Ayahs 53:1–12نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔
مضامین سورة
اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس سورة مبارکہ میں مشرکین کے بعض معبودان باطلہ کا نام لے کر ان کار د کیا گیا ہے۔ الات ، منات اور عزی کے نام سے جو بت بنائے گئے ۔ اللہ نے ان کی نفی فرمائی ہے اور جو لوگ شعریٰ ستارے کی پرستش کرتے تھے ان کا بھی تعاقب کیا گیا ہے۔ نبوت و رسالت کے سلسلے میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور عبرت کے طور پر بعض سابقہ نافرمان قوموں کا ذکر بھی ہے اس سورة میں واقعہ معراج کی طرف بھی مختصر اشارہ ہے اور عالم بالا کے ایک حصے سے متعلق بھی ذکر موجود ہے۔
اولین سجدہ تلاوت
قرآن پاک میں کل چودہ سجدہ ہائے تلاوت آتے ہیں جن میں سے تین سجدے اس ساتویں منزل میں ہیں اور اس سورة میں آمدہ سجدہ ان میں سے ایک ہے تا ہم اس سجدہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ سب سے پہلی سورة ہے جس میں سجدہ تلاوت آیا ہے۔ بخاری ، مسلم ، ابو دائود اور نسائی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ ایک موقع پر کسی ایسی مجلس میں تشریف فرما تھے۔ جہاں مسلمانوں کے علاوہ کافر اور مشرک بھی موجود تھے۔ آپ نے اس مجلس میں اس سورة مبارکہ کی تلاوت فرمائی اور پھر آخر میں جب سجدہ کی آیت تلاوت کی تو وہیں سجدہ کیا ۔ آپ کی اقتداء میں مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا اور وہاں پر موجود مشرک بھی سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے اور آپ کے ساتھ انہوں نے بھی سجدہ کیا ۔ صرف ایک بوڑھا کافر امیہ ابن خلف ایسا تھا جو سجدے میں شریک نہ ہوا ۔ اس نے سجدہ کرنے کی بجائے زمین سے تھوڑی سی مٹی لے کر اپنی پیشانی پر لگا لی اور کہنے لگا کہ میرے لیے یہی کافی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس کافر کو بدر کے موقع پر قتل کیا ہوا دیکھا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ آیت سجدہ تلاوت کرنے پر حضور ﷺ نے تو اللہ کے حکم سے سجدہ کیا اور مسلمان آپ کے اتباع میں سجدہ ریز ہوگئے ، البتہ کفار کا سجدہ ریز ہوجانا اس وجہ سے تھا کہ اس وقت خدا تعالیٰ کی قہری تجلیات کا نزول ہو رہا تھا اور وہ ایسا کرنے پر مجبورہو گئے۔
ستارے کی قسم
گزشتہ سورة کی طرح اس سورة مبارکہ کی ابتداء بھی قسم سے کی گئی والنجم اذا ھوی قسم ہے ستارے کی جب کہ وہ گر گیا ۔ عربی زبان میں نجم ستارے کو بھی کہتے ہیں اور زمین پر پھیلی ہوئی جڑی بوٹیوں اور پودوں کو بھی نجم کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال سورة الرحمن میں موجود ہے جہاں فرمایا والنجم الشجر یسجدن ( آیت : 6) اور بوٹیاں اور درخت بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریزہ ہوتے ہیں ۔ تا ہم اس مقام پر نجم سے مراد ستارہ ہی ہے۔ اس ستارے سے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض اسے زہرہ ستارے پر محمول کرتے ہیں جو زیادہ چمکدار ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے ثریا ستارہ مراد ہے جو مشرقی جانب گچھے کی شکل میں نظر آتا ہے۔ بعض اس سے کہکشاں مرادلیتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے ستاروں سے مل کر سڑک سی بنی ہوتی ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد حضرت عطا (رح) کے قول کے مطابق یہاں پر نجم سے مراد قرآن کریم اور اس کی آیات ہیں ۔ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے 23 سال کے عصرہ میں نجما ً نجما ً یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے سازل فرمایا ، لہٰذا قرآن بھی مراد ہو سکتا ہے۔ امام جعفر صادق (رح) سے منقول ہے کہ اس مقام پر نجم سے مراد حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے اور آپکے نیچے اترنے کا اشارہ شب معراج میں عالم بالا اور خطیرہ القدس سے نیچے اترنے کی طرف ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ نجم سے مراد مطلقا ً مومن کی ذات ہے کہ جب وہ مرنے کے بعد قبر میں اترتا ہے تو وہ روشن ستارے کی مانندہوتا ہے بہر حال یہ مختلف اقوال ہیں مگر زیادہ تر نجم کا اطلاق ثریا ستارے پر کیا جاتا ہے اور ہویٰ سے مراد گر جانا اتر جانا یعنی غروب ہوجانا ہے قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہوجائے۔
آفتاب ختم نبوۃ
ستارے سے مراد سابقہ انبیاء بھی ہو سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ایک لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ۔ یہ انبیاء کرام اپنے اپنے دور میں فریضہ نبوت و رسالت ادا کرتے رہے۔ یہ اپنے اپنے وقت میں روشنی کے ستارے تھے ۔ جن سے لوگ ہدایت پاتے تھے۔ پھر جب وہ اپنا اپنا دور ختم کر کے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ، روشنی کے یہ مینار غروب ہوگئے تو لوگ ان کی تربیت سے بھی محروم ہوگئے۔ ہماری اس کائنات میں جاری نظام شمسی کا بھی یہ اصول ہے کہ رات بھر ستارے چمکتے رہتے ہیں ، پھر جب طلوع فجر پر آفتاب کی روشنی پھیلنے لگتی ہے تو یہ ستارے ماند پڑجاتے ہیں یہ ستارے کہیں غائب نہیں ہوجاتے بلکہ ان کی روشنی آفتاب کی تیز تر روشنی کے سامنے نابود ہوجاتی ہے جسے ہم ستاروں کے ڈوب جانے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی طرح جب سلسلہ نبوت کی آخری کڑی کے طور پر حضور خاتم النبین ﷺ کا آفتاب نبوت طلوع ہوا تو باقی انبیاء کی ساری روشنیاں ماند پڑگئیں اور ہدایت کا سارا نظام اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت و رسالت کے ساتھ وابستہ کردیا ۔ ہدایت کے تمام سابقہ ذرائع ختم ہو کر صرف یہی ایک ذریعہ باقی رہ گیا ہے جس سے قیامت تک لوگ ہدایت حاصل کرتے رہیں گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ دنیا کا ہر شخص خواہ وہ یہودی ہے ، نصرانی ہے ، مجوسی ہے یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہے جب وہ سن لے کہ حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لا چکے ہیں اور انہوں نے ہدایت کا پروگرام دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے اور اس کے باوجود وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتا تو ایسا شخص دخل النار جہنم میں داخل ہوگا ۔
