Ayahs 58:1–2نام اور کوائف :
اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة المجادلہ ہے جو اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ تجادلک سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة سورة المنافقون کے بعد نازل ہوئی ہے اس سورة مبارکہ کی بائیس آیات اور تین رکوع ہیں ، اور یہ سورة 473 الفاظ اور 1192 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة :
گذشتہ سورة الحدید کی طرح اس سورة میں بھی توحید اور انفاق فی سبیل اللہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ البتہ اس سورة میں مسئلہ ظہار بطور خاص بیان ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ اس کے کفارے کا ذکر بھی ہے۔ علاوہ ازیں آداب مجلس کے طور پر آپس میں سرگوشی کرنے کا قانون بیان ہوا اور ساتھ ساتھ نااہل لوگوں سے عدم مشاورت کا بیان ہے۔ ایسے لوگوں کو اپنی شوریٰ کا ممبر نہیں بنانا چاہیے۔ اللہ نے اپنے اور اپنے رسول کے ساتھ دشمنی رکھنے والوں کی دوستی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
زمانہ جاہلیت کے غلط مسائل :
زمانہ جاہلیت میں عربوں میں بعض غلط قسم کے مسائل رواج پاچکے تھے ، جن کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ ان میں سے دو مسائل کا ذکر اللہ نے سورة الاحزاب میں کیا ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے حقیقی بیٹے کی بیوی یعنی اپنی بہو کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔ یہ مسئلہ قبل از اسلام بھی اسی طرح تھا اور آج بھی سسر اور بہو کا نکاح حرام ہے۔ مطلب یہ کہ اگر بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دے دے یا وہ ہلاک ہوجائے تو باپ اس مطلقہ یا بیوہ کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔ زمانہ جاہلیت میں جو چیز غلط رواج پاگئی تھی وہ یہ تھی کہ یہ لوگ منہ بولے بیٹے کو بھی حقیقی بیٹے کا درجہ دے کر اس کی بیوی کا نکاح اس کے باپ کے ساتھ حرام سمجھتے تھے دوسرا غلط مسئلہ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ بیوی کو ماں بہن کہہ دیتا تو عربوں کے نزدیک وہ عورت اس مرد کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب میں ان دونوں مسائل کی تردید فرمائی ہے۔ ہاں ارشاد ہوا۔ وما جعل…………………………بافواھکم (آیت 4) جن عورتوں کو تم ماں کہہ دیتے ہو اللہ نے انہیں تمہاری مائیں نہیں بنایا ، اور نہ ہی تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا ہے۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اب انہی میں سے ظہار کا مسئلہ اللہ نے اس سورة میں بھی بیان فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ جن عورتوں کو تم ماں بہن کہہ بیٹھے ہو وہ تمہاری مائیں نہیں ہوتیں بلکہ تمہاری مائیں تو وہ ہیں ، جنہوں نے تم کو جنم دیا ہے۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کی بیوی کے حق میں ظہار کرنے سے وہ عورت ماں بہن کی طرح ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوجاتی اور نہ ہی اس پر طلاق پڑجاتی ہے بلکہ یہ ایک بری اور گناہ کی بات ہے جسے زبان سے نہیں نکلنا چاہیے۔ پھر آگے اللہ نے اس دروغ گوئی کا کفارہ بھی بیان کیا ہے۔ جس کے ادا کرنے سے ، ایسی عورت اپنے خاوند کے لئے حلال ہی جاتی ہے۔
مسئلہ ظہار کا آغاز :
حضور ﷺ کے ایک صحابی حضرت اوس بن صامت خزرجی ؓ ہیں ، جو مشہور صحابی حضرت عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی تھے۔ حضرت اوس کی طبیعت کچھ تیز تھی۔ یہ کسی بات پر اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ سے ناراض ہوگئے اور اس کو کہہ دیا انت علی کظھر امی یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہو۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ عربوں کے غلط مسئلہ کی بناء پر خولہ ؓ حضرت اوس ؓ پر ہمیشہ کے لئے حرام ٹھہرائے جانے کی وجہ سے سخت پریشان ہوگئیں۔ اس کے بچے بھی تھے اور وہ عمر کا کافی حصہ طے بھی کرچکی تھیں۔ لہٰذا انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا تھا وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی حالت زار بیان کی کہنے لگی میرے بچوں کی پرورش کیسے ہوگی۔ میں نے جوانی کا بہترین حصہ اس شخص کے ساتھ گزارا ہے مگر اب وہ مجھے بےیارومددگار چھوڑ رہا ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ اگر اس نے بچوں کو اپنے کے پاس رکھا تو ان کو فاقے آئیں گے اور اگر نہ رکھا تو ضائع ہوجائیں گے۔ اس پریشانی کے عالم ہیں وہ حضور ﷺ سے مسئلہ کا حل دریافت کرتی اور ساتھ دعا بھی کرتی کہ مولا کریم اپنے نبی کی زبان سے میری شکل کو حل فرما۔ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں آیا تھا لہٰذاحضور ﷺ بھی کوئی حل بنانے سے قاصر تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تو اس مسئلہ کے متعلق کوئی حل نہیں جانتا اور بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ تم دونوں کی جدائی ہوچکی ہے۔
استغاثہ کا جواب :
وہ عورت سخت پریشانی کی حالت میں حضور ﷺ سے گفتگو کررہی تھی کہ عین اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی دعائوں کا جواب آگیا۔ اس طرح اسلام کے دور میں ظہار کا یہ پہلا مسند پیدا ہوا جس کے متعلق اللہ نے احکام نازل فرمائے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کا آغازحضور ﷺ اور خولہ ؓ کی گفتگو کے ذکر سے کیا ہے ارشاد ہوتا ہے قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ کے ساتھ اپنے خاوند کے بارے میں تکرار کرتی ہے۔ مجادلہ کا لفظی معنی جھگڑا ہوتا ہے مگر یہاں پر مراد گفتگو یا تکرار ہے جو وہ عورت حضور ﷺ سے اس مسئلہ کے بارے میں پریشانی کے عالم میں کررہی تھی۔ فرمایا ہم نے اس کی بات سن لی وتشتکی الی اللہ اور وہ اللہ کے سامنے شکایت کررہی تھی کہ اس کے خاوند نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب اس کا اور اس کی اولاد کا کون پرسان حال ہوگا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا۔ واللہ یسمع تحاورکما ، اور اللہ تعالیٰ تمہاری گفتگو کو سنتا ہے۔ تحاور کا معنی آپس میں کلام کرنا ہوتا ہے ، یہ اسی…بات چیت کا ذکر ہورہا ہے جو وہ عورت حضور ﷺ کے ساتھ کررہی ہے۔ تحاور کا یہ معنی عربی ادب میں بھی ملتا ہے۔ چناچہ ایک عربی شاعر اپنے گھوڑے کے متعلق کہتا ہے۔
لوکان یدری ما المحاورۃ اشتکی
ولکان لو علم الکلام مکلمی
جب اس نے گھوڑے پر سوار ہو کر جنگ لڑی تو گھوڑے کو بھی سخت تکلیف پہنچی۔ تو شاعر نے کہا کہ اگر یہ گھوڑا محاورہ یعنی بات چیت کرنا جانتا ہوتا تو ضرور شکایت کرتا کہ اسے جنگ کے دوران کس قدر زخم آئے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ تمہاری بات چیت کو سنتا ہے ان اللہ سمیع بصیر بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
مسئلہ ظہار کی بعض تفصیلات :
