Ayahs 59:1–4نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحشر ہے جو کہ اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ الحشر سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی اکٹھا ہونا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں بنی نضیر نے جب معاہدہ مدینہ کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف غداری کی تو ان کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس کام کے لئے اہل ایمان کا جو لشکر اکٹھا ہوا تھا اس کو اول الحشر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ اسلامی لشکر کا پہلا اجتماع تھا۔ بعض دوسرے مواقع پر بھی یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے لشکر اسلام جمع ہوتارہا۔ چناچہ بعض مفسرین کے نزدیک خیبر کے یہودیوں کی جلاوطنی کے لئے جو لشکر جمع ہوا تھا اس کو حشرثانی کہا جاتا ہے۔ اور پھر آخری حشر قیامت والے دن ہوگا جب سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ سورة کے آخری حصے میں اس حشر کا ذکر بھی آرہا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس سورة کا ایک نام سورة بنی نضیر بھی بتاتے ہیں کیونکہ اس سورة میں اسی قبیلہ کی جلاوطنی کا تذکرہ ہے۔ بہرحال یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ جب کہ جنگ احد واقع ہوچکی تھی۔ اس سورة مبارکہ کی چوبیس آیات…………اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 745 الفاظ اور 1712 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
گزشتہ سورة مجادلہ کے آخر میں اللہ نے فرمایا کتب اللہ……………ورسلی (آیت 21) اللہ نے لکھ دیا ہے کہ مجھے اور میرے رسولوں کو ضرور غلبہ حاصل ہوگا۔ اب اس سورة کے آغاز میں اللہ نے ایسے ہی ایک غلبے کا نمونہ بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ سورة ہذا میں منافقین کی ریشہ دوانیوں کا ذکر ہے۔ یہودیوں کی دنیوی اور اخروی سزا کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے۔ مال فے کے احکام تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں ۔ مہاجرین اور انصار مدینہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور پھر آخر میں توحید خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
خدا تعالیٰ کی تسبیح :
سورۃ کا آغاز خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ سے ہوتا ہے سبح للہ ما فی السموت وما فی الارض اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے جو بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں ارض وسما کی ہر چیز خواہ وہ جاندار ہے یا بےجان سب اللہ کی تنزیہہ بیان کرتی ہیں۔ ملائکہ ، جن اور انسان تو اپنے پروردگار کی اپنی زبان کے ساتھ تسبیح وتنزیہہ بیان کرتے ہیں جب کہ غیر ناطق چیزیں چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے ، مچھلیاں اور دیگر ساری مخلوق بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بےجان چیزوں میں شمس وقمر اور شجر وحجر غرضیکہ ساری مخلوق اس کی وحدانیت کا اقرار کرتی ہے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وان من……………………تسبیحھم (بنی اسرائیل 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کہ نہیں سمجھتے کہ وہ کس زبان میں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔
خدا تعالیٰ کی تسبیح وتنزیہہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ قادر مطلق اور معبود برحق ہے خالق اور مالک ہے ، نافع اور صنار ہے ، وہ ہر چیز پر نگران ہے اور محافظ ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے ، ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے ، وہ تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہے ، اس کی کوئی اولاد نہیں ، نہ وہ کھاتا پیتا ہے اور نہ اس پر ضعف اور بڑھاپا طاری ہوتا ہے۔ اس کو خاندان اور نسل کی ضرورت نہیں ، نہ ہی اسے کسی خدمت کی ضرورت ہے ، اور وہ ہر طریقے سے بےعیب ہے۔ غرضیکہ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے وھوالعزیز الحکیم اور وہ زبردست ، کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے۔
معاہدہ مدینہ :
حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں مدینہ کے اطراف میں بہت سے یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ دراصل اوس اور خزرج کے لمبے چوڑے قبائل کے لوگ تھے جو تقریباً ایک ہزار سال پہلے یمن کی طرف سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ یہ قحطانی نسل کے لوگ تھے۔ ان قبائل میں سے بعض لوگ حج کے موقع پر مکہ معظمہ جاکر حضور ﷺ کے ہاتھ پر ایمان قبول کرچکے تھے اور انہی کی وجہ سے مدینہ اسلام کا تعارف ہوا۔ پھر آپ کی ہجرت سے ایک سال قبل انہوں نے حضور ﷺ کو دعوت دی کہ وہ مکہ چھوڑ کر مدینہ آجائیں کیونکہ یہاں پر اسلام کی آبیاری کی کافی گنجائش موجود تھی۔
ان قبائل کے علاوہ بعض قبائل شام و فلسطین سے ترک وطن کرکے مدینہ کے اطراف میں آباد ہوچکے تھے۔ شام و فلسطین کو بخت نصر نے برباد کیا ۔ اس سے پہلے رومیوں نے ان کو مغلوب کیا ، چناچہ بعض اسرائیلی قبائل شام و فلسطین کو چھوڑ کر یہاں مدینہ آچکے تھے جن میں بنی قریظہ ، بنی نضیر اور بنی قینقاع مشہور قبائل تھے۔ ان کے علاوہ خیبر میں بھی کچھ یہودی آباد تھے۔ یہ سارے لوگ اچھے خاصے آسودہ حال تھے۔ یہاں ان کی بستیاں ، گڑھیاں اور قلعے تھے ، کھیتی باڑی اور تجارت دونوں کاموں کے ماہر تھے۔ ان کی ملکیت میں کھجوروں کے باغات تھے اور اس کے علاوہ بھی زرعی زمینیں تھیں۔ ان کی اصل زبان تو عبرانی یا سریانی تھی۔ مگر یہاں آکر انہوں نے عربی زبان اپنالی تھی ، تاہم مذہب کے لحاظ سے یہ یہودی تھے اور اپنی تمام مذہبی رسومات ادا کرتے تھے۔
حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ان کے سارے سرکردہ لوگوں کو اکٹھا کیا اور ایک معاہدہ کرنے کی پیش کش کی جس کا مطلب یہ تھا کہ مدینے کے رہنے والے تمام لوگ خواہ ان کا تعلق کسی مذہب سے ہو وہ سب ایک متحدہ محاذ کے رکن سمجھے جائیں گے۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنے اور اپنے طریقے سے عبادت کرنے اور رسومات ادا کرنے کی اجازت ہوگی… اور کوئی ایک مذہب والا دوسرے مذہب والے کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی کوئی ایک دوسرے کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کریگا۔ البتہ سیاسی لح اس سے سب لوگ ایک جماعت سمجھے جائیں گے اور اگر کوئی بیرونی طاقت مدینہ پر حملہ آور ہوگی تو یہ سب یکمشت ہو کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ معاہدہ کی ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر معاہدہ کے دستخط کنندگان میں سے کسی فریق پر کوئی باہر سے حملہ آور ہوتا ہے اور کوئی دوسرا فریق اگر بوجوہ اپنے حلیف کی مدد نہ بھی کرے تو کم از کم وہ بیرونی حملہ آور کی مدد بھی نہیں کرے گا۔