حضور ﷺ کی صداقت کی گواہی
گزشتہ دو سورتوں یعنی سورة الذرایات اور سورة الطور میں اللہ نے مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد وقوع قیامت اور جزائے عمل کی تصدیق فرمائی تھی ۔ اب اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ستارے کی قسم اٹھا کر حضور ﷺ کی رسالت کی صداقت کی گواہی دی ہے۔ جو اب قسم ہے ما ضل صاحبکم وما غویٰ آپ کا صاحب ، رفیق اور ساتھی یعنی حضرت محمد ﷺ نہ تو بہکے اور نہ بےراہ ہوئے۔ مشرکین مکہ آپ کی رسالت کا انکار کرتے تھے پچھلی سورة میں گزر چکا ہے کہ وہ لوگ آپ کو کبھی کاہن کہتے ، کبھی مجنوں اور کبھی شاعر مگر اللہ نے ان سب باتوں کی تردید کی ۔ وہ لوگ آپ کو بہکا ہوا اور بےراہ بھی کہتے تھے مگر اللہ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ساتھی نہ تو بہکے ہیں اور نہ ہی بےراہ ہوئے ہیں ، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا پیغام تمہیں سناتے ہیں ۔ آپ کی باتیں نہایت معنی خیز اور علم و حکمت پر مبنی ہیں لہٰذا تمہیں آپ کی رسالت کا انکار کرنے کی بجائے آپ پر ایمان لے اننا چاہئے کہ اسی میں تمہاری فلاح ہے۔
ضل اس شخص کے متعلق کہا جاتا ہے جس کو ہدایت ملی ہی نہ ہو اور وہ بھٹک جائے اور غویٰ کا معنی یہ ہے کہ ہدایت تو واضح ہوچکی ہے۔ مگر کوئی شخص از خود غلط راستے پر جا رہا ہے ۔ اللہ نے یہود و نصاریٰ کے متعلق فرمایا کہ ان میں سے بعض بہک گئے ہیں کیونکہ ان کو صحیح راستہ میسر ہی نہیں آیا اور بعض مغضوب علیہ ہیں جن کو صحیح راستے تو مل گیا ہے مگر وہ جان بوجھ کر ٹیڑھا چل رہے ہیں ۔ اللہ نے یہاں پر حضور ﷺ کے متعلق فرمایا ہے کہ نہ تو آپ بہکے اور نہ بےراہ ہوئے نیز فرمایا کہ تم بلا وجہ وحی الٰہی کا انکار کر رہے ہو ، حقیقت یہ ہے کہ وما ینطق عن الھوی اللہ کا نبی اپنے نفس کی خواہش سے نہیں بولتا ۔ ان ھو الا وحی یوحی مگر وہ تو وحی ہوتی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے ، اللہ کا نبی تمہیں اللہ کا کلام پیش کرتا ہے جو اسے بذریعہ وحی وصول ہوتا ہے۔ مگر کس قدر بد نصیبی کی بات ہے کہ تم اسے خود ساختہ کلام کہہ کر رد کردیتے ہو۔
حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ہر بات وحی الٰہی ہوتی ہے ، خواہ وہ وحی جلی ہو یا وحی خفی ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ابن العاص ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ میں حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ہر بات لکھ لیا کرتا تھا مگر بعض لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا ۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ حضور ﷺ بھی آخر انسان ہیں اور انسان سے خطا بھی سر زد ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ کبھی غصے کی حالت میں بھی ہوتے ہیں ، کبھی کسی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں ، لہٰذا آپ کو ہر بات لکھنادرست نہیں ۔ کہتے ہیں کہ اس پر میں حضور ﷺ کی ہر بات لکھنے سے رک گیا ۔ پھر میں نے اس کا تذکرہ خود حضور ﷺ کے پاس گیا تو آپ نے فرمایا اکتب فوالذی نفسی بیدہ ما خرج منحد الا الحق لکھ لیا کرو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔
ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کبھی کبھی مزاج بھی فرماتے تھے ایسے ہی ایک موقع پر صحابہ ؓ نے عرض کیا حضور ! انک تداعبنا وانت رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ مزاج بھی فرماتے ہیں حالانکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ میں جو کہتا ہوں وہ حق ہی ہوتا ہے۔ ایسے مزاج میں بھی کوئی نہ کوئی حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے۔ میری زبان سے غصہ کی حالت میں بھی کوئی لغو بات نہیں نکلتی ۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ کا رسول اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا بلکہ وہ جو کچھ بھی پیش کرتا ہے ، وہ وحی ہوتی ہے جو اس کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
جبریل (علیہ السلام) کا تعارف
آگے وحی الٰہی لانے والے فرشتے جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا علمہ شدید القویٰ اللہ کے نبی کو سکھلانے والا یعنی وحی لانے والا زبردست قوتوں کا مالک ہے ذومرۃ وہ بڑے زور والا ہے اور اللہ کا نبی اس کو پہچانتا ہے کہ یہ جبریل (علیہ السلام) ہے جو اللہ کی طرف سے وحی لانے پر مامور ہے۔ لہٰذا وہ کچھ بھی لاتا ہے ، وہ شک و شبہ سے پاک اور بالکل بر حق بات ہوتی ہے۔ جبریل (علیہ السلام) عام طور پر انسانی شکل میں وحی لے کر حضور ﷺ کے پاس آتے تھے مگر آپ نے جبریل کو دو دفعہ ان کی اصل شکل میں بھی دیکھا ہے ۔ پہلی روایت میں متعلق فرمایا فاستوی پھر وہ سیدھا ہوا۔ وھو بالافق الاعلی اور وہ بلند کنارے پر تھا۔ یہ ابتدائے نبوت کے زمانے کا ذکر ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جبریل (علیہ السلام) کرسی پر بیٹھے ہیں اور آپ کے جسم سے زمین و آسمان کی سار ی فضا پر ہے۔ آپ پر دہشت طاری ہوگئی ، جسم کپکپا رہا تھا آپ اسی حالت میں گھر تشریف لے آئے ۔ بہر حال جبریل (علیہ السلام) کو اصلی شکل میں دیکھنا حضور ﷺ کی خصوصیت ہے ، کسی اور نبی نے ان کو اصل حالت میں نہیں دیکھا۔ حضور ﷺ نے جبریل (علیہ السلام) کو دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر اصل شکل میں دیکھا تھا۔ جس کا ذکر اگلے درس میں آ رہا ہے ۔ بہر حال فرمایا ثم دنا فتدلی پھر وہ قریب ہوا ، اور نیچے آ گیا فکان قاب قوسین او ادنی پس وہ دو کمان کے برابر یا اس سے بھی قریب ہوا اور اس حالت میں فاوحی الی عبدہ ما اوحی اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی ، جو وحی نازل کی ۔ ما کذب الفواد ما رای جس چیز کو دیکھا۔ اس کو دل نے جھٹلایا نہیں ۔ یعنی آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا ، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا اللہ تعالیٰ جو کچھ دکھانا چاہتا تھا ، آپ نے وہ چیز ٹھیک طریقے سے مشاہدہ کرلی ۔ اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں تھا۔
