57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمعالم العرفان

Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول کھلی نشانیوں کے ساتھ ، اور اتاری ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ لوگ قائم رکھیں انصاف کو۔ اور اتارا ہم نے لوہا ، اس میں سخت لڑائی ہے اور لوگوں کے لئے بہت سے فائدے ہیں۔ اور تاکہ معلوم کرلے اللہ تعالیٰ کہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کے بغیر دیکھے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت زور والا ، اور کمال قوت کا مالک ہے

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت اور قرآن کریم کی ہدیات سے مستفید ہونے والے اور محروم رہنے والے لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے۔ دنیا کی بےثباتی کے پیش نظر آخرت میں کامیابی کے لئے ترغیب دی گئی ہے اللہ نے انسانوں پر آنے والے مصائب کے متعلق فرمایا کہ یہ سب لوح محفوظ میں درج ہیں ، پھر تکبر اور غرور کی تردید فرمائی کہ جس شخص کو آسودگی حاصل ہو اسے اترانا نہیں چاہیے۔ پھر اللہ نے بخل سے بچنے کی تلقین فرمائی کہ نہ خود بخل کا ارتکاب کرو اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دو ۔ مقصد بعثت انبیائ : آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی بعثت اور کتابوں کے نزول ، اور پھر لوہے جیسی قیمتی دھات کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے لقد ارسلنا رسبنا بالبینت البتہ تحقیق ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول کھلی نشانیوں کے ساتھ۔ تمام انباء اور رسولوں کی بعثت کا مقصد بنی نوع کی ہدایت رہا ہے۔ اللہ کے نبی انسانوں کی دنیا وآخرت کی فلاں کا قانون ان تک پہنچاتے ہیں ، ان کو صحیح راستے کی تعلیم دیتے اور اس پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اسی قانون کا نام دین ، شریعت یا ملت ہے جس میں انسانوں کی دنیوی اور اخروی بھلائی پائی جاتی ہے ، چناچہ تمام انبیائے کرام سب سے پہلے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کرتے رہے ہیں کیونکہ جب تک فکر صحیح نہ ہو اس وقت تک کوئی عمل قابل قبول نہیں ہوتا۔ اسی ضمن میں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کی بینات یعنی کھلی نشانیاں دے کر مبعوث فرمایا۔ قرآن کریم میں بینات اور ہدایت کا ذکر بار بار اور اکھٹا بھی آیا ہے۔ جیسا کہ سورة البقرہ میں ہے ان الذین…………………والھدیٰ (آیت 159) اللہ نے اس آیت میں بینات اور ہدایت کو چھپانے والوں کو ملعون ٹھہرایا ہے۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ بینات میں واضح اصول اور واضح قوانین آتے ہیں جن کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور جن پر عمل کرنا آسان ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ کی وحدانیت کے بیشمار دلائل موجود ہیں جن کو ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ذکر انسانی فہم کے عین مطابق ہے اس کا شکر ، شعائر اللہ کی تعظیم اور مصیبت کے وقت صبر۔ اللہ کے ساتھ تعلقات کی درستگی کے لئے نماز کی پابندی وغیرہ بالکل واضح چیزیں ہیں جو بینات کہلاتی ہیں۔ بینات کی فہرست میں واضح دلائل ، براہین ، چیزیں ہیں جو بینات کہلاتی ہیں۔ بینات کی فہرست میں واضح دلائل ، براہین ، احکام اور معجزات بھی آتے ہیں جو نبی کی صداقت کی علامت ہوتے ہیں۔ اور ہدایت میں بعض دقیق حقائق اور مسائل بھی ہوتے ہیں جن کو سمجھنے کے لئے ایک عام انسان کو استاذ کی ضرورت ہوتی ہے اور سخت محنت بھی کرنی پڑتی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کی واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ کتاب اور میزان : فرمایا وانزلنا معھم الکتب والمیزان ، اور رسولوں کے ساتھ ہم سے کتاب اور میزان بھی نازل فرمائی۔ ہر نبی اور رسول کو اللہ نے کتاب یا صحیفہ عطا فرمایا ہے جو دین کی بنیاد اور اساسی قانون ہوتا ہے ، اور پیغمبر کا قول اور فعل اس کتاب میں شرح ہوتی ہے اور میزان کا عام فہم معنی ترازو ہے تاہم اس کے معنی میں مفسرین سے اختلاف کیا ہے بعض فرماتے ہیں کہ میزان سے مراد شریعت ہے جس سے صحیح اور غلط چیز کی پہچان ہوتی ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ میزان سے انسانی عقل ضرور ہے کہ اس کے ذریعے بھی انسان حق و باطل میں تمیز کرسکتا ہے۔ تاہم اکثر مفسرین اس میزان کو ظاہری ترازو سے ہی تعبیر کرتے ہیں کیونکہ یہ حقوق کی پہچان معیار ہوتا ہے۔ جب کوئی چیز ترازو میں تولی جاتی ہے تو اس سے لینے اور دینے والے کے حقوق کا پتہ چلتا ہے اللہ نے سورة الرحمن میں بھی ترازو کا ذکر کیا ہے ووضع المیزان (آیت 17) اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور انکو رکھا تاکہ وزن کرنے میں زیادتی نہ کرو۔ ترازو کو انصاف کے ساتھ کرو۔ اور ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ یہاں پر اللہ نے فرمایا ہے کہ میزان نازل فرمایا۔ لیقوم الناس بالقسط تاکہ لوگ انصاف کو قائم رکھ دیں اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے۔ غرضیکہ اللہ نے کتاب نازل فرمائی ہے سے اساسی اصول معلوم ہوئے ، نبی نے اپنے قول وفعل سے اس کتاب کی تشریح فرمائی پھر میزان کو قائم کردیا تاکہ حسی طور پر حقوق کی پہچان ہوسکے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک ۔۔ رفع التظالم میں بین یعنی لوگوں کے درمیان سے ناانصافی دور کرنا بھی ہے۔ اور ترازو کے نزول کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کو ظلم و زیادتی سے بچایا جائے۔ اللہ نے قرآن پاک میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کیا جو ناپ تول میں کمی کرتی تھی۔ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا ، فاوفو الکیل والمیزان ولا تبخسوالناس اشیاء ھم (ھود 85) ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو ، اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو۔ ایک دفعہ حضور ﷺ بازار تشریف لے گئے تو تاجروں کو مخاطب کرکے فرمایا یمعشر التجار اے تاجروں کے گروہ ! تم دو چیزوں کے والی بنائے گئے ہو۔ اور وہ چیزیں الکیل المیزان پیمائش کے پیمانے اور میزان ہیں۔ بعض سابقہ قومیں انہی چیزوں میں کمی بیشی کرکے تباہ ہوئیں۔ سورة المطففین میں بھی اللہ نے فرمایا ویل ……………………یخسرون (آیات 1- 3) ہلاکت اور بربادی ہے ، ان لوگوں کے لئے جو ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں۔ وہ جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں ، اور جن کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں۔ برحال بعثت انبیاء ، نزول کتاب اور میزان کا مقصد لوگوں کے درمیان انصاف قائم کرنا ہے۔ لوہے کا نزول : آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے لوہے کی افادیت کا ذکر کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے وانزلنا الحدید ، اور ہم نے لوہے کو اتارا فیہ باس شدید ، اس میں سخت لڑائی ہے ومنافع للناس ، اور لوگوں کے لئے بہت سے فوائد ہیں۔ لوہے کے لئے نزول کا لفظ کچھ غیر مانوس معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ دھات کہیں اوپر سے نازل نہیں ہوتی بلکہ زمین میں روپوش کانوں سے نکالی جاتی ہے۔ اس لئے اگر انزلنا کا معنی خلقنا کیا جائے یعنی نازل کرنے کی بجائے پیدا کرنا معنی کیا جائے تو زیادہ موزوں ہے۔ اس طرح کے مفہوم کی مثال سورة الزمر میں بھی ملتی ہے جہاں اللہ نے مویشیوں کے متعلق فرمایا وانزل…………ازواج (آیت 6) اللہ نے تمہارے لئے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے نازل کیے۔ اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری نر مادہ اللہ نے آسمان سے نازل نہیں کیے بلکہ یہ اس نے سلسلہ تناسل کے ذریعے پیدا کیے ہیں۔ تاہم ان کی اور ہر چیز کی پیدائش کا حکم ضرور عالم بالا سے آتا ہے۔ لوہے کا استعمال : لوہے کی دریافت بڑی پرانی ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پوتے حضرت ادریس (علیہ السلام) نے سب سے پہلے لوہے کی سوئی بنا کر اس سے کپڑے سیئے۔ چناچہ لوہے کا استعمال اس وقت سے ہورہا ہے۔ قدیم زمانے سے جنگی ہتھیار تلوار ، نیزہ تیر ، زرہ ، ڈھال وغیرہ لوہے سے ہی تیار کی جارہی ہیں۔ گزشتہ صدی کو لوہے کا زمانہ (IrAn age) کا نام دیا گیا تھا ، چناچہ اس دور سے لے کر لوہے سے بےانتہا کام لیا گیا ہے۔ آج زندگی کے کسی شعبے سے بھی لوہے کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ آلات حرب کے طور پر استعمال ہونے والی اشیاء بندوق ، توپ ، گولہ بارود ، ٹینک ، گاڑیاں ، ہوائی جہاز ، بحری جہاز وغیرہ سب لوہے سے تیار ہوتی ہیں صنعتی میدان میں تمام چھوٹی بڑی مشینری لوہے سے تیار ہوتی ہے ، جن کی وجہ سے دنیا میں صنعتی ترقی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے اب تو زراعت کے لئے بھی روایتی زرعی آلات کی جگہ لوہے سے تیار ہونے والے جدید آلات ، ٹریکٹر ، ٹرالی ، ہل ، بلڈوزر وغیرہ استعمال ہو رہے ہیں جس سے زراعت میں بھی بڑی ترقی ہوئی ہے۔ عام گھریلو استعمال کی اشیاء میں لوہے کو جس حد تک دخل ہے وہ سب کے سامنے ہے حتیٰ کہ اب تو چار پائیاں بھی لوہے کی بن رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا سارا نطام لوہے پر منحصر ہے۔ چھوٹی بڑی گاڑیوں سے لے کر ریل گاڑیوں اور اس کی پٹڑی سب لوہے سے بنتی ہیں۔ غرضیکہ لہا ایک نہایت ہی کار آمد دھات ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے لوہے کو اتا ا جس میں سخت لڑائی ہے یعنی جنگ کے دوران اس کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے اور اس میں لوگوں کے لئے دیگر بھی بہت سے فوائد ہیں۔ بعض تفسیری روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ نے لوہا ، آگ ، پانی اور نمک آسمان سے اتارا۔ جوں جوں آبادی بڑھ رہی ہے ضروریات زندگی بھی بڑھ رہی ہیں۔ زیر زمین لوہا ، کوئلہ ، تانبہ ، پٹرول جیسی چیزویں کا ذخیرہ آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے۔ لہٰذا دنیا اب لوہے کے دور سے نکل کر ایٹمی دور میں داخل ہورہی ہے ایٹمی توانائی سے بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایٹم کا استعمال شعبہ طب میں بھی آگے بڑھ رہا ہے اور مزید تجربات کیے جا رہے ہیں حتیٰ کہ اب جنگیں بھی ایٹمی دور میں داخل ہوچکی ہیں اور بیشمار ایٹمی ہتھیار ایجاد ہو رہے ہیں۔ بہرحال لوہے کی اپنی افادیت ہے اور ایٹمی توانائی کو بھی لوہے کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ احادیث نبوی میں آہنی آلات کا ذکر : مسند احمد اور ابودائود شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا بعثت بالسیف بین یدی الساعۃ ، قیامت سے پہلے اللہ نے مجھے تلوار کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے حتیٰ یعبداللہ وحدہ لاشریک لہ یہاں تک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک لوگ توحید خالص پر ایمان نہیں لے آتے اور صرف اللہ کی عبادت پر کار بند نہیں ہوجاتے ، مجھے ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ آپ (علیہ السلام) کا یہ بھی ارشاد ہے جعل اللہ رزقی تحت ظل رمحی ، اللہ نے میری روزی نیزے کے سایے میں رکھی ہے۔ حضور ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے ایک بڑے کافر کو نیزہ مارا جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ لوگوں نے اسے تسلی دینا چاہی تو وہ شخص کہنے لگا کہ محمد کے ہاتھ نیزے کو تو پورے مشرق کے لوگ برداشت نہیں کرسکتے ، بھلا میں کیسے…زندہ رہ سکتا ہوں ؟ چناچہ وہ آدمی اسی زخم سے ہلاک ہوگیا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے اس امت کے لئے مال غنیمت کو حلال اور طیب قرار دیا ہے ، لہٰذا خمس الگ کرکے مال غنیمت کو صحیح طریقے سے تقسیم کرو ۔ پھر فرمایا جعل الذلۃ والصغار علی من خالف امری یعنی جس نے میرے حکم کی مخالفت کی اللہ نے اس پر ذلت اور حقارت مسلط کردی۔ اسی روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے من تشبہ بقوم فھو منھم جس نے کسی دوسری قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔ امام ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ لوہا وہ حقیقت ہے جس سے پوری نوع انسانی کا نظم ونسق صحیح معنوں میں قائم ہوسکتا ہے۔ وہ نظم ونسق جس سے اصلاح معاش بھی ہوتی ہے اور اصلاح معاد بھی ، کیونکہ اس کی بنیاد علم و حکمت پر ہے ، اور عمل اور استقامت کے لئے جس چیز پر اعتماد کرنا پڑتا ہے وہ عدل ہے ، اور عدل کا نفاذ سیف اور قلم سے ہی ممکن ہے۔ اسی طرح جمہور کی اصلاح کا مدار علم و حکمت اور قلم پر ہے ظاہر ہے کہ اس میں بھی لوہے کا کتنا دخل ہے۔ بظاہر علم اور لوہے کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر غور سے دیکھا جائے تو علم کے لئے نب کی ضرورت ہوتی ہے جو لوہے سے ہی بنتی ہے۔ عوام کی اصلاح کا مدار بھی زیادہ تر لوہے سے بننے والی چیزوں پر ہی ہے۔ تو امام ابن عربی فرماتے ہیں کہ نفوس شریرہ کے قہر اور غلبہ کا مقابلہ آہنی ہتھیاروں سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ اصلاح معاشرہ اور عدل و انصاف کے لئے لوہا ایک ناگزیر چیز ہے۔ مسلمانوں کی پسماندگی : لوہے کی اتنی زبردست افادیت کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے ۔ کہ مسلمانوں کو لوہے کے استعمال کا سلیقہ بھی نہیں آتا۔ پچھلی صدی میں جاپان بھی ایک پس ماندہ قوم تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد اس نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی منازل طے کرنا شروع کیں۔ باوجود اس کے کہ دوسری جنگ عظیم میں یہ ملک بری طرح تباہ ہوگیا تھا۔ مگر آج اس نے لوہے کے استعمال میں ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر اس قدر ترقی کرلی ہے کہ صنعتی میدان میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے مادی ترقی کے لئے وقت ، محنت ، قربانی اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو جاپان نے بالکل صحیح طریقے سے استعمال کیا ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں چند آدمی بھی تیار نہیں ہوسکے جو ملک کو معاشی ترقی میں آگے بڑھا سکیں۔ اس ملک کے کار پردازوں نے قابل لوگوں کی کبھی قدر نہیں کی ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر اچھا آدمی بیرون ملک جانا پسند کرتا ہے تاکہ اسے بہتر معاوضہ حاصل ہوسکے۔ اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ہر میدان میں بیرونی طاقتوں کے مشوروں ، ان کی مشینری اور ان کے تیار کردہ آلات حرب پر انحصار کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔ جونہی کسی ملک سے تعلقات میں خرابی آتی ہے وہ فوراً اپنی مد دروک کر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتا ہے ترقی یافتہ ممالک پس ماندہ ممالک کو کبھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ اس طرح ان کے تیار کردہ اسلحہ ، مشینری اور دیگر ضروریات زندگی کی منڈی ضائع ہوجاتی ہے۔ مغربی ممالک مشرقی ممالک کہ ہمیشہ پس ماندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تو خود غریب ممالک کا فرض ہے کہ وہ مناسب منصوبہ بندی کرکے ترقی یافتہ ممالک کے چنگل سے آزاد ہو نیکی کوشش کریں۔ سعودی عرب میں تیل کی وجہ سے دولت عام ہے جس کی وجہ سے امریکہ اور پورے یورپ کا مال یہاں لائی ہوتا ہے حتیٰ کہ غریب ممالک کے حجاج دنیا بھر کی چیزیں سعودی عرب سے خرید کر لاتے ہیں۔ افسوس کہ عربوں نے کبھی اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے اپنے ملک میں انڈسٹری قائم کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ایسی سکیموں کے لئے انہیں ترقی یافتہ ممالک کے ماہرین کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جو انہیں کبھی قابل عمل سکیم شروع کرنے کا مشورہ نہیں دیتے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک پورے مغرب کی منڈی بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واعدوا……………قوۃ (الانفال 60) دشمنوں کے مقابلے میں جتنی بھی قوت جمع کرسکتے ہو کرو۔ مگر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم پورے عالم اسلام یا کسی ایک اسلامی ملک کے تمام وسائل کو بھی جمع کرنے پر تیار نہیں۔ ہم دفاعی امو ر میں بھی غیروں کے مشیروں سے مشورہ لیتے ہیں ، بھلا وہ ہمیں صحیح مشورہ کیسے دے سکتے ہیں ؟ وہ تو ایسا منصوبہ بنائیں گے جس سے مسلمان کبھی صحیح لائن پر نہ چڑھ سکیں ، بلکہ عیاشی ، فحاشی ، اسراف و تبذیر اور کھیل کود میں مشغول رہ کر مغرب کے دست نگر بنے رہیں۔ ہم نے نہ تو اپنی کتاب سے استفادہ حاصل کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے اور نہ ہی اسلامی نظریات کو اپنایا ہے۔ ہم تو مانگے تانگے کے نظریات پر چل رہے ہیں۔ اپنا کوئی نصب العین نہیں ہے لہٰذا ہم ترقی کی توقع کیسے کرسکتے ہیں ؟ نزول آہن کا مقصد : اللہ نے فرمایا کہ لوہا بڑی اہم چیز ہے جس میں اللہ نے بڑے فوائد رکھے ہیں۔ اور اس سے مقصود یہ ہے ولیعلم اللہ من ینصرو ورسلہ بالغیب ، اور تاکہ اللہ معلوم کرلے یعنی ظاہر کردے کہ کون اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے مدد کرتا ہے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے ، اور دین حق کو دنیا میں غالب کرنا مقصود ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے طاقت کی ضرورت ہے جس میں افرادی قوت اور اسلحہ دونوں چیزیں درکار ہیں۔ اسلحہ سازی میں لوہے کی اہمیت کو واضح کیا جاچکا ہے لہٰذا اللہ نے لوہے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کے دین کی کون مدد کرتا ہے۔ مسلمانوں میں کون سا ملک یا کون سا خطہ ہے جو لوہے کو صحیح طریقے سے استعمال کرکے اس امتحان میں پورا اترے اور اس طرح پوری دنیا میں اسلام کو غالب بنادے۔ فرمایا ان اللہ قوی عزیز ، بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ وہ کمال قدرت کا مالک ہے۔ اس کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ، وہ صرف مخلوق کا امتحان لیتا ہے کہ کون اس کے احکام پر عمل کرتے ہوئے دین کے غلبے کی کوشش کرتا ہے وہ یہ بھی ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کے نام لیوا لوہے کو استعمال کرکے جو آلات حرب بناتے ہیں وہ دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں یا آپس کی خانہ بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
Ayahs 57:26–27

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو (رسول بنا کر) اور ہم نے مقرر کی ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب۔ پھر ان میں بعض ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے نافرمان ہیں

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ہم نے پیچھے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے دوسرے رسول۔ اور پھر ان کے پیچھے بھیجاہم نے عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) کو ، اور دی ہم نے ان کو انجیل۔ اور رکھ دی ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے اتباع کیا ان (عیسیٰ (علیہ السلام) نرمی اور مہربانی۔ اور رہبانیت جس کو انہوں نے خود ہی نکالا تھا ، ہم نے تو ان پر اس کو فرض نہیں کیا تھا ، مگر اللہ کی خوشنودی کو تلاش کرنے کے لئے۔ پس نہ رعایت کی انہوں نے اس (رہبانیت) کی جیسا کہ اس کی رعایت کا حق تھا۔ پس دیا ہم نے ان کو جو ایمان لائے ان میں سے ان کا بدلہ۔ اور بہت سے لوگ ان میں سے نافرمان ہیں

