Ayahs 58:14–21یہودی اور عمل واعتقادی منافق :
گزشتہ درس میں آداب مجلس کے سلسلے میں یہودیوں اور منافقین کی ایذاء رسانی کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے ان کی بعض بری خصلتوں کا ذکر کے ان کی مذمت بیان ……فرمائی ہے ، مدنی زندگی میں آکر اہل ایمان کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا۔ یہ اعتقادی منافق تھے جو کہ کافروں بد ترین قسم ہے اللہ نے ان کے متعلق سورة النساء میں فرمایا ہے ان المنفقین……………(آیت 145) بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے اور خطرناک گڑھے میں ہوں گے۔ یہ لوگ بظاہر اسلام کا کلمہ بھی پڑھتے تھے اور ظاہری طور پر تعمیل احکام بھی کرتے تھے مگر ان کے دل پہلے کی طرح کفر سے لبریز تھے۔ ان بدبختوں کی پہچان مشکل تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے ان کے نفاق کا پردہ چاک کردیتے تھے بعض اوقات ان کی حرکات سے بھی کسی حد تک ان کی خباثت کا پتہ چل جاتا تھا کہ یہ دشمنان اسلام ہیں۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں اور دین اسلام کا نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ان کا سرغنہ عبداللہ بن ابی تھا۔ جب کہ اس کا بیٹا مخلص مسلمان تھا۔ یہ لوگ مدینہ اور گردونواح کی بستیوں میں آباد تھے۔ یہودی کم وبیش ایک ہزار سال سے مدینہ کے اطراف میں رہائش پذیر تھے ، عربی زبان بولتے تھے مگر اپنی مذہبی رسومات باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ تورات کے عالم تھے عالم پڑھنا لکھنا بھی جانتے تھے اس لئے صاحب علم کہلاتے تھے۔
اس کے برخلاف عربوں کی 98 فیصد آبادی ان پڑھ تھی جو کہ امی کہلاتے تھے اور تمام باتیں زبانی یاد رکھتے تھے۔ اس میں بھی اللہ کی حکمت تھی۔ اس نے اپنا آخری نبی انہی امیوں میں مبعوث فرمایا جس نے علم وعرفان کے وہ خزانے بکھیرے جس نے ساری متمدن اور تعلیم یافتہ قوموں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ بہرحال اللہ نے قرآن پاک میں منافقوں سے بچنے کی بار بار تلقین کی ہے۔ کافروں کی دشمنی تو کھلے عام تھی اور ان سے دفاع بھی کیا جاسکتا تھا مگر منافق لوگ مار آیتیں ثابت ہو رہے تھے جو اپنی سازشوں اور غلط پراپیگنڈا کے زور پر مسلمانوں میں بددلی پیدا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں ان کا پردہ چاک کرکے ان کو بڑی رسوائی کی ہے ان کا ذکر سورة البقرہ ، سورة آل عمران ، سورة النسآء اور سورة مائدہ میں بھی آیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مستقل سورة انہی کے نام پر سورة المنفقون بھی قرآن میں موجود ہے۔ غرضیکہ مدنی سورتوں میں منافقوں کا بکثرت ذکر آیا ہے۔
یہ تو اعتقادی منافقوں کا ذکر تھا حضور ﷺ نے عملی منافقوں کی کچھ نشانیاں بھی بتائی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اذاحدث کذب جب بات کرنا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اذا وعداخلف ، جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرنا ہے۔ اذائتمن خان ، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے اور جب کسی سے جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ جس فرد یا قوم کے قول اور فعل میں تضاد ہو وہ بھی عملی منافق ہے اور ایسے منافقوں سے ساری دنیا بھری پڑی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی وحدانیت ، رسالت ، قرآن اور معاد پر یقین تو رکھتے ہیں مگر عمل درست نہیں ہیں۔ یہی عملی منافق ہیں جن کو اخلاقی منافق بھی کہا جاتا ہے۔
یہودومنافقین کی اسلام دشمنی :