فرمایا افتمرونہ علی ما یری کیا تم پیغمبر ﷺ کے ساتھ اس چیز میں جھگڑا کرتے ہو جو انہوں نے دیکھی ؟ نہیں بلکہ جو کچھ آپ نے دیکھا وہ بر حق تھا اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی ۔ اس مقام پر مفسرین کرام وضاحت کرتے ہیں کہ قاب قوسین او ادنی میں او شک کے لیے نہیں آیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوعیت کے اعتبار سے آپ ﷺ نے دو کمانوں سے بھی زیادہ قریب ہے جبریل (علیہ السلام) کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہی بیان ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت میں آمدہ الفاظ علی ما یردی سے عالم بالا کے مشاہدات مراد ہیں اور اس سلسلہ میں رویت الٰہی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ تا ہم اس بارے میں محدثین کا اختلاف ہے۔ البتہ اکثریت کا خیال ہے کہ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی رویت بھی نصیب ہوئی تھی اور اس کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔
Ayahs 53:13–18ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ رسالت کا ذکر ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تعریف بیان فرمائی ۔ پہلے انبیاء کے ادوار کے بعد جب آخری نبی کا دور آیا تو لوگوں نے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ طرح طرح کے اعتراضات کیے ۔ کسی نے کاہن کہا ، کسی نے دیوانہ اور کسی نے شاعر ، مگر اللہ نے سب کی تردید کی اور فرمایا تمہارے صاحب نہ تو بہکے ہیں اور نہ بےراہ ہوئے ہیں ۔ ہو اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے بلکہ ان کا پیش کردہ کلام اللہ کی وحی ہوتی ہے۔ اس وحی کو لانے والا جبریل (علیہ السلام) بڑ ی قوتوں والا فرشتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر اس کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ آغاز نبوت میں جب وہ پہلی دفعہ نموار ہوا تو وہ سیدھا بیٹھ گیا اور وہ افق کے بلند کنارے پر تھا اور زمین اور آسمان کے درمیان کی فضا آپ کے جسم سے پُر تھی۔ اس طرح اللہ نے حضور ﷺ کو جبریل کی اصل شکل میں پہچان کرائی۔
رویت جبریل (علیہ السلام) ثانیہ
اب آج کے درس میں جبریل (علیہ السلام) کی دوسری رویت کا ذکر ہے۔ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ نے دو دفعہ جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل شکل میں دیکھا ، پہلی دفعہ آغاز نبوت میں اور دوسری دفعہ معراج کے موقع پر تو اس دوسری رویت کے متعلق فرمایا ولقد راہ نزلۃ اخری البتہ تحقیق آپ نے جبریل کو دوسری دفعہ دیکھا نیچے اترتے ہوئے عند سدرہ المنتہیٰ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس عندھا ما جنت الماویٰ اس کے پاس ہی جنت الماوی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور علیہ السالمنے فرمایا کہ میں نے سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر جبریل کو اصلی شکل میں دیکھا اور اس کے چھ سو پر تھے۔ مجھے اس کو پہچاننے میں کسی قسم کا تردد نہیں ہوا۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کے متعلق فرمایا کہ یہ جنت الماویٰ کے پاس ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے اس کے تمام طبقات درجہ بدرجہ اوپر کی طرف جاتے ہیں ، اور آخر میں جنت الفردوس ہے جس پر عرش الٰہی کا سایہ پڑتا ہے۔
سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت
سدرۃ المنتہیٰ کا محل وقوع بیان کرنے کے بعد فرمایا اذا یغشی السدرۃ ما یغشیٰ جب کہ ڈھانپ لیا سدرہ کو اس چیز نے جس نے اس کو ڈھانپ لیا جب حضور ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو اس وقت سدرہ پر خاص قسم کے انوار و تجلیات وارد ہو رہے تھے اور اس درخت کے پتوں پر سنہری پروازنے جگمگا رہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے حسن و جمال کی تعریف بیان نہیں کرسکتا جو اس وقت سدرۃ پر طاری تھا۔ اللہ نے یہ ساری کیفیت اپنے پیغمبر کو دکھادی اور یہ مشاہدہ ایسا واضح تھا کہ مازاغ البصر و ما طغیٰ نہ تو نگاہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ ہی حد سے بڑھی ، بلکہ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ یہ پوری کیفیت مشاہدہ کی۔ اسی لیے فرمایا لقد راٰی من اٰیت ربہ الکبریٰ البتہ تحقیق آپ نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
سدرہ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ بعض روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کی جڑ چھٹے آسمان پر ہے جب کہ اس کی بلندی ساتویں آسمان سے آگے نکلی ہوئی ہے۔ یہ کوئی عجیب قسم کا درخت ہے جسے نوع انسانی کے ساتھ خاص نسبت ہے۔ اس درخت کے ہر پتے پر اللہ کے فرشتے تسبیح کر رہے تھے اور سنہری پروانے جگمگا رہے تھے۔ اس درخت کو سدرۃ المنتہیٰ اس لیے کہتے ہیں کہ اسے اوپر اور نیچے کے درمیان ایک سنگم کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے آگے کی کیفیت کو کوئی نہیں جانتا اوپر سے جو حکم آتا ہے وہ یہیں رہ جاتا ہے اور نیچے کسی دوسری کیفیت کے ساتھ وارد ہوتا ہے اسی طرح نیچے سے جو چیز اوپر کی طرف جاتی ہے وہ بھی اسی درخت پر آکر ختم ہوجاتی ہے۔ گویا یہ درخت عالم خلق اور عالم امر کے درمیان ایک واسطہ ہے یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ درخت عالم وجوب اور عالم امکان کا سنگم ہے۔ اس کو انسانی نوع کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ اسی واسطے حدیث میں آتا ہے کہ میت کو غسل دینے کے لیے پانی میں بیری کے پتے ڈال لیا کرو۔ اس کا ظاہری سبب تو یہی ہے کہ ان پتوں میں میل کچیل صاف کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم اس میں کوئی دیگر مصلحت بھی ضرور کارفرما ہے جو اس درخت کی انسان کے ساتھ نسبت کو ظاہر کرتی ہے۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اس بیری کا پھل بڑے بڑے مٹکوں جتنا دیکھا جو حجر کے مقام پر ہوتے ہیں جن میں چھ یا بارہ من پانی یا کھجوریں ذخیرہ کی جاسکتی ہیں اور اس بیری کے پتے ہاتھی کے کانوں جتنے بڑے تھے۔