سیاسی لحاظ سے اس معاہدہ کی سب کی ضرورت تھی کیونکہ ہر گروہ اور قبیلہ امن وامان اور اپنی حفاظت کی ضمانت چاہتا تھا جو اس معاہدہ کے ذریعے میسر آگئی تھی۔ کوئی شخص کسی بھی مذہب ، نسل یا خطے سے تعلق رکھتا ہو وہ شر پسند قوتوں سے پناہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کمال اور خوبی کو اپنانا اور شر سے بچنا انسان کے فطری حقوق ہیں۔ تو حضور ﷺ نے مدینے کے تمام لوگوں کو اس معاہدہ پر جمع کرلیا اور سب نے دستخط کردیے۔
بنی نضیر کی معاہدہ شکنی :
جب بدر کی جنگ میں مسلمانوں کو نمایاں کامیابی ہوئی تو یہودی لوگ کہنے لگے کہ یہ تو وہی نبی آخرالزماں معلوم ہوتا ہے جس کی پیشن گوئی تورات میں موجود ہے۔ پھر ایک سال کے بعد جب احد میں مسلمانوں پر افتاد پڑی تو یہودی کہنے لگے کہ یہ تو وہ نبی نہیں ہے۔ چناچہ یہ لوگ آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کے مشن کو ناکام کرنے کے لئے طرح طرح کی سازشیں کرنے لگے۔ بنی نضیر کا ایک سرکردہ آدمی کعب بن اشرف بڑا مالدار آدمی تھا ، اس کی تجارت سارے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔ سود خور آدمی تھا ، اس کا اپنا قلعہ ، نوکر چاکر اور سازوسامان تھا۔ یہ شخص اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا چناچہ یہ شخص چالیس آدمیوں کا ایک وفد لے کر مکہ گیا۔ وہاں پر ابو سفیان سے ملا اور پیش کش کی کہ اگر قریش مدینہ پر حملہ آور ہوں تو اس کا قبیلہ ان کی مدد کرے گا۔ کعب بن اشرف شاعر بھی تھا۔ اور حضور ﷺ کے خلاف فحش گوئی بھی کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ اس سے سخت نالاں تھے۔ حضور ﷺ نے اشارہ کیا تو اس بدبخت کے رضاعی بھائی اور حضور ﷺ کے صحابی محمد بن مسلمہ کو اللہ نے توفیق دی اور اس نے کعب بن اشرف کا کام تمام کردیا۔ اسی دوران میں بر موعونہ والا واقعہ بھی پیش آیا جس میں کافروں نے مسلمانوں کے ستر قاری اور حافظ حضرات کو شہید کردیا۔ اس واقعہ سے بھی مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا۔
اسی دوران ایک صحابی عمرو ابن امیہ ضمری ؓ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کسی سفر پر تھے پر تھے کہ انہوں نے دشمن کے آدمی سمجھ کر دو آدمیوں کو قتل کردیا حالانکہ وہ معاہد تھے۔ چونکہ یہ قتل غلطی سے ہوا تھا۔ اس لئے حضور ﷺ ان ان مقتولوں کا دو سو اونٹ ان کے وارثوں کو خونبہا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لئیحضور ﷺ نے اہل مدینہ اور دیگر معاہدین سے مال جمع کرنا شروع کیا اور اس مقصد کے لئے آپ قبیلہ بنی نضیر کے ہاں بھی گئے۔ یہ لوگ مدینہ سے مشرقی جانب پانچ چھ کوس کے فاصلہ پر آباد تھے۔ وہاں پر ان کے باغات ، مکانات ، قلعے اور زمین تھی۔ ان لوگوں نے بظاہر خون بہا میں حصہ دینے کی حامی بھرلی۔ مگر درپردہ حضور ﷺ کے قتل کی سازش بھی کی۔ چناچہ وہ ایک مکان کی چھت پر چکی کا ایک بڑا پاڑلے گئے۔ ارادہ یہ تھا کہ حضور ﷺ اس مکان کی دیوار کے سائے میں بیٹھے ہیں ، وہاں یہ پتھر گرا کر آپ کا کا م تمام کردیا جائے گا۔ مگر اللہ نے اس سازش کی اطلاع حضور ﷺ کو بذریعہ وحی دے دی لہٰذا آپ اس دیوار کے سائے سے فوراً اٹھ بیٹھے۔
بنی نضیر پر چڑھائی :
الغرض ! بنی نضیر کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی ، عہدشکنی اور پے درپے سازشوں نے اہل ایمان کو مجبور کردیا کہ ان پر چڑھائی کرکے ان کو تہس نہس کردیا جائے۔ ان کے خلاف بہت سے جرائم ثابت ہوچکے تھے حتیٰ کہ یہ لوگ غداری کے مرتکب بھی ہوئے جسے دنیا کا کوئی قانون بھی معاف نہیں کرتا۔ ہم آج کی دنیا میں بھی دیکھتے ہیں کہ روس میں بیریانامی پولیس انسپکٹر کے خلاف جو پچیس برس تک حکومت کا ملازم رہا تھا مقدمہ چلا اور مجرم ثابت ہونے پر اسے گولی سے اڑا دیا گیا۔ انگریزوں کے وزیر ہند مسٹر ایمری کا بیٹا جنگ کے دوران غداری کے الزام میں پکڑا گیا تو اسے سزائے موت سنائی گئی ، مگر بات نے اس کی معافی کی درخواست بھی نہ کی کیونکہ جرم ہی سخت نوعیت کا تھا۔ بہرحال مسلمانوں نے بنی نضیر پر اسی جرم کی پاداش میں چڑھائی کا فیصلہ کرلیا۔ مسلمانوں کا لشکر اچانک ان پر حملہ آور ہوا اور ان کا محاصرہ کرلیا۔ انہوں نے گھبرا کر صلح کی درخواست کی۔ گفت و شنید کے بعد یہ فیصلہ ہوا۔ کہ اگر یہ لوگ مدینہ سے نکل جانے پر آمادہ ہوجائیں تو ان کی جانوں سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہودیوں کو یہ رعایت بھی دے دی گئی کہ وہ جاتے وقت جس قدر سامان اٹھا کرلے جاسکیں لے جائیں۔ بنی نضیر نے یہ شرائط قبول کرلیں اور اپنا سازو سامان جس قدر اٹھا سکتے تھے لے کر چلے گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنے مکانوں کی چھتیں اور دروازے بھی اکھاڑ کرلے گئے۔ البتہ ان کی زمینیں باغات وغیرہ رہ گئیں جن کو حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے اس کا زیادہ تر حصہ مہاجرین میں تقسیم کردیا کیونکہ انصار مدینہ پر مہاجرین کا کافی بوجھ تھا۔ اس تقسیم سے مہاجرین بہت حد تک اپنے پائوں پر کھڑے ہوگئے اور اس طرح انصار کا بوجھ بھی قدرے ہلکا ہوگیا۔ حضور ﷺ نے اس میں سے اپنے گھر کے اخراجات کے لئے بھی حصہ مقرر فرمایا اور جو کچھ بچ گیا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کردیا۔ غرضیکہ بنی نضیر کی غداری کی وجہ سے ان کا یہ بھیانک انجام ہوا۔
بنی نضیر کی جلاوطنی :
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیاریھم لاول الحشر ، اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اہل کتاب میں سے کفر کرنے والوں کو نکالا ان کے گھروں سے لشکر کے پہلے اجتماع کے موقع پر اول الحشر کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو ترک وطن کے لئے اکٹھا کیا گیا اور وہ اپنا گھربار چھوڑ کر چلے جانے پر مجبور ہوگئے۔ ان میں سے اکثر شام و فلسطین کی طرف چلے گئے۔ تاہم دو خاندان حی بن اخطب اور ابولحقیق خیبر میں آباد ہوگئے ، ایک اور خاندان عراق کی طرف چلا گیا۔ ان کے قلعے اور مکانات اس قدر مضبوط تھے کہ فرمایا ماظننتم ان یخرجوا کہ تم نہیں خیال کرتے تھے کہ یہ لوگ آسانی سے نکل جائیں گے وظنوا انھم ما نعتھم حصونھم من اللہ اور وہ خود بھی یہی گمان کرتے تھے کہ ان کے قلعے اللہ سے ان کی حفاظت کریں گے۔ مگر اللہ نے ان کو ایسے طریقے سے سزا دی اور ان پر اس طرح عذاب آیا جو کہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا ، پھر ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایسا عذاب آیا جو ان کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ سب ان کی سازشوں اور غداری کا نتیجہ تھا جو ان کو بھگتنا پڑا وقذف فی قلوبھم الرعب اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان پر اہل ایمان کا اس قدر رعب پڑا کہ ان کے پاس اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگ جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور پھر ان کی حالت یہ تھی یخربون بیوتھم باییمھم کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے۔ جب حضور ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول کرلی کہ وہ جو کچھ ساتھ لے جاسکتے ہیں لے جائیں ، تو انہوں نے خود اپنے گھروں کو گرانا شروع کردیا اور ان کی چھتوں اور دروازوں کی لکڑیاں بھی اٹھا کرلے گئے۔ فرمایا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھر تباہ کر گئے وایدی المومنین ، اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے بھی ان کی تباہی آئی۔ جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو ان کو باہر نکلنے پر مجبور کرنے کے لئے مسلمانوں نے ان کے کچھ درخت بھی کاٹے تھے اور ان کے قلعوں کو توڑنے کے لئے بھی کچھ کام کیا تھا جس کا ذکر یہاں ہورہا ہے۔
