57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 57:1–6

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

تسبیح بیان کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے جو بھی چیز ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ اور وہ زبردست اور حکمتوں والا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ، وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی ہے سب سے پہلے اور وہی ہے سب سے آخر میں۔ وہی ہے ظاہر اور باطن ، اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں۔ پھر قائم ہوا وہ عرش پر۔ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہی زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے ، اور جو اترتی ہے آسمان سے اور جو چڑھتی ہے اس میں۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ کام تم کرتے ہو اس کو دیکھنے والا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب کام

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں ، اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں ، اور وہ جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحدید ہے جو اس کی آیت 25 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ حدیدلو ہے کہ کہتے ہیں ، اور اس سورة میں دیگر مضامین کے علاوہ لوہے کی افادیت اور اس کی ضرورت کا ذکر آرہا ہے۔ سورة ق ٓ سے لے کر گذشتہ سورة واقعہ کت مکی سورتیں تھیں۔ جب کہ یہ سورة اور اس کے بعد والی دو مزید سورتیں مدنی ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ سورة سوۃ زلزال کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی انتیس آیات اور چار رکوع میں اور یہ سورة 544 الفاظ اور 2473 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سابقہ مکی سورتوں کی طرح اس مدنی سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد توحید اور اس کے دلائل ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہے رسالت کے سلسلے میں اللہ نے خاص طور پر حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے۔ مدنی سورة ہونے کے ناطے اس میں بعض احکام بھی بیان ہوئے ہیں۔ خاص طور پر جہاد کی فضیلت اور اس کے لئے مال خرچ کرنے کا بیان ہے۔ جس طرحجہاد میں جان کی قربانی پیش کرنا ضروری ہوتا ہے ، اسی طرح اس سلسلہ میں انفاق فی سبیل اللہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سورة کا سابقہ سورة الواقعہ کے ساتھ ربط اس طرح ہے کہ سابقہ سورة کے آخر میں حکم تھا فسبح باسم ربک العظیم ، یعنی اپنی عظمتوں والے پروردگار کی تسبیح بیان کریں۔ اور اس سورة کی ابتداء میں فرمایا ہے سبح للہ مافی السموت والارض ، یعنی آسمانوں و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتنزیہہ : ہرایماندار شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتنزیہہ بیان کرنا لازمی امر ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان تمام چیزوں سے پاک سمجھا جائے جو اس کی شان کے لائق نہیں۔ تنزیہہ زبان سے بھی ہوتی ہے ، دل سے بھی اور اعضاء جوارح سے بھی۔ زبان کی تسبیح تو اللہ تعالیٰ کے لئے پاک کلمات سبحان اللہ ، شرک ، الحاد شک وغیرہ سے بچ جائے ، اور دل میں کوئی ایسی بات نہ رکھے جو اللہ تعالیٰ کی پاکی کے خلاف ہو۔ اس کے علاوہ اعضاء جوارح کے ذریعے تنزیہہ یہ ہے کہ انسان نماز ، روزہ ، حج جیسی عبادات انجام دے ، اور اس طرح زبان کے ………ساتھ اس کے اعضاء جوارح بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں شرک ہوجاتے ہیں۔ جب کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو حقیقت میں بھی یہی چیز اللہ کی تنزیہہ اور پاکیزگی پر دلالت کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے سبح للہ مافی السموت والارض آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ آسمانی مخلوق ملائکہ اپنی مرضی اور اختیار سے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ جیسے فرمایا یسبحون ……………لایفترون (الا نبی ائ 20) وہ دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں مگر تھکتے نہیں۔ اس کے علاوہ کائنات کی تمام چیزیں مثلاً آسمانی کرے ، انسان ، حیوانات ، نباتات اور جمادات سب اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وان من…………… …تسبیحھم (بنی اسرائیل 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے اس کی تعریف کے ساتھ مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے ان کی زبان کو اللہ ہی جانتا ہے جس کے ساتھ وہ چیزیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ تمام نباتات ، درختوں کے پتے ، حیوانات ، سمندروں کی مخلوق اور ابروباد سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ان کی تسبیح کو اللہ خوب جانتا ہے جس کی وہ تسبیح کرتے ہیں مگر انسان اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ اسی طرح سورة النحل میں ارشاد ہوتا ہے وللہ یسجد………………لا یستکبرون (آیت 49) آسمان و زمین کی ہر چیز اور جانور اور فرشتے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ البتہ انسانوں میں سے بہت لوگ ہیں۔ جو اپنے اختیار اور ارادے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ، اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو نہ سجدہ کرتے ہیں اور نہ اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں ایسے لوگ کافر ، مشرک یا دہریے ہوتے ہیں۔ تاہم فرمایا کہ اگر کوئی اسنان سجدہ یا تسبیح بیان نہیں کرتا تو اس کا سایہ تو بہرحال سجدہ ریز ہوتا ہے جیسے فرمایا وللہ یسجد… …………………والاصال (الرعد 15) جو بھی آسمان اور زمین میں ہے وہ خوشی یا ناخوشی سے اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور ان کے سائے بھی صبح شام سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ کسی کے سائے کا مشرق ومغرب کی طرف جھکنا ہی اس کی سجدہ ریزی کا ثبوت ہے۔ اسی طرح اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے کہ وہ پروردگار تمام عیوب ونقائص اور ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ۔ اور تحمید کا معنی یہ ہے کہ تمام صفات کمال اللہ تعالیٰ کی ذات میں پائی جاتی تھی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے فرشتے سبحن اللہ الحمد للہ لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر جیسے پاکیزہ کلمات سے اس کی تنزیہہ بیان کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان کا کم از کم اتنا حصہ ضرور ہونا چاہیے کہ وہ دن میں سو مرتبہ ان کلمات کو ادا کرے فرمایا ہر چیز اس کی تسبیح بیان کرتی ہے وھو العزیزالحکیم اور وہ ذات غالب ، زبردست اور حکمت والا ہے۔ ہر جگہ اسی کا اختیار ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔ ہر چیز کو وہی پیدا کرتا ہے اور وہی فنا کرتا ہے۔ اس طرح توحید کی بات بھی ذہن میں آجاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جن سورتوں کی ابتداء تسبیح سے ہوتی ہے۔ مثلاً یہی سورة الحدید یا سور ۃ الصف یا سورة الجمعہ وغیرہ حضور ﷺ ان سورتوں کو رات کے وقت سونے سے پہلے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ان سورتوں میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتوں سے زیادہ فضیلت والی ہے۔ اور وہ ہے سبحن الذی اسری بعبدہ…الاٰیۃ ، یعنی سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت۔ آسمان و زمین کی بادشاہت : فرمایا ارض وسما کی ہر چیز اسی وحدہ لا شریک کی تسبیح بیان کرتی ہے کیونکہ لہ ملک السموت والارض آسمانوں اور زمین کی بادشاہت بھی اسی کی ہے۔ کائنات کا کوئی گوشہ اس کی سلطنت سے باہر نہیں ، لہٰذا مکمل تسلط اور تصرف بھی اسی کا ہے یحییٰ ویمیت وہی زندہ کرتا ہے اور وہی موت طاری کرتا ہے ، گویا موت وحیات کا سررشتہ اسی کے قبضہ واختیار میں ہے۔ ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے اور ہر چیز فنا بھی اسی کے حکم سے ہوگی۔ مخلوق میں سے بعض پر فنا طاری ہوتی ہے ، اور بعض ایسی مخلوق ہے کہ اس کی ذات میں ہی فنا پائی جاتی ہے۔ کیونکہ ممکن چیز کا وجود اور عدم برابر ہے۔ جب اس کے خالق نے چاہا اس کو موجود کردیا اور جب چاہا معدوم کردیا۔ اپنی ذات سے قائم ودائم صرف ذات خداوندی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ تمام چیزیں خواہ وہ ارضی ہوں یا سماوی ، علوی ہوں یا سفلی ، ملائکہ مقربین ہوں یا جن وانس سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ، اللہ خالق………………… ……(الزمر 62) ہر چیز کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور ہر چیز کا کارساز ، مدبر اور متصرف بھی وہی ہے وھو علی کل شیء قدیر وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، کوئی چیز بھی اس کے اختیار سے باہر نہیں۔ اول وآخر ظاہر و باطن : آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا ذکر کیا ہے۔ جس سے اس کی وحدانیت اور قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ھوالاول والاخر سب سے پہلے بھی وہی ہے اور سب آخر بھی وہی ہے۔ اول سے مراد یہ ہے کہ اس کی کوئی ابتداء نہیں یعنی وہ ازلی ہے اور آخر کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی انتہاء نہیں اور وہ ابدی ہے۔ حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کان ان اللہ ولم یکن سواہ شیء ایک وقت ایسا تھا جب صرف اللہ کی ذات تھی اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی۔ اسی طرح ایک وقت آئے گا جب صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائیگی اور اس کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی۔ فرمایا والظاھر والباطن ، ظاہر بھی وہی ہے اور باطن بھی وہی ہے ظاہر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پدرت کی نشانیاں ظاہر ہیں جن سے اس کی ہستی کا اندازہ ہوتا ، گویا وہ اپنی نشانیوں اور آثار کے اعتبار سے ظاہر ہے۔ اور باطن اس اعتبار سے ہے کہ اس کا ادراک عقل یا جو اس کے ذریعے ممکن نہیں۔ خدا کی ذات وراء الوراء ہے ، وہ بہت لطیف اور باطن ہے۔ امام غزالی (رح) لکھتے ہیں کہ باطن باعتبار معرفت ہے۔ یعنی جن چیزوں کو انسان جانتا ہے ان میں سے سب سے دقیق ، لطیف اور پیچیدہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کی ذات تک مخلوق کی رسائی ممکن نہیں۔ اسی لئے فرمایا لا فکرۃ فی الرب یعنی خدا تعالیٰ کی ذات میں غوروفکر نہ کرو۔ بلکہ اس کو اس کی صفات کے مظاہر سے پہچانو۔ اس بات میں غور کرو کہ یہ انواع و اقسام کی مخلوق کس نے پیدا کی ہے ، اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت خلق سمجھ میں آگئی۔ پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر جاندار کو کس طرح روزی بہم پہنچاتا ہے۔ اس سے اس کی صفت رزاقیت عیاں ہوتی ہے۔ ذرا غورکرو کہ ہر چیز کو حد کمال تک کون پہنچاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا کرشمہ ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کی مخلوقات اور مصنوعات سے سمجھا جاتا ہے براہ راست اس کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ففی کل شیء لہ ایۃ ندل علی انہ واحد ہرچیز میں اس کی وحدانیت کی دلیل پائی جاتی ہے۔ سعدی صاحب (رح) نے بھی کہا ہے کہ پہچان والے لوگوں کے لئے درختوں کے سبز پتے ہی اللہ کی معرفت کے دفتر ہیں۔ اور مظاہر قدرت ہی اس کی پہچان کا ذریعہ ہیں۔ حدیث میں یہ بھی آتا ہے انت الظاھر ولیس فوقک شیء تو اس قدر غالب ہے کہ تیرے اوپر کوئی چیز نہیں۔ یعنی تو ہی سب پر غالب ہے تیرے اوپر کسی کا غلبہ ، تصرف ، یا اقتدار نہیں وانت الباطن ولیس ورآء ک شیئ ، اور تو باطن ہے کہ تجھ سے ورے یعنی تجھ سے پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔ الغرض ! پیدا کرنا ، زندہ کرنا ، موت دینا ، کائنات کا بادشاہ ہونا ، قدرت تامہ کا مالک ہونا ، ازلی اور ابدی ہونا ، علامات کے اعتبار سے نمایاں اور ذات کے لحاظ سے پوشیدہ ہونا سب اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں جس میں کوئی دوسری ہستی شریک نہیں۔ وھوبکل شیء علیم اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔ اس کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق : ارشاد ہوتا ہے ھوالذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن کے وقفے میں پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو ایک لحظہ میں پیدا کرنے پر پادر ہے۔ مگر کچھ دن کے وقفہ میں بھی اس کی خاص مصلحت ہے۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اتنے عرصہ میں پیدا کرنے سے انسان کو یہ اور کرانا مقصود ہے۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اتنے عرصہ میں پیدا کرنے سے انسان کو یہ باور کرانا مقصود ہے کہ ہر کام بتدریج ہونا چاہیے کیونکہ۔ التئودۃ من الرحمن والعجلۃ من الشیطن ، آہستگی اور پختگی رحمانی کام ہے جب کہ جلد بازی شیطانی کام ہے۔ انسانوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ کسی کام میں جلد بازی نہ کرو۔ کہ اس سے کام خراب ہو کر ندامت کا باعث بنتا ہے باقی رہی یہ بات کو چھ دن سے کتنا عرصہ مراد ہے تو اس سے ہماری دنیا کے نظام شمسی والے چوبیس گھنٹے والے دن مراد نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک کان…………… …تعدون (الم السجدۃ 5) ایک دن کی مقدار ہزار سال کے برابر ہے ۔ اللہ نے اپنی مصلحت کے مطابق کائنات کو گویا چھ ہزار سال کے عرصہ میں پیدا فرمایا۔ فرمایا ثم استویٰ علی العرش پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ قرآن میں استویٰ علی العرش کا کئی مقامات پر ذکر آیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا اس طرح نہیں جس طرح ہم کسی پلنگ ، کرسی یا تخت پر بیٹھے ہیں ، بلکہ اللہ کا استویٰ اس طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے اور جو ہماری عقل وفہم سے بالا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے استویٰ علی العرش کا مطلب یہ ہے کہ وہ عرش پر اپنی تجلی اعظم ڈالتا ہے جس سے سارا عرش اور اس سے نیچے ساری کائنات رنگین ہوجاتی ہے اور پھر اس تجلی کے تغیرات اور آثار پلٹ کر واپس چلے جاتے ہیں یہ تجلیات کب سے پڑ رہی ہیں۔ اور کب تک پڑتی رہیں گی۔ اس کو کوئی انسان نہیں جان سکتا۔ اللہ کا علم محیط : فرمایا علم محیط صرف اللہ تعالیٰ کا ہے یعلم مایلج فی الارض وما یخرج منہا وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز زمین سے نکلتی ہے۔ زمین میں داخل ہونے والی اشیاء میں بارش کا پانی ، نباتات کے بیج اور خود مرنے والے انسان ہیں۔ اس سے نکلنے والی چیزوں میں پانی ، تیل ، گیس ، سونا ، چاندی ، لوہا ، کوئلہ ، غلہ ، سبزیاں ، پھل اور پھول ہیں۔ غرضیکہ ہر قسم کی نباتا اور مع دنیات زمین ہی سے نکلتی ہیں۔ جن سے انسان اور دیگر جاندار مستفید ہوتے ہیں۔ فرمایا ان تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ فرمایا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا اللہ تعالیٰ ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے آسمان سے نازل ہونے والی اشیاء ، بارش ، قضا وقدر کے فیصلے ، روزی کا حکم ، ترقی وتنزل کا فرمان وغیرہ ہیں اور اس کی طرف چڑھنے والی چیزوں میں فرشتے ہیں جو اوپر جاتے ہیں اور نیچے بھی آتے ہیں۔ انسانوں کے اعمال بھی اوپر جاکر خطیرۃ القدس میں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں بھی اللہ کے علم میں ہیں۔ معیت خداوندی : پھر ارشاد ہوتا ہے وھو معکم این ماکنتم اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی تم ہو۔ اگلی سورة المجادلۃ میں آرہا ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ نہیں ہوتے سرگوشی کرنے والے تین مگر ان کے پاس چوتھاوہ ہوتا ہے اور نہیں ہوتے پانچ مگر چھٹا وہ ہوتا ہے اس سے کم ہوں یا زیادہ الاھو…………کانوا (المجادلۃ 7) مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ، جہاں بھی ہوں۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ معیت اس کے علم ، قدرت اور تصرف کے ساتھ ہے۔ تاہم دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مطلق معیت ہے۔ یعنی یہ علم ، قدرت اور تصرف کے ساتھ تو ہے ہی ، مگر ذاتی معیت بھی ہے۔ وہ ذاتی اعتبار سے بھی تمہارے ساتھ ہے۔ جیسا کہ سورة ق ٓ میں گزر چکا ونحن………………الورید (آیت 16) ہم تو انسان کی شہ رگ سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں۔ یہ معیت ذاتی ہونے کے ساتھ ساتھ بےکیف بھی ہے یعنی اس کی کیفیت کو کوئی بیان نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس کو مخلوف کی ایک دوسرے کے ساتھ قربت پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ ہست رب الناس را باجان ناس اتصال بےتکیف بےقیاس اللہ تعالیٰ کی ذات کو لوگوں کی جانوں کے ساتھ اتصال حاصل ہے۔ مگر یہ معیت کیفیت اور قیاس کے بغیر ہے ، ہم اس کی حقیقت کو نہیں جان سکتے۔ روئیت باری تعالیٰ کے بارے میں بھی اہل حق اس بات کے قائل ہیں کہ یہ آخرت میں اہل ایمان کو حاصل ہوگی۔ مگر اس کی کیفیت کو آج کوئی نہیں بیان کرسکتا بہرحال اللہ تعالیٰ کی معیت ہر انسان کے ساتھ ذاتی بھی ہے مگر بےکیف۔ اللہ کی ملکیت اعلیٰ : فرمایا واللہ بما تعملون بصیر ، اور جو کام تم کرتے ہو اللہ دیکھنے والا ہے۔ تمہارے اعمال حسنہ یا سیسہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔ لہ ملک السموت والارض ، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے تسلط سے کوئی چیز باہر نہیں۔ والی اللہ ترجع الامور ، اور تما معاملات اسی کی طرف لوٹ کر جاتے ہیں۔ انسانوں کے تمام اعمال قیامت والے دن اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور پھر وہ ہر ایک کی جزا اور سزا کا فیصلہ کریگا۔ انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے صحیح صحیح علم حاصل کرے۔ اسی علم سے انسان کو حقیقی حیات نصیب ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں جب بھی کوئی اچھا نظام قائم ہوگا ، اس کو قائم کرنے والی صالح جماعت ہی ہوگی جس کا اعتقاد ، اخلاق اور اعمال صحیح ہوں گے۔ ایسی جماعت کے بغیر اسلام نظام کا قیام ممکن نہیں۔ ہمارے ملک میں صحیح نظام جاری کرنے کے دعویدار بروکریٹ ، نیم ملحد ، دہریے ، رافضی۔ قادیانی اور ایسے ہی دوسرے بےدین لوگ ہیں جن سے صالح نظام کی توقع عبث ہے ، یہ لوگ نہ اسلامی نظام کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کرسکتے ہیں اگر سمجھ بھی جائیں تو یہ ان کے مزاج کے خلاف ہوگا ۔ لہٰذا وہ کبھی بھی اس کو رائج کرنے کی کوشش نہیں کریں گے بلکہ زبانی کلامی اس کی تعریفیں کرتے رہیں گے۔ دنیاوی اعتبار سے تو یہ لوگ بیوقوف نہیں ہیں بلکہ ان میں فکر معاش تو کمال درجے کی ہے ، البتہ ان میں فکر معاد کا فقدان ہے۔ دنیا کی سپر طاقتیں اور ان کے نمائندے سب ایسے ہی ہیں۔ قرآن کے نظام کو صرف نیک لوگ ہی جاری کرسکتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ، اور تمام چیزیں اس کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں۔ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور کبھی دن بڑا ہوتا ہے اور اسی بناء پر سال بھر میں چار موسم گرما ، سرما ، بہار اور خزاں آتے ہیں۔ یہ تمام ظاہری تصرفات اور تقلبات اس کی قدرت اور حکمت کی علامات ہیں۔ وھو علیم بذات الصور اور وہ دلوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ اس کو علم ہے کہ کس کے دل میں توحید ہے یا کفر ، شرک ، ایمان ہے یانفاق ، الحاد اور شک۔ وہ ہر ایک کو اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہی بدلہ دے گا۔
Ayahs 57:7–10