ظہار ظہر کے مادہ سے ہے جس کا معنی پشت ہوتا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ظہار کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب حضرت اوس ؓ نے اپنی بیوی سے کہا انت علی کظھر امی یعنی تو میری ماں کی پشت کی مانند ہو۔ اور مفہوم اس کا یہ بنتا ہے کہ نہ مجھ پر اسی طرح حرام ہو جس طرح میری ماں کی پشت مجھ پر حرام ہے۔ فقہائے کرام بیان کرتے ہیں کہ ظہار کرنے کے لئے پشت کا لفظ بولنا ضروری نہیں ہے بکلہ ہر اس عضو کے ساتھ تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ جس کو دیکھناروا نہیں جیسے ران سرین ، پیٹ ، اعضائے مستورہ وغیرہ۔ اسی طرح ظہار کے لئے ماں کی تشبیہ بھی ضروری نہیں بلکہ ہر ایسی عورت کے ساتھ تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ جس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے جیسے بیٹی ، پوتی ، بھتیجی ، بھانجی ، باپ کی بیوی ، بہن ، رضاعی بہن ، رضاعی ماں وغیرہ۔ ان میں سے کسی کا نام لے کر ان کے کسی بھی اعضائے مستورہ کے ساتھ تشبیہ دے کر ظہار کرے گا تو ظہار واقع ہوجائے گا۔ اور اگر کوئی شخص غیر محرم عورت کا نام لیتا ہے جس کے ساتھ نکاح حلال ہے یا کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے جس کا دیکھنا جائز ہے جیسے ہاتھ ، پائوں یا سروغیرہ تو ایسی صورت میں ظہار نہیں ہوگا۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تو سے خطاب نہیں کرتا یعنی یہ نہیں کہتا کہ تو میری ماں کی پشت کی مانند ہے بلکہ کہتا ہے کہ تیری پشت ، تیری شرمگاہ ، تیری روح ، تیرا نفس ، تیرا نصف حصہ ، تیرا مثلث حصہ ، تیرا چہرہ یا تیرا بدن میری ماں کی پشت کی مانند ہے تو ایسے تمام الفاظ سے عورت کی ذات ہی مراد لی جائے گی اور ظہار واقع ہوجائے گا۔
ظہار پر اللہ کی ناپسندیدگی :
اگرچہ مذکورہ طریقے سے ظہار واقع ہوجاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو ناپسند فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الذین یظھرون منکم من نسآء ھم وہ ان کی مائیں نہیں ہیں ، بلکہ ان امھتھم الی الیء ولدنھم ان کی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے حقیقی ماں کے علاوہ دوسری عورت محض کہہ دینے سے تو ماں نہیں بن جاتی۔ اللہ نے فرمایا وانھم لیقولون منکرا من القول زورا اور بیشک وہ اللہ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ یہ بہت برا فعل ہے اور اسے نہیں کرنا چاہیے۔ ناپسندیدہ بات اس لئے ہے کہ کوئی شخص کسی حلال چیزکو خود ہی اپنے اوپر حرام قرار دے لیتا ہے ، اور جھوٹی اس لئے کہ کوئی بھی عورت حقیقی ماں کی طرح نہیں ہوسکتی۔ بہرحال بحیثیت مجموعی ظہار کرنا کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے اور یہ چار وجوہات کی بناء پر ایک ناپسندیدہ فعل ہے یعنی ( 1) بیوی کو ماں کو کہنا (2) ناپسندیدہ بات کرنا (3) جھوٹی بات کرنا (4) گناہ کا ارتکاب کرنا۔
فروعی مسائل متعلقہ ظہار :
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ منکم کے لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ظہار کا وقوع اہل ایمان کے ساتھ ہی مخصوص ہے ، اگر کوئی غیر مسلم ایسی بات کردے تو اس پر ظہار واقع نہیں ہوگا۔ البتہ بعض کہتے ہیں کہ اگر ذمی کافر بھی ایسے الفاظ بولے گا تو وہ بھی ظہار کر مرتکب سمجھا جائے گا۔ امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے تاہم دوسرے ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ منکم سے مراد محض ایمان والے نہیں بلکہ اس میں اسلامی سلطنت کے تمام باشندے آجاتے ہیں۔
ایم مسئلہ یہ بھی ہے۔ ظہار صرف مرد ہی کرسکتا ہے ، عورت کو یہ حق حاصل نہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح اللہ نے طلاق کا حق مردوں کو دیا ہے بیدہ عقدۃ النکاح (البقرہ 237) یعنی نکاح کی گرہ کرد کے ہاتھ میں ہے ، اسی طرح ظہار کا حق بھی مردوں کی ہے ۔ اگر کوئی عورت اپنے خاوند کو پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ ظہار نہیں ہوگا کیونکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں الذین یظھرون جو مرد ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، نہ کہ وہ عورتیں جو مردوں سے ظہار کرتی ہیں۔
منکم اور من نسآء ھم سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ظہار کے لئے اپنی ماں یا کسی دوسری محرم عورت کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دینا ضروری ہے جس کا دیکھنا روا نہ ہو۔ اور اگر کوئی شخ عضو کی تشبیہ کے بغیر کہتا ہے ۔ انت کامی یعنی تو میری ماں کی مانند ہے یا کسی دوسر محرم عورت کی مانند ہے تو اس سے ظہار لازم نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگر کوئی ک کی بجائے مثل کا لفظ استعمال کرتا ہے کہ تو میری ماں کی مثل ہے اور اس کے کسی عضو مستورہ کے ساتھ تشبیہ نہیں دیتا تو بھی ظہار واقع نہیں ہوگا۔ البتہ ایسے شخص سے وضاحت طلب کی جائے گی کہ ماں کی طرح یا ماں کی مثل کہنے سے تیری کیا مراد ہے اگر وہ بتائے کہ اس سے میری مراد ماں کی کی طرح معزز ہے تو یہ ظاہر نہیں ہوگا۔ اور اگر وہ بیان کرے کہ اس سے مراد ماں کی طرح حرام ہے ، تو پھر طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔ اگر وہ کہتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے میں اپنے لئے عورت سے استفادہ کو حرام کرتا ہوں تو پھر یہ ظہار ہوگا۔ ہاں اگر صرف ماں کی بجائے ماں کی پشت ، ران ، پیٹ یا کسی دیگر عضو مستورہ کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے تو پھر اس میں نیت معلوم کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی ، بلکہ یہ واضح طور پر ظہار ہی ہوگا۔
ظہار کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تو مجھ پر ایک ماہ کے لئے ماں کی پشت کے برابر ہے۔ ایسے ظہار کے حکم کے متعلق ائمہ کرام میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) اس کو بھی مکمل ظہار شمار کرتے ہیں جب کہ امام مالک (رح) اور امام شافعی اس کو ظہار تسلیم نہیں کرتے ، امام ابوحنیفہ (رح) کیا مسلک یہ ہے کہ اگر ایسا شخص اپنی بیوی کی طرف لوٹنا چاہے تو وہ کفارہ ادا کر کے لوٹ سکتا ہے اور اگر ایک ماہ کا عرصہ یونہی گزر گیا تو پھر جس طرح قوم میں آدمی بری ہوجاتا ہے اسی طرح اس ظہار سے بھی بری ہوگیا ، اب مسئلہ ختم ہوگیا۔
ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کی متعدد بیویاں ہیں اور وہ سب کو کہتا ہے کہ تم میری ماں کی پشت کی مانند ہو تو اس طرح سب پر ظہار واقع ہوجائیگا البتہ واپسی کے لئے کفارے کا مسئلہ پیدا ہوگا کہ سب کے ایک ہی کفارہ کافی ہے یا ہر بیوی کی طرف رجوع کے لئے الگ الگ کفارہ دینا پڑے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک ہر بیوی کا الگ الگ کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ جب کہ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ سب کے لئے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا۔ مگر کفارے کے بغیر ان میں سے کسی کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔
فرمایا جو لوگ ظہار کرتے ہیں یعنی اپنی عورتوں کو ماں بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں یا کسی دوسری محرم عورت کے کسی عضومستورہ کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کی وہ مائیں یا بہنیں تو نہیں ہیں ، بلکہ ان کی مائیں تو وہ ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کرتے ہیں۔ تاہم اگر وہ کفارہ ادا کردیں وان اللہ لعفو غفور ، تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کو معاف کردیتا ہے بشرطیکہ اس کے قانون کا احترام کیا جائے۔
Ayahs 58:3–6ربط آیات :
گزشتہ درس میں ظہار کی ناپسندیدگی کا ذکر تھا کیونکہ یہ ناپسندیدہ اور جھوٹی بات ہے اور دوسرے معنوی میں گناہ کبیرہ بنتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرتا ہے یعنی اس کو اپنی ماں کی پشت سے تشبیہ دیتا ہے تو اس کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ وہ بیوی سے عدم مباشرت اور علیحدگی کا اعلان کررہا ہے۔ مگر ایسا کہنے سے بیوی کو طاق نہیں ہوجاتی بلکہ آدمی گنہگار بن جاتا ہے اور اگر وہ اپنی بیوی کی طرف رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ جس کا ذکر آج درس میں آرہا ہے۔
کفارہ ظہار (1) غلام کی آزادی :
ارشاد باری تعالیٰ ہے والذین یظھرون من نسآء ھم جو لوگ اپنی عورتوں کے ساتھ ظہار کرتے ہیں یعنی ان کو اپنی ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ ثم یعودن لما قالوا پھر پلٹتے ہیں اس چیز کے لئے جو انہوں نے کہی تھی یعنی اپنی کہی ہوئی بات پر نادم ہو کر اپنی سابقہ حالت پر واپس آانا چاہتے ہیں اور بیوی سے دویارہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں ، تو اس کی صورت یہ ہے فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا ، کہ کفارہ کے طور پر ایک گردن یعنی غلام آزاد کرنا ہے پیشتر اس کے کہ میاں بیوی آپ میں مباشرت کریں مفسرین کرام اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ان یتماسا میں صرف مباشرت ہی نہیں۔ بلکہ اس میں بوس وکنار وغیرہ بھی شامل ہیں لہٰذا جب خاوندرجوع کا فیصلہ کرلے تو سب سے پہلے کفارہ ادا کرے اور اس کے بعد بیوی سے متمتع ہوکفارے کی ادائیگی سب سے پہلے غلام کی آزادی کی صورت میں کی جائے گی۔ اگر متعلقہ شخص کے پاس غلام موجود ہے تو اسے آزاد کرے گا۔ اور مالی استطاعت ہے تو غلام خرید کر اس کو آزاد کردے گا۔ نزول قرآن کے زمانہ میں غلامی کا رواج ساری دنیا میں موجود تھا اور اس وقت پہلے نمبر پر غلام کی آزادی ہی ظہار کا کفارہ تھا۔ ہاں اگر کسی شخص کے پاس غلام نہیں ہے اور وہ مالی لحاظ سے بھی غلام خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر دوسرا متبادل طریقہ اختیار کرے گا۔ فرمایا ذلکم توعظون بہ تمہیں اس بات کی نصیحت کی جاتی ہے کہ اللہ کے ان احکام کی پوری پوری تعمیل کرو۔ واللہ بما تعملون خبیر ، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ وہ تمہارے ظہار کرنے اور کفارہ ادا کرنے کے تمام واقعات کی خبر رکھتا ہے ۔ اگر تم کفارے کی ادائیگی میں کوتاہی کرو گے تو وہ تو سب کچھ جانتا ہے حتیٰ کہ تمہاری نیت اور اردے سے بھی واقف ہے ، لہٰذا تم لوگوں کو تو کسی معاملہ میں دھوکہ دے سکتے ہو مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہیں تمہاری نیت ، ارادے اور عمل کے مطابق ہی بدلے دے گا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہو کہ جس غلام کی آزادی بطور کفارہ ظہار مطلوب ہے کیا اس کے لئے کچھ شرائط بھی شریعت نے مقرر کی ہیں کہ وہ کیسا ہونا چاہیے ؟ جہاں قتل خطا میں غلام کی آزادی کو کفارہ بنایا گیا ہے وہاں شرط یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مومن آدمی کو خطاً قتل کرے گا فتحریر……مومنۃ (النساء 93) تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام کی آزادی ہوگا۔ گویا کسی غیر مسلم غلام کی آزادی سے کفارہ ادا نہیں ہوگا ظہار کے کفارہ کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ غلام خواہ مومن ہو یا کافر ، عورت ہو یا مرد ، کم سن ہو یا عمر رسیدہ کسی بھی قسم کے غلام کی آزادی سے کفارہ ادا ہوجائے گا۔ کیونکہ اس آیت میں مطلق غلام کی آزادی کا ذکر آیا ہے۔ البتہ بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح قتل خطا کے کفارے کے لئے مومن غلام کی آزادی کا حکم ہے ، اسی طرح ظہار کے کفارے کے لئے بھی مومن غلام ہی ہونا چاہیے۔
(2) دو ماہ کے روزے :
فرمایا فمن لم یجد پس جس نے غلام نہ پایا یعنی جس کے پاس غلام ہی نہیں ہے جس کو وہ آزاد کرسکے یا اس کے پاس اتنا مال نہیں کہ غلام خرید کر آزاد کرسکے تو پھر اس کے لئے فصیام شھرین متتابعین کفارہ یہ ہے کہ دو ماہ کے مسلسل روزے سے رکھے من قبل ان یتماسا پیشتر اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں یعنی مجامعت کریں۔ مسلسل کا مطلب یہ ہے کہ دوماہ یعنی ساٹھ دن کے روزے متواتر رکھے حتیٰ کہ درمیان میں ایک دن بھی افطار نہ کرے۔ اگر درمیان میں کسی دن روزہ چھوٹ گیا یا بیماری کی وجہ سے رہ گیا تو تسلسل ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کو پھر شروع سے گنتی شمار کرنا ہوگی۔ قسم کے کفارے کے روزوں کا بھی یہی حکم ہے کہ لگاتار ہوں۔ یہاں عورت کے لئے گنجائش ہے کہ اس نے روزے رکھنا شروع کیا اور درمیان میں ایام حیض شروع ہوگئے تو روزے ترک کردے اور پاک ہو کر بقایا روزے رکھ لے۔ ایسی حالت میں تسلسل کی پابندی ساقط ہوجائے گی۔
(3) ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا :
کفار کی تیسری صورت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے فمن لم یستطع اور جو شخص مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ، مثلاً بیمار ہے یا جسمانی طور پر اس قدر کمزور ہے کہ دو ماہ متواتر روزے نہیں رکھ سکتا تو فرمایا فاطعام ستین مسکینا ، تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہوگا۔ جیسا کہ قسم کے کفارے میں واضح کردیا گیا ہے من اوسط……………اھلیکم (المائدہ 89) درمیانے درجے کا کھانا ہو جو عام طور پر گھروں والوں کو کھلایا جاتا ہے نہ تو بالکل معمولی ہو اور نہ ہی بہت اعلیٰ درجے کا ہو ، بہرحال دو وقت کھلانا ہوگا اور اگر کوئی شخص کھانا پکاکر کھلانے کی بجائے جنس کی صورت میں دینا چاہے تو ایسا بھی کرسکتا ہے۔ اگر وہ گندم دینا چاہے تو نصف صاع (دو سیر) فی مسکین ادا کرے ، اور اگر گندم کے علاوہ کوئی دوسرا غلہ مکی ، باجرہ ، چنے وغیرہ دینا چاہیے تو ایک صاع یعنی چار سیر فی کس ادا کرے۔ اس میں دو وقت کا کھانا آجائے گا۔ صدقہ فطر کے لئے بھی یہی مقدار مقرر ہے۔ اگر غلہ نہ دے تو اس قدر غلے کی قیمت بھی ادا کرسکتا ہے۔ جیسا کہ صدقہ فطر میں عام طور پر کیا جاتا ہے ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن تک دو وقت کھانا کھلاتے رہے ، تو پھر بھی کفارہ ادا ہوجائے گا مگر ایسی صورت میں کفارے کی مکمل ادائیگی تک یہاں بیوی کی قربت نہیں ہوسکتی۔ بہتر ہے کہ ساٹھ مساکین کو اکٹھا کھانا کھلا دے یا اس کی قیمت ادا کردے۔