اللہ نے فرمایا فاعتبروا یاولی الابصار ، اے آنکھیں رکھنے والو ! اور ایسے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والو ! اسی سے عبرت حاصل کرو کہ کفر ، شرک ظلم ، شرارت اور بد عہدی کا یہی انجام ہوتا ہے۔ تمام ظاہری اسباب یہودیوں کے حق میں تھے۔ ان کے مضبوط قلعے تھے جن میں محصور تھے ، مال و دولت کی کمی نہیں تھی ، خوردونوش کی اشیاوافر تھیں مگر وہ چند دن کے بعد ہی جلاوطنی پر مجبور ہوگئے ، اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمان قوم کا اس قدر رعب ڈال دیا تھا۔
فرمایا ولولا ان کتب اللہ علیھم الجلاء لعذبھم فی الدنیا اگر اللہ نے ان کے لئے جلاوطنی نہ لکھی ہوتی یعنی ان کے حق میں جلاوطنی کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ان کو دنیا میں ہی سزا دے دیتا اور وہ سب مارے جاتے ، مگر اللہ نے ان کی جلاوطنی پر اکتفا کرتے ہوئے انہیں زندہ سلامت نکل جانے کی اجازت دے دی۔ اور اس فیصلے کے بعد کسی مسلمان نے ان کی کسی چیز کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ یہ اہل ایمان کے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھا۔ فرمایا اگر اللہ نے ان کے لئے جلاوطنی ۔ نہ لکھ دی ہوتی تو انہیں دنیا میں ہی سزا دے دیتا۔ ولھم فی الاخرۃ عذاب النار اور ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب تو بہرحال ہے جس سے انہیں دوچار ہونا ہی پڑے گا۔ قبیلہ بنی نضیر کے صرف دو آدمی ایمان لانے کی وجہ سے جلاوطنی سے بچ گئے جب کہ باقی سارے جلاوطن ہوئے اور ا ہیں اپنی غیر منقولہ جائیدادوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
فرمایا یہ سزا ان لوگوں کو اس لئے ملی ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کو شعار بنایا۔ ومن یشاق اللہ ، اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے۔ فان اللہ شدید العقاب ، بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ ایسے لوگ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوتے ہیں اور آخرت کا عذاب اس پر مستزاد ہے۔
Ayahs 59:5–6ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قبیلہ بنی نضیر کی بدعہدی کا ذکر ہوا۔ یہ قبیلہ مدینہ کے اطراف میں آباد ان قبیلوں میں سے ایک تھا جنہوں نے معاہدہ مدینہ پر دستخط کر رکھے تھے اور جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اور یہ قبائل اپنے اپنے مذاہب پر قائم رہتے ہوئے کسی بیرونی حملہ کی صورت میں اکٹھے دفاع کریں گے اور معاہدہ میں شامل کوئی فریق کسی دوسرے فریق کے خلاف دشمن کی مدد نہیں کرے گا۔ بنی نضیر نے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کے ساتھ ساز باز کی اور انہیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دی دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کو طرح طرح سے تکالیف پہنچانے لگے ۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ کو بالکل ختم کردینے کی سازش کی۔ اللہ نے ان بدبختوں کو ناکام بنایا اور اہل ایمان پر آنچ نہ آنے دی۔ پھر اللہ نے ان ظالموں کی سرکوبی کے لئے مسلمانوں کو اجازت دی کہ ان پر حملہ کرکے ان کو عہد شکنی کا مزا چکھایا جائے۔ چناچہ مسلمان بنی نضیر پر حملہ آور ہوئے اور وہ جواب میں قلعہ بند ہوگئے۔ جب محاصرہ کو دو تین ہفتے گزر گئے اور یہودی مقابلہ کرنے کے لئے باہر نہ نکلے تو حضور ﷺ نے مجاہدین کو اجازت دیدی ، کہ بیرون قلعہ ان کی جائیدادوں کو نقصان پہنچایا جائے تاکہ یہ لوگ اس کے بچائو کے لئے ہی باہر نکل آئیں تو ان سے فیصلہ کن معرکہ ہوجائے۔ چناچہ صحابہ ؓ نے بویرۃ کے مقام پر یہودوں کے کھجور کے کچھ درخت کاٹ ڈالے۔ اس پر یہودیوں نے اعتراض کیا کہ محمد ﷺ خود تو فتنہ و فساد سے منع کرتے ہیں مگر خود ہی درختوں کو کاٹ رہے ہیں۔
درخت کاٹنے کی اجازت :
اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا ماقطعتم من لینۃ ، تم نے جو بھی کھجور کے درخت کاٹے ہیں۔ اوترکتموھا قائمۃ علی اصولھا ، یا ان کو اپنی جڑوں سے کھڑا رہنے دیا ہے فباذن اللہ ، یہ اللہ کے حکم سے کیا ہے مطلب یہ کہ اللہ کی اجازت کے بغیر تو کوئی کام نہیں لہٰذا ان یہودیوں کا اعتراض معتبر نہیں ہے۔ یہ اجازت اگرچہ وحی کے ذریعے نہیں آئی مگر اللہ کے نبی کا حکم اللہ ہی کا حکم سمجھا جائے گا کیونکہ پیغمبر اللہ کے احکام کا شارح ہوتا ہے حضور ﷺ نے کھجوروں کے درخت کاٹنے کا اس لئے حکم دیا تاکہ یہودیوں کو اپنے باغات کی ویرانی کا دکھ پہنچے اور وہ باہر نکل کر مقابلہ کریں یا مغلوب ہوجائیں۔
لینہ کھجور کے پھلدار درخت کو کہتے ہیں۔ اس میں عجوہ اور برنی نامی کھجوروں کے علاوہ باقی ہر قسم کی کھجور کے درخت آجاتے ہیں۔ جو درخت کاٹے گئے تھے وہ یہودوں کو تنگ کرنے کے لئے اور جو چھوڑ دیے گئے تھے وہ اس لئے کہ غلبہ ہونے کی صورت میں یہ مسلمانوں ہی کے کام آئیں گے۔ فرمایا درخت کاٹنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا۔ ولیخزی الفسقین ، تاکہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو رسوا کردے۔ غرضیکہ درختوں کی بربادی اللہ تعالیٰ کی منشاء کے عین مطابق تھی ، لہٰذا اس پر اعتراض کرنا خود اللہ تعالیٰ کی مشیت پر اعتراض کے مترادف ہے۔
فقہی مسائل :
اس ضمن میں بعض فقہی مسائل بھی متفرع ہوتے ہیں۔ چناچہ سیرالکبیر ، ہدایہ اور فتح القدیر جیسی کتب فقہ میں اس مسئلہ کی وضاحت موجود ہے کہ اگر مسلمان کسی کافر قوم پر حملہ آورہوں تو ان کے قلعے ، باغات اور جانوروں وغیرہکو نقصان پہنچانے کی اجازت ہے۔ البتہ امام ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اجازت صرف اس صورت میں ہوگی جب کہ کفار ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے لئے ان چیزوں سے مستفید ہونا ممکن نہ ہو تو پھر ان کو ضائع کردینا ہی بہتر ہے تاکہ کافر بھی ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور اگر کفار کے مغلوب ہوجانے کا یقین ہو تو پھر کسی چیز کو تلف کرنا درست نہیں کیونکہ ایسا کرنا خود اپنا نقصان کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس قسم کی کاروائی جنگی کاروائی سمجھی جائے گی اور اسے فساد کے ساتھ تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ کے دوران اس قسم کے حربے استعمال کرنا جائز ہے۔