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بینات کے ساتھ انبیاء کی بعثت ، نزول کتاب اور میزان کے قیام کا ذکر کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہ سکیں اور ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کریں۔ پھر اللہ نے لوہے کی تخلیق اور اس کے فوائد کا ذکر کیا ، اور فرمایا کہ اس کا بڑا مقصد اللہ کے دین اور اس کے رسولوں کی مدد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون اس لوہے کا صحیح استعمال کرکے اس سے استفادہ کرتا ہے اور کون اس سے مستفید نہیں ہوتا۔ نیز فرمایا کہ خدا تعالیٰ بڑی قوت کا مالک ہے ، اس کو تو کسی چیز کی ضرورت نہیں مگر اس نے یہ چیزیں لوگوں کی آزمائش کے لئے قائم کی ہیں تاکہ لوگ ان سے ہدایت اور راہنمائی حاصل کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ : اب اسی ہدایت اور راہنمائی ہی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو جلیل القدر انبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا نوحا وابرھیم اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا حضرت نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو رسول بنا کر ۔ نوح (علیہ السلام) کے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے اور ایک مکمل سورة آپ کے نام پر سورة نوح بھی موجود ہے۔ اس سورة میں مکمل طور پر آپ ہی کا ذکر ہے۔ اللہ نے آپ کے طریقہ تبلیغ ، لوگوں کے لئے ناصحانہ کاوش ، قوم کی نافرمانی اور ایذاء رسانی اور آخر میں قوم کے حق میں آپ کی بددعا کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد سب سے پہلے عظیم المرتبت رسول حضرت نوح (علیہ السلام) ہی ہیں جن کو اللہ نے مستقل شریعت اور احکام دیے اور پھر نافرمانی کی وجہ سے آپ ہی کی قوم کو سب سے پہلے ہلاک کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دونوں ابو الانبیاء کہلاتے ہیں کیونکہ آپ کے بعد تمام انبیائے کرام آپ کی ہی نسل سے ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اللہ کے عظیم المرتبت رسول ہیں جن کو شریعت اور احکام عطا ہوئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی اللہ نے بہت سی سورتوں میں کیا ہے ، اور آپ کے نام پر بھی ایک مستقل سورة قرآن میں موجود ہے۔ انہوں نے فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں بڑی تکالیف اٹھائیں حتیٰ کہ آپ کو عراق سے مصر اور پھر فلسطین کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ پھر آپ نے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف کی تجدید فرمائی اور اپنی ایک بیوی ہاجرہ ؓ اور ایک بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو وہاں آباد کیا۔ اس کے علاوہ اللہ نے کئی امور میں آپ کو آزمائش کی اور آپ پر آزمائش میں پورا اترے آپ کے دینی خدمات بہت نمایاں ہیں۔ اولاد نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کی فضیلت : ان دونوں جلیل القدر رسولوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وجعلنا فی ذریتھما البنوۃ والکتب ، اور ہم نے ان دونوں بزرگوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب کر رکھ دیا۔ طوفان نوح کے بعد آپ کے بیٹوں حام ، صام اور یافث کی اولاد ہی مشرق ومغرب میں پھیلی اور سلسلہ نبوت بھی آپ کی اولاد میں ہی رہا۔ پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) کا دور شروع ہوا تو نبوت اور کتاب کی امامت آپ کی اولاد میں منتقل ہوگئی۔ آپ حنیفی دور کے ابوالانبیاء ہیں۔ چناچہ آپ کے بعد جتنے رسول اور نبی آئے سب آپ کی اولاد حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں ہوئے ہیں۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں تو اللہ نے بیشمار انبیاء کو مبعوث فرمایا جنہیں انبیائے بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ، البتہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں اللہ نے سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کی کو مبعوث فرمایا آسمانی کتابوں میں سے زبور ، تورات اور انجیل انبیائے بنی اسرائیل میں نازل ہوئیں جب کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب قرآن حکیم اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد صلی علیہ وسلم پر نازل فرمائی بعض خاندان اور نسلوں کو اللہ نے خصوصیت عطا فرمائی ہے۔ چناچہ حضور ﷺ کا خاندان قریش عرب میں معزز ترین خاندان سمجھا جاتا تھا۔ قریش کو یہ عزت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ اللہ نے جو شرف حضور ﷺ کے خاندان کو بخشا ہے ، وہ کسی سلسلہ نسب میں نہیں پایا جاتا ، مثلاً خود آپ (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ ہمارے سلسلہ خاندان میں جرام کا کوئی دخل نہیں ہے اور یہ ایسی خصوصیت ہے جس کے متعلق کوئی دوسرا خاندان وثوق کے ساتھ دعویٰ نہیں کرسکتا۔ دونوں عظیم الشان رسولوں میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے تو طویل عمر پائی ہے۔ حتیٰ کہ قرآن کے مطابق انہوں نے ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی جس میں انہوں نے بڑی تکالیف برداشت کیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر اگرچہ بہت زیادہ نہیں تاہم انہوں نے بھی 175 برس کی عمر محنت ، کوشش اور آزمائشوں میں ہی گزاری۔ ہدیات یافتہ اور نافرمان لوگ : دونوں انبیاء اور ان کی اولاد کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا فمنھم مھت ان میں سے بعض لوگ ہدایت یافتہ ہیں وکثیر منھم فسقون تاہم ان کی اکثریت نافرمان ہی ہے۔ دونوں انبیاء کی اولاد میں نافرمان لوگ زیادہ ہوئے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے بنی اسرائیل کے تذکرے میں فرمایا وان……………فسقون (المائدہ 59) تمہاری اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے ، شرک ، کفر اور معصیت کو اختیار کرنے والے ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ خصوصاً حضور ﷺ کے زمانہ میں تو ساری دنیا پر تاریکی چھائی ہوئی تھی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والا ہزاروں میں اکادکا ہی ہوگا۔ آج بھی دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سے مسلمانوں کی تعداد ایک ارب کے قریب ہے۔ باقی چار ارب کفر وشرک میں مبتلا ہیں۔ اور جہنم کے کندناتراش بنے ہوئے ہیں۔ خود کلمہ گو مسلمانوں کی حالت بھی بڑی پتلی ہے ان کی اکثریت بھی گمراہی اور بدعقیدگی میں مبتلا ہے اور حق پرست بہت کم ہیں۔ مابعد رسول : اللہ نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکرکے بعد فرمایا ثم قفینا علی اثارھم برسلنا ، پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر دوسرے رسولوں کو بھیجا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) ، حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت شعیب (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے علاوہ بیشمار انبیاء اور رسول ایسے ہیں جن کا تذکرہ آسمانی کتابوں میں نہیں ملتا۔ اللہ نے تمام انبیاء کا اجمالی طور پر اس طرح ذکر کیا ہے ولکل امۃ رسول (یونس 47) اللہ نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے ہیں۔ نیز فرمایا رسلا……………………الرسل (النساء 165) یہ سارے رسول خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے تھے تاکہ لوگوں کو اللہ کے ذمے کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ یہ کہہ سکیں کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا ۔ پھر فرمایا وقفینا بعیسی ابن مریم پھر ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے عیسیٰ بن مریم ؓ کو نبی بنا کر ان کے پیچھے بھیجا۔ آپ اپنی پیدائش اور معجزات کے اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی پیدائش حیرت انگیز طریقے سے باپ کے بغیر ہوئی ، اور اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت کے جلیل القدر منصب پر فائز فرمایا۔ پھر آپ کو واتینہ الانجیل انجیل کتاب بھی دی گئی۔ انجیل کا معنی ہی خوشخبری ہے۔ چناچہ آپ کے فرائض منصبی میں ایک فریضہ اللہ کے آخری نبی کی آمد کی بشارت دینا بھی تھا۔ آپ نے اپنی قوم سے واضح طور پر فرمایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کی تصدیق کرنے والا ہوں ومبشرا……………احمد (الصف 6) اور میں اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہوگا۔ سر یانی زبان میں احمد کا متبادل لفظ فار قلیط ہے جس کا معنی سردار جہاں ہے جب کہ احمد کا معنی تعریفوں والا ہے۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اس فرض کی ہر جگہ تبلیغ کی اور لوگوں سے آخری نبی کا تعارف کرایا اور خوشخبری دی۔ متبعین عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت : آگے اللہ نے مسیح (علیہ السلام) کے صحیح پیروکاروں کی خصوصیت بیان فرمائی ہے۔ وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ ہم نے آپ کے پیروکاروں کے دلوں میں نرمی اور مہربانی رکھ دی۔ وہ اللہ کی مخلوق کے ساتھ نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے ، اور آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کا برتائو کرتے تھے۔ یہ خصلت اللہ نے نبی آخر الزمان کے صحابہ ؓ میں بھی ودیعت کردی تھی جن کے متعلق سورة الفتح میں فرمایا رحمآء بینھم (آیت 29) کہ وہ آپس میں بڑے رحمدل مگر کفار کے مقابلے میں بڑے سخت تھے۔ رہبانیت کی مذمت : اللہ نے فرمایا کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں میں نرمی اور مہربانی مقرر فرمائی تھی۔ مگر ورھبانیۃ ا ابتد عوھا مگر رہبانیت یعنی ترک دنیا انہوں نے خود نکالی ما کتبنھا علیھم جو ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی۔ تاہم رہبانیت سے ان کا مقصد الا ابتغاء رضوان اللہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تلا ش کرنا تھا۔ مگر فما رعوھا حق رعایتھا وہ لوگ اپنے اس مقصد کی وہ رعایت نہ کرسکے جیسا کہ اس کی رعایت کا حق تھا وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نرمی اور مہربانی کو نباہ نہ سکے۔ رہبانیت رہب کے مادہ سے ہے جس کا معنی ترک دینا ، ترک لذات اور ترک نکاح ہے۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض پیروکاروں نے دنیا کا کاروبار چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں میں جاکر عزلت کی زندگی اختیار کرلی۔ اور وہیں کٹیا بنا کر عبادت و ریاضت میں مصروف ہوگئے۔ اگرچہ راہب کا معنی خدا تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے ، مگر وہ لوگ خوف خدا کی بجائے طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہوگئے جو ان کی گمراہی کا ذریعہ بن گئیں۔ اسی لئے حضور ﷺ نے اپنی امت کے لوگوں کو رہبانیت سے منع فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد مبارک ہے رھبانیۃ فی الاسلام ولا صیرودۃ فی الاسلام اسلم میں ن ترک دنیا کی گنجائش ہے اور نہ ہی قطع تعلقی کی۔ اسلام تو دنیا میں رہ کر صلہ رحمی کی تلقین کرتا ہے۔ رہبانیت اور جہاد : حضور ﷺ کا ارشاد بھی ہے لکل نبی رھبانیۃ و رھبانیۃ ھذہ الامۃ الجھاد فی سبیل اللہ ہر نبی اس کی امت کے لئے رہبانیت ہوتی ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد ہے۔ مسند احمد کی اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گھر بار ، بیوی بچوں کو چھوڑ کر جنگل میں علیحدگی کی زندگی گزارنا رہبانیت نہیں بلکہ ہماری اس امت کی اصل رہبانیت یہ ہے کہ گھر بار اور دیگر لوازمات کاروبار وغیرہ کو چھوڑ کر جہاد میں شامل ہوجائیں جس کا مقصد اقامت دین ہو۔ یعنی دنیا سے کفر ، شرک اور شروفساد کو ختم کیا جائے اور اللہ کا کلمہ بلند کیا جائے غرضیکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کی رہبانیت جہاد ہے۔ مسنداحمد ہی کی روایت کے مطابق حضرت ابو سعید خدری ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ مجھے کچھ وصیت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی ہے جو میں نے اس سے پہلے حضور ﷺ سے دریافت کی تھی۔ اور آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا اوصیک بتقوی اللہ وعلیک بالجھاد فانہ رھبانیۃ الاسلام میں تجھے اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ ہر شے کی بنیاد ہے۔ نیز جہاد کو لازم پکڑو کیونکہ اسلام کی رہبانیت یہی ہے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ کے ذکر کو لازم پکڑو ، اور اللہ کی کتاب کی تلاوت پر مداومت اختیار کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے آسمانوں سے پاکیزہ رزق اور بلند روحانیت کا ذریعہ ہے۔ جب تم یہ دو کام کرو گے تو زمین میں تمہارا تذکرہ ہوگا۔ بہرحال اس حدیث مبارکہ میں بھی رہبانیت جہاد کو قرار دیا گیا ہے۔ رہبانیت کی تین قسمیں : مفسرین اور محدثین کرام فرماتے ہیں کہ رہبانیت کی تین صورتیں ہیں۔ پہلی صورت رہبانیت کی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی حلال یا مباح چیز کو حرام سمجھتا ہے یا اس کو عملاً چھوڑ دیتا ہے تو یہ دین میں تحریف شمار ہوگی۔ جو قطعاً حرام ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے لا تحرموا……………لکم (المائدہ 87) جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہیں ان کو حرام نہ ٹھہرائو۔ رہبانیت کی دوسری قسم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی حلال یا مباح چیز کو اعتقاداً یا عملاً حرام تو نہیں سمجھتا۔ مگر کسی دینی یا دنیوی مصلحت کی بناء پر اس کو ترک کردیتا ہے مثلاً گائے کا گوشت حلال ہے مگر سوداوی مرض کے مریض کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اسے استعمال نہ کرے بعض لوگوں کو طبی لحاظ سے دودھ موافق نہیں آتا اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اسے استعمال نہ کریں یہ تو دنیوی یا طبی مصلحت سمجھ لیں اور دینی مصلحت یہ ہے کہ کوئی شخص غیبت ، جھوٹ ، فریب وغیرہ سے بچنے کے لئے بعض لوگوں سے میل جول چھوڑ دیتا ہے۔ ان دونوں مصلحتوں کی وجہ سے کسی جائز چیز کو ترک کرنا رہبانیت شمار نہیں ہوگی بلکہ یہ تقویٰ ہے جو شریعت میں مطلوب ہے۔ فرماتے ہیں کہ رہبانیت کی تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی جائز اور مباح چیز کو حرام تو نہیں سمجھتا لیکن اس کے ترک کو ثواب سمجھتا ہے ، اس کو بدعت کہا جاتا ہے جس کی شریعت مطہرہ نے مذمت کی ہے اور جس سے منع کیا گیا ہے یہ صورت خالص رہبانیت ہے اور مذموم ہے۔ بدعت کی تعریف : بدعت ایک بڑی مذموم چیز ہے جس کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد جس شخص نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے تو وہ مردود ہے تمام بدعات کو لوگ ثواب سمجھ کر ہی انجام دیتے ہیں لہٰذا یہ بڑی خطرناک چیز ہے مجدد صاحب (رح) اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں ” تضرر مبتدع زیادہ است از تضرر کافر “ یعنی بدعتی کا نقصان دین کے معاملے میں کافر سے زیادہ ہوتا ہے۔ کافر کو تو ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ کافر ہے لہٰذا اس سے بچنے کی تدبیر کرتا ہے مگر بدعتی آدمی ہر بدعت کو نیکی اور افضل کام سمجھ کر کرتا ہے لہٰذا اس کی بدعت سے بچ نکلنا بڑا ہی مشکل ہے۔ اس زمانے میں عبادات میں بھی چیزوں کا اضافہ کرلیا گیا ہے اور اس کو برا سمجھنے کی بجائے اعلیٰ درجے کی نیکی تصور کیا جاتا ہے۔ مثلاً اذان سے پہلے صلوٰۃ وسلام کو بڑی اعلیٰ عبادت سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس موقع پر درود شریف پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے بعض لوگ اقامت کے آخر میں لا الہ الا اللہ سن کر محمد رسول اللہ کہہ دیتے ہیں۔ یہ کلمات اگرچہ بابرکت ہیں مگر ان کی ادائیگی کا یہ موقع اور محل نہیں ہے لہٰذا ایسا کرنا بدعت میں شمار ہوگا۔ ایک موقع پر ایک شخص نے حضور ﷺ کے سامنے چھینک ماری اور کہا السلام علیکم۔ حضور ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا وعلیک وعلی امک یعنی تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو۔ اس شخص نے ناراضگی کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ سلام تو ہم بھی کہتے ہیں مگر چھینک مارنے کے وقت نہیں ایسے موقع پر الحمد للہ کہنا۔ صحیح اور سلام کہنا بدعت ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اذان ختم کرنے کے بعد مجھ پر درود پڑھو اور مسنون دعا مانگو۔ یہاں بالجہر دعا یا دورود کا کوئی ثبوت نہیں۔ مگر آج لوگ اذان سے قبل سپیکر پر زور زور سے صلوٰۃ وسلام پڑھنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ حضور ﷺ ، صحابہ کرام ؓ ، تابعین ، با تبع تابعین (رح) یا بعد کے ادوار میں اس چیز کا کہیں ثبوت نہیں ملتا بلکہ یہ تو بالکل ماضی قریب میں ایجاد ہوا ہے۔ غرضیکہ صلوٰۃ وسلام کا محل اذان سے پہلے ہرگز نہیں ہے اور اگر اذان کے بعد درود کا حکم ہے تو آیت آہستہ آواز سے۔ ہر شئے کا موقع اور محل ہوتا ہے ، اب اگر کوئی شخص غسل خانے میں کپڑے اتار کر درود شریف پڑھنے لگے تو گنہگار ہوگا۔ کہ یہ درود شریف کا محل نہیں ہے۔ بعض لوگ دھوکہ دیتے ہیں کہ ہر نبی چیز کی بدعت نہیں کہا جاسکتا۔ اگر ایسا کرو گے تو موجودہ زمانے کی تمام ایجادات بدعات میں شمار ہوں گے جیسے لائوڈ سپیکر ، موٹریں ، ریل گاڑیاں ، ہوائی جہاز اور دیگر ضروریات زندگی جو اسلام کے ابتدائی دور میں نہیں تھیں۔ حقیقت میں بدعت وہ کام ہے جس کا ثبوت کتاب وسنت ، عمل صحابہ ؓ اور ائمہ مجتہدین کے اقوال میں موجود نہ ہو اور لوگ اس کو نیک کام اور باعث ثواب سمجھ کر انجام دیں۔ یہ ایجادات تو ضروریات زندگی ہیں جن کا کارثواب کے طور پر نہیں کیا جاتا بلکہ یہ زندگی کی آسائش کا ذریعہ ہیں۔ پہلے بیلوں کے ذریعے کھیتی باڑی ہوتی تھی ، اب لوگ ٹریکٹر استعمال کر رہے ہیں۔ پہلے اونٹ اور گھوڑے پر سواری ہوتی تھی اب موٹریں ، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز ہیں۔ پہلے تلوار اور تیر کے ساتھ جنگ ہوتی تھی اب بندوق ، توپ ، گولہ بارود اور ٹینک ایجاد ہوچکے ہیں۔ یہ چیزیں بدعت کی تعریف میں نہیں آتیں۔ بدعت وہ ہے جو نیکی کا کام کار ثواب کے طور پر کیا جائے مگر قرون اولیٰ میں وہ پایہ ثبوت کو نہ پہنچتا ہو۔ بزرگوں کی قبور کے ساتھ سلوک : قبروں کی حفاظت ضروری ہے ۔ قبرستان میں بول وبراز نہیں ہونا چاہیے۔ قبروں پر بیٹھنے کی ممانعت ہے۔ قبروں کو پختہ بنانے کے لئے اینٹ اور سیمنٹ وغیرہ استعمال کرنا اور ان پر عمارت بنانا جائز نہیں ہے۔ لوگ اس کو اہل قبور کی تعظیم سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ اسراف اور ناجائز ہے۔ بزرگوں کی تعظیم کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کی اشاعت کی جائے اور ان پر عمل کیا جائے نہ کہ پختہ قبریں بنا کر ان کو چوما چاٹا جائے یا ان پر سجدے کیے جائیں۔ حضرت میاں میر (رح) زندگی بھر توحید کا درس دیتے رہے ، ان کی تعلیمات کو یکسر بھول کر محض قبر پر گنبد بنا دینا کون سی نیکی کا کام ہے۔ سید علی ہجویری (رح) نے آج سے ایک ہزار سال قبل یہاں آکر لوگوں کو ایمان سے روشناس کرایا ، ان کی کتاب کشف المجوب موجود ہے جس سے تصوف ، سلوک اور خدا پرستی کا بہترین سبق ملتا ہے اس کو نصب العین بنایا جائے۔ اس کی بجائے شرک ، بدعت اور قوالی ہی ان کی تعظیم کا ذریعہ رہ گیا ہے یا قبر کو چومنے چاٹنے ، غسل دینے اور غلاف چڑھانے اور سجدہ کرنے سے بزرگوں کی تعظیم ہوتی ہے۔ یہودیوں نے بھی حرام چیزوں کو نبیوں کی طرف منسوب کرکے ان پر عمل شروع کردیا تھا اور مسلمان بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ان بزرگوں نے قبر پر گنبد بنانے کا حکم دیا تھا یا عرس منانے کی تلقین کی تھی یہ سب چیزیں بدعات میں داخل ہیں۔ کوئی نیک آدمی فوت ہوجائے تو سنت کے مطابق غسل دو ، کفن پہنائو ، جنازہ پڑھو ، سنت کے مطابق قبر بنائو اور اس کے لئے دعا کرو ، ایصال ثواب کرو ، کون روکتا ہے۔ مگر قل ، تیسرا ، ساتواں اور چالیسواں کرنا کس حدیث میں لکھا ہے۔ یا کس صحابی ؓ کے عمل سے ثابت ہے ؟ یہ تو برصغیر کی ایجاد بندہ چیزیں ہیں جنہیں کار ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے اور یہی بدعت ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) کا نظریہ : شاہ عبدالقادر (رح) نے ترجمہ قرآن کے حاشیہ پر رہبانیت کے بارے میں نوٹ لکھا ہے جس میں لکھتے ہیں کہ فقیر اور ترک دنیا کی رسم نصاریٰ نے نکالی جو نہ جورو رکھتے تھے نہ بیٹا ، نہ کماتے نہ جوڑتے بلکہ جنگل میں تکیہ بنا کر بیٹھ جاتے ، عبادت میں لگے رہتے اور خلق سے نہ ملتے۔ یہ حکم اللہ نے اپنے بندوں کو ہرگز نہیں دیا ، مگر جب اپنے اوپر ترک دنیا کا نام ، رکھ لیا تو اس پردے میں میں دینا چاہنا بڑا ویالی ہے۔ اسی لئے شریعت نے فطری اعتدال سے متجاوز رہبانیت کی اجازت نہیں دی۔ اس امت کی رہبانیت جہاد میں ہے۔ اپنے نفس کی لذات سے الگ ہو کر اللہ کے راستے میں نکلنا مجاہدہ ہے۔ فاتینا الذین امنوا منھم اجرھم وکثیر منھم فسقون ، پس دیا ہم نے ان کو جو ایمان لائے ان میں سے ان کا بدلہ اور بہت سے لوگ ان سے نافرمان ہیں۔