فرمایا ذلک یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے لتومنوا باللہ ورسولہ ، تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو ، نیز فرمایا وتلک حدود اللہ ، یہ اللہ کی حدیں ہیں جو اس نے مقرر کردی ہیں۔ وللکفرین عذاب الیم ، اور کفر کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے جو لوگ اللہ کے احکام کا انکار کریں گے ، اللہ نے ان کے لئے سزا بھی بڑی سخت تجویز کررکھی ہے۔
ظہار کا دوسراواقعہ :
گزشتہ درس میں ظہار کے اولین واقع کا ذکر ہوچکا ہے جو حضرت اوس بن صامت ؓ نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ سے کیا تھا ، اور بیوی نے حضور ﷺ کے پاس شکایت کی تھی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں امام ترمذی (رح) نے ایک دوسرے صحابی سلمہ ابن صخر ؓ کا واقعہ بھی نقل کیا ہے۔ وہ صحابی خود بیان کرتے ہیں کہ رمضان کی آمد پر میں نے اپنی بیوی سے بایں الفاظ ظہار کیا۔ کہ میں ایک ماہ تک تمہارے قریب نہیں آئوں گا کہ تو میری ماں کی پشت کی طرح ہے اس کے بعد ایسا ہوا کہ وہ عورت نماز پڑھ رہی تھی کہ صحابی پر شہوانی غلبہ طاری ہوا اور اس نے اس سے مباشرت کرلی اس کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو نادم ہو کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ دریافت کیا کہ اب ہمارے لئے کیا حکم ہے۔ حضور ﷺ نے صحابی سے دریافت کیا کہ کیا تو نے واقعی ایسا کیا ہے اس نے اقرار کیا کہ حضور ! یہ غلطی ہوگئی ہے۔ اس روایت میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ظہار کرنے کے بعد تمہیں کفارہ ادا کیے بغیر ہرگز عورت کے قریب نہیں جانا چاہیے تھا۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب کفارہ ادا کرو یعنی ایک غلام آزاد کرو۔ وہ شخص کہنے لگا۔ کہ حضور ﷺ ! میرے پاس تو اپنی گردن کے سوا کچھ نہیں۔ فرمایا پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ وہ کہنے لگا کہ روزے کی وجہ سے مجھ پر یہ آفت پڑی ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا ! ساٹھ مساکین کو دو وقت کھانا کھلا دو ۔ وہ شخص کہنے لگا ہمارے پاس ہ کھجوریں ہیں اور نہ اناج ، ہم یہ کفارہ کیسے ادا کریں ؟ آپ نے فرمایا ، تم یہاں ٹھہرو ، کوئی صدقہ وغیرہ آئے گا تو تم کو دلادیں گے اور تم اس سے اپنا کفارہ ادا کردینا۔ چناچہ آپ نے اس شخص کو دو وسق کھجوریں صدقہ کے مال میں سے دلائیں تاکہ وہ ایک وسق سے کفارہ ادا کردے اور دوسرا دسق خودگھر میں استعمال کرے۔
مخالفین کا انجام :
مسئلہ ظہار اور اس کے کفارے کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسول کے مخالفین کا انجام بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین یحادون اللہ ورسولہ بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں کبتوا کما کبت الذین من قبلھم وہ اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے۔
جس طرح ان سے پہلے مخالفین ذلیل ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کبھی عزت نصیب نہیں ہوئی بلکہ وہ عذاب ہی کا شکار ہوئے۔ جس مخالفت کا اللہ نے یہاں ذکر کیا ہے وہ اعتقادی میں بھی ہوسکتی ہے اور قول وفعل میں بھی۔ اللہ کے قوانین کی مخالفت کرنے والے یا اللہ کے قانون کے خلاف خود قانون بنانے والے یہی لوگ تو ہیں۔ عام طور پر یہ ملوکیت کا خاصہ ہوتا ہے وہ اللہ کے قوانین نافذ کرنے کی بجائے انسانوں کے وضع کردہ قوانین رائج کرتے ہیں ، ان پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کرواتے ہیں۔ پھر جب اللہ اور رسول کی بات کی جائے تو کہتے ہیں کہ یہ قوانین موجود دور کے تقاضوں کو پورا ہیں کرسکتے لہٰذا ہمیں خود جدید قانون وضع کرنے ہوں گے۔ بہرحال یہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت ہے خواہ قانون تیار کرنے میں یا قانون کو نافذ کرنے میں ہو۔ سعد صاحب (رح) نے بھی بوستان میں ایک شعر لکھا ہے۔
مدبر کہ قانون بدمی نہد
ترامی برو تایہ آتش دہد
فرماتے ہیں کہ جو قانون ساز برا قانون بناتا ہے وہ تو اسے لے کر جہنم میں ہی داخل کرے گا اور جو شخص ایسے قانون پر عمل کرے گا وہ بھی جہنم رسید ہوگا۔
آج ہم گردوپیش پر نظر دوڑاتے ہیں تو دنیا میں کہیں بھی اللہ کے قانون اور اس کے دین کی عملداری نظر نہیں آتی۔ لوگ خود ہی قانون بنا کر انہیں اللہ کی مخلوق پر نافذ کرتے ہیں۔ کہیں مارشل لاء کے نام پر قانون بن رہے ہیں اور کہیں جمہوریت کے نام پر غیر اسلامی قوانین بن رہے ہیں۔ کہیں بالکل ہی شخصی نظام رائج ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہیں ، آج کے زمانے میں شاید ہی کوئی خوش نصیب ہوگا جو اللہ کے قانون کی مخالفت نہ کرتا ہو۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمادیا کہ یہ بھی پہلے مخالفین کی طرح ذلیل و خوار ہوں گے۔
فرمایا یادرکھو وقد انزلنا ایت بینت اور البتہ تحقیق ہم نے واضح واضح احکام اور آیتیں نازل کردی ہیں۔ واضح دلائل اور معجزات بھی پیش کردیے ہیں۔ اس کے باوجود اگر لوگ مخالفت سے باز نہیں آتے اور اللہ کے قانون کو زندگی کی ہر سطح پر نافذ نہیں کرتے تو یاد رکھو ! وللکفرین عذاب مھین ایسے کافروں کے لئے اللہ کے ہاں ذلت ناکہ عذاب موجود ہے جس سے وہ بچ نہیں سکیں گے۔ جو لوگ خدا کی حدود کو توڑتے ہیں ، اپنی خواہشات کو مقدرکھتے ہیں اور انسانوں کے وضع کردہ قوانین کو نافذ کر رہے ہیں ، وہ اپنے انجام سے خبردار ہوجائیں۔
یہ برا انجام کب ہوگا ؟ فرمایا یوم یعثھم اللہ جمیعا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے گا یعنی جب قیامت برپا ہوگی ، حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ فینبئھم بما عملوا تو اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے اعمال سے اگاہ کردے گا۔ کیونکہ احصہ اللہ اللہ نے تو ان کے تمام اعمال نیک وبدکو شمار کررکھا ہے جب کہ ونسوہ اور انسان ان کو بھول چکا ہے کہ اس نے کس وقت میں کون سا اچھا یا کون سا برا کام کیا تھا۔ یہ تمام اعمال اللہ کے علم اور اس کی لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہیں ، اور خود انسان کی روح اور اس کے نامہ اعمال میں بھی محفوظ ہیں اللہ تعالیٰ کس کے کسی عمل کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔ بلکہ قیامت والے دن سب کو ان کے سامنے رکھ دے گا۔ فرمایا واللہ علی کل شیء شھید ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ، محافظ اور گواہ ہے اس کے لئے کسی چیز کی حفاظت کرنا کچھ مشکل نہیں کیونکہ وہ ہر جگہ حاضر وناظر ہے اور ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔
Ayahs 58:7–10ربط آیات :
پہلے مسئلہ ظہار اور اس کی قباحت بیان ہوئی کہ یہ گناہ کی بات ہے اور نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ غلطی کر بیٹھے اور اپنی بیوی کو ماں یا بہن کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دے تو وہ عورت اس شخص کے لئے حرام ہوجاتی ہے جب تک کہ وہ اس کے لئے مقررہ کفارہ ادا نہ کرے۔ پھر اللہ نے کفارے کی تین متبادل صورتیں بیان فرمائیں یعنی ایک غلام آزاد کرے۔ اگر طاقت نہیں ہے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اگر ایسا بھی نہیں کرسکتا تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے قبل اس کے کہ اپنی بیوی کی طرف دوبارہ رجوع کرے ۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے ورنہ اس کا نتیجہ ذلت ناک عذاب کی صورت میں ان کے سامنے آئے گا۔
