59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsمعالم العرفان

Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم نازل کرتے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو البتہ دیکھتے آپ اس کو خشوع کرنے والا اور پھٹ جانے والا اللہ کے خوف سے۔ اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ غور وفکر کریں

ربط آیات : پہلے اللہ نے نافرمانوں کا حال بیان کیا اور پھر ایمان والوں کی توجہ مستقبل اور قیامت کی طرف دلائی ، اور آئندہ زندگی کے لئے سامان آگے بھیجنے کی تلقین کی۔ نیز فرمایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ انسانوں کے تمام اعمال اس کی نگاہ میں ہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اہل جنت اور اہل دوزخ برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ دوزخ والے ناکام اور جنت والے فائزالمرام ہوں گے۔ آگے نافرمانوں کا شکوہ بیان ہورہا ہے اور ایمان والوں کو بات سمجھائی جارہی ہے۔ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے جس میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے راہ ہدایت موجود ہے مگر نافرمان لوگ اس کو سنتے تو ہیں ، اس کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ حقیقت میں یہ سنگدل کی علامت ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ کافروں کے دل بڑے سخت ہیں۔ یہ کلام سن کر بھی ایمان نہیں لاتے ، حالانکہ قرآن کریم وہ کلام ہے کہ اگر پہاڑ بھی اس کو سمجھ جائیں تو اس کی عظمت و جلال کے سامنے دب جائیں یعنی عاجزی کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ ارشاد ہوتا ہے لو انزلنا ھذا القران علی جبل ، اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر بھی نازل کرتے لراینہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ تو آپ دیکھتے اس کو عاجزی کرنے والا اور پھٹ جانے والا اللہ کے خوف سے ۔ یہاں پر لفظ جبل نکرہ لایا گیا ہے۔ یعنی کوئی پہاڑ ، پہاڑمٹی اور پتھر کا بہت بڑا ٹیلا ہوتا ہے۔ بعض پہاڑ سرسبز ہوتے ہیں اور اس پر درخت ، جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں اور بعض پہاڑ بالکل خشک ہوتے ہیں۔ تاہم پہاڑ ایک جامد چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ اگر ہم پہاڑ جیسی ٹھوس چیز پر بھی اپنا کلام نازل فرماتے تو یہ اللہ کی ہیبت و جلال کو برداشت نہ کرسکتا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے علاوہ روئے زمین پر 2270 بڑے بڑے پہاڑ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ان میں سے کسی بھی پہاڑ پر وہ اپنا کلام نازل فرماتا تو اس کی یہی حالت ہوتی جو بیان کی گئی ہے۔ انسانوں اور پہاڑوں لیں یہ فرق ہے کہ پہاڑ ایک جامد چیز ہے جو عقل و شعور اور حس و حرکت سے خالی ہے۔ اس کے برخلاف انسان کو اللہ تعالیٰ نے حواس خمسہ ظاہرہ اور حواس باطنہ ، حس مشترک ، وہم خیال ، قوت متفکرہ اور عقل و شعور سے نوازا ہے۔ تو فرماتے ہیں کہ اگر یہ چیزیں پہاڑوں میں بھی ہوتیں تو وہ کلام الٰہی کو سن کر عجز ونیاز مندی کا اظہار کرتے اور خوف خدا سے ریزہ ریزہ ہوجاتے مگر اس کے ملی الرغم پہاڑوں کے اثر قبول کرنے کا ثبوت موجود ہے۔ سورة البقرہ میں اللہ کا فرمان ہے وان منھا……………………خشیۃ اللہ (آیت 74) کہ ان پہاڑوں کے پتھروں میں بعض ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان چشمے جاری ہوجاتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اللہ کے خوف سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ اگر پہاڑوں میں بھی انسانوں جیسا شعورہوتا تو وہ اللہ کے کلام کو سن کر اس کے خوف سے دب جاتے ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ صاحب شعور انسان کے دل پر اس قرآن کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ انسان کی سنگدلی : شاہ عبدالقادر (رح) نے لکھا ہے کہ کافر تو ویسے ہی سنگدل ہیں مگر عام طور پر ایمان بھی ایسے ہی ہیں کہ کلام الٰہی کو سن کر ان پر وہ اثر نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ اللہ نے انسان کو عقل و شعور ، فہم سے مزین کرکے بڑی باکمال ہستی بنایا ہے۔ مگر اس پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا۔ اس معاملہ میں ہنود ، یہود ، مجوس ، نصاریٰ اور مسلمانوں کی اکثریت برابر ہیں۔ غیراقوام کا تو قرآن پر ایمان ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ان پر اس کا اثر انداز نہ ہونا سمجھ میں آتا ہے لیکن آج کا مسلمان بظاہر تو قرآن پاک کی بڑی عزت واحترام کرتا ہے ، ریشمی غلاف میں بند کرکے اور اس پر خوشبو لگا کر اونچی جگہ رکھتا ہے ، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتا ، مگر اس سے اثر قبول نہیں کرتا۔ اللہ کے کلام پر ایمان لانے والے اگر اس کو پڑھتے اور سمجھتے تو ضروران پر اثر ہوتا اور پھر وہ اس پر عمل بھی کرتے۔ قرآن پاک کی اثر انگیزی کے نمونے قرون اولیٰ کے مسلمان پیش کرچکے ہیں جن کی زندگیوں میں اس قرآن پاک کی وجہ سے عظیم انقلاب آیا اگر آج کے مسلمان بھی اسکی طرف توجہ کریں اور اس کا اثر قبول کریں تو ان کی زندگی میں انقلاب آسکتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان حدیث میں موجود ہے ان اللہ یرفع بھذالکتب اقواما ویضع بہ اخرین ، اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض لوگوں کو بام عروج پر پہنچاتا ہے اور بعض کو پست کردیتا ہے۔ کتاب موجود ہے مگر ایمان اور عمل صحیح نہیں ، لہٰذا لوگ پستی میں جا رہے ہیں۔ عدم اثر کی وجہ : شاہ عبدالعزیز (رح) اپنی تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم اور پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات مبارکہ کی مثال عمدہ قسم کی غذا کی ہے۔ اگر یہ غذا تندرست جسم میں جائیگی تو جسم میں مثبت اثرات پیدا کریگی۔ جسم میں خون پیدا کرنے اور جسمانی قوی کو مضبوطی کا باعث ہوگی۔ اس کے برخلاف اگر یہی غذا بیمار جسم میں جائے گی تو بیماری میں اضافے کا باعث ہی بنے گی۔ اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا ہے فزادتھم ……………رجسھم (التوبہ 125) یعنی قرآنی آیات ان کی پہلے سے موجود گندگی میں اضافہ ہی کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ قرآن پاک کے متعلق مزید شک و تردد میں پڑجاتے ہیں اور بالآخر اس کا انکار ہی کردیتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قرآن اور پیغمبر کی ذات سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے انسان کی روح اور مزاج کو درست کرنا ضروری ہے۔ جب تک انسان کے جسم سے فاسد مادوں کو اسہال وغیرہ کے ذریعے انسانی جسم سے نکال نہ دیا جائے اس وقت تک کوئی دوائی جسم پر اثر نہیں کرتی۔ اسی طرح انسان کے دل و دماغ سے فاسد اخلاق ، تعصبات ، باطل عقائد ، باطل رسوم اور جہالت کو نکالنا ضروری ہے۔ جب تک یہ چیزیں انسان کی روح میں موجود ہیں ، اللہ کے کلام اور نبی کی زبان سے فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بھی فرماتے ہیں کہ جب تک انسان خواہشات اور شہوات میں ڈوبا ہوا ہے اس وقت تک اس کے لئے قرآن مفید نہیں ہوسکتا۔ قرآن خدا کا کلام ہے اور برحق ہے۔ نبی کی زبان مبارک بھی پاک ہے مگر انسان خود اپنے برے اخلاق کی وجہ سے ان چیزوں سے متاثر نہیں ہوپاتا۔ فساد کے راستے : پرانے بزرگوں میں دوسری تیسری صدی کے بزرگ حضرت ذوالنون مصری (رح) فرماتے ہیں کہ فسا چھ مداستوں سے مخلوق میں آتا ہے۔ پہلا راستہ ہے ضعف النیۃ بعمل الاخرۃ یعنی آخرت کے اعمال کے بارے میں انسانوں کی نیت کمزور ہوتی ہے ، حالانکہ وہ دنیا کے عمل تو پکی نیت سے انجام دیتے ہیں مگر آخرت والے کام بےیقینی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ فساد کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ انسانوں کے اجسام ان کی خواہشات کی سواریاں بنی ہوئی ہیں اور وہ خواہشات نفسانی کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ فرماتے ہیں کہ فساد کا تیسرا راستہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی تو مختصر ہے مگر وہ آرزو لمبی رکھتی ہے اور وہ قرآن کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے۔ چوتھا راستہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اللہ کی رضا پر مخلوق کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں ان کو ہمیشہ یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ لوگ ناراض نہ ہوجائیں خدا چاہے راضی ہو یا ناراض۔ پھر فرماتے ہیں کہ فساد کا پانچواں راست یہ ہے کہ لوگ خواہشات میں پڑ کر سنت نبوی ﷺ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اکثر لوگ خوشی اور غمی کے مواقع پر سنت کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ خواہشات نفسانی کا ہی اتباع کرتے ہیں اور چھٹا راستہ یہ ہے کہ اکثر لوگ سلف کی معمولی سی لغزش کو بھی اپنے لئے بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور ان کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ یہودیوں نے اسی لئے انبیاء پر اعتراضات کیے تاکہ لو گ ان کو برا نہ کہیں۔ جب لوگ ان کی برائیوں پر اعتراض کرتے تو وہ کہتے کہ اللہ کے نبی بھی تو ایسا کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اگر ہم نے ایسا کام کرلیا تو کون سا حرج ہوگیا ۔ بہرحال حضرت ذوالنون مصری (رح) نے انسانی اخلاق و اعمال میں فساد کے ان چھ ذرائع کی نشاندہی کی ہے۔ شاہ ولی اللہ کا فد : شاہ ولی الل محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک انسان اس دنیا میں رہتا ہے اس پر مادیت غالب رہتی ہے۔ اور اس مادیت کے اثر سے انسان بالکل اس طرح بےہوش رہتا ہے جس طرح کسی آدمی کو کلور وفارم سونگھا دیا گیا ہو۔ ایسا کرنے سے انسان بےحس ہوجاتا ہے اور پھر اگر آپریشن کرکے اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ بھی دیا جائے تو اسے محسوس نہیں ہوتا۔ اسی طرح انسان پر مادیت کا کلوروفارم چڑھا ہوا ہے جب تک اس کا اثر باقی ہے انسان کو برے اعمال کی وجہ سے اس کی ملکیت پر ہونے والا دکھ درد محسوس نہیں ہوتا۔ اس بےحسی کو ختم کرنے کے لئے دو طریقے ہیں۔ اگر انسان کی طبعی موت واقع ہوجائے تو مادیت کا خول اتر کر اصلی انسان ظاہر ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ انسان عبادت و ریاضت کے ذریعے مادیت یا حیوانیت کے اثر کو کم کردے تاکہ بےحسی ختم ہو کر اصلی چیز ظاہر ہوجائے۔ اسی لئے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کے دوران بہیمیت اور ملکیت کی کشمکش جاری رہتی ہے اور انسان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بہیمیت کمزور ہو کر ملکیت میں اضافہ ہو ، یہی وہ مقصد ہے جس کے حصول کے لئے ہم کوئی کوشش نہیں کرتے۔ اگر کوئی محنت کرتے بھی ہیں تو وہ اس قدر قلیل مقدار میں ہوتی ہے کہ بےاثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان پر مادیت کا خول غالب ہے۔ اس پر قرآن کی آواز اور نبی کا فرمان اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ غوروفکر کی دعوت : الغرض ! اللہ تعالیٰ نے انسان کے متعلق یہ شکوہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ تمام کمالات کے باوجود اس قدر سنگدل واقع ہوا ہے کہ وہ قرآن حکیم کا اثر قبول نہیں کرتا۔ فرمایا اگر ہم یہ قرآن پہاڑوں پر نازل کرتے اور ان میں انسانوں جیسا شعور ہوتا تو وہ اس کو سن کر ریزہ ریزہ ہوجائے یعنی اللہ کے خوف سے ڈر جاتے ۔ فرمایا و تلک الامثال نضربھا للناس یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں۔ اور اس کا مقصد یہ ہے لعلھم یتفکرون ، تاکہ وہ غور وفکر کریں اور اللہ کے کلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آگے سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہورہی ہیں۔ تاہم اس درس میں نافرمانوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے کہ ان پر کلام الٰہی کی عظمت کا اثر نہیں ہوتا اور وہ اس کی برکات سے محروم رہتے ہیں۔
