Ayahs 54:23–42ربطہ آیات
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پانچ نافرمان قوموں کا ذکر کرکے ان کی تباہی کا حال بیان کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئیں اسی طرح اگر اہل مکہ بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ گذشتہ درس میں قوم نوح اور قوم عاد کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں مزید تین اقوام یعنی قوم ثمود ، قوم لود اور قوم فرعون کا تذکرہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا میں پورا پورا موقع دیا مگر وہ ایمان نہ لائے بلکہ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا ، ان کو تکالیف پہنچائیں۔ توحید خداوندی اور معاد کا انکار کیا جس کی وجہ سے اللہ نے انہیں اسی دنیا میں سزا دی اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا۔
قومِ ثمود کی ہٹ دھرمی
ارشاد ہوتا ہے کذبت ثمود بالنذر قوم ثمود نے ڈر سنانے والوں یعنی اللہ کے نبی حضرت الح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ اللہ نے اس قوم کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو ہی مبعوث فرمایا تھا مگر یہاں پر نُذُر جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے کسی ایک نبی کو جھٹلانا تمام انبیاء کے جھٹلانے کے مترادف ہے۔ سارے نبیوں کا منشور تو ایک ہی رہا ہے یعنی اللہ کی توحید کا پیغام ، ایمان ، نیکی ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، البتہ شریعتوں میں تھوڑا بہت اختلاف ہے تو یہ فروعی چیز ہے وگرنہ دین سب کا ایک ہی ہے۔ اس لیے ایک نبی کی تکذیب گویا سارے نبیوں کی تکذیب کے برابر ہے۔ تو یہاں پر سارے نبیوں کے جھٹلانے سے یہی مراد ہے۔
بہر حال قوم ثموڈ کے لوگ بڑے متکبر تھے فقالو ابشراً منا واحدًا تتبعہ کہنے لگے کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک آدمی کو اتباع کرنے لگیں۔ یہ بھی تو آخر ہماری برادری کا ہی آدمی ہے ، اس میں کون سی خوبی ہے جو ہم اس کی سیادت قبول کرلیں ؟ کہنے لگے ، اگر ہم نے اس کی بات مان لی انا اذًا لفی ضللٍ و سعرٍ تو بیشک ہم گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے ، لہٰذا ہم اس کی چال میں آنے کی حماقت نہیں کرسکتے۔ غرضیکہ قوم نے اپنی نبی کو دیوانہ اور اس کے پیرو کاروں کو گمراہی کا لقب دیا۔
پھر انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی کے حق میں یہ دلیل بھی دیء الفی الذکر علیہ من بیننا کیا ہمارے درمیان میں سے اس پر نصیحت ڈال دی گئی ہے ؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور آدمی نہیں تھا جو نصیحت کا مورد بنتا ؟ اس کے پاس نہ مال ہے نہ دولت ، نہ باغات ہیں اور نہ یہ جتھے کا مالک ہے تو یہ وحی کے نزول کا کیسے مستحق بن گیا ہے جو کہتا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ اس قوم کی باتیں ہر نبی کے دور میں ہوتی رہی ہیں۔ خو د حضور ﷺ کی قوم قریش بھی اسی قسم کی بات کرتی تھی وقالو لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (الزخرف۔ 31) کہتے تھے کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کی دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا۔ یہاں بڑے بڑے سردار اور چوہدری ہیں جن کے پاس مال و دولت ، جتھہ اور جانور ہیں۔ مگر ان میں سے تو کسی پر قرآن نازل نہیں ہوا ، کیا اس کام کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ غرضیکہ قوم ثمو د نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے کی بجائے ، کہنے لگے بل ھو کذاب اشر بلکہ یہ شخص تو جھوٹا اور اترانے والا ہے۔ یہ نبوت کا دعویٰ کرکے اپنی بڑائی بیان کرنا چاہتا ہے۔ ہم اسے اللہ کا نبی ماننے کے لیے تیار نہیں۔
اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا سیعلمون غدًا من الکذاب الاشر یہ لوگ عنقریب کل ہی جان لیں گے کہ کون جھوٹا اور اترانے والا ہے غداً سے مراد بالکل اگلا دن نہیں بلکہ اس کا مطلب مستقبل قریب ہے جیسے سور ۃ الحشر میں اللہ کا فرمان ہے ، اے لوگو ! اللہ سے ڈر جائو ولتنظر نفس ما قد مت لغد (آیت۔ 18) اور دیکھو کہ تم نے کل یعنی قیامت کیلئے کیا سامان تیار کیا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ عنقریب کل ہی ان کو پتہ چل جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ یہ لفظ عربی ادب میں بھی ان معافی میں استعمال ہوتا ہے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے…؎