بنی نضیر کے محاصرے کو بیس بائیس دن گزر چکے تھے۔ مگر یہودی نہ تو باہر نکل کر جنگ کرتے تھے اور نہ ہی صلح کی درخواست کرتے تھے۔ لہٰذا ان کی املاک کو نقصان پہنچانا ناگزیر ہوگیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیے اور قلعے کھول کر مصالحت پر آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے اس شرط پر جنگ سے گریز کیا کہ وہ مسلمانوں کی تمام شرائط قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے ان یہودیوں کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ انہیں قتل کرنے کی بجائے جلاوطن کردیا جائے۔ البتہ ان کو یہ رعایت دی کہ وہ اپنا جس قدر سامان اٹھا سکتے ہوں ، اٹھا کرلے جائیں۔ ابتدائی آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہوچکا ہے کہ یہ لوگ اپناسامان وغیرہ اٹھا کر چلے گئے۔ ان کی اکثریت شام کی طرف چلی گئی۔ اور کچھ لوگ خیبر کی طرف چلے گئے۔ ان کی غیر منقولہ جائیدادیں ، زمین ، باغات اور مکانات وغیرہ باقی رہ گئے جن پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس مقبوضہ جائیداد کی حیثیت کا تعین کیا ہے اور پھر اس کی تقسیم کا قانون بھی بیان کیا ہے۔
مال فے کی تعریف :
ارشاد ہوتا ہے وما افاء اللہ علی رسولہ منھم ، ان یہودیوں کے اموال میں سے اللہ نے جو کچھ اپنے رسول پر لوٹا دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا اس مال میں زرعی زمینیں ، باغات قلعے اور مکان وغیرہ تھے جو مسلمانوں کے قبضہ میں آئے مورخین لکھتے ہیں کہ ان کے علاوہ پچاس زرہیں اور تین سو پینتالیس اونٹ بھی مسلمانوں کو حاصل ہوئے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس مال کے حصول کے لئے فما اوجفتم علیہ من خیل ولارکاب تم نے کوئی گھوڑے اور اونٹ تو نہیں دوڑائے تھے۔ یعنی تم نے باقاعدہ جنگ کرکے تو یہ مال ومتاع حاصل نہیں کیا تھا بلکہ یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کی وجہ سے بغیر جنگ کے مل گیا تھا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشاء کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط کردیتا ہے۔ یہاں بھی اللہ نے اپنے نبی کو بنی نضیر پر غالب کیا اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا مال اللہ نے تمہیں تمہاری مشقت کے بغیر اپنی خاص مہربانی سے دلایا ہے۔ غرضیکہ جو مال اہل ایمان کو بغیر جنگ کے دشمن کے ہاں سے مل جائے ، ہ مال فے کہلاتا ہے۔ اگلے درس میں اس کی تقسیم پر خرچ کی مختلف مدات کا ذکر بھی آرہا ہے۔
مال فے کی تقسیم :
مال فے کی تقسیم اللہ نے اپنے نبی کے اختیار میں دے رکھی ہے ، اور یہ اختیار مالکانہ نہیں بلکہ حاکمانہ ہے۔ اللہ کا رسول اس مال میں سے اپنے ذاتی اخرجات اور خاندان والوں کا حصہ نکال کر کچھ محتاجوں میں تقسیم کردیتا ہے اور باقی مال عام مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر استعمال ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کی حیات مبارکہ کے بعد تقسیم کا یہ حق مسلمانوں کے امیر یا مقررہ حاکم کو تفویض ہوجاتا ہے اور جیسا کہ عرض کیا۔ یہ حق حاکمانہ ہوتا ہے ۔ اگر اس کو مالکانہ حق سمجھا جئے تو پھر تو اس کی وراثت چلے گی۔ یعنی حاکم یا امیر کے بعد اس کی اولاد میں یہ حق چلا جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ بلکہ جو بھی امیر یا حاکم وقت ہوگا اس کو اس مال میں تصرف کا حق حاصل ہوگا۔ بنی نضیر سے حاصل ہونے والے مال میں سے حضور ﷺ نے اپنی ذاتی اور خاندان کی ضروریات کے لئے مال علیحدہ کرکے باقی سارا مال مسلمانوں کے مشترکہ مفادات جہاد وغیرہ کے لئے صرف کردیا۔
یہاں پر مال فے کا تذکرہ ہے جس کہ دسویں پارے کی ابتداء میں مال غنیمت اور اس کے مصرف کا ذکر بھی آتا ہے۔ مال غنیمت وہ کال ہوتا ہے جو جنگ کی صورت میں مسلمان کفار سے لڑکر چھین لیے ہیں۔ اس مال کی تقسیم کا قانون یہ ہے کہ اس کا پانچواں حصہ اللہ کی نیاز کے طور علیحدہ کرلو۔ یہ خمس مال اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول قرابت داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہوتا ہے اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیے جاتے ہیں۔ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے کوئی مجاہد ایک سوئی تک بھی اٹھانے کا مجاز نہیں بلکہ ایسا کرنا سرقہ سے بھی بڑا جرم تصور ہوتا ہے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ مجاہدین میں یہ مال اس صورت میں تقسیم ہوگا جب ان کے لئے تنخواہ اور راشن وغیرہ حکومت کی طرف سے مقرر نہ ہو ، اگر تنخواہ ، راشن یا دروی وغیرہ حکومت مہیا کرتی ہے تو پھر مجاہدین میں کچھ تقسیم نہیں ہوتا۔ بلکہ سارے کا سارا مال بیت المال میں جمع ہوجاتا ہے جہاں سے فوج کی تنخواہ ، اسلحہ ، خوراک اور وردی کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ مال غنیمت اور مال فے کے علاوہ انفال کا لفظ بھی آتا ہے اور اس کا اطلاق غنیمت اور فے دونوں قسم کے مال پر ہوتا ہے۔
فرمایا مال فے اللہ تعالیٰ بغیر جنگ کے اہل ایمان کو دلاتا ہے واللہ علی کل شیء قدیر ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ چاہے تو جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو مال دلا دے یا بغیر جنگ کے بھی مال مسلمانوں کے قبضہ میں دے دے۔ وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ مال غنیمت اور فے میں یہی فرق ہے کہ جو مال جنگ کرکے حاصل ہو وہغنیمت ہے اور جو بغیر جنگ کے حاصل ہو وہ فے ہے۔ آگے اس کی تقسیم کا اصول بیان کردیا گیا ہے۔
Ayah 59:7ربط آیات :
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی نضیر کی عہد شکنی کی وجہ سے اہل ایمان نے ان کی بستیوں کا محاصرہ کرلیا اور ان کے کچھ درخت بھی کاٹے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر وہ صلح پر آمادہ ہوئے۔ چناچہ اس شرط پر ان کی جان بخشی کی گئی کہ وہ ملک بدر ہوجائیں اور اپنا جس قدر سامان اٹھا کرلے جانا چاہیں لے جائیں چناچہ ایسا ہی ہوا بنی نضیر کے یہودی اپنی بستیوں اور قلعوں سے نکل کر چلے گئے اور ان کی زمینوں ، باغات اور جانوروں پر مسلمانوں نے قبضہ کرلیا۔ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس طریقے سے حاصل ہونے والا مال مال فے کہلاتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ نے اس مال کی تقسیم کا فارمولہ بتایا ہے۔
مال فے کی حصص (1) اللہ کا حصہ :