اللہ کا علم محیط :
دنیا میں تو لوگ ایک دوسرے کو دھوکہ دے لیتے ہیں اور بعض امور چھپ کر بھی انجام دے لیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی نظروں اور اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ارشاد ہوتا ہے الم ترا کیا تم نے نہیں دیکھا یعنی کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ ان اللہ یعلم مافی السموت وما فی الارض کہ اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، یعنی خدا تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ سورة الملک میں اللہ نے اس حقیقت کو اس انداز میں بیان فرمایا ہے الا یعلم من خلق (آیت 14) کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ جو ہر چیز کا خالق ہے اس سے کون سی چیز پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر جگہ حاضر وناظر ہے فرمایا مایکون من نجویٰ ثلثۃ الا ھورابعھم ، نہیں ہوتا مشورہ تین آدمیوں کا مگر چوتھا خدا تعالیٰ ہوتا ہے اس لئے تمہاری تمام سرگوشیاں باتیں اور سکی میں اس کی موجودگی میں ہوتی ہیں۔ اور وہ انہیں بخوبی جانتا ہے۔ پھر فرمایا ولا خمسۃ الا ھو سادسھم اور نہ پانچ آدمیوں کا مشورہ ہوتا ہے۔ مگر چھٹا وہاں وہ ہوتا ہے۔ ولا ادنی من ذلک ولا اکثر الاھو معھم اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے این ما کانوا جہاں کہیں بھی ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جو (نعوذ باللہ) اللہ کی پہنچ سے باہر ہو اور یہ لوگ وہاں جاکر کوئی سرگوشی کرلیں اور چاہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہ ہو ۔ نہیں بلکہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ کسی مجلس میں جو بھی کوئی خفیہ یا علانیہ بات کرتا ہے ۔ سب اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ جب اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے تو ہے تو وہ تمہارے ہر عمل کو بھی جانتا ہے۔ ثم ینبئھم بما عملوا یوم القیمۃ ، پھر وہ قیامت والے دن ان کو ان کے اعمال سے باخبر کردیگا۔ اور بتادے گا کہ دنیا میں تم فلاں فلاں وقت میں فلاں فلاں کام کرتے رہے۔ یہ حجت پوری کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہر اس ان کے لئے جزا اور سزا کا فیصلہ کریگا بہرحال ان اللہ بکل شیء علیم ، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور کوئی چیز اس کے علم محیط سے باہر نہیں ہے۔
مشاورت کی اہمیت :
یہاں پر علیحدگی میں بعض آدمیوں کے خفیہ مشورے کا ذکر آیا ہے تو اس ضمن میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر تین آدمی کسی جگہ موجود ہوں یا سفر کر رہے ہوں۔ تو ان میں سے دو آدمی علیحدگی میں مشورہ نہ کریں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تیسرے آدمی کو شک گزرے کو علیحدگی میں اس کے خلاف کوئی سازش ہورہی ہے۔ بہرحال مشورہتو دو کا بھی آپس میں ہوسکتا ہے مگر کسی کی دل شکنی کرنے نہیں۔ ویسے اللہ نے اہل ایمان کو مشورے کا حکم دیا ہے وامرھم شوریٰ بینھم (الشوریٰ 138) یعنی وہ اپنے کام مشورہ سے انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو بھی حکم دیا ہے وش اور… ……الامر (آل عمران 159) آپ اپنے صحابہ سے مشورہ کرلیا کریں یعنی جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت وصول نہیں ہوئیں ، ان معاملات میں باہم مشورہ کے بعد کوئی فیصلہ کریں اور پھر اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کام کو کرگزریں۔ مشورہ کرلینا بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح انسان خسارے سے بچ جاتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ نے تین اور پانچ آدمیوں کا ذکر کیا ہے کہ اگر کہیں تین اشخاص ہوں تو چوتھا خدا تعالیٰ ہوتا ہے اور اگر پانچ ہوں تو چھٹا وہ ہتا ہے۔ ان دو اعداد کے ذکر میں بھی خاص مصلحت ہے۔ تین اور پانچ کے اعداد طاق ہیں۔ اگر یہ آپس میں مشورہ کریں تو اختلاف رائے کی صورت میں بھی آسانی سے فیصلہ ہوجائے گا۔ ظاہر ہے کہ تین سے دو ایک طرف اور ایک دوسرے طرف ہوگا۔ لہٰذا اکثریت کی رائے پر عمل درآمد ہوجائے گا۔ یہی صورت حال پانچ یا دیگر طاق اعداد میں ہوگی۔ اور اگر آدمیوں کی تعداد جفت ہو یعنی دو چار ، چھ وغیرہ تو ان میں رائے برابر برابر تقسیم ہونے کی صورت میں فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گی۔
حضرت عمر ؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو انہوں نے اپنے جانشین کے انتخاب کے لئے ان چھ آدمیوں کی کمیٹی بنائی جن پر حضور ﷺ دنیا سے رخصت ہوتے وقت راضی تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ چھ آدمی باہمی مشاورت سے کسی شخص کو خلیفہ منتخب کرلیں۔ اگرچہ اس کمیٹی میں آپ کا بیٹا عبداللہ (رح) بھی شامل تھا۔ مگر آپ نے فرمایا تھا کہ یہ مشورہ تو دے سکتے ہیں مگر خود خلافت کے امیدوار نہیں بن سکتے چناچہ یہ حضرات تین دن تک باہمی مشورہ کرتے رہے اور ا س دوران حضرت صہیب رومی ؓ بطور قائم مقام خلیفہ نماز پڑھاتے رہے اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ بھی انہوں نے ہی پڑھا یا بہرحال تین دن کی مشاورت کے بعد مذکورہ کمیٹی نے حضرت عثمان ؓ کو خلیفہ منتخب کرلیا۔ غرضیکہ مشاورت کی اپنی اہمیت ہے جس کے لئے نبی اور امت دونوں کو حکم دیا گیا ہے۔
منافقین کی سرگوشیاں :
مکی زندگی میں تو مشرک اور کافر اسلام اور اہل اسلام کے کھلم کھلا دشمن تھے اور ان کی ایذارسانیوں کی وجہ سے ہی مسلمانوں کو پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ طیبہ ہجرت کرنا پڑی۔ مدینہ پہنچ کر اگرچہ اہل ایمان کو قدرے سکون نصیب ہوا۔ اور اسلامی ریاست کی بنیاد بھی قائم ہوگئی تاہم یہاں بھی دو طاقتوں کے ہاتھوں مسلمان زک اٹھاتے رہے۔ ایک تو یہودی تھے جو کافی تعداد میں مدینہ منورہ اور اس کے اطراف میں آباد تھے۔ اور مسلمانوں کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ دوسرا گرہو منافقین کا تھا جو بظاہر تو ایمان قبول کرچکے تھے مگر ان کی ہمدردیاں یہودیوں اور مشرکوں کے ساتھ تھیں اور وہ آئے درپردہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ بہرحال یہودی اور منافق مسلمانوں کے خلاف خفیہ میٹنگیں کرتے ، صلاح مشورہ کرتے کہ ان کو کس طرح تنگ کیا جائے۔ تو اللہ نے فرمایا الم ترالی الذین نھوا عن النجویٰ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا۔ جن کو سرگوشی کرنے سے منع کیا گیا ہے ثم یعودون لما نھوا عنہ پھر وہ پلٹ کر وہی بات کرتے ہیں۔ جن سے ان کو روکا گیا تھا ویتنجون بالاثم والعدوان ومعصیت الرسول اور سرگوشی کرتے ہیں گناہ ، زیادتی اور رسول کی مخالفت کے ساتھ مطلب یہ کہ ان کی خفیہ میٹنگیں تو مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں کے لئے ہوتی ہے جن میں یہ طرح طرح کے منصوبے بناتے ہیں تاکہ اہل ایمان کے راستے میں مشکلات کھڑی کی جائیں۔