یہاں پر اللہ نے اعتقادی منافقوں کے متعلق فرمایا ہے الم ترالی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیھم ، کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا۔ جنہوں نے ان لوگوں سے دوستانہ کررکھا ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا۔ مغضوب علیہ قوم سے مراد یہودی ہیں جن کے ساتھ منافقوں کا دوستانہ تھا۔ اور یہ وہلوگ ہیں کہ جن کی بار بار نافرمانیوں کی بناء پر اللہ نے فرمایا وباء و بغضب من اللہ (البقرہ 61) کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے غضب لے کر لوٹے۔ ان کی ہاں نبی بھی آتے رہے جو ان کو راہ راست پر لانے کی پوری پوری کوشش کرتے رہے۔ مگر یہ بدبخت اس قدر بگڑچکے تھے کہ ان کی اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تھی اس قوم کے چار ہزار سے زائد انبیاء میں سے آخری نبی عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں مگر آپ کے بدترین دشمن یہی یہودی تھے۔ انہوں نے مشرک رومیوں کی عدالت میں آپ خلاف مقدمہ چلا کر آپ کو سزائے موت دلوانے کی سعی نامشکور کی تھی۔ کہتے تھے کہ اس شخص نے ہمارا دین بگاڑ دیا ہے۔ یہی لوگ حضور ﷺ کی مخالفت میں بھی پیش پیش تھے۔ مشرک تو سر زمین عرب سے ختم ہوگئے۔ مگر ان کی عداوت ختم نہ ہوئی جو آج تک قائم چلی آرہی ہے۔ دنیا بھر کی خبررساں ایجنسیوں پر یہودیوں کا قبضہ ہے یہ لوگ اپنے مقصد کی خبریں شائع کرتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کو بحیثیت مجموعی نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ مغضوب اور معلون لوگ ہیں۔ ان کے بڑے خاندان بنو قینقاع ، بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے جن میں سیاول الذکر دو تو جلاوطن کردیے گئے۔ بنو قریظہ نے غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف سازش کی تو ان کے سارے مرد قتل کردیے گئے اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا گیا۔ خیبر کے یہودی بھی مغلوب ہوگئے ، انہوں نے جزیہ دینا قبول کرلیا ، مگر حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق یہ لوگ پھر بھی ناقابل اعتبار تھے لہٰذا حضرت عمر ؓ کے زمانے میں انہیں ملک بدر کردیا گیا۔ بہرحال یہ مغضوب علیہ قوم ہے۔
منافقوں کی جھوٹی قسمیں :
فرمایا گیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے مغضوب علیہ قوم سے دوستانہ کیا۔ یہ منافق لوگ ماھم منکم ولا منھم نہ تو تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے۔ مطلب یہ کہ نہ تو یہ پکے یہودی ہیں اگرچہ ان کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں اور نہ یہ مسلمان ہیں حالانکہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں۔ فرمایا یہ بھی سازش کی کامیابی کے لئے و یحلفون علی الکذب جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ مسلمانوں کو جھوٹی قسموں کے ذریعے یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں وھم یعلمون حالانکہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ منافق جھوٹی قسمیں کھانے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ مسند احمد ، مستدرک حاکم کی روایت میں ہے۔ کہ حضور ﷺ کسی مجلس میں تشریففرما تھے۔ آپ نے وحی الٰہی کے خبر دینے پر حاضرین مجلس کو بتایا کہ ابھی تمہارے پاس نیلگوں آنکھوں والا شخص آئے گا۔ جو شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ، لہٰذا تم اس سے کوئی بات نہ کرنا۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص آگیا۔ حضور ﷺ نے اس شخص سے فرمایا کہ تم اور تمہارے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو۔ وہ شخص قسمیں اٹھانے لگا۔ کہ اس نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔ پھر وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی بلا لایا۔ اور انہوں نے بھی جھوٹی قسمیں اٹھائیں کہ ہم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ حالانکہ وہ حقیقت کو جانتے ہیں۔
