53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 53:26–30

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں کہ نہیں کام دیتی ان کی سفارش کچھ بھی مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے اجازت دے اور پسند کرے

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر ، البتہ وہ نام رکھتے ہیں فرشتوں کے عورتوں جیسے نام

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور نہیں ہے ان کو اس بات کا کچھ علم۔ نہیں پیروی کرتے یہ لوگ مگر گمان کی۔ اور بیشک گمان نہیں کام دیتا حق کے سامنے کچھ بھی

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

پس آپ اعراض کریں اس سے جس نے منہ موڑ لیا ہے ہماری یاد سے۔ اور نہیں ارادہ کیا اس نے مگر دنیا کی زندگی کا

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

یہی پہنچ ہے ان کے علم کی۔ بیشک تیرا پروردگار بہتر جانتا ہے اس کو جو گمراہ ہوا اس کے راستے سے اور وہ بہتر جانتا ہے اس کو جس نے ہدایت پائی

ربطہ آیات سورة کے ابتدائی حصے میں رسالت کا ذکر ہوا۔ اور رسالت میں شک و شبہ کرنے والوں کا اللہ نے ردّ فرمایا۔ وحی الٰہی کے نزول کا ذکر ہوا اور پیغمبر خدا کے بلند مقام پر فائز ہونے کا تذکرہ ہوا۔ معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ نے قدرت کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد اللہ نے مشرکین کے معبودانِ باطلہ لات ، غزیٰ اور منات کی تردید کی۔ فرمایا مشرک لوگ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں۔ مگر بیٹیوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں۔ فرمایا یہ کتنی غلط بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ محض گمان اور نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ وگرنہ ان کے پاس ہدایت کی کوئی سند موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اور کتاب کی صورت میں ہدایت پہنچ چکی ہے مگر یہ بد بخت اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ فرشتوں کی سفارش گذشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ مشرکین عرب نے لات ، غریٰ اور منات جیسے مجسمے بنا رکھے تھے جن سے حاجت روائی اور مشکل کشائی چاہتے تھے۔ اس کا یہ زعم باطل تھا کہ یہ معبود ہمیں اللہ کے ہاں ضرور چھڑا لیں گے خواہ اللہ تعالیٰ راضی ہو یا ناراض ، اس طرح وہ گویا جبری سفارش کے قائل تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وہ لوگ فرشتوں کو بھی اپنا سفارشی سمجھتے تھے مگر اللہ نے اس کے اس باطل عقیدہ کی بھی تردید فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے وکم من ملکٍ فی السموت آسمانوں میں اللہ کے بہت سے فرشتے ہیں۔ بلاشبہ اللہ کے بیشمار فرشتے ہیں جن کے مختلف درجات ہیں۔ بعض ملاء اعلیٰ کے فرشتے ہیں جو بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ بعض حاملین عرش ہیں۔ بعض عرش کے گرد طواف کرنے والے ہیں۔ خطیرۃ القدس کے رہنے والے اور علیین کے فرشتے بھی ہیں۔ پھر آسمانوں میں رہنے والے عام فرشتے ہیں ، پھر آسمان دنیا کے فرشتے ، پھر درجہ بدرجہ فضائوں کے فرشتے اور پھر ملاء سافل کے فرشتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی معصوم مخلوق ہے اور ہر وقت احکام خداوندی کی تعمیل میں مصروف رہتے ہیں۔ ان سب کی ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان کی نگاہ ہمیشہ خداوند تعالیٰ کی تجلی اعظم کی طرف لگی رہتی ہے اور وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے رہتے ہیں فرمایا اتنی مقرب مخلوق ہونے کے باوجود ان کا حال یہ ہے لا تغنی شفاعتھم شیئاً ان کی سفارش کچھ کام نہیں دیتی الا من م بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس سفارش کی اجازت دے جس کے لیے چاہے۔ اور دوسری بات یہ ویرضیٰ اور اس کو پسند بھی کرے۔ مطلب یہ کہ کسی شخص کے حق میں سفارش اللہ تعالیٰ کی اجازت اور اس کی رضا کے ساتھ مشروط ہے۔ اُدھر قرآن پاک میں موجود ہے ولا یرضیٰ لعبادہ الکفر (الزمر۔ 7) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کفر کو بالکل پسند نہیں کرتا اور یہی حال شرک کا بھی ہے جس کو اللہ نے ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے تو اس لحاظ سے سفارش کا حقدار وہ شخص ہوگا جو کفر کی بجائے ایمان رکھتا ہو اور شرک کی بجائے خالص توحید کا عقیدہ رکھتا ہو۔ اگر یہ دو چیزیں موجود ہیں۔ تو پھر اللہ تعالیٰ چھوٹی موٹی کوتاہیوں سے درگزر فرما کر ایسے شخص کے حق میں سفارش کی اجازت بھی دے گا اور پھر اسے قبول بھی فرمالے گا۔ برخلاف اس کے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فلاں بزرگ ، نبی ، ولی یا فرشتہ ضرور ہی سفارش کرکے اللہ تعالیٰ کو منوالے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ امام رازی (رح) اس کو جبری سفارش سے تعبیر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اللہ کے ہاں ایسی سفارش کی کوئی حیثیت نہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو لوگ ایسی سفارش کے قائل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے حکمرانوں پر قیاس کرتے ہیں۔ دنیا کے سلاطین اور امراء کو تو بعض اوقات کسی کی سفارش مجبوراً ماننی پڑتی ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے۔ اسے اُس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرنے پر کون مجبور کرسکتا ہے ؟ یہ جبری سفارش والا عقیدہ بالکل باطل ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ کسی شخص کی سفارش پیش کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پیشگی اجازت ضروری ہے اگر اللہ تعالیٰ کسی کو سفارش کی اجازت ہی نہیں دیں گے تو کون ہے جو اس کے سامنے دم مار سکے ؟ اس کا واضح فرمان من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ ( البقرہ۔ 255) کون ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کرسکے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ کائنات میں افضل ترین ہستی حضور خاتم النبین ﷺ کی ذات مبارکہ ہے قیامت والے دن جب مخلوق سخت تکلیف میں ہوگی تو اس وقت اس بات کی ضرورت ہوگی کہ اللہ کی کوئی مقرب ہستی اس کے پاس سفارش کرے کہ وہ مخلوق کی تکلیف کے پیش نظر حساب کتاب شروع کردے۔ مخلوق اللہ کے برگزیدہ انبیاء کے پاس جائے گی کہ وہ ان کی درخواست اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں ، مگر کوئی بھی اس کام کی ہمت نہیں پائے گا۔ بالآخر لوگ حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائوں گا اور اس کی ایسی تعریفیں بیان کروں گا جو اسی وقت خود اللہ مجھے الہام کرے گا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ دس سال تک سجدہ میں پڑے رہیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یا محمد ارفع راسک سل تعط واشفع تشفع اے محمد ! سر اٹھائیں ، آپ سوال کریں اسے پورا کیا جائے گا ، اور آپ سفارش کریں اس کو قبول کیا جائے گا۔ غرضیکہ اللہ کی اجازت کے بغیر اس کا سب سے برگزیدہ اور امام الانبیاء بھی سفارش کر نیکی جرأت نہیں کرسکے گا۔ اس کے بعد شفاعتِ صغریٰ ہے جو امت کے گنہگاروں کے حق میں ہوگی بعض لوگوں کے حق میں دوزخ واجب ہوچکی ہوگی۔ مگر حضور ﷺ کی سفارش سے اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے گا۔ بعض لوگ دوزخ میں پہنچ چکے ہوں گے اور وہ بھی سفارش سے وہاں سے نکل آئیں گے۔ بعض کی سفارش بلندی درجات کے لیے ہوگی ، جو قبول کی جائیگی۔ علی ہذا القیاس جب حضور ﷺ کو شفارت کی اجازت مل جائے گی تو پھر باقی انبیائ ، شہداء اور صالحین بھی اللہ کی اجازت سے سفارش کریں گے۔ مگر یہ اسی شخص کے حق میں قبول ہوگی ورضی لہ قولا ( طہٰ 109) جس کی بات اللہ تعالیٰ کو پسند ہوگی۔ کوئی بھی سفارش کرنے والا کسی کافر اور مشرک کے حق میں سفارش نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسی سفارش قبول ہوگی۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اجازت دی کہ وہ ایک دعا جونسی چاہیں منظور کرالیں۔ سارے نبیوں نے اپنی اپنی ایک ایک دعا دنیا میں ہی قبول کرالی مگر میں نے اس کو قیامت کے دن تک موخر کردیا جسے میں اپنی امت کی بخشش کے لیے استعمال کروں گا۔ فرمایا وھی نائلۃ ان شاء اللہ من امتی لمن لم یشرک باللہ شیئاً اور میری وہ دعا اور سفارش میری امت کے ہر اس شخص کو پہنچے گی جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا۔ مشرک ، کافر ، منافق ، مرتد ، زندیق اور ملحد حضور ﷺ کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔ بہر حال فرمایا کہ آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کارگر نہیں ہوتی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے اس شخص کے حق میں جس پر وہ راضی ہو۔ منکرین قیامت کی محرومی آگے ارشاد ہوتا ہے ان الذین لا یومنون بالاٰخرۃ لیسمون الملٰکۃ تسمیۃ الانثیٰ بیشک وہ لوگ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے عورتوں جیسے نام رکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ منکرین قیامت اول فول باتیں کرتے ہیں مثلاً یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کی مائیں جننیاں ہیں۔ گویا انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ ثابت کیا ہے۔ فرمایا یہ ایسی فضول باتیں کرتے ہیں حالانکہ وما لھم بہ من علمٍ ان کو اس بات کا کچھ علم نہیں ہے۔ ایسے لوگ حقیقت سے بےبہرہ ہیں ان یتبعون الا الظن یہ تو محض گمان کا اتباع کر رہے ہیں۔ وان الظن لا یغنی من الحق شیئاً اور گمان کا خاصہ یہ ہے کہ یہ حق کے مقابلے میں کچھ کارآمد نہیں ہوتا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے۔ ایاکم والظن لوگو ! اپنے آپ کو بد گمانی سے بچائو کیونکہ بد گمانی جھوٹی بات ہوتی ہے۔ مطلق گمان تو ناقابل اعتبار نہیں ہے کیونکہ عربی زبان میں ظن گمان کے معنی بھی آتا ہے اور یقین کے معنی میں بھی جیسے سورة البقرہ میں ہے کہ نماز گراں گزرتی ہے سوائے ان لوگوں کے جن کے دل میں خشیت الٰہی ہے الذین یظننون انھم ملقوا ربھم وانھم الیہ راجعون (آیت 46) اور یہ وہ لوگ ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے والے ہیں ، اور انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اسی طرح اگر ظن گمان کے معنی میں ہوتویہ شک و تردد والی بات ہوتی ہے اور ایسے ہی گمان سے منع کیا گیا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ محض گمان حق کے مقابلے میں کچھ مفید نہیں۔ خاص طور پر اعتقادیات کے کے معاملہ میں تو گمان پر قطعاً اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس کے لیے قرآن و سنت سے قطعی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ اعمال میں گمان غالب پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو۔ چناچہ قیاس یا اجتہاد یا تقلید ظن پر عمل کرنے کا نام ہے۔ اما م بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ حق ایسی چیز ہے جسے علم کے ساتھ ہی پایاجاسکتا ہے ، اور کوئی عقیدہ قطعی دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی گمان کا معارف حقیقیہ میں اعتبار ہوتا ہے۔ گمان کا اعتبار عملیات میں ہوتا ہے لہٰذا وہاں پر ضعیف احادیث پر بھی عمل کرلیا جاتا ہے۔ صرف دنیا طلبی آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو خطاب کرکے فرمایا ہے فاعرض عن ن تولیٰ عن ذ کرنا پس آپ منہ پھیر لیں اس شخص سے جس نے روگردانی کی ہماری یاد سے ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا اور نہیں ارادہ کیا مگر صرف دنیا کی زندگی کا۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص صرف دنیا کا طالب ہے اور آخرت کی کچھ فکر نہیں رکھتا ، آپ اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دیں بلکہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ذلک مبلغھم من العلم ان لوگوں کا مبلغ علم یہی ہے یعنی ان کے علم کی پہنچ صرف دنیا کے حصول تک ہی محدود ہے اور آخرت کی انہیں کچھ فکر نہیں۔ سورة الروم میں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا۔ یعلمون ظاہرًا من الحیوۃ الدنیا و ھم عن الاٰخرۃ ھم غفلون ( آیت۔ 7) کہ یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی کو ہی جانتے ہیں کہ اس کو کیسے حاصل کرنا ہے اور اس سے کیسے فائدہ اٹھانا ہے ، یہ لوگ آخرت کی دائمی زندگی سے بالکل غافل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان ھی الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما نحن بمبعوثین ( المومنون۔ 37) ہماری یہ دنیا کی زندگی ہی ہے ، اسی میں ہم نے مرنا اور اسی میں جینا ہے ، اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہی ہے کہ ان کے ہاں آخرت کا کوئی تصور نہیں ہے حدیث شریف میں آتا ہے الدنیا دارمن لا دارلہ دنیا اس شخص کا گھر ہے جس کا آخرت میں کوئی گھر نہیں ومال من لا مال لہ اور دنیا کا مال اس شخص کا مال ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ویجمع من لا عقل لہ اور اس مال کو وہی جمع کرتا ہے جو عقل سے محروم ہے۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی منقول ہے اللھم لا تجعل الدنیا اکبرھمنا ولا مبلغ علمنا ولا غایۃ رغبتنا اے اللہ ! صرف دنیا کو ہی ہمارا بڑا مقصود نہ بنا ، اور نہ ہمارا مبلغ علم کو اس کی پہنچ دنیا تک ہی محدود ہو اور ہماری انتہائی غرض بھی دنیا ہی کو نہ بنا۔ فکر معاد اور فکر معاش حضر ت عاصم بن ابی النجود (رح) محدث فرماتے ہیں ھمان لابد للمومن ھم المعاش وھم المعاد مومن کے لیے دو قسم کی فکر ضروری ہے۔ یعنی فکر معاش اور فکر معاد۔ گویا ایک مومن شخص کو دنیا کے لوازمات کی بھی فکر ہونی چاہئے اور آخرت کی زندگی کے لیے بھی توشہ تیار کرنا چاہئے۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن پاک میں نیک لوگوں کی دعا بھی یہی سکھلائی گئی ہے ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃً وفی الاٰخرۃِ حسنۃً (البقرہ۔ 201) اے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بہتری عطا فرما اور آخرت میں بہتری عطا کر ، مقصد یہ ہے کہ جس طرح آخرت کی فکر ضروری ہے ، اسی طرح دنیا کو بھی فراموش کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ ایسا کرنا تو رہبانیت ہے جس کی اجازت نہیں دی گئی۔ مگر ساتھ یہ بھی ہے کہ انسان دنیا کو ہی اپنا منتہائے مقصود بنالے جیسا کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک میں ہورہا ہے۔ ان لوگوں کے پیش نظر صرف فکر معاش ہے ان کی سوچ ، تعلیم ، فلسفہ ، ٹیکنالوجی سب کچھ دنیا کی بہتری کے لیے ہے۔ اور آخرت کا تصور نہیں ہے۔ ان کی ساری تگ و دو نفسانی خواہشات کے لیے لہودولعب اور عیش و آرام کیلئے ہے ان النفس لامارۃ م بالسوئ (یوسف 53) انسان کا نفس تو اسے برائی پر ہی آمادہ کرتا ہے اور یہ لوگ اسی نفس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ بھلا ان کو آخرت کی فکر کیسے ہوسکتی ہے ؟ آگر آخرت کی فکر کریں گے تو عیش و عشرت اور دیگر نفسانی خواہشات کو ترک کرنا پڑیگا۔ مگر یہ اس کام کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گمراہی اور ہدایت فرمایا آپ ایسے لوگوں کی طرف دھیان نہ کریں جو ہماری یاد سے غافل ہیں اور صرف دنیا کی زندگی کے طالب ہیں۔ ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہٖ بیشک تیرا پروردگار خوب جانتا ہے۔ اس شخص کو جو اس کے راستے سے گمراہ ہوا وھوا علم بمن اھتدیٰ اور وہ اس شخص کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ جس نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور وہ ہر شخص کو اس کے عقیدے ، عمل ، کردار اور اخلاق کے مطابق ہی بدلہ دے گا۔ وہ کسی کی نیکی ضائع نہیں کرے گا اور کسی مجرم کو سزا دئیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ آپ اطمینان رکھیں اور اپنا کام کرتے جائیں۔
Ayahs 53:31–32

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں ، تاکہ وہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے برائی کی ہے اس کا جو انہوں نے عمل کیا۔ اور تاکہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے اچھائی کی ہے بھلائی کے ساتھ

