Ayah 60:1یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ و قد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول ویاکم ان تو منوا باللہ ربکم ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیل وابتغاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل .
” اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو ‘ حالانکہ تمہارے پاس جو دین آچکا ہے وہ اس کے منکر ہیں ‘ رسول کو اور تم کو اس بنا پر کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ‘ شہر بدر کرچکے ہیں۔ اگر تم میرے راستہ پر جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضامندی ڈھونڈنے کے لیے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو (پھر) چپکے چپکے ان سے دوستی کی باتیں کرتے ہو اور میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور جو شخص تم میں سے ایساکرے گا وہ راہ راست سے بھٹک جائے گا۔ “
تَلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بالْمَوَدَّۃِ : بعض اہل تفسیر کے نزدیک بالمودۃ میں بَ زائد ہے جیسے آیت : وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ میں ہے۔ یعنی خطوط کے ذریعہ سے تم مشرکوں کو اپنی دوستی پیش کرتے ہو ‘ زجاج نے کہا : (بَ سببیہ ہے اور مفعول محذوف ہے) مطلب یہ ہے کہ رسول
اللہ ﷺ کی خبریں مشرکوں کی دوستی کے سبب تم ان کو پیش کرتے ہو۔
مَاجَآءَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ : الحق سے مراد ہے قرآن مجید۔
یُخْرِجُوْنَ : یعنی مکہ سے باہر کرچکے ہیں۔
بِ اللہ ِ رَبِّکُمْ : اللہ تو ربّ سب ہی کا ہے۔ مخاطبین کا بھی اور غیر حاضر لوگوں کا بھی ‘ پھر صرف حاضرین کے ساتھ ربّ کی تخصیص کیوں کی گئی ‘ اس کی وجہ صرف تغلیب ہے۔ حاضرین کو غیر حاضر لوگوں پر تغلیب دے کر صرف حاضرین کا ذکر کیا گیا۔ اس کلام میں حسن التفات بھی ہے ‘ پہلے یاء متکلم ذکر کی گئی پھر بصورتِ غائب باللہ ربکم فرمایا۔
خَرَجْتُمْ : یعنی تم اپنے وطنوں سے نکلے۔
بِالْمَوَدَّۃِ : مقاتل نے کہا : المودۃ سے مراد ہے خیر خواہی اور بَ زائد ہے یا سببیت کے لیے ہے۔
ضَلَّ سَوَآء السَّبِیْل : سواء السبیل سے یعنی راہ ہدایت سے بھٹک گیا۔
Ayah 60:2ان ینقفوکم یکونوا لکم اعداء و یبسطوا الیکم ایدیھم والنستھم بالسوء وودوا لوتکفرون
” اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو اظہار عداوت کرنے لگیں گے ‘ تم پر دست درازی کریں گے اور برائی کے ساتھ تم پر زبانیں چلائیں گے وہ متمنی ہیں کہ تم کافر ہوجاؤ ‘
اِنْ یَّنْقَفُوْکُمْ : یعنی اگر وہ تم پر قابو پالیں گے اور فتح یاب ہوجائیں گے ‘ قاموس میں ہے : ثقفہ بروزن منعہ۔ اس کو پا لیا ‘ لے لیا ‘ کامیاب ہوگیا ‘ اس پر پہنچ گیا۔
یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآءً : یعنی تم جو ان کو اپنی طرف سے دوستی کی پیش کش کرو گے اس سے تم کو کوئی فائدہ نہ ہوگا وہ اس پیش کش کے بعد بھی اگر قابو پالیں گے تو تمہارے دشمن ہی رہیں گے۔
یَبْسُطُوْآ اِلَیْکُمْ : تم پر دست درازی کریں گے یعنی قتل کریں گے اور ماریں گے اور زبان درازی کریں گے ‘ گالیاں دیں گے ‘ برا کہیں گے۔
وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ : لَوْ تمنائی ہے۔ وَدُّوْا ‘ اِنْ شرطیہ کی جزاء ہے جس کا ظہور آئندہ ہوگا۔ اِنْ کی وجہ سے ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ صیغۂ ماضی استعمال کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی طرف سے گویا یہ فعل واقع ہوگیا اور تمہارے کافر ہوجانے کی تمنا جو وہ کریں گے وہ حاصل ہو ہی گئی۔
Ayah 60:3لن تنفعکم ارحامکم ولا اولادکم یوم القیمۃ یفصل بینکم واللہ بما تعملون بصیر
قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہارے کام آئیں گی ‘ نہ اولاد۔ خدا تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور اللہ تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔
اَرْحَامُکُمْ : تمہاری رشتہ داریاں۔
وَلَآ اَوْلَادُکُمْ : یعنی مشرک رشتہ دار اور اولاد جن کی وجہ سے تم مشرکوں سے موالات کرو گے۔ قیامت کے دن تمہارے کام نہیں آئیں گی ‘ اس آیت میں حاطب بن ابی بلتعہ اور ان جیسے دوسرے اہل ایمان کے عذر کی تردید ہے۔
یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ : تم کو الگ الگ کر دے گا ‘ تمہارا فیصلہ کر دے گا ‘ مؤمنوں کو جنت میں اور مشرکوں کو دوزخ میں بھیج دے گا ‘ پھر آج اللہ اور اس کے رسول کے حق کو ترک کر کے تم مشرکوں کے دوست کیوں بنتے ہو اور ان سے موالات کیوں کرتے ہو ؟
وَ اللہ ُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ : یعنی اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے ‘ ان اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 60:4قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذ قالوا لقومھم انا برء وا منکم و مما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وابدا بیننا و بینکم العداوۃ والبغضا ابدا تو منوا باللہ وحدہ
” تمہارے لیے ایک عمدہ نمونہ ہے ابراہیم (علیہ السلام) (کی زندگی اور قول و عمل) میں اور ان لوگوں (کے قول و عمل) میں جو ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھی تھے ‘ جب ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور ان سے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو (یعنی بتوں اور ستاروں وغیرہ سے) بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (مذہب اور عقیدہ و عمل کے) منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لیے عداوت اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔
لَکُمْ : اے مسلمانو ! تمہارے لیے۔
اُسْوَۃٌ: اقتداء ‘ پیروی۔
لِقَوْمِھِمْ : اپنی کافر قوم والوں سے کہا۔
اِنَّا بُرَء آ ؤُا : بیزار ‘ بےتعلق ‘ یہ برئٌ کی جمع ہے جیسے ظرفا ‘ ظریف کی جمع ہے۔
مَا تَعْبَدُوْنَ : یعنی بت جن کو تم پوجتے ہو۔
کُفَرْنَا بِکُمْ : کفر ‘ ایمان کی ضد ہے (کفر کا لغوی معنی ہے چھپانا) کافر بھی حق اور (خدا کی عطا کردہ) نعمت پر پردہ ڈالتا ہے۔ جیسے دوسری آیت ہے : یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبِعْضٍ ۔
حَتّٰی تُؤُمِنُوْا بِ اللہ ِ وَحْدَہٗ : یعنی ایمان کے بعد عداوت اور بغض ‘ محبت اور الفت سے بدل جائے گا۔
الا قول ابراھیم لابیہ لا ستغفرن لک وما املک لک من اللہ من شی ءٍ ربنا علیک توکلنا الیک انبنا والیک المصیر
” لیکن اتنی بات ابراہیم کی تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ (ابراہیم نے کہا تھا) میں تمہارے لیے معافی کی درخواست (اپنے رب سے) کروں گا اور (اس سے زیادہ) خدا کے آگے مجھے کسی بات کا اختیار نہیں (ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے دعا کی تھی) اے ہمارے ربّ ! ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف (انجام کار) لوٹنا ہے۔
اِلَّا قَوْلَ اِبْرَاھِیْمَ : بیضاوی وغیرہ نے لکھا ہے کہ الا قول ابراھیم ‘ اسوۃٌ سے مستثنیٰ ہے لیکن بیضاوی کے اس قول میں ایک دشواری ہے وہ یہ کہ اسوۃ نکرہ ہے مستثنیٰ کا استثناء سے پہلے نہ اس میں داخل ہونا یقینی ہے کہ استثناء کو متصل قرار دیا جائے ‘ نہ عدم دخول یقینی ہے کہ استثناء کو منقطع کہا جائے ‘ اسی کی مثل ہے آیت : لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ الاَّ اللہ لَفَسَدَتَا . رٰالِھَۃٌ نکرہ ہے ‘ اللہ کا اس میں نہ داخل ہونا یقینی ہے ‘ نہ داخل نہ ہونا۔ اس لیے اہل تفسیر نے اس جگہ الاّ کو بمعنی غیر قرار دیا ہے ‘ مترجم) لہٰذا مناسب ہے کہ مستثنیٰ منہ کو محذوف قرار دیا جائے اور اصل کلام اس طرح مانا جائے : اِتَّبِعُوْا اَقْوَالَ اِبْرَاھِیْمَ الاَّ قَوْلَہٗ لِاَبِیْہِ ۔ اقوال ابراہیم کا اتباع کرنا مگر اس قول کا اتباع نہ کرنا جو انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا۔