ارشاد ہوتا ہے ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ ، جو مال اللہ نے لوٹایا ہے اپنے رسول پر بستیوں والوں سے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے یہ مال بنی نضیر سے ان کی جلا وطنی کے بعد بلا جنگ حاصل ہوا تھا۔ اس کی تقسیم کے متعلق اللہ نے ارشاد فرمایا ہے فللہ پس یہ اللہ کے لئے ہے یعنی سب سے پہلے حصہ اللہ تعالیٰ کا ہے اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو احکم الحاکمین اور مستغنی ہے۔ وہ خود ساری مخلوق کا خالق اور مالک ہے ، اسے ان زمینوں اور باغات وغیرہ کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کے جواب میں مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ کا نام تو محض تبرک کے لئے لیا گیا ہے وگرنہ نہ اسے اس مال کی ضرورت ہے اور نہ اسے ادا کیا کیا جائے گا۔ اللہ کا نام لینے سے اس بات کا اظہار بھی مقصود ہے کہ کوئی یہ شبہ نہ کرے۔ کہ بغیر جنگ کے حاصل ہونے والا مال مسلمانوں کے لئے جائز بھی ہے یا نہیں۔ بلکہ یہ اسی طرح جائز ہے ۔ جس طرح جنگ کی صورت میں حاصل ہونے والا مال غنیمت جائز ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ تجارت ، زراعت یا محنت مزدوری کے ذریعے اپنے بندوں کو مال دلاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے یہ مال بھی دلایا ہے اس کا استعمال پیغمبر (علیہ السلام) اور اہل ایمان کے لئے بالکل جائز ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مال میں سے اللہ کا حصہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ حصہ اللہ کے گھر بیت اللہ شریف یا دیگر مساجد پر خرچ کیا جائے البتہ بعض فرماتے ہیں کہ اللہ کو ایسے حصے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ محض تبرک کے لئے اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہے۔
(2) رسول کا حصہ :
دوسرے حصے کے متعلق فرمایا وللرسول ، یہ اللہ کے رسول کے لئے ہے فے کے ایک حصے پر اللہ کے رسول کا حق ہے۔ چنانچہحضور ﷺ مال غنیمت کے خمس یا مال فے کے اس حصے میں سے ازواج مطہرات ؓ کو خرچہ دیتے تھے۔ خیبر کی زمین اور فدک کے باغ سے بھی آپ کو حصہ ملتا تھا اور یہ حصص آپ اپنے گھریلو اخراجات کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس حصہ میں آپ غریبوں اور محتاجوں کا حق بھی ادا کرتے تھے ، اور جو پھر بھی بچ جاتا اسے عام مسلمانوں کے مشترکہ مفادات مثلاً سامان ضرب وحرب یا مجاہدین کی خوراک وغیرہ پر خرچ کرتے۔
(3) قرابتداروں کا حصہ :
فرمایا ولذی القربی ، یہ حصہحضور ﷺ کے قرابتداروں کے لئے مخصوص تھا۔ اس حصہ کے حقداران بنو عبدالمطلب اور بنو ہاشم کے پانچ خاندان یعنی آل عباس آل علی ، آل جعفر ، آل عقیل اور آل حارث بنتے ہیں اور یہ ان پر خرچ کیا جاتا تھا۔ ان خاندانوں کی حصہ رسدی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ ہر اچھے اور برے وقت میں حضور ﷺ کے ممدومعاون ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے ، وہ بھی آپ کی مدد کرتے تھے۔ مثلاً جب کفار مکہ نے حضور ﷺ کا سوشل بائیکاٹ کیا تو اس میں بنی عبدالمطلب اور بنی ہاشم دونوں خاندان شامل تھے۔ خودابو طالب آپ کے خاندان کے ساتھ تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہا۔ تو یہ حصہ مقرر کرنے کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ خاندان آپ کی مدد کرتے ہیں۔
اور دوسری وجہ یہ تھی کہ حضور ﷺ کے خاندان پر صدقات وزکوٰۃ حرام تھیحضور ﷺ کا فرمان ہے ان الصدقۃ لا تحل لمحمد و لالال محمد ، یعنی زکوٰۃ وصدقات محمد اور اٰل محمد پر حلال نہیں ہیں ، اور آل محمد میں یہی پانچ خاندان آتے ہیں۔ چناچہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اللہ نے ان کا حصہ مال فے میں مقرر فرمادیا۔ البتہ جب حضور ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو اس حصہ کی ایک وجہ یعنیحضور ﷺ کی اعانت ولامعاملہ تو ختم ہوگیا۔ باقی رہ گئی دوسری وجہ کہ آپ کے خاندان پر زکوٰۃ وصدقات حرام ہیں تو اس کی علت احتیاج ہے یعنی زکوٰۃ وصدقات کا مال اسی صورت میں روا ہے جب کہ کوئی شخص محتاج ہو۔ چناچہ خلفائے راشدین ؓ کے زمانہ میں آ ل محمد میں سے صرف ان لوگوں کو مال فے سے حصہ ملتا تھا جو محتاج تھے اور جو آسودہ حال تھے ان کا حصہ ختم ہوگیا تھا۔ اس سلسلہ میں حضرت علی ؓ کی روایت ابودائود شریف میں موجود ہے کہ جب انہیں مال فے میں سے ان کے حصہ کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے یہ کہہ کرلینے سے انکار کردیا۔ کہ اب ہم محتاج نہیں ہے لہٰذا یہ مال مستحقین کو دیا جائے۔ اسی بنا پر مال فے میں آل محمد کا یہ حق موجود ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو محتاج ہوں ، لہٰذا خلفائے راشدین ؓ نے اگر ان کو اس مال میں سے حصہ نہیں دیا تو انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ کیونکہ اب آ ل محمد محتاج نہیں رہے تھے ۔ البتہ امام ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ تقسیم مال میں آل محمد کے محتاج کو دوسرے محتاجوں پر ترجیح دیجائے۔
(4 تا 6) یتیم ، مسکین اور مسافر :
پھر فرمایا اس مال میں ان لوگوں کا بھی ایک ایک حصہ ہے یعنی والیتمی والمسکین وابن السبیل یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا ۔ یتیم وہ نابالغ بچہ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے۔ اور بعض اوقات اس کی گزر اوقات کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہوتا۔ ایسے بےسہارا بچوں کے لئے بھی حصہ ہے۔ اسی طرح مسکین وہ شخص ہوتا ہے جس کی بنیادی ضروریات کے لئے بھی کافی مال موجود نہ ہو یتیموں اور مسکینوں کے لئے زکوٰۃ اور صدقات لینا بھی جائز ہے۔ اسی طرح اس مال میں اس مسافر کا بھی حصہ ہے جس کو دوران سفر کوئی حادثہ پیش آجائے ۔ زادراہ چوری ہوجائے ، یا ختم ہوجائے یا وہ کسی دیگر جائز ذریعہ سے محتاج ہوجائے۔ ایسا شخص بھی مال فے کا حقدار بن جاتا ہے۔ اللہ نے مال فے کے یہ چھ مصارف بیان فرمادیے ہیں۔
گردش دولت کی وسعت :
فرمایا اللہ نے تقسیم مال کا یہ حکم اس لئے دیا ہے کی لا یکون دولۃ بین الا غنیآء منکم تاکہ یہ دولت تمہارے آسودہ حال لوگوں تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس کی گردش معاشرے کے انتہائی نچلے طبقے تک ہونی چاہیے دولۃ کے لفظ سے یہ اصول بالکل واضح ہوجاتا کہ اسلامی نظام معیشت میں کسی خاص طبقہ میں ارتکاذ دولت ہرگز پسندیدہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام (CAncentratiAn Af wealth) کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ وجہ ظاہر ہے کہ جب دولت کا دوران صرف ایک طبقہ تک محدود ہوجاتا ہے اور باقی طبقات محروم ہوجاتے ہیں تو پھر اس کے نتیجے میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوجاتے ہیں ۔ جب کسی ملک میں اس قسم کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر وہاں کمیونزم اور سوشلزم کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام بھی ملعون ہے مگر سوشلزم اس سے بھی قبیح ہے۔ مطلق العنان ملوکیت بھی اسی قبیل سے ہے کسی ملک کا بادشاہ یا ڈکٹیٹر اپنے آپ کو غیر مسئول سمجھتا ہے اور ان کے ہاں آمد وخرچ کا حساب کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام میں شخصی ملکیت کی اجازت ہے۔ مگر یہ ملکیت عارضی اور بطور امانت ہوتی ہے۔ اللہ جس کو دولت دیتا ہے اس کو آمدوخرچ کے قوانین کا بھی پابند بناتا ہے۔