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے مگر کچھ آلودگی۔ بیشک تیرا پروردگار بہت وسیع مغفرت والا ہے۔ وہ جانتا ہے تمہارے حالات جب کہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے زمین سے اور جب تم بچے تھے مائوں کے پیٹوں میں۔ پس نہ اپنا تزکیہ کرو۔ وہ بہتر جانتا ہے اس کو جو تقویٰ والا ہے

ربطہ آیات سورة کے ابتدائی حصہ میں زیادہ تر رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کا اثبات اور شرک کا ردّ ہوا۔ اس کے بعد جزائے عمل کا بیان ہوا۔ اللہ نے نیکی اور برائی کا اصول بیان فرمایا۔ پھر اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ جو لوگ خدا کی یاد سے اعراض کرتے ہیں آپ ان کی طرف زیادہ دھیان نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کا مقصد محض دنیا کی زندگی ہے اور ان کا مبلغ علم یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ بےراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ جزائے عمل اب ارشاد ہوتا ہے وللہ ما فی السموت وما فی الارض اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ ہر چیز اسی کی ملکیت اور اسی کے تصرف میں ہے۔ اس نے کائنات کا یہ سلسلہ بیکار محض پیدا نہیں کیا بلکہ اسے کمال حکمت کے ساتھ تخلیق کیا ہے اور اس کا ایک مقصد ہے اور وہ یہ کہ اللہ نے انسان کو خود مختار نہیں بنایا بلکہ وہ احکامِ الٰہی کا پابند ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ وہ ہر شخص سے باز پُرس کرے کہ اس نے دنیا کی زندگی اس کی عبدیت میں گزاری ہے یا وہ شتر بےمہار کی طرح پھرتا رہا۔ یہی محاسبہ اعمال ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ ہر شخص کے حق میں جزا یا سزا کا فیصلہ کرے گا۔ تو اللہ نے ارض و سماء کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے لیجزی الذین اساء وا بما عملوا تاکہ اللہ تعالیٰ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے بُرے اعمال کا بدلہ دے و یجزی الذین احسنوا بالحسنیٰ اور جنہوں نے نیکی کے کام کیے ہیں ان کو اچھائی کے ساتھ بدلہ دے۔ مطلب یہ کہ اللہ نے کائنات کو بےسود نہیں پیدا کیا بلکہ ہر نیکی اور سرائی کا نتیجہ ظاہر ہونے والا ہے۔ سورة آل عمران میں اللہ نے فرمایا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق اور دن رات کے ادل بدل میں صاحب عقل لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور صاحب عقل لوگ وہ ہیں جو کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور ارض وسما کی تخلیق میں غوروفکر کرنے کے بعد کہتے ہیں ربنا ما خلقت ھذا باطلاً ( آیت 191) پروردگار یہ سب کچھ تو نے بیکار محض پیدا نہیں کیا ، بلکہ اس کی کوئی غایت ہے۔ البتہ کافروں کا خیال یہ ہے کہ کائنات کا پورا نظام ایسے ہی چلتا آرہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا ، اس کا نہ کوئی مقصد ہے اور نہ کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا ہے مگر کوئی بھی سلیم الفطرت انسان کارخانہ قدرت کو بےمقصد نہیں کہہ سکتا۔ انسان غورو فکر کریگا تو اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ انسان کے اعمال کا بدلہ اسے ضرور ملیگا اور اسی کو جزائے عمل کہا گیا ہے جس کا ذکر قرآن نے بار بار کیا ہے اور اسی کی تیاری کے لیے انسان کو زندگی کا لائحہ عمل دیا ہے تاکہ وہ نیکی کے کام انجام دے کر آخرت میں اچھا بدلہ پاسکے ، اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکے۔ معافی کا قانون آگے نیک لوگوں کی ایک خاص صفت بیان کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہ اللہ کے ہاں اچھے بدلے کے حقدار ہوں گے۔ فرمایا الذین یجتنبون کبر الاثم والفواحش الا اللھم وہ لوگ جو کبیرے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں ، سوائے معمولی آلودگی کے۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں۔ صغائر کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بڑے بڑے گناہوں سے بچ جاتے ہیں ، البتہ کچھ چھوٹی چھوٹی خطائوں کی آلودگی رہ جاتی ہے۔ تو ان ربک واسع المغفرۃ تو تیرا پروردگار بہت وسیع مغفرت کرنے والا ہے ، وہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کو خود ہی معاف فرما دے گا۔ کیونکہ ھو اعلم بکم وہ تمہارے حالات کو خوب جانتا ہے۔ اذا نشاکم من الارض جب کہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے۔ واذا انتم جنتہ فی بطون امھتکم اور جب تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں بچے کے طور پر پرورش پا رہے تھے ظاہر ہے کہ اولین انسان اور اللہ کے نبی حضرت آدم کی تخلیق اللہ نے مٹی سے فرمائی اور پھر باقی مخلوق کو سلسلہ تناسل کے ذریعے پیدا کیا۔ ہر انسان کی خوراک اناج ، پھل ، سبزیاں وغیرہ زمین سے پیدا ہوتی ہیں جو انسانوں کی خوراک بنتی ہیں پھر اسی خوراک سے انسان کے اندر مادہ تولید پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر اسی مادہ تولید سے انسانی نسل آگے بڑھتی ہے ، تو اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہاری پیدائش کے مادہ کو بھی جانتا ہوں اور تمہاری اس حالت کو بھی جب تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں پرورش پاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے خون کو تمہاری خوراک بنایا ہے۔ پھر جب دنیا میں آتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری خوراک اور دوسری ضروریاتِ زندگی کا انتظام فرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری زندگی کا کوئی گوشہ اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اگر تم بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے بچ جائو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری چھوٹی چھوٹی خطائیں معاف فرما دے گا۔ کیونکہ وہ بڑی وسیع مغفرت کا مالک ہے۔ اس ساری یاد دہانی کا مقصد یہی ہے کہ تمہیں تمہارے عقائد و اعمال کا حساب ایک دن چکانا ہے ، لہٰذا کبائر اور فحاشی سے بچ کر اللہ کی مغفرت کے حقدار بن جائو۔ کبائر سے بچنے والے لوگوں کے صغائر کی معافی کا قانون اللہ نے سورة النساء میں بھی بیان فرمایا ہے ان تجتنبو کبر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم ( آیت۔ 31) اگر تم کبائر سے بچتے رہو گے تو ہم تمہاری چھوٹی چھوٹی خطائیں معاف کرتے رہیں گے انسان خطا کا پتلا ہے ، اس سے کوئی نہ کوئی غلطی سرزد ہوتی ہی رہتی ہے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ بڑے گناہوں سے بچ جانے کی صورت میں چھوٹے گناہوں کو ہم از خود معاف کردیں گے۔ سورة ہود میں ہے ان الحسنت یذھبن السیاٰت ( آیت۔ 114) بیشک انسان کی نیکیاں اس کی برائیوں کو دور کرتی رہتی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب کوئی ایماندار آدمی وضو کے لیے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ جب منہ دھوتا ہے تو منہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب پائوں دھوتا ہے تو پائوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور پھر جب نماز پڑھتا ہے ، نیکی کے دوسرے کام کرتا ہے تو صغائر معاف ہوتے رہتے ہیں حتیٰ کہ آدمی پاک ہوجاتا ہے بشرطیکہ کبائر سے بچتا رہے ، اس کے علاوہ معافی کا کوئی قانون نہیں بلکہ گرفت ہوگی۔ اگر کبائر سے نہیں بچا تو صغائر پر گرفت ہونے کا بھی خطرہ ہے اور کبائر کی معافی توبہ سے ہوتی ہے جیسے اللہ کا فرمان ہے الا الذین تابو اواصلحوا وبینو ا فاولٰک اتوب علیھم ( البقرہ۔ 160) جو لوگ توبہ کرکے اپنے حالات کو درست کرتے ہیں۔ اور احکام الٰہی کو صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں یعنی ان کے گناہ معاف کردیتا ہوں۔ کبائر کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کے ساتھ ہے۔ اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ حقوق اللہ سے متعلق گناہ معاف کردیتا ہے البتہ حقوق العباد سے متعلقہ گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک خود صاحب حق معاف نہ کرے۔ یاد رہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر اللہ نے جہنم کی وعید سنائی ہے ، یا جس گناہ پر کوئی حد جاری ہوتی ہے ، جیسے شراب نوشی ، چوری ، ڈاکہ ، قتل وغیرہ۔ یا ایسا گناہ بھی کبیرہ کی فہرست میں آتا ہے جس کے مرتکب پر لعنت کی گئی ہے ، جیسے فرمایا لعنۃ اللہ علی الکذبین ( آل عمران۔ 61) جس گناہ پر اللہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے یا جس پر خدا تعالیٰ کے غضب کی وعید آئی ہے ، وہ بھی کبیرہ گناہ شمار ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ صغیرہ گناہ میں وہ شدت نہیں ہوتی جو کبیرہ میں ہوتی ہے ، البتہ اس میں خرابی کا کچھ مظنہ ہوتا ہے جس سے آگے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ شاہ صاحب (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ میں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے نتیجے میں سزا آتی ہے اور دوسری طرف اس سے ارتفاقات خراب ہوتے ہیں ، دنیا میں اسباب معیشت بگڑ جاتے ہیں ، اخلاق خراب ہوتے ہیں اور پورا معاشرہ بگڑ جاتا ہے ، اور اس کی وجہ سے نحوست الگ آتی ہے۔ یہ ایسی نحوست ہوتی ہے کہ جس سے انسان اور جانور یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں یہی فساد فی الارض ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولا تفسدوفی الارض بعد اصلاحھا ( الاعراف۔ 56) زمین کی اصلاح ہوجانے کے بعد اس میں فساد نہ برپا کرو کہ اس سے ہر چیز بگڑ جاتی ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اثم یعنی گناہ کی تعریف یہ ہے کہ یہ دل میں کھٹکتا ہے اور تم نہیں چاہتے کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔ چناچہ دنیا میں جو اخلاقی بگاڑ پایاجاتا ہے۔ وہ اکثر و بیشتر گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے ، لڑائی جھگڑے ، خیانت ، لوٹ مار ، قتل سب گناہوں کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ طہارت ہمارے دین کا بنیادی اصول ہے ، اور اس میں ہر قسم کی طہارت داخل ہے۔ انسان کے جسم اور لباس کی طہارت ضروری ہے قلب اور دماغ کی طہارت ضروری ہے ، خوراک اور مکان کی پاکیزگی کی ضرورت ہے اور اس طرح پورے معاشرے کی طہارت ہونی چاہئے۔ ہر شہر اور قصبے کے گلے کوچے اور بازار پاک ہونے چاہئیں ، میونسپل کمیٹیاں اور اسمبلیاں پاک ہوں تاکہ وہاں گندے قوانین پاس نہ ہوں ، بلکہ شریعت کا پاک قانون جاری ہو۔ جب ہمارے قوانین ہی ناپاک ہیں تو سوسائٹی کیسے پاک ہوسکتی ہے۔ اب تک انگریزی قانون تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ رائج ہے ، ملازم راشی اور بد دیانت ہیں الاما شاء اللہ ۔ تو ایسے میں مکمل طہارت کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے ؟ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ لوگ کہیں گے فلاں آدمی بڑے ہوشیار ، چالاک اور عقل مند ہیں مگر ان کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ بہرحال گناہوں کی معافی توبہ سے ہوتی ہے اور حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں دن بھر میں سو سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں ، لوگو ! تم بھی اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کیا کرو۔ خود ستائی کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے انسان کی مٹی سے تخلیق اور ماں کے پیٹ میں پرورش کرنے کا ذکر کرکے فرمایا فلا تزکو انفسکم لوگو اپنا تزکیہ نہ کیا کرو یعنی اپنی بڑائی آپ نہ بیان کیا کرو۔ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک بچی کو لایا گیا آپ نے پوچھا۔ اس کا نام کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ اس کا نام برّہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی نیکی والی بچی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس نام سے خود ستائی کا پہلو نکلتا ہے۔ لہٰذا اس کا نام بدل کر زینب رکھ دو ۔ تم اپنے منہ میاں مٹھو نہ بنو ، اللہ تعالیٰ تمہاری حالت ، صلاحیت اور انجام کو بہتر جانتا ہے۔ حضرت مقدار ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا احو التراب فی وجوہ المداحین تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈال دو یعنی ان کو ناکام بنادو۔ ایسی تعریف کو پسند نہیں کیا گیا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امیروں ، وزیروں اور عہدیداروں کی ان کے حاشیہ بردار کتنی تعریفیں کرتے ہیں ان کو سپاس نامے پیش کیے جاتے ہیں جس میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں ، آپ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ ہاں اگر کسی میں کوئی خوبی ہے تو اسے قطعیت کے ساتھ مت بیان کرو ، بلکہ یوں کہو کہ میں فلاں شخص کے بارے یہ گمان کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے لیے کفایت کرنے والا ہے فرمایا فلا ازکی علی اللہ احدًا میں اللہ کے سامنے کسی کا تذکیہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹا دینا چاہئے کہ ہم تو اچھا گمان کرتے ہیں۔ تاہم اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہاں جس کی خوبی کے متعلق قطعی یقین ہو یا جسکی تعریف کا اللہ نے حکم دیا ہے ، ان کی تعریف کی جاسکتی ہے۔ ایسے معاملہ میں بھی مبالغہ آرائی سے منع کیا گیا ہے۔ صرف حقیقت بیان کرنے کی اجازت ہے۔ خود حضور ﷺ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا لا تطرونی کما اطرت النصارٰی عیسیٰ ابن مریم لوگو ! میری تعریف میں مبالغہ نہ کرنا جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) کے متعلق اختیار کیا۔ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کا درجہ دیکر خود کافر اور مشرک بن گئے میرے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرنا انی عبداللہ ورسولہ میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، تم بھی مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو۔ فرمایا اپنا تزکیہ مت کرو ھو اعلم بمن اتقیٰ وہ خوب جانتا ہے اس شخص کو جو تقویٰ والا ہے۔ اگر اللہ نے کسی اچھے کام کی توفیق دی یا کوئی خوبی رکھ دی ہے تو اس پر اترانا نہیں چاہئے ۔ اپنے آپ کو پاکباز نہیں سمجھناچاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے کوئی اچھا کام کرنے کی توفیق بخشی ہے۔
Ayahs 53:33–42

