Ayahs 54:1–8نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القمر ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بچپن آیتیں اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 342 الفاظ اور 403 1 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے۔ تاہم یہاں پر رسالت اور قیامت کا اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق گذشتہ سورة کے آخر میں فرمایا تھا ازقۃ الازقۃ (57) لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (58) قریب آنے والی ( یعنی قیامت) قریب آگئی ہے ، جس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر ظاہر کرنے والا نہیں ہے۔ اب اس سورة کی ابتدا میں فرمایا ہے اقتربت الساعۃ وانشق القمر قیامت قریب آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے … اس طرح یہ دونوں سورتیں آپس میں مربوط ہیں۔
اس سورة میں انداز کا پہلو بھی غالب ہے۔ منکرین کے سامنے سخت حالات کا ذکر کرکے انہیں بڑی سختی کے ساتھ تنبیہ کی گئی ہے۔ لوگوں کی عبرت کے لیے اللہ نے بعض سزا یافتہ اقوام کا ذکر بھی کردیا ہے۔
قیامت کی گھڑی
ارشاد ہوتا ہے اقتربت الساعۃ قیامت قریب آگئی ہے۔ جدید عربی میں ساعت وقت ظاہر کرنے والی گھڑی کو کہتے ہیں۔ اس سے مطلق وقت بھی مراد ہوتا ہے۔ تاہم یہاں پر قیامت کی گھڑی مراد ہے کہ وہ قریب آچکی ہے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ساعت سے وہ وقت مراد ہے جب دنیا میں منکرین کو سزا ملتی ہے جیسا کہ کفار مکہ کو بدر کے مقام پر سزا ملی۔ قیامت کے قریب ہونے اور اچانک برپا ہونے کا ذکر قرآن پاک میں کئی مقامات پر آیا ہے۔ بلکہ سورة المعارج میں ہے قیامت تو قریب ہی ہے انھم برونہ بعیدًا ( آیت۔ 6) اگرچہ لوگ اسے بعید خیال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خلافتِ اراضی کے لیے انسان کو پیدا کیا اور پھر ان کی راہنمائی کے لیے بعثت انبیاء کا سلسلہ بھی ساتھ ہی شروع کردیا۔ یہ سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگیا۔ چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے ، اس لیے آگے نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی دوسری امت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قیامت ہی کا انتظار ہے۔ حضور ﷺ سے قیامت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے اپنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جوڑ کر فرمایا انا والساعۃ کھتین یعنی میں اور قیامت اس طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جس طرح یہ دو انگلیاں تھوڑا آگے پیچھے ہیں۔ اسی طرح میں اور قیامت آگے پیچھے ہیں۔ اب میرے بعد قیامت ہی آئے گی تو اس لحاظ سے قیامت کو قریب کہا گیا ہے۔ اگرچہ اس پر چودہ صدیاں گزر چکی ہیں اور یہ اللہ کے علم میں ہے کہ وہ گھڑی کب واقع ہوگی۔
چاند کا پھٹ جانا
فرمایا قیامت قریب آگئی ہے وانشق القمر اور چاند پھٹ گیا ہے ۔ چاند کا پھٹ جانا دراصل علاماتِ قیامت میں سے ہے۔ قرآن و حدیث میں قیامت کی بہت سی نشانیوں کا ذکر موجود ہے منجملہ ان کے شق القمر بھی ایک نشانی ہے۔ بخاری اور مسلم کی صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شق القمر کا واقعہ حضور ﷺ کا ایک معجزہ بھی ہے جو ہجرت سے پانچ سال پہلے پیش آیا۔ ایام حج ( دسویں یا تیرھویں ذی الحج) میں حضور ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ اس موقع پر مشرکین نے آپ سے آپ کی صداقت کی نشانی طلب کی جسے دیکھ کر وہ آپ پر ایمان لاسکیں اس پر آپ نے چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تو وہ دو ٹکڑے ہو کر ایک حصہ مشرق کی طرف ہوگیا اور دوسرا مغرب کی طرف۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق چاند کا ایک ٹکڑا جبل حرا کی ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔ جب مشرکین نے یہ معجزہ اچھے طریقے سے بار بار دیکھ لیا تو دونوں ٹکڑے پھر سے مل گئے اور چاند اپنی اصلی حالت میں آگیا۔
یہ واضح نشانی دیکھنے کے باوجود متعصب مشرکین نے ایمان قبول نہ کیا بلکہ اسے جادو کہہ کر ردّ کردیا۔ ابو جہل جیسے ہٹ دھرم لوگوں نے کہا کہ محمد نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ اسی بات کے متعلق اللہ نے یہاں فرمایا ہے وان یروٰ ایۃً یعرضو اور اگر یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں ویقولوا سحر مستمر اور کہتے ہیں کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے جو قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔ یہ پہلے زمانے میں بھی چلتا تھا اور آج بھی چل رہا ہے۔ غرضیکہ مشرکین نے نہ تو اسے معجزہ تسلیم کیا ، نہ خدا تعالیٰ کی واحدنیت اور قدرت نامہ پر ایمان لائے اور نہ ہی رسالت کو تسلیم کیا۔
شق القمر پر اعتراضات
واقعہ شق القمر پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے۔ بعض یونانیوں اور قدیم فلسفیوں کا خیال تھا کہ آسمانی کروں میں کوئی تغیرو تبدل نہیں ہوسکتا ، لہٰذا وہ اس معجزہ کو وہم قرار دیتے تھے اور سطحی لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر یہ اتنا بڑا واقعہ پیش آیا تھا تو پھر اس کا ذکر تاریخ میں کیوں نہیں ملتا ؟ علمائے کرام خاص طور پر مولانا محمد قاسم ناتوی (رح) نے اپنی کتابوں میں اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا تھا اور ضروری نہیں کہ اس وقت سب لوگ جاگ رہے ہوں۔ اور ان کی نظریں بھی چاند پر لگی ہوئی ہیں کہ جونہی اس میں تغیر واقع ہوا تھا وہ اس کو دیکھ لیتے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں تورات نہیں تھی بلکہ زمین کے ایک حصہ پر ہی تھی لہٰذا ساری دنیا کے لیے اس واقعہ کا مشاہدہ ممکن نہ تھا۔ ہاں اگر پہلے سے کوئی اعلان ہوتا کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت یہ واقعہ پیش آنے والا ہے تو لوگ اس کی طرف متوجہ بھی ہوتے۔ مگر یہ واقعہ تو اچانک پیش آگیا اور تھوڑی دیر کے بعد چاند پھر اصلی حالت میں آگیا۔ لہٰذا یہ کوئی معقول اعتراض نہیں ہے۔
ان تمام حالات کے باوجود اس واقعہ کا ذکر تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ برصغیر میں خلیجوں کے دور میں احمد نگر کے رہنے والے ایک مورخ محمد قاسم (رح) فرشتہ ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ” تاریخ فرشتہ “ میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ شق القمر کا یہ واقعہ مالابار کے راجہ نے دیکھا تھا۔ اس رات ان کے محل میں کوئی تقریب تھی جس میں خود اور اس کی رانیاں بھی موجود تھیں۔ انہوں نے یہ واقعہ دیکھا تھا اور راجہ نے اسے اپنی ڈائری میں نوٹ کیا تھا۔