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر ، اور خرچ کرو اس میں سے جس میں اس نے تمہیں نائب بنایا ہے پہلے لوگوں کا۔ پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور خرچ کیا انہوں نے ، ان کے لئے بڑا اجر ہے

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور کیا ہم تمہارے لئے کہ تم ایمان نہیں لاتے اللہ پر درآنحالیکہ رسول تم کو بلاتا ہے تاکہ تم ایمان لائو اپنے رب پر۔ اور تحقیق اس نے لیا ہے تم سے پختہ عہد ، اگر تم ایمان والے ہو

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہ وہی ذات ہے جس اتارتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ البتہ بہت شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور کیا ہے تم کو کہ تم نہیں خرچ کرتے اللہ کے راستے میں ، اور اللہ ہی کے لئے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی۔ نہیں برابر تم میں سے وہ جنہوں نے خرچ کیا فتح سے پہلے اور لڑائی کی۔ یہ لوگ بڑے درجے والے ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے خرچ کیا بعد (فتح کے) اور لڑائی کی۔ اور ہر ایک سے اللہ نے خوبی کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کی خبر رکھنے والا ہے

ربط آیات : سورة کے آغاز میں ارض وسما کی ہر چیز کی تسبیح بیان کرنے کا ذکر ہوا۔ اللہ کی قدرت میں سے موت وحیات کی صفت بیان ہوئی ، پھر اس کے اول ، آخر ، ظاہر اور باطن ہونے کا ذکر ہوا اور اس کے قادر مطلق اور علیم کل ہونے کی صفت بیان ہوئی۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے ارض وسماکو چھ دن کے وقفہ میں تخلیق کیا اور وہ عرش پر مستوی ہے۔ نیز یہ کہ وہ ارض وسماء میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی ، نازل ہونے والی اور اوپر چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ نے ہر شخص کے ساتھ اپنی معیت کا تذکرہ فرمایا اور یہ بھی کہ وہ انسانوں کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔ اللہ نے پوری کائنات میں اپنی سلطنت کا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہ تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ توحید و رسالت پر ایمان : اب اللہ نے پہلے ایمان کی درستگی کا ذکر کیا اور پھر جہاد فی سبیل اللہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے ارشاد ہوتا ہے امنوا باللہ ورسولو لوگو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو۔ اللہ کی وحدانیت کو صحیح طریقے سے مانو۔ ایمان کے بغیر نہ انسان کی فکر پاک ہوسکتی ہے اور نہ ہی عقل اور فہم۔ ایمان کے بغیر انسان کے اعمال کی سمت بھی درست نہیں ہوسکتی۔ فلاح اور کامیابی کی منزل خطیرۃ القدس تک ایمان کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں۔ اس بات کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف مقامات پر کی ہے۔ مثلاً سور ۃ الانبیاء میں فرمایا ۔ فمن…………………لسعیہ (آیت 94) پس جس شخص نے نیکی کا کام کیا بشرطیکہ اس میں ایمان موجود ہے تو اس کی کوشش کی ناقدری نہیں کیا جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اعمال کا دارومدار صحیح ایمان پر ہے۔ اگر ایمان میں شرک کی ملاوٹ ہے یا دل کے کسی گوشے میں کفر ، نفاق ، الحاد یا تردد نے ڈیرہ جما رکھا ہے تو ایسے آدمی کی کوئی نیکی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔ نجات حاصل کرنے کے لئے خاص ایمان کی ضرورت ہے وہاں یہود ونصاریٰ والا ایمان نہیں چلے گا۔ وہ تو نبی آخرالزمان کی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کا ایمان درست نہیں ہے۔ تمام رسولوں پر ایمان لانا جزو ایمان ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم : ایمان کی درستگی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے وانفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ ، اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں پہلوں کا نائب بنایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس جو مال و دولت ہے وہ تمہارا ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ نے پہلے لوگوں کی جگہ تمہیں عطا فرمایا ہے جن کے تم جانشین ہو جعل کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے یعنی اس نے یہ مال گزرے ہوئے لوگوں کو دیا تھا۔ پھر ان کے بعد اللہ نے اسے تمہاری مجازی ملکیت اور تصرف میں دے دیا۔ اس لئے کسی شخص کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس نے یہ مال ذاتی محنت و کاوش کے ذریعے اکٹھا کیا ہے۔ بلکہ یہ تو اللہ کا عطا کردہ ہے اور تم اس کے محض امین ہو۔ لہٰذا اس مال کو اللہ کے حکم کے مطابق جائز جگہ پر خرچ کرو ، اور جہاں اجازت نہیں وہاں اپنی مرضی سے مت خرچ کرو۔ اس مال کا بہترین مصرف جہاد فی سبیل اللہ یا نیکی کے دیگر کام ہیں۔ پھر اللہ نے اس کے راستے میں خرچ کرنے والے کو بشارت سنائی ہے۔ فالذین امنوا منکم پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت کو صحیح طریقے پر مانا ، رسالت کو تسلیم کیا ، کتب سماویہ ، ملائکہ ، قیامت اور تقدیر پر ایمان لائے۔ اور اس کے ساتھ وانفقوا انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے اس کے راستے میں خرچ بھی کیا تو فرمایا ، یقین جانو لھم اجر کبیر ان کے لئے اللہ کے ہاتھ بہت بڑا اجر ہے۔ اس مقام پر اللہ نے ایمان اور انفاق دونوں چیزوں کا ایک ساتھ ذکر فرما کر دونوں پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ ایمان باللہ سے انکار : پھر ارشاد ہوتا ہے ومالکم لا تومنون باللہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے والرسول یدعوکم لتئومنوا بربکم حالانکہ اللہ کا رسول تمہیں بلا رہا ہے کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آئو۔ رسول کی دعوت کے باوجود تم اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو۔ آخر تمہارے پاس ایمان نہ لانے کی کون سی دلیل ہے ؟ وقد اخذ میثاقکم حالانکہ تم نے عہد بھی کررکھا ہے مگر اس کو بھی پورا نہیں کر رہے ہو ان کنتم مومنین اگر تم ایمان لانے والے ہو تو بتلائو کہ تم عہد شکنی کرکے اللہ کی وحدانیت کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس سے دو عہد مراد ہوسکتے ہیں۔ پہلا عہد تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں پوری بنی نوع انسان کی روحوں سے لیا تھا ۔ یہ عہدالست کہلاتا ہے اور اس کا ذکر سورة الاعراف میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تمام روحوں کو نکال کر دریافت کیا تھا الست بربکم (آیت 172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب کا جواب تھا۔ قالوا بلی پروردگار کیوں نہیں ؟ تو ہی ہمارا رب ہے۔ اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں اس عہد کا بیج رکھ دیا ہے اگر دنیا میں آکر کوئی شخص اس عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ ماخوذ ہوگا۔ یہ ایسا عہد ہے کہ جس کی یاددہانی تمام انبیاء اور کتب سماویہ کراتے آئے ہیں۔ دوسرا عہد میثاق النبین کہلاتا ہے جس کا ذکر سورة آل عمران میں کیا گیا ہے واذا……… ……النبین (آیت 81) اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت دی ، پھر تمہارے پاس وہ رسول آیا جو اس چیز کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے۔ تو تم ضرور اس پر ایمان لائو گے اور اس کی مدد کرو گے۔ پھر تم نے اقرار کیا کہ ایسا ہی کرو گے اس عہد کے تذکرہ سے تمام نبیوں کے امتیوں کو یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ جس چیز پر تمہارے انبیاء سے ایمان لانے کا عہد لیا گیا ، اس چیز پر ایمان لانا امتیوں پر طریق اولیٰ فرض ہے۔ لہٰذا اس عہد اور سابقہ کتب کی پیشین گوئیوں کے مطابق تمام امتوں اور خصوصاً یہودونصاریٰ پر لازم آتا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ اور آخری کتاب قرآن حکیم پر ایمان لے آئیں۔ مذکورہ دو عہدوں کے علاوہ جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اس کے ساتھ وہ یہ عہدوپیمان بھی کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل میں ہر جانی اور مالی قربانی پیش کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ تو اب جب کہ اللہ تعالیٰ جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلے میں مالی قربانی کا مطالبہ کررہا ہے تو پھر اگر تم واقعی ایماندار ہو تو یہ مطالبہ کیوں پورا نہیں کرتے۔ قرآن بطور روشنی : آگے ارشاد ہوتا ہے ھوالذی ینزل علی عبدہ آیت بینت ، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو اپنے بندے پر کھلی کھلی آیتیں اتارتا ہے۔ یہاں بندے سے مراد حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے اور واضح آیات سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول پر اپنی آخری کتاب کی آیتیں نازل فرماتا ہے ، جس کا مقصد یہ ہے لیخرجکم من الظلمت الی النور ، تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکا ل کر روشنی کی طرف لے آئے ۔ نزول قرآن کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسان کو کفر کے اندھیرے سے نکال کر نور ایمان کی طرف لے آئے۔ نیز تم بدعات کے ظلمات سے نکل کر سنت کی روشنی میں آجائو۔ کفر ، شرک ، بدعات ، لہو و لعب اور معصیت سب اندھیرے ہیں۔ عقیدہ ، روح اور دماغ میں بھی تاریکی پائی جاتی ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ تمہیں ان تمام اندھیروں سے نکال باہر کیا جائے اور تمہارے دلوں میں ایمان اور توحید کی شمع روشن کردی جائے جس سے تم رسم و رواج کی تاریکیوں سے نکل کر سنت کی روشنی کی طرف آجائو ، اور تنزل کی تاریکی میں بھٹکنے کی بجائے ترقی کی منزل پر گامزن ہوجائو۔ غرضیکہ قرآن پاک زندگی کے ہر موڑ پر انشان کی راہنمائی کرتا ہے۔ اللہ کا نبی اس کی تشریح کرتا ہے اور تمام چیزوں کو کھول کر واضح کرتا ہے۔ قرآن کی اس مقصدیت کا ذکر قرآن کے مختلف مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة ابراہیم کے آغاز میں فرمایا کتب انزلنہ الیک لتخرج الناس من الظلمت الی النور ، ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ آج ہر طرف کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی کے اندھیرے چھائے ہوئے ہیں ، جن کا آج پتہ نہیں چلتا۔ جب موت واقع ہوگی اور انسان کا یہ مادی خول اتر جائے گا۔ تو فوراًً پتہ چل جائے گا کہ ہم کس اندھیرے میں ٹکریں مارتے رہے۔ اس کی مثال کلوروفارم کی ہے جس آدمی کو سونگھا دیا جائے اس کو کچھ پتہ نہیں چلتا خواہ اس کے جسم کی کتنی بھی چیر پھاڑ کردی جائے ۔ پھر جب بےہوشی کا اثر جسم سے اترجاتا ہے تو انسان کو درد محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح اندھیروں اور روشنی کا امتیاز انسان کو ہر نے کے بعدہی ہوگا۔ بہرحال فرمایا وان اللہ بکم لرء وف رحیم بیشک اللہ تعالیٰ بہت شفقت کرنے والا نہایت مہربان ہے جس نے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانے کا انتیام کردیا ہے۔ مگر یہ انسانوں کے بدقسمتی ہے کہ وہکفر وجالت کے اندھیروں سے نکل کر علم اور ایمان کی روشنی میں نہیں آتے۔ مال بطور امانت : اس سورة مبارکہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا بہت زیادہ ذکر ہے۔ مدینے کے ابتدائی دور میں مالی قربانی کی سخت ضرورت تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ومالکم الا تنفقوا فی سبیل اللہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ یادرکھو ! وللہ میراث السموت والارض ، آسمانوں اور زمین کی ساری وراثت تو اللہ کے پاس ہے۔ انسان مرجاتے ہیں تو سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہوتا ہے اور وہی اس کا وارث ہوتا ہے۔ جب مالک حقیقی بھی وہی ہے اور تمہارے بعد وارث بھی وہی ہے۔ تو پھر اس کا مال اس کے حکم کے مطابق خرچ کیوں نہیں کرتے ؟ ایسا کرنا تم کو بوجھل کیوں معلوم ہوتا ہے ؟ تمہیں چاہیے کہ اللہ کے عطا کردہ مال کو اس کے حکم کے مطابق خوشی سے خرچ کرو تاکہ اس کی خوشنودی حاصل ہو اور دین کے مقاصد بھی پورے ہوں۔ مستخلفین فیہ کے لفظ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمہارے پاس یہ مال دراصل اللہ کی امانت ہے۔ اللہ نے عارضی طور پر اس میں تصرف کی اجازت دی ہے کیونکہ حقیقی ملکیت تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ انسان اس کو حقیقی اور ذاتی ملکیت سمجھ کر اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کو خدا تعالیٰ کا فضل ، مہربانی یا عطا نہیں سمجھتے لہٰذا اس مالک حقیقی کا شکر بھی ادا نہیں کرتے۔ جس طرح انسان کے جسم میں اللہ کا حق ہے اسی طرح مال میں بھی اس کا حق ہے۔ جس طرح انسان کے لئے جسمانی عبادت ، نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح مالی عبادت زکوٰۃ ، صدقات وغیرہ کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ حضرت لبید ؓ زمانہ جاہلیت میں بڑے اونچے درجے کے شاعر تھے آپ نے لمبی عمر پائی اور نوے سال زمانہ جاہلیت میں اور پچپن برس اسلام کے دور میں گزارے۔ وہ کہتے ہیں : ؎ وما المرء الا کا لشھاب وضوء ہ یحور رمادا بعد اذ ھو ساطع انسان تو ایک شہاب کی طرح ہے۔ اس کی روشنی تھوڑی دیر کے لئے خواب چمکتی ہے مگر بعد میں وہ جل کر خاک ہوجاتا ہے۔ ما المال والا ھلون الا ودائع ولا بدیوما ان تردا الودائع یہ مال اور اہل تو امانتیں ہیں جو کہ ایک نہ ایک دن واپس لوٹانی پڑیں گی۔ جان بھی انسان کے پاس اللہ کی طرف سے امانت ہے اور مال بھی۔ انسان ان دونوں امانتوں میں اللہ کے حکم کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا۔ اور جب صاحب امانت اپنی امانت طلب کرے گا تو اسے لڑنا پڑیگا۔ جب ہر چیز کا مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر اس کے عطا کردہ مال کو خرچ کرنے میں بخل نہیں ہونا چاہیے ، بلکہ اس کے حکم کو بخوشی تعمیل ہونی چاہیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان کی زبان مالی مالی یعنی میرا مال میرا مال کہنے سے نہیں تھکتی ، کبھی کہتا ہے میری زمین ہے ، کبھی میرا مکان ، میرا کارخانہ اور میرا خزانہ فرمایا اے انسان ! تیر مال وہ ہے جو تونیکھا لیا ، یا پہن کر بوسیدہ کردیا یا پھر ہاتھ سے صدقہ کردیا۔ جو کچھ باقی بچ گیا وہ تیر ا مال نہیں۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ بچ رہنے والا مال تیرے وارثوں کا ہے ، لہٰذا تو کس چیز پر فخرکررہا ہے ؟ تیری ملکیت عارضی ہے جبھی تو اس دنیا سے رخصت ہوگا تیرے وراثان اپنا اپنا حصہ لے جائیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے گھر والوں نے بکری ذبح کی۔ اس کا سارا گوشت محتاجوں میں تقسیم کردیا اور صرف ایک پایہ اپنے لئے رکھ لیا۔ حضور تشریف لائے تو گھر والوں نے عرض کیا ، حضور ! بکری ذبح کی تھی جس میں صرف ایک پایہ بچا ہے باقی ساری تقسیم کردی ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ سارا گوشت باقی رہ گیا ہے۔ اور صرف ایک پایہ جو استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس کا اجر تمہیں نہیں ملے گا۔ تم سمجھتے ہو کہ صرف پایہ باقی ہے ، نہیں بلکہ اس کے سوا سارا گوشت باقی ہے جس کا اجر اللہ کے ہاں ملے گا۔ انفاق میں سبقت کی فضیلت : آگے اللہ نے انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں کی بھی درجہ بندی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل تم میں سے وہ شخص برابر نہیں ہے جس نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جنگ لڑی اولئک اعظم درجۃ یہ تو بلند مرتبت لوگ ہیں من الذین انفقوا من بعد ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا وقاتلو اور لڑائی بھی لڑی مطلب یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے کا دور بڑا سخت تھا۔ جب کہ مسلمانوں کے پائوں اچھی طرح نہیں جمنے پائے تھے۔ اس دور میں جن لوگوں نے جانی اور مالی قربانی پیش کی ان کے درجات فتح مکہ کے بعد میں خرچ کرنے اور لڑائی لڑنے والوں سے بدرجہا بلند ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ بعد والے لوگ خواہ کتنا بھی خرچ کریں وہ اس وقت کے خرچ کو نہیں پہنچ سکتے جب مسلمان سخت مشکل میں تھے اور خرچ کی شدید ضرورت تھی۔ چناچہ صحیحین میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو اخلاص فتح سے پہلے والے ایمان والوں میں تھا۔ بعد والے اس کے کروڑویں حصے کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی قدرومنزلت اسی لئے زیادہ ہے کہ وہ سب سے پہلے ایمان لائے اور انہوں نے سب سے پہلے مال خرچ کیا۔ اللہ کے نزدیک قدرومنزلت اسلام ، دین اور ان کے ساتھ خلوص کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا جس نے مالی اور جانی قربانی سے اسلام کو تقویت پہنچائی وہ بڑے درجے والا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان مبارک ہے کہ بعض اوقات ایک درہم کا درجہ لاکھ درہم سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ فتح مکہ سے پہلے اور بعد میں ایمان لانے والوں میں بڑا فرق ہے۔ امیر معاویہ ؓ اور ابوسفیان ؓ بعد میں ایمان لائے اور انہوں نے جنگیں بھی لڑیں مگر وہ پہلے لوگوں کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے وکلا وعداللہ الحسنی کہ اللہ نے سبھی کے ساتھ خوبی کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے اور بعد والے سب کو اجر عطا فرمائے گا ۔ مگر ان کے درجات برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ ورفع………………درجت (الانعام 164) اللہ نے بعض کے درجات کو بعض کے مقابلے میں بلند فرمایا ہے ، تاہم نیکی سے کوئی گروہ بھی خالی نہیں۔ فرمایا واللہ بما تعملون خبیر تم جو بھی کا کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے خبردار ہے۔ وہ ہر ا کی کو اس کے عمل کے مطابق ہی بدلہ دے گا۔
Ayahs 57:11–15

