55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 55:1–13

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

رحمان نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

سکھایا ہے قرآن

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

پیدا کیا ہے اس نے انسان کو

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

سکھلایا ہے اس کو بولنا

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور آسمان کو اونچا کیا ہے اس نے ، اور رکھی ہے اس نے ترازو

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ نہ زیادتی کرو تم ترازو میں

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور قائم کرو ترازو کو انصاف کے ساتھ ، اور نہ گھٹائو تول میں

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور زمین کو رکھا ہے اس نے مخلوق کے لیے

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں پھل ہیں اور کھجوریں ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور دانے بھوسے والے ہیں ، اور خوشبودار پودے ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں کفر اور شرک کی قباحت کو مختلف طریقوں سے سمجھا کر اس کی تردید فرمائی ہے ، اور توحید کی دعوت دی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ نبوت اور رسالت کا تھا۔ وہ لوگ حضور ﷺ کو اللہ کا نبی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اللہ نے اس مسئلہ کی بھی وضاحت کی ہے۔ پھر وقوع قیامت ، بعت بعد الموت اور جزائے عمل کے مسئلہ کو سمجھایا ہے کیونکہ عرب کے لوگ اس کا بھی انکار کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کے شکوک و شبہات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا آخری پروگرام ہے جس میں پوری انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔ اللہ نے اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر کیا ہے اور اس کی حقانیت کو بیان کیا ہے۔ غرضیکہ اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر تمام انبیاء کے مشترکہ بنیادی اصولوں کا ہی تذکرہ ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط گذشتہ سورة القمر میں انداز کا پہلو غالب تھا۔ اللہ نے سابقہ پانچ نافرمان اقوام کا ذکر کرکے ان کی ہلاکت کے واقعات بیان فرمائے ، اور ساتھ ساتھ عبرت دلانے کے لیے اس جملے کو بار بار دہرایا ولقد یسرنا القراٰن للذکر فھل من مذکرٍ البتہ تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ مطلب یہ تھا کہ قیامت آنے والی ہے ، پھر حساب کتاب کی منزل بھی آئے گی اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے لہٰذا آج موقع ہے کہ قرآن جیسی عظیم نعمت سے نصیحت حاصل کرلو ، اور آخرت کی سزا سے بچ کر اللہ کی رحمت کے مقام میں داخل ہونے کا بندوبست کرلو۔ نیز یہ بھی باور کرانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو نافرمانوں کو اس دنیا میں بھی سزا دینے پر قادر ہے ، اور پھر آخرت کا عذاب تو دائمی ہے گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ نے متقین کے انعامات کے ضمن میں فرمایا فی مقعد صدق عند ملیکٍ مقتدرٍ کہ ایسے لوگ سچی بیٹھک میں بڑی قدرت رکھنے والے بادشاہ کے پاس ہوں گے۔ اب یہاں اس سورة کا آغاز لفظ الرحمن سے ہورہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کمالِ قدرت کا کمال اور مجرموں کو سزا دینے پر قادر ہے ، وہی خداوند کریم نہایت مہربان بھی ہے۔ چناچہ اس سورة مبارکہ میں خدا تعالیٰ کی بہت سی نعمتوں کا ذکر کرکے انسانوں اور جنوں کو ترغیب دلائی گئی ہے اور ساتھ ساتھ انداز بھی کیا گیا ہے کہ تم ان نعمتوں کو کیسے جھٹلا سکتے ہو۔ غرضیکہ پچھلی سورتوں کے لفظ مقتدر سے سزا کی طرف اشارہ ملتا ہے جب کہ الرحمن سے شفقت و مہربانی کا اظہار ہوتا ہے۔ دونوں سورتوں کا آپس میں اس طرح سے ربط ہے۔ خواصِ سورة قرآن پاک کا یہ اسلوب ہے کہ بعض سورتوں میں بعض جملوں کو بار بار دہرایا گیا ہے۔ جس سے سورة میں بیان کردہ مضمون کو اجاگر کرنا مقصود ہوتا ہے۔ چناچہ گذشتہ سورة القمر میں یہ آیت بتکرار آتی ہے ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مذکرٍ اور البتہ تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے ، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ سورة الشعراء میں یہ آیت بار بار آتی ہے ان ربک لھوا العزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار غالب اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سورة المرسلت میں ویل یومذ للمکذبین والی آیت بار بار آئی ہے ، یعنی اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ اسی اسلوب بیان کے مطابق اللہ نے اس سورة مبارکہ میں اپنی مختلف نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ آیت بار بار دہرائی ہے فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن پس اے جنو ! اور انسانو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ بعض روایات میں آتا ہے لکلٍ شیء عروس و عروس القرآن سورة الرحمن ہر چیز کی کوئی عروس ہوتی ہے اور قرآن کی عروس سورة الرحمن ہے۔ اللہ نے اس سورة کے ذریعے قرآن کو زینت بخشی ہے۔ انعامات الٰہیہ سورة کی ابتداء اس طرح ہوتی ہے الرحمن خدائے رحمان جو بیحد مہربان ہے۔ اسی لفظ سے اللہ تعالیٰگ کے بیحد و بیشمار انعامات کی طرف اشارہ ملتا ہے جو اس نے اپنی مخلوق اور خاص طور پر انسانوں پر کیے ہیں ، آگے مکرر آنے والی آیات میں الاء کا لفظ آرہا ہے جو الی یا الی کی جمع ہے اور اس معنی نعمت ہے۔ ان انعامات میں مادی ، انعامات بھی ہیں جن کو ہر شخص استعمال میں لاتا ہے اور حسی بھی جنہیں بآ سانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بعض انعامات ظاہری ہیں جن سے ہر نیک و بد آدمی مستفید ہوتا ہے اور بعض انعامات باطنی یا معنوی ہیں جن میں سے بلند ترین انعام اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم ہے جو اللہ نے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ انسان اپنے جسم پر غور کرے کہ یہ کس قدر حقیر اور ناتواں چیز ہے۔ اللہ نے فرمایا لخلق السموٰت والارض اکبر من خلق الناس ( المومن۔ 57) ارض و سما کی تخلیق لوگوں کی تخلیق سے بہت بڑی چیز ہے انسان تو ایک کیڑے مکوڑے کی طرح ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر اللہ نے اسے ایک ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جس کو ارض و سما اور پہاڑ بھی اٹھانے سے عاجز ہیں۔ کہاں یہ کمزور انسان اور کہاں یہ اللہ کی عظیم نعمت۔ قرآن حکیم ایسا بحرناپید اکنار ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات میں سے سب سے پہلے اسی نعمت کا ذکر کیا ہے۔ قرآن بطور معجزہ فرمایا خدائے رحمان ، بیحد مہربان وہ ذات ہے علم القرآن جس نے انسان کو قرآن سکھایا ، حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے نبیوں کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا کیا ہے لیکن مجھے جو خاص معجزہ عطا فرمایا گیا ہے وہ وحی اوحی اللہ الی اللہ نے میری طرف وحی کے ذریعے نازل فرمایا ہے اور وہ قرآن حکیم ہے جو روحانی اور علمی معجزہ ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ دیگر انبیاء کے معجزات تو ان کے ساتھ ہی ختم ہوگئے۔ مگر میرا معجزہ تا قیام قیامت قائم رہے گا۔ دوسرے الفاظ میں میرے دعویٰ نبوت کی یہ دلیل ہے جو ہر وقت قائم و دائم ہے لہٰذا اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اس عظیم نعمت کے حصول پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں جس نے انہیں قرآن جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ قوتِ گویائی کی نعمت فرمایا خدائے رحمان ، بیحد مہربان وہ ذات ہے خلق الانسان جس نے انسان کو پیدا کیا علمہ البیان اور اسے بولنا سکھایا۔ انسان کو اللہ نے قوت ِ گویائی عطافرمائی جو اس کی مابہ الامتیاز چیزوں میں سے ہے۔ قوتِ گویائی جیسی عظیم نعمت کے ذریعے انسان اپنا ماضی الضمیر بیان کرسکتا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو انسان جانوروں کی طرح گونگا ہوتا ، نہ اپنی خوشی اور غمی کا اظہار کرسکتا۔ نہ اپنی تکلیف بیان کرسکتا اور نہ اپنی ضروریات طلب کرسکتا۔ تمام علوم وفنون کا اظہار زبان کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح لطیف احساسات اور باریک چیزوں کا اظہار بھی زبان ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ یہی قوت گویائی کبھی شعرو ادب کا رنگ اختیار کرلیتی ہے۔ کبھی فلسفہ و حکمت کی باتیں بتاتی ہے اور کبھی مثال اور کہانی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے انسانوں اور عام جانوروں میں یہ بہت بڑا امتیاز ہے اور انسان کے لیے باعث تفوق ہے۔ آفاقی نعمتیں اس کے بعد اللہ نے بعض آفاقی نعمتوں کا ذکر ہے الشمس والقمر حسبان سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نظام شمسی قائم کرکے مخلوق پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔ دن رات کے تغیرو تبدل تیز روشنی اور مدہم روشنی ، سردی اور گرمی ، بہار اور خزان سب سورج اور چاند کے ایک مربوط نظام کے ساتھ منسلک ہونے کا مرہون منت ہے۔ اللہ نے شمس و قمر کو ایک خاص نظام کے تحت اپنی ڈیوٹی پر لگا دیا ہے جسے وہ انجام دے رہے ہیں اجرام فلکی کی گردش میں اگر ذرا بھی فرق پڑجائے گا تو کائنات کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے بہر حال اللہ نے سورج اور چاند کو مخلوق کو مصلحت کی خاطرپیدا کیا ہے جو کہ بہت بڑی نعمت ہے۔ پھر فرمایا والنجم والشجر یسجدن اور پودے اور درخت سجدہ کر رہے ہیں شجر نبانات کی وہ قسم ہے جس کا مضبوط تنا ہوتا ہے اور پھر آگے اس کی شاخیں اور پتے وغیرہ ہوتے ہیں۔ البتہ نجم سے مراد پودے یا جڑی بوٹیاں ہیں جن کا تنا نہیں ہوتا بلکہ وہ زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ فرمایا یہ سب چیزیں اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ ارض و سما اور اس میں پائی جانے والی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہیں ولکن لا تفقھون تسبیحھم (آیت۔ 44) مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ یہ چیزیں جس طریقے سے سجدہ کرتی ہیں یا اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتی ہیں اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے یا خود یہ چیزیں جانتی ہیں۔ اللہ نے ارض و سما کی تمام چیزیں انسانوں کی مصلحت کے لیے پیدا فرمائی ہیں ، اور یہ اسی کی فرمانبردار ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ میزان علامتِ عدل فرمایا والسماء رفعھا اور آسمان کو بلند کیا ہے۔ اتنی بڑی چیز کو بغیر ستونوں کے کھڑا کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی علامت ہے۔ نیز فرمایا وضع المیزان اور اس میں ترازو کو رکھ دیا۔ بعض لوگ اس مقام پر میزان سے عقل مراد لیتے ہیں جس سے نیکی اور بدی کو ، یا صحیح اور غلط کو معلوم کیا جاتا ہے۔ تاہم صحیح بات یہ ہے کہ اس مقام پر میزان سے مراد ترازو ہی ہے۔ گویا اللہ نے آسمان کو بلند کیا ، اس میں ترازو مقرر کیا ، اور فرمایا الا تطغوا فی المیزان ترازو میں سرکشی اختیار نہ کرو یعنی حد سے نہ بڑھو۔ واقیمو الوزن بالقسط اور وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو ولا تخسروا المیزان اور تول میں کمی نہ کرو۔ بظاہر آسمان کی بلندی اور ترازو کے درمیان کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہورہا ہے۔ تو انہی انعامات میں ترازو بھی ایک اہم انعام ہے جو کہ عدل کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ترازو سے صرف تولنے والا ترازو مراد نہیں بلکہ اس میں ماپ تول کے تمام پیمانے گز ، میٹر ، لیٹر ، کلو گرام وغیرہ شامل ہیں تو جس طرح ماپ تول میں کمی بیشی نہیں کرنی چاہئے۔ اسی طرح زندگی کے ہر معاملہ میں عدل کو قائم رکھناچاہئے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا کا اجتماعی نظام عدل پر ہی قائم ہوتا ہے اور اس کے بغیر معاشرتی نظام بگڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر طرف لعنت برسنے لگتی ہے۔ لہٰذا عدل بہت بڑی صفت اور بڑی ضروری چیز ہے۔ تو عدل کے قیام کے لیے اللہ نے ترازو کو قائم کیا ہے اور ترازو میں سرکشی یہ ہے کہ ماپ و تول میں کمی بیشی کی جائے۔ اور خسارا یہ ہے کہ دیتے وقت کم دو جیسے سورة المطففین میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ویلل للہ للمطففین الذین اذا کتالوا علی الناس یستوفون واذا کالو ھم او وزنوھم یخسرون ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے خرابی ہے۔ جو لوگوں سے ناپ کر تو پورا لیتے ہیں اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں۔ دنیا میں یہ بیماری اکثر پائی جاتی ہے جو عدل و انصاف کے منافی ہے۔ بعض اوقات باٹوں میں کمی کردی جاتی ہے اور کبھی پیمانے چھوٹے بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تولتے وقت ڈنڈی ماری جاتی ہے دوسرے کو نقصان پہنچانے کا جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے وہ قابل مذمت ہے۔ ہر حقدار کو اس کا حق لازماً ملناچاہئے۔ اسی لیے اللہ نے ترازو کو مدار عدل بنایا ہے۔ زمین کے فوائد آگے اللہ نے ایک اور انعام کا ذکر فرمایا ہے والارض وضعھا للا نام اللہ نے زمین کو مخلوق کے لیے بچھایا ہے۔ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے لوگوں کے چلنے پھرنے اور کام کاج کرنے کے لیے اس کو ہموار بنایا ہے۔ یہ نہ تو اتنی نرم ہے کہ انسان اس میں دھنس جائیں اور نہ اتنی سخت ہے کہ کھیتی باڑی اور دوسری ضروریات کے لیے کام نہ آسکے۔ لوگ اپنی ضرورت کے لیے اسے آسانی سے کھو د سکتے ہیں۔ اس کی مٹی کو عمارات کی تعمیر میں استعمال کرتے ہیں۔ اور اس سے لوہا ، کوئلہ ، تیل ، پانی اور دیگر مع دنیات نکالتے ہیں۔ جو معاشرتی زندگی کے لیے نہایت ہی کارآمد ہیں۔ اب مخلوق میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ جنات ، جانور ، کیڑے مکوڑے ، درندے ، پرندے اور لاکھوں اقسام کے آبی جانور بھی آتے ہیں۔ ان تمام جانداروں کی زندگی زمین کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ زمین نہ صرف زندہ مخلوق کی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی انسان کو یہی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے منھا خلقنکم و فیھا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃً اخرٰی ( طہٰ ۔ 55) ہم نے اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا ، اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور پھر اسی سے دوسری دفعہ قیامت کو نکالیں گے۔ فرمایا فیھا فاکھۃ اسی زمین میں ہم نے پھل رکھے ہیں جنہیں انسان کھاتے ہیں والنخل ذات الاکمام اور کھجوریں بھی اسی زمین سے پیدا ہوتی ہیں جن کے پھل پر غلاف چڑھا ہوتا ہے۔ کم دراصل اس ڈوڈی کو کہتے ہیں جن کے اندر پھل ہوتا ہے اس سے وہ غلاف بھی مراد ہوسکتے ہیں جو کھجوروں یا دیگر پھلوں پر چڑھا دیے جاتے ہیں۔ تاکہ پرندے نقصان نہ پہنچا سکیں۔ بہرحال فرمایا کہ انسان کی خوراک بننے والے تمام پھل زمین سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ والحب ذوالعصف اور بھوسے والے دانے بھی اسی زمین کی پیداوار ہیں اناج کی مختلف قسموں کے دانے بھوسے کے اندر بند ہوتے ہیں جنہیں اتار کر غلہ حاصل کیا جاسکتا ہے اور پھر یہی بھوسہ یا چھلکا جانوروں کی خوراک بن جاتا ہے۔ نیز فرمایا والریحان اور خوشبو دار پودے بھی زمین ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ریحان کا عام معنی تو خوشبو دار پودا ہی ہوتا ہے جیسے نیازبو وغیرہ ، تاہم اس سے رزق بھی مراد لیا جاتا ہے جس میں ہر قسم کا اناج اور پھل بھی آجاتے ہیں۔ ان تمام علوی اور سفلی انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے جنوں اور انسانوں کی انواع سے خطاب کرکے فرمایا فبایّ الاء ربکما تکذبٰن تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ مذکورہ نعمتوں سے مستفید ہو کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور ان میں قرآن کریم جیسی روحانی نعمت تو بےمثال نعمت ہے۔ اللہ نے انسانوں اور دیگر مخلوق پر اس قدر انعامات فرماتے ہیں کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اس کا کماحقہ شکر ادا ہی نہیں کرسکتا۔
Ayahs 55:14–25