ترجوا غدًا وّ غداً کحا ملتہٍ فی
الحیّ لا یدرون ما تلد
تم کل کی امید لگائے بیٹھے ہو مگر کل کا معاملہ تو خاندان میں حاملہ عورت کی مانند ہے جس کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ وہ کل کیا جنے گی۔
اونٹنی بطور معجزہ
اللہ نے فرمایا انا مرسلو الناقۃ فتنہً لھم ہم ان کے پاس آزمائش کے لیے ایک اونٹنی کو بھیجنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنے نبی صالح (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ آپ ان نا ہنجاروں کی تکلیف دہ باتوں سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ ہم ان کو ایک آخری موقع دے رہے ہیں فارتقبھم واصطبر پس آپ تھوڑی دیر انتظار کریں اور صبرو تحمل سے کام لیں۔ ہم عنقریب انہیں کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔ اونٹنی کا واقعہ بہت سی سورتوں میں بیان ہوچکا ہے قوم نے خود صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ اس چٹان میں سے ہمارے سامنے ایک اونٹنی نکالو جو ہمارے سامنے بچہ بھی جنے ، پھر ہم آپ کی صداقت پر ایمان لائیں گے۔ اللہ نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کیا اور ان کے سامنے چٹان سے ایک غیر معمولی اونٹنی برآمد ہوئی۔ یہ بڑی قدآور اونٹنی تھی جسے سورة الشمس میں نافتہ اللہ کہا گیا ہے حضور ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اس اونٹنی کے بیٹھنے کی جگہ کی پیمائش کی تھی تو یہ نوے فٹ مربع نکلی ، اتنی بڑی کلانی والی اونٹنی تھی۔ یہ اونٹنی دودھ بھی بہت دیتی تھی ۔ جس شخص کا جب جی چاہتا اس سے دودھ دوہ لیتا اور وہ کوئی تعرض نہ کرتی۔
پانی کی تقسیم
یہ اونٹنی جس قدر قدآور تھی اسی قدر وہ پانی بھی پیتی تھی۔ جب یہ پانی کے گھاٹ پر جاتی تو باقی جانور اسے دیکھ کر بھاگ جاتے اور سارا پانی یہ اکیلی ہی پی جاتی۔ اس بناء پر باقی جانوروں کی سیرابی کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ اس مسئلہ کا حل بھی اللہ نے خود ہی فرما دیا اور اپنے نبی کو وحی کی ونبئھم ان الماء قسمۃ بینھم آپ ان کو بتا دیں کہ ان کے درمیان پانی تقسیم شدہ ہے اس تقسیم کے مطابق کل شربٍ مختصر ہر ایک کو اپنی باری پر پہنچنا چاہئے پانی کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ ایک دن اکیلی اونٹنی پانی پئے اور دوسرے دن باقی سارے جانور سیراب ہوں۔ اس طرح گویا باری ٹھہرا دی گئی جس سے پانی کا مسئلہ حل ہوگیا۔
امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پانی کی تقسیم نہیں تھی بلکہ پانی کے منافع کو تقسیم کرکے باری مقرر کردی گئی تھی۔ کسی حوض یا کنوئیں پر اس قسم کی تقسیم درست ہے اور فقہاء کی اصطلاح میں اسے مہایات کہا جاتا ہے۔ امام صاحب (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ حکم تو صالح (علیہ السلام) کی شرعیت میں تھا ، تو کیا یہ ہماری شریعت میں بھی نافذ العمل ہے اس کا جواب خود ہی دیتے ہیں کہ اگر قرآن پاک میں کسی پہلی شریعت کا کوئی مسئلہ پیان کیا گیا ہو جس کی تردید بھی قرآن میں موجود نہ ہو تو ایسا مسئلہ ہماری شریعت میں بھی نافذ سمجھا جائے گا۔ بعض چیزوں کو پہلی شریعتوں میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ مگر قرآن یا سنت میں واضح کردیا گیا ہے کہ یہ ہماری شریعت میں روا نہیں تو ایسا حکم ہمارے لیے جائز نہیں ہوگا۔ البتہ پہلی شریعتوں کے جس حکم کو اللہ یا اس کے نبی نے منسوخ قرار نہیں دیا ، وہ ہمارے لیے بھی نافذ ہوگا۔ یہ تو پانی کی تقسیم کا قانون بنیادی طور پر صالح (علیہ السلام) کی شریعت میں تھا۔ مگر عدم تنسیخ کی وجہ سے ہمارے لیے بھی جائز ہے جس چیز میں بہت سے لوگوں کے حقوق مشترک ہوں ، اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے باری ٹھہرائی جاسکتی ہے۔