منافقوں کی ایک خصلت یہ تھی کہ جب وہ حضور ﷺ کی مجلس میں آکر بیٹھے تھے تو اہل ایمان کا مذاق اڑاتے تھے ، ایک دوسرے کے کان میں کانا پھونسی کرتے ایمان والوں کی طرف آنکھوں سے اشارے کرتے اور ان کی عیب جوئی کرتے۔ اس قسم کی حرکات سے مخلص مسلمانوں کو سخت کوفت ہوتی تھی۔ یہودی بھی اس قسم کی حرکات کرکے اہل ایمان کے لئے اذیت کا باعث بنتے تھے۔ سورة النساء میں ایہ کے فرمان ہے لا خیر…………نجوھم (آیت 114) ان کی سرگوشیوں میں بہتری کی کوئی بات نہیں ہوتی بلکہ ان کے مشوروں میں شروفساد ہی پایا جاتا ہے ۔
سلام کرنے میں منافقت :
آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے یہودیوں کی خباثت کی ایک مثال بیان فرمائی ہے واذا جاء وک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ جب یہ لوگ آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بدبخت اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سلام نہیں کرتے۔ یہودیوں کی دیکھا دیکھی منافقین بھی اسی طرح کرنے لگے۔ مخلص مسلمان تو حضور کی مجلس میں آتے تو السلام علیکم کہتے ، مگر یہ بدبخت السام علیکم کہنے لگے۔ حالانکہ سلام کا معنی سلامتی ہے جب کہ سام کا معنی موت اور ہلاکت ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے وہ لوگ حضور ﷺ اور اہل ایمان کے لئے سلامتی کی بجائے ہلاکت طلب کرتے تھے۔
سلام کرنے کا صحیح طریقہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سکھایا تھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) سے فرمایا کہ فرشتوں کے پاس جا کر السلام علیکم کہو ، اور جو جواب وہ تمہیں دیں گے وہی جواب قیامت تک کے لئے تمہاری اولاد کے حق میں ہوگا۔ چناچہ جب آدم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے السلام علیکم کہا تو انہوں نے جواب میں وعلیک السلام کہا۔ اب تمام اہل ایمان کے لئے یہی طریقہ رائج ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں وعلیک السلام یا وعلیکم السلام کہا جاتا ہے سورة النسآء میں اللہ کا یہ فرمان بھی موجود ہے۔ واذا حییتم…………… ……اوردئوھا (آیت 86) جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دو ورنہ کم از کم اسی کو لوٹا دو ۔ مطلب یہ ہے کہ السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہونا چاہیے یا کم از کم وعلیکم السلام تو ہو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے طریقے سے سلام کرنا پسندیدہ نہیں ہے ۔ برصغیر کے لوگ بندگی ، منسکار ، آداب عرض کہتے ہیں یا عرب لوگ انعم صباحا کہتے تھے اسی طرح انگریزی میں (GAAd MArning) وغیرہ کے الفاظ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ یہودی اور منافق لوگ جب آپ کی مجلس میں آکر سلام کرتے ہیں تو ایسے طریقے سے جو اللہ نے سنیں سکھلایا۔
جیسا کہ میں نے عر ض کیا وہ لوگ السلام علیکم کی بجائے السام علیکم کہتے تھے جو کہ نہایت ہی قبیح بات ہے۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ یہ لفظ سن کر برداشت نہ کرسکیں تو جواب میں فرمایا علیکم السام والعنۃ تم پر خدا کی ہلاکت اور لعنت ہو۔
مگر حضور ﷺ نے فرمایا ، عائشہ ؓ ! یوں نہ کہو کہ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ جب وہ ہمارے سامنے ایسی بات کرتے ہیں تو ہم صرف اتنا کہہ دیتے ہیں وعلیکم۔ یعنی جو کچھ بھی تم نے بکواس کی ہے یہ تمہیں پر پڑے۔ مگر یہ بدنیت لوگ ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی ایسی دعا قبول نہیں کریگا۔ بلکہ ہماری دعا قبول ہوگی۔
اللہ نے فرمایا کہ یہ بدبخت اپنی حرکات سے باز آنے کی بجائے ویقولون فی انفسھم لولا یعذبنا اللہ بما نقول وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اگر ہمارا طرز عمل مسلمانوں کے ساتھ اچھا نہیں ہے اور ہم غلط بات کہتے ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا۔ فرمایا یہ سزا دینا تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ جب چاہے گا پکڑلے گا مگر دنیا میں وہ بس اوقات مہلت دیتا رہتا ہے اور آدمی کو راہ راست پر آنے کا موقع دیتا ہے۔ پھر جب وہ باز نہیں آتا تو بعض اوقات دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے مگر آخرت میں حسبھم جھنم ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے یصلونھا جس میں وہ داخل ہوں گے۔ فبئس المصیر اور وہ لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔
صحیح مشورے کا حکم :
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو صحیح مشاورت کی ہدایت کی ہے۔ یایھا الذین امنو اذا تنا جیتم ، اے ایمان والو ! جب تم آپس میں کوئی خفیہ مشورہ کرو فلا تتنا جو بالاثم والعبدوان ومعصیت الرسول تو کوئی ایسا مشورہ نہ کرو جس میں گناہ ، تعدی یا اللہ کے رسول کی مخالفت کا پہلو نکلتا ہو۔ وتناجوبالبر والتقویٰ بلکہ ہمیشہ نیکی اور تقویٰ کا مشورہ کرو ۔ یعنی ایک دوسرے کی خیر خواہی اور مصلحت کی بات کرو۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے۔ والنصخ لکل مسلم ہر مسلمان کے حق میں خیر خواہی کی بات کرو ، کسی شر کی بات نہ کرو۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا۔ اللہ نے فرمایا یہودیوں اور منافقوں کے مشورے میں کوئی اچھی بات نہیں ہوتی الا من…………… ……الناس (النسآء 114) بہتری کی بات تو یہ ہے کہ لوگوں کو صدقہ ، خیرات ، نیکی اور لوگوں کے درمیان اصلاح سے متعلق مشورہ کیا جائے تاکہ ان کے حالات درست ہوجائیں اور ان کے آپس کے اختلافات دور ہوجائیں۔ فرمایا واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون اور اللہ تعالیٰ سے ڈرجائو جس کی طرف تم سب اکٹھے کیے جائو گے اور پھر جزائے عمل کی منزل آئے گی ہمارے اعمال پیش ہونگے اور اللہ تعالیٰ جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔ لہٰذا بس اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کہ کہیں تمہارے حق میں سزا کا فیصلہ نہ ہوجائے۔
شیطانی مشورے : فرمایا جن مشوروں میں گناہ ، زیادتی اور رسول کی مخالفت کی بات ہو۔ انما النجویٰ من الشیطن تو یہ شیطانی مشورے ہوتے ہیں۔ شیطان ہی بری باتوں پر ابھارتا ہے تاکہ شروفساد کا بزار گرم ہو ، ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی ہو۔ اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے لیحزن الذین امنوا تاکہ اہل ایمان کو غم میں ڈالا جائے ، ان کو تکلیف پہنچے۔ اور وہ ایمان سے بد ظن ہوجائیں۔ مگر اللہ نے فرمایا ولیس بضارھم شیئا الا باذن اللہ کہ یہ لوگ اہل ایمان کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو۔ خدا کی مشیت ہوگی تو مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا وگرنہ یہودیوں اور منافقوں کی حیلہ سازیاں ناکام ہوں گی۔ سورة فاطر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ولا یحیق…… ……باھلہ (آیت 43) جو شخص کسی کے بارے میں کوئی بری تدبیر سوچتا ہے ، اللہ تعالیٰ خود اسی کو اس تدبیر میں پھنسا دیتا ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے من حفر بئرا لا خیہ وقع فیہ جو اپنے بھائی کے لئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے۔ غرضیکہ بدنیت کبھی کامیاب نہیں ہوئے ، وہ مسلمانوں کو از خود اس میں گرتا ہے ۔ غرضیکہ بدنیت کبھی کامیاب نہیں ہوئے ، وہ مسلمانوں کو ازخود کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے بشرطیکہ ایماندار صحیح روش پر قائم رہیں۔ اگر خود مسلمان ہی راستے سے بھٹک جائیں تو پھر اللہ کا ن سے کوئی وعدہ نہیں ہے۔ پھر ان کی حالت بھی دوسرے نافرمانوں کی طرح ہو ہوجائے گی۔