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

پیدا کیا اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے جیسا کہ ٹھیکرہ ہوتا ہے

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور پیدا کیا اس نے جنوں کو شعلہ مارنے والی آگ سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

دو مشرقوں اور دو مغربوں کا مالک ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

چلا دیے اس نے دو دریا جو آپس میں مل کر چلتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

اور ان کے درمیان میں پردہ ہے کہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

نکلتے ہیں دونوں دریائوں سے موتی اور مونگے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اور اسی کے لیے ہیں کشتیاں جو چلتی ہیں دریا میں جس میں پہاڑوں جیسی موجیں اٹھتی ہیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو کیونکہ اس سے معاشرہ میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ پھر اللہ نے زمین کی تخلیق کا ذکر کیا کہ یہ بھی انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا کی گئی ہے۔ اللہ نے اس میں پھل اور غلہ اگایا ہے۔ جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک ہے۔ ان انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اے انسانو ! اور جنو ! اللہ نے تمہیں بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے ، تم اس کی کس کس نعمت کی ناقدری کروگے۔ تخلیق انسانی گذشتہ درس میں مطلق انسانی تخلیق کا ذکر ہوا خلق الانسان ( آیت۔ 3) یعنی اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے قوت گویائی عطا فرمائی اب آج کے درس میں انسان کے مادہ تخلیق کا ذکر ہورہا ہے خلق الانسان من صلصالٍ کا لفخار اللہ نے انسان کو ٹھیکرے جیسی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ فخار اس ٹھیکرے کو کہتے ہیں جو مٹی سے بنایاجاتا ہے اور آگ میں پکنے کے بعد بجنے لگتا ہے۔ سورة الصفت میں فرمایا ہے انا خلقنھم من طینٍ لازبٍ ( آیت۔ 11) یعنی ہم نے نسل انسانی کو چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا۔ دراصل اللہ نے بنی نوع انسان کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ، اور پھر اس نسل کو تناسل کے ذریعے پھیلا دیا۔ جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو صحیح حدیث کے مطابق فرشتے کو حکم دیا کہ تمام روئے زمین سے تھوڑی تھوڑی مٹی لے کر اس سے آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کیا جائے جس کی تعمیل کی گئی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ نسل انسان کی مختلف رنگتیں ، ان کی نرم اور سخت مزاجی وغیرہ مٹی کے اثرات کی وجہ سے ہے۔ چناچہ اس مٹی سے آد م (علیہ السلام) کا مجسمہ تیار کرکے رکھ دیا گیا۔ وہ خشک ہوگیا تو اس میں کھنکھناہٹ کی کیفیت پیدا ہوگئی ، جس کا اللہ نے یہاں ذکر کیا ہے۔ جنات کی تخلیق انسان کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے جنات کی تخلیق کا بھی تذکرہ فرمایا وخلق الجان من مارج من نارٍ اور جنات کو اللہ نے شعلہ مارنے والی آگ سے پیدا کیا جس میں دھواں نہیں ہوتا۔ جن اللہ تعالیٰ کی لطیف مخلوق ہے جو انسانوں کو نظر نہیں آتی ، البتہ وہ انسانوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہاں ! اگر کوئی جن شکل تبدیل کرلے تو پھر انسانوں کو بھی نظر آجاتا ہے۔ مسلم اور مسند احمد وغیرہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ نے فرمایا خلقت الملٰئکۃ من نور۔ اللہ نے فرشتوں کو نورانی مادہ سے پیدا کیا۔ اللہ نے درجہ اوّل کے فرشتوں یعنی ملاء اعلیٰ کی جماعت اور عالم بالا کے فرشتوں کو اس نہایت ہی لطیف نورانی مادہ سے پیدا فرمایا۔ شاہ ولی اللہ صاحب (رح) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر نظر آنے والی آگ کو بطور مثال پیش کیا ہے۔ جب آپ اس آگ کے قریب پہنچتے تو پتہ چلا کہ وہ آگ درخت پر ظاہر ہورہی ہے اور درخت کو جلانے کی بجائے اس میں مزید شادابی کا باعث بن رہی تھی جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے قریب جاتے تو وہ پیچھے ہٹ جاتی ، اور جب آپ پیچھے ہٹتے تو وہ پھر اپنی جگہ پر آجاتی یہ ہماری آگ جیسی تو نہیں تھی جو ایندھن کو جلانے سے پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ حجابِ نوری یا حجاب ناری تھا جو کہ بہت ہی لطیف چیز ہے۔ تو شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے ملاء اعلیٰ کے فرشتوں کو اسی قسم کے کسی لطیف نورانی مادے سے پیدا فرمایا ہے۔ اس کے بعد دوسرے درجے کے فرشتے ہیں جن کو اللہ نے عام مثال کے لطیف مادے سے پیدا کیا ہے۔ اور پھر اس سے نچلے والے فرشتے ذرا کم لطیف مادے سے پیدا کیے گیے حتیٰ کہ اللہ نے جنات کو شعلہ مارنے والی آگ سے پیدا کیا۔ بہرحال اللہ نے فرشتوں کو نورانی مادے ، جنوں کو آگ سے اور انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ شاہ ولی اللہ (رح) کی حکمت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی حکمت اور فلسفہ کے مطابق بیان کرتے ہیں کہ اجسام کے مختلف درجات ہیں ، اور سب سے موٹی چیز معدنی اجسام ہیں۔ جن میں سونا ، چاندی ، لوہا ، کوئلہ ، نمک وغیرہ شامل ہیں ، اور ان میں بھی روح ہوتی ہے اگرچہ وہ بہت کمزور ہوتی ہے۔ اس روح کا فائدہ یہ ہے کہ معدنی اشیاء اپنی صورت اور اپنے خواص کو محفوظ رکھتی ہے۔ اس طرح نباتات میں بھی روح ہوتی ہے جس کی بدولت پودے ، درخت اور سبزیاں نشونما پاتے ہیں اور اپنی صورت اور خواص کو برقرار رکھتے ہیں۔ پھر حیوانات میں ایسی روح ہوتی ہے کہ ان میں شعور بھی پایا جاتا ہے۔ حیوانات بھی اپنے ارادے سے حس و حرکت کرتے ہیں اور اپنے خواص کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ناطق مخلوق آتی ہے۔ ناطق مخلوق میں انسانوں کے علاوہ بعض دوسری انواع بھی شامل ہیں۔ انسانی اجسام میں مٹی ، آگ ، ہوا اور پانی وغیرہ بہت سے عناصر ہیں مگر ان میں باقی عناصر کی نسبت مٹی کی مقدار زیادہ ہے اور باقی عناصر معتدل ہیں ، تاہم انسانی جسم میں اعتدال پایاجاتا ہے مخلوق ناطق کی ایک قسم سفلی ملائکہ ہے جن کے اجسا م میں ہوا کی مقدار دوسرے عناصر کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض ناطق مخلوق میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ مائی انسان ہیں جو پانی کے اندر رہتے ہیں۔ اسی طرح ایک مخلوقِ ناطق وہ ہے جس میں آ گ کی مقدار زیادہ ہے اور باقی عناصر معتدل ہیں ۔ یہ جنات ہیں۔ پھر ایک ناطق مخلوق ملک علوی ہے جو افلاک کے مادہ سے پیدا ہوتی ہے یہ بھی لطیف مخلوق ہے۔ بہرحال اللہ نے انسانوں کو اپنی تخلیق کی یاد دلائی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ آگے پھر وہی جملہ دہرایا ہے فبایّ اـلا ربکما تکذبٰن اے جنو ! اور انسانو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کا کفران کروگے ؟ الاء کا معنی نعمت ، احسان ، مہربانی ، قدرت اور کرشمہ بھی ہوتا ہے۔ اللہ نے مذکورہ تمام نعمتیں انسانوں کو عطا فرمائی ہیں اور انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر پوچھا ہے کہ بتلائو تم میری کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ بالآخر تمہیں میری عطا کردہ نعمتوں کا اقرار کرنا ہی پڑے گا۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے سورة الرحمن تلاوت فرمائی اور پھر لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا ، لوگو ! تم خاموش بیٹھے ہو ، تم سے تو جنات نے مجھے اچھا جواب دیا۔ فرمایا کہ جنات کی خواہش پر میری ان سے ملاقات ہوگئی ، پھر میں نے ان کو یہ سورة مبارکہ سنائی۔ جب بھی میں آیت فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن کی تلاوت کرتا تو جناب جواب دیتے بنعمک ربنا لا تکذب فلک الحمد یعنی اے پروردگار ! ہم تیری کسی نعمت کی ناشکرگزاری نہیں کرتے ، اور ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ عربی ادب میں تکرار کا اسلوب کسی جملے کا بار بار دہرایا جانا عربی زبان کے عین مطابق ہے۔ عرب لوگ کسی اہم یا فکر انگیز بات کو اپنے کلام میں بار بار دہرایا کرتے تھے۔ یہ کوئی عیب کی بات نہیں بلکہ اسلوبِ کلام ہے۔ اس تکرار سے ذہنوں میں کمال درجے کی خوشی پیدا ہوتی ہے۔ چناچہ بعض عرب شاعروں نے بھی اپنے کلام کو اس قسم کی تکرار سے مزین کیا ہے۔ مثلاً ایک مشہور عرب شاعر مہلہل ہوا ہے۔ اس کا بھائی اپنی قوم کا سردار تھا۔ جب وہ مر گیا تو شاعر نے اس کے مرثیے میں ایسے جملے کہے جن میں ایک بات کو بار بار دہرایا گیا ہے۔؎ الا ان لیس عدلاً من کلیبٍ اذا طرد الیتیم عن الجزور بڑے افسوس کا مقام ہے کہ کلیب موجود نہیں ہے جس وقت کہ کسی یتیم کو اونٹ کے گوشت کے قریب نہیں آنے دیا جاتا۔ الا ان لیس عدلا من کلیب اذا ما ضیم جیران المجیر الا ان لیس عدلاً من کلیب اذا رجف العضاہ من الدبور افسوس کہ آج کلیب موجود نہیں ہے جبکہ آج پڑوسی پر ظلم کیا جارہا ہے۔ افسوس کہ آج کلیب موجود نہیں ہے جبکہ گرم ہوائوں کی وجہ سے عضاہ کے درخت ہل رہے ہیں ( یعنی خشک سالی کی وجہ سے محتاجوں کو کوئی کھلاتا پلات نہیں یہ کام کلیب کرتا تھا) ۔ الا ان لیس عدلاً من کلیبٍ اذا خرجت مخبّاۃ الخدور افسوس کہ آج کلیب موجود نہیں ہے جبکہ پرد ہ نشین عورتیں باہر نکلتی ہیں ( کسی سخت خطرے کے وقت ہی عورتوں کو باہر نکلنا پڑتا تھا۔ مگر شاعر کہتا ہے کہ ایسی مصیبت میں کلیب موجود نہیں ہے) الا ان لیس عدلاً من کلیب اذا ما اعلنت نجوی الامور افسوس کہ آج کلیب موجود نہیں ہے جب کہ سینوں کے راز کھولے جاتے ہیں یعنی جب صلح و جنگ کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس وقت کلیب کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مشہور خاتون شاعرہ لیلی اخییہ نے بھی ایک سردار کے مرثیے میں اس قسم کی تکرار کی ہے۔؎ لنعم الفتیٰ کنت توب لم تک تسبق یوماً کنت فیہ اے توب تم کتنے اچھے جوان تھے کہ جس چیز کا قصد کرتے تھے اس سے آگے کوئی نہیں بڑھ سکتا تھا۔ لنعم الفتیٰ توب کنت اتاک لکی تحمی و نعم المجامل لنعم الفتیٰ توب کنت صدور العوالی واستشال الاسافل ونعم الفتیٰ یاتوب جاراً وّ صاجاً ونعم الفتیٰ یاتوب حین تناضل لعمری لانت المرء ابکی لفقدہ ولولام فیہ ناقص الرأی جاھل تم کتنے اچھے جوان تھے اے توب ! کہ تو خوفزدہ آدمی کی حمایت کے لیے آتا تھا تو کتنا اچھا جوان تھا اے توب ! جب کہ نیزوں کے سینے آپس میں ملتے تھے ، تم کتنے اچھے نوجوان تھے ساتھی اور پڑوسی اور تم کتنے اچھے نوجوان تھے جب ہمارے درمیان دشمن سے مقابلہ کرتے تھے۔ مجھے میری جان کی قسم تم ایسے آدمی ہو جس کے گم ہونے پر میں روہوں اگرچہ کم عقل بیوقوف آدمی ملامت ہی کرے۔ الغرض ! قرآن پاک میں کسی جملے کا تکرار کوئی نئی چیز نہیں۔ بلکہ یہ عربی زبان کے اسلوب کے مطابق ہے اور اس تکرار سے کلام میں جوش پیدا ہوتا ہے اور یہ زیادہ اثر انگیز ثابت ہوتا ہے۔ مشرق و مغرب کا پروردگار آگے ارشاد خداوندی ہے رب المشرقین و رب المغربین اللہ تعالیٰ وہ ہے جو دو مشرقوں اور دو مغربوں کا پروردگار ہے۔ مشرق اور مغرب تو ایک ایک ہی ہے لیکن یہ قرآن کا اسلوب بیان ہے کہ اس نے مشرق و مغرب کے لیے واحد تثنیہ اور جمع تینوں صیغے استعمال کیے ہیں۔ یہاں تثنیہ کا صیغہ ہے تو سورة المزمل میں واحد کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ رب المشرق و المغرب ( آیت۔ 9) یعنی وہ مشرق و مغرب کا پروردگار ہے ۔ اسی طرح سورة الصٰفت میں جمع کا صیغہ بھی آیا ہے رب السموت والارض وما بینھما ورب المشارق ( آیت۔ 5) وہ ارض و سما اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بھی پروردگار اور تمام مشرقوں کا بھی پروردگار ہے۔ سورة المعارج میں بھی ہے۔ فلا اقسم برب المشرق والمغرب انا لقدرون (آیت۔ 40) ایک مشرقی سمت اور دوسری مغربی سمت تو واضح ہیں۔ البتہ جب دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ موسم سرما اور گرما میں طلوع و غروب آفتاب کے مقامات مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب جمع کا صیغہ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج ہر روز نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور نئی جگہ میں غروب ہوتا ہے۔ نظامِ شمسی کے مطابق سورج کی بارہ منزلیں یا بارہ برج ہیں۔ اور سورج سال بھر میں ان بارہ منزلوں میں چلتا ہے اس لحاظ سے ہم کئی مشرق اور کئی مغرب بھی کہہ سکتے ہیں۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ صیغہ کوئی بھی استعمال ہو مطلب مفرد ہی ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ مشرق و مغرب کا پروردگار ہے اور آگے پھر وہی جملہ فرمایا فبایّ اٰلاء ربکما تکذبٰن اے جنو ! اور انسانو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کی ناقدری کروگے ؟ دو متوازی دریا آگے اللہ نے اپنی ایک اور قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے مرج البحرین یلتقیٰن اس نے دو دریا اکٹھے اور متوازی چلا دئیے ہیں جو آپس میں ملے ہوئے ہیں بینھما برزخ لا یبغیٰن ان کے درمیان ایک ایسا قدرتی پردہ ہے کہ ان کا پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتا۔ ایک دریا کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کڑوا مگر ایک کے پانی کا اثر دوسرے پر نہیں ہوتا بلکہ یہ دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں یہ بھی اللہ نے انسانوں کی مصلحت ہی کیلئے پیدا کیے ہیں۔ انسان کے مفاد دونوں قسم کے پانی سے وابستہ ہیں اور یہ دونوں سے مستفید ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا فبایّ الاء ربکما تکذبٰن تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائوگے ؟ موتی اور مونگے آگے اللہ تعالیٰ نے ان دو دریائوں کے فوائد کے ضمن میں فرمایا یخرج منھما اللولو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں مونگا سمندر میں پیدا ہونے والا ایک درخت ہے جس میں جانوروں کی طرح زندہ مادہ ہوتا ہے۔ اس درخت کو کاٹ کر حیوانی مادہ الگ کرلیاجاتا ہے۔ پھر اس میں سرخ پتھر کی طرح کا مادہ نکلتا ہے۔ جس کو مختلف دوائیوں میں کیمیائی جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ نیز یہ مادہ زینت کے کام بھی آتا ہے۔ لغت کے ماہرین ، صاحب مختار الصحاح اور قاموس والے کہتے ہیں کہ لؤلؤ کا معنی بڑا موتی اور مرجان کا معنی چھوٹا موتی ہے بعض نے اس کے برعکس بھی کہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ بھی پہلے معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہر حال اللہ نے ہی یہ موتی اور مونگے سمندروں اور دریائوں میں پیدا کیے ہیں جن کو انسان کام میں لاتے ہیں۔ تاہم موتی عام طور پر کھارے پانی میں ہوتے ہیں۔ موتیوں کی پیدائش کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ سمندروں میں بڑے سیپوں کا منہ کھلا ہوا ہوتا ہے ، اور اگر بارش کا کوئی قطرہ براہ راست سیپ کے اندر چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی قدرت تامہ سے موتی بنا دیتا ہے جسے لوگ نکال کر زینت کے لیے یا دوائی کے جزو کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ بات حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جس طرح رحم مادر میں قطرہ آب سے بچہ پیدا ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ بارش کے قطرہ آب کو موتی کی صورت میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس نعمت کے تذکرے کے بعد اللہ نے پھر وہی جملہ دہرایا ہے فبایّ اٰلاء ربکما تکذبٰن اے جنات اور انسانوں کے گروہ تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ کشتیوں کی نعمت آگے ایک اور انعام کا ذکر فرمایا ولہ الجرار المنشئت فی البحر کالا علام اور سمندروں اور دریائوں میں چلنے والی کشتیاں بھی اسی کی ہیں جن میں پہاڑوں جیسی بڑی بڑی موجیں اٹھتی ہیں۔ بظاہر تو کشتیاں اور جہاز انسان ہی بناتے ہیں اور چلاتے ہیں مگر حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فیضان ہے۔ جس نے کشتیوں کے لیے سامان اور قویٰ عطا فرمائے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لیکر کشتی سازی اور کشتی رانی کا سلسلہ اللہ نے قائم کر رکھا ہے۔ پہلے بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں ، پھر سٹیمر جاری ہوئے اور اب لاکھوں سن وزنی جہاز معرض وجود میں آچکے ہیں۔ جن کے ذریعے بین البراعظمی نقل و حمل ہورہی ہے ، اور یہ سارا اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا ہی نتیجہ ہے۔ فرمایا فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔ امام ابن کثیر (رح) نے اس مقام پر ایک روایت بیان کی ہے جسے ابن ابی حاتم (رح) نے عمیرہ ابن سوید (رح) سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ کنت مع علی علی شاط الفرات یعنی میں حضرت علی ؓ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا۔ اچانک کشتی نمودار ہوئی جس کے بادبان اٹھے ہوئے تھے۔ حضرت علی ؓ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کشتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسی آیت کی تلاوت کی ولہ الجوار المنشئت فی البحر کا لاعلام سمندروں اور دریائوں میں چلنے والی کشتیاں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں ، وہ سمندر جن میں پہاڑوں جیسی موجیں اٹھتی ہیں۔ نیز فرمایا والذی انشاھا تجری فی بحورہ اس ذات پاک کی قسم جس نے ان کشتیوں کو پیدا کیا ہے۔ یہ اسی کے حکم ، توفیق اور مدد سے رواں دواں ہیں وگرنہ خدا تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو تو کشتی یا جہاز کسی وقت بھی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ اور پھر حضرت علی ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے حضرت عثمان ؓ کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے ان کے قتل میں کسی کی مدد کی ہے لوگ ہمیں اس قتل میں ملوث کرتے ہیں حالانکہ نحن براء ہم اس سے بری ہیں۔ لوگ ہم سے عثمان ؓ کا قصاص طلب کرتے ہیں۔ مگر ہم اس معاملہ میں بےگناہ ہیں ، دراصل عثمان ؓ کو سرکش لوگوں نے قتل کیا جن میں کوئی صحابی شامل نہیں تھا۔ حضرت عثمان ؓ کے پاس فوج اور طاقت تھی مگر اس کو استعمال کرکے اپنی جان بچانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ امت کے خیر خواہ تھے اور مسلمانوں کی خونریزی نہیں چاہتے تھے۔ آپ کی صداقت کی یہی دلیل ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ خمینی جیسے آدمی بھی حضرت عثمان ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کو چباولچی ( غنڈہ ، بدمعاش) کا خطاب دیتے ہیں۔ بہرحال حضرت علی ؓ نے خدا کی قسم اٹھا کر کہا کہ وہ نہ خود حضرت عثمان کے قاتل ہیں اور نہ انہوں نے کسی قاتل کی مدد کی ہے۔
Ayahs 55:26–36