قتل ناقہ پر عذاب الٰہی
شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ اس قوم میں ایک بدکار عورت تھی جس کے بہت سے مویشی تھے جنہیں اس اونٹنی کی وجہ سے پانی پینے میں دقت کا سامنا تھا چناچہ اس عورت نے اس اونٹنی کے خاتمے کے لیے ایک شخص قدار ابن سالف کی خدمات حاصل کیں۔ یہ بدبخت آدمی اس عورت کے جھانسے میں آگیا ، اس نے کچھ دوسرے آدمی ساتھ ملائے اور اونٹنی کے قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ اسی واقعہ کے متعلق اللہ نے یہاں ارشاد فرمایا فنادوا صاحبھم پس انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا فتعاطی پس اس نے ہاتھ اٹھایا فعقر اور اونٹنی کے پائوں کاٹ دئیے تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جب وہ اونٹنی گر پڑی تو ان لوگوں نے تلواریں چلا کر اس کے ٹکڑے کردئیے اونٹنی کا بچہ بھی ساتھ تھا۔ وہ یہ واقعہ دیکھ کر بھاگ گیا۔ اسی چٹان پر جا کر زور زور سے چیخیں ماریں جہاں سے اونٹنی برآمد ہوئی تھی۔
اور پھر اسی چٹان میں غائب ہوگیا۔ اللہ نے قوم کو تین دن کی مہلت دی اور اس کے بعد پوری قوم کو ملیا میٹ کردیا۔ اللہ نے فرمایا فکیف کان عذابی و نذر پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔
قوم کی ہلاکت کے متعلق اللہ نے فرمایا انا ارسلنا علیھم صیحۃً واحدۃً ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی۔ فرشتے نے ایسی چیخ ماری کہ لوگوں کے جگر پھٹ گئے اور نیچے سے زلزلہ بھی آیا جس سے پوری کی پوری قوم ہلاک ہوگئی۔ اللہ نے فرمایا فکانوا کھشیم المختظر وہ روندی ہوئی باڑ کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر رہ گئے۔ اللہ نے عبرت کے لیے یہ واقعہ بیان کیا اور ساتھ نصیحت کی بات بھی کی۔ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مدبر اور البتہ تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے ، پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟ اگر کوئی نصیحت کا طالب ہے تو وہ قرآن حکیم سے بخوبی استفادہ حاصل کرسکتا ہے۔
قومِ لوط پر عذاب
آگے چوتھے واقعہ میں اللہ نے قوم لوط کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوطٍ م بالنذر قوم لوط نے بھی ڈر سنانے والوں کو جھٹلایا۔ اللہ کا نبی بڑے عرصہ تک قوم کو سمجھاتا رہا۔ مگر وہ لوگ ایک طرف تو کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے تھے تو دوسری طرف اغلام بازی جیسی قبیح اخلاقی بیماری میں مبتلا تھے انہوں نے لوط (علیہ السلام) کی کوئی بات نہ مانی اس کے نتیجے میں اللہ نے فرمایا۔ انا ارسلنا علیھم حاصباً ہم نے ان پر تند آندھی بھیجی جس میں پتھر شامل تھے۔ اس قوم پر آسمان سے پتھر برسے ہر پتھر پر نام لکھا ہوا تھا کہ یہ فلاں سردار کے سر پر پڑیگا اور یہ فلاں چوہدری کو لگے گا۔ اس طرح اللہ نے ساری نافرمان قوم کو سنگسار کردیا۔ الّا اٰل لوطٍ سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھرانے کے کہ وہ اس ہلاکت سے بچ گئے۔ لوط (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی بیٹیاں تھیں ، وہ بھی بچ گئیں مگر آپ کی نافرمان بیوی نہ بچ سکی۔ جیسا کہ سورة الاعراف میں فرمایا الا امراتہ کانت من الغبرین ( آیت۔ 83) کیونکہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی ، یعنی اللہ کے حکم کے مطابق راتوں رات لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بستی سے نہ نکلی ، لہٰذا باقی قوم کے ساتھ ہی تباہ ہوگئی۔
