56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 56:1–14

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

نہیں ہے اس کے وقوع کی بات جھوٹی

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہے

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب کہ ہلا دی جائیگی زمین ہلایا جاتا

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے پہاڑ

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پس ہوجائیں گے وہ غبار اڑایا ہوا

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم ہوجائو گے تین قسم پر

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

پس دائیں طرف والے ، کیا ہی اچھے ہیں دائیں طرف والے

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں طرف والے ، کیا ہی برے ہیں بائیں طرف والے

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہی ہیں

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

یہی لوگ مقرب ہیں

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

وہ نعمتوں کے باغوں میں ہوں گے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

گروہ کثیر ہے پہلوں میں سے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے ہیں پچھلوں میں سے

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الواقعہ ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام واقعہ بھی ہے۔ اس کو التاصۃ الکبریٰ اور القارعہ بھی کہا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں سورة طٰہٰ کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی چھیانوے آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 887 الفاظ اور 1903 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : سورۃ یس ٓ کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی دین کے چار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی (1) توحید اور اس کے دلائل (2) رسالت (3) وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص عمل اور خاص طور پر جزائے عمل کے اعتبار سے انسانوں کی تین گروہوں میں تقسیم اور (4) قرآن حکیم کی عظمت وصداقت ۔ یہ چاروں سورة یس ٓ میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں تاہم اس سورة مبارکہ میں ان کا ذکر اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے یہ چاروں اصول۔ ایسے بنیادی اصول ہیں کہ ان پر ایمان لائے بغیر کسی شخص کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ تو یہ چاروں اصول ، عقائد یا مسائل اس سورة میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل جنت کو ملنے والے بعض انعامات اور مجرموں کو ملنے والی بعض سزائوں کا ذکر بھی آگیا ہے۔ فضائل سورة : امام ابن کثیر (رح) ، حافظ ابن عساکر (رح) اور ابویعلیٰ (رح) اور بعض دیگر مفسرین ، محدثین اور مورخین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ (المتوفی 33 ھ) مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو خلیفہ وقت حضرت عثمان ؓ ان کی عیادت کے لئے گئے۔ آپ نے پوچھا ماتشت کی آپ کو کسی چیز کی تکلیف ہے تو ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ مجھے میرے گناہوں اور غلطیوں کی زیادہ تکلیف ہے۔ پھر پوچھا ماتشتھی آپ کی خواہش کیا ہے ؟ یعنی آپ کو کیا چیز چاہیے ؟ انہوں نے کہا رحمۃ ربی مجھے میرے پروردگار کی رحمت کی ضرورت ہے۔ حضرت عثمان نے پھر پوچھا الا امرک بطبیب کیا میں آپ کے لئے کسی طبیب کا انتظام نہ کردوں۔ انہوں نے جواب دیا الطبیب امرضنی ، کہ طبیب ہی نے تو مجھے بیماری میں مبتلا کیا ہے مطلب یہ تھا کہ حقیقی طبیب تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور بیماری بھی اسی کے حکم سے لاحق ہوئی ہے ، لہٰذا اور کسی طبیب کو بلائیں گے ؟ حضرت عثمان ؓ نے پھر پوچھا ، کیا میں تمہارے لئے کسی عطیے کا حکم نہ دوں ؟ کہنے لگے لا حاجۃ لی فیہ مجھے تو اس کی ضرورت نہیں۔ فرمایا یکون لبناتک من بعدک یہ وظیفہ آپ کے بعد آپ کی بچیوں کے کام آئے گا۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا اتخشیٰ علی بناتی تجھے میری بچیوں کی فاقہ کشی کا خطرہ ہے حالانکہ انی امرت بناتی یقران کل لیلۃ سورة الواقعۃ میں نے اپنی بچیوں کو تلقین کررکھی ہے کہ وہ ہر رات سورة الواقعہ پڑھ لیا کریں۔ کیونکہ میں نے حضور ﷺ سے سن رکھا ہے۔ من قراسورۃ الواقعۃ کل لیلۃ لم تصبہ فاقۃ ابدا ، جو شخص ہر رات سورة واقعہ کی تلاوت کرلیا کریگا۔ اس کو کبھی فاقہ نہیں آئے گا۔ بہرحال حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کامل الایمان انسان تھے۔ ان کو حضور ﷺ کی بات پر یقین تھا ، لہٰذا انہوں نے اپنی بچیوں کو بھی یہی تربیت دی تھی۔ حضرت انس ؓ ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اور بہت سے تابعین سے بھی منقول ہے کہ اپنی اولادوں کو سورة الواقعہ سکھلائو کیونکہ یہ سورة الغنا ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غنا عطا کرتا ہے اور فاقہ سے بچاتا ہے۔ اگر کسی کی ظاہری حالت کمزور بھی ہو تو سورة واقعہ کو پڑھنے والے کو سکون قلب ضرور حاصل ہوتا ہے اور وہ کسی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وقوع قیامت کا حال : ارشادہوتا ہے اذا واقعت الواقعۃ جب واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی اس سے مراد قیامت ہے ، یعنی قیامت برپا ہوجائے گی۔ لیس لوقعتھا کاذبۃ اور اس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ بھی نہیں۔ یعنی یہ ضرور برپا ہو کر رہے گی۔ اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وقوع قیامت کو کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ آج تو بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں مگر جب یہ آجائے گی تو پھر کیسے تکذیب کرسکیں گے ؟ اس وقت کسی کی مجال انکار نہیں ہوگی۔ بعض فرماتے ہیں کہ کاذبہ ہے تو فاعل کا صیغہ ، مگر یہاں پر مصدر کے طور پر استعمال ہوا ہے یعنی قیامت کے وقوع میں کوئی جھوٹ نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ پھر فرمایا خافضۃ رافعۃ یہ قیامت پست کرنے والی بھی ہے اور بلند کرنے والی بھی ہے۔ یہ قیامت مشرکوں ، کافروں ، اللہ کے باغیوں اور ملحدوں کو جہنم کی پستیوں میں اتار دے گی۔ جب کہ ایمان ، تقویٰ ، اور نیکی والوں کو بلنددرجات تک پہنچائے گی۔ گویا قیامت بعض کو پست کرنے والی اور بعض کو بلند کرنے والی چیز ہے۔ اور یہ کب واقع ہوگی ؟ اذا رجت الارض رجا جب کہ زمین کو اچھی طرح ہلا دیا جائے گا اس پر زلزلہ طاری ہوجائے گا ۔ جس سے ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی۔ وبست الجبال بسا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ، ٹوٹ پھوٹ جائیں گے فکانت ھباء منبثاً اور اڑتے ہوئے گردوغبار کی طرح ہوجائیں گے سورة القارعہ میں فرمایا وتکون………المنفوش (آیت 5) اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح اڑتے پھیریں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ جو شخص قیامت اپنی نگاہوں سے دیکھنا چاہتا ہے ، اسے چاہیے کہ وہ سورة النبا ، سورة التکویر اور سورة الواقعہ پڑھ لیا کرے ، قیامت کا سارا نقشہ سامنے آجائے گا۔ قیامت کا ایک نام تامۃ الکبریٰ یعنی سب سے بڑا ہنگامہ بھی ہے۔ زمین پر زلزلہ آجائے گا۔ سورة الزلزال میں ہے اذا…………زلزالھا (آیت 1) اور آسمانی سیارے آپس میں ٹکرا کر درہم برہم ہوجائیں گے ، ماہرین فلکیات بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ دم دار ستاروں سے علیحدہ ہونے والے بعض ٹکڑے پوری زمین سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ خطرہ ہے کہ اگر کسی وقت کوئی ٹکڑا زمین سے ٹکرا گیا تو اس زمین کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی اور کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ بہرحال اللہ نے پہلے ہی خبردار کردیا ہے۔ کہ قیامت کا ہنگامہ واقع ہونے والا ہے جب یہ زمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گی۔ پھر نئی زمین اور نیا آسمان قائم ہوگا ، حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔ لوگوں کے تین گروہ : فرمایا جب قیامت واقع ہوگی وکنتم ازوجاثلثۃ تو اے انسانو ! تم تین گروہوں میں تقسیم ہوجائو گے ۔ ان میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ آگے گروہوں کی تفصیل بھی آرہی ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت والے دن تمام اہل ایمان کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی۔ جن میں سے اسی صفیں صرف اس امت کی چالیس صفیں باقی تمام امتوں کی ہوں گی۔ اہل جنت آگے پھر دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک گروہ سابقون کا ہوگا جو نیکی میں بہت آگے بڑھنے والے ہیں اور دوسرا گروہ اصحاب یمین کا ہوگا۔ جو سابقین سے ایک درجہ کم ہوں گے۔ مگر اہل جنت میں سے ہوں گے۔ تیسرا گروہ اصحاب شمال کا ہوگا جو ناکام ہو کر جہنم میں جائیں گے۔ دائیں اور بائیں ہاتھ والے : ارشاد ہوتا ہے فاصحب المیمنۃ ، پس دائیں ہاتھ والے ما اصحب الیمنۃ کیا ہی اچھے ہیں دائیں ہاتھ والے۔ اللہ نے ان کی تعریف فرمائی ہے کہ یہ کامیاب لوگ ہوں گے بعض فرماتے ہیں کہ دائیں ہاتھ والے وہ لوگ ہیں جن کو عہد الست کے وقت آدم (علیہ السلام) کی دائیں طرف سے نکالا گیا تھا۔ یہ مومن ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے وہ لوگ ہوں گے جن کو آدم (علیہ السلام) کی بائیں جانب سے نکالا گیا ، یہ کافر اور مشرک لوگ ہوں گے۔ معراج والی حدیث میں بھی آتا ہے کہ جب حضور ﷺ کی ملاقات حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی تو آپ نے ان کے دائیں اور بائیں بہت سے لوگوں کو دیکھا۔ جب آدم (علیہ السلام) اپنی دائیں طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو روپڑتے۔ دریافت کرنے پر بتلایا گیا کہ دائیں طرف والے لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کے مومن لوگ ہیں جب کہ بائیں طرف والے کافر ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) ان لوگوں کی جہنم رسیدگی پر غمگین ہیں اور دائیں طرف کے اہل جنت کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اہل جنت کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں اور اہل دوزخ کو بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ اہل جنت کو دائیں طرف روانہ کیا جائے گا۔ جب کہ اہل دوزخ کو بائیں جانب بھیجا جائے گا۔ اسی لئے فرمایا واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ ، اور بائیں طرف والے ، کیا ہی برے ہیں بائیں طرف والے کیونکر وہ تو جہنم کے گڑھے میں اترنے والے ہیں۔ سابقین کا گروہ : آگے تیسرے گروہ کا ذکر فرمایا گیا ہے والسبقون السبقون اور سبقت کرنے والے تو سبقت کرنے والے ہی ہیں ، ان کی سعادت کا کیا پوچھنا ؟ فرمایا اولئک المقربون یہ تو مقرب لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل ہے۔ ان لوگوں کے انجام کے متعلق فرمایا فی جنت النعیم یہ تو نعمتوں کے باغوں میں ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں بہت زیادہ نیکیاں کرتے تھے ان کا مرتبہ اصحاب یمین سے بڑھ کر ہوگا ، اسی لئے فرمایا کہ یہ مقربین الٰہی لوگ ہیں ۔ پہلے زمانوں میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی ۔ جیسے فرمایا ثلۃ من الاولین پہلوں میں ان کا گروہ کثیر ہے وقلیل من الاخرین اور پچھلوں میں ان کی تعداد تھوڑی ہوگی۔ پہلے اور پچھلے لوگوں سے متعلق مفسرین کرام کی مختلف آراء ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ پہلوں سے مراد پہلی امتیں ہیں۔ یعنی سابقہ امتوں کے نیکی میں سبقت کرنے والے لوگ زیادہ ہوں گے جب کہ اس آخری امت میں ان کی تعداد کم ہوگی۔ دوسری طرف اس آخرت کو تمام سابقہ امم پر فضیلت بھی بخشی گئی ہے فرماتے ہیں کہ آخری امت کی افضلیت میں تو کوئی شبہ نہیں مگر ان میں سابقین کی تعداد پہلی امتوں کی نسبت کم ہی ہوگی۔ اصل بات یہ ہے کہ سابقین میں اولین لوگ انبیائے کرام (علیہ السلام) ہیں۔ پھر صدیقین اور شہداء ہیں۔ چونکہ سارے انبیاء اور رسل بھی اس گروہ میں شامل ہیں لہٰذا ان کی تعداد کا بڑھ جانا کچھ عجیب نہیں جب کہ آخری امت کا تو ایک ہی آخری نبی اور رسول ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) اور حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) نے اپنے مکاتیب میں یہی لکھا ہے کہ سابقین میں چونکہ نبی اور رسول بھی داخل ہیں ، لہٰذا پہلی امتوں کے سابقین کا پلہ بھاری ہوگا۔ بعض فرماتے ہیں کہ سابقین سے سابقہ امتوں کے لوگ مراد نہیں بلکہ اسی امت کے اولین اور آخرین لوگ مراد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ کے پہلے دور کے لوگوں میں سابقین کی تعدادزیادہ ہے اور پچھلے دور کے لوگوں میں نسبتاً کم۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ، بہترین زمانہ میرا ہے ، پھر مجھ سے ملنے والے لوگوں کا اور پھر ان سے ملنے والے لوگوں کا۔ چناچہ حضور ﷺ کی صحبت کی وجہ سے جو مرتبہ صحابہ کرام ؓ کو حاصل ہے ، وہ دوسروں کو حاصل نہیں۔ اسی طرح تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ بعد کے ادوار سے بہتر ہے لہٰذا ان میں سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ البتہ بعد کے ادوار میں اصحاب یمین تو بہت ہوں گے ۔ مگر سابقین کم ہی ہوں گے ، اور یہ بات بالکل قرین قیاس ہے۔ امام ابن کثیر (رح) نے بھی فرمایا ہے کہ کہ اس سے یہ مراد ہے کہ نبی کے دور کی پہلی جماعتوں میں سابقین کی تعداد زیادہ ہوگی اور بعد میں آنے والے لوگوں میں سابقین کم ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ نبی کے قریب ہونے کی برکت سے مقربین بکثرت ہوتے ہیں ، پھر بعد میں کمزوری آجاتی ہے اور پہلے والی بات نہیں رہتی۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ سابقین کے گروہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ لوگ آگے پیچھے نہیں ہونگے بلکہ سیدھے ایک ہی قطار میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ پہلوں میں تو بہت ہوں گے ، مگر پچھلوں میں ان کی تعداد کم ہوگی۔ مقرب اور ابرار : بعض بزرگان دین فرماتے ہیں کہ مقربین الٰہی کی نگاہ نقطہ آغاز پر ہوتی ہے ۔ یعنی ان کی نظر اپنی تخلیق کے دن پر ہوتی ہے جب فرشتہ پوچھتا ہے کہ پروردگار ! یہ شخص نیک بخت ہوگا یا بد بخت ؟ جب اس کو بتا دیا جاتا ہے تو وہ اسے اپنے رجسٹر میں درج کرلیتا ہے تو مقرب کو ہمیشہ اسی بات کی فکر رہتی ہے کہ پتہ نہیں اس دن میرے حق میں خوش بختی کا فیصلہ ہوا تھا یا بدبختی کا۔ فرماتے ہیں کہ اس کے برخلاف ابرار کی نگاہ ہمیشہ نقطہ انتہا پر ہوتی ہے۔ جب فرشتہ انسان کی روح قبض کرنے کے لئے آتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے پوچھتا ہے کہ پروردگار ! میں نے اس شخص کی روح کو ایمان کے ساتھ نکالنا ہے یا کفر کے ساتھ۔ اس وقت فرشتے کو انسان کی قیمت کا حال بتلادیا جاتا ہے تو ابرار لوگ ہمیشہ اس طرف دیکھتے ہیں کہ پتہ نہیں ہمارے حق میں اللہ کا کیا فیصلہ ہوگا ؟ تو مقرب اور ابرار میں یہ فرق ہے ۔ بہرحال یہ دونوں گروہ خدا خوفی ، نیکی اور ایمان کی وجہ سے کامیاب ہونے والے ہیں۔
Ayahs 56:15–40

