59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsمعالم العرفان

Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے جگہ پکڑی اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے۔ وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ہجرت کرکے آتے ہیں ان کے پاس ، اور نہیں پاتے اپنے دلوں میں کوئی خلش اس چیز سے جو ان کو دی جاتی ہے۔ اور ترجیح دیتے ہیں۔ ان کو اپنی جانوں پر اگرچہ ہو ان میں کچھ حاجت ۔ اور جو بچایا گیا اپنے نفس کے بخل سے ، پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں مال فے کی تعریف اور اس کے مختلف مصارف کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ نے اس مال میں اللہ ، اس کے رسول ، رسول کے قرابتداروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا حصہ رکھا ہے۔ اللہ نے اس تقسیم کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ مال و دولت صرف اغنیاء میں ہی نہ گردش کرتا رہے بلکہ اس کادوران معاشرے کے نچلے طبقوں تک پہنچنا چاہیے۔ اللہ نے اہل ایمان کو تلقین کی کہ وہ اپنے نبی کی تقسیم کو بخوشی خاطر قبول کریں اور جو چیز اللہ کا نبی دے دے اس کو قبول کرلو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جائو۔ اس کے بعد اللہ نے نادار مہاجرین کے حصے کا ذکر کیا جو لوگ اپنا گھر بار اور مال متاع چھوڑ کر دارالحجرت میں پہنچ چکے ہیں اور نادار مال فے میں ان کا بھی حصہ ہے جو ادا کیا جائے۔ اس کے ساتھ اللہ نے مہاجرین کے بعض اوصاف بھی بیان فرمائے اور ان کو مخلص مومن قرار دیا گیا۔ انصار مدینہ کا استحقاق : اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کے ایثار کا تذکرہ فرمایا ہے اور انہیں بھی مال فے کا حقدار قرار دیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے اس مال کے حقدار وہ بھی ہیں۔ والذین تبوئو الدار والایمان جنہوں نے جگہ پکڑی گھر میں اور ایمان میں۔ من قبلھم ان سے پہلے ہم نے تبو کا معنی جگہ پکڑنا کیا ہے۔ یعنی ٹھکانہ پکڑنا یارہائش اختیار کرنا۔ یہ لفظ جنت میں اہل جنت کے لئے بھی استعمال ہوا ہے ، جیسے فرمایا نتبوا من الجنۃ حیث نشاء (الزمر 74) جنتی لوگ جنت میں جہاں چاہیں گے ٹھکانا پکڑیں گے ، جگہ حاصل کرینگے۔ اور دار سے مراد دارالہجرت مدینہ منورہ ہے۔ اللہ نے اس شہر کا نام طاب یا طیبہ رکھا ہے۔ اور اس کو مدینہ الرسول بھی کہا جاتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ اس مال میں سے وہ لوگ بھی حقدار ہیں جنہوں نے مہاجرین کی آمد سے قبل شہر مدینہ میں رہائش اختیار کررکھی تھی اور وہ ایمان کی دولت سے بھی مالا مال تھے۔ ان سے مراد انصار مدینہ ہیں جن کا تعلق اوس اور خزرج کے قبائل سے تھا اور جو ہجرت سے آٹھ سو یا ایک ہزار سال قبل یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ ہجرت نبوی سے تین سال پہلے تک یہ لوگ کفر وشرک میں مبتلا تھے۔ بعض نے یہودیت اور بعض نے نصرانیت اختیار کرلی بھی۔ مگر ان کی اکثریت شرک میں ہی مبتلا تھی۔ اللہ نے انہی میں سے بعض کو ایمان کی دولت سے مشرف فرمایا۔ انہوں نے حج کے موقع پر حضور ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا ، مدینہ میں آکر اس کی اشاعت کی اور پھر سر زمین مدینہ کو اسلام کی آبیاری کے لئے موزوں پاکر حضور ﷺ کو ہجرت کی دعوت دی یہ لوگ انصار مدینہ کہلائے اور انہی کے نادار لوگوں کے لئے اللہ نے مال فے میں سے حصہ مقرر فرمایا ہے مدینہ کا خطہ تجارتی خط تھا اور یہاں کے زیادہ تر باشندے تجارت پیشہ تھے۔ تاہم زرخیز زمین اور پانی بھی موجود تھا جس کی وجہ سے یہ لوگ زراعت پیشہ بھی تھے یہاں کھجوروں کے بڑے بڑے باغ اور غلہ بھی پیدا ہوتا تھا۔ ان کی تجارت زیادہ تر مصر شام اور فلسطین کے ساتھ ہوتی تھی۔ روم اور یمن کی طرف بھی تجارتی قافلے جاتے رہتے تھے اور اس طرح آپس میں اجناس کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ فارس یا ہندوستان کے ساتھ تجارت یمن کی بندرگاہ کے ذریعے ہوتی تھی۔ ادھر کا مال اونٹوں کے ذریعے یمن پہنچایا جاتا اور پھر وہاں سے بحری راستے سے ہندوستان کی طرف جاتا۔ اسی طرح وہاں سے آنے والا مال بھی اسی بندرگاہ پر اتار لیا جاتا اور پھر زمینی راستے سے اگلے علاقوں میں پہنچایا جاتا۔ مطلب یہ ہے کہ مدینہ طیبہ تجارتی اور زرعی خطہ تھا۔ اور یہاں کے لوگ دونوں قسم کے کام کرتے تھے۔ ان کو اللہ نے حضور ﷺ اور دیگر مہاجرین کی مہمان نوازی کا شرف بخشا۔ اللہ نے ان لوگوں کے مستحقین کو بھی مال فے کی تقسیم میں برابر کا شریک ٹھہرایا ہے۔ مہاجرین سے محبت : آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کی مہاجرین سے محبت کا ذکر کیا ہے اور ان کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں۔ یحبون من ھاجرالیھم ، جنہوں نے ان کی طرف ہجرت کرکے آنے والوں کے ساتھ محبت کی ہے۔ یہ لوگ مہاجرین کی حتی المقدور خدمت کرتے ہیں جو ان کے اخلاص کا بہترین نمونہ ہے۔ فرمایا ان کی محبت اس قدر پر خلوص ہے۔ ولا یجدون فی صدورھم حاجۃ مما اوتوا کہ مہاجرین کو ملنے والی اشیاء کی وجہ سے اپنے دل میں کوئی خلش محسوس نہیں کرتے۔ ان کے دل حسد کے مادہ سے پاک ہیں اور انہوں نے کبھی یہ خیال نہیں کیا کہ مہاجرین کو تو مل رہا ہے اور وہ محروم رہ رہے ہیں۔ بلکہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر مصائب وآلام برداشت کرتے ہوئے اپنا گھر بار اور مال متاع چھوڑ کر آگئے ہیں ان کا زیادہ حق ہے ، لہٰذا ان کے دلوں اور زبانوں پر اس معاملہ میں کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔ اللہ نے انصار مدینہ کی تعریف میں فرمایا کہ وہ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے خلاف حسد نہیں کرتے اور ان کی تیسری صفت یہ ہے و یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ ، وہ ان مہاجرین کو خود پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود حاجت مند ہوں۔ اسی لئے انصار کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے حب الانصار ایۃ الایمان وبغض الا نصار ایۃ النفاق (صحیحین) انصار مدینہ کے ساتھ محبت ایمان کی نشانی ہے جب کہ ان کے ساتھ بغض اور عداوت رکھنا نفاق کی علامت ہے اللہ تعالیٰ نے تو ان کے اخلاص کی گواہی دی ہے۔ اب جو کوئی ان سے عداوت رکھے گا۔ وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوگا۔ انصار کا ایثار : انصار کے مہاجرین کے ساتھ خلوص ، محبت اور ایثار کے بہت سے واقعات کتب احادیث میں موجود ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے مہاجر بھائیوں کی دل کھول کر مدد کی۔ انہوں نے مکانات ، زمینیں ، باغات اور کاروبار سب مہاجرین میں تقسیم کردیے۔ حضور ﷺ نے مواخات کا بہترین نظام قائم کیا اور ایک ایک انصار اور ایک ایک مہاجر کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔ ان دینی بھائیوں نے اپنا اپنا آدھا مکان زمین ، باغ مہاجر بھائیوں کو پیش کردیا۔ ان کو کاروبار میں شریک کرلیا اور اس طرح اخوت اسلامی کی بہترین نمونہ پیش کیا۔ بخاری شریف میں آتا ہے کہ ان کا یہ بھائی چارہ اس قدر پختہ تھا کہ ابتدائی دور میں ایک دینی بھائی فوت ہوجاتا تو دوسرے کو اس کی وراثت سے حصہ ملتا۔ ترمذی شریف میں آتا ہے کہ مہاجرین زیادہ تر تجارت پیش لوگ تھے جو کھیتی باڑی کرنا نہیں جانتے تھے۔ جب مہاجرین کو کھیتی باڑی میں بھی شریک کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو کھیتی باڑی کرنا جانتے ہی نہیں۔ ہم سے یہ کام کیسے ہوگا ؟ اس پر انصار نے کہا کہ باغات اور کھیتوں میں کام ہم کریں گے مگر اپنے مہاجر بھائی کو پیداوار کا نصف حصہ ضرور دیں گے۔ پھر مہاجرین نے حضور ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ انصار نے ہمارے ساتھ اس قدر ایثار کا سلوک کیا ہے کہ سارا ثواب یہ سمیٹ کرلے گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا ، تم فکر نہ کرو اور اپنے انصار بھائیوں کے لئے دعا کردیا کرو اللہ تمہیں بھی ان جیسا اجر عطا فرمائے گا۔ چناچہ مہاجرین اپنے انصاری بھائیوں کے لئے دعائیں کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بہترین اجر عطا فرمائے۔ خود پر مہاجرین کو ترجیح کے واقعات : ترمذی شریف کی روایت میں انصار کے ایثار اور مہاجرین کو خود پر ترجیح کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ کسی انصاری کے گھر مہمان آگیا۔ اس وقت صاحب خانہ کے پاس صرف اس قدر کھانا تھا جس سے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے پیٹ بھر سکتے تھے۔ میزبان نے اپنی بیوی سے کہا کہ کسی طرح بچوں کو بہلا پھسلاکر سلادو اور جو کھانا موجود ہے۔ وہ مہمان کو پیش کردو۔ ساتھ ہدایت بھی کردی کہ جب کھانا پیش کرو تو چراغ کو گل کردینا تاکہ مہمان کو علم نہ ہوسکے کہ گھر والے کھانا نہیں کھا رہے ہیں۔ بیوی نے ایسا ہی کیا اور سارا کھانا مہمان کو کھلادیا۔ پھر جب صبح کے وقت وہ انصاری مسلمان حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری رات کی مہمان نوازی اور ایثار کا ذکر اللہ نے قرآن میں بیان کردیا ہے اور پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ویئوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ، یعنی خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب بنی نضیر کی جائیدادیں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں تو حضور ﷺ نے انصار مدینہ کے سرداران حضرت سعد بن معاذ ؓ اور سعد بن عبادہ ؓ کو طلب فرمایا۔ یہ دونوں حضرات قبیلہ اوس اور خزرج کے سردار تھے۔ آپ نے بہت سے لوگوں کی موجودگی میں ان سرداروں سے فرمایا کہ اللہ کی مہربانی سے ہمیں بنی نضیر سے بہت سا مال واسباب حاصل ہوا ہے۔ مہاجرین کی مالی حلت کمزور ہے ، اگر تم اجازت دو تو یہ مال مہاجرین میں تقسیم کردیا جائے ، اس طرح آپ لوگوں پر مہاجرین کا بوجھ بھی کم ہوجائے گا ۔ ان انصار سرداروں نے بخوشی اجازت دے دی کی یہ سارا مال مہاجرین میں تقسیم کردیا جائے۔ انہوں نے یہ پیشکش بھی کی کہ ہم نے مہاجرین کی امداد کے طور پر جو کچھ ان کو دے رکھا ہے۔ وہ بھی انہی کے پاس ہی رہے گا۔ اور یہ مال بھی انہی میں تقسیم کردیا جائے ، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ یہ بھی انصار کے ایثار کا ایک نمونہ تھا کہ کس طرح انہوں نے مہاجرین کو خود پر ترجیح دی۔ انصار اور مہاجرین کی آزمائش : دن سے محبت اور ان کے ایثار اور قربانی کی آزمائش انصار اور مہاجرین دونوں گروہوں کی ہوتی رہتی تھی۔ جب بھی اللہ کے دین کے لئے جانی اور مالی قربانی کی ضرورت پڑتی دونوں گروہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ ایک موقعہ پر حضرت عمر ؓ نے چار سو دینار کی ایک تھیلی خادم کے ہاتھ حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ کے پاس بھیجی اور کہلا بھیجا کہ یہ امیر المومنین کی طرف سے تمہارے لئے تحفہ ہے۔ یہ تھیلی پیش کرنے کے بعد خادم حضرت عمر ؓ کی ہدایت کے مطابق تھوڑی دیر کے لئے وہاں ٹھہر گیا انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے ہدیہ قبول کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعدیہ رقم محتاجوں میں تقسیم کرنا شروع کردی۔ سارا مال تقسیم کردیا اور اپنے لئے ایک دینار بھی نہ رکھا۔ یہ ساری رپورٹ خادم نے واپس آکر حضرت عمر ؓ کی خدمت میں پیش کردی۔ ایسی ہی ایک تھیلی حضرت عمر ؓ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کے پاس ہدیتاً بھیجی۔ انہوں نے بھی قبول کرلی اور پھر اسے تقسیم کرنا شروع کردیا۔ جب سارے دینار اختتام کو پہنچنے والے تھے تو آپ کی بیوی نے کہا کہ ہم خود بھی تو مستحق ہیں ، کچھ اپنے لئے بھی رکھ دیا ہوتا۔ اس وقت صرف دو دینار باقی تھے ، آپ نے خادم کو فرمایا کہ یہ بیوی کو دے دو ۔ پھر یہ رپورٹ بھی حضرت عمر ؓ کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراع ؓ (مہاجر) اور حضرت معاذ بن جبل ؓ (انصاری) آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اللہ نے ان کے مزاج بھی یکساں بنادیے ہیں اور ان دونوں حضرات نے دوسروں کو خود پر ترجیح دے کر ایثار وقربانی کی مثال قائم کردی ہے۔ میدان جنگ میں مجاہدین کے ایثار اور ایک دوسرے پر ترجیح کا یہ واقعہ بھی مشہور ہے۔ کئی زخمی میدان میں پڑے تھے۔ ان میں سے ایک نے پانی طلب کیا ۔ پانی کا پیالہ پیش کیا گیا تو اس نے دوسرے زخمی مجاہد کی طرف دیکھا جو زخموں کی شدت سے کراہ رہا تھا۔ اس کو بھی پانی کی ضرورت تھی۔ پہلے مجاہد نے پانی پلانے والے کو کہا کہ اس زخمی کو پانی کی زیادہ ضرورت ہے لہٰذا یہ پیالہ اس کو پیش کردو۔ جب وہ آدمی پانی لے کر اس کے پاس پہنچا تو اس نے خود پر تیسرے زخمی کو ترجیح دیتے ہوئے پانی اس کی طرف بھیج دیا۔ اس طرح چلتے چلتے پانی کا یہ پیالہ ساتویں زخمی تک پہنچا مگر کسی نے بھی پانی نہ پیا اور سب کے سب اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ، انہوں نے پانی کی بجائے جام شہادت ہی نوش فرمایا۔ اللہ نے ایسے ایثار پیشہ لوگوں کی تعریف فرمائی ہے۔ اگر ان میں نفرت اور حسد کا جذبہ ہوتا تو یہ جماعت کبھی ترقی نہ کرسکتی۔ وہ لوگ کسی کے مال ، عزت ، عہدہ وغیرہ پر حسد نہیں کرتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے لئے نہایت خلوص کا مظاہرہ کرتے تھے۔ بخل سے بچائو : آخر میں اللہ نے فرمایا ومن یوق شح نفسہ اور جو کوئی اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو یقین جانو فاولئک ھم المفلحون ، کہ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ بخل بدترین خصلت ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے اتقوا الظلم والبخل لوگو ! ظلم اور بخل سے بچو۔ دوسروں پر ظلم و زیادتی کی وجہ سے ہی پہلی قومیں ہلاک ہوئیں۔ جن لوگوں نے لوگوں کے خون بہائے ان کے اموال پر قبضہ کیا۔ وہ اس دنیا میں بھی تباہ ہوئے اور آخرت میں بھی جہنم کے کندہ ناتراش بنے۔ اس طرح حرص اور بخل بھی تباہ کن بیماری ہے۔ فرمایا اس سے بچو ورنہ یہ تمہیں بھی ہلاک کردے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا ، یادرکھو ! جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے جارہا ہے ، یا تبلیغ دین کے مشن پر ہے۔ علم دین حاصل کرنے کے لئے جارہا ہے یا حج وعمرہ کے سفر پر ہے اور پھر اس کے چہرے پر راستے کا گرد و غبار پڑجاتا ہے تو فرمایا کہ یہ گردوغبار اور دوزخ کا دھواں کبھی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے مطلب یہ کہ جس شخص کے چہرے پر اللہ کے راستے میں چلتے ہوئے گردوغبار پڑے گا۔ وہ کبھی دوزخ میں نہیں جائے گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جس شخص کے قلب میں ایمان موجود ہے وہاں بخل داخل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بخل ایمان کے منافی چیز ہے۔ ایسا آدمی مومن نہیں ہوگا۔ بلکہ کافر یا منافق ہوگا۔ مطلب یہ کہ سچے ایماندار کے دل میں بخل نہیں ہوتا۔ تو فرمایا جس کو بخل سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ آخرت میں کامیاب ہوں گے اور ان میں انصار اور مہاجرین دونوں گروہ شامل ہیں۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لئے جو آئے ان کے بعد وہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! بخش دے ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے داخل ہوئے ایمان میں۔ اور نہ رکھ ہمارے دلوں میں کھوٹ ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے۔ اے ہمارے پروردگار ! بیشک تو شفقت کرنے والا مہربان ہے

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ نے بنی نضیر کے یہودیوں پر مسلمانوں کے غلبے کا ذکر کیا اور پھر اس ضمن میں مال فے کے احکام اور اس کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا اللہ نے اس مال کے مستحقین کے طور پر فرمایا کہ اس کے حقدار اللہ اور اس کے رسول اور اس کے قرابتدار ہیں۔ پھر یہ مال یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ درمیان میں اللہ نے اسلام کے نظام معیشت کا یہ اصول بھی ذکر کردیا کہ مال و دولت محض دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اس کا بہائو نیچے کی طرف کمزورطبقات تک ہونا چاہیے۔ پھر اللہ نے نادار مہاجرین کو حقدار ٹھہرایا جو اپنے گھر بار اور سازو سامان چھوڑ کر اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کر آئے۔ پھر ان انصار مدینہ کا ذکر کیا جنہوں نے مہاجرین کی بڑھ چڑھ کر میزبانی کی اور انہیں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں پیش کردیں۔ اللہ نے ان کے اوصاف بھی بیان فرمائے کہ وہ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں اور انہیں ملنے والی اشیاء پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی یا حسد کا مادہ نہیں رکھتے۔ فرمایا یہ ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں اور بخل سے پرہیز کرتے ہیں کیونکہ بخل کی بیماری سے بچ جانے والے لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ انصار اور مہاجرین کے گروہوں کا تفصیلی تذکرے کرنے کے بعد اب اللہ نے تیسرے گروہ کا ذکر کیا ہے جو ان دو گروہوں کے بعد میں آنے والے ہیں اور اس کے ساتھ ان کی دعائوں کا ذکر کیا ہے جو وہ اپنے سے پہلے والے بھائیوں کے حق میں کرتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے والذین جآء و من بعدھم اور وہ لوگ بھی مال فے کے حقدار ہیں جو مہاجرین اور انصار کے بعد آئے۔ مفسرین کا اس بارے میں قدرے اختلاف ہے کہ بعد میں آنے والوں سے کون سے لوگ مراد ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے ابتداء میں ہی ہجرت کرلی وہ مہاجرین کہلائے۔ اسی طرح جن انصارنے اولین مہاجرین کو سہارا دیا وہ انصار کہلائے ، مگر جنہوں نے کچھ عرصہ بعد ہجرت کی اور مدینے کے جو لوگ بعد میں ایمان لائے ، یہ دونوں گروہ من بعدھم ، میں آتے ہیں۔ تاہم صحیح بات یہ ہے کہ من بعدھم میں صرف خیرالقرون کے لوگ ہی شامل نہیں بلکہ ان کے بعد قیامت تک آنے والی پوری امت کے لوگ شامل ہیں۔ اس میں وہ طبقہ بھی شامل ہے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لایا۔ پھر اس کے بعد تابعین ، تبع تابعین اور ان کے بعد آنے والے تمام امتی شامل ہیں اور اللہ نے ساری امت کے مستحقین کے لئے مال فے میں حصہ رکھا ہے چناچہ جب عراق اور دیگر ممالک پر اسلام کا غلبہ ہوا تو حضرت عمر ؓ نے وہاں کی زمینوں کو تقسیم نہیں کیا بلکہ بیت المال کے ساتھ وابستہ رکھا تاکہ بعد میں آنے والے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسی طرح خیبر کی کچھ زمینیں تو تقسیم کردی گئی تھیں۔ مگر کچھ بیت المال میں داخل تصور ہوتی تھیں۔ مقصد یہی تھا کہ اگر ان کو تقسیم کردیا تو یہی لوگ یا ان کے وارث فائد اٹھائیں گے اور اگر یہ مشترکہ ملکیت میں رہیں تو آمدہ نسلیں بھی ان سے مستفید ہوسکیں گی۔ متاخرین کی متقدمین کے لئے دعائیں : پھر ان کے بعد میں آنے والوں کی اللہ نے یہ صفت بیان کی ہے کہ یہ لوگ خواہ ان کا تعلق قیامت تک کسی زمانے سے ہو ، یہ اپنے سے پہلوں کے لئے اس طرح دعائیں کرتے ہیں۔ یقولون ربنا اغفرلنا کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ہماری غلطیوں کو معاف فرمادے۔ ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان ، اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جنہوں نے ہم سے پہلے ایمان میں سبقت کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے جو ایماندار بھائی ہم سے پہلے گزرے ہیں۔ ان کے گناہوں ، کوتاہیوں اور لغزشوں سے بھی درگزر فرما۔ ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا۔ اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لئے کھوٹ نہ رکھ جو ایمان لاچکے ہیں۔ ایک مسلمان کی ہمیشہ یہ دعا ہونی چاہیے کہ اس کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں کینہ ، بغض ، عناد یا عداوت نہ ہو ، شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت سب مسلمانوں کے لئے ہے جو اگلوں کا حق مانیں اور انہی کے پیچھے چلیں اور ان سے بیر نہ رکھیں اور نہ ہی ان سے دشمنی اور عداوت رکھیں۔ امام مالک (رح) کا قول ہے کہ جو شخص صحابہ کرام ؓ سے بغض رکھتا ہے اور ان کی بدگوئی کرتا ہے ، اس کے لئے مال فے میں کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس مال میں حصہ ان لوگوں کے لئے ہے جو سابقین کے حق میں بخشش کی دعائیں کرتے ہیں نہ کہ ان کو گالیاں دیتے ہیں۔ بعد میں آنے والے وہی اس مال کے حقدار ہوسکتے ہیں جو اگلوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ متاخرین کو اس بات کا سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ سابقین اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں کوئی منفی لب کشائی نہ کریں ، نہ ان کی عیب جوئی کریں اور نہ بدگوئی کریں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ متاخرین متقدمین کے لئے بخشش کی دعائیں مانگتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ متقدمین کے آپس میں ……اختلاف اور لڑائی جھگڑے بھی ہوں گے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے درمیان صفین نامی جنگ ہوئی۔ صحابہ کرام ؓ کے درمیان ایک جنگ جنگ جمل کے نام سے بھی مشہور ہے اس کے باوجود متاخرین پابند ہیں کہ وہ متقدمین کے لئے دعائیں کریں۔ فرماتے ہیں کہ ہم سے ان کے اختلاف کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ بلکہ اختلافات اور تنازعات کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ ہم ان کے لئے بخشش کی دعائیں کریں۔ البتہ اگر ہم ان سابقین سے عداوت رکھیں گے تو لعنت کے مستحق ہوں گے اور مجرم ٹھہریں گے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) دوسری کتابوں کے حوالے اسے اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ کسی نے امام زین العابدین (رح) کے سامنے حضرت عثمان ؓ پر تنقید کی تو آپ نے پوچھا کیا تم مہاجرین میں سے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا ، کیا تم انصار میں سے ہو ؟ اس شخص نے پھر نفی میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ تم سابقین کے بارے میں بدگوئی کرتے ہو لہٰذا تم اس تیسرے طبقے میں بھی نہیں آئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ وہ لوگ جو ان کے بعد آئے وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان میں ہم سے سبقت حاصل کرچکے ہیں۔ بھلا تم بدگوئی کرنے والے اس طبقے میں کیسے شامل ہوسکتے ہو ، یہاں سے فوراً چلے جائو۔ امام زین العابدین (رح) سے ایک لمبی دعا بھی منقول ہے جس کی ابتداء ان الفاظ سے ہوتی ہے اللھم صل علی اصحب محمد اے اللہ ! اپنے نبی کے صحابہ ؓ پر رحمت نازل فرما۔ پھر آگے دعا میں ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو حضور ﷺ پر ایمان لائے ، آپ کی رفاقت کی ، ہر قسم کی تکالیف برداشت کیں اور آپ کی جماعت کو بڑھایا۔ ان لوگوں نے خاندان ، قوم ، زن و فرزند کو چھوڑا اور دین کی تائید کی۔ خود اپنے عزیز و اقارب سے جنگ کی حتی کہ باپ بیٹا آمنے سامنے آنے سے بھی نہ چوکے۔ عرض کیا ، اے پروردگار ! ان پر رحمت نازل فرما اور ان کے علاوہ والتابعین لھم باحسان ، ان پر بھی رحمت نازل فرما جو نیکی کے ساتھ ان کا اتباع کرنے والے ہیں۔ غرضیکہ امام صاحب (رح) نے اپنی دعا کے اندر ہی اصحاب رسول کی تعریف فرمائی۔ لہٰذا ان بزرگان پاک باز کے خلاف لب کشائی کی ہرگز اجازت نہیں۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ کی ہمیشہ تعریف ہی کرنی چاہیے اور ان کے متعلق ؓ ہی کہنا چاہیے یعنی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا۔ اگر کوئی اصحاب رسول کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ ایسا شخص مال فے میں اپنا استحقاق کھو بیٹھتا ہے۔ الغرض ! فرمایا کہ مہاجرین اور انصار کے بعد آنے والے لوگ سابقین کے لئے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پروردگار ! ہمارے دل میں ان کے لئے کھوٹ نہ رکھ۔ امام ابوحنیفہ ؓ کے استاد امام شعبی (رح) نے دیکھا کہ بعض رافضی حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کو برا بھلا کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ تو یہودیوں سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہودیوں سے پوچھا جائے کہ تمہاری جماعت کے بہترین لوگ کون ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی پوری امت میں بہترین لوگ ہیں۔ اسی طرح جب عیسائیوں سے دریافت کیا جائے کہ تمہاری جماعت کے بہترین لوگ کون ہیں ، تو وہ کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے حواری بہترین لوگ ہیں۔ جن کو آپ کی رفاقت نصیب ہوئی اور انہوں نے آپ کی مدد کی۔ فرماتے ہیں کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اگر رافضی سے یہی سوال کیا جائے تو وہ اصحاب رسول کو بدترین لوگ بتائے گا۔ اس کے زعم کے مطابق چار خلفائے راشدین ؓ میں سے تین خلفاء نعوذ باللہ ایمان سے ہی عاری تھے۔ رافضی ان کو منافق قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصحاب ثلاثہ اہل بیت بےبغض رکھتے تھے۔ اس کے برخلاف حضور ﷺ کا فرمان یہ ہے۔ کہ کسی مسلمان کے خلاف بلاوجہ دل میں کھوٹ نہیں رکھنا چاہیے چہ جائیکہ اصحاب محمد ﷺ کے خلاف لب کشائی کی جائے گی جن کا درجہ تو پوری امت کے لوگوں سے بلند ہے۔ حضرت انس ؓ کو ہدایت : حضرت انس ؓ سے رایت ہے کہ حضور ﷺ نے مجھے خطاب کرکے فرمایا یا بنی اے بیٹے ! اگر تمہاری صبح اور شام ایسی گزرے کہ تمہارے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کھوٹ نہ ہو تو اس کاربند رہو کیونکہ یہ میرا طریقہ ہے۔ اور جو میرا طریقہ اختیار کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا خاص طور پر صحابہ کرام ؓ امت کا بہترین طبقہ ہیں۔ جن کے متعلق اللہ نے اپنی رضا کا اعلان فرمادیا ہے دیکھو قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے رضی اللہ عنھم ورضواعنہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ ان بزرگان نے دین کے قیام ، جماعت کے استحکام اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت و اطاعت میں ہر چیز قربان کردی ، لہٰذا ان کے متعلق دل میں کھوٹ رکھنا منافقت ہی ہوسکتی ہے۔ حرف آخر : بہرحال اللہ نے تیسرے طبقے کا حال اس طرح بیان فرمایا ہے کہ انصارو مہاجر کے بعد آنے والے تمام طبقات دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! بخش دے ہم کو ہماری غلطیاں اور کوتاہیاں ، اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی معاف کردے جو ہم سے ایمان میں سبقت کرچکے ہیں اور پھر تیری بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں۔ اے پروردگار ! ہمارے دلوں میں ان بھائیوں کے لئے کھوٹ ، نفرت ، یا عداوت نہ رکھ۔ ربنا انک رء وف رحیم اے ہمارے پروردگار بیشک تو بہت ہی شفقت کرنے والا اور ازحد مہربان ہے۔ جس طرح تو نہایت ہی شفقی اور مہربان ہے اسی طرح ہمارے دلوں میں سابقین کے لئے شفقت اور رحمت کر رکھ دے ، ان کے لئے عداوت اور نفرت کو دور کردے ہم ان کا ذکر خیر اور ان کے لئے دعا ہی کریں اور ان کی تعریف ہی بیان کریں ۔ احادیث کی تمام کتب میں فضائل صحابہ ؓ اور فضائل امت کے ابواب موجود ہیں۔ ان بزرگوں کے متعلق زبان سے اچھی بات ہی نکالنی چاہیے۔ اور ان پر نکتہ چینی ، عیب جوئی یا بدگوئی نہیں کرنی چاہیے۔ غرضیکہ اللہ نے بعد میں آنے والوں کا دستور العمل بیان کردیا ہے۔
Ayahs 59:11–17

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو منافق ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اپنے بھائی بندوں سے جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے کہ اگر تم نکالے گئے اپنے گھروں سے تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ اور ہم تمہارے بارے میں کسی کی بات نہیں مانیں گے کبھی بھی۔ اور اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے گئے تو یہ نہیں نکلیں گے ان کے ساتھ۔ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔ اور اگر مدد کریں گے بھی تو پشت پھیر کر بھاگیں گے ، پھر کہیں بھی ان کی مدد نہیں کی جائے گی

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) البتہ تم زیادہ شدید ہو ان کے سینوں میں خوف کے اعتبار سے بہ نسبت اللہ کے۔ جو اسی وجہ سے کہ یہ ایسی قوم ہے جو سمجھ نہیں رکھتی

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ نہیں لڑیں گے تمہارے ساتھ اکٹھے مگر بستیوں میں جو محفوظ ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے۔ ان کی لڑائی آپس میں شدید ہے۔ آپ ان کو گمان کریں گے اکٹھے حالانکہ ان کے دل جدا جدا ہیں یہ اس وجہ سے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