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دیتا ہے اچھا قرض ، پس وہ اس کو دگنا دیگا ، اور اس کے لئے عزت والا اجر ہوگا

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن آپ دیکھیں گے ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو دوڑ رہا ہوگا ان کا نور ان کے سامنے اور دائیں طرف۔ (ان سے کہا جائے گا) خوشخبری ہے تمہارے لئے آج کے دن ، باغات ہیں جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں ، ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان میں۔ یہ بڑی کامیابی ہے

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے ، دیکھو ، انتظار کرو ہمارا تاکہ ہم بھی روشنی حاصل کرلیں تمہاری روشنی سے کہا جائیگا لوٹ جائو پیچھے پس تلاش کرو روشنی ۔ پس کھڑی کردی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار جس کا دروازہ ہوگا۔ اس کے باطن کی طرف رحمت ہوگی اور ظاہر کی طرف عذاب

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

پکاریں گے یہ ان کو (اور کہیں گے) کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ وہ کہیں گے ، کیوں نہیں ، لیکن تم نے فتنے میں ڈالا اپنی جانوں کو اور تم راہ دیکھتے رہے اور شک کیا ، اور دھوکے میں ڈالا تم کو جھوٹی آرزئوں نے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا۔ اور بہکایا تمہیں اللہ کے نام سے بڑے دھوکے باز نے

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

پس آج کے دن نہیں لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا ، اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے ، وہی تمہارے ساتھ زیادہ لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے لوٹ کر جانے کی