پھر کچھ عرصہ بعد حضور ﷺ کے ایک صحابی حبیب ابن مالک ؓ تجارتی سفر پر مالا بار گئے تو راجہ نے آپ سے دریافت کیا کہ فلاں تاریخ کو اس نے یہ واقعہ دیکھا ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن ہوا ؟ تو حبیب ؓ نے جواب دیا کہ یہ تو بڑا مشہور واقعہ ہے جو کہ حضور ﷺ کے دس صحابہ ؓ سے منقول ہے۔ پھر آپ نے وضاحت کی کہ عرب کی سرزمین میں اللہ نے اپنا آخری رسول مبعوث فرمایا ہے انہوں نے انگلی کا اشارہ کیا تو چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا تھا۔ اس تصدیق پر وہ واجہ اپنی رانیوں سمیت مسلمان ہوگیا تھا۔
بہر حال شق القمر کا معجزہ حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک پر ظاہر ہوا تھا جس کی تفصیلات صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ بخاری شریف میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا ذکر ہے۔ ایک پہاڑ کی مشرقی جانب چلا گیا اور دوسرا مغربی جانب اور لوگوں نے یہ واقعہ اپنی آٓنکھوں سے اچھی طرح دیکھا۔ مشرکین مکہ اس کو بھی جادو سے تعبیر کرتے تھے۔ پھر انہوں نے آنے جانے والے قافلوں کے لوگوں سے اس واقعہ کے متعلق پوچھا تو ان میں سے بعض نے تصدیق کی کہ انہوں نے بھی چاند کو دولخت ہوتے دیکھا ہے۔ بہر حال اس معجزہ سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
قیامت کی نشانی
یہ واقعہ ایک طرف تو حضور ﷺ کا معجزہ ہے تو دوسری طرف یہ علاماتِ قیامت میں بھی شامل ہے۔ خود حضور ﷺ کا دنیا میں تشریف لانا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس کے علاوہ بعض علامات ابھی ظاہر ہونے والی ہیں۔ جیسے سورج کا مغرب سے طلوع ، دجال اور یاجوج ماجوج کا خروج۔ مسیح (علیہ السلام) کا نزول وغیرہ۔ احادیث میں بہت سی چھوٹی بڑی نشانیوں کا ذکر موجود ہے جن میں شق القمر کا واقعہ بھی ہے۔ اسی طرح یہ واقعہ وقوع قیامت پر بھی دلیل بنتا ہے۔ جس طرح یہ واقعہ اچانک پیش آیا اسی طرح قیامت بھی اچانک ہی آجائے گی نیز جس طرح اللہ نے چاند کو دو ٹکڑے کرکے پھر جوڑ دیا۔ اسی طرح وہ انسان کو زندگی دے کر موت طاری کرتا ہے اور قیامت والے دن اس کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت نامہ اور حکمت بالغہ کے عین مطابق ہے۔
فرمایا ان لوگوں نے واقعہ شق القمر کو جادو کہہ کر ردّ کردیا وکذبو واتبعوا ھواء ھم اور انہوں نے جھٹلا یا۔ اور اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور خواہشات کی پیروی شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ولا تتبعو خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین ( البقرہ۔ 168) شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص صحیح عقیدے اور قانون کو چھوڑ دیتا ہے ، وہ شیطان کا اتباع کرنے لگتا ہے تو معترضین بھی دراصل اپنی خواہشات اور شیطان کی پیروی کر رہے ہیں جو حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ اگر قیامت برحق ہے تو پھر برپا کیوں نہیں ہوجاتی ؟ تو اللہ نے فرمایا وکل امرٍ مستقر اور ہر کام اپنے وقت پر ٹھہرایا ہوا ہے ، کوئی بات قبل از وقت نہیں ہوسکتی۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ پھر جب وہ وقت آجاتا ہے ۔ لا تستاخرون عنہ ساعۃً ولا تستقدمون ( سبا۔ 30) تو گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا۔ جب قیامت کا وقت مقرر آجائے گا۔ تو قیامت بھی برپا ہوجائے گی۔
سخت تنبیہ