مؤلف البحر المواج نے لکھا ہے کہ فی ابراہیم مستثنیٰ منہ ہے اور الاّ قول ابراہیم اس سے مستثنیٰ ہے اور مضاف محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ قُوْلِ اِبْرَاھِیْمَ الاَّ قَوْلَہٗ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ ۔ بیضاوی کی مراد بھی غالباً یہی ہے کیونکہ کافر باپ کے لیے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استغفار کیا تھا اس کا اتباع اوراقتداء جائز نہیں۔
حضرت ابراہیم ﷺ نے جو اپنے باپ کے لیے دعاء مغفرت کا وعدہ کیا تھا وہ کافر کے لیے دعا کرنے کی ممانعت سے پہلے کیا تھا۔
وَمَآ اَمْلِکُ لَکَ..... یہ مستثنیٰ کا تکملہ ہے یعنی ابراہیم نے جو اپنے باپ کے لیے دعاء مغفرت کا وعدہ کیا اس میں یہ بھی کہا تھا کہ بس میں اتنا ہی کروں گا ‘ اس سے زیادہ کچھ بھی مجھے اختیار نہیں (یعنی معاف کرنا ‘ نہ کرنا میرے بس میں نہیں ہے) مِنْ شَیْ ءٍ میں من زائد ہے اور شی ءٍ مفعول ہے ‘ منصوب المحل۔
رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا ... یہ پورا جملہ آخر تک مفعول ہے۔ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے اور ان کے ساتھی مؤمنوں نے کہا : اے ہمارے ربّ ! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا۔
اَلْمَصِیْرُ : جائے رجوع ‘ لوٹنے کی جگہ۔
Ayah 60:5ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم .
اے ہمارے رب ! ہم کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنانا اور ہمارے رب ہم کو معاف کر دے (ہمارے قصور بخْشدے) بیشک تو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ “
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا ..... مناجات کو محکم کرنے اور درخواست رحم میں مزید قوّت پیدا کرنے کے لیے ربنا کا دوبارہ ذکر کیا۔
فِتْنَۃً لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا : یعنی کافروں کو ہم پر مسلط نہ کرنا کہ وہ ہم کو سخت ایذائیں دے سکیں اور ہم سے مواخذہ کریں اور اس وقت ان کے لیے فتنہ ہو ‘ یعنی ان کو عذاب دینے کا سبب پیدا ہوجائے۔ زجاج نے کہا : ان کو ہم پر غالب نہ کر۔ ہم پر ان کو قابو نہ دے جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو حق پر خیال کرنے لگیں۔ مجاہد نے کہا : ہم کو ان کے ہاتھوں عذاب نہ دے ‘ نہ اپنی طرف سے عذاب نازل کر ‘ ورنہ وہ کہیں گے کہ اگر یہ مؤمن حق پر ہوتے تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔
وَاغْفِرْلَنَا : کبھی اپنے گناہوں کی وجہ سے مؤمن مبتلائے عذاب ہوجاتے ہیں اور کفار کا ان پر غلبہ ہوجاتا ہے اس لیے درخواست مغفرت کا ذکر کیا گیا۔
اَنْتَ الْعَزِیْزُ : یعنی تو ہی ایسا غالب ہے کہ جس کو اپنی پناہ میں لے لے اور جو تجھ پر بھروسہ کرلے کوئی اس کو دکھ نہیں پہنچا سکتا۔
اَلْحَکِیْمُ : حاکم ‘ واقف ‘ دعاء کو قبول کرنے پر قدرت رکھنے والا۔
Ayah 60:6لقد کان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ و الیوم الاخر ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید . ” بیشک ان لوگوں (کے قول ‘ عمل اور عقیدے) میں تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے (یعنی ایسے شخص
کے لیے جو اللہ (کے سامنے جانے) کا اور روز آخرت کا یقین رکھتا ہو اور جو شخص (اس حکم سے) روگردانی کرے گا تو (اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ) اللہ بالکل بےنیاز (اور) سزاوار حمد ہے۔ “
لَکُمْ : یعنی تمہارے لیے اے مسلمانو !