فرمایا سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے نجینھم بسحرٍ ہم نے ان کو سحری کے وقت بچا لیا۔ جب سحری کے وقت اللہ کا عذاب آیا تو یہ لوگ بستی چھوڑ کر جا چکے تھے ، لہٰذا بچ گئے۔ فرمایا یہ بچائو نعمتہً من عندنا ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی کذلک نجزی من شکر ہم شکر گزاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ کے گھر والے ہمارے شکر گزار بندے تھے ، لہٰذا ہم نے ان کو محفوظ رکھا۔ آگے اللہ نے واقعہ کی تھوڑی سی تفصیل بھی بیان کی ہے ولقد انذر ھم بطشتنا البتہ تحقیق ہم نے اس قوم کو اپنی گرفت سے ڈرایا کہ کفر ، شرک اور قبیح حرکات سے باز آجائو ، مگر انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی بلکہ فتمارو ا بالنذر وہ ڈر سنانے والوں کے ساتھ جھگڑا کرنے لگے کہنے لگے تم بڑے پاکباز آئے ہو ہمیں نصیحت کرنے کے لیے ، ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔ خبردار ہمیں ایسا کوئی وعظ نہ کیا کرو۔ ولقد راودہ عن ضیفعہ اور البتہ تحقیق انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو ان کے مہمانوں سے پھسلانے کی کوشش کی یعنی ان کو اپنے اور مہمانوں کے درمیان حائل ہونے سے روکنا چاہا تاکہ وہ اپنی قبیح خواہش کی تکمیل کرسکیں۔ مگر لوط (علیہ السلام) نے گھر کے دروازے بند کرلیے تاکہ قوم ان کے مہمانوں کی بےحرمتی نہ کرسکے۔ مگر وہ بڑی ناہنجار قوم تھی۔ وہ گھر کی دیواریں پھلانگ کر اندر آگئے۔ اس پر لوط (علیہ السلام) سخت پریشان ہوئے۔
سورۃ ہود میں ہے کہ انہوں نے فرمایا ھذا یوم عصیب ( آیت۔ 77) آج تو بڑا مشکل کا دن ہے آپ نے قوم کو بڑا سمجھایا کہ خدا کے بندو ! مجھے رسوا نہ کرو کیونکہ مہمانوں کی رسوائی میری رسوائی ہے۔ اپنی جنسی خواہش کے لیے میری اور قوم کی بچیاں ہیں ان سے نکاح کرو۔ مگر وہ لوگ نصیحت کی کوئی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔
جب مہمانوں نے لوط (علیہ السلام) کو اس پریشانی میں دیکھا تو اپنے آپ کو ظاہر کردیا۔ لوط (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں اور اس قوم پر عذاب نازل کرنے کیلئے آئے ہیں ، آپ پیچھے ہٹ جائیں ، ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ چناچہ جونہی جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنا پَر ہلایا تو اللہ نے فرمایا فطمسنا اعینھم ہم نے انکی آنکھیں ہی مٹا دیں وہ سب کے سب اندھے ہوگئے ، مگر پھر بھی اپنی قبیح حرکت سے باز آنے کی بجائے وہ ہاتھوں سے ٹٹول ٹٹول کر مہمانوں کو تلاش کرتے رہے۔ فذوقو عذابی و نذر پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا۔ پھر اللہ نے لوط (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنے اہل خانہ کو لے کر رات کے پچھلے حصے میں بستی سے نکل جائیں اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا ، بچیوں کو آگے آگے چلایا اور خود پیچھے پیچھے چلنے لگے اور اس طرح آپ بستی سے دور نکل گئے۔ پھر اللہ نے اس قوم پر صبح کے وقت عذاب بھیجاجس کے متعلق یہاں فرمایا ہے ولقد صبحھم بکرۃً عذاب مستقر اور البتہ تحقیق صبح سویرے ان پر ایسا مستقل عذاب آیا جس سے ابدا لآبادتک نہ نکل سکیں گے۔ یہ تو اللہ نے دنیا میں سزا دی ، پھر آگے برزخ کی سزا ، اور پھر آخرت کی سزا ہوگی۔ اسی لیے فرمایا کہ ان پر ہمیشہ کے لیے ٹھہر جانے والا عذاب نازل ہوا فذوقو عذابی و نذر پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا تم جیسے نا ہنجاروں کے ساتھ یہی سلوک ہوناچاہئے۔ آگے اللہ نے پھر قرآن پاک کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مذکر اور البتہ تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے ، پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟
قومِ فرعون کی گرفت
اس سورة میں اللہ نے پانچویں نمبر قوم فرعون کی ہلاکت کا ذکر کیا ہے۔ ولقد جاء اٰل فرعون النذر اور البتہ تحقیق آلِ فرعون کے پاس بھی ڈر سنانے والے آئے۔ اللہ کے یہ عظیم رسول حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) تھے جنہوں نے فرعون کو توحید کی دعوت دی اور ساتھ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا مگر انہوں نے تسلیم کرنے کی بجائے کذبو ا باٰیٰتینا کلھا ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ معجزات کو جادو کہہ کر رد کردیا۔ اللہ نے فرمایا فاخذ نھم اخذ عزیزٍ متقدرٍ ہم نے پکڑا ان کو ایک غالب اور قادر ہستی کا پکڑنا۔ تمام قوتوں کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا اس سے بڑھ کر گرفت کس کی ہوسکتی ہے ؟ اللہ نے ایسے عذاب میں پکڑا کہ جس سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔ دنیا میں بحر قلزم کی موجوں کی نذر ہوئے اور آخرت میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے ، لہٰذا فرمایا کہ ہم نے انہیں بڑی سخت گرفت میں جکڑ لیا۔ یہ پانچ واقعات اللہ نے نہایت ہی اختصار کے ساتھ بیان کردئیے ہیں تاکہ مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے لوگ ان واقعات سے عبرت پکڑیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیں۔