خدا پر بھروسہ :
فرمایا نیک نیتی کے ساتھ دین پر قائم رہو ، مخالفین کی ریشہ دوانیوں سے بددل نہ ہو۔ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون ، اور ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ کریں۔ ان کو یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ضرور مدد کرے گا اور بدنیت ، سازشی اور منافق قسم کے لوگ ناکام ونامراد ہوں گے۔
Ayahs 58:11–13ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ کی وسعت علم کا ذکر ہوا ، پھر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان ہوئی۔ یہ لوگ مجلسوں میں تکلیف دہ باتیں کرتے تھے۔ وہ مجلس میں آکر سلام بھی غلط طریقے سے کرتے تھے جس سے مخلص مسلمانوں کی دل آزاری ہو ان کی اس حرکت کو اللہ نے بداخلاقی سے تعبیر کیا کہ وہ سلام کی بجائے سام کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مجلس میں بیٹھ کر سرگوشیاں بھی کرتے تھے۔ اور اہل ایمان کی اذیت کا باعث بنتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مجلس کے بعض آداب سکھائے ہیں۔ دو قسم کے آداب میں سے پہلی قسم عام مومنوں سے متعلق ہے جب کہ دوسری قسم کا ادب پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔
مجلس میں کشادگی :
ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنو اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اذقیل لکم تفسحوا فی المجلس جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو فافسحوا پس تم کشادگی کرو۔ حاضرین کی نسبت اگر بیٹھنے کی جگہ تنگ ہو تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ بیٹھنے والے لوگ ذرا مل کر بیٹھ جائیں تاکہ بعد میں آنے والوں کو بھی بیٹھنے کے لئے کچھ نہ کچھ میسر آجائے۔ فرمایا اگر تم اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے کشادگی پیدا کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ یفسح اللہ لکم کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی پیدا فرمادے گا۔ یہ عام لوگوں کے لئے مجلس کے آداب ہیں کہ کھلے ہو کر نہ بیٹھو بلکہ ضرورت ہو تو مل کر بیٹھ جائو۔ تاکہ دوسروں کے لئے بھی بیٹھنے کی گنجائش نکل سکے اگر بعض لوگ کھلے کھلے باسہولت بیٹھے رہیں گے تو دوسرے لوگ اس مجلس سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ یہ آداب حضور ﷺ کی مجلس کے لئے مزید اہم ہیں تاکہ تمام لوگ رسول خدا کی گفتگو ، ان کی ہدایات اور احکام سے فائدہ اٹھاسکیں۔ اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشادگی پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری تنگی دور کرکے رزق میں وسعت پیدا کردے گا۔ وہ اپنی رحمت اور مہربانی کے دروازے تمہارے لئے کشادہ کردے گا۔ لہٰذا اگر مجلس میں سکڑ کر بیٹھنا پڑے تو اس سے تنگ دل نہ ہو ، اور نہ ہی اس میں کوئی توہین آمیز بات ہے بلکہ اس ذرا سی تکلیف کا اللہ بہت بہتربدلہ عطا فرمائے گا۔
اس کے ساتھ اللہ نے مزید فرمایا واذا قیل انشزوا فانسزوا اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ کر چلے جائو تو چلے جائو۔ اس میں کوئی حیل وحجت نہ کرو۔ ایسا حکم دو وجہ سے ہوسکتا ہے ، ایک یہ کو موضوع گفتگو ختم ہو کر مجلس برخاست کردی جائے ، تو بلاوجہ بیٹھے رہنا درست نہیں۔ لہٰذا اب چلے جائو دوسری وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ مجلس کی جگہ اس قدر تنگ ہے کہ مزید بیٹھنے کی بالکل گنجائش نہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں اگر پہلے بیٹھنے والوں کو کہا جائے کہ اب چلے جائو تاکہ دوسرے لوگ بھی استفادہ کرسکیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حکم کے مطابق اٹھ کھڑے ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا یرفع اللہ الذین امنوا منکم اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان لانے والوں والذین اوتوا اعلم درجت اور علم حاصل کرنے والوں کے درجات بلند فرمائے گا۔ شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ یہ آداب ہیں جو اللہ نے اس آیت میں بیان فرمائے ہیں کہ تھوڑا ہٹیں تاکہ مکان ہلکا کشادہ ہوجائے یا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوں اور پرے چل کر حلقہ کرلیں یا اگر بالکل چلے جانے کے لئے کہا جائے تو چلے جائیں اتنی حرکت میں غرور یا بخل نہ کریں۔ شاہ صاحب (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ خوئے نیک پر اللہ مہربان ہے ، اچھے اخلاق اور اچھی خصلت پر اللہ کی مہربانی شامل حال ہوتی ہے اور خوئے بد سے بیزاری ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس سے بیزار ہوتا ہے۔ یہ مکارم اخلاق میں سے ہے کہ مجلس سے اٹھ جائیں تاکہ دوسروں کو بھی بیٹھنے اور بات سننے کا موقع ملے یا پیچھے سرک جائیں تاکہ جگہ کشادہ ہوجائے اور سارے حاضرین مستفید ہوسکیں ، اور ایسا کرنے میں توہین محسوس نہ کریں۔ حضور ﷺ کی مجلس میں تو ہر شخص قرب کا خواہشمند ہوتا تھا جس کی وجہ سے بعض اوقات جگہ کی تنگی کی شکایت محسوس ہوتی تھی حتیٰ کہ بعض اوقات اکابر صحابہ ؓ کو بھی قریب جگہ نہیں ملتی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نازل فرمائے۔ تاکہ سب کو درجہ بدرجہ استفادہ کا موقع مل سکے اور نظم وضبط بھی قائم رہے۔ ایسے انتظامی معاملات میں صدر مجلس کے احکام کی تعمیل ضروری ہے جہاد یا کسی دیگر اہم معاملہ کے متعلق مجلس قائم ہو تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا سب کو استفادہ کا موقع ملنا چاہیے۔
آداب مجلس :
حضور ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ہر مجلس کی ابتداء اور انتہاء میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجلس برخاست کرتے وقت یوں کہو سبحنک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک ، اے اللہ تیری ذات پاک ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ فرمایا اگر مجلس میں کوئی معصیت والی بات ہوگئی ہوگی تو یہ دعا اس کا کفارہ بن جائے گی۔ آداب مجلس میں یہ بھی شمار ہوتا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آتا ہے تو آکر موجود لوگوں کو سلام کرے۔ اور اگر کوئی آدمی مجلس کو چھوڑ کر جارہا ہے تو بھی سلام کرکے جائے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ابتدائی سلام آخری سلام سے زیادہ اہم نہیں ہے بلکہ دونوں برابر ہیں۔ حضور ﷺ نے راستوں پر بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا حضور ! اگر ضرورت ہو تو سڑک کے کنارے کسی تھڑے پر بیٹھ کر بات چیت کرلیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر کسی راستے پر بیٹھنا واقعی ضروری ہو تو پھر بیٹھ جائو۔ مگر راستے کا حق ادا کرو ، اور راستے کا حق یہ ہے کہ نظریں نیچی رکھو تاکہ کسی غیر محرم پر نگاہ نہ پڑے کوئی بھٹکا ہوا مسافر ملے تو اس کا راستہ دکھائو۔ اگر کوئی معاونت طلب کرتا ہے ، تو اس کی مدد کرو ، اور سلام کرنے والے کو سلام کا جواب دو ۔