ارتکاز زر کی ممانعت :
جس مالک الملک نے انسانوں کو ارتکاز زر کی اجازت نہیں دی اس نے اپنے براہ راست قبضہ قدرت کی چیزوں کو اس طرح تقسیم کردیا ہے کہ کوئی ادنیٰ واعلیٰ ان سے محروم نہیں رہتا۔ مثلاً ہوا ، فضا ، سورج ، چاند ، ستارے ، بارش ، دریا ، سمندر وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو اس نے مخلوق میں سے کسی کے قبضے میں نہیں دیا ، تمام انسان ، جانور ، پرندے اور کیڑے مکوڑے ان چیزوں سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں۔ سانس لینے کے لئے ہوا کی ہر جاندار کو ضرورت ہے سورج ، چاند اور ستاروں کی روشنی سب کی ضرورت ہے ، پانی بھی تمام جانداروں کی بنیادی ضرورت ہے لہٰذا اللہ نے یہ چیزیں ہر ایک کے لئے فری مہیا کی ہیں اسی طرح دولت بھی چند ہاتھوں میں محدود ہو کر نہیں رہنی چاہیے۔ جب تک دولت کا دوران (CirculatiAn) صحیح طریقے سے ہوتا رہے گا تو دنیا میں توازن قائم رہے گا۔ ورنہ یا تو نظام سرمایہ داری آجائے گا۔ یا پھر رد عمل کے طور پر سوشلزم آئے گا۔ حالانکہ یہ دونوں نظام ملعون ہیں۔
شخصی ملکیت کا احترام :
ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہر شخص کو دولت کمانے اور خرچ کرنے کی کھلی چھٹی دیتا ہے جس سے ارتکاز زر پیدا ہوتا ہے تو دوسری طرف سوشلزم شخصی ملکیت کا بالکل ہی انکار کردیتا ہے۔ اسلام کا نظام معیشت ان دونوں کے درمیان اعتدال کے ساتھ چلتا ہے۔ اسلام کسی شخص کی ذاتی ملکیت کا اسی طرح احترام کرتا ہے جس طرح کسی کی جان کا احترام کرتا ہے۔ اسلام اگر قاتل کا سر قلم کردیتا ہے تو مال چوری کرنے والے کا بھی ہاتھ کاٹ پھینکتا ہے۔ لا یحل مال امرء مسلم الا بطیب نفسہ ، کسی مسلمان کا مال دوسرے کے لئے حلال نہیں ہے جب تک مالک اپنی مرضی سے کسی کو نہ دے ، غرضیکہ مالکی شخصی ملکیت بھی انسانی جان کی طرح عزیز ہے۔ البتہ اسلام نے اکتساب زر پر ضروری پابندی عائد کی ہے تاکہ نہ کوئی مضر پیش اختیار کیا جائے اور نہ چوری ، ڈکیتی ، رشوت ، قمار بازی ، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے ذریعے مال حاصل کیا جائے۔ مخرب اخلاق کاروبار جیسے فوٹوگرافی ، فلم سازی ، موسیقی ، سٹہ بازی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ مطلب یہ کہ صرف حلال ذرائع سے ہی دولت کمانے کی اجازت ہے۔
اگر اسلام نے جائز ذرائع سے دولت کمانے کی اجازت دی ہے تو ساتھ ساتھ ایسے مال کے حقوق ادا کرنے کا بھی پابند بنایا ہے۔ اگر مال نصاب کو پہنچ گیا ہے تو اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دو ، صدقہ فطر ادا کرو ، قربانی دو ، حج اور عمرہ کے لئے خرچ کرو ، غرباومساکین کو صدقہ خیرات دو ۔ اگر یہ حقوق ادا کیے جائیں تو ارتکاز زر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مال خرچ کرنے سے دوفوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک طرف مستحقین کی حاجت براری ہوتی ہے تو دوسری طرف خرچ کرنے والے سے بخل کا مادہ دور ہو کر اس میں اخلاق حسنہ پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ نے تقسیم مال کی ایک اور صورت بھی لازمی قرار دی ہے اور وہ ہے وراثت کی تقسیم ، مالدار آدمی کے مرنے کے بعد جائیداد میں سے پہلے قریبی رشتہ داروں کو حصہ ملتا ہے اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو دور کے رشتہ دار حصہ دار بن جاتے ہیں۔ اسلام نے یہ تمام طریقے ارتکاز دولت کو روکنے کے لئے رکھے ہیں۔ الغرض ! اسلام کا نظام معیشت ہی بہترین نظام ہے جو ارتکاز کو روک کر مال کو زیادہ سے زیادہ پھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اطاعت رسول :
مال فے کی تقسیم کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا وما اتکم الرسول فخذوہ ، اللہ کا رسول جو چیز تمہیں دے وہ لے لو۔ ومانھکم عنہ فانتھوا ، اور جس سے منع کرے اس کو چھوڑ دو ۔ اللہ نے اپنے نبی کو تقسیم کا جو اختیار دیا ہے اس پر قائم رہو اور اس پر کبھی مقرض نہ ہو بلکہ جتنا حصہ عطا کرے اس کو بخوشی قبول کرلو اور جس چیز سے منع کردے اس کا تقاضا نہ کرو۔ اللہ کا رسول ہر کام مشیت الٰہی کے مطابق کرتا ہے لہٰذا نبی کی تقسیم کو اللہ کی تقسیم پر محمول کرنا چاہیے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا اطلاق صرف مال فے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اطلاق ہر قسم کے احکام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا امت کے لئے لازم ہے کہ اللہ کا نبی جس کام کے کرنے کا حکم دے اسے کر گزرو اور جس کام سے روک دے اس سے رک جائو۔ جس طرح اللہ کی اطاعت ضروری ہے اسی طرح اللہ کے نبی کی اطاعت بھی لازم ہے۔ فرمایا نبی کی تقسیم کے متعلق دل میں بھی کوئی غیر خیال نہ لائو۔ بلکہ واتقوا اللہ ، اللہ سے ڈرتے رہو کہ کہیں اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ یادرکھو ! اگر خلاف ورزی کرو گے ان اللہ شدید العقاب ، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔ جب وہ کسی مجرم کو پکڑ لیتا ہے تو چھوڑتا نہیں بلکہ سخت سزا دیتا ہے۔
Ayah 59:8ربط آیات :
گزشتہ درس میں اللہ نے مال فے کے مصارف کا ذکر کیا کہ اس کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے بعد اللہ کا رسول اس کے حکم کے مطابق اس مال میں تصرف کرتا ہے۔ یہ مال خود اللہ کے نبی اور اس کے ان قرابتداروں کے لئے ہے جن پر زکوٰۃ وصدقات حرام ہیں مگر وہ اللہ کے رسول کے مددگار ہیں۔ اس مال کے مزید حقدار یتیم ، مسکین اور مسافر ہیں۔ اللہ نے اس تقسیم کی غرض یہ بیان فرمائی تاکہ یہ مال محض مالدار لوگوں میں ہی گردش نہ کرتا رہے ، بلکہ اس کا دوران اس قدر وسیع ہونا چاہیے کہ یہ طبقے کے کمزور ترین آدمی تک بھی پہنچے۔ گزشتہ درس میں یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ اللہ کے رسول کی مذکورہ تقسیم پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی تقسیم کرتا ہے۔ پھر اللہ نے یہ واضح حکم دیا کہ اس کا رسول جو کچھ تمہیں دے دے اس کو بخوشی قبول کرلو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جائو ، مفسرین نے اس حکم کو عام احکام شریعت پر بھی محمول کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے ہر حکم کا اتباع لازم ہے ، اور کوئی شخص رسول خدا کی حکم کے خلاف کرکے کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔
اتباع رسول :