Ayahs 59:22–24

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کو۔ وہ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ! بادشاہ ، پاک ، سلامتی والا ، امن دینے والا ، نگرانی کرنے والا ، زبردست ، دبائو ڈالنے والا اور عظمت کا مالک ہے۔ پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اس کا شریک بناتے ہیں

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جو پیدا کرنے والا ، بنانے والا ، تصویر کھینچنے والا ہے۔ اس کے نام ہیں بھلے۔ پاکی بیان کرتی ہے اس کے لئے جو چیز ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ وہ زبردست اور حکمتوں والا ہے

ربط آیات : نبی نضیر کی غداری کے نتیجہ میں اہل ایمان نے ان کو جلا وطن کردیا اور ان کی زمینوں ، باغات اور گھروں پر قبضہ کرلیا۔ پھر اس سلسلہ میں مال فے کی تقسیم کا قانون بیان ہوا۔ پھر آخر میں اللہ نے انسانوں کو جزائے عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اہل جنت اور اہل جہنم لوگوں کے متفاوت ہونے کا ذکر ہوا۔ اللہ نے لوگوں کی غفلت اور کوتاہی پر تنبیہ کی اور کتاب الٰہی کی عظمت اور اس کی تاثیر کو بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں مگر انسان ہیں جن کی اکثریت اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایسے سنگدل ہیں کہ اللہ کے کلام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ معرفت الٰہی : کتاب اللہ کی عظمت بیان کرنے کے بعد اب اللہ نے اپنی عظمت اور صفات کا تذکر ہ فرمایا ہے کیونکہ قرآن حکیم کو نازل کرنے والا خود وہی ہے۔ مفسرین کرام یہ بات اس طرح سمجھاتے ہیں کہ انسان سعادت مند یا نیک بخت اس وقت ہوتا ہے جب اس کی قوت نظری یا عقلی اور قوت عملی بھی صحیح ہو۔ اس کے بغیر انسان کو سعادتمندی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور قوت نظری اس وقت صحیح ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے پروردگار کو پہچاننے اور اس کی توحید کو ماننے لگے۔ جس شخص کی قوت عقلی صحیح نہیں ہے وہ بدبخت ہوگا۔ اس لئے اللہ نے سورة کے آخر میں اپنی عظمت اور صفات کا ذکر کیا ہے ، اور انہی صفات سے خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ توحید خداوندی : ارشا ہوتا ہے ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مستحق عبادت ہونے کے لئے بعض صفات کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثلاً عبادت کے لائق وہ ذات ہوسکتی ہے جو واجب الوجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کا وجود مستعار ہے یعنی کسی کا دیا ہوا ہے تو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ الٰہ وہ ہوگا جس کا وجود خودبخود ہے۔ الوہیت کے لئے دوسری صفت خلق ہے یعنی وہ ہر چیز کا خالق ہو اور خود کسی کا پیدا کردہ نہ ہو۔ پھر وہ رب ہو یعنی اس میں صفت ربوبیت پائی جائے۔ وہ ہر چیز کو بتدریج درجہ کمال تک پہنچانے والا ہو۔ اور چوتھی صفت تدبیر ہے کہ وہ ہر چیز کا مدبر ہو۔ اسے ہر چیز پر تصرف حاصل ہو۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں ہے۔ اللہ خالق کل شیء (الزمر 62) وہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس صفت کو دہریوں کی ایک قلیل تعداد کے علاوہ تمام مذاہب والے تسلیم کرتے ہیں تو اللہ کی ذات ہی وہ واحد ذات ہے جس میں الوہیت کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔ اس کے سوا ساری مخلوق عاجز ہے اور اس کے در کی سوالی ہے۔ لہٰذا مستحق عبادت بھی وہی ہے ، اور کوئی نہیں۔ علم غیب ۔۔۔ : فرمایا علم الغیب والشھادۃ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے۔ لفظ غیب مخلوق کے اعتبار سے ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کے لئے تو ہر چیز ظاہر ہے۔ بہرحال اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے خواہ وہ کائنات کے کسی بھی کونے میں ہو۔ اللہ کا فرمان ہے وما یغزب……………………السمائ (یونس 61) زمین وآسمان کی کوئی ذرہ بھر چیز بھی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے۔ فرشتے ہوں یا جنات ، انسان ہوں یا عالم بالا کی کوئی اور مخلوق ، کوئی بھی غیب دان نہیں ہے۔ انسانوں سے ملائکہ اور جنات غائب ہیں۔ اس کے علاوہ بیشمار ایسی اشیاء ہیں جو انسان کی عقل یا اس کی نگاہ میں نہیں آتیں۔ مگر پروردگار کے علم محیط سے کوئی بھی باہر نہیں ہے۔ غرضیکہ محسوسات اور غیر محسوسات ، مادی اور غیر مادی اشیاء سب کی سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ اسی واسطے فرمایا کہ وہ ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات : ھوالرحمن وہ نہایت مہربان ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہی کا کرشمہ ہے۔ کہ اس نے کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے اور پھر آخر میں قرآن کریم نازل کرکے اسے قیامت تک کے لئے قابل عمل بنادیا۔ یہ بھی اس کی مہربانی ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے بیشمار پیغمبر بھیجے اور پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کو مبعوث فرما کر سلسلہ نبوت بند کردیا۔ اس نے سعادت مندی کے حصول کے…تمام اسباب مہیا کیے۔ اور پھر اگر خود انسان ہی ان سے استفادہ حاصل نہ کرے تو اس کی اپنی بد بختی ہے۔ وہ اللہ الرحیم یعنی نہایت رحم کرنے والا بھی ہے وہ اپنی صفت رحمیت کی وجہ سے اپنے بندوں کو خطائوں کو معاف کرتا رہتا ہے۔ اس جملے کو اپنے ذہن نشین کرلینا چاہیے۔ ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو ، کہ معبود برحق صرف اللہ کی ذات ہے ان صفات کی حامل کوئی دوسری ذات نہیں۔ لہٰذا عبادت کے لائق بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ اس توحید کے بغیر نہ انسان کو کمال حاصل ہوسکتا ہے اور نہ نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے بغیر نجات کا دروازہ ہی بند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک نام الملک بھی ہے۔ وہ بادشاہ ہے اور حقیقی بادشاہت اسی کی ہے۔ دنیا کی بادشاہت ناپائیدار ہے مگر جس کو یہ حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ خدا کے سامنے اکڑ جاتا ہے اور اسے نسلاً بعد نسل چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ کوئی سلطنت کتنی بھی مضبوط ہو۔ بالا آخر زوال پذیر ہوجاتی ہے اور حقیقی بادشاہ وہی ہے جس کی بادشاہت ازل سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گی ، دنیا کی عارضی حکومت اور اقتدار وہی تقسیم کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس عارضی اقتدار کو کسی دوسری طرف منتقل کردیتا ہے۔ اس کا فرمان ہے ملک الملک……………… ………ممن تشائ (آل عمران 62) وہ جس کو چاہتا ہے حکومت ، ملک اور سلطنت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے مسو لینی اپنے زمانے کا بہت بڑا ڈکٹیٹر تھا مگر جب اس کو زوال آیا تو لوگوں نے اس کی لاش کو کتوں کی طرح گھسیٹا۔ قیصرو کسریٰ کی بڑی بڑی سلطنتیں ختم ہوگئیں ، دنیا کا فاتح سکندر نہ رہا۔ فرعون کی بادشاہت خام میں مل گئی۔ یہ سب اسی وحدہ لاشریک کا کارنامہ ہے جس کی شہنشاہی کو کبھی زوال نہیں ، حقیقی ملک اور بادشاہ وہی ہے۔ فرمایا اس کی ذات القدوس ہے یعنی وہ تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ وہ السلم یعنی سلامتی والا ہے۔ خود قائم ودائم ہے اور دوسروں کو سلامتی عطا کرتا ہے اور سلامتی میں رکھتا ہے۔ وہ المومن یعنی امن دینے والا اور تصدیق کرنے والا ہے۔ وہ اپنے نبیوں اور ایمانداروں کے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ پرندوں کو بھی امن دیتا ہے کہ احرام کی حالت میں کوئی شخص جانوروں یا پرندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ وہ المھیمن بھی ہے اسی صفت کی بنا پر وہ ہر چیز کی نگرانی کرتا ہے اور اس کی حفاظت میں رکھتا ہے وہ العزیز ہے یعنی زبردست ہے اور کمال قدرت کا مالک ہے۔ فرمایا وہ الجبار بھی ہے جس کا معنی دبائو ڈالنے والا بھی آتا ہے اور تلافی کرنے والا بھی۔ وہ جس پر چاہتا ہے دبائو ڈالتا ہے اور جس چیز کی چاہتا ہے تلافی کردیتا ہے۔ انسان دعا کرتے ہیں مولا کریم واجبرنی یعنی میری شکستگی کی تلاف فرمادے اور میری کمزوریوں کو دور فرمادے۔ اس معبود برحق کی ایک صفت المتکبر بھی ہے۔ ساری بڑائی اسی کی شان کے لائق ہے جب کے ساری مخلوق درماندہ اور عاجز ہے۔ تکبر ، بڑائی اور عظمت اللہ تعالیٰ کو ہی سزاوار ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ عظمت میری چادر ہے اور کبریائی میرا تہبند ہے۔ جو ان کو اوڑھنا چاہے گا۔ میں اس کو ذلیل کردوں گا۔ یہ چیز انسان یا کسی بھی مخلوق کے لائق نہیں۔ سعدی صاحب (رح) نے بھی کہا ہے۔ مر اور ا رسد کبریا ومنی کہ ملکش قدیم است وذاتش غنی بڑائی اور عظمت تو اسی ذات کے لائق ہے جس کی بادشاہی پرانی ہے اور اس کی ذات بےنیاز ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کو بھی یہی حکم دیا ہے وربک فکبر (المدثر 3) اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو۔ فرمایا سبحن اللہ عما یشرکون ، پاک ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ بعض لوگ مثلا مجوسی یا تنوی وغیرہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں شریک بناتے ہیں اور دو یا زیادہ خدائوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ عیسائیوں کا عقیدہ بھی باپ ، بیٹا اور روح القدس کا ہے یعنی وہ تین خدائوں کو مانتے ہیں بعض دو خدا مانتے ہیں۔ ایک حیر کا اور دوسرا شر کا۔ ایک نور کا اور ایک ظلمت کا ، علیٰ ہذا القیاس۔ البتہ اکثر وبیشتر لوگ اللہ تعالیٰ کی صفات میں اس کا شریک بناتے ہیں۔ بعض علم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور بعض قدرت میں۔ بعض اللہ کی دیگر صفات میں اس کا شریک بناتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ وہ تمام عیوب ونقائص اور ہر قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے ، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد ۔ وہ نہ کھاتا پیتا ہے اور نہ سوتا اور اونگھتا ہے۔ اس میں کمزوری والی کوئی بات نہیں پائی جاتی بلکہ وہ صفات کا مال کا مال ہے اور تمام شرکاء سے پاک ہے۔ مزید صفات الٰہیہ : پھر فرمایا ھو اللہ الخالق وہ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس صفت کو تمام مذاہب والے تسلیم کرتے ہیں الباری وہ بنانے والا ہے یعنی کسی چیز کو چھیل تراش کر خوبصورت شکل و صورت میں بنا دیتا ہے۔ یہ تراش خراش کا مادہ صفت باری کے ساتھ مخصوص ہے۔ درخت کے ایک پتے کو ہی دیکھ لیں یا کسی پتھر کو ملاحظہ کرلیں۔ اللہ نے اسکی بناوٹ کس انداز سے کی ہے ایک درخت کے تمام پتے بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں اور ان کی کاٹ چھانٹ میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کی اسی صفت کا شاہکار ہے۔ فرمایا اس کی ذات المصور بھی ہے۔ وہ انسانوں ، جانوروں ، چرندوں اور پرندوں سب کی شکلیں کمال درجے کی بناتا ہے۔ چناچہ حقیقی مصور خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے ، اسی لئے کسی انسان کے لئے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی جاندار کی تصویر بنائے اگر ایسا کرے گا تو خدا تعالیٰ کی صفت مصور کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس چیز کی تصویر بنائی ہے۔ اب اس میں جان بھی ڈالو۔ جب وہ ایسا نہیں کرسکے گا تو ہر تصویر کے بدلے سخت سزا ملے گی۔ ہاں اگر کوئی تصویر بنانا ہی چاہتا ہے تو بےجان چیز پہاڑ ، درخت ، عمارت وغیرہ کی تصویر بناسکتا ہے جاندار کی تصویر بنانا حرام ہے۔ کہ یہ اللہ کی صفت مخصوصہ ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لعن اللہ المصورین مصوروں پر خدا کی لعنت ہے ، مگر آج کی دنیا میں تصویر کے بغیر کوئی کام نہیں چلتا۔ تصویر کے بغیر تو لوگ اخبار نہیں پڑھتے اور اب ٹیلیویژن نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ اب تو علماء کی تقریروں اور جلسوں کی بھی وڈیوز بن رہی ہیں ، گویا تصویر زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ بہ سب ملعون چیز کیا ہیں۔ اصل مصور تو اللہ ہے ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء (آل عمران 6) جو شکم مادر میں تمہاری تصویر کشی کرتا ہے اور جس کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ جو شخص اللہ کی اس صفت کے ساتھ مشابہت پیدا کریگا وہ مجرم ٹھہرے گا۔ فرمایا لہ الاسماء الحسنی ، اللہ تعالیٰ کے بھلے نام ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے۔ قل ادعوا…… …………الحسنی (آیت 110) اللہ تعالیٰ کو اس کے ذاتی اسم اللہ کے ساتھ پکارو یا اسم رحمان کے ساتھ ، جس کے ساتھ بھی پکارو اس کے سارے ہی نام بھلے ہیں۔ حضور ﷺ والسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ ان میں سے جس نام کے ساتھ کوئی اللہ کو یاد کریگا۔ اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔ صحیحین کی روایت میں یہ بھی آتا ہے ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحدا من احصاھا دخل الجنۃ اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں ، جو ان کو زبانی یاد کرے گا۔ جنت میں داخل ہوگا۔ اس کے بعد ارشاد ہوا یسبح لہ مافی السموت والارض پاکی بیان کرتی ہے اس کے لئے جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں ، انسان جن ، چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے ، سمندر کی مچھلیاں یا آسمانی مخلوق اللہ کے فرشتے سب کے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے۔ وان من………………………تسبیحھم (آیت 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے البتہ انسانوں میں اگر دو گروہ بن جاتے ہیں۔ بعض تو اپنے اختیار اور ارادے سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جیسے اہل ایمان۔ اور بعض شرک کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے سائے خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ان کے اعضاء جوارح خدا کی تسبیح بیان کرتے ہیں مگر خود ناشکرگزار ہی رہتے ہیں۔ فرمایا وھوالعزیز الحکیم وہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اور کمال قدرت اور کمال قوت کا مالک ہے۔ بہرحال آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں سے غالب اور حکمت والا ہونا بیان کیا ہے۔ پہلی صفت اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہے جب کہ دوسری کی بنیاد کمال علم پر ہے۔ ان دو صفات کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ فضائل آیات آخرہ : مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت معقل بن یسار ؓ سے مروی ہے کہ اس سورة مبارکہ کی آخرت تین آیات بڑی فضیلت والی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص صبح وشام اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم تین دفعہ پڑھے گا ، اور پھر تن آیات سورة حشر کی آخری پڑھے گا۔ بشرطیکہ عقیدے میں فساد نہ ہو بلکہ صحیح ایماندار ہو ، تو اگر وہ رات کو ان آیات کی تلاوت کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے سترہزار فرشتے مقرر کردے گا جو اس کے لئے صبح تک دعائیں کرتے رہیں گے۔ اور اگر وہ اس دوران مرگیا تو شہادت کا درجہ پائے گا۔ اور جو شخص ان آیات کو صبح کے وقت پڑھے گا اس کا بھی یہی مرتبہ ہوگا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان آیات کو اپنا ورد بنالے اور صبح شام تین تین دفعہ پڑھ لیا کرے۔