Ayahs 57:28–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو اور ایمان لائو اس کے رسول پر۔ دے گا وہ تم کو دو حصے اپنی رحمت سے اور بنائے گا تمہارے لئے روشنی چلو گے تم اس کے ساتھ اور معاف کرے گا تم کو ۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تاکہ جان لیں اہل کتاب کہ وہ نہیں قدرت رکھتے کسی چیز پر اللہ کے فضل سے ، اور بیشک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے ، دیتا ہے وہ جس کو چاہے ، اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں دین کے تمام بنیادی مسائل کا ذکر ہوا ہے خصوصاً انفاق فی سبیل اللہ پر زیادہ توجہ دی گئی ہے مسئلہ توحید ، اللہ کی صفات ، ایمان تخلیق کائنات اس کی حکمت ، نزول کتاب رسالت کا ذکر اور پھر آگے دوسرے جہاں میں نکلنے والے نتائج کا تذکرہ ہے۔ پھر منافقوں کی مذمت اور ایمان والوں کو تنبیہ کی گئی ہے خدا کے راستے میں مال صرف کرنے والوں کے اجروثواب کی بات کی گئی ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی زندگی کی طلب کا ذکر ہے۔ بخل کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ پھر رسولوں کی بعثت کی حکمت ، نزول کتاب ، قیام میزان عدل کا ذکر ہے۔ لوہے کی تخلیق کی حکمت اور فلسفہ بیان کیا گیا ہے اور دین حق کے قیام کے لئے اس کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے انبیاء (علیہم السلام) میں سے حضرت نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کا ذکر ہے اور ان کی اولاد میں نبوت کو ہمیشہ کے لئے قائم رکھنے کا بیان ہے۔ آخر میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے پیروکاروں کے دلوں میں نرمی اور شفقت کا ذکر ہے اور رہبانیت کی تردید کی گئی ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے متبعین عیسیٰ پر رہبانیت مقرر نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ چیز از خود رضائے الٰہی کی تلاش کے لئے نکالی مگر اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں ایماندار تھوڑے ہی رہے اور ان کی اکثریت نافرمانی میں مبتلا رہی۔ دوہرا ایمان دگنا حصہ : سورۃ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نہ لانے والوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ، اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو وامنوا برسولہ اور ایمان لائو اس کے رسول پر۔ ان ایمان والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے اپنے دور میں سابقہ انبیاء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور انہوں نے حضور ﷺ کا زمانہ بھی پایا۔ اور رسول سے مراد حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ چناچہ سابقہ ادوار کے یہودیوں اور عیسائیوں سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنے سابقہ انبیاء پر تو ایمان لاچکے ہو ، اب اللہ کے اس آخری نبی پر بھی ایمان لائو ، کیونکہ اللہ کے تمام نبیوں پر ایمان ضروری ہے ، اور کسی ایک نبی کا انکار سارے انبیاء کے انکار کے مترادف ہے فرمایا اگر تم اس آخری نبی پر ایمان لے آئو گے یوتکم کفلین من رحمنہ تو اللہ تمہیں اپنی رحمت سے دو حصے عطا کرے گا۔ ایک حصہ پہلے نبی کی نبوت پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ حضور ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرنے کے عوض میں ہوگا۔ بنی اسرائیل یا دیگر سابقہ امتوں کے لوگ اسی نقطہ پر آکر گمراہ ہوئے۔ یہود اور نصاریٰ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے مانتے تھے کہ اللہ کا آخری نبی آنے والا ہے اور اقرار کرتے تھے کہ جب وہ آئے گا تو ہم اس پر ایمان لائیں گے ، اور اس کے ساتھ دیں گے جس کی وجہ سے میں نافرمانوں پر غلبہ حاصل ہوگا ، بلکہ جب ان کی کافروں سے جنگ ہوتی تو یستفتحون…………کفروا (البقرہ 89) تو وہ آخری نبی کی برکت سے کافروں پر فتح حاصل ہونے کی دعائیں کرتے۔ وہ خود مشرکوں سے کہتے تھے کہ جب اللہ کے آخری نبی تشریف لائیں گے تو ہم ان کا ساتھ دیں گے اور تم مغلوب ہوجائو گے۔ مگر ہوا یہ کہ فلما……………………الکفرین (البقرہ 89) جب اللہ کا وہ نبی آگیا اور انہوں نے آپ کو پہچان بھی لیا تو پھر انکار کردیا جس کی وجہ سے یہودونصاریٰ دونوں گروہوں پر خدا کی لعنت ہے۔ البتہ جو قلیل لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان لے آئے وہ اس لعنت سے بچ کر ایمانداروں میں شامل ہوگئے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اے سابقہ امتوں کے لوگو ! اللہ کے اس آخری نبی پر بھی ایمان لے آئو کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا ، اور اگر ایسا کرلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دگنا حصہ عطا فرمائے گا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص سابقہ امتوں میں سے اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا ، اور پھر اس نے میرا زمانہ پایا اور مجھ پر ایمان لایا تو اس کو دہرا اجر ملے گا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملے گا۔ پہلا شخص وہی رجل من امن اھل الکتب بنبیہ و بمحمد ﷺ جو اہل کتاب میں سے اپنے نبی پر ایمان لایا اور حضور ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ دوسرا شخص وہ ایماندار غلام ہے جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اور اپنے مجازی آقا کا حق بھی ، یعنی اس کی پوری ڈیوٹی ادا کرتا ہے…… تیسرا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاس زر خرید لونڈی ہے یا اسے مال غنیمت کے طور پر یا کسی اور جائز ذریعہ سے حاصل ہوئی ہے اس کو اس لونڈی سے بغیر نکاح استفادہ کا حق حاصل ہے۔ اس شخص نے اس لونڈی کو اچھی تعلیم دی ، ادب سکھایا ، پھر اس کو آزاد کردیا اور اس سے نکاح کرلیا ان تین شخصوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو اللہ کے ہاں دوہرا اجر ملے گا۔ بعض لوگ قربانی کے جانور پر سواری کرنے کو معیوب خیال کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسا کرنا معیوب نہیں۔ بلکہ ضرورت کے وقت اس پر سواری جائز ہے۔ روشنی کی فراہمی : فرمایا کسی پہلے نبی پر ایمان لانے والے اور پھر آخری رسول پر ایمان لانے والا شخص ایک تو دوہرے اجر کا مستحق ہوگا ، اور دوسری بات یہ ہے کہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے روشنی فراہم کرے گا جس کو لے کر تم چلو گے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص کفر اور شرک کے اندھیروں سے نکل کر ایمان لاتا ہے وہ گویا ایسی روشنی میں آتا ہے جس کو لے کر وہ انسان سوسائٹی میں چلتا پھرتا ہے اور اس کو کہیں تاریکی نظر نہیں آتی۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ ایسی روشنی ہوگی کہ جس کے ذریعے تم خدا تعالیٰ کی ذات کو پہچاننے لگو گے یعنی خدا تم کو اپنی ذات وصفات کا علم عطا کرے گا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ایمان کی بدولت تمہارے دل میں کشف جیسی کوئی چیز روشن کردے۔ جس کے ذریعے مشکل اوقات میں تمہاری پریشانی دور ہوجائے ، تاہم عام تفسیر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایسا علم مقرر کردے گا کہ تم تاریکی سے نکل آئو گے اور ہر طرف تمہیں علم کی روشنی نظر آنے لگے گی۔ اس علم کی روشنی کو لے کر تم عام انسانوں میں چلو پھرو گے اور تمہیں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ اور تمہاری تمام مشکلات حل ہوتی چلی جائیں گی۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے من عمل بما علم علمہ اللہ علم ما لم یعلم ، جو شخص اس چیز پر عمل کرتا ہے جس کو جانتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی چیزوں کا علم بھی عطا کردے گا جن کو وہ نہیں جانتا۔ اس کے لئے تمام نادیدہ اور نادانستہ چیزیں آسان ہوجائیں گی۔ غرضیکہ یہ وہ نور ہے جو آخری نبی پر ایمان لانے کی بدولت حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ ویغفرلکم اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ ایمان لانے پر سابقہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ فرمایا واللہ غفور رحیم ، اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور ازحد مہربان ہے۔ انعامات الٰہیہ کی توجیہہ : اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے لئے دوہرے اجر ، نور اور مغفرت کا ذکر کرنے کے بعد اس کی توجیہہ یہ بیان فرمائی ہے لئلا یعلم اھل الکتب الا یقدرون علی شیء من فضل اللہ ، تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے۔ مفسرین کرام اس حصہ آیت کی تفسیر دو طریقے سے کرتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں لئلا میں لا نفیہ ہے اور مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یہ خیال نہ کریں کہ اللہ کے فضل میں سے ان کے لئے کوئی موقع نہیں ہے اور یہ صرف دوسروں کے لئے ہے۔ نہیں بلکہ اللہ نے ان کے لئے مکمل گنجائش رکھی ہے۔ اگر وہ پہلے نبی کے بعد نبی آخرالزمان پر بھی ایمان لے آئیں گے تو وہ نہ صرف اللہ کے فضل کے مستحق ہوں گے ، بلکہ ان کو دوہرا اجر ملے گا۔ مگر اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ لئلا کا لام زائد ہے اور صرف تاکید کے لئے آیا ہے۔ اس کی مثالیں قرآن میں مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔ مثلاً سورة المعارج میں ہے فلا اقسم…………والمغرب (آیت 40) پختہ قسم ہے مشرقوں اور مغربوں کے رب کی۔ یہ لام نافیہ نہیں بلکہ تاکید کے لئے آیا ہے۔ اسی طرح لا اقسم……القیمۃ (القیمۃ 1) قسم ہے قیامت کے دن کی یہ لا بھی زائد ہے فلاو………یومنون (النساء 65) میں بھی یہی صورت ہے اور لا نفی کا معنی نہیں دیتا۔ اور اس طرح آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے تاکہ اہل کتاب ضرور جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ قدرت نہیں رکھتے۔ اور پھر فرمایا وان الفضل بید اللہ اور بیشک فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یوتیہ من یشآء ، وہ جس کو چاہے عطا کردیتا ہے۔ اہل کتاب اگر فضل خداوندی کو محض اپنے لئے مخصوص کرتے ہیں تو انہیں جان لینا چاہیے کہ فضل تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، وہ جس کو چاہے عطا کردے ، اس میں اللہ کو کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل اہل کتاب ضد اور عناد کی وجہ سے اپنے آپ کو اقوام عالم پر برتر سمجھتے تھے۔ ان میں پے درپے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کی وجہ سے وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہوچکے تھے کہ اللہ کا آخری نبی بنی اسحاق میں سے ہوگا۔ مگر جب آخری نبی بنی اسماعیل میں سے آگیا تو وہ حسد کی آگ میں جل گئے اور اللہ کے آخری نبی اور رسول کی رسالت کا ہی انکار کردیا۔ اسی بنا پر سورة المائدہ میں ہے لتجدن …………………………اشرکوا (آیت 82) اہل کتاب میں یہودیوں کو مسلمانوں کے ساتھ بدترین عداوت ہے اور مشرکوں کو بھی حالانکہ مشرک تو جاہل ہوتے ہیں اور اہل کتاب اہل علم ہونے کے باوجود سخت ترین عداوت رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ کا آخری نبی ان کی قوم سے آتا ، مگر اللہ نے فرمایا اھم…………ربک (الزخرف 32) کیا تیرے پروردگار کی رحمت کے تقسیم کنندگان یہ ہیں کہ جس کو چاہا اس پر مہربانی کردیں ۔ نہیں بلکہ اللہ کا فضل تو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ نے نبی اسرائیل میں ہزاروں نبی مبعوث فرمائے ، یہ اس کی مشیت تھی اور اب آخر میں اس نے اپنے فضل میں سے بنی اسماعیل کو حصہ دے دیا ہے تو اہل کتاب کو اعتراض نہیں ہنا چاہیے ، کیونکہ یہ چیز ان کے ہاتھ تو نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے تقسیم کرتے پھریں۔ نبوت کا انتخاب اللہ تعالیٰ اپنی منشاء کے مطابق کرتا ہے۔ یہودونصاریٰ کی مثال : حدیث میں یہودونصاریٰ کی مثال اس طرح بیان کی گئی ہے کہ کوئی شخص کسی مزدور کو صبح سے لے کر دوپہر تک کسی کام پر لگاتا ہے اور اس کے لئے وہ مزدوری کی رقم کا تعین بھی کردیتا ہے۔ کام کا اختتام پر وہ اجرت ادا کردیتا ہے۔ یہ یہودیوں کا مثال ہے کہ انہوں نے دوپہر تک کام کیا تو ان کو اس کی اجرت مل گئی۔ پھر اللہ نے دوپہر سے عصر تک کے لیے نصاریٰ کو کام پر لگایا اور اتنے عرصہ کے لئے ان سے بھی مزدور طے کرلی۔ انہوں نے بھی مقررہ وقت میں کام کیا اجرت پائی۔ پھر اللہ نے عصر سے مغرب تک کے لئے لیے مزدور مقرر کیا جس کو ڈبل مزدوردینے کا وعدہ کیا۔ یہ مسلمانوں کا دور ہے جن کو مقررہ عرصہ کے لئے کام کرنے کی ڈبل مزدوری مل گئی۔ اب یہود ونصاریٰ دونوں گروہ اس بات پر حسد کررہے ہیں کہ مسلمانوں کو ٹھوڑے وقت میں کام کرنے کی دگنی مزدوری کیوں مل گئی۔ تو اللہ نے اس سلسلہ میں اہل کتاب کا باور کرایا ہے کہ جتنے عرصہ کے لئے تم سے جو مزوری مقرر کی گئی وہ تم کو ادا کردی گئی یعنی جو کچھ تمہارے ساتھ ٹھہرایا تھا وہ پورا کردیا اور تمہارے حق میں کسی قسم کی کمی ہیں کی گئی ، اور نہ ہی تم پر کوئی زیادتی کی گئی ہے۔ باقی رہ گیا آخری وقت کی مزدوری کا معاملہ تو یہ میرا فضل ہے ، میں جس کو چاہوں دے دوں ، اس میں تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ جب تمہاری مزدوری میں کوئی کمی نہیں کی گئی تو پھر تم دوسرے کی ڈبل اجرت پر کیوں حسد کرتے ہو ؟ مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اپنا آخری نبی اور رسول بنی اسماعیل میں بھیج کر ان کو زیادہ فضیلت بخش دی ہے جس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، یہ اللہ کا فضل ہے ، وہ جس کو چاہے عطا کردے واللہ ذوالفضل العظیم اور اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے، اس کی مہربانی اور عنایت کا حد شمار نہیں ، وہ جس کو جتناچا ہے عطا کردے ، وہ قادر مطلق ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