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

کیا آپ نے دیکھا ہے اس شخص کو جس نے منہ پھر لیا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اس نے تھوڑا سا دیا اور بہت سا سخت نکلا

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کی خبر ہے ، پس وہ دیکھتا ہے

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو نہیں پہنچی وہ خبر جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہے

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہے جنہوں نے اپنا قول پورا کیا

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ خبر) کہ نہیں اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ نہیں انسان کے لیے مگر وہ جو اس نے کمایا

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی

ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ Open ayah 53:41 in the Quran reader

پھر اس کا بدلہ دیا جائے گا پورا پورا بدلہ

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ Open ayah 53:42 in the Quran reader

اور بیشک تیرے پروردگار کی طرف ہی سب کی انتہاء ہے

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ پھر شرک کی تردید ہوئی۔ جزائے عمل کا مسئلہ بیان ہوا۔ نیک و بد کے بدلے کا تذکرہ ہوا۔ پھر نیکی والے لوگوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ وہ کبائر اور بےحیائی سے بچتے ہیں اور اگر کوئی تھوڑی بہت آلودگی رہ جائے یا صغائر سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسیع مغفرت کی وجہ سے انہیں معاف کردیتا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام حالات سے باخبر ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ جب تم ماں کے پیٹ میں جنین تھے تو وہ اس وقت کے حالات سے بھی واقف ہے ، وہی تمہیں وہاں بھی خوراک پہنچاتا رہا۔ پھر اللہ نے خود پسندی اور خود ستائی سے منع فرمایا۔ فرمایا اپنے آپ کو پاکباز نہ بنائو۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جس نے تقویٰ کی راہ اختیار کی۔ ایمان لانے میں سنگدلی کا مظاہرہ اب آج کے درس میں بھی جزائے عمل ہی کے سلسلہ میں اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے افرئیت الذی تولی کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے روگردانی کی ہے یعنی اس نے نہ تو اپنی اصل میں غور کیا اور نہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی ، بلکہ اس کی توحید کو تسلیم کرنے اور اس کی یاد سے منہ موڑ لیا۔ اس قسم کے مشرکین ہر دور میں رہے ہیں اور نزول قرآن کے زمانے میں مکہ میں بھی تھے۔ جب بھی ان کی توجہ دین حق ، اللہ کی توحید اور جزائے عمل کی طرف دلائی جاتی تو وہ منہ موڑ لیتے ، اور باطل خیالات اور عقائد میں ہی مگن رہتے۔ فرمایا اس شخص کو دیکھو جس نے منہ پھیرلیا۔ واعطیٰ قلیلاً واکدٰی اور بہت تھوڑا دیا اور بڑا سخت نکلا۔ شاہ عبدالقادر (رح) اس کا معیٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ شخص تھوڑا سا ایمان کی طرف مائل ہوا مگر اس کا دل پھر سخت ہوگیا۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس شخص سے مراد ولید ابن مغیرہ اور اسی قسم کے دوسرے مشرک ہیں۔ ولید ابن مغیرہ کے متعلق آتا ہے کہ حضور ﷺ کی باتیں سنتا تھا تو بعض اوقات اس کے دل میں اسلام کی طرف میلان پیدا ہوجاتا تھا ، کفر اور شرک کی سزا سن کر کبھی کبھی وہ ڈر جاتا تھا ، لیکن دوسرے مشرکوں کے کہنے سے دین کی طرف سے منہ موڑ لیتا تھا۔ کدیہ اس چٹان کو کہتے ہیں جو کنواں وغیرہ کھودتے وقت درمیان میں آجاتی ہے اور جو اتنی سخت ہوتی ہے کہ اس کا توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ تو یہاں پر اکدٰی کا معنی یہی کیا گیا ہے ، وہ سخت نکلا یعنی ایمان لانے میں بڑا سخت ثابت ہوا۔ فرمایا اعندہ علم الغیب فھو یرٰی کیا اس کے پاس غیب کی کوئی خبر ہے ، جسے وہ دیکھ رہا ہے ؟ یعنی وہ اس غیب کی بناء پر سمجھتا ہے کہ اسے کفر اور شرک کی سزا نہیں ملے گی ، لہٰذا وہ اس پر اڑا ہوا ہے۔ مشرکوں کی اس ہٹ دھرمی کو اللہ نے ان کی سنگدلی سے تعبیر کیا ہے۔ صحائفِ موسیٰ اور ابراہیم (علیہا السلام) فرمایا ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ کیا اس کو نہیں پہنچی وہ خبر جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہے و ابراھیم الذی وفی اور ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں بھی ہے جنہوں نے اپنے قول کو پورا کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تو اللہ نے تورات جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ہوسکتا ہے کہ تورات کے علاوہ آپ کو بعض صحائف بھی ملے ہوں جن کا ذکر اللہ نے سورة الاعلیٰ میں بھی کیا ہے ان ھذا لفی الصحف الاولی صحف ابراھیم و موسیٰ یہ بات پہلے صحیفوں میں بھی موجود ہے یعنی ابراہیم اور موسیٰ (علیہا السلام) کے صحیفوں میں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تورات کے مختلف ابواب کو ہی مختلف صحائف سے تعبیر کیا گیا ہو جیسے قرآن کریم کی ہر صورت ایک مکمل صحیفہ ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کے اپنے قول واقرار کو پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہر عہد و پیمان کو پورا کیا اور اللہ کی طرف سے آنے والی بڑی سے بڑی آزمائش میں بھی پورا اترے ، اور انہوں نے اللہ کی رضا کی خاطر ہر مطلوبہ قربانی پیش کی۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے قلب کو ہمیشہ رحمان کے لیے صاف رکھا ، اور ان کا قلب سلیم ہر وقت خدا تعالیٰ کی یاد سے لبریز رہتا تھا۔ ان کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ ان کا مال ہمیشہ مہمانوں کی خدمت کے لیے وقت رہتا۔ شاید ہی کوئی ایسا وقت ہوگا جب وہ کسی مہمان کے ہمراہ کھانا نہ کھاتے ہوں پھر جب امتحان کا وقت آیا تو آپ نے اپنے کو آگ کے سپرد کرنے میں بھی ذرا تامل نہ کیا ، بلکہ جب جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) نے امداد کی پیشکش کی تو آپ نے اسے بھی قبول نہ کیا اور فرمایا کہ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں میری ضرورت جسکی طرف ہے وہ بخوبی جانتا ہے۔ یہی ابراہیم (علیہ السلام) کا اخلاص اور وفاداری تھی جس کے متعلق یہاں فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنے قول یا عہد کو پورا کیا۔ بوجھ اپنا اپنا فرمایا کیا تجھے وہ بات پہنچی جو موسیٰ اور ابراہیم (علیہا السلام) کے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہے ؟ اور وہ یہ بات ہے الا تزروازرۃ وزراخریٰ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اسلام کی طرف رغبت کرتا اور وہ ایمان لانے کے قریب ہوتا تو بڑے بڑے کافر اور مشرک اس کو باز رہنے کی تلقین کرتے اور کہتے کہ تم اپنے دین پر قائم رہو اور اہل ایمان کے بقول اگر تم پر کوئی گناہ لازم آیا تو اس کا بوجھ ہم اٹھالیں گے۔ بعض اوقات وہ اس خدمت کے لیے کچھ مال بھی وصول کرلیتے تھے مگر اللہ نے اس باطل نظریے کا ردّ فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ سابقہ صحائف میں یہ بات درج ہے کہ کوئی ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، حتیٰ کہ قریبی عزیز ، رشتہ دار ، باپ ، بیٹا ، ماں یا بیوی بھی ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے ، اس سے نصاریٰ کے باطل عقیدہ کا بھی ردّ ہوجاتا ہے جو کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) نے سولی پر چڑھ کر ہمارا بوجھ اٹھا لیا ہے اور اب ہم آزاد ہیں۔ جو چاہیں کرتے پھریں ، ہمیں کچھ فکر نہیں۔ جبری سفارش والا عقیدہ بھی ایسا ہی ہے کہ فلاں نبی ، ولی ، پیر یا فرشتہ لازماً ہمیں چھڑا لے گا۔ خواہ اللہ تعالیٰ راضی ہو یا ناراض۔ سورة العنکبوت میں اللہ نے کفار کا یہ واضح بیان نقل کیا ہے جو مومنوں سے کہتے تھے اتبعو سبیلنا ولنحمل خطیکم ( آیت۔ 12) کہ ہمارے طریقے کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہوں کا بوجھ اٹھالیں گے۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں ، کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یہ بات اصولاً غلط ہے۔ فرمایا ، یہ بھی یاد رکھو وان لیس للانسان الا ماسعیٰ اور نہیں ہے انسان کے لیے مگر وہی کچھ کو اس نے کوشش کی یعنی کمایا۔ ہر انسان کو اس کی محنت ہی کا ثمر ہ ملے گا ، کسی ایک کی کمائی دوسرے کے لیے مفید نہیں ہوگی۔ مطلب یہ کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی نیکیاں نہیں لے سکیگا۔ اس کے برخلاف احادیث سے ثابت ہے کہ صدقہ خیرات اور دعائوں کا فائدہ مرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اسی طرح استغفار کا فائدہ نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔ سورة المومن میں ہے کہ عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے گرد حلقہ باندھے ہوئے فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں ، ویستغفرون للذین اٰمنو ( آیت۔ 7) اور اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں۔ اسی طرح پچھلی سورة الطور میں گزر چکا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا اتباع کیا الحقنابھم ذریتھم ( آیت۔ 21) ہم ان کی اولادوں کو بھی مومنوں کے ساتھ ملا دیں گے مطلب یہ کہ اگر اولاد کے اعمال کم ہوں گے تو ان کے والدین کی نیکی اور ایمان کی وجہ سے ان کو بھی اعلیٰ درجہ مل جائے گا۔ اس سے بھی دوسرے کی نیکی سے مستفید ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ حضر ت سعد ؓ سے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! میری والدہ فوت ہوگئی ہے کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو اس کو فائدہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ، ہاں۔ چناچہ حضرت سعد ؓ نے ایک باغ اور ایک کنواں والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے وقف کردیا ۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک کی نیکی دوسرے کے کام آسکے گی۔ ایصالِ ثواب کا مسئلہ دراصل ایصالِ ثواب کے مسئلہ میں ائمہ کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام مالک (رح) ، اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مالی عبادت تو دوسرے کے لیے مفید ہوسکتی ہے اور اس میں دوسرے کی نیابت بھی ہوسکتی ہے جیسے حج بدل ادا کیا جاسکتا ہے یا صدقہ خیرات کا ثواب دوسرے کو ہبہ کیا جاسکتا ہے ، مگر نماز ، روزہ یا تلاوتِ قرآن کا ثواب دوسرے کو نہیں دیاجاسکتا۔ کیونکہ بدنی عبادات میں نیابت نہیں ہوسکتی۔ اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) اور جمہور علماء و فقہاء کہتے ہیں کہ بدنی عبادت کا فائدہ بھی دوسرے کو پہنچتا ہے اور اس میں تلاوتِ قرآن پاک بھی شامل ہے۔ اسی طرح صدقہ خیرات ، استغفار اور حج وعمرہ کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ شفاعت کا عقیدہ بھی مسلم ہے۔ حضور ﷺ اور دوسرے انبیائ ، شہداء اور صالحین بھی شفاعت کریں گے جو اللہ کے اذن سے ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی مفید ہوگی۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت میں دوز چیزوں کی طرف اشارہ ہے یعنی عدل اور فضل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا ظاہر تو عدل پر مبنی ہے اور عدل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شخص کو اس کی اپنی کمائی کا بدلہ ملے نہ کہ دوسروں کی کمائی کا۔ البتہ فضل کا تقاضا یہ ہے کہ کسی کو کسی دوسرے کی نیکی کا فائدہ بھی پہنچے جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اولاد کو اس کے والدین کی نیکی کی وجہ سے اعلیٰ درجے میں جگہ دے دی جائیگی۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت میں چونکہ کافروں کا ذکر ہورہا ہے ، اس لیے اس سے مراد یہ ہے کہ کافروں کو کسی دوسرے کی نیکی کا فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ سورة الشعراء میں موجود ہے یوم لا ینفع مال ولا بنون (88) الا من اتی اللہ بقلب سلیمٍ (89) اس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔ ہاں ! جو شخص اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچ گیا وہ بچ جائیگا۔ مطلب یہ کہ اگر ایمان درست ہے تو اس سے فائدے کی امید کی ہوسکتی ہے ، مگر کفار کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اور ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اگر کوئی شخص نیک کام کرتے وقت نیت کرلے کہ اللہ تعالیٰ اس نیکی کا ثواب فلاں کو عطا کردے ، تو پھر نیکی کا یہ عمل کرنے والا دوسرے شخص کا نائب بن گیا ، اور اس طرح اس کی نیکی کا ثواب دوسرے کو پہنچ جائیگا ہاں ! اگر نیکی کرتے وقت نیت نہیں کی ، تو پھر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ صحیح حدیت میں آتا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کا فائدہ اسے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ فرمایا۔ ایک تو صدقہ جاریہ ہے جو خود مرنے والا جاری کرگیا ہے ، اس کا ثواب اس کو مرنے کے بعد بھی حاصل ہوتا رہے گا۔ دوسری چیز علم نافع ہے کہ جب تک اس کے جاری کردہ علم سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے ، اس جاری کرنے والے کو بھی برابر ثواب ملتا رہے گا۔ تیسری چیز فرمایا ولد صالح یدعولہ نیک اولاد ہے جو میت کے لیے دعائیں کرتی ہے ، اُن دعائوں کا فائدہ بھی مرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ امام ابونعیم ؓ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی عبد مومن کی روح کو قبض کرلیتا ہے تو دو فرشتے بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ مولا کریم ! تو نے ہمیں اس مومن بندے کے ساتھ مقرر کیا تھا ، ہم اس کی نیکیاں لکھتے تھے ، اب تو نے اس کو قبض کرلیا تو ہمیں اجازت دے کہ ہم زمین پر ہی رہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری زمین تو مخلوق سے بھری ہوئی ہے اور وہ لوگ میری تسبیح بھی بیان کرتے ہیں۔ مگر تم ایسا کرو کہ میرے اس بندہ مومن کی قبر پر چلے جائو۔ میری تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر بیان کرتے رہو جس کا ثواب قیامت تک میرے بندے کے نامہ اعمال میں درج ہوتا رہے گا۔ یہ صرف عبد مومن کے لیے ہے ، نہ کہ ہر ایک کے لیے کیونکہ دوسرے کے عمل سے مستفید ہونے کے لیے ایمان کا ہیج ہونا ضروری ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہوا کہ ایصالِ ثواب کا انکار درست نہیں مگر فرائض واجبات اور سنن میں کوئی شخص دوسرے کی نیابت نہیں کرسکتا۔ یہ عبادات تو ہر مکلف آدمی کو خود ہی ادا کرنا ہوں گی ، البتہ روزے کے متعلق کہا گیا ہے کہ اگر کسی کا روزہ رہ جائے تو اس کے کسی عزیز کی طرف سے روزہ رکھنے سے اس کا روزہ ادا ہوجائیگا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس سے مراد فدیہ ادا کرنا ہے۔ بزرگ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس طرح ادا کردہ فرض روزہ تو ادا نہیں ہوگا ، ہاں اگر متوفی کے مال میں سے فدیہ دے دیاجائے گا ۔ تو اسکے ذمہ سے فرض ادا ہوجائے گا۔ بایں ہمہ نفلی روزے کا ثواب دوسرے شخص کو پہنچتا ہے۔ مولانا علامہ انور شاہ کشمیری (رح) شرح بخاری میں لکھتے ہیں کہ نفلی روزے کا ثواب یقینا پہنچتا ہے ، البتہ فرائض ، واجبات اور سنن کے لیے ہر شخص بذات خود ذمہ دار ہے۔ چناچہ احناف کا مسلک یہ ہے کہ اپنی نفلی عبادت مثلاً نفلی حج ، عمرہ ، نماز ، روزہ ، صدقہ خیرات وغیرہ کا ثواب اگر دوسرے مسلمان کو دیناچا ہے تو ایسا کرسکتا ہے البتہ دعا کے ثواب کے تو سارے ہی قائل ہیں۔ اور اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا۔ نفلی عبادت میں تلاوتِ قرآن بھی شامل ہے۔ مگر امام شافعی (رح) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نفلی عبادت کا فائدہ دوسرے شخص کو نہیں پہنچتا لیکن امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ تلاوت بہترین نفلی عبادت ہے اور اگر کوئی شخص اس کا ثواب دوسرے کو بخش دے تو امید ہے کہ اس کا فائدہ ہوگا۔ یہ ایصالِ ثواب کا مسئلہ بھی بیان ہوگیا۔ کوشش کا پھل فرمایا وان سعیہ سوف یریٰ اور بیشک انسان کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔ دنیا میں رہ کر کسی شخص نے جو کچھ بھی نیک کام کیا ہے یا کسی برائی کا ارتکاف کیا ہے ، وہ سب کچھ قیامت والے دن ظاہر ہوجائے گا۔ ثم یجزہ الجزاء الاوفیٰ پھر اس شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیاجائے گا۔ فرمایا ، یاد رکھو ! وان الی ربک المنتھیٰ ہر ایک کی انتہا تیرے پروردگار کی طرف ہی ہے۔ اس دنیا کی زندگی کو پورا کرنے کے بعد ہر انسان کو اللہ کے دربار میں پہنچ کر حساب کتاب کی منزل طے کرنا ہے اور پھر اس کے مطابق ہر اچھے یا بُرے عمل کا بدلہ پانا ہے۔ آخری فیصلہ وہیں ہوگا۔
Ayahs 53:43–62

