57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 57:16–19

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا نہیں آیا وقت ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں کہ عاجزی کریں ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے اور اس چیز کے لئے جو اتری ہے حق سے۔ اور نہ ہوں ان لوگوں کی طرح جن کو دی گئی کتاب اس سے پہلے ، پس دراز ہوگئی ان پر مدت ، پھر سخت ہوگئے ان کے دل ، اور بہت سے ان میں سے نافرمان ہیں

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد ، تحقیق بیان کردی ہیں ہم نے تمہارے لئے آیتیں تاکہ تم سمجھ لو

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں ، اور جنہوں نے قرض دیا اللہ کو اچھا قرض ، دگنا ہوگا ان کے لئے ثواب ، اور ان کے لئے عزت والا اجر ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر یہی لوگ سچے ہیں۔ اور یہ شہداء ہیں اپنے پروردگار کے پاس۔ ان کے لئے ان کا اجر ہے اور ان کی روشنی۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں دوزخ والے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کی ضرورت اور اہمیت کا ذکر کیا اور اس کو قرض حسن کے ساتھ تعبیر کیا ، اور پھر ان نتائج کا بھی بیان ہوا جو ایمانداروں کو حاصل ہوں گے ، اللہ نے نور اور روشنی کا تذکرہ فرمایا جو آخرت کے اندھیروں میں پل صراط پر سے گزرتے وقت کام آئے گی۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ روشنی کن ذرائع سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف کافروں کو مایوسی اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ اب آج کے درس میں پہلے اللہ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی کے لئے عاجزی کرنے لگیں۔ اس ضمن میں اللہ نے اہل کتاب کی مثال بھی بیان فرمائی ہے کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے غافل ہوگئے۔ اس کے بعد پھر انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کیا ہے۔ اور ایمان کی فضیلت اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے انعام کا ذکر فرمایا ہے۔ ذکر الٰہی سے غفلت : ارشاد ہوتا ہے الم یان للذین امنوا ، کیا اہل ایمان کے لئے وہ وقت نہیں ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ کہ ان کے دل عاجزی کریں اور گڑگڑائیں اللہ کے ذکر کے لئے وما نزل من الحق ، اور اس چیز کے لئے جو حق سے اتری ہے یعنی کلام الٰہی قرآن حکیم۔ اللہ نے تنبیہ کے طور پر فرمایا ہے کہ ایمان والے آخر کب اللہ کے ذکر اور قرآن کریم کی طرف سے غفلت کا جو اتار کر ان کی طرف متوجہ ہوں گے ؟ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے دل ہر وقت اللہ کی یاد اور قرآن کے احکام و فرامین کے لئے نرم ہونے چاہئیں ، اور ان میں اطاعت و خشوع کا جذبہ پایا جانا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ہم لوگوں کے ایمان لانے اور اس آیت کے نزول کے درمیان چار سال کا وقفہ حائل ہے۔ اس دوران میں لوگوں کو یاد الٰہی اور قرآن سے غفلت کی وجہ سے اللہ نے سخت تنبیہ فرمائی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ غفلت سب لوگوں میں پیدا ہوگئی تھی ، بلکہ بعض لوگ تو ابتداء سے انتہا تک ذکر الٰہی ، خشوع و خضوع اور اطاعت الٰہی میں مصروف رہے ۔ البتہ بعض کمزور ایمان والوں میں غفلت بھی پیدا ہوگئی تھی۔ یہ غفلت بہت بری چیز ہے۔ اللہ کی یاد سے بعد قساوت قلبی کا باعث بنتی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس امت سے جو چیز سب سے پہلے رخصت ہوگی وہ خشوع و خضوع ہے جو کہ بہت بڑ صفت ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) اس کو اخبات سے تعمبیر کرتے ہیں۔ جیسا کہ سورة ہود میں موجود ہے ان الذین امنوا وعملوا الصلحت واخبتوا الی ربھم بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی ، وہ جنتی ہیں لہٰذا اے اہل ایمان ! اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی کا اظہار کرو۔ اور عاجزی کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے خدا کی ذات کے سامنے خشوع و خضوع کیا جائے۔ اسی لئے اس آیت میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ کیا اہل ایمان کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر اور قرآن کریم کے لئے عاجزی یعنی خشوع و خضوع کا اظہار کریں ؟ اب خشوع یا عاجزی کرنے کا حکم مردوں اور عورتوں کے لئے یکساں ہے کیونکہ دونوں اصناف مکلف اور اللہ کے ہاں جوابدہ ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورة الا احزاب میں جہاں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے وہاں والخشعین والخشعت (آیت 35) عاجزی کرنے والے مردوں اور عاجزی کرنے والی عورتوں کا اکٹھا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة المومنون میں ایمانداروں کی کامیابی کا ذکر فرمایا ہے۔ وہاں فرمایا ہے کہ وہ مومن آدمی فلاح پاگئے الذین ھم فی …………خشعون (آیت 2) جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع یعنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ خشوع و خضوع بنیادی اخلاقیات میں سے ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار کرنے کے بعد عام انسانوں کے ساتھ بھی تواضع سے پیش آنے کا حکم ہے ۔ اللہ نے اپنے پیغمبر پر وحی نازل فرما کر حکم دیا ہے ان تواضعوا ولا یفخر بعضکم علی بعض ، یعنی ایک دوسرے کے ساتھ تواضح سے پیش آئو اور ایک دوسرے پر فخر نہ کرو۔ اہل کتاب کی سنگدلی : آگے اللہ نے اہل کتاب کی سنگدلی کا ذکر کرکے اہل ایمان کو خبردار کیا ہے ولا یکونوا کالذین اوتوالکتب من قبل اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی۔ فطال علیھم الامد پھر ان پر ایک مدت دراز گزر گئی فقست قلوبھم پس ان کے دل سخت ہوگئے ، جس کی وجہ سے یاد خدا اور کتاب الٰہی سے غفلت برتنے لگے۔ امام ابوبکر حبصاص فرمایے ہیں کہ یاد رکھو اکثرۃ المعاصی ومساکن تھا والفھا تقسی القلب وت بعد من التوبۃ ، یعنی گناہوں کی کثرت اور ان کے ساتھ اجتماع اور ان کیس اتھ الفت دل کو سخت بنادیتے ہیں ، اور انسان کو توبہ سے دور کردیتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں یہ بھی فرمایا ہے کلا بل……………………یکسبون (المطففین 14) خبردار ! لوگوں کے دلوں پر ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے زنگ چڑھ جاتا ہے جس کیوجہ سے دلوں میں سختی پیدا ہوجاتی ہے۔ سگندلی کا علاج : اس سنگ دلی کو دور کرنے کے لئے اللہ نے دو علاج تجویز کیے ہیں۔ پہلا علاج ذکر الٰہی ہے جس کے متعلق سورة الجمعہ میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واذکرو اللہ ……………تفلحون (آیت 10) اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تمہیں فلاں نصیب ہو۔ اور دوسرا علاج اللہ کے نازل کردہ کتاب کی طرف رجوع ہے۔ چناچہ قرآن کریم کی تلاوت ، اس میں دلچسپی ، اس کی نشرواشاعت اور اس کے احکام پر عمل وغیرہ ساری باتیں اس ضمن میں آجاتی ہیں۔ شریعت کی بنیاد قرآن ہے اور حضور ﷺ کے فرمودات قرآن کی شرح اور تفسیر ہے۔ گویا قرآن وحی جلی ہے اور فرمان نبوی وحی خقی ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) ، امام شافعی (رح) اور بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ تمام صحیح احادیث جو صحیح سند کے ساتھ ثابت ہیں ، وہ قرآن کی شرح ہیں۔ امام ابن تیمیہ بھی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں کہ ساری سنت صادقہ تفسیر القرآن وتبینہ قرآن کی تفسیر وتبیین یعنی اس کی وضاحت ہے۔ اصل بنیاد چونکہ قرآن ہے۔ لہٰذا اسی کی طرف رجوع کا حکم گیا ہے۔ ذکر الٰہی کی آسان ترین صورت لسانی ذکر ہے جس میں قرآن پاک کی تلاوت پاکیزہ کلمات کا ورد اور خدا تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اطاعت کا ہر کام کرنے آدمی ذاکرین الٰہی میں ہی شمار ہوتا ہے امام جزری (رح) فرماتے ہیں ، کل مطیع للہ فھوذاکر۔ بہرحال اللہ نے خبردار کیا ، کہ اہل کتاب کی طرح سنگ دل نہ ہوجانا۔ کیونکہ وکثیر منھم فسقون ان کی اکثریت نافرمان ہی ہے۔ اس سنگدلی کی وجہ سے اہل کتاب نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی ، خود بےعملی کا شکار ہوگئے ، ان کے فہم معکوس ہوگئے ۔ ان پر بہیمیت غالب آگئی اور انسان دائرہ انسانیت سے باہر ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں غفلت پیدا ہوئی ، پھر توبہ کی توفیق سلب ہوگئی ، معاصی کا ارتکاب کیا۔ اللہ کی کتاب میں تحریف کی اور آخر ملعون ومغضوب ٹھہرے سخط اللہ علیھم اللہ ان سے ناراض ہوگیا۔ غضب اللہ علیھم ان پر اللہ کا غضب ہوا۔ کیونکہ ان میں اکثر نافرمان ہی ہیں۔ مردہ اور زندہ زمین کی مثال : اس کے بعد اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا ، اچھی طرح جان لو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔ انسان کا دل بھی زمین کی مانند ہے ۔ جب یہ خشک ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے کلام پاک کی برکت سے زندہ ہوجاتا ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ زندہ آدمی اپنے اختیار اور ارادے سے کام کرتا ہے جب کہ مردہ بےحس و حرکت پڑا رہتا ہے جو کچھ نہیں کرسکتا۔ اللہ کے ذکر سے دل بھی زندہ ہوتا ہے اور انسان کے حواس بھی ، اور اس میں شعور پیدا ہوتا ہے جب کہ ذکر نہ کرنے والا غافل آدمی بےشعور ہوتا ہے گویا کہ وہ مردہ ہے۔ فرمایا قدبینا لکم الایت البتہ تحقیق ہم نے اپنی نشانیاں تم پر واضح کردی ہیں ، پتے کی باتیں بتادی ہیں ۔ مثال کے ذریعے بات سمجھادی ہے لعلکم تعقلون ، تاکہ تم معاملے کو سمجھ لو۔ مثال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مردہ دل انسان کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ سچے دل سے توبہ کرکے اللہ کی طرف رجوع کرے۔ اس کا ذکر کرے ، اللہ کے نازل کردہ کتاب کو پڑھے ، اس کے احکامات پر عمل کرے تو اس کا دل پھر سے زندہ ہوجائے گا اور اس کی روحانیت حیات نصیب ہوجائے گی۔ انفاق کی اہمیت : آگے پھر اللہ نے اس سورة کا کر کزی مضمون انفاق فی سبیل اللہ دوسرے انداز میں بیان فرمایا ہے ان المصدقین والمصدقت ، بیشک صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں۔ اعمال کے لحاظ سے مرد اور عورتیں برابر ہیں جیسا کہ پچھلی نور والی آیت میں مومنین والمومنت مومن مردوں اور مومن عورتوں کا ذکر کیا تھا۔ جس طرح کوئی عبادت مردوں پر فرض ہے اسی طرح عورتوں پر بھی فرض ہے۔ اگر مردوں کو مال خرچ کرنے کا حکم ہے تو صاحب حیثیت عورتوں کے لئے بھی لازم ہے۔ فرمایا بیشک صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے وال عورتیں واقرضوا اللہ قرضا حسنا ، اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا۔ انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اللہ کی خوشنودی کے لئے مال صرف کیا۔ ان کے پیش نظر دین کی اقامت اور قرآن کے پروگرام کی ترویج ہے نہ کہ کوئی ذاتی مفاد۔ تو ان کے متعلق فرمایا یضعف لھم اللہ تعالیٰ ان کو دگنا ثواب عطا فرمائے گا۔ ولھم اجر کریم ، اور ان کے لئے عزت والا اجر ہوگا۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ مال اقامت دین کے لئے خرچ ہوگا۔ تو دولتیں تمہارے ہاتھ آئیں گی اور آخرت میں ایک کا بدلہ دس تو لازمی ہے بشرطیکہ نیت خالص ہو۔ اور جو مال جہاد کے لئے خرچ کیا جائے گا اس کا بدلہ سات سو گنا سے شروع ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک کے بدلے میں سات سواونٹنیاں ملیں گی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جہاد دین کی کوہان ہے ، اس کی وجہ سے عزت اور وقار حاصل ہوگا۔ تو اس مد میں خرچ کرنے کو قرض حسن سے تعبیر کیا گیا ہے آگے جہاد کے بھی مختلف شعبے ہیں۔ جہاد بالسیف کے علاوہ مجاہدین کی خوراک ، اسلحہ سواری وغیرہ کا بندوبست کرنا بھی جہاد ہی کا حصہ ہے۔ اسی طرح دینی تعلیم کا انتظام کرنا بھی جہادہی کا شعبہ ہے دینی کتب کی اشاعت سے بھی اقامت دین کو تقویت ملتی ہے لہٰذا یہ بھی جہاد ہے۔ پھر دین اسلام کی تبلیغ کے لئے جانے والے اور ان کے لئے سفر ، خوراک اور کتب کا انتظام سب جہاد ہی کے مختلف شعبے ہیں اور قرض حسنہ میں ہی آتے ہیں۔ زکوٰۃ فنڈ کا بیجامصرف : ادھر ہمارا حال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر زکوٰۃ کی تحصیل اور صرف کا نظام موجود ہے جس میں ہر سال کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں مگر اس کا مصرف درست نہیں ہے زکوٰۃ کی رقم مسجد یا کسی بھی عمارت کی تعمیر پر خرچ نہیں کی جاسکتی۔ مگر یہاں سب کچھ ہورہا ہے۔ یہاں پر زکوٰۃ فنڈ الیکشن پر خرچ ہورہا ہے ۔ کشمیر کے الیکشن کے لئے پانچ کروڑ روپے اس فنڈ سے حاصل کیے گئے۔ ممبروں کو خریدنے کے لئے بھی یہ فنڈ استعمال ہوتا ہے۔ اب حکومت اس فنڈ سے مکانات تعمیرکررہی ہے۔ یہ بھی غلط ہے۔ جو لوگ رشوت کے طور پر زکوٰۃ کا مال کھائیں گے ان کا نہ ایمان ٹھیک رہے گا اور نہ اخلاق اور نہ ہی زکوٰۃ دینے والوں کو کچھ فائدہ ہوگا۔ زکوٰۃ کی رقم تو غریبوں محتاجوں ، یتیموں اور بیوائوں پر خرچ ہونی چاہیے۔ مگر اتنی کثیر مقدار میں زکوٰۃ جمع ہونے کے باوجود لوگ بھیک مانگ رہے ہیں ، گلیوں ، بازاروں حتیٰ کہ مسجدوں میں بھی بھکاریوں کی یلغار ہے۔ آخر یہ زکوٰۃ فنڈ کس مرض کی دوا ہے ؟ حقدار کو اس کا حق ملنا چاہیے نہ کہ یہ رقم رفاہ عامہ کے کام پر صرف کردی جائے جو کو قطعاً جائز نہیں محض ووٹ کے لالچ میں زکوٰۃ کا استعمال بڑی غلط بات ہے۔ محکمہ اوقاف کی ناقص کارکردگی : محکمہ زکوٰۃ کی طرح حکومت کا قائم کردہ محکمہ اوقاف بھی ناقص کارکردگی کا شکار ہے ۔ اس محکمے کے قیام کے وقت اس کی بڑی تعریف کی گئی تھی۔ کہ اس سے وقف املاک کے نظام کو درست کیا جائے گا۔ مگر یہ محکمہ بھی اپنے مقاصد کی تکمیل میں ناکام رہا ہے قبروں پر ہونے والی شرکیہ اور بدعتیہ رسوم اسی طرح جاری ہیں۔ قبروں کو پختہ بنا کر ان پر گنبد بنائے جا رہے ہیں۔ عرق گلاب سے غسل دیا جاتا ہے ، چادریں اور چڑھاوے چڑھتے ہیں۔ بہشتی دروازہ حسب سابق ہر سال کھلتا ہے اور پھر چند دن کے بعد بند ہوجاتا ہے ، ہر سال جگہ جگہ عرس منائے جاتے ہیں ، قوالیاں ہوتی ہیں۔ یہ کون سا دین ہے اور بزرگان دین کی تعلیمات کی کون سی خدمت ہے۔ آخر فکر اوقاف نے ان غیر شرعی رسوم میں کیا اصلاح کی ہے ؟ اس محکمہ کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں بےغرض ہے۔ غریب طبقہ بدستور ذلیل ہورہا ہے۔ امام مسجدوں کے گریڈ کم ہیں جن میں وہ گزراوقات نہیں کرسکتے ، بےچارے چیختے چلاتے ہیں مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ محکمہ کے وسائل جائز امور میں صرف ہونے چاہئیں تھے۔ مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔ کاش یہ محکمہ اپنی افادیت کو ثابت کرسکتا ہے۔ صدیق اور شہدائ : آگے اللہ نے اہل ایمان کی تعریف کی ہے۔ والذین امنوا باللہ ورسلہ اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اولئک ھم الصدیقون یہی لوگ سچے ہیں جنہوں نے ابان کے تقاضوں کو پورا کیا ہے والشھداء عند ربھم ، یہی لوگ اپنے پروردگار کے ہاں شہید ہیں۔ یہاں پر تمام اہل ایمان کو صدیق کا خطاب دیا گیا ہے۔ حالانکہ صدیق کا مرتبہ تو نبی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح شہیدوہ ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں جان قربان کردیتا ہے۔ مگر یہاں پر تمام مومنوں کے لئے شہید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، اللہ……………امنوا (البقرہ 257) اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ولی ہے۔ گویا ہر مومن ولی ہے۔ اسی طرح ہر مومن کو ایمان کی بدولت صدیقیت کا ادنیٰ درجہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ پھر شہادت کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے۔ گویا کہ ہر مومن جان کا نذرانہ تو پیش نہیں کر پاتا مگر اس میں یہ جذبہ صادق موجزن ہوتا ہے ۔ کہ وہ ضرورت کے وقت ایسا کرنے سے گریز نہیں کرے گا ، لہٰذا اس کو بھی کسی نہ کسی درجہ میں شہداء کی فہرست میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ صدیق کا معنی سچا اور راستباز انسان ہوتا ہے ، لہٰذا اس سے اصطلاحی صدیق اور شہید مراد نہیں کیونکہ وہ تو بلند مرتبت اور خال خال لوگ ہوتے ہیں۔ البتہ ان صدیقین اور شہداء سے مراد خدا کے ہاں سچی شہادت دینے والے لوگ ہیں۔ سورة البقرہ میں موجود ہے وکذلک… ………………شھید (آیت 143) اور اسی طرح ہم نے تمہیں افضل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور اللہ کا رسول تم پر گواہی دے۔ قیامت والے دن اس آخری امت کے لوگ سابقہ امت کے لوگوں پر بطور گواہ پیش ہوں گے اور اللہ کا آخری رسول اس آخرت امت پر گواہ ہوگا۔ اس طرح گویا شہید سے مراد گواہی دینے والا ہے۔ یا وہ شخص بھی مراد ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید ، صداقت اور حقانیت کی گواہی پیش کرنے والا ہے ، لہٰذا اس میں تمام صحیح ایمان والے شامل ہیں۔ حضرت امام مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ تو نبوت کے کمالات سے براہ راست مستفید ہونے والے تھے ، لہٰذا ان کی صدیقیت اور شہادت میں تو کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے دور خلافت میں فرمایا تھا انا الصدیق الاکبر لا یقول بعدی الا کاذب ، یعنی میں صدیق اکبر ہوں ، میرے بعد جو کوئی صدیقیت کا دعویٰ کرے گا ، وہ جھوٹا ہوگا۔ اس لحاظ سے بھی صحیح ایمان والا صدیق کہلا سکتا ہے۔ امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے لانے والے بھی شہید ہیں اور ان میں یہ آٹھ آدمی شامل ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت طلحہ ؓ ، حضرت زبیر ؓ ، حضرت سعد ؓ ، حضرت زید ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت عمر ؓ ے اگرچہ چھٹے سال نبوت میں اسلام قبول کیا ، مگر ان کی نیک نیتی اور صالحیت کی بناء پر ان کو بھی نویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے ایمان لانے والے توحید کی گواہی دینے والے شہداء ہیں۔ اہل ایمان اور کفار کا بدلہ : فرمایا جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ صدیق ہیں اور اپنے رب کے ہاں شہید ہیں لھم اجرھم ونورھم ان کے لئے اجر اور روشنی ہے اس روشنی کے ذریعے وہ پل صراط کی گھاٹیوں کو عبور کریں گے اور پھر انہیں اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ملے گا۔ ان کے برخلاف والذین کفروا وکذبوا بایتنا ، وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ایمان ، توحید ، احکام الٰہی اور اعمال صالحہ سب کو جھٹلایا دیا۔ وحی الٰہی اور جزائے عمل کا انکار کیا ، شریعت کو سچا تسلیم نہ کیا۔ فرمایا اولئک اصحب الحجیم ، یہی لوگ جہنم والے ہیں جنہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اللہ کے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ، پھر ان دونوں گروہوں کا امتیاز بھی ہوگا کہ ہر گروہ کا انجام مختلف ہوگا۔