Ayahs 54:43–55ربط آیات
اس سورة میں جملہ بنیادی عقائد میں سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ گذشتہ دروس میں پانچ سابقہ اقوام کا ذکر کیا گیا ہے جن کو اللہ نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کی بناء پر دنیا میں ہی سزا دی اور ان کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ یہ قومیں قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور قوم فرعون ہیں ان اقوام کا حال ذکر کرکے اللہ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بھی مذکورہ اقوام کے نقش قدم پر چل کر اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دیں۔
کفار مکہ کی شکست
اب آج کے درس میں کفار مکہ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے اکفارکم خیر من اولٰئکم کیا تمہارے یہ کافر مذکورہ سابقہ اقوام کے کافروں سے بہتر ہیں ؟ وہ تو تم سے مال و دولت اور جسمانی طاقت میں بڑھے ہوئے تھے پھر تم کس بنا پر اپنے آپ کو ان سے بہتر سمجھتے ہو ؟ قانون مکافات تو یکساں ہے۔ جب وہ کفار کفر ، شرک ، تعدی ، تجاوز اور انکارِ رسالت اور معاد کی وجہ سے گرفت میں آئے تو تم میں کیا خوبی ہے کہ تم بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر عذاب الٰہی سے بچ جائو گے۔ اسی طرح اللہ نے سورة الدخان میں فرمایا۔ اھم خیر ام قوم تبعٍ ( آیت۔ 37) کیا یہ لوگ بہتر ہیں یو قوم تبع یا ان سے پہلے لوگ۔ فرمایا جب قوم تبع کو ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک کردیا تو یہ ان سے کوئی بہتر تو نہیں ہیں جو یہ بچ جائیں گے۔ سورة سبا میں ارشاد ہوتا ہے وما بلغوا معشار ما اتینھم ( آیت۔ 45) پہلے لوگوں کی نسبت ہم نے نزول قرآن کے زمانے کے کافروں کو تو عشر عشیر بھی نہیں دیا ، پھر یہ کس بات پر غرور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان پر گرفت نہیں آئے گی۔
فرمایا کہ تمہارے یہ کافر پہلے کافروں سے بہتر ہیں ام لکم برآء ۃ فی الزبر یا پھر صحیفوں میں تمہیں بری قرار دے دیا گیا کہ تم جو چاہو کرتے پھرو ، تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ اسی قسم کا زعم باطل یہودیوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں ہماری گرفت نہیں ہوگی۔ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں سزا ملی بھی تو صرف چالیس روز کی ہوگی جس عرصہ میں ہم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ، اس کے علاوہ ہمیں کوئی سزا نہیں ملیگی۔ فرمایا ام یقولون نحن جمیع منتصر یا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ہم سب بدلہ لینے والے ہیں۔ یعنی ہم اتنے طاقتور ہیں کہ کوئی ہم سے بدلہ نہیں لے سکتا ، بلکہ وہی بدلہ لینے کے قابل ہیں۔ کیا ان کے تکبرو غرور کا یہ عالم ہے کہ یہ کسی دوسرے کو اپنا مدمقابل نہیں سمجھتے ؟ فرمایا ان کا یہ خیال بھی غلط ہے۔ ان سے پہلے قوم عاد نے بھی کہا تھا من اشد مناقوۃ ( رحم السجدۃ۔ 15) ہم سے زیادہ طاقتور کون ہیں دنیا میں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ ان سے طاقتور وہ ذات ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے ، لہٰذا وہ ان کی گرفت کرنے پر بھی قادر ہے۔ وہ چاہے تو کسی کمزور ترین چیز کے ذریعے تمہیں سزا میں مبتلا کردے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ بھی سابقہ نافرمان اقوام کی طرح مبتلائے عذاب ہوں گے ، اور اس کی صورت یہ ہوگی سیھزم الجمع ان کی جماعت کو شکست دی جائے گی ویولون الدبر اور یہ پشت پھیر کر بھاگ نکلیں گے۔ چناچہ اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا اور کفار مکہ کو بدر کے میدان میں شکست فاش ہوئی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگے ، کچھ مارے گئے اور کچھ قیدی بنا لیے گئے۔ جب حضور ﷺ جنگ کے لیے خیمے سے باہر آئے تو آپکی زبان پر یہی آیت مبارکہ تھی جسے اللہ نے حرف بحرف پورا کردیا۔