غرضیکہ ایمان اور علم صحیح ہمیشہ انسان کو ادب سکھاتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان متواضع ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے ومن تواضع للہ رفعہ اللہ جو شخص اللہ کے لئے عاجزی کرے گا ، اکٹرا اور غرور سے پرہیز کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا۔ متکبر لوگ ہمیشہ جاہل اور اجڈ ہوتے ہیں۔ جن میں کوئی تہذیب اور شائستگی نہیں ہوتی۔ فرمایا واللہ بما تعملون خبیر ، اللہ تعالیٰ تمہارے ہر کام کی خبر رکھنے والا ہے۔ تمہارا ہر صحیح اور غلط عمل اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے جسے وہ جزاء عمل کے وقت ظاہر کردے گا۔ اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرے گا۔
سرگوشی سے پہلے صدقہ کا حکم :
نبی (علیہ السلام) کی مجلس میں بعض اوقات بڑے دولتمند اور سردار قسم کے لوگ بھی حاضر ہوتے تھے اور وہ آپ سے بات چیت میں علیحدگی اور زیادہ وقت بھی چاہتے تھے ، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ کوئی خاص کام تو ان کو ہوتا نہیں تھا محض اپنی بڑی حیثیت کو منوانے کے لئے زیادہ وقت لے لیتے۔ لہٰذا اللہ نے یہ ادب بھی سکھایا ہے۔ یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! اذاناجیتم الرسول ، جب تم اللہ کے رسول کے ساتھ سرگوشی کرنے کا ارادہ کرو ، کوئی اہم بات علیحدگی میں کرنا چاہو۔ فقدموابین یدی نجوکم صدقۃ ، تو اس گفتگو سے پہلے صدقہ دے لیا کرو ، تاکہ غربا اور مساکین کا بھی بھلا ہوجائے۔
فرمایا ذلک خیرلکم واطھر ایسا نہ کرنا تمہارے لئے بہتر بھی ہے اور پاکیزہ بھی۔ اس سے تمہیں بہت سے فوائد حاصل ہوں گے فان لم تجدوا ، اور اگر صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز نہ پائو۔ فان اللہ غفور رحیم ، پس بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور ازحد مہربان ہے۔ اس حکم کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ منافق لوگ اپنی کنجوسی کی وجہ سے حضور ﷺ کا وقت ضائع کرنے سے باز آگئے کیونکہ وہ بات چیت کرنے سے پہلے صدقہ کرنے پابند ہوگئے۔ چونکہ وہ خرچ کرنے سے گریز کرتے تھے۔ لہٰذا حضور ﷺ سے سرگوشی کرنے سے بھی باز آگئے۔ اب صرف وہی لوگ صدقہ دے کر حضور سے سرگوشی کرنے لگے جنہیں واقعی کسی اہم معاملہ کے متعلق گفتگو کرنا ہوتی۔ مدینے کے سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے اور انہیں یہ بھی علم تھا کہ کون آدمی صاحب مال ہے اور صدقہ ادا کرسکتا ہے۔ اگر ایسا کوئی آدمی بغیر صدقہ کے سرگوشی کرنے کی کوشش کرتا تو لوگوں کی نظروں میں آجاتا اور اس طرح اسے خفت اٹھانا پڑتی۔
اس حکم کی منسوخی :
آیت زیردرس کے ذریعے اللہ نے سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کو واجب قرار دیا تھا ، البتہ نادار لوگ اس سے مستثنیٰ تھے۔ اس ضمن میں حضرت علی ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اس صدقہ کی مقدار کیا ہونی چاہیے ، اور کیا ایک دینار کافی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ تو بہت زیادہ ہے کم کرو۔ حضرت علی ؓ نے نصف دینار تجویز کیا۔ آپ نے فرمایا یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر حضرت علی ؓ نے ایک حبہ کا ذکر کیا تو حضور نے فرمایا کہ میں نے اس آیت پر خود عمل کیا یعنی حضور ﷺ کے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ ادا کیا۔ لیکن بعد میں صدقہ کا یہ حکم منسوخ ہوگیا ۔ اللہ نے فرمایاء اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجوکم صدقت کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ اپنی سرگوشیوں سے پہلے صدقہ ادا کرو ؟ فاذلم تفعلو پھر اگر تم یہ کام نہیں کرسکے یعنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نہیں دیا وتاب اللہ علیکم ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے تمہاری طرف رکوع کیا ہے۔ اب صدقہ کی ادائیگی کی شرط منسوخ کردی گئی ہے۔ اب ایسا کرنا ضروری نہیں رہا۔ البتہ اگر تم از خود استجاب کے طور پر صدقہ دینا چاہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس میں تمہارے لئے بہتری اور پاکیزگی ہے۔ وہ حدیث میں آتا ہے ان الصدقۃ تطفی غضب الرب ، صدقہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو دور کرتا ہے اور برائیوں کو مٹاتا ہے۔ اس سے بخل دور ہو کر انسانی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر صدقہ دینا چاہو۔ تو یہ اچھی بات ہے وگرنہ ضروری نہیں رہا۔
نماز اور زکوٰۃ :
پھر فرمایا فاقیموالصلوٰۃ ، ہر حالت میں نماز کو قائم رکھو واتوا الزکوٰۃ اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ مال جب نصاب کو پہنچ جائے تو اس پر سال میں ایک دفعہ زکوٰۃ ادا کرو۔ نماز کے ذریعے انسان کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست ہوتے ہیں۔ جب کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے مخلوق خدا سے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے اور ان سے تعلقات استوار ہوتے ہیں دوسرے الفاظ میں نماز اللہ کا حق ہے تو زکوٰۃ بندوں کا حق ہے۔ اسی لئے قرآن میں نماز اور زکوٰۃ کا اکثر اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ نے نماز کو جسمانی عبادت بنایا ہے جب کہ زکوٰۃ کو مالی عبادت میں داخل کیا ہے۔ یہ دونوں اعمال جماعت المسلمین کی علامت ہیں۔ انہی دو چیزوں کی وجہ انسان جماعت کے رکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے ۔ اگر کسی شخص میں یہ علامات نہ پائی جائیں تو اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔
پھر فرمایا واطیعو اللہ ورسولہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو وہ جس کام کا حکم دیں اسے کر گزرو ، اور جس سے منع کریں اس سے رک جائو۔ گویا اللہ نے یہاں پر چار باتوں کا حکم دیا ہے یعنی نماز ، زکوٰۃ ، اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت ، انہی چیزوں پر انسان کی کامیابی کا دارومدار ہے لہٰذا ان کو ہمیشہ پیش نظر رکھو۔ واللہ خبیر بما تعملون اللہ تعالیٰ نے تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ وہ تمہاری نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے۔ تمہاری ہر حرکت اور سکون اللہ کی نگاہ میں ہے ، لہٰذا اس کے احکام کی کبھی خلاف ورزی نہ کرو ۔ وہ تمہارے تمام اچھے اور برے اعمال کا جزائے عمل کے وقت ظاہر کردے گا۔ اور پھر انہی کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ کرے گا۔