چار نہریں
حضور ﷺ نے فرمایا کہ معراج کے موقع پر میں نے اس درخت کی جڑ میں چار نہریں دیکھیں جن میں سے دو نہریں باطنی ہیں اور دو ظاہری۔ فرماتے ہیں کہ میں نے جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کیسی نہریں ہیں تو اس نے بتایا کہ باطنی نہریں کوثر اور سلسبیل ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ قیامت والے دن اسی کوثر کا پانی پرنالوں کے ذریعے حوض کوثر میں ڈالاجائے گا جو حضور ﷺ اپنے امتیوں کو پلائیں گے۔ فرمایا ظاہری نہریں دریائے نیل اور فرات ہیں۔ اگرچہ انسانی فہم میں یہ بات نہیں آسکتی مگر حقیقت یہی ہے کہ نیل بھی بڑی با برکت نہر ہے جو چار ہزار میل لمبی ہے یہ افریقہ کے پہاڑوں سے نکل کر صحرائوں کو عبور کرتی ہوئی اور مصر کو سیراب کرتی ہوئی بحر قلزم میں جاگرتی ہے۔ اس کا تعلق کسی نہ کسی طریقے سے سدرۃ المنتہیٰ کے ساتھ بھی ہے ۔ اس قسم کا مشاہدہ ہم دیگر ذرائع سے بھی کرتے ہیں۔ مثلاً سمندر میں پیدا ہونے والے مددو جزر کا کا تعلق چاند کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر ماہ جوں جوں چاند بڑھتا ہے سمندر میں مد آتا رہتا ہے پھر جب چاند گھٹنے لگتا ہے تو سمندر میں جزر آجاتا ہے۔ جس طرح ہم سمندر کے ساتھ چاند کے ربط کو صحیح طور پر نہیں جانتے۔ اسی طرح نیل اور فرات کا جو تعلق سدرۃ المنتہیٰ کے ساتھ ہے ، وہ بھی ہمارے فہم سے بالا ہے۔
رویت الٰہی
ولقد راٰہ نزلۃً اخریٰ کا تعلق رویت جبریل سے ہے جس کو حضور ﷺ نے دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر دیکھا۔ تاہم مفسرین کرام اس آیت سے رویت باری تعالیٰ کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ چناچہ امام حسن بصری (رح) کہتے ہیں لقد رای محمدًا ربہ مرتین یعنی حضرت محمد ﷺ نے اپنے پروردگار کو دو دفعہ دیکھا ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ایک دفعہ آنکھ سے دیکھا اور ایک دفعہ دل سے طبرانی اور مسلم شریف کی روایت میں بھی ایسے ہی الفاظ آتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور حضرت ابو ذر غفاری ؓ کی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ البتہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس کا سختی سے انکار کرتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی رویت الٰہی کے خلاف ہیں۔ حضرت مسروق ؓ جو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے عزیز اور شاگرد ہیں۔ انہوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ رویت کا انکار کس بنا پر کرتی ہیں ، تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے لا تدرکم الابصار وھو یدرک الابصار ( الانعام۔ 103) آنکھیں تو اللہ تعالیٰ کو نہیں پا سکتیں ، البتہ وہ آنکھوں کو پاتا ہے۔
غور کیا جائے تو حضرت عائشہ ؓ کی اس دلیل کو دعوے کے ساتھ پوری مطابقت نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں ادراک کی نفی ہے نہ کو رویت کی۔ ادراک کا معنی کسی چیز کا مکمل طور پر احاطہ ہوتا ہے اور یہ واقعی خدا تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کا ممکن نہیں۔ وہ تو غیر محدود ذات ہے۔ لہٰذا اس کا مکمل احاطہ نہ دنیا میں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں۔ البتہ محض رویت کا مسئلہ دوسرا ہے جس کے لیے شواہد موجود ہیں جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو اس ضمن میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ قیامت کو تمام اہل ایمان کو اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔ اس کے برخلاف گمراہ فرقے ، شیعہ ، معتزلہ اور خارجی وغیرہ رویت الٰہی کے کلیتۃً منکر ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ رویت تو کسی جہت میں ہوسکتی ہے ، اور خدا کی جہت کو تسلیم کرنا اس کی تنزیہہ کے خلاف ہے۔ ایسا ماننے سے خدا تعالیٰ محدود ہوجائے گا۔ حالانکہ وہ ذات غیر محدود ہے۔ تاہم تمام اہل سنت والجماعت اس بات کے قائل ہیں کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا۔ مگر بغیر کیف یعنی بغیر کیفیت کے۔ مطلب یہ کہ یہ رویت رنگ ، شکل و صورت یا جہت کے بغیر ہوگی۔ گویا یہ رویت ایسی کیفیت میں ہوگی جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے انکم لن ترواربکم حتیٰ تموتوا تم مرنے سے پہلے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھ سکتے یعنی یہ دیدار اس وقت ہوگا جب لوگ مرا کر اگلے جہاں میں پہنچ جائیں گے۔ موسیٰ علیہ اسلام نے بھی کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے رویت کی درخواست کی تھی تو جواب آیا تھا۔ لن ترانی ( الاعراف۔ 143) یعنی تم مجھے دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر جب اللہ نے پہاڑی تر تجلی فرمائی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گر پڑے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس عالم ناسوتی میں تو رویت الٰہی ممکن نہیں مگر حضور ﷺ کو رویت نصیب ہوئی تھی وہ دوسرے جہاں میں خطیرۃ القدس میں ہوئی تھی۔ لہٰذا اس رویت میں کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) بھی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے سر کی آنکھوں سے اپنے پروردگار کو دیکھا۔ امام احمد (رح) بھی ایسی ہی رویت کے قائل ہیں۔ کسی نے آٓپ کے سامنے ذکر کیا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ تو اس رویت کا انکار کرتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ان کی بات کا جواب میں حضور ﷺ کی بات سے دیتا ہوں کہ آپ سے یہ قول صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے رایت ربی عزوجل کہ میں نے اپنے پروردگار عزوجل کو دیکھا ہے ، اور یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ کے قول سے زیادہ قوی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تم کو اس بات پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے رکھی ہے ، کلام موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے اور رویت محمد ﷺ کے لیے ، حضرت ابو ذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا رایت نوراً یعنی میں نور الٰہی کو دیکھا۔ اور دوسری روایت میں ہے فسجدت لہ پھر میں سجدہ ریز ہوگیا۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ رویت سے مراد مکمل احاطہ نہیں کیونکہ یہ تو ہر دو جہانوں میں کہیں بھی ممکن نہیں ، البتہ آخرت میں یہ رویت اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے ظہور سے ہوگی۔ یہ تجلیات بہت سی اقسام سے ہیں جن میں ذاتی بھی ہیں ، اور صفاتی بھی۔ خدا کی ذاتی تجلیات صرف انسانوں کے لیے مخصوص ہیں اور فرشتے ان سے مستفید نہیں ہوسکتے ، چناچہ آخرت میں بعض لوگوں کو سال کے بعد رویت نصیب ہوا کرے گی ، اور مقربین کو یہ رویت صبح و شام نصیب ہوگی جس کا ذکر قرآن حکیم میں موجود ہے گویا اللہ تعالیٰ کے دیگر انعامات کے علاوہ خدا تعالیٰ کی رویت ایک خصوصی انعام ہوگا۔
رویت عینی اور قلبی
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ دو مرتبہ رویت کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کو آنکھ سے دیکھا اور دوسری مرتبہ دل سے۔ معتزلہ تو دل سے دیکھنے کے قائل نہیں اور وہ اسے محض علم پر محمول کرتے ہیں حالانکہ علم تو حضور ﷺ کو کامل طریقے سے ہر وقت ہی حاصل تھا۔ لہٰذا اس میں تردد کی گنجائش ہی نہیں۔ البتہ دل کا ذکر شق قلب والی حدیث میں ملتا ہے کہ جب جبریل (علیہ السلام) نے آپ کا قلب مبارک شق کیا تو کہا قلب وکیع فیہ اذنان سمیعتان وعینان بصیرتان یہ بڑا مضبوط دل ہے ، اس میں دو سننے والے کان اور دیکھنے والی دو آنکھیں ہیں۔ تو گویا دل کی آنکھیں بھی ہیں جن سے حضور ﷺ کو رویت الٰہی حاصل ہوئی۔ شاہ رفیع الدین (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک انسان کی روح کا تعلق جسم کے ساتھ قائم رہتا ہے ، اس وقت تک انسان کو علم تو حاصل ہوتا ہے مگر انکشافِ تام نہیں ہوتا۔ یہ چیز رویت کی شکل میں دوسرے جہان میں چل کر ہوگی۔
بہرحال رویت آنکھ سے ہو یا قلب سے بات ایک ہی ہے۔ دیکھو ! کسی چیز کو دیکھنے کے لیے آنکھ کا صحیح سلامت ہونا ، روشنی کا ہونا اور چیز کا آنکھ کے سامنے ہونا ضروری ہے۔ آنکھ کے سامنے والا سیاہ حصہ قرینہ کہلاتا ہے۔ اللہ نے یہ نہایت ہی شفاف شیشے لگا دئیے ہیں جن کے متعلق حکیم بقراط کی ہزاروں سال پہلے کی تحقیق ہے کہ اس قرینے کے پیچھے نہایت ہی لطیف چالس پردے ہیں۔ ان پردوں کے پیچھے آنکھ میں نہایت ہی شفاف رطوبت بھری ہوئی ہے جسکو رطوبت جلیدیہ کہتے ہیں۔ یہی وہ رطوبت ہے کہ جب گدلی ہوجاتی ہے تو نظر آنا بند ہوجاتا ہے اور عام اصطلاح میں کہتے ہیں کہ موتیا اتر آیا ہے ، اس گدلی رطوبت کو آپریشن کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے تو پھر سے نظر آنے لگتا ہے۔ بہر حال جب کسی سامنے والی چیز کا عکس قرینہ پڑتا ہے جو اسے رطوبت جلیدیہ تک پہنچاتا ہے۔ پھر وہ اسے آگے مجمع نور تک بھیج دیتی ہے۔ مجمع نور اس کو اٹھا کر حسّ مشترک کے تختے پر منتقل کردیتی ہے۔ وہاں پر اس عکس کو قوت خیالیہ ، قوت وہمیہ ، قوتِ مفکرہ اور نفس ناطقہ اخذ کرکے فیصلہ کرتے ہیں کہ جس چیز کا عکس ان کے پاس پہنچا ہے وہ کیا ہے وہ کوئی درخت ہے ، پتھر ہے ، عمارت ہے ، حیوان ہے یا کوئی اور چیز ہے۔ اور وہ چیز سیاہ ہے یا سفید ، خوبصورت ہے یا بدصورت ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کا عکس آنکھ کے قرینہ ، رطوبت جلیدیہ ، مجمع نور اور حس مشترک تک نہیں پہنچتا ، رویت مکمل نہیں ہوتی بلکہ محض علم ہوتا ہے تو گویا علم اور رویت میں یہ فرق ہے۔ ہاں انسان جب عالم آخرت میں پہنچے گا تو اس کی تمام قوتوں خاص طور پر باطنی قویٰ میں بہت زیادہ لطافت پیدا ہوجائے گی۔ اس طرح قلب میں بھی بہت زیادہ قوت پیدا ہوجائے گی۔ اس وقت ہر چیز کا عکس سب سے پہلے قلب پر پڑے گا جو اس کو نفس ناطقہ کے پاس بھیج دے گا۔ نفس ناطقہ اسے حس مشترک کی طرف منتقل کردے گا اور وہ چیز پلٹ کر رطوبت جلیدیہ تک آجائیگی اور نظر آنے والی چیز کی اصلیت معلوم ہوجائے گی۔ غرضیکہ کوئی شخص آنکھ کی طرف سے دیکھے یا قلب کی طرف سے نتیجہ یکساں ہوگا۔ اسی لیے فرمایا کہ حضور ﷺ کو رویت الٰہی ایک دفعہ آنکھ سے اور ایک دفعہ قلب سے ہوئی۔ یہ دونوں باتیں درست ہیں اور دونوں کا منشا ایک ہی ہے۔
تدلی کا بیان
گذشتہ درس میں دنا فتدلی کا ذکر آیا تھا کہ اللہ کا فرشتہ قریب آیا تدلی کا لغوی معنی لٹکنا ہی ہے مگر شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ تدلی ایک بہت باریک حقیقت بھی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی چار صفات مختصر میں سے ہے۔ اللہ کی پہلی صفت ابداع ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادے اور نمونے کے پیدا کرنا جیسے اس نے آسمان و زمین کو اپنی صفت ابداع کے ذریعے بغیر مادے کے پیدا کیا۔ پھر دوسری صفت خلق آتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مادے سے کوئی دوسری چیز بنادینا ، جیسے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق فرمایا۔ پھر آگے تیسری صفت تدبیر ہے یعنی کسی چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانا ، کسی چیز میں کمی بیشی یا ترقی و تنزل کرنا۔ اور آخر میں اللہ کی چوتھی صفت تدلی کام کرتی ہے تدلی کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مادی انسان ، انسان اکبر کے نمونے پر بالکل تیار ہوجاتا ہے تو اس کے قلب پر اللہ تعالیٰ کی تجلیٔ اعظم کا عکس پڑنے لگتا ہے اس کے درمیان بہت سی منازل ہیں۔ تاہم یہ آخری منزل ہے جس کو بزرگوں نے دریافت کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جتنی قوتیں بخشی ہیں ان میں پانچ قویٰ یعنی نفس ، قلب ، عقل ، روح اور مر لطائفِ ظاہرہ کہلاتے ہیں ، جن کو یونانی ، رومی اور دوسرے فلاسفر اور حکماء بھی تسلیم کرتے ہیں اس کے آگے پانچ باطنی قوتیں ہیں یعنی خفیٰ ، اخفیٰ ، انانیت کبریٰ نور القدس اور حجر بحت جب ایک پوشیدہ قوت کا پردہ ہٹتا ہے تو دوسری نظر آجاتی ہے اور پھر آخر میں جو چیز ہوتی ہے اس کو حجر بحت کہتے ہیں اور اس پر تجلی اعظم کا عکس پڑتا ہے اس کو تدلی کہا جاتا ہے۔ تجلیٔ اعظم کا عکس پڑتا ہے اس کو تدلی کہا جاتا ہے۔ تجلیٔ اعظم کی کشش ہمیشہ اوپر کی طرف ہوتی ہے کیونکہ یہ عالم بالا سے آتی ہے۔ جب انسان کا یہ مادی خول اتر جائے گا۔ اور اندر سے اصلی انسان ظاہر ہوگا تو اس کی اوپر کی طرف کشش بہت بڑھ جائے گی۔ اگر انسان نے دنیا میں رہ کر کمائی ٹھیک نہیں کی تو وہ بہت تکلیف اٹھائے گا۔ بہر حال دنا فتدلی کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے۔
سابقہ درس کی بعض تصریحات
گذشتہ درس میں فرشتے کی قربت کے ضمن میں قاب قوسین کا ذکر بھی ہوچکا ہے یعنی فرشتے اور حضور ﷺ کے درمیان دو کمان یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا تھا۔ عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی دو آدمی آپس میں غیر معمولی دوستی کرنا چاہتے تھے تو وہ دونوں کمانیں اکٹھی کرکے ایک ہاتھ میں پکڑ لیتے تھے جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ گہرے دوست بن گئے ہیں۔ اب ان میں سے کسی ایک کا تیر دوسرے پر نہیں چلے گا تاہم اس مقام پر اس سے قربت ہی مراد ہے پھر فاوحیٰ الیٰ عبدہٖ ما اوحیٰ کا تذکرہ بھی آچکا ہے کہ پروردگار نے وحی نازل کی ، جو وحی نازل کی ، اس مقام پر کیا کیا چیزیں ظاہر ہوئیں۔ اس کو اللہ نے اجمال میں رکھا ہے۔ البتہ صحیح احادیث میں تین تحائف کا ذکر ملتا ہے۔ جو اللہ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو عطا فرمائے۔ ان میں پہلا انعام پانچ نمازیں جو امت محمدیہ پر فرض ہوئیں۔ دوسرا انعام سورة بقرہ کی آخری دو آیات امن الرسول سے لے کر آخر تک ہے اور تیسرا انعام یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا جو شخص دنیا میں رہ کر میرے ساتھ شرک نہیں کرے گا۔ اس کی غلطیوں کو معاف کردیاجائے گا۔ ان کے علاوہ اور بھی نشانیاں ہیں جن کے متعلق یہاں فرمایا کہ آپ نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
Ayahs 53:19–25ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ نے ستارے کی قسم اٹھا کر جواب قسم کے طور پر نبوت و رسالت کا ذکر کیا۔ پیغمبر کی ذات مبارکہ میں شک کرنے والوں کا رّد کیا اور فرمایا کہ اللہ کا پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہ جو کچھ پیش کرتا ہے وہ وحی الٰہی ہوتی ہے پھر اللہ نے وحی لانے والے مقرب فرشتے جبریل (علیہ السلام) کا تعارف بھی کرایا۔ پھر معراج کے واقعہ میں قرب کا تذکرہ کیا جو اللہ کے نبی کو حاصل ہوا۔ آپ کا سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا جس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کی کیفیت بھی بیان فرمائی اور پھر اللہ کے پیغمبر کو عالم بالا میں ہونے والے مشاہدہ کی تصدیق فرمائی کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ نبوت و رسالت ہی کے سلسلے میں اس سے پہلے فرمایا کہ تمہارے صاحب نہ بہکے اور نہ بےراہ ہوئے ، بلکہ وہ تو اللہ کی جانب سے وحی پیش کرتے ہیں اور اللہ نے آپ کو بہت ہی بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ وحی لانے والا فرشتہ بھی اللہ کے ہاں بہت مقدس اور قوتوں کا مالک ہے۔
بتوں کی پرستش
اب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ردّ فرمایا ہے جو اللہ مالک الملک اور تمام قوتوں کے سرچشمہ کو چھوڑ کر خود ساختہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ آج کے درس میں عربوں کے تین مشہور معبودان باطلہ کا تذکرہ ہے یعنی لات ، منات اور غریٰ جن کی وہ پوجا کرتے تھے اور ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کے طالب ہوتے تھے۔ طائف کے قبیلہ ثفیف والے زیادہ تر لات کی پرستش کرتے تھے۔ مدینہ کے اوس اور خزرج اور غنانی قبائل منات کے پجاری تھے جب کہ قریش اور بنی کنانہ غریٰ کو معبود مانتے تھے۔ ان کے علاو ہ اور بھی بہت سے معبود بنا رکھے تھے جو مختلف تصورات پر بنائے گئے تھے۔ کہیں کوئی استھان تھا جہاں پر نذر و نیاز پیش کی جاتی تھی۔ کہیں درختوں کی پوجا ہوتی تھی اور کہیں مختلف شکلوں کے مجسمے بنائے ہوئے تھے۔
ارشاد ہوتا ہے افرء یتم اللت والعزی ومنوۃ الثالثۃ الاخری کیا تم نے دیکھا ہے لات اور غری کو ، اور تیسرے منات کو جو دوسری طرف ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ کیا تم نے ان کو معبود خیال کیا ہے ؟ یہ تو بالکل غلط تصور ہے جس کے متعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ اے پروردگار ! واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( ابراہیم۔ 35) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے دور رکھ۔ انھن اضللن کثیراً من الناس ( ابراہیم۔ 26) یہ بت بہت سی مخلوق کی گمراہی کا باعث بنے ہیں۔ مشرکین بتوں کی پوجا تو کرتے ہی تھے بعض نے جعلی کعبے بنا رکھے تھے جن کا طوف کرتے تھے۔ تاریخ ابن ہشام میں ہے کہ اس قسم کا ایک کعبہ بنی طی میں تھا۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اس کعبہ کو گرانے پر مامور کیا اس طرح یمن کے ذی الخلصہ کے مقام پر بھی ایک کعبہ تھا۔ لوگ اس کا بھی طواف کرتے تھے۔ اس کو کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا حضور ﷺ نے حضرت جریر ابن عبداللہ بجلی ؓ کو ڈیڑھ سو آدمیوں کا ایک جتھہ دے کر روانہ فرمایا کہ مجھے راحت پہنچائو۔ فرمایا ، جب میں سنتا ہوں کہ خانہ کعبہ کے مقابلے میں کسی نے مصنوعی کعبہ بنا رکھا ہے تو مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ حضرت جریر ؓ نے جا کر اس کعبہ کو جلا دیا۔
مشرکین عرب کے بت لات