آخرت کی سزا
فرمایا دنیا کی سزا تو اصل سزا کا ایک ادنیٰ نمونہ تھا ، اصلی سزا تو اللہ کے ان دشمنوں کو آخرت میں ملنے والی ہے۔ فرمایا بل الساعۃ موعد ھم بلکہ قیامت تو ان کے وعدے کا وقت ہے۔ اللہ نے خبردار کررکھا ہے۔ کہ آخرت کی دائمی سزا تو تمہیں قیامت کو ملنے والی ہے۔ اور یاد رکھو ! والساعۃ ارھی وامر کہ قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور کڑوی چیز ہے۔ جب وہ وقت آجائے گا تو پھر تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اور تمہیں سزا کا کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ ان کی غفلت کے متعلق فرمایا ان المجرمین فی ضللٍ وسعرٍ بیشک مجرم لوگ گمراہی اور جنون میں پڑے ہوئے ہیں جو معاملہ ان کے ساتھ قیامت کو پیش آئے گا ، اس کا اندازہ یہ لوگ آج نہیں کرسکتے۔ ان کی یہ خام خیالی ہے کہ ان کے ساتھ قیامت کو پیش آئے گا ، اس کا اندازہ یہ لوگ آج نہیں کرسکتے۔ ان کو یہ خام خیالی ہے کہ ان سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ فرمایا اس دن ان کا کیا حال ہوگا یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم جس دن یہ لوگ دوزخ کی آگ پر چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا ذوقوا مس سقر آگ کا مزا چکھو۔ سقر دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے جحیم ، نطی ، سعیر وغیرہ۔ فرمایا جس دن تم دوزخ میں اوندھے منہ گھسیٹے جائو گے اس دن تمہاری گمراہی اور دیوانگی کا نشہ اتر جائے گا اور تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کفر اور شرک کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
مسئلہ تقدیر
فرمایا انا کل شیئٍ خلقنہ بقدرٍ بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک خاص ٹھہرائے ہوئے اندازے کے مطابق پیدا کیا ہے۔ کافر کہتے تھے کہ جس قیامت کا رعب دیتے ہو وہ آکیوں نہیں جاتی اور جس دوزخ کے عذاب سے ڈراتے ہو وہ آ کیوں نہیں جاتا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہر چیز اللہ کی مقرر کردہ تقدیر کے مطابق واقع ہوتی ہے۔ کوئی چیز قبل از وقت نہیں آتی۔ جس طرح ہر شخص کی انفرادی موت اپنے وقت پر آتی ہے اور آگے پیچھے نہیں ہوتی ، اسی طرح قیامت بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی برپا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے جس وقت کسی چیز کو پیدا کیا تو اس کی تقدیر بھی ٹھہرا دی کہ فلاں فلاں وقت میں اس میں یہ تغیر و تبدل ہوگا اور فلاں وقت پر جا کر ختم ہوجائے گی۔ دنیا میں جتنے تغیرات آرہے ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم ، ارادے اور مشیت کے مطابق واقع ہو رہے ہیں۔ وما امرنا الاواحدۃ کلمحٍ م بالبصر ہمارا معاملہ تو یکبارگی ایسا ہوتا ہے جیسے آنکھ جھپکنے کی دیر ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہم جو چاہتے ہیں چشم زون میں ہوجاتا ہے ، اس میں کسی لمبے چوڑے پلان اور پھر اس پر بتدریج عمل کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ہم جس چیز کو کہتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق جب ہم چاہیں گے تو قیامت بھی اچانک ہی آجائے گی۔ اور پھر ہر ایک کو اپنی کارکردگی کا حساب چکانا پڑیگا ولقد اھلکنا اشیا عکم اور البتہ تحقیق ہم نے تمہارے ساتھ دینے والے یعنی تمہارے جیسے بہت سے گروہ پہلے ہی ہلاک کردئیے ہیں اگر تم بھی انہی کے نقش قدم پر چلو گے تو عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکو گے۔ یہ واقعات تمہاری عبرت کے لیے بیان کیے جاتے ہیں فھل من مدکر پس کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا جو سابقہ قوموں کی ہلاکت کے واقعات سے عبرت حاصل کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان لے اس کے رسولوں پر ایمان لے آئے ، تقدیر اور قیامت پر یقین کرے۔
حفاظت اعمال کا انتظام