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

جو کوئی بھی ہے زمین پر فنا ہونے والا ہے

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور باقی رہے گی تیرے پروردگار کی ذات جو بزرگی اور عظمت والا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اسی سے مانگتا ہے جو بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں ہر دن میں وہ ایک شان میں ہوتا ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

عنقریب ہم فارغ ہوں گے تمہارے لیے اے دو بھاری قافلو !

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ، اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ نکل جائو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تو نکل جائو ، تم نہیں نکل سکتے مگر غلبے کے ساتھ

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائوگے

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

وہ چھوڑے گا تم پر شعلے آگ کے اور دھواں ، پس تم بدلہ نہیں لے سکوگے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائوگے

ربطہ آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسانوں اور اہل ایمان پر کیے ہیں۔ پھر اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلیل بنتی ہیں اب آج کے درس میں اللہ نے جزائے عمل کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ فانی اور باقی ارشاد ہوتا ہے کل من علیھا فانٍ جو کچھ بھی زمین پر ہے ، وہ فنا ہونے والا ہے۔ گذشتہ درس میں فرمایا والارض وضعھا للانام ہم نے زمین کو اپنی مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ اللہ کی بیشمار مخلوق انسان ، جانور ، درندے پرندے ، کیڑے مکوڑے اس زمین پر آباد ہیں اور اسی سے پیدا ہونے والی روزی استعمال کرتے ہیں۔ اب اللہ نے فرمایا کہ اس نے جو چیز بھی اس زمین پر پیدا کی ہے ، وہ سب فنا ہونے والی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ان میں سے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہے گی۔ البتہ ویبقی وجہ ربک ذوالجلٰل والا کرام باقی رہنے والی صرف تیرے پروردگار کی ذات ہے جو بزرگی اور عظمت والی ذات ہے۔ عربی زبان میں وجہ چہرے کو کہتے ہیں مگر اس سے مراد ذات ہوتی ہے مطلب یہ کہ قیام و دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ باقی ہر چیز فانی ہے اور ظاہر ہے کہ فانی چیز میں الوہیت کی صفت نہیں پائی جاسکتی۔ لہٰذا کسی فانی چیز کی پرستش کرنا شرک اور کفر ہے۔ اس سے قیامت والی بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انسان کو لازماً اس دنیا سے جانا ہے اور حساب کتاب کی منزل سے گزر کر جزا یا سزا پانی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ ہر چیز فانی ہے۔ سوائے اللہ کی ذات کے کہ وہی باقی رہنے والا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے…؎ قضٰی علیٰ خلقہٖ منایا وکل شیئٍ سواہ فان اس نے اپنے سوا ہر چیز پر موت کا فیصلہ کر رکھا ہے خواہ وہ ملائکہ مقربین ہوں ، عالم بالا کی کوئی مخلوق ہو ، فضائوں اور ہوائوں کی مخلوق یا زمین پر بسنے والے جن ، انسان ، چرند ، پرند یا کیڑے مکوڑے ہوں۔ ہر چیز فانی ہے…؎ تعالیٰ اللہ لا یبقیٰ سواہ اذا وردت بریتہ الغناء اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بلندو برتر اور باقی ہے۔ اور اس کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے…؎ انت نعم المتاع لو کنت تبقیٰ غیر ان لا بقاء للانسان اگر باقی رہتے تو تم بہتر چیز ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کیلئے بقا نہیں…؎ انت خلو من العیوب ومما یکرہ الناس غیر انک فان تم میں نہ کوئی عیب ہے اور نہ کوئی ایسی چیز جس کو لوگ ناپسند کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم فانی ہو۔ جانداروں کے متعلق تو اللہ نے خاص طور پر فرما دیا ہے کل نفس ذائقۃ الموت ( آل عمران۔ 158) ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ جانداروں کے علاوہ دوسری کوئی چیز بھی قائم و دائم نہیں ہے بلکہ سب کو ایک دن ختم ہوجانا ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا جب آسمان بھی پھٹ جائے گا اور یہ زمین بھی تبدیل کردی جائے گی۔ غرضیکہ اللہ کی ذات کے سوا کائنات کی کسی چیز کو دوام حاصل نہیں۔ لہٰذا عبادت کے لائق بھی وہی ذات ہے جو ہمیشہ سے قائم ودائم ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہ حقیقت بیان کرنے کے بعد اللہ نے وہی بات دہرائی فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن اے جنو اور انسانو ! تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائوگے۔ سائل اور مسؤل الیہ ارشاد ہوتا ہے یسئلہ من فی السموٰت والارض اسی سے مانگتا ہے جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں۔ اللہ کی مخلوق خواہ ارضی ہو یا سماوی سب کے سب اسی کے آگے دست سوال دراز کرتے ہیں اور اسی کے سامنے اپنی حاجات پیش کرتے ہیں۔ البتہ یہ سوال دو طرح سے ہوتا ہے ، زبانِ قال سے یا زبان حال سے۔ اللہ نے انسان کو قوت گویائی عطا فرمائی ہے لہٰذا یہ اپنی ضروریات زبان سے بول کر طلب کرتا ہے۔ اور باقی چیزیں یعنی جانور ، درندے ، چرند ، پرندے ، کیڑے مکوڑے ، شجروحجر زبان حال سے مانگتے ہیں۔ ان کی حالت ہی بتاتی ہے کہ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کی حاجات پوری کرتا ہے۔ مخلوق میں سے کوئی چیز ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مستغنی نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے حضور ﷺ نے دعا میں اس طرح سکھایا ہے۔ اللھم لا تکلنی الی نفسی طرفۃ عینٍ اے اللہ ! مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کی طرف نہ سونپ بلکہ مجھ پر شفقت فرما اور ہر حالت میں میری مدد فرما۔ اگر تو نے مجھے میرے نفس کی طرف سونپ دیا تو میں شر کے قریب ہو جائوں گا۔ غرضیکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے اور غنی صرف وہی ذات ہے جو قادر مطلق محیط کل ، علیم کل اور مختار مطلق ہے۔ سارے محتاج ہیں جبھی تو ماگتے ہیں فرشتوں جیسی مقرب مخلوق بھی اپنے عروج اور ترقی کے لیے اسی سے سوال کرتی ہے ساری مخلوق کی حاجت روائی کرنا اسی مالک الملک کا کام ہے اور وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہر مانگنے والے کو دیتا ہے۔ اگر اس کی مشیت نہ ہو تو روک بھی لیتا ہے۔ یہ سارا اختیار اسی کے پاس ہے۔ چاہے تو تکلیف کو دور کردے اور چاہے تو اسے لمبا کردے۔ شانِ خداوندی فرمایا آسمان و زمین کی ہر چیز ؁ُسی سے مانگتی ہے۔ کل یومٍ ھو فی شانٍ وہ ہر دن ایک شان اور حالت میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی حکمت کے مطابق ہر وقت اور ہر لمحہ ایک نئی شان کو ظاہر کرتا ہے ، کسی کو زندگی بخشتا ہے تو کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ کسی کو صحت بخشتا ہے تو کسی کو بیماری میں مبتلا کردیتا ہے۔ کسی کو ترقی عطا کرتا ہے اور کسی کو تنزل میں گرا دیتا ہے کسی کو بڑھا دیتا ہے اور کسی کو گھٹا دیتا ہے ، کسی کے گناہ بخش دیتا ہے ، کسی کی مصیبت دور کردیتا ہے۔ اور کسی کے درجات بلند کردیتا ہے کہیں خوشحالی عطا کرتا ہے اور کہیں قحط برپا کردیتا ہے تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں جنہیں وہ اپنی مشیت کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے بیدہ المیزان اسی کے ہاتھ میں اختیار کا ترازو ہے جس کو چاہے کم کردے اور جس کو چاہے زیادہ کردے بعض فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ایک شان دنیا کے دن کی ہے اور ایک قیامت کے دن کی اس کی دنیا کی شان یہ ہے کہ وہ زندگی بخشتا ہے موت طاری کرتا ہے۔ عطا کرتا ہے اور روک لیتا ہے۔ حکم دیتا ہے اور منع کرتا ہے۔ اور اس کی قیامت کی شان یہ ہے کہ کسی کو ثواب ہوگا اور کسی کو عذاب ہوگا۔ غرضیکہ دنیا کی شان ہو یا آخرت کی ، وہ ہر دن ایک شان میں ہوتا ہے جس میں اس کی صفاتِ کمال کا ظہور ہوتا ہے فرمایا فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن اے جنو ! اور انسانو ! تم خدا تعالیٰ کی کس کس نعمت کا انکار کروگے۔ حساب کتاب کی منزل پھر فرمایا سنفرع لکم ایّہ الثقلن عنقریب ہم تمہارے لیے فارغ ہوں گے۔ اے دو بھاری قافلو ! ان دو قافلوں سے مراد ایک جنوں کا گروہ ہے۔ اور دوسرا انسانوں کا۔ یہ آدمیت کا دور ہے جس کو اللہ نے آدم (علیہ السلام) سے شروع کیا۔ اور یہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ اس دور میں انسان ہی سب سے اعلیٰ مخلوق ہے اور باقی تمام چیزوں کو اللہ نے انسان کی مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے دوسرا گروہ جنات کا ہے جو کہ آدم (علیہ السلام) سے بھی پہلے کے دور سے چلے آرہے ہیں انسانوں کی طرح جنات بھی مکلف ہیں۔ انسانوں کی طرح ان کے بھی مختلف گروہ اور پارٹیاں ہیں۔ ان میں منصف مزاج بھی ہیں اور ظالم بھی ، مومن بھی ہیں اور کافر بھی ، ناجی بھی ہیں اور ناری بھی۔ بہرحال انسان اور جن دونوں قسم کی مخلوف مکلف ہے یہ دونوں بھاری قافلے قیامت تک چلتے رہیں گے۔ پھر سارا جہان تبدیل ہوجائے گا۔ حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم عنقریب تمہارے حساب کتاب کے لیے فارغ ہونگے۔ اس سنفرع کے لفظ سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو ایسی ہے کہ اس کو کوئی شان دوسری شان سے مصرف نہیں رکھتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی ایک کام میں مصروف ہو تو کیا وہ کسی دوسرے کام کی طرف توجہ نہیں دے سکتا ؟ حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ ہر چیز اور ہر کام ہمہ وقت اس کی نگاہ میں ہے اور کوئی چیز اسے دوسری چیز سے غافل نہیں کرسکتی۔ اگر یہ بات ہے تو پھر اس جملے کا کیا مطلب ہے کہ ہم عنقریب تمہارے حساب کتاب کے لیے فارغ ہوں گے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پہلے فارغ نہیں تھے عنقریب جب فارغ ہوں گے تو اس طرف متوجہ ہوں گے۔ اس سلسلہ میں صرف ، نحو اور تفسیر کے مشہور امام زجاج فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں فراغت دو معنی میں آتا ہے ایک فراغت تو عام ہے کہ کوئی شخص کسی کام میں مصروف ہے اور جب اس کو ختم کرلیتا ہے تو فارغ ہوجاتا ہے۔ فراغت کا دوسرا معنی کسی کام کا قصد کرنا ہوتا ہے۔ اور اس مقام پر یہی معنی مراد ہے اور جملے کا معنی یہ بنتا ہے کہ عنقریب ہم قصد کریں گے تمہارے لیے اے دو بوجھل قافلو ! یہ انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں سے خطاب ہے کیونکہ یہ دونوں انواع مکلف ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم عنقریب تمہارا حساب کتاب لینے کا قصد کریں گے جس کے بعد جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔ البتہ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں پر سنفرغ کا حقیقی نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے کہ عنقریب ہم بدلہ دیں گے۔ یہ بدلہ دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں حساب کتاب کی منزل کے بعد دیاجائے گا۔ دنیا میں تو پورا بدلہ نہیں ملتا کسی کو تھوڑا بہت مل گیا ، مگر مکمل بدلہ آخرت میں ہی ملے گا۔ ساتھ پھر وہی جملہ دہرایافبای اٰلاء ربکما تکذبٰن تم دونوں گروہ اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت کو جھٹلائوگے۔ مخلوق کی بےبسی آگے پھر دونوں گروہوں کو مخاطب کرکے فرمایا یمعشر الجن والانس اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ان استطعتم ان تنفذو امن اقطار السموت والارض فانفذوا اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جائو تو بھاگ نکلو۔ اللہ نے چیلنج کیا ہے کہ تم میری نافرمانی کرکے میری گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ میری بادشاہت تو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اگر تم میں ہمت ہے تو میری سلطنت سے بھاگ کر دکھائو۔ تاکہ تم گرفت سے بچ سکو۔ پھر اللہ نے خود ہی فرما دیا لا تنفذون الا بسلطن یاد رکھو ! تم نہیں بھاگ سکتے مگر غلبے کے ساتھ۔ سلطان کا معنی سند ، دلیل یا غلبہ۔ اور یہ غلبہ تمہارے پاس موجود نہیں ، لہٰذا تم خدا تعالیٰ کے قبضے اور تصرف سے نکل نہیں سکتے۔ پوری کائنات تواسی کی قلمرو ہے ، پھر تم بھاگ کر کہاں جائو گے ؟ عام دنیا کی حکومتوں کا بھی دستور ہے کہ وہ حتی الامکان مجرم کو بھاگنے نہیں دیتیں۔ مگر اس کے باوجود بعض لوگ روپوش ہوجاتے ہیں یا ایک ملک چھوٹ کر دوسرے ملک میں چلے جاتے ہیں۔ جسکی وجہ سے گرفت سے باہر ہوجاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی سلطنت تو ہر جگہ ہے۔ آخر کوئی بھاگ کر کہاں جائے گا ؟ لہٰذا مجرم لازماً پکڑے جائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کی عدالت سے سزا بھی پائیں گے فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائوگے۔ فرمایا یرسل علیکما شواظ من نارہ و نحاس تم دونوں پر آگ اور دھوئیں کے شعلے پھینکے جائیں گے ، یعنی اگر کوئی جن یا انسان خدا تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر بچنا چاہے گا تو اس پر آگ اور دھواں پھینکاجائے گا۔ جس کی وجہ سے کوئی مجرم بھاگ نہیں سکے گا۔ سورة الصفت میں اللہ نے شیاطین کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور ہر سرکش شیطان سے اس کی حفاظت کی ہے تاکہ ملاوا علیٰ کی بات نہ سن سکیں۔ و یقذفون من کل جانب ( آیت۔ 8) اور ہر طرف سے ان پر انگارے پھینکے جاتے ہیں۔ یہاں بھی فرمایا کہ جنوں اور انسانوں میں سے اگر کوئی بھاگنا چاہے گا تو ان پر آگ اور دھواں چھوڑاجائے گا فلا تنتصرن پس تم دونوں بدل نہیں لے سکو گے۔ مطلب یہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی سلطنت سے بھاگ کر نہیں جا سکو گے اور تمہیں اپنے عقائد و اعمال کا حساب دینا ہی پڑے گا۔ فرمایا فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن بھلا بتلائو تو دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کا انکار کروگے۔ اعتراض اور جواب دیا نند سرسوتی ، آریہ سماج ہندوئوں کا لیڈر تھا۔ اس نے اپنی کتاب ” سیتارتھ پر کاش “ میں تورات ، انجیل اور قرآن پر بہت سے اعتراض کیے ہیں۔ کتاب کے چودھویں باب میں قرآن پاک کی اسی آیت فبای اٰلاء ربکما تکذبٰن پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمانوں کا خدا بھی عجیب ہے کہ ایک طرف تو جنوں اور انسانوں پر آگ کے شعلے اور دھواں پھینکنے کا رعب دے رہا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے ؟ بھلا آگ اور دھواں پھینکنے میں کونسی نعمت رکھی ہے جس کا انکار ممکن نہیں ؟ اس کے جواب میں شاہ عبدالقادر (رح) نے حاشیہ قرآن پر جواب لکھا ہے کہ کسی کو عداب کی خبر دینا بھی خدا تعالیٰ کی ایک نعمت ہے کہ اس طرح کوئی شخص اپنا بچائو کرسکتا ہے اور اگر یہ اطلاع نہ دی جائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوجائے۔ تو اللہ نے آگ اور دھوئیں کا ذکر کرکے جنوں اور انسانوں کو خبر دار کردیا ہے کہ قیامت والے دن تو تم بھاگ نہیں سکوگے لہٰذا آج موقع ہے کہ ایمان اور توحید کو اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچ جائو۔ دنیا کا بھی یہ دستور ہے کہ جس خطہ ملک میں طوفان یا سیلاب وغیرہ آنے کا خطرہ ہو ، وہاں کے لوگوں کو پیشگی خبردار کردیاجاتا ہے کہ اپنا بچائو کرلو ورنہ طوفان کی نذر ہوجائوگے۔ تو اطلاع کرنا بھی نعمت ہے وگرنہ لوگ طوفان یا سیلاب کی زد میں آکر ہلاک ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات مالی نقصان بھی ہوتا ہے۔ تو اسی طرح اللہ تعالیٰ کا خبردار کرنا بھی ایک نعمت سے کم نہیں۔ امام محمد بن ابوبکر عبدالقادر رازی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی سزا کو موخر کردینا یا مصیبت کو ٹال دینا بھی تو نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں بسا اوقات مصیبت کو ٹال دیتا ہے اور فوری سزا نہیں دیتا بلکہ اسے مؤخر کردیتا ہے تو یہ بھی تو اس کا احسان ہی ہے۔ اسی سرح پیشگی اطلاع دے دینا اور آنیوالی آفت سے خبردار کردینا بھی خدا کا انعام ہے۔ جو شخص اس بات کو نہیں سمجھتا وہ احمق ہے اور فضول اعتراض کرتا ہے۔