جیسے ان لوگوں کی مثال جو ان سے پہلے گزرے ہیں قریب زمانہ میں۔ چکھا انہوں نے وبال اپنے معاملے کا ، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

جیسا کہ مثال شیطان کی کہ جب کہتا ہے انسان کے لئے کہ تو کفر کر ، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ بیشک میں بیزار ہوں تجھ سے۔ میں تو خوف کھاتا ہوں اللہ سے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پس انجام ان دونوں کا یہ ہوا کہ وہ دونوں دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ، اور یہی ہے بدلہ ظلم کرنے والوں کا

منافقین کی اسلام دشمنی : گزشتہ دروس میں بنی نضیر کے یہودیوں کی بدعہدی اور ان کے محاسبے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان منافقین کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہودیوں کو عہد شکنی پر اکسایا اور اہل ایمان کے خلاف ان کی مدد کا وعدہ کیا۔ ترتیب نزولی کے اعتبار سے واقعہ کا یہ حصہ پہلے آنا چاہیے تھا اور سورة کا ہپلا رکوع اس کے بعد۔ مگر واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر یہودیوں کی سزا یابی کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اور اس کے اسباب کا ذکر اب بعد میں آرہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے جب مسلمانوں نے بنی نضیر کا محاصرہ کرلیا تو یہودی قلعہ بند ہوگئے اور اہل اسلام کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ باہر نکل کر جنگ کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ جب یہ محاصرہ ذرا طول پکڑ گیا تو اس دوران میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو مسلمانوں کے خلاف سازش کرنے کا موقع مل گیا اس نے بنی نضیر کو شہ دی کہ مسلمانوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنا اور نہ ہی اپنی جلا وطنی قبول کرنا اگر مسلمان تمہیں ملک بدر کریں گے تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی نکل کھڑے ہوں گے اور اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کرنا چاہیں گے تو ہم تمہاری پوری پوری مدد کریں گے۔ ایک اور قبیلہ بنی غطفان بھی مسلمانوں کا شدید مخالف تھا ، منافقوں نے بنی نضیر کو یقین دلایا کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی صورت میں یہ قبیلہ بھی ان کی مدد کے لئے پہنچے گا۔ ارشاد ہوتا ہے الم ترالی الذین نافقوا کیا تم نے ان منافقوں کی طرف نہیں دیکھا ؟ منافقت کی تاریخ 6 ھ میں شروع ہوئی۔ جنگ بدر کے تھوڑا عرصہ بعد اپنی سازشوں کی وجہ سے بنی قینقاع کے یہودی جلا وطن ہوچکے تھے۔ بنی نضیر جلا وطن ہونے والا دوسرا قبیلہ ہے۔ تیسرا یہودی قبیلہ بنی قریظہ تھا جو اپنی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے 6 ھ میں جنگ خندق کے بعد ہلاک کیے گئے۔ فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جو منافق ہوئے۔ یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتب ، وہ اہل کتاب میں سے کفر کرنیوالے اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں۔ ان سے مراد بنی نضیر کے یہودی ہیں۔ منافقوں کے ان کے ساتھ تعلقات اور لین دین تھا۔ اس لئے ان کو بھائی بند کہا گیا ہے۔ ان یہودیوں سے منافقین نے کہا لئن اخرجتم اگر تمہیں تمہارے گھروں ، زمینوں اور باغات سے نکالا گیا لنخرجن معکم تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے ولا نطیع فیکم احد ابدا ، اور تمہارے بارے میں کسی کی بات نہیں مانیں گے۔ نیز کہنے لگے وان قوتلتم لننصرنکم اور اگر مسلمان تم سے جنگ کریں گے تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ غرضیکہ منافقوں نے یہودیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر اللہ نے فرمایا واللہ یشھد انھم لکذبون ، کہ اللہ گواہی دیتا ہے۔ کہ منافق جھوٹے ہیں۔ یہ محض شہ دینے والے ہیں ، اگر یہودیوں پر کوئی افتاد پڑ ی تو وعدہ خلاف کریں گے۔ لئن اخرجوا اگر ان کو ملک بدر کیا گیا۔ لا یخرجون معھم تو یہ منافق ہرگز ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ ولئن قوتلوا لا ینصرونھم اور اگر یہودیوں سے جنگ کرنے کا موقع آیا تو منافق ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے۔ یہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ یہ یہودیوں کو اکسا کر مسلمانوں سے لڑادیں گے ، خود پیچھے رہیں گے اور ان کو مروا دیں گے ولئن نصروھم ، اور اگر کبھی یہ بادل نخواستہ ان کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوئے لیولن الادبار تو پیٹھ پھیر کر بھاگ آئیں گے۔ ثم لا ینصرون پھر کہیں بھی ان کی مدد نہیں کی جائے گی اور ان کو کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ یہ منافق سازشی لوگ ہیں اور محض سازشیں کرنا جانتے ہیں ، یہ کسی کی مدد کرنے اور لڑنے مرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔ اہل ایمان کے لئے تسلی : اللہ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے لا نتم اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ ، بااعتبار خوف تم ان کے سینوں میں اللہ کی نسبت زیادہ شدید ہو۔ حالانکہ مخلوق کے دل میں خالق کا خوف ہونا چاہیے۔ مگر یہ لوگ اتنا اللہ سے نہیں ڈرتے جتنا تم سے ڈرتے ہیں۔ ان کو اپنی کرتوتوں کا علم ہے۔ اور جانتے ہیں کہ اگر ان کا پردہ فاش ہوگیا۔ تو مسلمان ان کو نہیں چھوڑیں گے لہٰذا وہ دل میں سخت خوف محسوس کرتے ہیں۔ ذلک بانھم قوم لا یفقھون ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بےسمجھ لوگ ہیں۔ اپنے نفع نقصان کو نہیں پہچانتے اور خفیہ سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ جن کا ایک نہ ایک دن ظاہر ہونا لازمی ہے اور پھر یہ اپنی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے پکڑے جائیں گے۔ اگر ان لوگوں میں نفاق کی بجائے اللہ کا خوف ہوتا تو ایسی شرارتیں نہ کرتے۔ اس کے برخلاف مسلمانوں میں جرات کا جو مادہ پیدا ہوا ہے وہ ان کے ایمان کی وجہ سے ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ منافق لوگ یہودیوں کو کتنی بھی شہ دے لیں لا یقاتلونکم جمیعا ، وہ سارے مل کر بھی تم نے جنگ نہیں کریں گے۔ اگر بادل نخواستہ انہیں مقابلہ کرنا بھی پڑا تو کھل کر سامنے آنے کی جرات نہیں کریں گے۔ الا فی قری محصنۃ او من وراء جدر بلکہ محفوظ بستیوں یا دیوار کے پیچھے سے مطلب یہ ہے کہ اگر ان پر جنگ تھوپ ہی دی جائے تو یہ قلعہ بند ہوجائیں یا کسی دیوار ، پہاڑ ، یا درخت کی آڑلے کر تیر چلاتے رہیں گے۔ یہ لوگ میدان میں نکل کر دست بدست لڑائی نہیں لڑ سکتے کیونکہ ان کے دلوں میں تمہارا رعب بیٹھ چکا ہے۔ ان کے دلوں میں وہ ایمان کی روشنی ہی نہیں جو مسلمانوں کے پاس ہے۔ اہل ایمان تو ذاتی مفاد سے ہٹ کر خدا کی رضا کے لئے میدان میں اترتے ہیں ، انہیں دین اسلام کی سربلندی مطلوب ہوتی ہے اور وہ آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب بھی ہوتے ہیں مگر یہودی ان چیزوں سے محروم ہیں اس لئے وہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ بےمثالی جرات وبہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہودونصاریٰ کے خلاف بہت سی جنگیں لڑی ہیں مگر یہ لوگ کبھی میدان میں نکل کر مقابلہ نہیں کرتے۔ صلاح الدین ایوبی (رح) کا دور دیکھ لیں۔ عیسائیوں کا کردار سخت ظالمانہ تھا۔ یہ لوگ ترکوں کے ساتھ آمنے سامنے مقابلہ نہیں کرسکتے تھے لہٰذا انہوں نے آتشیں اسلحہ تیار کیا تاکہ وہ چھپ چھپا کر ہی وار کرتے رہیں۔ حضرت مولانا شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی (رح) اس مقام پر لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ اہل یورپ نے مسلمانوں کی تلوار سے عاجز آکر آتشیں اسلحہ اور نئے نئے طریق جنگ ایجاد کیے۔ چناچہ آج دنیا میں جدید ترین ہتھیار از قسم بندوق ، توپ ، راکٹ ، میزائل ، ایٹم بم اور طرح طرح کے کیمیائی ہتھیار ہیں جن کی زد میں آکر لاکھوں بےگناہ شہری لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ جرمنی ، روس اور برطانیہ ہسپتالوں پر بم برساتے رہے ہیں۔ امریکہ نے جاپان پر تاریخ کا پہلا ایٹم بم برسایا۔ یہ ظالم تو بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں پر بھی حملہ آور ہونے سے باز نہیں آتے۔ یہ سب دھوکے اور فریب کا کاروبارکر رہے ہیں۔ یہ لوگ کبھی آمنے سامنے مقابلہ نہیں کرسکتے بلکہ دھوکے سے اوپر سے پتھر ، تیزاب یا بوتل بم پھینک سکتے ہیں۔ یہ کوئی بہادری کا کام نہیں بلکہ محض فتنہ و فساد ہے۔ یہودیوں اندرونی۔۔۔ فرمایا اندرونی طور پر ان کا حال یہ ہے باسھم بینھم شدید ان کی آپس کی لڑائی شدید ہے۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار رہتے ہیں تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتی آپ گمان کرتے ہیں کہ یہ لوگ آپس میں اکٹھے ہیں۔ حالانکہ ان کے دل جدا جدا ہیں یہ بظاہر تو ایک دوسرے کے ساتھ متفق نظرآتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے دل نااتفاقی کا شکار ہیں۔ چونکہ ان کے مقاصد مختلف ہیں۔ لہٰذا یہ کسی معاملے میں متفق نہیں ہوسکتے۔ فرمایا ذلک بانھم قوم لا یعقلون ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ عقل وسمجھ سے عاری ہیں۔ یہ دین توحید سے محروم ہیں اور آخرت کے متعلق بھی ان کا عقیدہ درست نہیں ہے۔ ان کے پیش نظر محض دنیاوی عیش و عشرت یا حصول اقتدار ہے۔ فرمایا کمثل الذین من قبلھم قریبا ، ان یہودیوں کی مثال قریب زمانے کے لوگوں کی سی ہے۔ قریب زمانے میں بنو قینقاع کی جلاوطنی کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ غداری کی تو انہیں اپنے گھر بار اور اموال سے ہاتھ دھونا پڑے اس سے پہلے بدر کے مقام پر مشرکوں کا انجام بھی سب کے سامنے تھا۔ وہ بڑی سج دھج اور شان و شوکت کے ساتھ اہل ایمان کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے نکلے تھے مگر ان کا بدترین انجام تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہوگیا۔ فرمایا ذاقوا وبال امرھم ، انہوں نے اپنے معاملے کا وبال چکھ لیا۔ انہوں نے اپنی اسلام دشمنی کا نتیجہ نہ صرف اس دنیا میں پالیا بلکہ ولھم عذاب الیم ، ان کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب تیار ہے۔ منافقوں کی مثال : اگی آیت میں اللہ نے منافقوں کی مثال بھی بیان فرمائی ہے کمثل الشیطن ان کی مثال شیطان کی سی ہے۔ اذ قال للانسان اکفر وہ انسان کو اکساتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کردے فلما کفر پھر جب انسان ایسا کر گزرتا ہے قال انی بری منک تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں ، تو جان اور تیرا کام۔ مجھے تیرے اس کفر اور اس کے نتیجے سے کچھ واسطہ نہیں۔ انی اخاف اللہ رب العلمین ، میں تو سارے جہانوں کے پروردگار سے خوف کھاتا ہوں کہ کہیں اس کی گرفت میں نہ آجائوں شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ آدمی کو برے راستے پر لگا دیتا ہے جب وہ اس پر چل نکلتا ہے تو آپ الگ ہوجاتا ہے اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جو شیطان کے بتلائے ہوئے راستے پر چلے گا۔ وہ نقصان ہی اٹھائیگا۔ میدان بدر میں شیطان کی کا گزاری معلوم ہے۔ وہ سرداران قریش کے پاس بنی کنانہ کے سردار کی شکل میں آیا اور انہیں جنگ پر اکسایا۔ پھر جب دیکھا کہ مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے اتر رہے ہیں تو دم دبا کر بھاگا ، اور کہنے لگا کہ مجھے خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں میری اپنی جان ہی نہ ضائع ہوجائے۔ مشرک پیچھے سے آواز دیتے رہے کہ کہاں جا رہے ہو ، ادھر آئو ، مگر وہ بھاگ گیا۔ منافقوں کا بھی یہی حال ہے ، جس طرح بوقت ضرورت شیطان بھاگ جاتا ہے اسی طرح یہ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ مدنی دور میں کتنے ہی ایسے واقعات پیش آئے کہ منافق مسلمانوں کے سامنے مدینے سے نکلے مگر راستے سے ہی کسی بہانے سے واپس آگئے ۔ غزوہ احد کی مثال اس ضمن میں کافی ہے ۔ عبداللہ بن ابی تین سو ساتھیوں کے ساتھ نکلا تھا مگر میدان احد میں پہنچنے سے پہلے ہی واپس لوٹ آیا۔ قرآن میں موجود ہے کہ قیامت والے دن جب لوگ شیطان کو ملامت کریں گے کہ تو نے ہمیں وسوسہ اندازی کرکے دھوکے میں ڈالا اور برائی پر آمادہ کیا ، اب ہماری مدد کرو ، تو وہ کہے گا کہ میں نے تمہیں کفر ، شرک یا معصیت پر مجبور تو نہیں کیا تھا۔ میں نے تو صرف وسوسہ اندازی کی تھی ، باقی غلط کام تو تم نے خود کیے ۔ اب میں ذمہ دار ہیں ہوں۔ فلا تلو…………… …انفسکم (ابراھیم 22) اب مجھے ملامت نہ کرو۔ بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو کہ ہم نے شیطان کی بات کو کیوں مانا۔ شیطان اس وقت برات کا اظہار کردے گا۔ فرمایا منافقوں کی مثال شیطان کی ہے کہ جب وہ انسانوں سے کفر کروالیتا ہے تو ان سے برات کا اعلان کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت کا خوف ہے۔ اللہ نے فرمایا فکان عاقبتھما پس ان دونوں یعنی شیطان اور منافقین کا انجام یہ ہوا انھما فی النار خالدین فیھا ، کہ دونوں جہنم رسید ہوئے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اور وہاں سے کبھی نہیں نکالے جائیں گے۔ فرمایا وذلک جزآء الظلمین ، ظلم کرنے والوں کا بدلہ یہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کفر اور شرک سب سے بڑے ظلم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے والکفرون ھم الظلمون (البقرہ 254) اور فکر کرنے والے ہی ظالم ہیں نیز فرمایا ان الشرک لظلم عظیم (لقمن 13) شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ تو فرمایا ، ان ظالموں کا یہی انجام ہے کہ وہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
Ayahs 59:18–20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے ، اور چاہیے کہ دیکھے ہر نفس کہ اس نے آگے کل کے لئے کیا بھیجا ہے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ تعالیٰ باخبر ہے ان کاموں سے جو تم کرتے ہو

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور نہ ہونا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے فراموش کردیا اللہ تعالیٰ کو ، پس اللہ نے ان سے ان کی جانوں کو بھلا دیا۔ یہی لوگ ہیں نافرمان