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ایک مسلمان خاتون کا ان کے ساتھ تنازعہ ہوگیا۔ آپ نے اس عورت کو حضور ﷺ کا یہ فرمان سنایا کہ خدا تعالیٰ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو گودتی ہیں یاگدواتی ہیں اور ان عورتوں پر بھی جو اپنی زیبائش کے لئے دوسری عورتوں کے بال حاصل کرتی ہیں۔ اور اپنے بال دینے والی عورتوں پر بھی لعنت ہے۔ آپ نیحضور ﷺ کا یہ فرمان بھی اس عورت کو منایا کہ ان پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ جو خوبصورتی کے لئے اپنے دانتوں کو ریتی سے رگڑ کر ہموار کرتی ہیں ، اور ان عورتوں پر بھی جو بادلوں کو چن کر اپنے ابرو نوکدار بناتی ہیں۔ یہ مسئلہ سن کر اس عورت نے کہا کہ آپ ان باتوں سے کیوں منع کرتی ہیں ؟ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں ایسی چیزوں سے کیوں نہ منع کروں جب کہ اللہ اور اس کے رسول نے ایسی چیزوں سے منع کیا ہے۔ وہ عورت پھر کہنے لگی کہ مجھے تو قرآن پاک میں کوئی آیت نہیں ملی جس میں ان چیزوں سے منع کیا گیا ہو۔ تو آپ نے اس کے جواب میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ ہی پیش آیا۔ آپ نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر کوئی احرام کی حالت میں خرگوش کا شکار کرے تو اس کی جنایت یہ ہے کہ اسی جسامت کا جانور قربانی کرے یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔ اس شخص نے کہا کہ مجھے تو قرآن میں یہ مسئلہ نہیں ملا۔ اس کے جواب میں بھی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے یہی آیت پڑھی۔ اور فرمایا کہ اللہ کے نبی نے احرام کی حالت میں شکار کرنے کی یہی جنایت بتلائی ہے اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ جو چیز اللہ کا رسول دے دے ، اس کو لے لو۔ اور جس چیز سے منع کرے ، اس سے رک جائو ، لہٰذا یہ اللہ کا حکم ہی سمجھنا چاہیے اگرچہ یہ قرآن میں نہیں ہے۔
غریب مہاجرین کا حصہ :
گزشتہ آیت میں مال فے کے چھ حصہ داروں کا ذکر ہوا تھا۔ اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور حق دار کا ذکر کیا ہے اور یہ ہیں محتاج مہاجرین۔ اللہ نے ان کو حصہ ادا کرنے کی وجوہات بھی بیان فرمائی ہیں اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کے بعض اوصاف بیان فرمائے ہیں ارشاد ہوتا ہے للفقراء المھجرین ، مال فے میں غریب مہاجرین کا حصہ بھی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں الذین اخرجوا من دیارھم جن کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا۔ قریش مکہ نے ان پر اس قدر مظالم توڑے کہ وہ بیچارے اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ کئی پشتوں سے مکہ میں مقیم لوگوں کو اپنے گھروں اور زمینوں کو چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہجرت کی تکالیف کو وہی جانتے ہیں جنہوں نے یہ تکالیف اٹھائی ہوں۔ 1947 ء کا زمانہ ہمارے سامنے ہے۔ جب لاکھوں مسلمانوں کو ترک وطن کرنا پڑا ، اور پھر ان کو جو مصائب برداشت کرنا پڑے وہ رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی ہیں۔ فرمایا جن کو گھروں سے نکالا گیا واموالھم ، اور ان کو اپنے مالوں کی قربانی بھی دینی پڑی۔ ان کو باغات ، اناج ، گھوڑے ، اونٹ ، اور بھیڑ بکریاں سب کو چھوڑنا پڑا۔ مدینہ پہنچ کر فوراً کاروبار کا ملنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اور اکثر مہاجرین انصار مدینہ کی مد سے گزراوقات کر رہے تھے۔ لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ اس قسم کے نادار مہاجرین کو بھی مال فے میں سے حصہ ادا کرو۔
اکابر مہاجرین :
ان مہاجرین میں وہ جلیل القدر صحابہ ؓ بھی شامل ہیں جنہوں نیحضور ﷺ کے بعد خلافت کا بوجھ اٹھایا۔ خود حضور ﷺ کو بھی نہایت نامساعد حالات میں مکہ چھوڑنا پڑا۔ جب آپ مکہ سے چلے آئے تو آپ کے ذاتی مکان پر عقیل ؓ نے قبضہ کرلیا ، یہ اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے۔ لہٰذا قرابتدار ہونے کی بناء پر اس مکان پر قابض ہوگئے جس میں خود حضور ﷺ اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ ؓ رہائش پذیر رہے تھے۔ اس کے بعد عقیل ؓ نے یہ مکان دوسرے کے ہاتھ فروخت کردیا۔ آپ کو اپنا وطن اس قدر عزیز تھا کہ ہجرت کے لئے روانہ ہوتے وقت شہر مکہ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور پھر خطاب کرکے فرمایا کہ اے شہر ! مجھے تیرے ساتھ بڑی محبت ہے مگر یہ لوگ مجھے رہنے نہیں دیتے لہٰذا بادل نخواستہ تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں۔
عقیل ؓ اور طالب ابو طالب کے بڑے بیٹے تھے اور طالب ہی کے نام پر ان کی کنیت ابو طالب تھی۔ عقیل ؓ تو عبد میں اسلام لے آئے مگر طالب جنگ بدر میں مشرکین کی طرف سے شامل ہوا اور وہاں سے لاپتہ ہوگیا۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ اس کو جنات اٹھا کرلے گئے۔
حضور ﷺ کا ذاتی مکان :
جب مکہ فتح ہوگیا تو کسی نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے۔ اس شخص کا خیال تھا کہ شاید آپ اپنے ذاتی متروکہ مکان میں ٹھہرنا پسند فرمائیں گے مگر آپ نے جواب دیا کہ عقیل ؓ نے ت ومیرا مکان ہی فروخت کردیا ہے۔ لہٰذا وہاں کیسے ٹھہر سکتا ہوں ، بلکہ ہم خفیف بنی کنانہ میں ٹھہریں گے ۔ جہاں ہمارا خیمہ لگا دیا جائے۔ اس جگہ کو آج کل معاہدہ کہتے ہیں ، یہ ملجا اور محصب بھی کہلاتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں مشرکین نے فیصلہ کیا تھا کہ بنی عبدالمطلب اور بنی ہاشم کا بائیکاٹ کیا جائے۔ چناچہ اس فیصلہ کے مطابق حضور ﷺ کو شعب ابی طالب میں تین سال تک محصور رہنا پڑا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہم شکرانے کے طور پر اسی مقام میں ٹھہریں گے۔ جہاں پر مشرکین نے ہمارے مقاطعہ کا فیصلہ کیا تھا ، مگر اللہ نے آج ہمیں فتح عطا فرمائی ہے اور اذیتیں پہنچانے والے تمام لوگ مغلوب ہوچکے ہیں۔ پھر آپ کوہ صفا پر کھڑے ہوئے۔ یہ وہی صفا ہے کہ جب آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پہلی دفعہ لوگوں کو دعوت توحید دی تھی۔ تو مشرکین نے آپ کو پتھر مارے تھے۔ آپ نے اس مقام پر کھڑے ہو کر شکرانے کے طور پر اللہ کی حمدوثنا اس طرح بیان کی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ انجز وعدہ و نصر عبدہ وھزم الا حزاب وحدہ کوئی معبود نہیں مگر وہی اکیلا جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی کفار کے لشکروں کو شکست دی۔ بہرحال فقرا ، اور اموال کے الفاظ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو کافر مسلمانوں کے اموال پر قبضہ کرلیتے ہیں ، وہ ان کے مالک بن جاتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ جو نادار مہاجرین مکہ سے ہجرت کرکے اور راستے کی تکالیف برداشت کرکے اور اپنے مالوں کی قربانی دے کر آئیں ان کو مال فے سے حصہ ادا کرو۔
کفار کی ملکیت کا مسئلہ :