ارشاد ہوتا ہے ولقد جاء ھم من الانبیاء ما فیہ مزدجر اور البتہ تحقیق ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس میں تنبیہ ہے۔ اگر یہ غور کریں تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت ڈانٹ ہے یعنی شق القمر جیسا عجیب و غریب واقعہ انسان کے لیے زجر ہے کہ وہ کیسے قیامت کا انکار کرتا ہے۔ بلکہ حکمۃ م بالغۃ یہ تو اللہ تعالیٰ کی کامل حکمت کے عین مطابق ہے جس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود بات یہ ہے فما تغی النذر ڈر سنانے والے کام نہیں دیتے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نبی اور مبلغ ان نا ہنجار لوگوں کو کتنا بھی ڈرائیں ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا اور یہ اپنی ڈگر پر ہی چلتے رہتے ہیں۔ ان کے دل سیاہ ہوجاتے ہیں ، فہم الٹ جاتے ہیں اور وہ سیدھی بات کو بھی ٹیڑھا ہی سمجھنے لگتے ہیں ہیں معترض لوگ ہمیشہ کج روی کی تلاش میں ہی رہتے ہیں اور نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔ ان پر وعظ و نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔
میدان حشر میں اجتماع
آگے اللہ نے اپنے پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا فتول عنھم آپ ان لوگوں کی طرف زیادہ توجہ نہ دیں ، ان کے انکار اور ہٹ دھرمی کو خاطر میں نہ لائیں۔ یوم یدع الداع الیٰ شی ئٍ نکرٍ جس دن بلائے گا بلانے والا ایک ناگوار چیز کی طرف۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن اور پکارنے والا اسرافیل (علیہ السلام) ہوگا۔ جو صور پھونکے گا اور لوگ قبروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے اس آواز کی طرف جائیں گے۔ اس وقت اس کی حالت یہ ہوگی خشعاً ابصارھم ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ندامت کے مارے دھیان اوپر نہیں کرسکیں گے ۔ یخرجون من الاجداث کانھم جراد منتشر اپنی قبروں سے اس طرح نکلیں گے گویا کہ ٹڈی دل پھیلا ہوا ہے۔ سخت افراتفری کا عالم ہوگا۔ ان کے چہروں سے خوف و ہراس اور ذلت اور ندامت کے آثار ظاہر ہوں گے۔ مھطعین الی الداع وہ دوڑنے والے ہوں گے پکارنے والے کی طرف۔ یعنی جدھر سے آواز آرہی ہوگی ادھر دوڑتے جائیں گے۔ دوسری جگہ ہے یوم یخرجون من الاجداث سراعاً کانھم الی نصب یوفضون ( المعارج۔ 43) اس دن قبروں سے اس حالت میں نکلیں گے گویا کہ وہ نشانوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔ فرمایا آج تو یہ انکار کرتے ہیں مگر اس دن یقول الکفرون ھذا یوم عسر کافر کہیں گے کہ افسوس آج تو بڑا سخت دن ہے نامعلوم آج ہمارے ساتھ کیا معاملہ پیش آئیگا مگر ہوگا وہی کچھ جو سابقہ قوموں کا حال ہوا اور جن کو اللہ نے اس دنیا میں بھی سزا دی اور پھر دائمی سزا تو آگے آرہی ہے۔
Ayahs 54:9–22ربطہ آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا انکار کرنے والے کافروں اور مشرکوں کا ردّ کیا اور ساتھ ساتھ قیامت کی بعض نشانیوں کا بھی ذکر کیا جس میں شق القمر کا واقعہ بھی شامل ہے۔ پھر محاسبہ اعمال کے بارے میں شدید درجے کا انداز کیا۔ چناچہ مشرکین عرب کو سخت تنبیہ کی اور محاسبہ اعمال کی منزل کا کچھ حال بیان کیا اور اس دن کی سختی کا ذکر کیا۔ اب اللہ نے سابقہ اقوام میں سے بعض کے واقعات بطور نصیحت اور انداز ذکر کیے ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح مشرکین عرب توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں اسی طرح ان سے پہلے کئی قوموں نے بھی کیا۔ وہ بھی بڑے سرکش اور مغرور تھے۔ مگر اللہ نے ان کو دنیا میں ہی گرفت کرکے سزا دی۔ اس سورة مبارکہ میں سابقہ اقوام کے جستہ جستہ حالات بیان کیے گئے ہیں ، پوری تفصیل دوسری سورتوں میں موجود ہے یہاں پر صرف عبرت کے لیے بعض قوموں کی سزا کا سطحی ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ آج کے درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا تذکرہ ہورہا ہے۔