لات کا مادہ لوا سے بھی اور لات یلوت اور یلت سے بھی آتا ہے اگر اس کا لوا کا مادہ ہو تو اس کا معنی جھک جانا ہے یہ معنی بھی درست ہے کیونکہ لوگ اس بت پر اکثر جھکے رہتے تھے کوئی سجدہ کرتا ، کوئی اس کو چومتا چاٹتا اور کوئی نذر و نیاز پیش کرتا تھا اور اس سے مرادیں مانگتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اپنے زمانے میں لات ایک اچھا آدمی تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ شخص ستو اور گھی وغیرہ بیچا کرتا تھا ، اور بعض کہتے ہیں کہ یہ حاجیوں کو ستو وغیرہ پلایا کرتا تھا۔ جس کی وجہ سے اسے بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ اور اس یوجہ سے اس کا نام لات مشہور ہوگیا۔ پھر جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اس کا مجسمہ بنا لیا اور اس کی پوجا شروع کردی۔ اس پر نذرانے پیش ہونے لگے اور اس سے حاجت روائی اور مشکل کشائی ہونے لگی۔
سورة نوح میں اللہ نے اس قوم کے پانچ معبودان باطلہ کا ذکر کیا ہے۔ وہ بھی ایسے ہی نیک لوگ تھے یعنی ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت شیث (علیہ السلام) کے بیٹے تھے ، بڑے پارسا لوگ تھے ، مگر ان کے مرنے کے بعد ان کی پوجا شروع ہوگئی۔ وہ محبت کا دیوتا کہلاتا تھا جیسے ہندوئوں کے ہاں برہماجی مہاراج ہیں ، یہ انسان کی شکل پر بنایا ہوا تھا۔ سواع کا بت عورت کی شکل پر تھا اور اس کو حسن و جمال کی دیوی کہا جاتا تھا۔ ہندوئوں کے ہاں اس قسم کی درگادیوی ہے۔ ہندوئوں میں مال و دولت کے لیے لکشمی دیوی کی پوجا کی جاتی ہے۔ اور مصائب و آلام سے حفاظت کے لیے کلکتہ کی کالی دیوی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ غرضیکہ اسی طرح عرب کے مشرکوں میں لات کی پوجا ہوتی تھی۔
غزیٰ
غزیٰ عورت کے نام پر عزیز یا اعز کی مونث بنائی ہوئی تھی۔ اس کے اردگرد درخت تھے جن کے نیچے اس دیوی کی پوجا ہوتی تھی۔ مشرکوں کا عقیدہ تھا کہ اس کی دہلیز میں قارور تان ذی لخیر و ذی لشر الھوان دو بوتلیں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک خیر کی اور دوسری شر کی۔ لوگ ان بوتلوں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے وہاں نذر و نیاز پیش کرتے تھے۔ بعض کو خیروشردونوں میں سے حصہ ملتا تھا خیر و شرکا اس قسم کا تصور یونانیوں میں بھی پایاجاتا تھا ، مگر اللہ نے اس کی تردید فرمائی ۔
غزوہ احد میں جب مسلمانوں پر افتاد پڑی تو ابو سفیان نے ہبل کا نعرہ لگایا تھا اعل ھبل یعنی ہبل کی جے۔ اس نے حضور ﷺ کے جان نثاروں کو آوازیں دیں کہ آج وہ کدھر گئے ؟ پھر خود ہی کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب ختم ہوگئے ہیں۔ ابو سفیان نے اس دن یہ نعرہ بھی لگایا تھا۔ لنا الغزیٰ والا غزیٰ لکم یعنی ہمارا حمایتی غریٰ ہے جبکہ تمہارے ہاں کوئی غریٰ نہیں ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ اس کے جواب میں کہو اللہ مولنا ولا مولیٰ لکم یعنی ہمارا کارساز اللہ تعالیٰ ہے مگر تمہارا کوئی آقا نہیں ہے۔ تم شیطان کے پجاری ہو۔ بہر حال فتح مکہ کے بعد حضور ﷺ نے غریٰ کے تینوں درخت کٹوا کر اس کا خاتمہ کردیا۔
منات
اس تیسرے بت منات کے متعلق مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ یہ مشلل کے مقام پر ساحل سمندر کے قریب رکھا ہوا تھا۔ اس کے پجاری زیادہ تر مدینہ کے لوگ تھے اور یہاں آکر وہ عجیب و غریب شرکیہ حرکات کرتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ لوگ اساف اور نائلہ بتوں کے نام پر احرام باندھتے تھے اور ان کے نام کے نعرے مارتے ہوئے صفا و مرہ کا طواف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام کا ظہور ہوا اور حج اور عمرہ کے لیے خانہ کعبہ کے طواف کے ساتھ ساتھ صفا ومروہ کی سعی کا حکم ہوا تو انصار مدینہ نے کچھ حرج محسوس کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو ان معبودان باطلہ کی وجہ سے صفا ومروہ کا طواف کرتے تھے ، مگر اب اس کا کیا جواز رہ گیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ ( البقرہ۔ 158) بیشک صفا اور مروہ تو اللہ کے شعائر ہیں ، لہٰذا حج وعمرہ کرنے والے ان کی سعی بھی کریں۔ بتوں والی خرابیاں تو مشرکین نے بعد میں پیدا کی تھیں ، جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
بہرحال منات کی پوجا عمر وبن لحی کے دور سے شروع ہوئی جو حضور ﷺ سے تقریباً پانچ سو سال پہلے گزرا تھا۔ اس سے پہلے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہا السلام) سے لیکر ڈیڑھ ہزار سال تک عرب کے سارے لوگ توحید پرست تھے۔ اس کے بعد بت پرستی کا رواج اس قدر پھیل گیا کہ خود خانہ خدا بھی بتوں سے پُر ہوگیا۔ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہا السلام) کے مجسمے پڑے پائے جن کے ہاتھوں میں جوڑے کے تیر پکڑا رکھے تھے۔ آپ نے فرمایا ان مشرکوں پر خدا کی لعنت ہو ، اللہ کے نبیوں تو نے کبھی جوا نہیں کھیلا۔ تاہم آپ نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کروایا اور پھر اس میں داخل ہوئے۔ جس طرح مشرکوں نے اللہ کے نبیوں کو جوئے جیسی قبیح حرکت میں ملوث کرلیا تھا۔ اسی طرح یہودیوں نے اللہ کے نبیوں پر زنا تک کا الزام لگایا ، العیاذ باللہ۔ بائیبل ایسی بےحیائی کی باتوں سے بھری پڑی ہے۔
اولاد کی کھوئی تقسیم