فرمایا ، یاد رکھو ! ہم ہر شخص کے لیے اس کے اعمال کے مطابق ہی جزایاسزا کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم نے ہر نفس کے اعمال کی حفاظت کا مستقل انتظام کر رکھا ہے اور اس میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ فرمایا وکل شیء فعلوہ فی الذبر ہر انسان کا انجام دیا ہوا عمل صحیفوں میں درج ہے وکل صغیرٍ وکبیرٍ مستطر اس کا ہر چھوٹا بڑا عمل اللہ کے حکم کے مطابق لکھا ہوا ہے۔ یہ انسانوں کے اعمال کی حفاظت کا قانون ہے کہ اس کا ہر قول و فعل ، حرکت اور سکون اللہ کے فرشتے لکھتے رہتے ہیں وکل انسانٍ الزمنہ طرہ فی عنقہ (بنی اسرائیل۔ 13) ہر شخص کا اعمال نامہ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ہے جس کو قیامت والے دن نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا ، اور حکم ہوگا۔ اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیباً (بنی اسرائیل۔ 14) اس کو پڑھ لو کہ تمہارے نفس کے محاسبے کے لیے یہی کافی ہے آج تم اپنا محاسبہ خود کرو۔ سورة الکہف میں فرمایا کہ جب انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا تو وہ دیکھ کر ڈر جائے گا۔ اور حیران ہو کر کہے گا یویلتنا مال ھذا لکتب لا یغادر صیغرۃ ولا کبیرۃً الا احصھا ( آیت۔ 49) ہائے افسوس یہ کیسی کتاب ہے جس نے نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑی ہے اور نہ بڑی ، مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے ہر اچھے یابرے عمل کا نتیجہ اس کی روح میں بھی محفوظ ہوتا ہے کیونکہ ہر عمل انسان کی روح سے پھوٹتا ہے ، نیکی یا بدی کا بیج تو روح میں ہوتا ہے۔ تو جب انسان کوئی عمل انجام دیتا ہے تو وہ پھسل جاتا ہے اور اس کا نتیجہ پلٹ کر روح کے ساتھ آکر چمٹ جاتا ہے ، اور اس کے اثرات وہاں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی محفوظ ہے کیونکہ انہ بکل شی محیط ( حم السجدۃ 54) اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور کوئی چیز بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ اسی لیے تقدیر کا مسئلہ ایمانیات میں داخل ہے کہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔
تقدیر کی تین قسمیں
محدثین کرام تقدیر کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں۔ پہلی تقدیر کتابی ہے جو کہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ گویا لوح محفوظ علم الٰہی کا ایک مظہر ہے امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ لوح سے مراد ایسی تختی نہیں جو ہمارے تصور میں ہے بلکہ یہ ایک ایسی لوح ہے جس کی حقیقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جاننا مگر ہے ضرور اور اس میں ہر چیز محفوظ ہے۔ آپ مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ ایک حافظ قرآن آدمی کے دماغ میں قرآن پاک اوّل تا آخر محفوظ ہوتا ہے لیکن اگر اس کے دماغ کا آپریشن کیا جائے تو وہاں گوشت ، خون اور رگوں کے سوا قرآن کا ایک حرف بھی نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح لوح محفوظ میں ہر چیز درج ہے جو اللہ کے علم تفصیلی کا ایک نمونہ ہے اللہ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے ہی ہر چیز لوح محفوظ میں درج کردی تھی۔
تقدیر کی دوسری قسم تقدیر ارادی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں اوّل سے آخر تک جو بھی چیز ظاہر ہورہی ہے یا جو آئند ہ ہوگی وہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے سے واقع ہوتی ہے۔