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ Open ayah 53:43 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رلاتا ہے

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ Open ayah 53:44 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جو موت طاری کرتا ہے اور جو زندگی بخشتا ہے

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ Open ayah 53:45 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جس نے پیدا کیا جوڑا جوڑا ، نر اور مادہ

مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪ Open ayah 53:46 in the Quran reader

اور قطرہ آب سے جب کہ وہ ٹپکایا جاتا ہے

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ Open ayah 53:47 in the Quran reader

اور بیشک اسی کے ذمے ہے دوسری دفعہ اٹھانا

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ Open ayah 53:48 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جس نے غنی بنایا اور محتاج بنایا

وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ Open ayah 53:49 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے شعریٰ کا پروردگار

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ Open ayah 53:50 in the Quran reader

اور بیشک وہی ہے جس نے ہلاک کیا عاد اولیٰ کو

وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ Open ayah 53:51 in the Quran reader

اور ثمود کو ، پھر کسی کو باقی نہ چھوڑا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ Open ayah 53:52 in the Quran reader

اور قوم نوح کو اس سے پہلے ، بیشک تھے وہ بڑے ظالم اور بڑے سرکش

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ Open ayah 53:53 in the Quran reader

اور الٹی بستی والوں کو پٹخ دیا

فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ Open ayah 53:54 in the Quran reader

پس ڈھانپ لیا اس کو اس چیز نے جس نے ڈھانپ لیا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى Open ayah 53:55 in the Quran reader

پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت میں شک کرو گے

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى Open ayah 53:56 in the Quran reader

یہ ڈر سنانے والا ہے پہلے ڈر سنانے والوں میں سے

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ Open ayah 53:57 in the Quran reader