نوح (علیہ السلام) اور آپکی قوم
ارشاد ہوتا ہے کذبت قبلھم قوم نوحٍ ان مشرکین عرب سے پہلے قوم نوح نے بھی جھٹلایا فکذبو ا عبدنا انہوں نے ہمارے بندے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا یعنی ان کی رسالت کو تسلیم نہ کیا۔ وہ ہمارا بیحد شکرگزار بندہ اور رسول تھا۔ اور رسالت سے بڑھ کر فضل و کمال والی کوئی چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا کرتا ہے۔ اور پھر رسالت کے درجات بھی مختلف ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعضٍ ( البقرہ۔ 253) یہ رسولوں کا گروہ ہے جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ یہ فضیلت ان پر آنے والی ابتلا و آزمائش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی ان رسولوں میں سے ہیں جن کو اللہ نے فوقیت بخشی ہے قیامت والے دن لوگ اللہ کے ہاں سفارش کے لیے نوح (علیہ السلام) کے پاس بھی جائیں گے۔ اور کہیں گے۔ یالوح انک اول الرسل الیٰ اھل الارض اے نوح (علیہ السلام) ! آپ اہل زمین کی طرف سب سے پہلے عظیم رسول ہیں اشفع لنا پس آپ ہمارے لیے بارگاہِ الٰہی میں سفارش کریں تاکہ حساب کتاب شروع ہو۔ اگرچہ نوح (علیہ السلام) سے پہلے آدم (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی ہوئے ہیں ، لیکن مستقل شریعت سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کو ہی عطا کی گئی اور پھر قوم کے انکار پر سب سے پہلے سزا بھی آپ ہی کی قوم کو ملی۔ بہرحال جب نوح (علیہ السلام) نے قوم کے سامنے دعویٰ نبوت پیش کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا وقالو مجنون اور کہنے لگے کہ تم اللہ کے رسول نہیں بلکہ دیوانے ہو ( العیاذ باللہ) اور اس طرح وازدجر آپ کو جھڑک دیا گیا۔ قوم نے یہ بھی کہا اے نوح (علیہ السلام) ! اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے۔ لتکو نن من المرجومین ( الشعراء 116) تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔ تم ہمارے معبودوں کو غلط کہتے ہو اور ہم سے ہمارا طریقہ چھڑاناچاہتے ہو ، ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔ نوح (علیہ السلام) بڑے لمبے عرصے تک قوم کی طرف سے مصائب برداشت کرتے رہے ، ان کو وعظ و نصیحت بھی کرتے رہے مگر انہوں نے کسی طرح نہ مانا۔ پھر جب آپ قوم سے بالکل مایوس ہوگئے تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کی۔ فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر پروردگار ! میں عاجز آچکا ہوں ، یہ قوم کسی طرح نہیں مانتی بلکہ الٹا مجھے تکلیفیں پہنچاتی ہے ، لہٰذا اب تو ہی ان سے میرا انتقام لے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا بدلہ لیتا ہے۔ لہٰذا اس سے بےفکر نہیں ہوناچاہئے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے نیک بندوں کو ستائیگا تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ مہلت بھی دے دیتا ہے مگر کبھی کبھی وہ انتقام بھی لے لیتا ہے۔
قوم نوح کے لیے سزا