Ayahs 57:20–21

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

(اے لوگو ! ) اچھی طرح جان لو کہ بیشک دنیا کی زندگی کھیل اور تماشہ ہے ، زینت ہے اور تمہارا آپس میں تفاخر ہے ، اور مال واولاد کی کثرت طلب ہے۔ جیسا کہ بارش ہو جو خوش لگتا ہے کسانوں کو اس کا سبزہ ، پھر وہ خشک ہوجاتا ہے ، پھر آپ دیکھتے ہیں اس کو زرد ، پھر ہوجاتا ہے وہ روندا ہوا۔ اور آخرت میں عذاب ہے سخت اور بخشش ہے اللہ کی طرف سے اور خوشنودی ۔ اور نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر سامان دھوکے کا

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

سبقت کرو اپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کا چوڑان آسمان اور زمین کے چوڑان کی طرح ہے۔ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولو پر۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، دیتا ہے وہ جس کو چاہے ، اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں اور ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی فضیلت بیان ہوئی ، اور ساتھ ہی کافروں اور مکذبین کے جہنم میں ٹھکانے کا بھی ذکر ہوا۔ اب آج کی آیات کا تعلق بھی انفاق فی سبیل اللہ ہی سے ہے۔ اللہ نے اس سلسلہ میں دنیا کی بےثباتی کا تذکر کرکے اس کے لوازمات کو کھیل تماشہ قرار دیا اور اس میں انہماک سے منع کیا گیا ہے ، اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی تیار کردہ جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اسے اپنا فضل قرار دیا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ اللہ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرکے اپنے لئے دائمی زندگی کا سامان پیدا کرلو۔ دنیا کی زندگی کی حقیقت : ارشاد ہوتا ہے اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو ، لوگو ! خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشہ ہے وزینۃ ، زینت ہے و تفاخر بینکم اور تمہارا آپس میں فخر کا اظہار ہے۔ وتکاثر فی الاموال والاولاد اور مال و دولت کی کثرت طلب ہے۔ اللہ نے انسانی زندگی کو کھیل اور تماشے کا نام دیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ لوگوں کی اکثریت کھیل کود میں ہی انہماک رکھتی ہے اور کرنے کے ضروری کام نہیں کرتی۔ ظاہر ہے کہ آگے چل کر اس کا نتیجہ خراب ہی نکلے گا۔ مفسرین کرام اس آیت میں مذکورہ تین چیزوں کو انسانی زندگی کے تین ادوار کے ساتھ منطبق کرتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ انسان اپنی عمر کے ابتدائی حصے یعنی بچپن میں عموماً کھیل کود کا ہی دلداہ ہوتا ہے۔ اس حصہ زندگی کو لہو ولعب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر جب انسان پر شباب کا زمانہ آتا ہے تو وہ زیادہ تر زیب وزینت اور بنائو سنگھار کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اچھا لباس ، اچھی خوراک ، چہرے کا زیب وزینت اور بالوں کی تراش خراش کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ اس دور کو اللہ نے زینت کا نام دیا ہے پھر جب بڑھاپے کی منزل آتی ہے تو پھر مال اور اولاد کی فکر بڑھ جاتی ہے کہ مال کو کس طرح سنبھال کر رکھا جاسکتا ہے اور اولاد کی آسودہ حالی کے کون سے ذرائع اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ حقیقت ہے کہ یہ تینوں چیزیں اور باہم مفاخرت سب فانی ہیں۔ یہ ساری چند دن کی رونق ہے۔ اگر انسان اسی میں پھنس کر رہ جائے اور آخرت کی فکر نہ کرے ، ایمان اور نیکی سے اعراض برتے تو ظاہر ہے کہ یہ بڑے خسارے کا سودا ہوگا۔ انسان دنیا کی عارضی زندگی کے لئے تو بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے اور اس کے لئے ہر جائز اور ناجائز طریقے اختیار کرنے سے بھی پرہیز نہیں کرتا ، مگر آخرت کی دائمی زندگی سے اکثر بےفکر رہتا ہے۔ ملا جانی (رح) نے اس مضمون کو اپنے شعر میں اس طرح بیان کیا ہے۔ دلا تاکے دریں کا خ مجازی کنی مانند طفلاں خاک بازی اے دل ! تم کب تک اس مجازی محل میں بچوں کی طرح مٹی سے کھیلتے رہوگے۔ بچے مٹی کے چھوٹے چھوٹے گھروندے بنا کر کھیلتے ہیں اور پھر خود ہی ان کو ٹھوکر مار کر گرادیتے ہیں۔ دنیا کی زندگی بھی ایسی ہے۔ انسان چند دن کے لئے اپنی آسائش کے لئے بہت سے سامان کرتا ہے مگر بالآخر سب کچھ یہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ضرورت سے زیادہ انہماک انسان کو آخرت سے غافل کردیتا ہے جو کہ سخت خسارے والی بات ہے۔ بارش اور کھیتی کی مثال : آگے اللہ نے دنیا کی مثال بارش اور کھیتی کے ساتھ بیان فرمائی ہے کمثل غیب اعجب الکفار نباتہ دنیا کی مثال بارش کی ہے کہ جب وہ برستی ہے تو کسانوں کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بارش کی وجہ سے زمین میں روئیدگی پیدا ہوگی۔ جس سے غلہ ، پھول ، پھل اور سبزیاں پیدا ہوں گی جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال ہوں گی۔ یہاں پر کسان یا کاشتکار کے لئے کافر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دراصل کفر کا معنی کسی چیز کو چھپانا ہوتا ہے۔ اصطلاحی کافر کو کافر اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ دین اور ایمان کو چھپاتا ہے۔ کسان بھی زمین میں بیج ڈال کر اس کو چھپا دیتا ہے۔ لہٰذا وہ بھی کافر کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ جس ڈوڈی کے اندر پھل چھپا ہوا ہوتا ہے اس کو بھی کافرکہتے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے تو کاشتکاروں کو بھی معلوم ہوتی ہے وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان کی محنت ٹھکانے لگی ، ان کی کھیتی پھل دے گی جسے وہ کاٹ کر اس سے مستفید ہوں گے۔ فرمایا کہ کھیتی پک جانے کے بعد ثم یھیج ، پھر وہ خشک ہوجاتی ہے اس کی سر سبزی ختم ہوجاتی ہے۔ فترہ مصفراً پھر آپ دیکھتے ہیں اس کو زرو یعنی اس کی حالت مزید متغیر ہوجاتی ہے ، اس کی ساری رونق ختم ہوجاتی ہے ثم یکون حطاما پھر وہی سر سبز کھیتی سوکھ کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے یعنی چورہ بن جاتی ہے۔ یہ مثال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس ناپائیدار زندگی میں زیادہ منہمک نہیں ہونا چاہیے۔ کھیتی کی طرح انسان بھی جب پیدا ہوتا ہے تو پھول کی طرح نرم ونازک ہوتا ہے ، پھر جوان ہوتا ہے تو پورے جوبن پر آجاتا ہے۔ بڑھاپا آنے لگتا ہے تو قوی مضمحل ہونا شروع ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ ایک دن آتا ہے جب اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور وہ اس دنیا سے نابود ہوجاتا ہے۔ زندگی کا انجام : اس دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کا انجام بھی بیان کیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس دنیا کی رنگینیوں میں ہی پھنس کر رہ گیا اور آخرت کے لئے کوئی سامان تیار نہ کیا تو فرمایا ایسے شخص کے لئے وفی الاخرۃ عذاب شدید ، آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔ اور جس شخص نے اس دنیا میں رہ ایمان اور نیکی کو حاصل کیا ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا۔ وقوع قیامت اور جزائے عمل کو برحق جان کر اس کے لئے تیار کی ، تو فرمایا اس شخص کے لئے ومغفرۃ من اللہ ورضوان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہوگی ، اور وہ اس کی رحمت کے مقام جنت میں پہنچے گا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور اور نہیں ہے دنیا کی زندگی مگر دھوکے کا سامان۔ انسان اس زندگی کی آسائش اور آرام کے لئے بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے۔ بڑی بڑی مضبوط عمارتیں تعمیر کرتا ہے جن میں سہولت کی تمام چیزیں مہیا کرتا ہے ، مگر جب وہ نہ تو کسی مصیبت کو ٹال سکتا ہے اور نہ موت سے راہ فرار اختیار کرسکتا ہے تو دنیا کا یہ سارا سازو سامان محض دھوکہ محسوس ہوتا ہے اور پھر جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو ناکام ہوجاتا ہے اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ دنیا کا سامان تو محض دھوکے ہے اس میں الجھ کر نہ رہ جانا ، بلکہ آخرت کی فکر میں بھی کرلینا۔ اس کے لئے ایمان اور نیکی کو اختیار کرو ، جہاد کے لئے جانی اور مالی قربانی پیش کرو۔ جو لوگ ساری زندگی کھیل کود میں گزار دیتے ہیں ، ان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے کام کر رہے ہیں مگر حقیقت میں تدترین خسارے میں ہوتے ہیں۔ سورة الکہف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قل ھل … ………………اعمالا (آیت 103) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کیا ہم تمہیں نہ بتلائیں کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں جانے والے کون لوگ ہیں ، فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی دنیا کی زندگی کو برباد کرلیا مگر وہ گمان کرتے سہتے ہیں کہ وہ بڑے اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ دنیا کا سازوسامان تو محض دھوکہ ہے۔ جائز اور ناجائز کھیل کود : ساری دنیا کو اللہ نے کھیل تماشہ قرار دیا ہے ، تاہم دنیا کے اندر جو کھیل تماشے ہوتے ہیں ، انہیں ایک خاص حد تک اسلام نے برداشت کیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ گھوڑ دوڑ یا اونٹ دوڑ میں حصہ لیتے تھے مگر ایسے مواقع پر جوئے کی شکل میں کوئی شرط وغیرہ نہیں لگائی جاتی تھی۔ آپ کے صحابہ ؓ بھی اس قسم کے کھیل کو دمیں شامل ہوجاتے تھے۔ آپ کا فرمان ہے کہ تیراندازی ایک اچھا کھیل ہے آپ نے بیوی کے ساتھ دل لگی کے کھیل کو بھی برحق فرمایا ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں جہاد میں گھوڑے یا اونٹ پر سوار ہو کر دشمن سے مقابلہ کیا جاتا تھا۔ تیر ، تلوار اور نیزے کے جوہر دکھائے جاتے تھے ، لہٰذا آپ نے ایسے ہی کھیلوں کو پسند فرمایا ہے۔ البتہ کھیل کود کو ہی مقصد حیات بنا لینا ہرگز درست نہیں۔ ہمارے ملک میں آج کل کرکٹ کا بڑا زور وشور ہے۔ بچے اور بڑے کھلے میدانوں کے علاوہ سڑکوں بازاروں اور گلی کوچوں میں کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں حتیٰ کہ اب تو رات کو تیز روشنی میں بھی یہ دھندا ہورہا ہے۔ ادھر حکومت بھی کرکٹ اور دوسری کھیلوں کی سرپرستی کررہی ہے۔ بیرون ملک سے ٹی میں کھیلنے کے لئے آتی ہیں اور ہماری ٹی میں باہر جاتی ہیں۔ جس پر کروڑوں روپیہ صرف ہورہا ہے ، مگر نتیجہ صفر ہے ۔ نہ قوم کا فائدہ نہ ملک کا۔ آخر ہماری ٹیم جیت بھی جائے تو کون سا ملک فتح ہوگیا۔ مگر ادھر صدر اور وزیر اعظم مبارکباد دے رہے ہیں ، کھلاڑی قومی ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ لوگ کئی کئی روز تک متواتر میچ دیکھ رہے ہیں ، ٹی وی یا ریڈیو کے سامنے کام کاج چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ دفتروں اور کارخانوں میں حاضری کم ہوجاتی ہے۔ یہی حال دوسرے کھیلوں کا بھی ہے۔ اس طرح وقت پیسہ اور توانائی برباد کرنے کا فائدہ کیا ہے ؟ کھیل کود کر مقصد حیات بنالینا یہی تو ہے اور اس قسم کا کھیل کود ہرگز پسندیدہ نہیں بلکہ قابل مذمت ہے۔ اس ضمن میں ہم ترقی یافتہ ممالک کی نقالی کرتے ہیں کہ ان کھیلوں کو عالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہے۔ بھائی و وہ لوگ اگر ان کھیلوں میں دلچسپی لیتے ہیں تو وہ اپنا کام بھی بطریق احسن انجام دیتے ہیں۔ اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد کھیل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اس کام میں تو ان کی نقالی کرلی مگر جو کام وہ سائنس ، ٹیکنالوجی ، اور انجینئرنگ میں انجام دے رہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں ریسرچ کر رہے ہیں اس کی طرف ہم توجہ ہی نہیں دیتے بلکہ کھیل کود کی نقالی کو ہی قابل فخر بات سمجھتے ہیں۔ اگر کھیل کود پر اٹھنے والا کروڑوں روپیہ تعلیمی مقاصد کے لئے صرف ہوتا ، تحقیقی ادارے قائم ہوتے ، محتاجوں کی اعانت ہوتی ، ملک سے بھوک ، غربت اور ناخوانگی دور ہوتی تو کچھ فائدہ بھی ہوتا۔ ان کھیلوں سے قوم کو کیا فائدہ ہورہا ہے۔ مغفرت اور جنت طلبی : اللہ نے فرمایا کہ لہو ولعب ، زیب وزینت ، آپس میں تفاخر اور مال واولاد کی کثرت طلب کو ہی زندگی کا مقصود نہ بنالو بلکہ ان چیزوں کو جائز حد تک اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ ان میں حد سے آگے نہ بڑھو۔ بلکہ کرنے کا کام یہ ہے کہ سابقوآالی مغفرۃ من ربکم ، اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرنے میں سبقت کرو۔ وہ کام انجام دو جن سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو اور وہ تمہارے گناہوں کو معاف فرمادے اس کے علاوہ وجنۃ عرضھا کعرض السمآء والارض ، اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو جس کی چوڑائی آسمان اور زمین کی چوڑائی کی طرح سے اعدت للذین امنو باللہ ورسلہ جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔ جنت ان کا حق ہے جو اللہ کی ذات وصفات اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں۔ کسی ایک نبی اور رسول کا انکار تمام رسولوں کے انکار کے مترادف ہے۔ اس لئے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی : فرمایا ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشائ ، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا کردے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، لوگو ! اگر تم پل صراط پر سے گزرو گے تو اللہ تعالیٰ کی معافی کے ساتھ ہی گزروگے اور اگر جنت میں داخلہ ملے گا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہی ممکن ہوسکے گا۔ اور اگر تم مرتبے حاصل کرو گے تو وہ تمہارے اعمال کی بدولت ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ولکل درجت مما عملوا (الاحقاف 19) ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق ہی درجات نصیب ہوں گے۔ اس کے باوجود اپنی کامیابی کا مدار اعمال ہی کو نہ سمجھو ، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل حال نہ ہو کامیابی ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر انسان لہو ولعب ، عصیاں ، زینت ، اور تفاخر میں ہی بتلارہا۔ حرص اور لالچ کا بندہ بنارہا تو اس کو اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟ ہجرت کے بعد اکثر مہاجرین نادار ہوگئے تھے۔ ایک موقع پر وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، حضور مالدار لوگ تو نماز اور روزہ کے علاوہ حج اور زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں ، اس کے علاوہ صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں جب کہ ہم ناداری کی وجہ سے دین کے یہ ارکان پورا کرنے سے قاصر ہیں اور اس وجہ سے م ان سے مرتبہ بھی کم تر ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم نماز کے بعدتینتیس تینتیس دفعہ کلمات سبحان اللہ ، الحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھ لیا کرو تو تم کو اللہ تعالیٰ بڑا اجر عطا کریگا اور کوئی دولت مند آدمی بھی ، تم سے درجات میں آگے نہیں بڑھ سکے گا ، اور تم ان سے سبقت لے جائو گے۔ جب صاحب ثروت لوگوں کو اس عمل کا علم ہوا تو انہوں نے بھی یہ کلمات پڑھنا شروع کردیے۔ اس کے بعد غریب لوگ پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور ﷺ یہ عمل تو انہوں نے بھی شروع کردیا ہے ، لہٰذا اور پھر ہم سے سبقت لے جائیں گے۔ آپ نے یہی جواب دیا جو اس آیت کریمہ میں ہے یعنی ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء یہ تو اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل ہے ، وہ جس کو چاہے عطا کردے۔ اگر مالدار لوگ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید بھی حسن نیت سے انجام دے رہے ہیں تو اس توفیق کا ملنا اللہ تعالیٰ کے فضل ہی کامرہون منت ہے واللہ ذوالفضل العظیم ، اور اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل اور مہربانی والا ہے۔
Ayahs 57:22–24

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہارے نفسوں میں مگر وہ ایک کتاب میں درج ہے قبل اس کے کہ ہم اس کو ظاہر کریں۔ بیشک یہ کام اللہ پر آسان ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

تاکہ تم نہ غم کھائو اس چیز میں جو تم سے فوت ہوچکی ہے ، اور نہ اترائو اس چیز پر جو اس نے تمہیں دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ہر اترانے والے اور فخر کرنے والے کو

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں ، اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ، اور جو شخص پھرا ، پس بیشک اللہ تعالیٰ غنی اور تعریفوں والا ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوا ، دنیا کی لہو ولعب زیب وزینت اور مال واولاد کی کثرت طلب کو مہلک قرار دیا گیا۔ دنیا کی بےثباتی کا ذکر کرکے خدا تعالیٰ کی بخشش ومغفرت اور وسیع وعرویض جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی پھر فرمایا کہ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کے نظام کے قیام کے لئے مال صرف کیا۔ جس کا معاوضہ اللہ کے ہاں ملنے والا ہے۔ اندرونی اور بیرونی مصائب : بعض لوگ مال کو اللہ کے راستے میں اس لئے خرچ نہیں کرتے کہ یہ مال ان کی مصیبت میں کام آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کی تردید فرمائی ہے اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ تمام آلام ومصائب اللہ تعالیٰ کے علم میں مقدر ہیں اور اللہ کی لوح محفوظ میں بھی درج ہیں لہٰذا ان کو مال و دولت یا کوئی دوسری تدبیر دور نہیں کرسکتی ، بلکہ وہ ضرور آکر رہیں گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر یقین ہوگا تو مصائب کم معلوم ہوں گے ، لہٰذا مال خرچ کرنے میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اصاب من مصیبتۃ فی الارض ولا فی انفسکم ، زمین میں یا تمہارے نفسوں میں کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچتی الا فی کتب مگر وہ ایک کتاب میں درج ہے من قبل ان نبراھا پیشتر اس کے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔ زمین سے مراد ملک ، علاقہ یا خطہ ہے اور نفس سے مراد انسان کا اپنا جسم ہے۔ مطلب یہ ہے ہر اندرونی اور بیرونی طور پر پیش آنے والی تکلیف اچانک نہیں آجاتی بلکہ یہ پہلے سے اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی تقدیر اور لوح محفوظ میں درج ہے اور وہ ہر صورت میں وارد ہو کر رہے گی۔ لہٰذا کسی مصیبت کو ٹالنے کے لئے مال کو روک رکھنا بےسود ہے۔ بیرونی مصائب میں زلزلہ ، قحط ، جنگ یا طوفان وغیرہ آتے ہیں جن کی وجہ سے بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے ، دنیا میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں جن میں ہزاروں آدمی جاں بحق اور لاکھوں بےگھر ہوجاتے ہیں ، لوگوں کی املاک تباہ ہوجاتی ہیں اور پوری زندگی درہم برہم ہو کر رہ جاتی ہے 1933 ء کا جاپان کا زلزلہ ، بیس پچیس سال قبل بذرتہ بستی کا زلزلہ اور 1935 ء میں کوئٹہ میں آنے والے زلزلے کی مثالیں موجود ہیں۔ افریقی ممالک میں اکثر قحط نمودار ہوتا رہتا ہے جس سے وسیع پیمانے پر جانیں تلف ہوجاتیں ہیں۔ بنگال کا قحط تو بڑا مشہور ہے۔ سرحدی علاقے کی بھاشان بستی کے زلزلہ میں چار ہزار بنگال کا قحط تو بڑا مشہور ہے۔ سرحدی علاقے کی بھاشان بستی کے زلزلہ میں چار ہزار کی آبادی ختم ہوگئی تھی اسی طرح سمندری طوفانوں کا سلسلہ بھی دنیا میں چلتا رہتا ہے ہمارے اس خطے میں بنگلہ دیش اکثر اس کا شکار بنتا ہے جس کی وجہ سے جانی نقصان کے علاوہ کھڑی فصلوں ، مکانوں اور کارخانوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے اندرونی طور پر انسانی جسم طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج کل بلڈ پریشر اور شوگر کی بیماریاں عام ہیں ، دل کی بیماریوں کی وجہ سے بھی بہت سی جانیں تلف ہوجاتی ہیں۔ اس زمانے میں ماحول کی آلودگی بھی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے۔ صنعتی ترقی کے نتیجے میں کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں اور مختلف کیمیائی چیزوں کا فضلہ ماحول کی آلودگی میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے جس سے انسانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اسی طرح روز افزوں مہنگائی ، عوام کی تنگدستی ، منافقین کی ریشہ دوانیاں سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات ، عیاشی ، فحاشی ، اور عریانی کا بڑھتا ہوا سیلاب سب مصائب ہی تو ہیں۔ جن کے متعلق فرمایا کہ یہ اللہ کی کتاب میں درج ہیں۔ اور انہیں وارد ہونے سے روکا نہیں جاسکتا۔ حضرت عبداللہ بن عم ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ارض وسماء کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل اللہ نے تقدیر کو مقدر کردیا تھا ، اس وقت خدا تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے ما اصابک لم یکن لیخطئک یعنی جو چیز تجھے پہنچنے والی ہے وہ چوکنے والی نہیں۔ خواہ تم کتنی ہی تدابیر اختیار کرلو اور آکر رہے گی۔ اور جو چیز تجھے نہیں پہنچتی ، وہ سمجھ لو کہ کبھی پہنچنے والی نہ تھی۔ سورة التعابن میں اللہ کا فرمان ہے ما اصاب ……………اللہ (آیت 11) ہر آنے والی مصیبت اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہی وارد ہوتی ہے۔ سورة الشوریٰ میں یہ بھی موجود ہے۔ وما اصابکم………………عن کثیر (آیت 30) تمہیں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ ہر مصیبت کے آنے میں انسان کی نیت ارادے اور عمل کا ضرور دخل ہوتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ بہت سی مصیبتوں سے درگزر فرماتا ہے اور وہ تکلیف انسان کو نہیں پہنچتی۔ مفسر قرآن حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہم تک یہ بات اپنے اساتذہ یا بزرگوں کے ذریعے پہنچی ہے کہ اگر انسان کو لکڑی کی ایک خراش آجاتی ہے ، پائوں کو ٹھوکر لگتی ہے اور وہ زخمی ہوجاتا ہے یا انسان کی کوئی رگ پھٹکتی ہے جس سے اسے تکلیف لاحق ہوجاتی ہے تو یہ ساری تکالیف کسی نہ کسی گناہ کا نتیجہ ہوتی ہیں اور ان کے علاوہ جن سے اللہ درگزر فرمادیتا ہے وہ تو بہت زیادہ ہیں۔ ہاں اگر انسان کا عقیدہ درست ہو ، اس کا ایمان صحیح ہو اور وہ تکلیف میں صبر سے کام لے تو یہی تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، اسی لئے بعض حضرات فرماتے ہیں من عرف سرالقدر ھانت علیہ المصائب جو شخص اللہ کی تقدیر کے راز کو پالیتا ہے اس پر دنیا کی مصیبتیں آسان ہوجاتی ہیں اور وہ جزع فزع نہیں کرتا۔ اسی لئے حضور ﷺ نے یہ دعا بھی سکھلائی ہے ومن الیقین ما تھون بہ علینا مصائب الدنیا اے اللہ ! ہمیں یقین میں سے اتنا حصہ عطا فرمادے ۔ جس کی وجہ سے ہم پر دنیا کی مصیبت آسان ہوجائے۔ چناچہ جس قدر انسان کا یقین پختہ ہوگا۔ اسی قدر اس کو تکالیف کم محسوس ہوں گی۔ جزع فزع اور گلہ شکوہ عموماً ایمان کے نقص اور یقین کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مصائب میں سے زیادہ خطرناک دینی مصائب ہیں کیونکہ دنیا کی تکالیف تو انسان کی زندگی تک محدود ہیں ، انسان ختم ہوا تو اس کی تکالیف بھی ختم ہوگئیں۔ مگر دین کی مصیبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ اگر انسان کا اعتقاد خراب ہے ، اس میں کفر ، شرک ، نفاق یا الحاد کا کچھ حصہ پایا جاتا ہے اور پھر وہ اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا تو وہ ہمیشہ کے لئے مصائب وآلام میں گرفتار رہے گا۔ اسی لئے حضور ﷺ نے دعا سکھائی ہے اللھم لا تجعل مصیبتنا فی دیننا اے اللہ ! دین کے معاملے میں ہمیں کسی مصیبت میں نہ ڈال کیونکہ دنیا کی مصیبت تو ایک نہ ایک دن ختم ہوجائے گی ، مگر دین کی مصیبت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ بہرحال فرمایا کہ کوئی مصیبت نہیں پہنچتی زمین میں یا تمہارے نفسوں میں مگر یہ ایک کتاب میں درج ہے پیشتر اس کے کہ ہم اس کو ظاہر کری۔ فرمایا ان ذلک علی اللہ یسیر ، یہ کام یعنی تمام پیش آنے والے حالات کو کتاب میں پہلے ہی درج کردینا اللہ کے لئے مشکل نہیں بلکہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے ، وہ ازلی اور ابدی ہے ، لہٰذا اس کے لئے کوئی کام دشوار نہیں۔ حسرت اور تکبر کی ممانت : اللہ تعالیٰ نے ہر تکلیف کو پہلے سے کتاب میں درج کرنے کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے۔ لکیلا تاسوا علی مافاتکم تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل گئی ہے اس پر افسوس نہ کرو۔ تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کے علم اور تقدیر میں اسی طرح تھا کہ مجھے یہ تکلیف پہنچے گی یا یہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اگر یہ یقین پیدا ہوجائے تو پھر متاثرہ شخص پریشانی ، بےچینی اور جزع فزع کا اظہار نہیں کرے گا۔ پھر اللہ نے یہ بھی فرمایا ولا تفرحوا بما اتکم اور جو نعمت اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس سر شیخی نہ بھگارو ، اور نہ اس پر غرور وتکبر کا اظہار کرو۔ تقدیر میں پہلے سے مقدر ہونے کی یہ بھی حکمت ہے۔ جب انسان کو علم ہوگا ، کہ اسے ملنے والا مال و دولت ، اولاد ، عزت وجاہ سب اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہے تو وہ اسے اپنی محنت اور کوشش کا ثمرہ نہیں سمجھے گا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہوگا۔ بہرحال فرمایا کہ کسی مصیبت کے آنے پر افسوس نہ کرو اور کسی چیز کے حصول پر اترائو نہیں کیونکہ واللہ لا یحب کل مختال فخور ، اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ سورة لقمان میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کے بیٹے کے حق میں نصاء میں سے ایک یہ نصیحت بھی بیان فرمائی ہے ولا تصعر خدک للناس ……………………فخور (آیت 18) اے بیٹے ! لوگوں کے سامنے اپنے گال مت پھلائو اور زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلو۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور اپنی بڑائی بیان کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں مبغوض ہوتے ہیں۔ بخل کی مذمت : دولت مند عام طور پر بخل کے مرتکب ہوتے ہیں ، وہ اپنی بڑائی تو بیان کرنے سے نہیں چوکتے مگر جب خرچ کرنے کا وقت آتا ہے تو بخل کرتے ہیں۔ اللہ نے ایسے لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ الذین یبخلون ، جو لوگ بخل کرتے ہیں ، انہیں خود تو خرچ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ویامرون الناس بالبخل ، اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی تلقین کرتے ہیں اپنے قول وفعل سے لوگوں کو کنجوسی پر آمادہ کرتے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص نیکی کا کام کرنا بھی چاہے تو اس پر طعنہ زنی کرتے ہیں یا غلط پراپیگنڈا کے ذریعے اس کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مال کو ضائع کررہا ہے۔ ہاں اگر کسی برے کام یا بری رسم و رواج میں خرچ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ تو بخوشی خاطر دل کھول کر خرچ کرتے ہیں اور اس طرح اسراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بخل بہت بری خصلت ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ بخل سے مہلک کوئی روحانی بیماری نہیں ہے۔ جو شخص سب کچھ ہونے کے باوجودصحیح جگہ پر خرچ نہیں کرتا بلکہ روگردانی کرتا ہے تو اللہ نے فرمایا ومن یتول جو آدمی روگردانی کرتا ہے یعنی صحیح مقام پر خرچ کرنے کی بجائے اس سے اعراض کرتا ہے ، تو فرمایا فان اللہ ھوالغنی الحمید تو بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ اسے کسی کے مال کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس میں خود خرچ کرنے والے کا ہی فائدہ ہے۔ سورة کی ابتداء میں یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے خرچ کیے گئے مال کا کم از کم دگنا عطا کریگا۔ اگر تم قرآن کے پروگرام کی ترویج کے لئے مال خرچ کرو گے تو اللہ دنیا میں بھی کئی گنا عطا کرے گا اور آختر کا اجر تو بیحد وبے شمار ہے۔ انفاق کا فائدہ : انفاق کا فائدہ یہ ہے کہ فرض ادا ہوتا ہے ، انسان کی تہذیب نفس حاصل ہوتی ہے اور وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کے قابل ہوجاتا ہے۔ سخی آدمی بخل کی بیماری سے بچ جاتا ہے اور اس سے بنی نوح انسان کا بھلا بھی ہوتا ہے۔ دو خصلتیں بہت بڑی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق درست ہو ، اور دوسری یہ کہ اللہ کی مخلوق کے ساتھ بھی رشتہ صحیح ہو۔ انفاق فی سبیل اللہ سے یہ دونوں مقصد حاصل ہوتے ہیں۔ صدقات اور زکوٰۃ کی یہی حکمت ہے کہ ایک طرف محتاجوں کی ضروریات پوری ہوں تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوجائے۔ مال کے متعلق پہلے واضح کردیا گیا ہے کہ یہ کسی کا ذاتی نہیں ہے ، انسان تو اس کے صرف امین ہیں ، اصل مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی متصرف ہے۔ اس نے مجازی طور پر انسانوں کو تھوڑے عرصہ کے لئے اس کا مالک بنایا ہے اور اس کو صرف کرنے کا اختیار بھی دیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ انسان کی آزمائش کرتا ہے کہ وہ میرے دیے ہوئے مال میں سے میرے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر طریقے سے انسان کو آزماتا ہے………کبھی مال دے کر آزماتا ہے اور کبھی چھین کر آزماتا ہے۔ کبھی تندرستی دے کر اور کبھی بیمارے دے کر ، کبھی عروج دے کر اور کبھی زوال دے کر۔ پھر جو شخص اس آزمائش میں پورا اترتا ہے وہ اس کے اجروثواب کا مستحق بنتا ہے ، اور جو اس آزمائش پر پورا نہیں اترتا وہ ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجاتا ہے۔ بہرحال اللہ نے مصائب کے وقت دو چیزوں کو بطور علاج تجویز کیا ہے جن میں سے ایک ایمان ہے اور دوسرا صبر۔ ان پر عمل کرنے والا کامیابی سے ہم کنار ہوگا۔