اور تیسری قسم تقدیر علمی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ازل میں جانتا تھا آج بھی جانتا ہے اور آئندہ بھی جانتا رہے گا۔ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فلاں چیز کا علم نہیں تو وہ کافر سمجھاجائیگا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب کوئی چیز ظاہر ہوتی ہے تو اس وقت اللہ کو علم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے نہیں۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے علم تفصیلی کے منکر ہیں اور قطعی کافر ہیں۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کتابی اور تقدیر ارادی کے منکر ہیں ، اگر ان کا انکار کسی تاویل کی بناء پر ہے تو گمراہ ہیں اور اگر وہ سرے سے ہی انکار کرتے ہیں تو پھر کافر ہیں۔ کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ توحید رسالت ، بعثت بعد الموت اور تقدیر پر ایمان نہیں لاتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے والذی قدر فھدی (الاعلیٰ ۔ 3) خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کا اندازہ ٹھہرایا۔ اور پھر اس کے لیے ہدایت کا انتظام بھی فرمایا۔ خدا تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ میں سے ایک صفت تقدیر بھی ہے۔ تقدیر کے جو منکرین یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ ہم تمام اعمال اپنی مرضی سے انجام دیتے ہیں ، وہ قدریہ فرقہ کہلاتا ہے۔ یہ فرقہ دوسری صدی میں پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے برخلاف جو لوگ انسان کو پتھر کی طرح مجبورمحض سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انسان کو کچھ اختیار نہیں ، وہ جبریہ فرقہ کہلاتا ہے ، یعنی انسان ہر کام مجبوراً کرتا ہے ، اس کو نہ کوئی اختیار ہے اور نہ یہ اپنے ارادے سے کرتا ہے۔ یہ بھی گمراہ فرقہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک احد تک اختیار دے کر اسے مکلف بنادیا ہے ، جس کی بناء پر اسے قانون کا پابند کردیا گیا ہے۔ اگر یہ اختیار نہ ہوتا تو انسان پتھر کی طرح جامد ہوتا اور اس سے کوئی باز پرس بھی نہ ہوتی۔ لیکن انسان مختار مطلق بھی نہیں ہے کہ چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ نہیں بلکہ انسان کا اختیار محدود ہے جس سے آگے وہ نہیں جاسکتا۔ جہاں قانون کی پابندی کی ضرورت ہے وہاں تو اللہ نے اختیار دے دیا ہے تاکہ انسان اپنی مرضی اور ارادے سے قانون کی پابندی کرے یا اس کا انکار کردے۔ اسی بناء پر انسان مکلف ہے اور قانون کی پابندی یا عدم پابندی کرکے ہی وہ جزا یا سزا کا مستحق بنتا ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ اضطرار کی حالت پیدا ہوجائے تو وہاں مواخذہ نہیں ہوگا۔ مثلاً کوئی شخص رعشہ کا مریض ہے اور اسے اپنے ہاتھوں پر کنٹرول حاصل نہیں۔ اگر ایسی حالت میں اگر اس کے ہاتھ سے کوئی برتن وغیرہ گر کر ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا مواخذہ نہیں ہوگا یا اسکا ہاتھ کسی دوسرے کو لگ جاتا ہے تو اس کی مجبوری کی بناء پراس سے انتقام نہیں لیاجائیگا۔ اور اگر کوئی شخص ارادۃً برتن توڑتا ہے یا کسی دوسرے شخص پر ہاتھ اٹھاتا ہے ظاہر ہے کہ وہ قابل مواخذہ سمجھاجائے گا۔ بہر حال انسان نہ تو مختار مطلق ہے اور نہ ہی مجبور محض۔ اللہ نے اسے ایک خاص حد تک اختیار دیا ہے جسے وہ اپنی مرضی اور ارادے سے استعمال کرتا ہے اور اسی پر اس کی جزا یا سزا کا دارومدار ہے۔ اللہ نے سورة کے آخر میں تقدیر کا مسئلہ بھی سمجھادیا ہے۔
متقین کی کامیابی
آگے فرمایا ان المتقین فی جنتٍ ونھرٍ بیشک متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق۔ متقی وہ ہے جو کفر ، شرک ، نفاق ، بد عقیدگی اور معاصی سے بچتا ہے۔ سورة قتال میں گزر چکا ہے کہ جنت میں چار قسم کی نہریں ہوں گی ، جن میں صاف پانی ، شہد ، دودھ اور شراب طہوررواں دواں ہوگا۔ امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نہریں زمینی نہروں کی طرح زمین دوز نہیں ہوں گی۔ بلکہ یہ زمین کے اوپر چل رہی ہوں گی اور اہل جنت جدھر چاہیں گے موڑ کرلے جاسکیں گے۔ یہ کیفیت آج تو سمجھ میں نہیں آتی مگر اگلے جہان میں یہ سب کچھ ممکن ہوگا۔
فرمایا جنتی لوگ باغوں اور نہروں میں ہوں گے فی مقعد صدقٍ سچی بیٹھک میں سچائی کی یہ شاندار ، باعزت اور باراحت بیٹھک کہاں ہوگی ؟ فرمایا عند ملیک مقتدر ٍ قدرت نامہ رکھنے والے بادشاہ کے ہاں اور وہ وہی ذات خداوندی ہے جو قادر مطلق اور علیم کل ہے۔ پہلے انداز کا بیان تھا۔ اب آخر میں دوسرا پہلو بھی بیان کردیا۔ ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی ہوگئی۔ گویا اہل ایمان کا اچھا انجام بھی بیان فرمادیا۔