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر بیٹھے ہوں گے

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیہ لگانے والے ہوں گے ان پر آمنے سامنے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

پھریں گے ان پر لڑکے ہمیشہ رہنے والے

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

گلاسوں اور صراحیوں کے ساتھ ، اور پیالے نتھری ہوئی صاف شراب سے

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

وہ اس سے سرگرداں نہیں ہوں گے اور نہ کوئی بیہودہ بات کریں گے

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور پھل ہوں گے جو وہ پسند کریں گے

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور پرندوں کا گوشت جو وہ چاہیں گے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور گورے رنگ کی موٹی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

گویا کہ وہ غلاف میں بند کیے ہوئے موتی ہیں

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ بدلہ ہے اس کام کا جو وہ کیا کرتے تھے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

نہیں سنیں گے اس میں کوئی بیہودہ بات ، اور نہ کوئی گناہ کی بات

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر بولنا سلام ہی سلام کا

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور دائیں ہاتھ والے ، کیا ہی خوبی ہے دائیں ہاتھ والوں کی

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

وہ کانٹے اترے ہوئے بیری کے درختوں میں ہوں گے

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بر تہ کیلوں

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے سایوں میں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور بہائے ہوئے پانی میں

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور بہت سے پھلوں میں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

نہ وہ قطع کیے جائیں گے اور نہ روکے جائیں گے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور بچھونے ہونگے اونچے درجے کے

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

بیشک ہم نے (ان کی رفاقت کے لئے) اٹھایا ان کو اٹھانا

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

پس بتایا ہے ہم نے ان کو دوشیزہ

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

محبت کرنے والی ہم عمر

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

دائیں ہاتھ والوں کے لئے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

ایک گروہ کثیر ہوگا پہلوں میں سے

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور ایک کثیر گروہ ہوگا پچھلوں میں سے