جب قوم ِنوح کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو نوح (علیہ السلام) نے ان کے لیے بددعا کی۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول کی اور فرمایا ففتحنا ابواب السماء بمائٍ منھمرٍ پھر ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ۔ یعنی آسمان سے شدید موسلا دھار بارش شروع کردی۔ اس کے علاوہ و مجرنا الارض عیوناً زمین کے چشموں سے بھی پانی جاری کردیا۔ اُدھر آسمان سے پانی برسنے لگا اور ادھر زمین نے پانی اگلنا شروع کردیا۔ فالتقی الماء علی امرٍ قد قدر پس آسمان اور زمین کا پانی آپس میں مل گیا ایک کام پر جو مقدر کیا جا چکا تھا۔ تقدیر کا یہی فیصلہ تھا کہ اس پوری قوم کو اس پانی میں غرق کردیاجائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے مقررہ فیصلے کے مطابق یہ پانی جمع ہوگیا۔
اس طوفان کی آمد سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا واصنع الفلک باعیننا ( ہود۔ 37) ہمارے حکم سے کشتی تیار کرو۔ پھر جب تنور سے پانی ابلنا شروع ہو تو خود بھی اپنے پیرو کاروں سمیت اس میں سوار ہوجانا اور مختلف جانوروں کا ایک ایک جوڑا بھی ساتھ رکھ لینا۔ کیونکہ اس طوفان میں کوئی جاندار باقی نہیں بچے گا۔ سوائے کشتی والوں کے۔ اُدھر قوم کا حال یہ تھا کہ جب وہ نوح (علیہ السلام) کو کشتی تیار کرتے ہوئے دیکھتے سخرومنہ تو ٹھٹا کرتے۔ یہ کشتی بہت لمبی چوڑی تھی جس میں بہتر یا اسی افراد ، ان کا سامان اور جانوروں کا جوڑا جوڑا بھی سوار ہوگئے۔ یوں سمجھ لو جیسے ہمارے ہاں سفینہ حجاج بہت بڑا بحری جہاز ہوا کرتا تھا۔ یہ جہاز تو گیارہ منزلہ تھا ، تاہم نوح (علیہ السلام) کی کشتی صرف تین منزلہ تھی۔
بائیبل کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بارش چالیس دن تک جاری رہی ہمارے ہاں تو چوبیس گھنٹے کی بارش بھی تباہی مچا دیتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے جہاں مسلسل چالیس دن بارش ہوئی اور نیچے سے بھی پانی ابلتا رہا ، وہاں کیا حشر ہوا ہوگا۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ بلند پہاڑوں سے بھی اوپر تیس تیس فٹ تک پانی چڑھ گیا۔ کیا یہ طوفان پوری روئے زمین پر آیا تھا یا کسی محدود علاقے میں ؟ اس بات میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جس جس خطہ ارضی میں انسانی آبادی تھی سیلاب اس خطے تک محدود رہا اور بعض کہتے ہیں کہ یہ طوفان پوری سطح ارضی پر آیا۔ اس زمانے میں آبادی بہت کم تھی اور یہ زیادہ تر دریائے دجلہ اور فرات کے دوابہ میں تھی ، لہٰذا قرین قیاس یہی ہے کہ یہ طوفان اسی علاقے میں آیا تھا۔
نوح (علیہ السلام) کی کشتی
آگے اللہ نے نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا ذکر بھی کیا ہے و حملنہ علی ذات الواحٍ وّ دسر اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو تختوں اور کیلوں والی کشتی پر سوار کرایا ظاہر ہے کہ لکڑی کے تختے کیلوں کے ساتھ جوڑ کر ہی کشتی تیار کی گئی تھی۔ فرمایا تجری با عیننا یہ کشتی ہمارے سامنے پانی کی سطح پر چلتی تھی یعنی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چھ سات ماہ تک پانی پر تیرتی رہی۔ اور اس کے بعد واستوت علی الجودی (ھود۔ 44) جودی پہاڑ پر جا کر ٹھہر گئی۔ یہ پہاڑ آرمینیا کے پہاڑوں میں سے ہے جسے پرانے جغرافیے میں اراروت کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ پھر جب آہستہ آہستہ پانی اترا تو نوح (علیہ السلام) اپنے ہمراہیوں سمیت کشتی سے نیچے اترے۔ یہ کشتی صدیوں تک اسی پہاڑ پر پڑی رہی جسے لوگ عبرت کے لیے جا کر دیکھتے تھے۔ اب تو بڑے بڑے جہاز پانی کی سطح پر رواں دواں ہیں۔ مگر اس جہاز رانی کی بنیاد نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہی تھی۔ اللہ نے فرمایا ہم اس کشتی کو رہتی دنیا تک نمونہ بنائیں گے اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔ کہ اللہ نے اس کشتی پر سوار ہونے والوں کو بچا لیا جب کہ باقی سارے غرق کردئیے گئے فرمایا جزاء لمن کان کفر یہ بدلہ تھا اس چیز کا جس کی ناقدری کی گئی لوگوں نے خدا کی وحدانیت اور جزائے عمل کا انکار کیا ، وقوع قیامت پر یقین نہ کیا ، نبی کی نبوت کو تسلیم نہ کیا۔ اور اللہ کے مختلف بندے نوح (علیہ السلام) کی کوئی بات نہ مانی۔ یہ اسی چیز کا بدلہ تھا کہ ساری کی ساری قوم تباہ و برباد ہوگئی۔
فرمایا ولقد ترلنھا اٰیتہ اور البتہ تحقیق ہم نے اس کشتی کو نشانی بنادیا تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کرلیں۔ فھل من مدکر پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ کون ہے جو خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ میں غور کرے اور اس واقعہ سے عبرت حاصل کرے ؟ فرمایا دیکھ لیا ، فکیف کان عذابی ونذر کہ کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ تم کو اللہ کے نبیوں نے آخرت کے انجام سے بروقت ڈرایا تھا ، مگر تم نے اس وقت کچھ پرواہ نہ کی جس کا نتیجہ سزا کی صورت میں برآمد ہوا۔
قرآن بصورت نصیحت
اللہ تعالیٰ نے انذار کرنے کے بعد نصیحت کی بات کی ہے ولقد لیسہ با القرآن للذکر فھل من مدکر ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترغیب و ترہیب کے ساتھ اس انداز سے بیان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص ذرا سا غور بھی کرے تو وہ اس سے نصیحت حاصل کرسکتا ہے اور معاملہ اس کی سمجھ میں آسکتا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اجتہاد اور استنباط کے لحاظ سے تو قرآن حکیم بڑی گہری کتاب ہے مگر عمل اور نصیحت کے اعتبار سے بہت آسان ہے ایک عام عقل و فہم والا آدمی بھی اس کی تعلیمات سے مستفید ہوسکتا ہے ، اور اس پر عمل کرسکتا ہے۔ مگر ہر لحاظ سے قرآن ایک آسان کتاب نہیں۔ اس لیے قرآن کی تفسیر کرنے کے ضمن میں سلف نے بڑی کڑی شرائط لگائی ہیں۔ جب تک تفسیر سے متعلقہ جملہ علوم پر عبور حاصل نہ ہو قرآن کی تفسیر کرنا درست نہیں کیونکہ اس سے گمراہی میں پڑجانے کا خطرہ ہے سلف میں تو علم کا بہت زور تھا لیکن بعد میں کمزوری آگئی ، مجتہد حضرات بھی کمزور ہوگئے ، لہٰذا اب مسائل کے استنباط کے لیے بڑی گہرائی کی ضرورت ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ تمام انسان اور دیگر مخلوق مل کر بھی ان مصلحتوں کو نہیں پا سکتے جو اللہ نے قرآن کی ایک ایک آیت میں رکھی ہیں اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے عام چیلنج کر رکھا ہے فاتو بسورۃ من مثلہ (البقرہ۔ 23) کہ اس جیسی ایک سورة ہی بنا کر لائو ، مگر فرمایا کہ سارے انسان اور جن مل کر بھی قرآن کی نظیر پیش نہیں کرسکتے۔ اگرچہ بعض بعض کے مددگار بھی بن جائیں۔ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کسی کو جرأت نہیں ہوئی۔ وجہ یہی ہے کہ قرآن پاک کی حکمتوں اور مصلحتوں کو کوئی نہیں پا سکتا۔ شاہ صاحب (رح) اپنی کتاب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں کہ جب میں قرآن پاک کی کسی ایک آیت میں غور کرتا ہوں تو اس کے نیچے علوم و معارف کا اتنا وسیع سمندر نظر آتا ہے جسے عبور کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ، چہ جائیکہ سارے قرآن پر عبور حاصل ہو۔ تو اس لحاظ سے قرآن بہت گہری کتاب ہے لیکن عمل ، اخلاق اور نصیحت کے اعتبار سے بہت آسان ہے ، ہر پڑھا لکھا اور اَن پڑھ آدمی اس کے احکام پر عمل پیرا ہوسکتا ہے۔