قریب آگئی ہے قریب آنے والی

لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ Open ayah 53:58 in the Quran reader

نہیں ہے اس کو اللہ کے سوا کوئی کھول کر دکھانے والا

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ Open ayah 53:59 in the Quran reader

کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ Open ayah 53:60 in the Quran reader

اور ہنستے ہو اور روتے نہیں

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ Open ayah 53:61 in the Quran reader

اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩ Open ayah 53:62 in the Quran reader

پس سجدہ کرو اللہ کے سامنے اور عبادت کرو اسکی

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد کو اکٹھا ہی بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے اشارۃً ان لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کو ان کی سرکشی کی بناء پر ہلاک کیا گیا۔ ایمان سے گریز کرنیوالوں کو تنبیہ کی گئی ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ جزائے عمل لازماً واقع ہونے والی ہے اور ہر شخص کو اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا۔ ہر نیکی اور بدی کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ کسی کی برائی کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگائی جائے گی۔ اگر کسی شخص نے خود ایمان قبول نہیں کیا اور نیکی نہیں کمائی تو اسے دوسرے کی نیکی مفید نہیں ہوگی۔ انسان کی سعی کو عنقریب دیکھاجائے گا۔ ہر ایک کو پروردگار کے سامنے حاضر ہونا ہے اور پھر ہر ایک کو اس کی کارگزاری کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا ذکر ہورہا ہے جن سے توحید اور وقوع قیامت کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ متضاد چیزوں کا خالق ارشاد ہوتا ہے وانہ ھواضحک وابکی اور بیشک اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جو ہنساتا ہے اور رلاتا ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اگر تم بھی ان چیزوں کو دیکھتے جن کو میں دیکھتا ہوں تو یقینا تم روتے زیادہ اور ہنستے کم۔ لیکن چونکہ وہ چیزیں تم سے پردہ غیب میں ہیں اس لیے تم ہنسی میں مگن رہتے ہو۔ ہنسنا اور رونا امور طبعیہ میں سے ہے ، یہ حالت اللہ کے پیغمبر پر بھی طاری ہوتی تھی البتہ قہقہہ لگا کر ہنسنا غفلت کی نشانی ہے۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران قہقہہ لگا کر ہنس پڑتا ہے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اور وضو بھی ٹوٹ جائے گا۔ البتہ تبسم یعنی مسکرانا جائز ہے۔ کسی نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ کیا حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کبھی ہنستے بھی تھے ، تو آپ نے فرمایا ہاں ! مگر ان کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط تھا اور ان میں غفلت نہیں پیدا ہوتی تھی۔ پھر فرمایا وانہ ھوامات واحیا اور بیشک وہ وہی ذات ہے جو موت طاری کرتا اور زندگی بخشتا ہے۔ وانہ خلق الزوجین الذکر والانثیٰ اور بیشک وہ وہی ذات ہے جس نے جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے یعنی نر اور مادہ اللہ نے جہاں بھر کی چیزوں کو متضاد اور متقابل شکل میں پیدا کیا ہے ، جیسے خیر و شر کا خالق بھی وہی ہے ، اور خوشی اور غمی بھی اللہ ہی کی پیدا کردہ ہے۔ یہاں انسان کے متعلق فرمایا کہ اسے نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تاہم جانداروں کی بھی یہی صورت حال ہے ، وہ بھی نر اور مادہ پیدا ہوتے ہیں حتیٰ کہ اشجار اور نباتات میں بھی اللہ نے کسی حد تک جنسی تفریق قائم کیا ہے۔ غرضیکہ ان تمام متضاد چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پھر فرمایا کہ انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا من نطفۃٍ اذا تمنیٰ ایک قطرہ آب سے جب کہ وہ ٹپکا یا جاتا ہے۔ یہ قطرہ آب مختلف مراحل میں سے گزر کر… ثواب دوسرے شخص کو پہنچتا ہے۔ مولانا علامہ انور شاہ کشمیری (رح) شرح بخاری میں لکھتے ہیں کہ انسانی صورت میں اس دنیا میں آتا ہے۔ ان نو ماہ کے مراحل کی تفصیل قرآن پاک میں موجود ہے۔ قطرہ آب خون میں تبدیل ہوتا ہے جس میں ایک چلّے کا عرصہ لگتا ہے پھر دوسرے چلے میں خون سے گوشت بنتا ہے۔ پھر انسان کا ڈھانچہ تیار ہونے میں مزید ایک چلّہ لگتا ہے۔ پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں ، ان پر گوشت چڑھتا ہے اور اس طرح ایک مکمل انسان بن جاتا ہے۔ پھر وہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے۔ دنیا میں آکر بچپن کے دور سے گزر کر جوانی میں قدم رکھتا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد اس پر بڑھاپا آنے لگتا ہے حتیٰ کہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ تو یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ، اسی کے منشاء کے مطابق انسان یہ سارے ادوار گزارتا ہے۔ فرمایا جس اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ایک قطرہ آب سے انسان کی تخلیق کی۔ وان علیہ النشاۃ الاخریٰ دوبارہ اٹھانا بھی اسی کے ذمہ ہے۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو وہ سب کو زندہ کرکے دوبارہ اٹھائے گا اور جس طرح انسان کی پہلی پیدائش اللہ تعالیٰ نے کی تھی ، اسی طرح اسکو دوبارہ اٹھانا بھی اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا ، حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر ہر شخص کے لیے جزا یا سزا کے فیصلے ہوں گے۔ اس سے معاد کا مسئلہ بھی سمجھ میں آگیا۔ پھر فرمایا وانہ ھو اغنی واقنیٰ اور خدا تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے جس کو چاہا غنی بنادیا اور جس کو چاہا محتاج بنادیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب خالق وہی ہے تو روزی رساں بھی وہی ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے وافر عطا کرکے غنی بنادیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دے کر محتاج بنادیتا ہے۔ اللہ نے تمام انسانوں کو یکساں نہیں بنایا۔ نہ شکل و صورت بالکل ایک جیسی ہے اور نہ دماغی قلبی اور جسمانی قوتیں یکساں ہیں۔ ہر انسان کے اعمال میں بھی تفاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے ان سعیکم لشتیٰ (الیل۔ 4) بیشک تمہاری کوشش طرح طرح کی ہے۔ اسی طرح اللہ نے معیشت کو بھی متضادت بنایا ہے۔ بعض لوگوں کو زیادہ دے کر آزمایا اور بعض کو کم دے کر امتحان میں مبتلا کیا ہے۔ کسی کو صبر کے ذریعے اور کسی کو شکر کے ذریعے ، کسی کو صحت دی ہے تو کسی کو بیماری لاحق کردی ہے ، اسی طرح کسی کو غنی بنایا ہے تو کسی کو محتاج کردیا ہے۔ یہ سب اسی مالک الملک کے کام ہیں۔ شعریٰ ستارے کا پروردگار آگے اللہ تعالیٰ کی ایک یہ صفت بھی بیان کی گئی ہے وانہ ھو رب الشعریٰ اور بیشک شعریٰ ستارے کا پروردگار بھی وہی ہے۔ شعریٰ بہت بڑا روشن ستارہ ہے۔ اس کا ایک نام جو زا بھی ہے۔ اس کو شعریٰ غبور اور شعریٰ غمیسا بھی کہتے ہیں۔ ان دو اقسام میں سے غبور زیادہ روشن اور غمیسا نسبتاً کم روشن ہے ۔ اس ستارے کو شعریٰ یمانیہ اور شعریٰ ثانیہ کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر موسم بہار میں یمن کے علاقہ میں دکھائی دیتا ہے۔ رومی ، یونانی ، عرب اور دوسری قدیم اقوام کے لوگ اس ستارے کے پجاری تھے۔ اللہ نے اسی بات کی تردید کے لیے یہاں فرمایا کہ جس ستارے کو تم الوہیت کا درجہ دے رہے ہو ، اس کا پروردگار بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ستارہ نہ کسی کا حاجت روا اور نہ مشکل کشا ہے۔ یہ تو اللہ کی مخلوق ہے جو اپنے خالق کی مقررہ ڈیوٹی انجام دے رہی ہے ، اس میں الوہیت والی کوئی چیز نہیں ہے۔ حضور ﷺ کے ننہال کے ایک شخص ابو کبشہ نے سب سے پہلے لوگوں کو اس ستارے کی طرف آمادہ کیا۔ لہٰذایہ ستارہ ابو کبشہ کی طرف بھی منسوب ہوتا تھا۔ بخاری شریف میں ہے کہ قیصر روم کے دربا میں جب ابوسفیان حضور ﷺ کے متعلق بیان دے کر باہر نکلا تو کہنے لگا لقد امرامر ابن ابی کبشہ یعنی ابو کبشہ کے فرزند کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا ہے اس سے تو رومی بادشاہ بھی خائف ہونے لگا ہے۔ ابو سفیان کا بیان ہے کہ اس وقت سے برابر میرے دل میں یہ بات آرہی تھی کہ مسلمان ضرور غالب آئیں گے حتیٰ کہ اللہ نے میرے دل میں ایمان کی دولت ڈال دی۔ آپ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے۔ اس سے پہلے بیس سال تک اسلام کی سخت مخالفت کی۔ ان کی بیٹی اور حضور ﷺ کی زوجہ ام حبیبہ ؓ اس سے پہلے اسلام قبول کرچکی تھیں۔ ابو سفیان اس پر بھی ناراض تھے مگر بالآخر اللہ نے کایا پلٹ دی اور وہ بھی ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے۔ شعریٰ ستارے کے متعلق ماہرین فلکیات کی تحقیق ہے کہ یہ ساترہ سورج سے بیس 20 ہزار گنا بڑا ہے۔ مصر کے مفسر طنطاوی نے بھی اپنی تفسیر میں یہی لکھا ہے یہ ستارہ نظام شمسی سے باہر ہے ، اس لیے دور ہونے کی وجہ سے سورج سے چھوٹا نظر آتا ہے۔ بہر حال اللہ نے شعریٰ کی الوہیت کی تردید کی ہے۔ نافرمان قوموں کی ہلاکت اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض نافرمان قوموں کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ وانہ اھلک عادہ الاولیٰ اور بیشک اسی اللہ تعالیٰ نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا وثمودا اور قوم ثمود یعنی عاد ثانیہ کو بھی اسی نے اس طور تباہ کیا فما ابقیٰ کہ ان میں کوئی بھی زندہ نہ بچا۔ یہ دونوں قومیں سامی نسل میں سے تھیں۔ عادمین کے اطراف میں آباد تھے جب کہ ثمود وادی تبوک سے لیکر وادیٔ قریٰ تک پھیلے ہوئے تھے۔ یہ لوگ بڑے متمدن ، طاقتور اور کاریگر تھے۔ پھر فرمایا وقوم نوحٍ من قبل اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی اللہ نے ہلاک کیا۔ انھم کانواھم اظلم واطغی یہ لوگ بڑے ہی ظالم اور سرکش تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سینکڑوں سال تک قوم کو اللہ کا پیغام سناتے رہے۔ جس کی تفصیل سورة نوح میں موجود ہے۔ انہوں نے دن ، رات خلوت ، جلوت ، اکیلے اکیلے ، مجموعی طور پر نرمی اور سختی سے ، مردوں اور عورتوں کو غرضیکہ ہر مقام اور ہر طریقے سے سمجھایا مگر نتیجہ کیا نکلا ؟ وما امن معہ الا قلیل (ھود۔ 40) بہت کم لوگ ایمان لائے۔ یعنی وہی ستر 70 یا اسی 80 افراد جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے ؟ ان کے علاوہ فرمایا والموتفکۃ اھویٰ الٹی بستی والے بھی ہلاک ہوئے جن کو نیچے پٹخ دیا گیا۔ یہ قوم لوط کے لوگ تھے جو بحرمیت کے کنارے شرق اردن میں آباد تھے۔ ان میں لواطت کی بیماری پائی جاتی تھی۔ اللہ نے ان کی بستی کو الٹ دیا اسی واقعہ کے متعلق فرمایا فغشھا ماغشی پس ڈھانپ لیا اس کو اس چیز نے جس نے ڈھانپ لیا۔ اور اوپر سے پتھروں کی بارش کی جس سے یہ سارے ہلاک ہوگئے۔ امام ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ اس قوم کی چار لاکھ کی آبادی کو اللہ تعالیٰ نے آناً فاناً تباہ کردیا۔ فرمایا فبایّ اٰلاء ربک تتماری تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت میں شک کرو گے۔ خدا نے باغیوں اور مفسدوں کو ہلاک کیا ، یہ بھی اسی کا انعام ہے۔ جب اللہ کی زمین ظلم و فساد سے بھر گئی فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العٰلمین ( الانعام۔ 45) ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب تعریفیں خدا رب العٰلمین کو ہی سزا وار ہیں۔ یہ واقعات بجائے خود انعام الٰہی ہیں جن کے ذریعے ظلم کا قلع قمع ہوا ، اور ان واقعات کا تذکرہ بھی خدا کا انعام ہے کہ ان سے باقی لوگوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے۔ رسالت کا بیان اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسالت کا بیان فرمایا ہے ھذا نذیر من النذر الاولیٰ حضرت محمد ﷺ بھی ڈر سنانے والے ہیں پہلے ڈر سنانے والوں میں سے اللہ نے آپ سے پہلے بھی مختلف اقوام میں اپنے نبی بھیج کر لوگوں کو ان کے انجام سے آگاہ کیا ، اور اب آخر میں حضور ﷺ بھی یہی فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ یہ دراصل آپ کی رسالت کی تصدیق ہے۔ مشرک اور کافر آپ کو اللہ کا نبی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کبھی کاہن کہتے ، کبھی ساحر ، کبھی مجنون اور کبھی شاعر اللہ نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ یہ بھی اللہ کے رسول ہیں۔ جس طرح پہلے اللہ کے رسول آکر لوگوں کو ڈراتے رہے۔ اسی طرح یہ بھی تمہارے انجام بد سے آگاہ کرنے کے لیے آئے ہی اگر ان کی بات مان لوگے تو بچ جائوگے۔ ورنہ دائمی سزا کے مستحق بن جائوگے۔ قیامت کی آمد اس کے بعد اللہ نے وقوع قیامت کا ذکر ہے۔ ازقہ الازقۃ قریب آنے والی قریب آگئی ، یعنی قیامت ۔ اب اللہ کا آخری نبی آچکا ہے اور اس کے بعد قیامت ہی آنے والی ہے اور یہ ایسی چیز ہے لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ اللہ کے سوا اس کو کوئی کھول کر دکھانے والا نہیں ہے۔ یعنی قیامت اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے مقررہ وقت پر آئے گی۔ ہر آدمی کی موت قیامت صغریٰ ہے جس کا کسی کو علم نہیں اور پھر مجموعی موت ، قیامتِ کبریٰ ہے جس کے وقت وقوع کا علم اللہ نے اپنے ہی پاس رکھا ہوا ہے لا یجلیھا لوقتھا الا ھو ( الاعراف۔ 187) وہی اس کو وقت مقرر پر ظاہر کریگا۔ پھر فرمایا افمن ھذا الحدیث تعجبون کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ قیامت اچانک آجائیگی ؟ بلاشبہ ایسا ہی ہوگا چونکہ اس کا یقین نہیں ہے لہٰذا وتضحکون ولا تبکون تم ہنستے ہو اور روتے نہیں۔ اگر تمہیں اسکی ہولناکی کا ادراک ہو تو تم یقینا رونے لگو کہ پتہ نہیں کیا معاملہ پیش آٓئے گا۔ وانتم سمدون مگر تم تو کھیل رہے ہو۔ دنیا کی زندگی اور اس کے عیش و آرام میں مگن ہو اور قیامت کا احساس تک نہیں ہے۔ حقیقت میں تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ عبادت کا حکم فرمایا تمہارے لیے ضروری ہے کہ وقوع قیامت اور جزائے عمل کا احساس کرتے ہوئے فاسجدو اللہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائو واعبدوا اور اس کی عبادت کرو۔ نماز کے سجدہ کے علاوہ اس آیت کی تلاوت اور سماعت پر سجدہ تلاوت بھی واجب ہوجاتا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے یہ سب سے پہلی سورة ہے جس میں سجدہ تلاوت کا حکم ہے۔ آپ نے یہ سورة اہل ایمان اور کافروں کی مشترکہ مجلس میں تلاوت فرمائی ، اور پھر آخر میں سجدہ کیا۔ یہ دیکھ کر مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا اور کافر بھی سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اور سب نے سجدہ ادا کیا ایک بوڑھے کافر امیہ ابن خلف نے سجدہ نہ کیا بلکہ زمین سے مٹی لے کر اپنی پیشانی پر لگائی ، کہنے لگا میرے لیے یہی کافی ہے۔ یہ شخص جنگ بدر میں کفر کی حالت میں مارا گیا۔