سورۃ المنفقون میں اللہ نے فرمایا کہ ان کی قسمیں جھوٹی اور ناقابل اعتبار ہیں۔ یہ لوگ زبان سے تو کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں مگر دل سے آپ کو سچا رسول نہیں مانتے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا اعداللہ لھم عذابا شدیدا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کررکھا ہے کیونکہ انھم سآء ماکانوا یعملون ، ان کی کارگزاری بہت ہی بری ہے۔ اتخذوا ایمانھم جنۃ انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے دفاع کے لئے ڈھال بنارکھا ہے ۔ قسمیں اٹھا کر مسلمانوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلانا چاہیے ہیں فصدوا عن سبیل اللہ پس انہوں نے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی سازشوں ، جھوٹ اور فریب کاری کا مقصدیہ ہوتا ہے کہ کسی طرح مسلمان دین اسلام سے بدظن ہوجائیں۔ ایسے لوگوں کے انجام کے متعلق فرمایا فلھم عذاب مھین کہ ان کے لئے ذلت ناک عذاب ہے۔ ان کی رسوائی کے متعلق سورة توبہ میں بھی انھم……………… …اومدتین (آیت 126) کہ ان کو ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمایا جاتا ہے ، ان کی منافقت ظاہر ہوتی ہے مگر یہ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ شرم سے عاری یہ لوگ اپنی سازشوں کا جال پھر بھی پھیلاتے رہتے ہیں۔
فرمایا لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا ، ان کے مال اور ان کی اولادیں اللہ تعالیٰ کے روبرو کچھ بھی کام نہیں آئیں گے۔ مال و دولت ، خویش ، قبیلہ ، برادری ، بیٹے ، بھائی وغیرہ تو اس دنیا میں کسی حد تک کام آجاتے ہیں جب کہ اللہ کی مشیت ہو مگر آخرت میں تو ان میں سے کوئی بھی چیز مفید نہیں ہوگی۔ جو لوگ اس دنیا میں منافقت پر کاربند رہے وہ اللہ کے ہاں کبھی سرخروہ نہیں ہوسکتے بلکہ اولئک اصحب النار یہ تو دوزخ کی آگ میں جانے والے ہیں ھم فھا خلدون جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی بھی وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے۔ فرمایا ان کی جھوٹی قسمیں اس دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کی بدبختی کی انتہا یہ ہے کہ یو م یبعثھم اللہ جمعیاً جس دن اللہ ان سب کو دوبارہ اٹھائیگا۔ حساب کتاب کے لئے اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ فیحلفون لہ کما یحلفون لکم ، تو وہاں بھی جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے جس طرح آج تمہارے سامنے اٹھا رہے ہیں۔ ان کی فطرت ہی بگڑی ہوئی ہے ویحسبون انھم علی شیء یہ خیال کرتے ہیں ، کہ کسی راہ پر ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اصل راستے سے بھٹک چکے ہیں۔ اور کبھی بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ، ہر شخص کی نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے۔ مگر منافق اس کے ہاں بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئیں گے۔ اللہ نے فرمایا الا انھم ھم الکذبون ، آگاہ رہو کہ یہ لوگ سرتاپا جھوٹی ہیں۔
شیطان کا غلبہ :
اللہ نے یہ بھی فرمایا استحوذ علیھم الشیطن ، ان پر شیطان نے قابو پالیا فانسھم ذکر اللہ ، پس انہیں اللہ کی یاد فراموش کرادی ہے۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے بالکل منہ موڑ چکے ہیں۔ اور کبھی بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ، ہر شخص کی نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے۔ مگر منافق اس کے ہاں بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئیں گے۔ اللہ نے فرمایا الا نھم ھم الکذبون ، آگاہ رہو کہ یہ لوگ سرتاپا جھوٹے ہیں۔
شیطان کا غلبہ :
اللہ نے یہ بھی فرمایا استحوذ علیھم الشیطان ، ان پر شیطان نے قابو پالیا ہے فانسھم ذکر اللہ ، پس انہیں اللہ کی یاد فراموش کرا دی ہے۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے بالکل منہ موڑ چکے ہیں۔ سورة النساء میں ہے ولا یذکرون اللہ الا قلیلا (آیت 142) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔ جو بھی کام کرتے ہیں۔ اپنے بچائو کے لئے ، نماز پڑھتے ہیں تو مسلمانوں کو دکھانے کے لئے وگرنہ اللہ کو یاد کرنا ان کا مقصود نہیں ہوتا ۔ غرضیکہ فرمایا کہ شیطان نے ان پر غلبہ حاصل کرلیا ہے جس نے ان سے اللہ کے ذکر کو فراموش کرادیا ہے ، گویا کہ صحیح معنوں میں یہ خدا تعالیٰ کو یادہی نہیں کرتے۔