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو کافر یا مشرک اہل ایمان کی جائیداد پر جبراً قابض ہوجاتے ہیں۔ کیا وہ ان کے واقعی مالک بن جاتے ہیں اور انہیں ایسی جائیداد کو فروخت کردینے کا حق بھی حاصل ہوجاتا ہے ؟ اس ضمن میں حضور ﷺ کے ذاتی مکان کی مثال بیان ہوچکی ہے۔ آپ نے فتح مکہ کے باوجود عقیل ؓ کی طرف سے قبضہ اور پھر اس کی فروخت کو عملاً تسلیم کیا ، لہٰذا اس قسم کی املاک کے کفار اور مشرک واقعی مالک بن جاتے ہیں۔ البتہ وہ لوگ کسی جان کے مالک نہیں ہوسکتے۔ کافروں نے حضرت سلیمان فارسی ؓ کو ظلماً غلام بنالیا تھا حالانکہ اس بات کا ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا تھا۔
بہرحال حضرت ابوبکرصدیق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ جیسے بڑے بڑے تاجر تھے جن کو اپنا سارا کاروبار اور مال ومتاع مکہ میں چھوڑنا پڑا اور پھر جب تک یہ لوگ اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہوئے۔ انہوں نے بڑی عسرت کی زندگی بسر کی۔ ان کے اموال پر مشرکین نے قبضہ کرلیا تھا لہٰذا اللہ نے ایسے تمام نادار مہاجرین کے لئے مال فے میں حصہ مقرر کردیا اور حضور ﷺ نے عملی طور پر ان کی اس مال سے مالی اعانت کی۔ ان کو خیبر سے ملنے والے مال سے بھی حصہ دیا گیا۔ اس اعانت سے مہاجرین خودبھی آسودہ حال ہوگئے اور انصار پر بھی بوجھ ہلکا ہوگیا۔
مہاجرین کے اوصاف (1) فضل ورضا کی تلاش :
آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین کے بعض اوصاف بھی بیان کیے ہیں جو ان کے ہجرت کرنے کے عمل کے علاوہ ہیں۔ فرمایا ان کی ایک صفت یہ ہے یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا ، یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی کے متلاشی ہیں۔ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کی یہ صفت سور ۃ الفتح میں بھی بیان ہوئی ہے۔ بالکل یہی الفاظ وہاں بھی آیت 129 میں آئے ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ فضل سے مراد ہے ارتفاق ، یعنی اس دنیا کی زندگی کو اچھے طریقے سے گزارنا۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان کے پاس زندگی کی جائز سہولتیں میسر ہوں۔ اسی چیز کے متعلق سور ۃ الجمعہ میں فرمایا کہ جب جمعہ کی نماز ادا کرچکو تو زمین میں پھیل جائو وابتغوا من فضل اللہ (آیت 10) اور اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی حلال روزی تلاش کرو جس کے ذریعے دنیا کی زندگی اچھے طریقے سے گزاری جاسکتی ہے۔
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں رضوان سے مراد اقتراب یعنی اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ ہے اللہ نے سورة العلق میں فرمایا ہے واسجد واقترب (آیت 19) سجدہ کر یعنی نماز پڑھ اور اللہ کا قرب حاصل کرلے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ نماز اللہ کا قرب دلانے والی چیز ہے الغرض ! حضور ﷺ کے صحابہ ؓ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی تھیں۔ وہ فضل کے ذریعے دنیا کی زندگی کو بہتر بناتے تھے اور رضوان کے ذریعے اگلے جہان میں سرخروئی کا سامان کرتے تھے۔ تو فرمایا وہ مہاجرین جن کو ان کے گھروں اور مالوں سے نکال دیا گیا۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔
مومن اور کافر کی زندگی کا یہی فرق ہے۔ مومن ایسی حیات طیبہ کا متلاشی ہوتا ہے جس میں اسے رزق حلال نصیب ہو ، اس کا معاشرہ درست ہو ، برائیاں اور ظلم وجور کا خاتمہ ہوجائے اور انسان ترقی کی منازل طے کرتا چلا جائے ۔ اس کے برخلاف جرائم سے بھر پور زندگی جس میں لوٹ کھسوٹ ، عیاشی ، فحاشی ، بدکاری ، چوری ، ڈاکے اور اغواء ہوں ، وہ حیات طیبہ نہیں ہوسکتی بلکہ ایسی زندگی حیات خبیثہ ہوگی۔ جس میں آج لوگوں کی اکثریت مبتلا ہے۔
(2) اللہ اور رسول کی مدد :
اللہ نے مہاجرین کی پہلی صفت تو یہ بیان کی وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں اور دوسری یہ وینصرون اللہ ورسولہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کو تو کسی مدد کی ضرورت نہیں لہٰذا یہاں پر اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے کہ اس کی سربلندی کیلئے کوشش اور محنت کی جائے۔ اس سلسلے میں تمام صحابہ کرام ؓ خصوصاً مہاجرین کا کردار مثالی ہے۔ جنہوں نے دین کی خاطر گھر بار ، وطن ، عزیز و اقارب اور مال ومتاع سب کو چھوڑ دیا۔ اللہ کی مدد کرنے والوں کے متعلق سورة محمد میں فرمایا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم اگر تم اللہ یعنی اس کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کریگا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کردے گا۔ یہی مضمون سورة الحج میں بھی بیان ہوا ہے ولینصرن………ینصرہ (آیت 40) جس نے اللہ کی مدد کی ، اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ آگے سورة العصف میں بھی ہے اے ایمان والو ! کونوا انصار اللہ (آیت 14) اللہ کے مددگار بن جائو حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی اپنے حواریوں سے کہا تھا کہ اللہ کی طرف کون میری مدد کریگا۔ تو حواریوں نے جواب دیانحن انصار اللہ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ الغرض ! مہاجرین نے اللہ کی خاطر مال وجان ، وطن اور عزیز و اقارب کی قربانی پیش کی تو اللہ نے بھی پھر ان کی مدد کی۔ تو فرمایا ، ایک تو وہ اللہ کی مدد کرتے ہیں اور دوسرے اس کے رسول کی مدد بھی کرتے تھے۔ اور اس سے مراد اللہ کے رسول کی بالعفل مدد ہے۔ یہ مہاجرین رسول اللہ کی بدل وجان اطاعت کرتے ہیں ۔ اس کا اسوہ اختیار کرتے ہیں اور اس کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ رسول کی سنت اور اس کی لائی ہوئی شریعت کی مدد کرتے ہیں اور اس طرح رسول کے مشن کی تکمیل میں اس کے ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔ اور رسول کا مشن یہ ہے لیظھرہ………کلہ (الصف 9) کہ وہ اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کردے۔ آپ کے اصحابہ ؓ بشمول تمام مہاجرین وانصار نے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تو اللہ اور اس کے رسول کی مدد کا یہی مطلب ہے۔
فرمایا اولئک ھم الصدقون یہی لوگ سچے اور راستباز ہیں۔ ان میں خلفائے راشدین ؓ سرفہرست ہیں۔ اللہ نے سب کی تعریف فرمائی ہے اور ان کے ایمان کی گواہی دی ہے۔ مگر کیا کیا جائے ان رافضیوں کا جو اتنے واضح اعلان کے باوجود خلفائے راشدین ؓ میں سے حضرت علی ؓ کے سوا باقی تین کو نعوذ باللہ منافق قرار دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہی لوگ منافق ہیں جو رسول اللہ کے جلیل القدر صحابہ ؓ اور خلفائے راشدین ؓ کے ایمان میں شک وشبہ کا اظہار کرتے ہیں یہ عقیدہ کتاب اللہ کے خلاف ہے کیونکہ اللہ نے مہاجرین کی تعریف بیان کی ہے۔ اور خود رسول اللہ کے فرامین کے بھی خلاف ہے۔ جن میں ان اکابر صحابہ ؓ کی جانی اور مالی قربانیوں اور دین سے وفاداری کی تعریف کی گئی ہے۔