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر بیٹھنے والے ہوں گے۔ یہ تخت ہیروں اور جواہرات سے مزین ہوں گے جس کی وجہ سے دیکھنے میں بھی نہایت دلکش ہوں گے اور ان کے بیٹھنے کی کیفیت یہ ہوگی۔ متکئین علیھا متقبلین تکیہ لگا کر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے۔ ہر جنتی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوگا ، اور کسی ایک کی دوسرے کی طرف پشت نہیں ہوگی۔ ظاہر ہے کہ کسی کی طرف پشت کرکے بیٹھنا معیوب معلوم ہوتا ہے ، لہٰذا جنت میں یہ کیفیت کہیں نہیں ہوگی بلکہ سب ایک دوسرے کے روبرو ہوں گے۔ ان پر نہایت ہی خوشی کا عالم ہوگا۔ وہ بیٹھے ہوں گے اور ان کی خدمت کے لئے یطوف علیھم ولدان مخلدون ان کے سامنے لڑکے پھریں گے۔ جو ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ ایک تو وہ خدمت کے لئے ہمہ وقت مستعد رہیں گے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی حالت یعنی بچپن کی عمر میں ہی رہیں گے ، اس دنیا کی طرح جوان اور پھر بوڑھے نہیں ہوجائیں گے۔ یہ بچے کون ہوں گے ؟ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ مشرکین اور کفار کے بچے ہوں گے جو سن بلوغت کو پہنچنے سے پہلے ہی وفات پاگئے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حوروں کی طرح یہ بچے بھی جنت کی مخلوق ہوں گے۔ جن کو اللہ تعالیٰ اہل جنت کی خدمت کے لئے وہیں پیدا کرے گا۔ شراب طہور کے جام : فرمایا یہ بچے سابقین کے سامنے پھریں گے باکواب واباریق جن کے ہاتھوں میں گلاس اور صراحیاں ہوں گی۔ اکواب کو ب کی جمع ہے جس کا معنی گلاس یا آبخورہ ہوتا ہے ، اور اباریق ابریق کی جمع ہے جس کا معنی صراحی یا کوزہ ہے۔ یہ لفظ لوٹے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بہرحال ان چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں گلاس اور صراحیاں ہوں گی۔ وک اس من معین اور نتھری ہوئی صاف و شفاف شراب سے لبریز پیالے ہوں گے ۔ سورة الدھر میں اللہ نے ان خوبصورت بچوں کی تعریف اس طرح فرمائی ہے۔ ویطوف علیھم ولدان مخلدون اذا رایتھم حسبتھم لئولئوا منثور (آیت 19) ان پر نو عمر لڑکے پھریں گے جو ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ جب تم ان پر نگاہ ڈالو گے تو خیال کرو گے کہ یہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ شراب اور صراحی کا تذکرہ پرانی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ زید ابن عباد شاعر کہتا ہے ؎ ودعوا بالصبوح یوما فجائت قینۃ فی یمینھا ابریق انہوں نے صبوح یعنی صبح کا مشروف طلب کیا ، تو ایک لونڈی داہنے ہاتھ میں صراحی پکڑے آگئی۔ عام طور پر صراحی میں شراب ہوتی تھی جسے گلاس یا پیالے میں ڈال کر پلایا جاتا تھا۔ اقیشر نامی شاعر بھی کہتا ہے ؎ افنی تلادی وما جمعت من نشب قرع الکواکیز افواہ الاباریق میرا پرانا اور نیا کمایا ہوا مال صراحیوں اور گلاسوں کے ٹکرانے نے فنا کردیا ہے۔ مراد یہی ہے کہ شراب نوشی نے مجھے کنگال کردیا ہے۔ وکانھا خمر ولا قدح وکانھا قدح ولا خمر شراب یا کوئی دیگر مشروب اور گلاس اس قدر لطیف اور شفاف ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گلاس تو نہیں ہے ، صرف شراب ہی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ نو عمر لڑکے ہوں گے جو ہاتھوں میں صراحیاں اور گلاس لیے اہل جنت کی خدمت پر مامور ہوں گے اور وہ شراب اس دنیا کی شراب کی طرح عقل کو زائل کرنے والی نہیں ہوگی جس کو پی کر لوگ بیہودگی اور دنگا فساد پر اترآتے ہیں ، بلکہ وہ ایسی عمدہ شراب ہوگی لایصدعون عنھا نہ تو اس سے سرگردانی ہوگی ، کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی ولا ینزفون اور نہ اسے پینے والے کوئی بیہودہ بات کریں گے۔ اس میں نشے والی کوئی چیز نہیں ہوگی ۔ اہل جنت کے ہوش و حواس بالکل قائم رہیں گے اور اس میں ہر طرح کا لطف اور سرور ہوگا۔ دنیا کی شراب نوشی سے انسان ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے ، واہی تباہی بکتا ہے اور کئی دوسرے گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہے ، اس لئے شریعت نے شراب نوشی پر حد جاری کی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے جو شخص دنیا میں شراب نوشی کرے گا۔ وہ آخرت میں شراب طہور سے محروم رہے گا۔ پھل اور گوشت : سابقین کے لئے شراب طہور کے علاوہ فرمایا وفاکھۃ مما یتخیرون اور پھل ہوں گے جن کو اہل جنت پسند کریں گے۔ ہر جنتی کے لئے اس کا من پسند پھل مہیا کیا جائے گا اور اس کے حصول کے لئے اسے کوئی تکلیف بھی نہیں اٹھانی پڑیگی بلکہ جیسا کہ پچھلی سورة میں گزرچکا ہے ، یہ پھل اس کے قریب ہی ہوں گے ، نہ وہ ختم ہوں گے اور نہ ہی ان کے استعمال سے روکا جائے گا۔ اس کے علاوہ فرمایا ولحم طیر مما یشتھون ، اور پرندوں کا گوشت ہوگا۔ جیسا کہ وہ چاہیں گے ظاہر ہے کہ بھیڑ ، بکری ، گائے ، اونٹ کے گوشت کی نسبت پرندوں کا گوشت زیادہ لذیذ اور زیادہ مرغوب ہوتا ہے ، لہٰذاسابقین کے لئے جنت میں پر نوں کا من پسند گوشت بھی باافراط ہوگا جسے اہل جنت حسب منشاء واستعمال کرسکیں گے۔ حورعین : پھر انسان کی خوشی خاطر کے لئے اس کے جوڑے کا ذکر بھی فرمایا وحورعین گوری چٹی خوبصورت اور موٹی موٹی آنکھوں والی عورتیں بھی ہوں گی۔ جن سے اہل جنت اپنا دل بہلا سکیں گے۔ یہ جنت کی مخلوق ہوگی ، اور ان کے حسن و جمال کے متعلق فرمایا کا مثال اللئو لئو المکنون ، وہ غلاف میں بند موتیوں کی طرح گردوغبار سے پاک ہوں گی۔ ظاہر اور باطنی ہر لحاظ سے پاکیزہ عورتیں ہوں گی۔ فرمایا جزاء بما کانوا یعملون یہ بدلہ ہوگا اس کام کا جو وہ دنیا میں انجام دیتے رہے۔ یہی جزائے عمل ہے جو وقوع قیامت کا مقصود ہے۔ یہ سب کچھ سابقین اور مقربین کی کمائی کا نتیجہ ہوگا۔ لغویات سے چھٹکارا : پھر فرمایا لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما وہ لو گ اس جنت میں نہ کوئی بیہودہ بات سنیں گے اور نہ ہی کوئی گناہ کی بات ان کے کانوں میں پڑے گی۔ اس دنیا میں تو نہ چاہنے کے باوجود انسان کو بہت سی لغویات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ بازار میں چلتے چلتے ، گالی گلوچ ، دنگا فساد یا بیہودہ گانوں کی آواز کان میں خواہ مخواہ پڑجاتی ہے ، مگر جنت میں ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ وہاں پر الا قیلا سلما سلما وہاں تو ہر طرف سے سلامتی کی آوازیں ہی آئیں گی۔ اہل جنت آپس میں ملیں گے تو ایک دوسرے کے لئے سلامتی کی دعائیں کریں گے۔ فرشتوں کی طرف سے بھی انہیں سلام ہوگا اور پروردگار کی طرف سے بھی سلم ، قولا من رب رحیم (یٰس 58) سلامتی کا تحفہ آئے گا۔ یہ اللہ نے تین میں سے ایک گروہ یعنی سابقین کے انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔ اصحاب یمین : اس کے بعد دوسرے نمبر پر اصحاب یمین والے آتے ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا۔ ان کے متعلق فرمایا واصحب الیمین ، ما اصحب الیمین اور دائیں ہاتھ والے لوگ ، ان کا تو کیا کہنا۔ ان کو بھی اللہ کے رحمت کے مقام جنت میں جگہ ملے گی۔ اور بڑا آرام و راحت نصیب ہوگا۔ یہ نعمتیں اگرچہ سابقین کی نعمتوں سے کم درجہ کی ہونگی مگر فی ذاتہ یہ بھی کمال درجے کی نعمتیں ہوں گی۔ امام ابن کثیر (رح) نے ابن ابی حاتم محدث (رح) کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ کہ امام حسن بصری (رح) سے منقول ہے کہ جب وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے واصحب الیمین ما اصحب الیمین ، تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کی اور کہنے لگے اما السابقون فقد مضی ولکن اللھم اجعلنا من اصحب الیمین ، کہ سابقین کا گروہ تو گزر گیا ، اب اے اللہ تعالیٰ ہمیں اصحاب یمین میں ہی شامل کرلے۔ کیونکہ اگر ہم اس گروہ میں بھی شامل نہ ہوسکے تو ناکام ہوجائیں گے۔ باغات میں ٹھکانا : اب ان اصحاب یمین کو ملنے والے انعام واکرام کے متعلق فرمایا فی سدر مخضود یہ لوگ کانٹے اتاری ہوئی بیری کے درختوں میں ہوں گے۔ بیری کا پھل اگرچہ بہت اچھا پھل ہے مگر اس درخت کی شاخوں کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں جو طبیعت پر ناگوار گزرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جنت کی بیری کے درختوں پر کانٹے نہیں ہوں گے ، لہٰذا جنتی لوگ ان کانٹوں کی تکلیف سے تو مامون ہوں گے مگر اس کا پھل بکثرت ہوگا جسے وہ استعمال کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ فرمایا وطلح منضود تہ بہ تہ کیلے ہوں گے۔ کیلا بھی نہایت عمدہ پھل ہے۔ جو بکثرت کھایا جائے گا۔ بعض ممالک میں یہ غذا کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض جگہ اتنے بڑے بڑے کیلے ہوتے ہیں کہ آدمی صرف ایک ہی کیلا کھا کر سیر ہوجاتا ہے ، طلح کیکر کی طرح کا ایک درخت بھی ہے۔ جسے عرب لوگ خوب پہچانتے ہیں۔ یہ درخت بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جنت میں اس کے ساتھ کانٹے نہیں ہوں گے ، بہرحال طلح کا عام فہم معنی کیلا ہی ہے۔ پھر فرمایا وظل ممدود اور جنت والے لمبے سایوں میں ہوں گے۔ وہاں پر نہ دھوپ ہوگی ، نہ اندھیرا اور نہ ہی سردی بلکہ درختوں کے سایے میں نہایت ہی خوشگوار موسم ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جنت میں اتنے بڑے بڑے درخت ہوں گے کہ ایک تیز رفتار گھڑ سوار سو سال میں بھی اس سائے کو عبور نہیں کرسکے گا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے متعلق سور ۃالنجم میں ذکر ہوچکا ہے کہ یہ اتنا بڑا درخت ہے جس کی جڑچھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان پر ہیں۔ یہ درخت عالم امکان اور عالم وجوب کے درمیان ایک سنگم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضور ﷺ نے درختوں کے لمبے سایوں کی دلیل کے طور پر یہی آیت تلاوت فرمائی وظل ممدود اور فرمایا کہ جنتی لوگ لمبے سایوں میں ہوں گے۔ نیز فرمایا ومآء مسکوب اصحاب یمین بہتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں پاکیزہ پانی ہمیشہ جاری رہے گا اور اس میں کبھی کمی نہیں آئیگی۔ سورة محمد میں ہے کہ اس پانی میں کبھی بدبو پیدا نہیں ہوگی ، بلکہ ہمیشہ تروتازہ اور خوشگوار رہیگا۔ اس کے علاوہ وفاکھۃ کثیرۃ ، وہ لو گ کثیر پھلوں میں ہوں گے یعنی انہیں ہر موسم میں من پسند پھل بغیر کسی محنت کے باافراط میسر ہوں گے اور پھر لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ یہ پھل نہ تو قطع کیے جائیں گے اور نہ روکے جائیں گے ، مطلب یہ ہے کہ پھل اتنے بکثرت ہوں گے کہ ان کے کم پڑجانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہتا اور یہ بھی نہیں ہوگا۔ کہ پھل موجود ہوں مگر اہل جنت کو ان کے استعمال سے روک دیا گیا ہو۔ مقام رحمت کے مکین ہر موسم میں اپنی پسند کے پھل حاصل کرسکیں گے۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا وفرش مرفوعۃ اونچے درجے کے بچھونے یا بستر ہوں گے جن پر اصحاب یمین آرام کرسکیں گے۔ یہ بستر نہایت قیمتی ، خوش رنگ اور آرام دہ ہوں گے جن کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا۔ خوبصورت عورتوں کی رفاقت : اگلی آیت میں اللہ نے خوبصورت عورتوں کی رفاقت کا ذکر کیا ہے جو کہ انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے۔ فرمایا انا انشا نھن انشآء ، ہم نے ان عورتوں کو اٹھایا ہے یعنی پیدا کیا ہے۔ ایسی اٹھان فجعلنھن ابکارا ، کہ ان کو دوشیزہ بنایا ہے۔ وہ کنواری نہایت ہی خوبصورت عورتیں ہوں گی عوبا اترابا لا صحب الیمین ، جو محبت کرنے والی اور ہم عمر ہوں گی دائیں ہاتھ والوں کے لئے بعض اوقات عمر کا تفاوت مردوزن کے لئے بےرغبتی کا سبب بن جاتا ہے۔ مگر جن کی عورتیں مردوں کی ہم عمر ہوں گی۔ کنواری ہوں گی اور ان سے محبت کریں گی۔ لہٰذا ان کی دل لگی میں کسی قسم کا تکدر پیدا نہیں ہوگا اور جنتی مرد اور جنتی عورتیں نہایت دل خوش کن دائمی زندگی گزاریں گے۔ امام ابن کثیر (رح) نے طبرانی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے کہ مذکورہ عورتیں وہ عورتیں ہوں گی جن پر دنیا میں بڑھاپے کی حالت میں موت طاری ہوئی۔ ان کے اعضاء اس قدر کمزور ہوچکے تھے کہ ان کی آنکھوں سے پانی بہتا تھا۔ ان عورتوں کو اللہ تعالیٰ جنت کے لئے نئی اٹھان میں پیدا کرے گا۔ یہ ساری نوجوان دوشیزہ ہوں گی اور اپنے خاوندوں کے ساتھ محبت کریں گی۔ اس حدیث میں یہ بھی آتا ہے نساء الدنیا افضل من حورعین ، یعنی دنیا کی یہ عورتیں جنت کی حوروں سے افضل ہوں گی۔ ان کی یہ فضیلت ان کی نمازوں ، روزوں اور دیگر عبادات ادا کرنے کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی نیکی کی وجہ سے ان کا حسن و جمال اور اخلاق اور پاکیزگی حوروں سے بڑھ کر ہوگی۔ اسی حدیث میں آتا ہے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے حضور ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ دنیا میں بعض عورتیں دو دو ، تین تین خاوندوں والی بھی ہوتی ہیں۔ اگر ایسی کوئی عورت جنت میں چلی گئی اور اس کے تمام شوہر بھی جنت میں پہنچگئے تو ایسی عورت کا ملاپ کس خاوند کے ساتھ ہوگا۔ فرمایا انھا مخیرۃ ایسی عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس شوہر کے ساتھ رہنا پسند کرے اس کا انتخاب کرلے۔ تو ایسی صورت میں وہ عورت تختاراحسن خلق ایسے خاوند کو پسند کریگی جو دنیا میں بہتر اخلاق والا تھا۔ یعنی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا ، پھر فرمایا ، اے ام سلمہ ! عمدہ اخلاق دین ودنیا میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے۔ جنت میں جانے والے مرد عورتیں ہمیشہ جوانی کی حالت میں رہینگے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میں کوئی تغیر نہیں آئے گا۔ فرمایا جنتی مرد بےریش ، سرمگیں ، آنکھوں والے تیس پینتیس سال کے پیٹے میں ہوں گے۔ اور ان کے جسم پر بال نہیں ہوں گے۔ یہ لو گ انپے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی صورت میں ہونگے اور قدوقامت ان ہی کی کے قدوقامت کے مطابق ہوگا۔ اور عورتیں بھی ہمیشہ ہم عمر ہوں گی اور محبت کرنے والی ہوں گی۔ یہ ان لوگوں کے انعامات کا ذکر ہے جن کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا۔ پھر فرمایا ، ایسے لوگ ثلۃ من الاولین پہلے لوگوں میں سے کثیر تعداد میں ہوں گے وثلۃ من الاخرین اور پچھلے لوگوں میں بھی کثیر تعداد میں ہوں گے۔ پہلی امتوں کا ذکر ہو یا اس امت کے پہلے لوگوں کا اصحاب یمین بکثرت ہوں گے۔ سابقین کے متعلق تو بیان ہوچکا ہے کہ وہ پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوں گے مگر اصحاب یمین اور پچھلوں سب میں زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا ذکر بھی فرمادیا ہے۔