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک اور نظریہ کا ردّ کیا ہے جو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کے بارے میں رکھتے تھے۔ مشرک اپنے لیے تو بیٹوں کو پسند کرتے تھے۔ اور گھر میں بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ درگور کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے مگر فرشتوں کو خدا کے ساتھ بحیثیت بیٹیاں منسوب کرتے تھے۔ اللہ نے اس بات کا شکوہ کیا الکم الذکر ولہ الانثیٰ کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں ، اور اس ( اللہ تعالیٰ ) کے لیے بیٹیاں ہیں فرمایا تلک اذًا قسمۃ ضیزٰی یہ کتنی کھوٹی اور غلط تقسیم ہے جو تم نے ازخود کر رکھی ہے کہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہو اور خدا تعالیٰ کے لیے بیٹیاں منسوب کرتے ہو۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تو اولاد سے ہی پاک ہے چہ جائیکہ اس کی طرف بیٹیوں کی نسبت کی جائے۔ ان ھی الا اسماء سمیتمو ھا انتم واٰبائوکم یہ تو محض نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے اباو اجداد نے خود بخود رکھ لیے ہیں ، ان کے تحت کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جن لوگوں کے تصور پر تم نے یہ مجسمے بنا رکھے ہیں ، ان کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں ہے جو تمہاری فریاد رسی اور داد رسی کرسکیں۔ تم خواہ مخواہ ان پر جھکتے جاتے ہو ، ان کی پوجا پاٹ کرتے ہو اور ان سے مرادیں مانگتے ہو وہ تو کسی چیز کے مالک ہی نہیں ہیں ، تمہاری کیا مدد کریں گے ؟ اللہ نے سورة النحل میں فرمایا ہے افمن یخلق کمن لا یخلق ( آیت۔ 17) بھلا کیا ہر چیز کا خالق اور مالک اس جیسا ہے جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے ؟ یہ تو خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں اور اللہ نے انہیں کوئی اختیار بھی نہیں دیا۔ پھر تم ان کی کیسے پرستش رتے ہو ، اور یہ کیسے تمہاری مدد کرتے ہیں ؟ ان میں سے بعض تو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے تراش رکھے ہیں۔ بھلا ان خود ساختہ معبودوں کو الوہیت کا درجہ دینے کا کیا جواز ہے ؟ فرمایا یہ تو محض نام ہی نام ہیں مام انزل اللہ بھا من سلطنٍ یعنی اللہ نے تو ان کے ح ق میں کوئی سند نہیں اتاری جس کی بناء پر تم ان کے گرویدہ ہو رہے ہو۔ مگر مشرک بھی اپنے عقیدے میں بڑے پختہ تھے۔ وہ کہتے تھے
تلک الغرانیق العلیٰ
ان شفاعتھن لترتجیٰ
یہ بہت بڑی ہستیاں ہیں اور ان کی سفارش ضرور کارگر ہوگی کہتے تھے خدا تعالیٰ راضی ہو یا ناراض یہ ہستیاں ہمیں عذاب الٰہی سے ضرور بچالیں گی۔ اس طرح وہ لوگ گویا جبری سفارش کے قائل تھے جس کی اللہ نے قرآن میں متعدد بار نفی کی ہے ہرایرے ، غیرے ، مشرک ، منافق کیلئے تو سفارش مفید ثابت نہیں ہوسکتی ، بلکہ سفارش تو اس کے حق میں مفید ہوگی جس کا عقیدہ صحیح ہوگا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں سفارش کے لیے اجازت بھی دی ہوگی۔
قوم نوح کے پانچ معبودانِ باطلہ کا ذکر میں نے پہلے کیا ہے ، اور ان میں سے دو اور سواع کی تاریخی حیثیت بھی عرض کی ہے۔ باقی تین بتوں میں ایک یغوث تھا۔ یہ لفظ غوث کے مادہ سے ہے جس کا معنی فریاد رسی ہوتا ہے۔ مشرک لوگ اپنی مشکل کشائی کے لیے اس بت کی پوجا کرتے تھے اور اس پر چڑھاوے چڑھاتے تھے۔ یہ شیر کی شکل میں بنایا جاتا تھا۔ یعوق انسان کے لیے بمنزلہ مال کے ہے۔ مال و دولت کے حصول کے لیے اس بت کی پوجا ہوتی تھی۔ یعوق کا معنی تکلیف کو دور کرنے والا بھی ہوتا ہے۔ یہ گھوڑے کی شکل میں بنایا جاتا تھا۔ مشرکین کا تصور یہ تھا کہ یہ تیز رفتار ہونے کی وجہ سے پکارنے پر مدد کے لیے جلد پہنچ جاتا ہے۔ پانچواں معبود تسر نامی تھا جو کہ گدھ کی شکل پر بنایاجا تا تھا۔ گدھ بھی بڑا طاقتور اور تیز رفتار پرندہ ہے اور جہاں خوراک نظر آئے فوراً پہنچ جاتا ہے۔ مشرک اس کو بھی مشکل کشائی کے لیے پکارتے تھے۔ ہمارے دور میں لوگ ” یا علی مشکل کشا “ اور ” یا پیردستگیر مدد “ کے نعرے لگاتے ہیں جو کہ قوم نوح کے مشرکوں سے کم نہیں۔ نزولِ قرآن کے زمانہ کے مشرکوں میں بھی ایسے تصورات پائے جاتے تھے اور وہ غیر اللہ سے مافوق الاسباب اعانت طلب کرتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کچھ اختیار نہیں۔ فرشتے ، نبی ، ولی ، جن سب اس کے عاجز بندے ہیں۔ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کسی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے کہ لوگوں کی مشکل کشائی کرے۔ عیسائیوں کا یہ عقیدہ بالکل باطل ہے کہ مسیح (علیہ السلام) نے جان کا کفارہ پیش کرکے تمام عیسائیوں کو عذاب الٰہی سے بچالیا۔ یہ ساری غلط باتیں اور غلط نظریات عربوں میں بھی رائج تھے۔ جن کی اللہ نے تردید فرمائی ہے۔
محض گمان کا اتباع
اللہ نے فرمایا کہ معبودانِ باطلہ کے متعلق تمہارے یہ خود ساختہ نام ہی نام ہیں جن کی صداقت کی کوئی سند نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے ان یتبعون الا الظن وما تھویٰ الانفس یہ لوگ تو محض گمان کا اتباع کر رہے ہیں اور خواہشات نفسانی پر چل رہے ہیں ، وگرنہ ان معبود ان باطلہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی ان کو کچھ اختیار حاصل ہے۔ فرمایا حقیقت یہ ہے ولقد جاء ھم من ربھم الھدیٰ کہ ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔ اللہ کا آخری نبی اور اس کی آخری کتاب آچکی ہے جو منبع رشد و ہدایت ہے ان دو چیزوں کی موجودگی میں ان بتوں کی کیا حیثیت ہے ؟ ان کو چاہئے تھا کہ اس ہدایت کو قبول کرکے دائمی فلاح پا لیتے مگر وہ اپنے پرانے معبودوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور انہی سے اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی چاہتے ہیں۔ فرمایا ام للانسان ما تمنیٰ کیا یہ ضروری ہے کہ انسان کو وہی کچھ مل جائے جس کی وہ تمنا کرے ؟ فرمایا ہرگز نہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب کوئی انسان خواہش کرتا ہے تو اس کو دیکھناچاہئے کہ وہ کیا چیز طلب کر رہا ہے اور کیا وہ اس کے حق میں بہتر ہے یا نقصان دہ ؟ انسان نہیں جانتا کہ اس کے لیے کون سی خواہش مفید ہے۔ اگر غلط خواہش کرے گا تو ممکن ہے کہ اس کے لیے وہی لکھی جائے۔ اور پھر وہ نقصان میں پڑجائے۔ اس لیے انسان کو ہمیشہ اچھی چیز کی خواہش کرنی چاہئے۔ اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے ، وہ اپنی ہر کارکردگی کا جواب دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے ذرے ذرے کا حساب لے گا ، کیونکہ فللہ الاخرۃ والاولیٰ آخرت کا اور اس دنیا کا سارا اختیار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ اس نے یہ اختیار مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا ، لہٰذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کریں۔