قوم عاد کی ہلاکت
قومِ نوح کے بعد اللہ نے قوم عاد کا حال اجمالاً بیان کیا ہے۔ کذبت عاد قوم عاد نے اللہ کے بنی ہو د (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ قوم نوح کے دو ہزار چھ سو سال بعد اللہ نے قوم عاد کو بام عروج تک پہنچا۔ اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے چار سو سال تک اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کی ، خدا کا پیغام سنایا مگر وہ لوگ کفر شرک پر اڑے رہے۔ ان میں غرور وتکبر اور اسراف جیسی بیماریاں تھیں جب یہ لوگ کسی طرح بھی راہ راست پر آنے کے لیے تیار نہ ہوئے تو اللہ نے ان پر تند ہوا بھیجی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی اور اس نے تمام نافرمانوں کو ہلاک کردیا۔ اسی لیے اس مقام پر اللہ نے فرمایا کہ قوم عاد نے جھٹلایا فکیف کان عذابی و نذر تو کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈرانا انا ارسلنا علیھم ریحاً صراً ہم نے ان پر تند ہوا بھیجی فی یوم تحسٍ مستمرٍ ایک نحوست والے دن۔ یہاں پر یوم سے مراد مطلق وقت ہے کیونکہ یہ ہوا صرف ایک دن نہیں بلکہ سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہی تھی۔ اور نحوست سے مراد یہ ہے کہ یہ ان نافرمانوں کے حق میں تھی ، وگرنہ دن کوئی بھی منحوس نہیں ہوتا۔ سارے ایام اللہ کے ہیں۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ کسی خاص وقت کو کسی قوم یا فرد کے لیے منحوس بنا دے تو یہ الگ چیز ہے۔ کوئی بھی دن ، سال یا وقت سارے لوگوں کے لیے منحوس نہیں ہوتا۔ قومِ عاد کی یہی نحوست تھی کہ انہوں نے اللہ کے نبی کی بات کو ٹھکرایا تو اللہ نے انہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔
فرمایا قوم عاد پر مسلط کی جانے والی تند ہوا ایسی تھی تنزع الناس جو لوگوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتی تھی کانھم اعجاز نخلٍ منقعرٍ گویا کہ وہ کھجور کے اکھاڑے ہوئے تنے ہوں۔ قومِ عاد کے لوگ بڑے طاقتور اور قد آور تھے جب اللہ نے ان پر موت طاری کی تو ان کی لاشیں ایسے پڑی تھیں جیسے کھجور کے بڑے بڑے تنے اکھاڑ کر پھینک دئیے گئے ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہی ہوا جب نرم اور خوشگوار ہوتی ہے تو مردہ دلوں کو زندگی بخشتی ہے اور کھیتی باڑی کے لیے مفید ہوتی ہے ، مگر جب یہی ہوا تندوتیز ہوجائے تو آگ برسانے لگتی ہے اور جب آندھی کی صورت میں آتی ہے تو پہاڑوں جتنے بڑے ریت کے ٹیلوں کو ایک جگہ سے اڑا کر دوسری جگہ لے جاتی ہے بسا اوقات ریگستانوں میں سفر کرنے والے قافلے ان طوفانوں کے دوران ریت میں دب کر ختم ہوجاتے ہیں۔ فرمایا دیکھو فکیف کان عذابی ونذر پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ آگے پھر اسی جملے کو دہرایا ہے ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدکرٍ اور البتہ تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنا دیا ہے ، پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ آج وقت ہے کہ تم قرآن سے نصیحت حاصل کرکے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتے ہو وگرنہ اللہ کی گرفت یقینی ہے۔