت ہی شاندار اور امت کے لئے نمونہ ہوتا ہے۔ تاہم ہوتا وہ انسان ہی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر نبی کو بشر یا انسان کہہ دیا تو نعوذ باللہ نبی کی توہین ہوگئی۔ یہ تو حماقت کی بات ہے ، حقیقت یہ ہے کہ انسان ہونا تو فخر کی بات ہے اللہ نے فرشتوں کو مخاطب کرکے فرمایا۔ انی خالق………………طین (ص ٓ 71) اور ساتھ فرشتوں کو حکم دیا کہ جب میں آدم کو تیار کرلوں تو اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا ، چناچہ فرشتوں نے اس حکم کی تکمیل کی۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے ولقد کرمنا بنی ادم (آیت 70) ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی اور اسے شرف عطا کیا۔ غرضیکہ نبی کا بشر ہونا نبوت کے منافی نہیں بلکہ اللہ کا نبی تو افضل البشر ہوتا ہے۔ بزرگان دین بات اس طرح سمجھاتے ہیں کہ دیکھو سارے پتھر یکساں نہیں ہوتے ، اگر چہ وہ پتھر ہی ہوتے ہیں۔ وہ بھی پتھر ہیں جو سڑکوں پر کوٹے جاتے ہیں اور جس کو کوش کرکے اور بجری بنا کر عمارات میں استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بھی پتھر ہی ہیں جو ہیروں کی شکل میں زیورات میں لگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح سارے انسان بھی ایک جیسے نہیں۔ کہاں نبی کی معصوم اور بلندو برتر ذات اور کہاں ہم گنہگار انسان۔ کوئی احمق آدمی بھی اس لحاظ سے نبی کے برابر ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اولاد اپنے والدین کی اور شاگرد اپنے استاد کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتے چہ جائیکہ اللہ کے نبی کو عام انسانوں کے برابر سمجھا جائے۔ البتہ انسان ہونے میں نبی اور امتی برابر ہیں۔ کیونکہ دونوں آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ عام آدمی کی طرح نبی بھی عورتوں کے بطن سے پیدا ہوئے اور طبعی لوازمات مثلاً کھانا ، پینا ، سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، بیماری تندرستی وغیرہ میں وہ بھی شریک ہوتے تھے ، مگر درجے کے اعتبار سے اللہ کا نبی بلند ترین ہستی اور عام مخلوق کے لئے معیار ہوتا ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ بھی بشر ہیں لیکن سیدالبشر ، سیدالاولین وآخرین۔ انسان کہنے سے آپ کی توہین کا پہلو نہیں نکلتا۔ جو ایسا سمجھتے ہیں وہ کافروں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں۔ کافروں نے بھی انسانیت کو نبوت و رسالت کے منافی سمجھا فکفروا پس انہوں نے نبی کی نبوت کا انکار کردیا وتولوا اور اس سے منہ موڑ لیا۔ اور اس طرح جہالت میں مبتلا ہوگئے۔ اللہ نے فرمایا ، اگر انہوں نے یہ روش اختیار کی ہے واستغنی اللہ ، تو اللہ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی ہے۔ اس نے کفار کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ واللہ غنی حمید ، اور اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور تعریفوں والا ہے کسی کے منہ موڑ لینے سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ بہرحال یہ سابقہ اقوام کی بدبختی کی علامت ہے کہ انہوں نے نبی کی نبوت اور اس کی شریعت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، حالانکہ نبی کی تعلیم کے بغیر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات کو معلوم نہیں کرسکتا ، اور نہ ہی اسے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں سزا ملی اور وہ ہلاک ہوگئے۔ بعث بعد الموت کا انکار : دین کے بنیادی مسائل میں سے رسالت کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد اللہ نے قیامت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ زعم الذین کفروا ، کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ہم نے زعم کا ترجمہ کہا گیا ہے۔ یہ لفظ یقین اور گمان دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ حضرت شیخ الہند (رح) نے اس کا ترجمہ ” دعویٰ “ کیا ہے یعنی یقین کے ساتھ کوئی بات کرنا۔ تاہم یہ لفظ مطلق قول…کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً زعم فلان یعنی قال فلان حدیث میں حضور ﷺ نے شک والی بات کی تردید فرمائی ہے بئست المطیۃ زعم غلط پراپیگنڈا کرنے والے لوگ بلا تحقیق یہی لفظ استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نے یوں کہا ہے یا لوگ یوں کہتے ہیں ……… حضور ﷺ نے فرمایا یہ بری سواری ہے جس پر لوگ سوار ہوتے ہیں اور غلط پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ چونکہ کافر لوگ قیامت کا انکار کرتے تھے اس لئیزعم کا معنی دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ بہرحال کافروں نے دعوی کیا یا یوں کہا ان لن یبعثوا کہ مرنے کے بعد ان کو ہرگز نہیں اٹھایا جائے گا۔ بڑی تاکید اور دعویٰ کے ساتھ بعث بعدالموت کا انکار کیا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں بلیٰ کیو نہیں ؟ وربی لتبعثن ، میرے پروردگار کی قسم تم ضرور اٹھائے جائو گے۔ لتبعثن میں ل اور ن دونوں تاکیدی ہیں۔ اللہ نے پورے یقین کے ساتھ فرمایا کہ تم ضروربہ ضروراٹھائے جائو گے۔ ثم لتنبون بما عملتم ، پھر تم کو بتلا دیا جائے گا جو کچھ تم کام کیا کرتے تھے۔ تمہارے تمام اعمال بھی اللہ کے ہاں محفوظ ہیں۔ جو قیامت والے دن تمہارے سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ فرمایا وذلک علی اللہ یسیر ، ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے بالکل آسان ہے۔ جس اللہ نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ، اس کے لئے دوبارہ اٹھانا کیسے مشکل ہوگا ؟ تاہم یہ کام وقت مقررہ پر ہوگا ، جس کے متعلق اللہ کا فرمان ہے وعداعلینا…………فعلین (الانبیائ 104) ہمارا یہ پکا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ یہ اس اعتراض کا جواب بھی ہوگیا کہ اگر قیامت برحق ہے تو پھر وہ آتی کیوں نہیں ؟ اللہ اور رسول پر ایمان : فرمایا جب قیامت کا وقوع اور جزائے عمل کی منزل لازمی آنے والی ہے ، تو پھر اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اے لوگو ! فامنوا باللہ ورسولہ ، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئو۔ اگر خدا کا قرب ، بلند مرتبہ اور نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کو راضی نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے ساتھ ساتھ اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، قیامت اور تقدیر پر ایمان لانا بھی ضروری ہے کہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ رسالت کے سلسلے میں صرف ایک نبی پر ایمان لانا کافی نہیں بلکہ اللہ کے تمام انبیاء اور رسل پر ایمان لانا ضروری ہے اور اللہ کے ساتھ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سنت پر عمل کیا جائے۔ جس کام کے کرنے کا حکم دے اسے انجام دیاجائے اور جس کام سے روکے اس سے باز آجائے۔ بہرحال فرمایا کہ اگر آخرت میں کامیابی چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ قرآن پر ایمان : آگے فرمایا والنور الذی انزلنا اور اس نور پر بھی ایمان لائو جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ اس سے مراد قرآن حکیم ہے جو اللہ نے اپنے آخری نبی پر بذریعہ وحی نازل فرمایا۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں قیامت کے لئے لائحہ عمل بیان کیا گیا ہے اب اس نبی کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ اس کتاب کے بعد کوئی کتاب آئے گی سورة النساء میں بھی اللہ نے قرآن پاک کو نور سے تعبیر کیا ہے۔ وانزلنا………مبینا (آیت 175) ہم نے تمہاری طرف ایک واضح نور نازل فرمایا ہے۔ اسی طرح سورة المائدہ میں بھی فرمایا ہے قدجاء کم……………مبین (آیت 15) اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور اور کتاب مبین یعنی قرآن پاک آگیا ہے۔ اس قرآن کی وجہ سے انسانوں کے دلوں میں روشنی پیدا ہوتی ہے ، گویا یہاں پر نور سے ظاہری روشنی مراد نہیں بلکہ نور بصیرت مراد ہے ، انسان کے اندر ایسا فہم پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ حق و باطل ، جائز وناجائز اور حلال و حرام میں امتیار کرسکتا ہے اللہ نے کفر کو تاریکی کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جب کہ ایمان اور اطاعت نور ہے فرمایا اس نور پر ایمان لائو اور پھر اس کے پروگرام کو اختیار کرو جو کہ ایمان لانے کا لازمی تقاضا ہے۔ قرآن پاک کو اپنی زندگی کا لابحہ عمل بنالو کہ اس میں تمہاری کامیابی کا راز ہے واللہ بما تعملون خبیر اور تمہارے تمام کاموں کو اللہ تعالیٰ نگاہ میں رکھنے والا ہے۔ وہ تمہارے چھوٹے سے چھوٹے اور ہر اچھے برے عمل کو دیکھ رہا ہے اور قیامت والے دن انہی کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ یوم التغابن : آگے قیامت والے دن کا ذکر فرمایا ہے یوم یجمعکم لیوم الجمع ، جن دن کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا ہونے والے دن اکٹھا کرے گا۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جب تمام اولین اور آخرین میدان حشر میں جمع ہوں گے اور حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ اس دن کے متعلق فرمایا ذلک یوم التغابن یہ ہار جیت کا دن ہوگا اس دن بعض لوگ ہار جائیں گے اور بعض جیت جائیں گے۔ امام بیضاوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین اس کا مفہوم اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ہر شخص کے دو دو ٹھکانے ہیں ایک جنت میں اور دوسرا جہنم میں۔ ایک کافر آدمی کا ٹھکانا دوزخ کے علاوہ جنت میں بھی ہے اگر وہ ایمان لے آتا تو اس کو جنت والا ٹھکانا مل جاتا۔ لیکن ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کا جنت والا ٹھکانا مومن کو مل جائے گا۔ مومن کا اپنا ٹھکانہ بھی جنت میں ہوگا اور اس طرح اس کو دو ٹھکانے مل جائیں گے تو گویا کافر ہار گیا ، اور مومن جیت گیا۔ اس لئے اس کو ہار جیت کا دن کہا گیا ہے۔ سورة آل عمران میں اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے۔ فمن………………فقد فاز (آیت 185) جو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا۔ وہ کامیاب ہوگیا۔ اصل کامیابی یہی ہے ، جو لوگ دنیا کی کامیابی کو کامیابی سمجھتے ہیں وہ دھوکے میں ہیں کیونکہ یہ تو عارضی چیز ہے ، ہمیشہ رہنے والا تو آخرت کا گھر ہی ہے۔ ایمان اور اعمال صالحہ : ارشاد ہوتا ہے۔ ومن یومن باللہ ویعمل صالحا ، اور جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل انجام دیا۔ یکفرعنہ سیاتہ اللہ تعالیٰ اس کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔ ایمان اور نیکی کی وجہ سے انسان کو چھوٹی موٹی خطائیں خود بخود معاف ہوتی رہتی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ وضو ا کی نیک عمل ہے جس کی وجہ سے انسان کی بہت سی کوتاہیاں معاف ہوتی رہتی ہیں۔ مثلاً جب کوئی آدمی وضو کی نیت سے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، جب منہ دھوتا ہے تو منہ کی خطائیں معاف ہوجاتی ہیں اور جب پائوں دھوتا ہے تو پائوں کے صغائر معاف ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ جب وضو کے پانی کا آخری قطرہ زمین پر گرتا ہے تو انسان تمام صغیرے گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ دوسری جگہ ہے ان الحسنت یذھبن السیات (ہود 114) بیشک انسان کی نیکیاں اس کی برائیوں کو مٹاتی رہتی ہیں۔ پھر جب آدمی نماز پڑھتا ہے تو اس کے بہت سے گناہ دھل جاتے ہیں۔ یہ صغیر گناہوں کے متعلق ہے ، البتہ کبائر بغیر توہ اور حق ادا کیے معاف نہیں ہوتے۔ فرمایا ، اللہ تعالیٰ اس کی تقصیروں کو معاف فرمادے گا ویدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر اور اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جس کے سامنے نہریں بہتی ہیں۔ خلدین فیھا ابدا ایسے لوگ ان بہشتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے اور نہ ہی وہاں کی نعمتیں کم ہوں گی ذلک الفوز العظیم یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کو نصیب ہوجائے۔ جب انسان اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں پہنچ جائے گا تو اسے وہاں ہر قسم کی مراد حاصل ہوگی ، لہٰذا اس سے بڑھ کر کونسی کامیابی ہوسکتی ہے ؟ کفر کا انجام : پھر فرمایا والذین کفروا وکذبو بایتنا ، جن لوگوں نے کفر کیا ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید ، اس کی ذات ، اس کی صات ، رسالت ، کتب سماویہ ، ملائکہ اور بعث بعدالموت کا انکار کیا اور خدا تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کی فرمایا اولئک اصحب النار یہی دوزخ میں جانے والے لوگ ہیں۔ خلدین فیھا ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ کافر اور مشرک کو دوزخ سے کبھی رہائی نصیب نہیں ہوگی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وبئس المصیر اور یہ لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے اس سے برا کوئی مقام نہیں ہوسکتا ، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔
Ayahs 64:11–15

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 64:11 in the Quran reader

نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم سے ، اور جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کی راہنمائی کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 64:12 in the Quran reader

اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ پھر اگر تم نے روگردانی کی ، پس بیشک ہمارے رسول کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے کھول کر

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 64:13 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں ایمان والے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 64:14 in the Quran reader

اے ایمان والوں بیشک تمہاری بعض عورتوں اور اولاد میں سے تمہارے لئے دشمن ہیں۔ پس ان سے بچتے رہو۔ اور اگر تم معاف کرو گے ، اور درگزر کرو گے اور بخش دو گے ، پس بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا ، اور مہربان ہے

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 64:15 in the Quran reader

بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولادیں آزمائش ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے پاس اجر عظیم ہے

مصیبت باذن اللہ : گزشتہ آیات میں دین کے تین بنیادی اصول یعنی توحید ، رسالت اور معاد کا ذکر ہوا ہے آج کی آیات میں یہ باتیں بیان ہورہی ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کی بات سمجھائی گئی ہے اور انسان کو مضر اور خطرناک چیزوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔ لوگ آنے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے بہت سی غلط کاروائیاں کرتے ہیں۔ جن سے اللہ نے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تکلیف آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے اور اسے دور کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔ اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر نہ تکلیف آتی ہے اور نہ دور ہوتی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مکمل یقین نہیں رکھتے وہ مصیبت کے وقت طرح طرح کے شرکیہ کام کرنے لگتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے ایمان کی قدروقیمت سے آگاہ کیا ہے۔ ایک ایماندار آدمی کی شان یہی ہے کہ وہ تکلیف کی آمد اور روانگی کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع سمجھتا ہے۔ لہٰذا نہ وہ اس پر جزع فزع کرتا ہے اور نہ غیر اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے۔ نہ جادو کرتا ہے نہ کسی رمل فال والے کے پاس جاتے ہے اور نہ ہی کوئی شرکیہ عمل کرتا ہے۔ فرمایا ومن یومن باللہ یھد قلبہ جو اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان رکھنے والا آدمی ہے اللہ اس کے دل کی راہنمائی فرماتا ہے۔ خدا کی وحدانیت پر پورا پورا یقین انسان کے دل کو اللہ تعالیٰ کی تسلیم ورضا کی طرف لے جاتا ہے ، اور وہ ہر چیز کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے۔ وہ ہمیشہ اسی کی طرف رجوع رکھتا ہے اور جب کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون (البقرہ 156) ایسا شخص صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اور اگر کوئی نعمت مل جائے یا راحت نصیب ہوجائے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ، نیز ایسا شخص ہمیشہ سنت کا اتباع کرتا ہے اور بدعات سے بچتا ہے ۔ یہ اللہ کی طرف سے اس کے دل کی راہنمائی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ کے حکم اور نبی کی سنت کے مطابق کام کرتا ہے۔ اس لفظ کو یھد کی بجائے یھد قلبہ بھی پڑھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اس کا دل سکون اور اطمینان پکڑتا ہے۔ اور جو کوئی خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور دیگر اجزائے ایمان پر یقین نہیں رکھتا اس کا دل ہمیشہ خلفشار میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کے دل میں طرح طرح کے غلط وسوسے آتے ہیں اور وہ بےیقینی کی حالت میں مبتلا رہتا ہے۔ فرمایا واللہ بکل شیء علیم اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ تکلیف یا مصیبت بھیج کر وہ جاننا چاہتا ہے کہ کون ثابت قدم رہتا ہے ، تسلیم ورضا کی راہ پر چلتا ہے اور کون صبر کا دامن چھوڑ بیٹھتا ہے۔ دلوں کے احوال اللہ کے سامنے ہیں۔ لہٰذا انسانوں کا قرض ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور تکیف و راحت میں اللہ کی رضا کے متلاشی رہیں۔ دینی اور دنیاوی مصیبت : حضور ﷺ کا ارشاد مبارکہ ہے کہ مصیبت دو قسم کی ہوتی ہے ۔ یعنی دینی اور دنیاوی۔ دنیاوی مصیبت آسان ہوتی ہے اور زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے البتہ دینی مصیبت بہت مشکل چیز ہے ، جو شخص دینی مصیبت میں پڑگیا۔ وہ ہمیشہ کے لئے خسارے میں پڑگیا کیونکہ دینی مصیبت مرنے کے بعد بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اسی لئے حضور ﷺ نے یہ دعا سکھائی اللھم لا تجعل الدنیا اکبرھمنا ولا مبلغ علمنا ولا تجعل مصیبتنا ودیننا ، اے اللہ صرف دنیا کو ہی ہمارا منتہائے مقصود نہ بنا اور نہ ہی ہمارا مبلغ علم صرف دنیا ہی ہو۔ اور ہماری مصیبت دین کے معاملہ میں نہ بنا۔ ایسا نہ ہوں کہ انسان دنیا سے جاتے وقت ایمان اور توحید کی بجائے کفر اور شرک لے کر جائے ، پاکیزگی کی بجائے نجاست اس کے حصے میں آئے ، یہی دین کا فتنہ ہے جو انسان کو ہمیشہ کے لئے نقصان میں ڈال دیتا ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت : اس کے بعد فرمایا واطیعو اللہ واطیعو الرسول اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ فان تولیتم پھر اگر تم اطاعت سے روگردانی کرو گے فانما علی رسولنا البلغ المبین ، پس ہمارے رسول کے ذمے تو کھول کر بیان کردینا ہے۔ اس کی ذمہ داری اتنی ہی ہے کہ وہ خدا کا پیغام پہنچا دیتا ہے ، اس پر عمل کرکے دکھا دیتا ہے ، پھر اگر کوئی نہیں مانتا تو یہ رسول کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انسان خود اس کا ذمہ دار ہوگا۔ فرمایا اللہ لا الہ الا ھو ، معبود برحق صرف اللہ کی ذات ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وعلی اللہ فلتوکل المومنون ، اور ایمان والے صرف اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ دنیا کی ہر چیز عارضی اور فانی ہے لہٰذا ان میں سے کسی چیز پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ قابل اعتماد صرف اللہ کی ذات ہے جو دائم قائم ، ازلی اور ابدی ہے۔ وہی خالق اور مالک ہے ، وہ قادر مطلق اور علم کل ہے ، لہٰذا بھروسہ بھی صرف اسی پر کیا جاسکتا ہے۔ بیوی بچوں کی دشمنی : بیان کردہ مصیبت کے ضمن میں اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے یایھا الذین امنوا ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم ، اے ایمان والو ! بیشک تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں۔ یہاں پر من تبعیضیہ ہے یعنی ساری عورتیں اور ساری اولادیں دشمن نہیں ، بلکہ ان میں سے بعض ایسی ہیں۔ تجربہ سے ثابت ہے کہ بعض بیویاں بھی نہایت نیک اور صالحہ ہوتی ہیں اور دین کے معاملے میں پختہ کار بھی ۔ وہ نیکی کے کاموں میں خاوندوں کی معاونت کرتی ہیں۔ یہ چیز میاں بیوی دونوں کے لئے سعادت مندی کی علامت ہے۔ اسی طرح بعض اولاد بھی نیک ہوتی ہے جو والدین کے لئے دعائیں کرتی ہے اور ان کے لئے بخشش کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے برخلاف اگر کوئی آدمی خود تو نیک ہے مگر اس کی بیوی اچھی نہیں ہے تو بقول شیخ سعدی (رح) وہ شخص دنیا میں رہتے ہوئے بھی دوزخ میں ہی پڑا ہوا ہے۔ فرمایا بسا اوقات انسان بیوی بچوں کی محبت میں مبتلا ہو کر آخرت کو فراموش کردیتا ہے جو کہ اس کے حق میں اچھا نہیں ہوتا ۔ یہ تو آخرت سے محرومی اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہ کرنے کے مترادف ہے ، اور یہی انسان کی بدبختی کی علامت ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ خبردار ہو کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں۔ ان کی محبت میں مبتلا ہو کر خدا کی عبادت اور اس کے ذکر کو نہ چھوڑ بیٹھنا ، بلکہ فرائض کو ادا کرتے رہنا ، غلط رسومات سے بچتے رہنا ، اگر تم نے ان چیزوں کی پرواہنہ کی تو پھر تمہاری بیویاں اور اولادیں واقعی تمہاری دشمن ثابت ہوں گی۔ فاحذروھم لہٰذا ان سے بچتے رہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بالکل ہی غافل ہوجائو۔ بزرگان دین کا قول ہے ” العیال سوس الطاعات “ انسان کے بال بچے اس کے حق میں گھن ہوتے ہیں۔ جس طرح گھن لکڑی یا اناج کو کھا جاتا ہے ، اسی طرح بیوی بچے بھی انسان کی نیکیوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔ فرمایا ان سے بچتے رہنا اور نیکی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا ورنہ ہمیشہ کے لئے خسارے میں پڑ جائو گے۔ طبرانی شریف میں حضرت ابو مالک اشعری (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بیوی بچوں کی بات اس طرح سمجھائی ہے کہ لیس عدوک الذی ان قتلتہ کان فوزا لک وان قتلتک دخلت الجنۃ ولکن الذی لعلہ عدوک والدک الذی خرج میں صلبک ، کہ تمہارا دشمن وہ شخص نہیں کہ اگر تو اسے میدان جنگ میں قتل کردے تو تجھے کامیابی نصیب ہوجائے ، یا اگر وہ تجھے قتل کردے تو تو شہادت کا درجہ پاکر جنت میں چلا جائے ، بلکہ تمہارا دشمن تو تمہارا بیٹا ہے جو تمہارے پشت سے برآمد ہوا ہے۔ نیز فرمایا شاید کہ تمہارا بڑا دشمن وہ کال ہو جو تمہارے قبضے میں ہے۔ مال کی وجہ سے بھی لوگ غرور میں مبتلا ہو کر سرکش ہوجاتے ہیں اور محرمات اور غلط رسوم کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔ بہرحال مطلب یہی ہے کہ خبردار رہو ۔ بیوی ، اولاد اور مال کی محبت میں مبتلا ہو کر دین ، ایمان اور آخرت کو بالکل فراموش ہی نہ کردینا۔ ایک صحابی ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ جہاد پر جانے کے لئے تیار ہوتے تو اس کی بیوی بچے فرط محبت میں ان سے لپٹ جاتے اور کہتے کہ ہمیں کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جا رہے ہو۔ اس طرح صحابی ؓ کے دل میں بعض اوقات کمزوری پیدا ہوجاتی لہٰذا وہ بیوی بچوں پر سختی کرتے تاکہ وہ اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اللہ نے اس سختی بھی منع فرمایا ہے۔ فرمایا بیوی بچوں کی دشمنی سے بچنے کا حکم ہے ، ان پر سختی کرنا روا نہیں۔ اگر وہ محبت میں آکر کوئی ایسی حرکت کردیں تو اسے برداشت کریں۔ وان تعفوا اور اگر تم ان کی غلطی کو معاف کردو گے وتصفحوا اور درگزر کرو گے وتغفروا اور بخش دو گے۔ فان اللہ غفور رحیم ، تو اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے۔ بچوں کے حق میں نرمی کا سلوک کرو اور ان سے نفرت نہ کرو۔ البتہ ان کے شر سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔ مال اور اولاد فتنہ ہے : فرمایا انما اموالکم واولادکم فتنۃ بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولادیں آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ ہر امت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے ، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ اس مال کی وجہ سے ہی لوگ بےایمان ہوجاتے ہیں ، دھوکہ دیتے ہیں ، خیانت کرتے ہیں اور دیگر ناجائز ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ تاکہ عیش و عشرت کرسکیں۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس آزمائش پر پورا اترنے کی کوشش کرو۔ نہ ناجائز طریقے سے مال کمائو اور نہ غلط مقام پر خرچ کرو ، بلکہ اللہ نے مال دیا تو اس کا حق ادا کرو ، زکوٰۃ ادا کرو۔ حج وعمرہ خرچ کرو جہاد کے لئے مال صرف کرو ، محتاجوں ، ناداروں ، مسافروں ، یتیموں اور بیوائوں پر خرچ کرو۔ اور پھر جو کچھ بچ جائے وہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو ، لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو بلکہ ان کا حق پورا پورا دا کرو۔ پھر بقیت اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین (ہود 86) جو کچھ بچ رہے وہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ جس مال میں لوگوں کا حق شامل ہو وہ ہرگز تمہارے لئے بہتر نہیں ، اس سے بچوں کہ یہ تمہارے حق میں فتنہ کا باعث ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے مال اور اولاد کو فتنہ قرار دیا ہے ، لہٰذا ہر فتنے سے تو پناہ نہیں مانگی جاسکتی۔ اس لئے فرمایا یوں دعا کیا کرو۔ اللھم انی اعوذبک من مضلات الفتن ، اے اللہ ! میں گمراہی میں ڈال دینے والے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس میں تمام فتنے آجائیں گے خواہ وہ بیوی بچے ہوں یا مال و دولت ہو۔ جن کی وجہ سے انسان گمراہی میں پڑجائے۔ ایک موقع پر حضور ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ چھوٹے بچے حسن ؓ اور حسین ؓ سرخ لباس پہنے گرتے پڑتے حضور ﷺ کی طرف آرہے تھے۔ آپ منبر سے نیچے اترے اور حسنین ؓ کو اٹھا کر پیار کیا۔ اور ساتھ کہا کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے۔ انما اموالکم واولادکم فتنۃ ان بچوں کو گرتے پڑتے دیکھ کر مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں نے انہیں اٹھا لیا۔ مال اور اولاد اسی صورت میں فتنہ ہیں۔ جب کہ انسان ان کی محبت میں منہمک ہو کر دین کو ہی چھوڑ بیٹھے۔ بعض اوقات انسان بیوی بچوں کی خاطر غلط رسوم ادا کرنے اور مال خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر بینڈ باجے ڈھولک ، چراغاں ، جھنڈیاں اور دیگر شرکیہ اور بدعتیہ رسوم کی وجہ سے انسان دین سے محروم ہوجاتا ہے ، اسی لئے مال اور اولاد کو فتنہ کا باعث قرار دیا گیا ہے ۔ البتہ حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ مال واولاد کے فتنہ کی وجہ سے جو کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں ، وہ نماز پڑھنے ، صدقہ خیرات کرنے اور توبہ کرنے سے معاف ہوجاتی ہیں ، وہ نماز پڑھنے ، صدقہ خیرات کرنے اور توبہ کرنے سے معاف ہوجاتی ہیں۔ بعض فتنے ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ جن کی لپیٹ میں پوری برادری ، پوری قوم اور پورا ملک آجاتا ہے۔ یہ بڑے فتنے ہوتے ہیں۔ اللہ نے ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ فرمایا ، یادرکھو ! مال اور اولاد تمہارے حق میں فتنہ ہیں واللہ عندہ اجر عظیم اور اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔ خدا کی ذات وصفات پر صحیح ایمان رکھو فانی چیزوں کو اپنا مقصود حیات نہ بنائو ۔ اور ان کے ساتھ چلتے ہوئے محتاط رہو۔ مال کی محبت انسانی فطرت میں داخل ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے وانہ لحب الخیر لشدید (العدیت 8) بیشک مال کی محبت میں انسان بہت پختہ ہے۔ اس کی محبت کی وجہ سے آخرت کو فراموش نہ کرو او اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت کرتے رہو۔