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

نہیں برابر دوزخ والے اور جنت والے۔ جنت والے لوگ ہی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں

ربط آیات : پہلے اللہ نے منافقوں اور اہل کتاب کا ذکر فرمایا کہ یہ دونوں گروہ نافرمانوں میں شامل ہیں ، اور شیطان کے بہکاوے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پھر اللہ نے نافرمانوں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اور اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ نافرمانوں کی روش سے اپنے آپ کو بچائیں۔ آخرت کی فکر : اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے۔ یایھا الذین امنوا ، اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اتقوا اللہ ، اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو۔ مطلب یہ کہ منافق اور اہل کتاب تو خدا تعالیٰ اور آخرت سے بےخوف ہوچکے ہیں مگر تم ایسے نہ ہوجانا۔ اور دوسری بات یہ والتنظرنفس ما قدمت لغد ، اور ہر نفس کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ پھر فرمایا واتقوا اللہ ، اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ ان اللہ خبیر بما تعملون ، بیشک اللہ تعالیٰ خبر رکھنے والا ہے ان کاموں کی جو تم کرتے ہو اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، وہ تمہارے ذرہ ذرہ عمل سے واقف ہے اور پھر انہی اعمال کے مطابق جزا وسزا کا فیصلہ کریگا۔ تقویٰ کا مفہوم : اس آیت کریمہ میں اتقوا اللہ کا لفظ دو دفعہ آیا ہے جس کا معنی ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ پہلے تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈر کر اس کی اطاعت اختیار کرو اور اس کے مقررکردہ فرائض وواجبات کو ادا کرو اور دوسرے تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے معاصی سے بچ جائو۔ کفر ، شرک ، نفاق اور کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کرو جو اللہ کے غضب کو دعوت دینے والا ہو۔ غرضیکہ پہلے تقویٰ میں اوامرونواہی کی طرف اشارہ ہے یعنی اللہ کے احکام بجا لائو اور دوسرے تقویٰ میں گناہوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ پہلا تقویٰ عام ہے یعنی عام لوگوں کے لئے حکم ہے کہ وہ حدود شریعت کی حفاظت کریں ، اور دوسرا تقویٰ خاص لوگوں کے لئے ہے جو عام منہیات سے بچنے کے علاوہ مشتبہات اور مکروہات سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو پہلی بات عوام کے تقویٰ کے لئے اور دوسری خواص کے تقویٰ کے لئے ہے بہرحال یہ بنیادی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کی جائے اور معاصی سے بچنے کی کوشش کی جائے ا س میں ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور نیکی کا کام صحیح طریقے سے انجام دو وگرنہ اعمال کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہے بعض فرماتے ہیں کہ پہلا تقویٰ یہ ہے کہ اعمال حسنہ انجام دو اور برائی سے بچو ، اور دوسرا تقویٰ یہ ہے کہ اعمال کو دیکھو کیونکہ وہی اعمال کار آمد ہوں گے جو صحیح اور کھرے ہوں گے۔ کھوٹے اعمال کام نہیں دیں گے جن میں ریا ، شہرت بدعقیدگی یا کفر وشرک کی آلائش پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام کاموں کو دیکھ رہا ہے ، وہ ان سب کو جانتا ہے ، لہٰذا ہر نیک عمل خلوص نیت سے کرو تاکہ وہ مفید ہو۔ عربی زبان میں غد کا معنی آنے والا کل ہے یعنی وہ وقت جس سے پہلے ایک رات آتی ہو۔ مثلاً آج کے دن کے بعد رات آئے گی اور رات کے بعد جو دن آئے گا اور رات کے بعد جو دن آئے گا۔ وہ آج کے لحاظ سے کل ہے۔ کبھی کل سے مراد مطلق آنے والا وقت ہوتا ہے یعنی عربی زبان میں غد کا لفظ مستقبل کے لئے استعمال ہوتا ہے عربی ادب میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً ؎ ترجوا غدا وغدا کحاملۃ فی الحی لا یدرون ماتلد تم کل کی امید رکھتے ہو مگر کل تو اس حاملہ عورت کی طرح ہے جس کے متعلق کچھ علم نہیں کہ وہ کیا بنے گی۔ واعلم مافی الیوم والامس قبلہ ولکنی عن علم مافی غدعم میں تو آج کی بات جانتا ہوں اور جو کل گزر گیا ہے اس کے بارے میں بھی۔ لیکن جو کل آنے والا ہے اس کے علم سے بیخبر ہوں۔ اعازل مایدریک ان منیتی ایۃ ساعۃ فی الیوم اوفی ضحی الغد مجھے ملامت کرنے والوتم کیا جانتے ہو کہ میری موت کس گھڑی واقع ہوگی ، آج یا کل دوپہر کے بعد آئے گی۔ کل بن انثی وان طالت سلامتہ لا بدیوما علی الۃ الحدباء محمول ہر عورت کا بیٹا اگرچہ اس کی سلامتی کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو ، اسے ایک نہ ایک دن ٹیڑے آلے (جنازے کی چارپائی) پر سوار ہونا ہے گویا شاعر نے موت کو کل کے لفظ سے دردناک لہجے میں بیان کیا ہے۔ یالہف نفسی علی غد اذراح اصحابی والست برائح مجھے کل کے دن پر افسوس ہے جب کہ میرے ساتھی واپس آجائیں گے مگر میں پلٹ کر نہیں آسکوں گا۔ متی یحمل راحۃ من عمرہ یومان یوم قلی ویوم تنائی وہ آدمی راحت کی امید کب رکھ سکتا ہے اپنی عمر میں جس کی زندگی کے صرف دو دن ہیں ایک دن تو ناراضگی میں گزر جاتا ہے اور دوسرا جدائی میں۔ لا امس من عمر الزمان ولاغد جمع الزمان فکان یوم رضاک میری عمر میں نہ تو گزرے ہوئے کل کا کچھ اعتبار ہے اور نہ آنے والے دن کا۔ اگر زمانے کو اکٹھا کیا جائے تو وہی وقت صحیح ہوسکتا ہے جس میں تیری رضا حاصل ہوجائے۔ بہرحال غد کا لفظ کبھی تو مطلق زمانے پر بولا جاتا ہے اور کبھی اس کا اطلاق اگلے دن پر ہوتا ہے۔ تاہم اس آیت میں آمدہ کل سے قیامت کا دن مراد ہے اور قیامت کو کل کے ساتھ اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ جس طرح آنے والا کل یقینی ہے ، اسی طرح قیامت کا آنا بھی یقینی امر ہے۔ مسلم اور مسند احمد میں یہ روایت موجود ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی منذر ابن جریر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھے تھے ، دن کا ابتدائی حصہ یعنی پہلا پہر تھا کہ کچھ لوگ وارد ہوئے جن کے جسموں پر پھٹے پرانے کپڑے تھے اور وہ پائوں سے بھی برہنہ تھے۔ ان لوگوں نے اپنی تلواریں گلے میں لٹکائی ہوئی تھیں۔ انکی اکثریت قبیلہ مضر سے معلوم ہوتی تھی۔ یہ مسلمان مجاہد تھے۔ مگر نہایت شکستہ حالت میں ، نہ تن پر کپڑا اور نہ پائوں میں جوتا۔ حضور ﷺ نے ان کو دیکھا۔ تو آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ یہ لوگ فاقہ زدہ معلوم ہوتے تھے۔ آپ گھر تشریف لے گئے ، پھر باہر آئے اور بلال ؓ سے کہا ، اذان کہو کیونکہ زوال کا وقت ہوچکا تھا۔ اذان کہی گئی ، پھر ظہر کی نماز ادا ہوئی۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ اور سورة النساء کی پہلی آیت تلاوت فرمائی یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ…الایۃ ، اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا جن میں سے کچھ مرد بنا دیے اور کچھ عورتیں اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ تم پر نگران اور محافظ ہے پھر آپ (علیہ السلام) نے یہی آیت تلاوت فرمائی یا یھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد ، واتقو اللہ ، ان اللہ خبیر بما تعملون ، پھر آپ نے لوگوں کو ترغیب دلائی کہ ان مساکین کے لئے صدقہ پیش کرو۔ جس کے پاس درہم ہے وہ درہم دے ، جس کے پاس اناج ہے وہ ایک صاع اناج یا کھجور لے آئے یا توفیق ہے تو کپڑا لائے۔ چناچہ مجمع میں سے ایک شخص اپنے گھر سے نقدی کیا یک تھیلی بھر لایا جس کو وہ بمشکل اٹھار رہا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دو ڈھیر لگ گئے ایک ڈھیر کپڑوں کا اور دوسرا اناج کا۔ صحابی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کا چہرہ مبارک چمک رہا تھا ۔ جیسا کہ سونے کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ آپ خوش ہوگئے کہ اب ان مجاہدوں کا کام بن جائے گا۔ اس طرح گویا حضور ﷺ نے انسانی ہمدردیکا پروگرام سمجھا دیا۔ صدیق اکبر ؓ کا خطبہ : طبرانی نے ایک حدیث بیان کی ہے ، جس کو امام ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ یہ دراصل حضرت ابوبکرصدیق ؓ کا خطبہ ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے ۔ لوگو ! اما تعلمون انکم تغدون وتروحون لا جل معلوم فمن استطاع ان یقضی الاجل فی عمل اللہ فلیقض ولن تنالوا ذلک الا باللہ ، کیا تم نہیں جانتے کہ تم صبح کرتے ہو اور پچھلا پہر کرتے ہو ایک مقررہ وقت کے لئے پس تم میں سے جو آدمی استطاعت رکھتا ہے وہ اپنی زندگی میں ایسے اعمال انجام دے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہوں تو اسے ایسا کرگزرنا چاہیے (کیونکہ یہ مقررہ وقت ایک دن ختم ہوجانا ہے) اور تم یہ اعمال اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر انجام نہیں دے سکتے۔ لہٰذا ہر وقت خدا تعالیٰ سے نیک اعمال کی توفیق طلب کرنی چاہیے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ان قوما جعلوا اجالھم لغیرھم ، جن لوگوں نے اپنی زندگی کی پونجی اللہ کی رضا کی بجائے دوسرے کاموں میں صرف کردی قدموا علی ما قدموا انہوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ آگے بھیجا تھا ، اس کے بدلے میں ان کے حصے میں شقاوت ہی آئے گی کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کیا وقات کو ضائع کردیا ، اور جن لوگوں نے اللہ کی رضا والے کام کیے وہ سعادت مند ہوں گے۔ حضرت صدیق ؓ نے فرمایا این الجبارون الاولون ، پرانے جبار لوگ کہاں گئے۔ جنہوں نے بڑے بڑے شہر آباد کیے تھے اور ان کے گرددیواریں بنائیں مگر آج وہ پتھروں کے نیچے گڑھوں میں پڑے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں کسی کو کچھ علم نہیں کہ عالم برزخ میں ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آرہا ہے ۔ فرمایا لوگو ! ھذا کتب اللہ لا تفنی عجائبہفاستضیئو منہ یہ اللہ کی کتاب قرآن حکیم ہے جس کے عجائبات کبھی فنا نہیں ہوں گے لہٰذا اس کتاب سے روشنی حاصل کرو یعنی اس کی چمک اور اسکے بیان سے قیامت کے تاریکی والے دن کے لئے روشنی حاصل کرو۔ فرمایا ، اللہ نے قرآن میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ان کے گھرانے کا ذکر کیا ہے اور ان کی تعریف فرمائی انھم کانوا یسرعون فی الخیرات …………………خشعین (الانبیاء 90) یہ لوگ نیکیوں میں سبقت کرنے والے تھے اور ہمیں پکارتے تھے رغبت رکھتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے ، اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا ، یادرکھو ! لاخیر فی قوللایرادبہ وجہ اللہ والا خیر فی مال لا ینفق فی سبیل اللہ ولا خیر فی من یغلب جھلہ حلمہ ایسی بات میں کوئی بہتری نہیں جس سے اللہ کی رضا مراد نہ ہو۔ اور اس مال میں کوئی بہتری نہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کیا جاتا ، اور اس آدمی میں کوئی بہتری نہیں جس کی جہالت اس کی بربادی پر غالب ہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا لا خیر فی من یخاف فی اللہ لومۃ لا ئمۃ ، اور اس شخص میں بھی کوئی بہتری نہیں جو اللہ کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف کھاتا ہے۔ اس خطبے میں ماقدمت لغد کی تشریح آگئی ہے کہ انسان کے ساتھ کل قیامت کو جو معاملہ پیش آنے والا ہے اس نے اس کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔ اگلے جہان کی تیاری : غد کو اس لحاظ سے بھی قیامت کا دن کہہ سکتے ہیں کہ اس پوری دنیا کا کل زمانہ کا ایک دن ہے ، اور قیامت کا زمانہ ایک دن ہے۔ اسی لئے بعض بزرگان دین نے فرمایا ہے الدنیا یوما یہ ساری دنیا ایک دن کی مانند ہے جس دن میں ہم نے فرمایا ہے الدنیا یوما یہ ساری دنیا ایک دن کی مانند ہے جس دن میں ہم نے روزہ رکھا ہوا ہے ، یعنی جس طرح روزے کی حالت میں لغویات سے پرہیز کیا جاتا ہے اسی طرح اس دنیا کی پوری زندگی میں برائیوں سے گریز کرتے ہیں۔ اگر آج یہ دنیا ہے تو کل آخرت آنے والی ہے۔ اور پھر یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ ہر شخص نے قیامت یعنی دوسرے ملک کی طرف جانا ہے۔ کسی دوسرے ملک میں جانا ہو تو اس کے لئے پاسپورٹ اور ویزا کی ضرورت ہوتی ہے اور وہاں کے اخراجات کے لئے رقم بھی جمع کرانی پڑتی ہے تاکہ دوسرے ملک میں اخراجات کے لئے وہاں کی کرنسی حاصل کی جاسکے۔ فرمایا یاد رکھو ! دوسرے جہان میں جانے کے لئے پاسپورٹ اور ویزہ کلمہ توحید اور ایمان ہے۔ اور پھر اگلے جہان کی کرنسی تقویٰ اور اعمال صالحہ ہیں۔ یہ چیزیں اللہ کے خزانے میں جمع کر ائو تاکہ جب اگلے جہان میں پہنچو تو تمہیں وہاں کی کرنسی حاصل ہوسکے۔ اگر یہاں کچھ جمع نہیں کر ائو گے تو وہاں بھی کچھ نہیں ملے گا ، بلکہ الٹا رسوائی کا سامانا کرنا پڑے گا۔ عالم برزخ تو ایک انتظارگاہ ہے جب کہ اصل منزل آگے آرہی ہے ، دنیا کی زندگی کسب اور عمل کا نظام ہے یہاں پر جس قدر ہوسکے کمالو ، اور یہاں جمع کرکے آگے خدا کے خزانے میں بھیج دو ۔ تاکہ وہاں تمہیں آخرت کی کرنسی حاصل ہوسکے۔ خدا فراموشی کی ممانعت : اللہ نے قیامت کے لئے سامان تیار کرنے کی تلقین کے بعد فرمایا ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ ، تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جنہوں نے اللہ کو فراموش کردیا ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت ، اس کا ذکر اور اس کی طرف توجہ کرنا ہی چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا۔ فانسھم انفسھم پس اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کی جانوں کو فراموش کردیا یعنی وہ اپنی جانوں کے لئے بھلے کی کوئی بات نہ کرسکے۔ وہ دنیا میں ایسے کام کرتے رہے جن سے ان کی اپنی جانوں کو کچھ فائدہ نہ ہو بلکہ وہ غیروں کے لئے کام کرتے رہے جیسا کہ حضرت ابوبکرصدیق ؓ کے خطبے سے واضح ہوتا ہے۔ فرمایا اولئک ھم الفسقون یہی لوگ نافرمان ہیں۔ مطلب یہ ہے ، کہ جو لوگ اس دنیا کی زندگی میں خدا تعالیٰ کو فراموش کردیتے ہیں۔ وہ اپنے نفع نقصان کو بھی نہیں سمجھ سکتے ، یہی لوگ فاسق ہیں۔ پھر فرمایا ، یادرکھو ! لا یستوی اصحب النار واصحب الجنہ ، دوزخ والے اور جنت والے کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اور یقین جانو اصحب الجنۃ ھم الفائزون ، جنت میں جانے والے لوگ ہی مراد کو پہنچنے والے ہیں ، آخرت میں یہی لوگ فائزالمرام ہوں گے ، جب کہ جہنم میں جانے والے ناکام ہو کر ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