ابودائود شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان ہے مامن ثلثۃ فی قریۃ ولا بدو کسی بستی یا دیہات میں اگر تین مسلمان آدمی بھی موجود ہوں تو وہ نماز باجماعت نہ ادا کریں الا استحوذ علیھم الشیطن ، تو شیطان ان پر قابو پالیتا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جماعت کو اپنے اوپر لازم پکڑو کیونکہ انما یا کل الذنب القاصیۃ ، بھیڑیا اس بھیڑ کو کھاجاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوجائے۔ چناچہ جو بھی شخص جماعت سے الگ ہوگا۔ اس پر شیطان قابو پالے گا۔ جماعت بڑی بابرکت چیز ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ شیطان انفرادی طور پر بھی غلبہ پالیتا ہے اور اجتماعی طور پر بھی رب اقلیم غلبت علیہ طاعۃ الشیطن بہت سے ممالک ایسے ہوتے ہیں جن پر بحیثیت مجموعی شیطان کی اطاعت غالب ہوتی ہے۔ ایسے لوگ سزا کے مستحق ہوتے ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ فوری گرفت نہیں کرتا ، بلکہ ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دیتا ہے اور اس کے بعد پکڑ لیتا ہے۔
انصاف سے دیکھا جائے تو آج اسلامی ممالک پر بھی شیطان غالب ہے ہر جگہ اسی کی اطاعت ہورہی ہے کیونکہ دین اور شریعت کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ سب شیطان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اسی کے بتائے ہوئے کھیل تماشے موسیقی ، شوروشر ، عیاشی ، فحاشی وغیرہ میں ہی مگن ہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا یادرکھو ! اولئک حزب الشیطن یہی شیطانی گروہ ہے الا ان حزب الشیطن ھم الخسرون۔ خبردار ! شیطانی گروہ کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ یہ دنیا میں تو جیسا کیسا وقت گزار لیں گے مگر آخرت میں خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔
اللہ اور رسول کے مخالفین :
فرمایا یادرکھو ! ان الذین یحآدون اللہ ورسولہ ، جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اولئک فی الاذلین یہی لوگ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ان کو اللہ کے ہاں کبھی عزت نصیب نہیں ہوگی۔ اللہ نے فیصلہ فرمادیا ہے کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ، اس کے ہاں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ دنیا میں رسولوں کو آزمائش میں ضرور ڈالا جاتا ہے۔ ان کو تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں ان کے پیروکار بھی مصائب جھیلتے ہیں مگر اچھا انجام رسولوں اور ان کے پیروکاروں کا ہی ہوتا ہے اور مخالفوں کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ دنیا میں بڑی بڑی آزمائشیں آتی ہیں اور بسا اوقات جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ لیکن ، غلبہ ، استحکام اور کامیابی اللہ کے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کے حصے میں ہی آئے گی۔ فرمایا ان اللہ قوی عزیز بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ وہ کمال قدرت کا مالک ہے۔ اس کے سامنے کوئی حیلہ سازی نہیں چل سکتی اور نہ ہی اس کی تدبیر میں کوئی مداخلت کرسکتا ہے ، وہ ہر چیز پر غالب ہے۔ مجرموں کو جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بڑی قوت کا مالک ہے اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
Ayah 58:22ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مغضوب علیہ قوم یعنی یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں مگر مسلمانوں کے سامنے اپنے خلوص کا اظہار کے لئے جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطان کے گروہ میں شمار کیا ہے اور یہ گروہ یقینا نقصان اٹھانے والا ہے پھر اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل لوگ ہیں مگر بالانتہا غلبہ اہل ایمان کو ہی حاصل ہوگا کیونکہ ساری عزت اور قوت اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہ اپنے بندوں کی ضرور مدد کرے گا۔ اس کے بعد اللہ نے سچے اور مخلص مومنوں کے اوصاف اور ان کا مرتبہ بھی بیان فرمایا کہ یہ لوگ حزب اللہ یعنی اللہ کا گروہ ہیں۔
اہل ایمان کی دوستی :
اب آج کے درس میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اہل ایمان کی دوستی کن لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے اور کن کے ساتھ نہیں ہوتی۔ ارشاد ہوتا ہے لا تجدقوما یومنون باللہ والیوم الاخر ، آپ ایسے لوگوں کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور آخرت یعنی قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں یوادون من حاد اللہ ورسولہ کہ وہ دوستی رکھتے ہوں ان لوگوں سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے۔ دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستی رکھنا ایمان کے تقاضے کے خلاف بات ہے۔ اور یہ کسی صورت میں بھی روا نہیں ولوا کانوا ابآء ھم اوابنآء ھم اواخوانھم او عشیرتھم ، اگرچہ مخالفین اسلام اہل ایمان کے باپ ہوں ، بیٹے ہوں ، بھائی ہوں یابرادری اور خاندان کے لوگ ہوں۔ یہ مقام حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کو حاصل تھا اور وہ اس آیت کے مکمل مصداق تھے وگرنہ آج کے دور میں تو معاملہ بالکل ہی الٹ ہوچکا ہے ، آج اپنوں سے دشمنی اور غیروں سے دوستی ہے۔ مگر جو صحیح ایمان والا آدمی ہے وہ کبھی اغیار سے دوستی نہیں کرسکتا کیونکہ اولئک کتب فی قلوبھم الا ایمان یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے یعنی پختہ کردیا ہے اور وہ اپنے قریب ترین عزیروں کو بھی اسلام اور ایمان کے مقابلے میں ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی رو رعایت کرسکتے ہیں اس سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال ہمارے سامنے ہے آپ کا سگا باپ ہے مگر فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبرا منہ (التوبۃ 114) جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ دشمن خدا ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اعلان کردیا ان کی اسی ایمان کی پختگی کی بدولت اللہ نے آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کو اسی امت کے لئے نمونہ قرار دیا ہے جیسے فرمایا قد کانت…………………معہ (الممتحنہ 4) انہوں نے مخالفین سے صاف کہہ دیا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی دوستانہ تعلقات قائم نہیں ہوسکتے جب تک کہ درمیان میں کفر وشرک کی دیوار کھڑی ہے غرضیکہ اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا ہے۔
روح القدس سے تائید :
فرمایا جو ایماندار اللہ اور اس کے رسول کے مخالفین سے دوستی نہیں رکھتے وایدھم بروج منہ اللہ نے ان کو اپنی طرف سے خاص روح کے ساتھ تائید فرمائی ہے۔ روح سے مراد نور ایمان بھی ہوسکتا ہے اور نور معرفت بھی اس سے نور قرآن بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ان چیزوں سے اپنے ایماندار بندوں کی تائید فرمائی ہے۔ اس کے علاوہ روح سے مراد روح القدس یعنی جبرائیل (علیہ السلام) بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ ہم نے آپ کو واضح نشانیاں دیں وایدنہ بروح القدوس (البقرہ 253) اور آپ کو روح القدس سے تائید فرمائی۔ حضور ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا تھا کہ تم اپنے اشعار کے ذریعے مشرکوں اور کافروں کو جواب دو ، روح القدس کی تائید تمہارے ساتھ ہوگی۔ غرضیکہ اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں خاص قسم کی معنوی حیات رکھ دی ہے یا وہ ایسے لوگوں کی روح القدس سے تائید فرماتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔
صحابہ کرام ؓ کا عمل :
شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ سچے ایمان والے اللہ اور اس کے رسول کے مخالفوں سے کبھی دوستی نہیں رکھتے اگرچہ وہ ان کے باپ ہی کیوں نہ ہوں حضور ﷺ کے صحابہ ؓ اس کے عملی تصویر تھے۔ وہ ایمان کے مقابلے میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ تمہارے دوست اللہ ، اس کا رسول اور سچے ایماندار ہیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ لین دین ، تجارت اور دیگر معاملات تو ہوسکتے ہیں مگر دوستی نہیں ہوسکتی ۔ دوستی میں گہر ا تعلق اور رازداری ہوتی ہے۔ انسان کو دوسرے کے ساتھ دلی محبت ہوتی ہے ، لہٰذا یہ نہیں ہوسکتی۔ اس ضمن میں صحابہ اکرام ؓ کا عمل ہمارے سامنے موجود ہے۔ جو تاریخ ، تفسیر اور حدیث سے ثابت ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے والد ابو قحافہ اگرچہ سر پسند نہیں تھے مگر مشرک تھے۔ وہ بڑی دیر کے بعد فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے۔ امام قرطبی (رح) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو قحافہ نے حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے حضور ﷺ کو گالی دی تو آپ نے اپنے باپ کو اس قدر زور کا تھپڑ مارا کہ وہ بےہوش ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ پھر آپ نے حضور ﷺ کے سامنے یہ واقعہ بیان کرکے فرمایا کہ حضور ! میں آپ کی شان میں گستاخی برداشت نہ کرسکا ، لہٰذا اپنے باپ کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا۔
رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا بیٹا عبداللہ ؓ مخلص مسلمان تھا۔ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ کسی دوسرے شخص نے حضور ﷺ کو پانی پلایا تو آپ نے برتن کا سارا پانی نوش فرمالیا۔ عبداللہ ؓ نے عرض کیا حضور ! اگر تھوڑا سا پانی بچ جاتا تو یہ پس خوردہ میں اپنے باپ کو پلاتا۔ شاید اللہ تعالیٰ اس پانی کی برکت سے اس کو ہدایت دے دے۔ حضور ﷺ نے دوباہ پانی پیا تو اس کا کچھ حصہ عبداللہ ؓ کو دے دیا۔ تاکہ اپنے باپ کو پلاسکے۔ عبداللہ ؓ نے وہ پانی اپنے باپ رئیس المنافقین کو پیش کیا تو وہ کہنے لگا کہ اگر تو اس پانی کی بجائے اپنی ماں کا پیشاب لے آتا تو وہ بہتر تھا (نعوذ باللہ من ذلک) عبداللہ ؓ کو بڑا غصہ آیا ، حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور ! اجازت دیں تو میں اپنے باپ کا سرقلم کردوں مگر آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمادیا کہ اس طرح تو اہل ایمان کی بدنامی ہوگی کہ وہ اپنے باپ کا سرکاٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور یہ چیز اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی طرح ایک دفعہ یہ دونوں بات بیٹا کسی سفر سے واپس آرہے تھے۔ مدینے کے قریب پہنچے تو بات نے کہا کہ ہم واپس پہنچ کر ان ذلیل مسلمانوں کو شہر سے نکال باہر کریں گے تب ہمارا دل مطمئن ہوگا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے کہا کیا تم سب کو ذلیل کہہ رہے ہو ، ان میں تو رسول اللہ ﷺ بھی ہیں۔ پھر آپ نے تلوار سونت لی اور باپ سے کہا کہ میں تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دونگا جب تک تم اپنے الفاظ واپس نہیں لیتے اور اہل ایمان کے عزت والے ہونے کا اقرار نہیں کرتے ، چناچہ عبداللہ بن ابی نے اقرار کیا کہ رسول اللہ ﷺ تو باعزت ہیں اور ہم ہی ذلیل ہیں۔ اس کے بعد بیٹے نے باپ کو شہر میں داخل کی اجازت دی۔
حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں۔ آپ کے والد کافر تھے اور غزوہ احد میں انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے باپ کو قتل کیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بیٹے نے اسلام لانے کے بعد خود بیان کیا کہ ابا جان ! جنگ کے دوران کئی دفعہ آپ میری تلوار کی زد میں آئے مگر باپ ہونے کے ناطے میں نے آپ پر وار نہ کیا۔ اس کے جواب میں حضرت صدیق ؓ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر تم میری تلوار کی زد میں آجاتے تو کبھی نہ چھوڑتا۔ اس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہیں۔ مثلاً حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اپنے حقیقی بھائی عبید بن عمیر کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ حضرت عمر ابن الخطاب ؓ نے اپنے حقیقی ماموں عاص ابن ہشام کو قتل کیا۔ اسی طرح حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عبیدہ ابن الحارث ؓ نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ ، شیبہ اور ولید وغیرہ کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا۔