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ جو لوگ بوقت ضرورت خرچ کرتے ہیں ان کے لئے زیادہ اجر ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے بعد میں اسلام قبول کرنے والوں سے بدرجہا افضل ہیں ۔ تمہارے اموال کا حقیقی مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے ، تاہم اس نے اپنی مہربانی سے تمہیں اس سے پہلے لوگوں کا نائب بنایا ہے اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہیں اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ کے عطا کردہ مال کو بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا چاہیے۔ یہ مال اللہ کی طرف سے تمہارے پاس بطور امانت ہے جس کے لوٹانے میں تمہیں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ قرض حسنہ کی ترغیب : انفاق فی سبیل اللہ ہی کی ترغیب ایک دوسرے انداز سے دی جارہی ہے۔ من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا وہ کون شخص ہے جو اللہ کو قرض حسن دیتا ہے فیضعقۃ لہ تاکہ وہ اس کو دگنا کردے۔ ولہ اجر کریم اور اس قرض حسن کے بدلے میں اس کے لئے عزت والا اجر ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حقیقت میں یہ فی الواقعہ قرض نہیں ہے بلکہ کنایہ کی زبان میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کہ اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قرض دیتا ہے تو اس کو یقین ہوتا ہے کہ مقروض اتنی ہی رقم واپس لوٹا دے گا۔ مگر یہاں پر اللہ نے قرض سے دگنا مال واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ لوگ اس کار خیر کی طرف راغب ہوں۔ البتہ یہ بدلہ اس صورت میں ملے گا۔ جب کہ انفاق فی سبیل اللہ کے وقت ایمان ، اخلاص ، صحیح نیت اور صحیح موقع ومحل موجود ہو۔ ان شرائط کا ذکر اللہ نے قرآن کے مختلف مقامات پر کردیا ہے۔ یہ اصطلاح قرض نہیں ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ قرض کا معنی یہ ہے کہ تم اس وقت جہاد پر خرچ کرو۔ پھر تم ہی دولتیں برتو گے ، اور آخرت میں بڑے مرتبے پائو گے۔ دگنے کے یہی معنی ہیں ۔ آج خرچ کرو گے ، غلبہ حاصل ہوگا ، دولت تمہارے ہاتھ ہی میں رہیگی اور آخرت کا اجر بھی ملے گا۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ورنہ مالک اور غلام میں سود بیاج نہیں ہے ، انسان تو غلام ہیں ، وہ مالک کو کیا قرض دیں گے ؟ جو دیا سو اس کا جو نہ دیا سو اس کا۔ وہ تو سارا اس کا مال ہے لیکن خرچ کرنے سے یہ مراد ہے کہ دنیا میں بھی اس کا اچھا نتیجہ آئے گا اسلام اور قرآن کے نظام کو قائم کرنے کے لئے جو مال صرف کرو گے اس کے بدلے میں تمہیں سلطنت اور دولت حاصل ہوگی ، اور آخرت کا بدلہ الگ ہے خدا کوئی محتاج نہیں ہے جو قرض مانگ رہا ہے۔ قرض حسن وہ قرض ہوتا ہے جس میں نہ سود ہو اور نہ کوئی دیگر غرض وابستہ ہو۔ سورة المدثر میں فرمایا ولا تمنن تستکثر (آیت 60) یعنی کسی پر احسان کرکے مزید مفاد حاصل کرنا مقصود نہ ہو بلکہ محض مومن بھائی کی ضرورت پوری کرنا مقصود ہو۔ اس قرض حسنہ کا مقصد بھی ریاکاری یا غرض فاسد نہ ہو بلکہ اس سے اللہ کے ہاں سے اجروثواب مقصود ہو۔ اس کے برخلاف جو شخص اسلامی نظام کے قیام کے لئے حسب ضرورت مال صرف نہیں کرتا اس کا نام منافقوں کی فہرست میں لکھا جاتا ہے۔ اور ایسا شخص دنیا اور عقبیٰ میں نقصان اٹھانے والا ہوگا۔ اہل ایمان کے لئے نور : اگلی آیت میں اللہ نے نیکی کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا ہے یوم تری المومنین والمومنت ، جس دن آپ دیکھیں گے۔ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو یسعی نور ھم بین ایدیھم وبایمانھم کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور دائیں طرف دوڑتی ہوگی۔ یہ صورت حال حشر کے میدان میں پل صراط پر سے گزرتے وقت پیش آئے گی۔ اس وقت سخت اندھیرا ہوگا ، اور روشنی صرف ایمان اور نیک اعمال کی ہوگی جو مومنوں کے قلوب سے اٹھ رہی ہوگی۔ تاہم یہ روشنی علی قدر المراتب ہوگی۔ جس قسم کا کسی کا ایمان ہوگا ، اسی کے مطابق اس کی روشنی ہوگی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی روشنی پہاڑ جتنی بڑی ہوگی اور بعض کی صرف ناخن کے برابر جو کہ کبھی جلے گی اور کبھی بجھ جائے گی۔ روشنی کا یہ تفاوت ایمان کی پختگی ، اخلاص اور اعمال میں تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ بہرحال ایمان کی روشنی تو اہل ایمان کے سامنے ہوگی اور اعمال صالحہ کی روشنی ان کی دائیں طرف ہوگی۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں سے کہا جائے گا۔ بشرئکم الیوم جنت تجری من تتہا الانھر خلدین فیھا ، تمہارے لئے بشارت ہے باغوں کی جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی ، اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ فرمایا ذلک ھوالفوز العظیم ، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ جس کو حاصل گی۔ یہ اللہ کی رحمت جنت کا مقام ہے۔ جہاں ابدی نعمتیں میسر ہوں گی ، اور جہاں سے نکالے جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی شامل حال ہوگی۔ انسان کا وہاں پہنچ جانا بہت بڑی کامیابی ہے۔ منافقوں کی درخواست برائے نور : ایمان والوں کا حال ذکر کرنے کے بعد اللہ نے منافقوں کو کچھ حال بیان کیا ہے ارشاد ہوتا ہے یوم یقول المنفقون والمنفقت للذین امنوا ، جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے۔ انظر ونا نقتبس من نورکم ، ٹھہر جائو ، ہم بھی تمہاری روشنی میں سے کچھ لے لیں اور اس مشکل منزل کو عبور کرلیں۔ ادھر سے جواب آئے گا قیل ارجعوا ورائکم فالتمسوا نورا پیچھے لوٹ جائو اور وہاں سے روشنی تلاش کرو۔ وہ لوگ پیچھے کی طرف مڑ کردیکھیں گے کہ روشنی کہاں تقسیم ہورہی ہے۔ اتنے میں۔ فضرب بینھم بسورلہ باب ، ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی جس کا دروازہ ہوگا۔ باطنہ فیہ الرحمۃ اور اس کے اندر کی طرف خدا تعالیٰ کی مہربانی ہوگی وظاھرہ من قبلہ العذاب اور اس سے باہر عذاب ہوگا۔ سورة الاعراف میں اس فصیل کو اعراف کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مشرک اور کافر لوگ تو پل صراط سے پرے گزرتے ہوئے پہلے ہی دوزخ میں گر چکے ہوں گے ، مگر امتی کہلانے والے خواہ وہ سچے مومن ہوں یا منافق ، رلے ملے ہوں گے اعراف کے مقام تک تو سب اکٹھے آئیں گے ، پھر ایمان والے تو اپنے ایمان اور نیکی کی روشنی میں اپنے اپنے مراتب کے مطابق تاریکی کو عبور کرلیں گے ، مگر دنیا میں فریب کاری سے کام لینے والے منافق لوگوں لوگوں کے پاس نور ایمان نہیں ہوگا لہٰذا وہ سچے ایمانداروں سے درخواست کریں گے کہ انہیں روشنی میں سے کچھ حصہ دیا جائے تاکہ وہ بھی منزل مقصود تک پہنچ جائیں ۔ اس وقت یہ کیفیت ہوگی کہ جونہی وہ پیچھے مڑر کر دیکھیں گے ان کے درمیان دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ منافقین کی محرومی : بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ابتداء میں منافقین کو تھوڑی سی روشنی ملے گی ۔ جس کے ذریعے وہ تھوڑی دور چلیں گے مگر پھر اچانک وہ روشنی چھین لی جائے گی۔ کیونکہ دنیا میں بھی انہوں نے دھوکہ دہی کے لئے ظاہر میں کلمہ پڑھا تھا اور کچھ نیکی کے اعمال بھی انجام دیے تھے ، لہٰذا یہاں بھی انہیں تھوڑی سی روشنی دے کر پھر چھین لی جائے گی۔ پیچھے روشنی تلاش کرنے کا مطلب منافق لوگ یہ لیں گے کہ شاید یہاں کہیں تھوڑی دور روشنی تقسیم ہورہی ہے ، لہٰذا وہ پیچھے مڑکر دیکھیں گے ، مگر اہل ایمان کی پیچھے سے مراد یہ ہوگی کہ اس روشنی کا منبع تو دنیا میں تھا جہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی بنا پر روشنی تقسیم ہوتی تھی۔ وہاں تو تم اس کو حاصل نہ کرسکے۔ اب یہاں تمہیں یہ روشنی نہیں آسکتی۔ الغرض ! منافق لوگ جنت میں نہیں جاسکیں گے۔ حصول نور کے ذرائع : قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ جس روشنی کی ضرورت میدان حشر میں پڑیگی اس کے حصول کے بہت سے ذرائع اس دنیا میں ہی موجود ہیں۔ چناچہ صحیحین کی روایت میں آتا ہے ، لوگو ! اتقوا الظلم ، ظلم سے بچ جائو کیونکہ ظلم کی وجہ سے آخرت میں بڑے اندھیرے پیش آئیں گے۔ اس دنیا میں کردہ ہر گناہ کا الگ الگ اندھیرا ہوگا۔ ان اندھیروں کو عبور کرنے کے لئے ابن ماجہ اور ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے بشر المشائین فی الظلم الی المسجد بالنور التام یوم القیمۃ جو لوگ رات کی تاریکی میں مسجدوں کی طرف نماز کے لئے جاتے ہیں ، انہیں قیامت والے دن مکمل نور کی خوشخبری سنادو یعنی قیامت کے روز ان کی پوری روشنی ملے گی۔ دنیا میں انہوں نے اندھیرے میں ٹھوکریں کھائیں ، راستوں کی اونچ نیچ کی وجہ سے تکلیف اٹھائی ، بڑھاپے اور بینائی کی کمزوری کی وجہ سے انہیں نماز کی خاطر جانے کے لئے مشقت برداشت کرنا پڑی ، فرمایا ان کو مکمل روشنی کی بشارت سنادو۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے من حافظ علی الصلوٰت کانت لہ نورا وبرھانا ونجاتا جس شخص نے نمازوں کی حفاظت کی یعنی انہیں ضائع ہونے سے بچایا اس کے لئے قیامت والے دن روشنی ، دلیل اور نجات ہوگی۔ جب اس شخص کو کسی دلیل کی ضرورت پڑیگی۔ تو اس کی نمازیں اس کے لئے دلیل بن جائیں گی جس مقام پر اسے روشنی کی ضرورت ہوگی تو یہ نمازیں اس کے لئے روشنی کا مینار بن جائیں گی ، اور اس طرح اس کو عذاب سے نجات حاصل ہوجائے گی۔ اس کے برخلاف جس شخص نے نمازوں کی پرواہ نہ کی ، اس کے لئے نہ دلیل ہوگی ، نہ روشنی اور نجات ، اور اس کا حشر فرعون اور ہامان جیسے بڑے مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان مبارک ہے کہ جو شخص بروز جمعہ مکمل سورة کہف کی تلاوت کریگا یا اس کی ابتدائی اور آخری دس دس آیات پڑھیگا اس کو قیامت والے دن روشنی میسر آئے گی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کی قدموں سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی مسافت کی روشنی ملے گی۔ بعض روایات میں زمین سے آسمان تک کی روشنی کا ذکر آتا ہے۔ نیز فرمایا کہ جو شخص سورة کہف کی ابتدائی یا کم از کم تین آیات تلاوت کرے گا۔ تو یہ تلاوت اس کے لئے دجال کے فتنے سے بچائو کا کام دیگی۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص اس سورة کی صرف ایک آیت ہی تلاوت کرے گا۔ اس کو بھی قیامت والے دن روشنی ملے گی۔ آپ کا یہ بھی ارشاد ہے الصلوٰۃ نور علی الصراط یعنی پل صراط پر نماز روشنی کا کام دے گی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جس نیک آدمی کی دنیا میں بینائی زائل ہوگئی اور اس نے گلہ شکوہ اور ناشکری کی بجائے صبر کا دامن تھامے رکھا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت والے دن روشنی بنادیگا۔ بعض روایات میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی آتا ہے کہ جس شخص نے حج کے موقع پر اپنا سر منڈوایا تو اس کے ہر بال کے عوض قیامت والے دن اس کو روشنی ملے گی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ شیاطین کو کنکر مارنے کے عوض بھی اللہ تعالیٰ قیامت والے دن روشنی عطا کرے گا۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا من شاب شیبۃ فی سبیل اللہ جس شخص کے اللہ کے راستے میں جاتے ہوئے بال سفید ہوگئے اس کو قیامت والے دن نور ملے گا۔ نیز فرمایا من رمی بسھم فی سبیل اللہ ، جس شخص نے اللہ کے راستے میں اس کے دشمنوں پر تیر چلایا ، اس کو بھی قیامت والے دن نور ملے گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا من نفس عن مسلم کر بۃ جس شخص نے کسی مسلمان کی پریشانی کو دور کیا۔ اس کو پل صراط سے گزرتے وقت اس قدر روشنی ملے گی جس میں ایک جہاں چل سکے گا۔ یہ اتنی بڑی روشنی ہوگی کہ جس کی مقدار کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے مراقبہ یا کشف کی حالت میں بعض اہل اللہ کی روحوں کو برزخ میں دیکھا جو شفاف پانی کے تالاب کی طرح نظر آتی تھیں۔ ایسا پانی کہ جو تھما ہوا ہو ، اور جب دوپہر کے وقت اس پر سورج کی کرنیں پڑیں تو سارا تالاب روشنی کا ایک ٹکڑا معلوم ہو ۔ اسی طرح بعض آدمیوں کو یاد الٰہی کی وجہ سے نور ہوگا۔ جو نور یاداشت کہلاتا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں ہر وقت اپنے پروردگار کو یاد کرتے رہے۔ پھر اللہ کی مہربانی کا نور بھی ہے جو بعض لوگوں کو میسر ہوگا۔ مثلاً آپ دیکھ رہے ہیں کہ کوئی چھوٹا بچہ کنوئیں میں گر رہا ہے یا کسی موٹر کے نیچے آنے والا ہے ، آپ اس کو بچانے کے لئے دوڑتے ہیں ، تو بچے کے ساتھ اس مہربانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا نور ملے گا۔ یہ سب نور کے ذرائع ہیں جو قیامت والے دن تاریکی میں کام آئیں گے۔ منافقوں اور مومنوں کا مکالمہ : جب منافق لوگ مومنوں سے روشنی حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں گے تو پھر انہیں دنیا کی زندگی میں اپنی معیت کی یاددہانی کرائیں گے ینادو نھم وہ مومنوں کو پکار کر کہیں گے کہ آج تم ہمیں اپنے نور کا کچھ حصہ دینے کے لئے تیار نہیں بھلا یاد تو کرو الم لکن معکم کیا ہم دنیا میں تمارے ساتھ نہیں تھے یعنی ہم تو اکٹھے ہی گھر میں یا پڑوس میں یا ایک ہی گائوں ، قصبے یا محلے میں رہتے تھے ، پھر آج تم ہمیں کس طرح فراموش کر رہے ہو۔ مومن جواب دیں گے قالو بلیٰ ، کہیں گے کہ بلاشبہ ہم اکٹھے ہی سکونت پذیر تھے ولکنکم فتنتم انفسکم ، لیکن تم نے اپنی جانوں کو فتنے میں مبتلا کرلیا۔ تم نے دنیا میں اخلاص کے ساتھ ایمان قبول نہ کیا۔ خالی زبانی کلمہ پڑھتے رہے اور دل میں پورا یقین نہ کیا۔ ظاہر ہے کفر ، شرک ، بدعات اور بداعتقادی کے فتنے بدترین فتنے ہیں۔ جس میں اکثر انسان مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تم نے ایمان کی بجائے نفاق کو اختیار کیا۔ وتربصتم اور انتظار کرتے رہے کہ کب سچے مسلمانوں پر افتاد پڑے۔ تم ہر جنگ کے موقع پر یہی امید لگائے بیٹھے تھے کہ اب کی بار مسلمان ضرور ختم ہوجائیں گے ۔ اور اسی بنا پر تم نے کافروں ، مشرکوں اور یہودیوں کے ساتھ ساز باز کر کھی تھی۔ وارتبتم اور تم شک میں پڑے ہوئے تھے کہ پتہ نہیں مسلمان سچے ہیں یا نہیں اور پتہ نہیں کہ یہ کامیاب بھی ہوں گے یا یونہی ختم ہوجائیں گے۔ وغرتکم الا مالی ، اور تمہیں جھوٹی آرزئوں نے دھوکے میں ڈالا ہوا تھا کہ فلاں پارٹی کے ساتھ مل جائیں گے اور فلاں سردار کی پناہ حاصل کرلیں گے اور پھر ہم مسلمانوں پر غالب آجائیں گے ، تم اسی طرح شکوک و شبہات اور خواہشات کے چکر میں پڑے ہوئے تھے حتی جآء امر اللہ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا۔ یعنی یا تو مسلمانوں کو مکمل فتح حاصل ہوگئی اور یا پھر خود منافق کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ نے فرمایا اصل بات یہ ہے۔ وغرکم باللہ الغرور کہ اے منافقو ! تمہیں اللہ کے بارے میں بڑے دھوکے باز یعنی شیطان نے دھوکے میں رکھا۔ وہ بڑا دھوکے باز ہے جو ہر طریقے سے انسان کو دھوکہ دے کر گمراہ کرتا ہے۔ وہ کبھی دین کے راستے سے آتا ہے………… اور کبھی مال کے راستے سے ، عرضی کہ کہ ہر راستے سے آکر انسان کو بہکاتا ہے اور پھر قیامت والے دن اسے ساتھ لے کر جہنم میں چلا جائے گا۔ منافقوں اور کافروں کا انجام : آگے اللہ نے منافقوں اور کافروں کا انجام بھی بیان فرمایا ہے۔ فالیوم لا یوخذ منکم فدیۃ ، آج کے دن اے منافقو ! تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا جس کے بدلے میں تم عذاب سے بچ جائو۔ ولا من الذین کفروا ، اور نہ ہی کفر کرنے والوں سے کوئی فدیہ لیا جائے گا۔ اور قیامت والے دن اول تو انسان کے پاس کوئی چیز ہوگی نہیں جو وہ فدیہ کے طور پر دے سکے۔ تاہم سورة المعارج میں اللہ کا ارشاد ہے کہ قیامت والے دن مجرم اپنے بیٹے ، بیوی ، بھائی اور قبیلہ حتیٰ کہ ومن…… …جمیعا (آیت 14) زمین کی ہر چیز کا فدیہ دے کر بھی عذاب سے پکڑنا چاہے گا تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔ فرمایا اس دن تم سے فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ وماولکم النار ھی مولکم ، تمہارا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہوگا۔ اور وہی تمہارے لئے زیادہ لائق ہے۔ مولیٰ کے کئی معنی آتے ہیں تاہم یہاں مراد یہ ہے کہ دوزخ کی آگ ہی تمہارے زیادہ لائق ہے۔ اور اگر مولیٰ مولی کے مادہ سے ہو تو اس کا معنی ہوگا۔ ذلت پہنچانے والی چیز ، گویا دوزخ کی آگ سے تم ذلیل ہوجائو گے۔ وبئس المصیر ، اور یہ لوٹ کر جانے کی بہت بری جگہ ہے۔ مولیٰ کا معنی آقا بھی ہوتا ہے اور اس کا معنی دینے والا بھی۔ مولی کا معنی قسم اٹھانے والا ہوتا ہے۔ اسی سے ایلاء کا مسئلہ بھی نکلا ہے کہ کوئی شخص قسم اٹھائے کہ وہ چار ماہ تک بیوی کے قریب نہیں جائے گا۔ بہرحال اس کا زیادہ معروف معنی لائق ہی ہے اس کی مثال عربی ادب میں بھی ملتی ہے جیسے ایک شاعر نے کہا ہے۔ فغدت کلا الفرجین تحسب انہ مولی المخافۃ خلفھا واما مھا اس نے دونوں خلائوں کے بارے میں خیال کرلیا کہ دونوں خوف کے لائق ہیں ، یعنی آگے سے بھی خوف ہے اور پیچھے سے بھی خوف ہے۔ فرمایا اے منافق مردو اور عورتو ! نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ کافروں سے بلکہ دوزخ کی آگ ہی تمہارے زیادہ لائق ہے جس میں تمہیں ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا ، اور یہ لوٹ کر جانے کی بہت بری جگہ ہے۔