مسلم شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا اپنی بیویوں سے ایلا کرنے کا واقعہ مذکور ہے ، جب بیویوں نے زیادہ خرچے کا مطالبہ کیا تو آپ ناراض ہوگئے اور قسم اٹھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے قریب نہیں جائوں گا۔ آپ نے ایک چوبارے میں علیحدگی اختیار کرلی جس سے مسلمانوں کو شخت پریشانی لاحق ہوگئی۔ حضرت عمر ؓ سے آپ کی جدائی برداشت نہ ہوسکی اس لے دردولت پر حاضر ہو کر ملاقات کی اجازت چاہی مگر حضور ﷺ نے اجازت نہ دی۔ آپ نے دوسری دفعہ کوشش کی مگر پھر بھی اجازت نہ ملی۔ تیسری دفعہ آپ نے بلند آواز سے حضور ﷺ کو سنا کر کے عرض کیا کہ حضور ! میں اپنی بیٹی حفصہ ؓ کی سفارش کے لئے تو حاضر نہیں ہوا جو آت مجھے شرف ملاقات سے محروم کر رہے ہیں۔ اللہ کی قسم اگر آپ حکم دیں تو میں لاصربن عنقھا اس کی گردن اتار کر آپ کے سامنے پیش کردوں۔ غرضیکہ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کا ایمان اس قدرپختہ تھا کہ اللہ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود جو لوگ ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں اور ان کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں وہ یقینا منافق ، زندیق اور کافر ہیں۔ یہ تو صحابہ ؓ کی شان ہے ، عام ایمان والوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ نافرمانوں فاسقوں اور بدعتیوں کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے کیونکہ اس سے ایمان میں زوال آنے کا خطرہ ہے۔
بدعتی سے تعلقات :
صاحب روح المعانی نے پہلے زمانے کے اولیاء اللہ میں سے حضرت سہل بن عبداللہ قشتری کا قول نقل کیا ہے من صحح ایمانہ واخلص توحیدہ لا یانس الی مبتدع ولا یجالسہ جس شخص نے اپنا ایمان صحیح کرلیا اور اپنی توحید کو خالص بنالیا۔ وہ کسی بدعتی آدمی کے ساتھ مانوس نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی ہم نشینی اختیار کرسکتا ہے ولا یوا کلہ ولا یشاربہ ولا یصاحبہ ، نہ وہ اس کے ساتھ کھا پی سکتا ہے اور نہ اس کی رفاقت اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے دل میں تو بدعتی کے خلاف نفرت ہی ہوگی۔ اور جس شخص نے مداہنت اختیار کی یعنی بدعتی کے ساتھ ڈھیلا پڑگیا تو اللہ تعالیٰ اس سے یقین کی حلاوت کو چھین لے گا۔ اور جو شخص کسی بدعتی سے دنیا کی عزت یا سامان کے حصول کے لئے دوستی کریگا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو ذلل کر دے گا۔ فرمایا جو شخص کسی بدعتی سے خوش طبعی کرے گا اس کے دل سے خدا تعالیٰ نور ایمان چھین لے گا۔ فرماتے ہیں جس کو اس بات کا یقین نہ ہو۔ وہ تجربہ کرکے دیکھ لے۔
اب اس دور میں دیکھ لیں کہ کیا کچھ ہورہا ہے۔ ایمان اور سچے عقیدے والے لوگ موجود نہیں۔ دنیا عملی منافقوں سے بھری ہوئی ہے ۔ قول وفعل میں تضاد ہے اور انہیں ایمان کو حفاظت کی کچھ فکر نہیں۔ وہ تو اپنی رسوم پوری کرنا چاہتے ہیں انہیں اغیار کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کوئی باک نہیں۔ ان کے ساتھ رشتے ناطے ہو رہے ہیں۔ دوستی پالی جارہی ہے اور بدعات اور رسومات باطلہ انجام دی جارہی ہیں۔ یہ سب زوال کی نشانیاں ہیں۔ ادھر اللہ نے اہل ایمان کا یہ حال بیان کیا ہے کہ وہ کسی دشمن خدا سے دوستی نہیں کرتے۔ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو مستحکم کردیا ہے اور ان کو روح القدس کے ساتھ تائید بخشی ہے۔
حزب اللہ کی کامیابی :
اللہ نے اہل ایمان کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر کہ وہ انہیں ایسے بہشتوں میں داخل کرے گا۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی خلدین فیھا ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے ؓ ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا ورضواعنہ اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے کیونکہ اللہ نے انہیں دنیا میں اپنی رضا کے کام کرنے کی توفیق بخشی اور پھر آخرت میں اس کی جزا بھی عطا فرمائی۔ فرمایا اولئک حزب اللہ یہ اللہ کا گروہ ہے الا ان حزب اللہ ھم المفلحون ، آگاہ رہو کہ اللہ کا گروہ ہی کامیابی سے ہم کنار ہونے والا ہے ہوسکتا ہے کہ دنیا کی زندگی کے دوران کبھی انہیں آزمائش بھی آئی ہو۔ اور کبھی ان پر کمزوری بھی آئی ہو مگر والعاقبۃ للمتقین اچھا انجام ہمیشہ متقیوں کا ہی ہوتا ہے لہٰذا آخرت میں یہی گروہ کامیاب ہوگا۔