فِیْھِمْ : یعنی ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کے دستور زندگی اور اعتقاد و عمل) میں۔
لِّمَنْ کَانَ یَرْجُو اللہ وَالْیُوْمَ الْاٰخِرَ : یہ جملہ لکم سے بدل ہے یعنی ان لوگوں کے لیے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کی پیشی اور اس کے ثواب کا اور روز قیامت کے آنے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ اس آیت میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کی جائے اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اقتداء نہ کرنا بد عقیدگی پر دلالت کرتا ہے۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّ : یعنی انبیاء کی پیروی سے جو روگرداں ہوگا۔
ھُوَ الْغَنِیُّ : یعنی پیغمبروں کی پیروی ‘ عبادت اور ہر چیز سے خدا بےنیاز ہے۔ انبیاء کی پیروی کرنے کا فائدہ پیروی کرنے والوں کو ہی ملے گا۔
اَلْحَمِیْدُ : اولیاء اور اہل طاعت کے لیے سزاوار ستائش ہے۔
Ayah 60:7عسی اللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عادیتم منھم مودۃ واللہ قدیر واللہ غفور رحیم .
” امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں ‘ دوستی پیدا کر دے گا اور اللہ کو بڑی قدرت ہے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ “
بغوی نے لکھا ہے کہ مقاتل نے بیان کیا ‘ جب اللہ نے کافروں سے عداوت رکھنے کا حکم دیا تو مسلمانوں نے اپنے کافر قرابت داروں اور عزیزوں سے بھی دشمنی اور بیزاری کا اظہار کردیا (لیکن ان کے دلوں میں اقرباء کے لیے رقت اور محبت پوشیدہ تھی) اور اللہ اس سے واقف تھا تو مسلمانوں کو تسکین دینے کے لیے یہ آیت نازل فرما دی۔
اَلَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ : ان سے مراد ہیں کفار مکہ۔
اللہ نے اپنا یہ وعدہ قریب مدت میں ہی پورا کردیا کیونکہ آیت کا نزول فتح مکہ سے پہلے ہوا تھا اور فتح مکہ کے بعد وہ مسلمان ہوگئے جو مکہ میں رہتے تھے۔ البتہ فتح مکہ کے دن جو لوگ مارے گئے جیسے حویرث بن نفیل (اور نضربن حارث) وغیرہ ‘ وہ دشمنی کی حالت میں ہی مارے گئے ‘ ان کے نام سورة نصر میں ہم نے ذکر کیے ہیں۔
ایک شبہ اَلَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ کا لفظ عام ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ نزول آیت کے زمانہ میں جو لوگ مسلمانوں کے دشمن تھے وہ سب بعد کو مسلمان ہوگئے۔ مگر یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ دشمنوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بعد کو بھی مسلمان نہیں ہوئے اور کفر کی حالت میں ہی مارے گئے۔
ازالہ کبھی مجازاً عام بول کر خاص مراد لے لیا جاتا ہے بلکہ یہ ضابطہ ہی ہے کہ ہر عام مخصوص البعض ہوتا ہے اور باوجود مخصوص البعض ہونے کے فعل کی نسبت سب کی طرف مجازاً کردی جاتی ہے کیونکہ اصل مسند الیہ (فعل کا حقیقی فاعل) مجموعہ میں داخل ہوتا ہی ہے جیسے آیت : فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا میں (کونچیں کاٹنے اور قتل کرنے کی نسبت ساری قوم صالح کی طرف کردی گئی باوجودیکہ اونٹنی کو قتل کرنے والے بعض تھے ‘ سب نہیں تھے) ۔
وَ اللہ ُ قَدِیْرٌ : اور اللہ کو اس کی قدرت ہے اور ہر چیز پر اس کو قدرت ہے۔
وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ : یعنی ممانعت سے پہلے کافروں سے مسلمان جو موالات کرچکے یا ممانعت کے بعد بھی اظہار عداوت اور ترک موالات کردیا مگر عزیزوں اور رشتہ داروں کے دل میں الفت اور رقت پوشیدہ رہی ‘ اللہ اس سب کو معاف کردینے والا مہربان ہے۔
Ayah 60:8لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین
” اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ‘ اللہ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔
بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت اسماء بن ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : میرے پاس میری ماں محبت سے آئی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں اس سے مل سکتی ہوں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں ! اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ امام احمد ‘ بزار اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا کہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ جو دور جاہلیت میں حضرت ابوبکر ؓ کی زوجہ تھی اور آپ نے اس کو طلاق دے دی تھی اپنی بیٹی حضرت اسماء بنت حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور کچھ تحفہ بھی بیٹی کے لیے لائی۔ حضرت اسماء ؓ نے تحفہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور اپنے گھر میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دی اور حضرت عائشہ ؓ کے پاس پیام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلہ کو دریافت کریں۔ حضرت عائشہ ؓ نے اطلاع دی کہ قتیلہ کے تحفے قبول کرلو اور اپنے گھر میں اس کو اترنے کی اجازت بھی دے دو ‘ اس پر یہ آیت : لَایَنْھٰکُمْ اللہ ُ.... نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ یہ آیت بنی خزاعہ کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ نہ مسلمانوں سے لڑیں گے ‘ نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کو مدد دیں گے ‘ اللہ نے اس آیت میں ان سے حسن سلوک کرنے کی اجازت دے دی ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ذمی کافر کو نفلی خیرات دینی جائز ہے یہ مسئلہ سورة بقرہ کی آیت : لَیْسَ عَلَیْکَ ھَدَاھُمْ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ اسی بناء پر ابو عمرو کی آزاد کردہ باندی سارہ کو (کپڑے اور نقد) دینے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ اسی سورت کے شروع میں ہم نے یہ قصہ لکھ دیا ہے۔
Ayah 60:9انما ینھاکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم ظاھروا علی اخراجکم ان تو لوھم ومن یتولھم فاولئک ھم الظلمون
اللہ صرف ان لوگوں کے ساتھ ستی کرنے سے تم کو منع کرتا ہے جو دین کے بارے میں تم سے لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا (یعنی نکالنے کے درپے ہوئے) اور تمہارے نکالنے میں (نکالنے والوں) کی مدد کی اور جو شخص ایسوں سے دوستی کرے گا تو وہ (دوستی کرنے والے) گناہگار ہوں گے۔ “
اَلَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ : ان سے مراد ہیں مکہ کے وہ مشرک مرد جن میں سے کچھ لوگوں نے تو مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش کی تھی اور بعض نے نکالنے والوں کی مدد کی تھی۔
اَنْ تَوَلَّوْھُمْ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حربی کافروں سے صرف موالات ممنوع ہے ‘ ان سے دنیوی حسن سلوک کی ممانعت نہیں ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو ‘ اللہ نے حربی قیدیوں کے متعلق ارشاد فرمایا : اِمَّامَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فَدَآءً مِنّ . یعنی احسان ‘ بلامعاوضہ کرنا بھی بِر (دنیوی) حسن سلوک کی ہی ایک قسم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گرم کلیجی میں بھی ثواب ہے (یعنی پیاسے کو پانی پلانا خواہ کوئی ہو قابل ثواب ہے) رواہ البیہقی بسند صحیح فی شعب الایمان عن سراقہ بن مالک۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے یہ حدیث نقل کی ہے ‘ الفاظ بدلے ہوئے ہیں ‘ مفہوم یہی ہے۔ امام احمد (رح) نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔
کافروں کو زکوٰۃ دینا باجماع علماء جائز نہیں ‘ علماء نے اپنے اجماع کا استدلال اس حدیث سے کیا ہے جس کے راوی حضرت معاذ ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ نے فرض کردی ہے ان پر زکوٰۃ کہ ان کے دولت مندوں سے لے کر انہی کے محتاجوں کو لوٹا دی جائے۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ : یعنی اہل حرب سے جو موالات کرے گا ‘ اگر صرف اہل حرب مراد نہ ہوں گے تو اہل ذمہ سے بھی موالات جائز نہیں ہوگی کیونکہ آیت میں عام الفاظ آئے ہیں ‘ ارشاد فرمایا ہے : لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ ۔ دوسری آیت میں فرمایا ہے : لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَآءَ ۔ حدیث میں ارشاد گرامی آیا ہے : اَلْمَرْء مَعَ مَنْ (آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اسے محبت ہوگی) ۔
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم کی روایت ہے کہ (معاہدۂ حدیبیہ میں) سہیل بن عمرو نے رسول اللہ ﷺ سے یہ شرط بھی لکھوائی تھی کہ ہمارے آدمیوں میں سے جو کوئی آپ کے پاس پہنچے گا خواہ آپ کے مذہب ہی پر ہو ‘ بہرحال آپ پر لازم ہے کہ اس کو واپس کریں اور ہمارے اور اس کے درمیان رکاوٹ پیدا نہ کریں ‘ مسلمانوں کو یہ شرط ناگوار ہوئی مگر سہیل اس پر اڑا رہا۔ آخر رسول اللہ ﷺ نے یہ شرط معاہدہ میں لکھوا دی۔ چناچہ ابو جندل جب رسول اللہ ﷺ کے پاس (بھاگ کر) آئے تو حضور ﷺ نے ان کو واپس کردیا اور اس مدت معاہدہ کے اندر جو مرد بھی (کافروں کو چھوڑ کر ان کے پاس سے بھاگ کر) آپ کے پاس آیا ‘ آپ نے اس کو لوٹا دیا (مدت معاہدہ کے اندر) کچھ عورتیں بھی ہجرت کر کے آئیں ‘ ان میں سے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط جن کا نام عاتق تھا ہجرت کر کے آگئیں اور ان کے قرابت داروں نے ان کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے واپس نہیں کیا (کیونکہ معاہدہ میں مردوں کی واپسی کی شرط تھی ‘ مہاجر عورتوں کے لوٹائے جان کا ذکر نہیں تھا) اس پر آیات ذیل نازل ہوئیں۔
Ayah 60:10یایھا الذین امنوا اذ جاء کم المومنت مھجرات فامتحنوھن اللہ اعلم بایمانھن فان علمتموھن مومنت فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن واتوھم انفقوا .
” اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں (دارالحرب سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کی جانچ کرلیا کرو ‘ ان کے ایمان کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ سو اگر (جانچ کرنے کے بعد) تم ان کو مسلمان جانو تو پھر کافروں کی طرف ان کو واپس مت کرو (کیونکہ) نہ وہ عورتیں کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان مسلمان عورتوں کے لیے حلال ہیں اور کافروں نے (ان عورتوں پر) جو کچھ خرچ کیا ہو (یعنی ان کو دیا ہو) وہ کافروں کو ادا کر دو ۔
فَامْتَحِنُوْھُنَّ : یعنی جانچ کرلو کہ زبانوں سے جو وہ اقرار ایمان کر رہی ہیں کیا واقعی ان کے دلوں میں ایمان ہے ‘ جانچ کر کے تم غالب ظن حاصل کرلو ‘ یوں تو ان کے قلبی ایمان کو اللہ ہی جانتا ہے تم کیا جانو (پھر بھی گمان غالب تو حاصل کرلو) ۔
فَاِنْ عَلِمْتُمُوْھُنَّ : یعنی ان عورتوں کے لیے مؤمن ہونے کا تم کو گمان غالب اور امکانی علم ہوجائے اور ایمان کی علامات ظاہر ہوجائیں۔ آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ یقین کی طرف غالب گمان پر بھی عمل واجب ہوتا ہے (اگرچہ ظن مفید یقین نہیں ہوتا مگر موجب عمل ضرور ہوجاتا ہے) ۔
فَلاَ تَرْجِعُوْھُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ : یعنی کافر شوہروں کی طرف ان کو واپس مت کرو کیونکہ مؤمن عورتیں کافر شوہروں کے لیے حلال نہیں ‘ مسلمہ اور کافر میں تفریق کرنی لازم ہے۔ سورة نساء کی آیت : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآء الاَّ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ کی تفسیر میں یہ مسئلہ گزر چکا ہے کہ اگر شوہر کافر ہو اور بیوی مہاجرہ مؤمنہ تو امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دارالحرب سے نکلتے ہی دونوں کے درمیان تفریق کر دینی واجب ہے کیونکہ دو دار ہوگئے ‘ دارالحرب جو کفار کا وطن ہے اور دارالسلام جو مؤمنون کا مسکن ہے لیکن باقی تینوں اماموں کے نزدیک شوہر کے مسلمان ہونے کے وقت سے تین حیض کی مدت کا انتظار کرنا ہوگا ‘ بشرطیکہ شوہر نے اس عورت سے قربت صنفی کرلی ہو اور ایسا نہ ہو تو پھر عورت کے مسلمان ہونے کے وقت سے تین حیض تک کا انتظار کیا جائے گا۔
وَلَاھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ : یعنی کافر تجدید نکاح کے بعد بھی مؤمن عورتوں کے لیے حلال نہیں ہیں کیونکہ کافر مرد کا نکاح مسلمان عورت سے جائز ہی نہیں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید (معنوی) ہو۔ عروہ نے حدیث سابق میں بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے (مؤمن عورتوں کی جانچ کرنے کے سلسلہ میں) فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مہاجر مؤمن عورتوں کا امتحان لینے کے لیے (ان کے سامنے) آیت : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ ..... غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ تک پڑھتے (اور ان سے اقرار لیتے تھے۔ جو عورت اس کا اقرار کرلیتی تو حضور ﷺ فرماتے : ہم نے تیری بیعت لے لی۔ حضور ﷺ بس یہ زبان سے فرما دیتے تھے ‘ عورت کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے بیعت لینے کے وقت نہیں چھو تے تھے ‘ عورتوں سے بیعت صرف زبانی ہوتی تھی۔
بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عمرہ کرنے کے لیے (مکہ کی طرف) روانہ ہوئے ‘ حدیبیہ میں پہنچے تو مکہ کے مشرکوں نے آپ ﷺ سے اس شرط پر صلح کرلی کہ (آئندہ) اہل مکہ میں سے جو کوئی (مسلمان ہو کر) رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے گا آپ ﷺ اس کو واپس کردیں گے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں میں سے جو کوئی (مرتد ہو کر) مکہ والوں کے پاس پہنچ جائے گا ‘ اہل مکہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ لکھ دیا گیا اور مہریں لگا دی گئیں ‘ تحریر معاہدہ پوری ہونے ہی پائی تھی کہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث (مسلمان ہو کر) آپہنچی۔ اس کا شوہر مسافر مخزوی یا صفی بن راہب جو کافر تھا اس کی طلب میں آگیا اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : محمد ﷺ میریبیوی مجھے واپس دو ۔ تم نے شرط کرلی تھی کہ ہم میں جو کوئی شخص (مسلمان ہو کر) آپ ﷺ کے پاس پہنچے گا۔ آپ ﷺ پر اس کو واپس کرنا لازم ہوگا۔ یہ شرط تحریر میں موجود ہے۔ ابھی اس کی روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی ہے۔ اس پر آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَآءَ کُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُھٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْھُنَّ.... نازل ہوئی۔ مہاجرات سے مراد وہ عورتیں جو دارالکفر کو چھوڑ کر دارالسلام میں آگئی ہوں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مؤمن مہاجر عورتوں کا امتحان اس طرح ہوتا تھا کہ عورت بحلف کہتی تھی ‘ میں اپنے شوہر سے نفرت کرنے یا کسی مسلمان مرد سے عشق کرنے کی بنیاد پر نہیں آئی ‘ نہ یہ وجہ ہے کہ مجھے ایک جگہ سے نفرت اور دوسری جگہ سے الفت ہو ‘ نہ میں کوئی جرم کر کے آئی ہوں ‘ نہ طلب مال مجھے لائی ہے بلکہ اسلام پسندی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا جذبہ مجھے لے کر آیا ہے۔ حضور ﷺ اس طرح اس سے حلف لیتے تھے ‘ جب وہ اس پر قسم کھا لیتی تھی تو پھر آپ ﷺ اس کو واپس نہیں لوٹاتے تھے اور جو مہر اس کے شوہر نے اس کو (نکاح کے وقت یا بعد کو) ادا کیا ہوتا تھا وہ اور جو کچھ شوہر نے اس کے لیے خرچ کیا ہوتا وہ بھی شوہر کو عطا فرما دیتے تھے ‘ پھر سبیعہ سے عمر نے نکاح کرلیا جو مرد (مسلمان ہو کر بھاگ کر مکہ سے) آپ کے پاس آتا تھا آپ ﷺ اس کو واپس کردیتے تھے اور اگر عورت مسلمان ہو کر آتی تھی تو آپ ﷺ اس کو واپس نہیں کرتے تھے بلکہ اس کا مہر واپس کرا دیتے تھے۔
طبرانی نے ضعیف سند سے بروایت عبداللہ بن احمد لکھا ہے کہ صلح کے ایّام میں ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط ہجرت کر کے آئیں ‘ پیچھے سے ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید بن عقبہ بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپہنچے اور حضور ﷺ سے امّ کلثوم کی واپسی کے لیے درخواست کی ‘ اس پر اللہ نے وہ معاہدہ جو حضور ﷺ اور مشرکوں کے درمیان میں ہوا تھا صرف عورتوں کے معاملہ میں توڑ دیا اور مہاجر عورتوں کی واپسی کی ممانعت فرما دی ‘ پھر آیت امتحان نازل فرمائی۔ ابن ابن حاتم نے لکھا ہے مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ یہ آیت امیمہ بنت بشر یا ابو حسان بن وحداحہ کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ایک عورت تھی جس کا نام سعیدہ تھا اور وہ صیفی بن راہب کی بیوی تھی ‘ صیفی مشرک تھا۔ ایام صلح میں سعیدہ ہجرت کر کے آگئی اور مشرکوں نے درخواست کی کہ سعیدہ کو واپس کیا جائے۔ (لیکن حضور ﷺ نے درخواست منظور نہیں کی) ابن جریر نے زہری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے نچلے حصہ میں فروکش تھے اور اس شرط پر اہل مکہ سے صلح کرلی تھی کہ مکہ والوں میں سے جو شخص (ہجرت کر کے) رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ جائے گا ‘ اس کو واپس کردیا جائے گا۔ اسی اثناء میں کچھ عورتیں ہجرت کر کے آگئیں تو ان کے متعلق آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
وَاٰتُوْھُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا : یعنی ان کے شوہروں نے جو کچھ خرچ کیا ہو یعنی مہر دیا ہو (یا زیور وغیرہ ‘ مترجم) وہ ان کو واپس دے دو کیونکہ معاہدۂ حدیبیہ میں عورتوں کی واپسی بھی شامل تھی لیکن جب ان کی واپسی کی ممانعت ہوگئی تو مہر کی واپسی لازم ہوگئی۔
جس طرح حدیبیہ میں حضور ﷺ نے قریش سے صلح کی تھی ویسی ہی صلح اگر خلیفہ کافروں سے کرلے پھر جب کوئی ہجرت کر کے آئے تو عورت کو واپس نہ بھیجے بلکہ اس کا (وصول کردہ) مہر لوٹا دے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ زہری کا بیان ہے اگر صلح نہ ہوتی تو اور وہ معاہدہ جو رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان حدیبیہ میں ہوا تھا ‘ نہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ مہاجر عورتوں کو بھی روک لیتے اور ان کے مہر بھی واپس نہ کرتے ‘ معاہدہ سے پہلے جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آتی تھیں۔ آپ ﷺ یہی معاملہ کرتے تھے (کہ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے مہر بھی واپس نہیں کراتے تھے) ۔
ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن ولا تمسکوا بعصم الکوافر و سئلوا ما انفقتم ولیسئلوا ما انفقوا ذالکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم .
” اور تم کو ان مہاجر عورتوں سے نکاح کرلینے میں کوئی گناہ نہ ہوگا جبکہ تم ان کے مہر ان کے دے دو اور (اے مسلمانو ! ) تم کافر عورتوں کے تعلقات (ازدواجی) کو باقی مت رکھو اور (اپنی بیویوں پر) جو کچھ خرچ کیا ہو (جب وہ مرتد ہو کر چلی جائیں یا ہجرت کر کے ہی نہ آئیں اور کفر پر قائم رہیں) تو ان کافروں سے اس کا مطالبہ کرلو اور جو کچھ (مہاجر عورتوں پر) کافروں نے خرچ کیا ہو وہ مسلمانوں سے مانگ لیں ‘ یہ اللہ کا حکم ہے۔ وہی تمہارے درمیان فیصلہ کر رہا ہے اور اللہ بڑا علم والا (اور) حکمت والا ہے۔ “
وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ : یعنی اے مسلمانو ! ہجرت کر کے آنے والی عورتوں سے تم نکاح کرسکتے ہو ‘ اس میں کوئی گناہ نہیں خواہ ان کے کافر شوہر دارالحرب میں موجود ہی ہوں کیونکہ (کفر اور اسلام کی وجہ سے) تفریق تو ان کی ہو ہی گئی۔ آیت دلالت کر رہی ہے کہ عدت ضروری نہیں۔ امام ابوحنیفہ کا یہی قول ہے ‘ صاحبین کا قول اس کے خلاف ہے۔
اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ : اجور سے مراد ہیں مہر۔ مہر کی ادائیگی کی شرط لگانے سے بتانا مقصود ہے کہ سابق شوہروں کا ادا کردہ مہرجو مہاجر عورتوں کی طرف سے ان کے کافر شوہروں کو واپس کیا ہو وہ جدید مہر میں محسوب نہ ہوگا یعنی ان کے کافر شوہروں کو جو کچھ تم نے دے دیا وہ دیدیا ‘ اب اگر تم ان مہاجر عورتوں سے نکاح کرو گے تو اپنے نکاح کا مہر از سر نو دینا ہوگا۔
ابن منیع نے بطریق کلبی ازابی صالح حضرت ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ جب مسلمان ہوگئے تو ان کی بیوی مشرکوں کے ساتھ ہی رہ گئی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
وَلاَ تُمْسِکُوْا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ : عصمؔ‘ عصمت کی جمع ہے۔ عصمۃ مضبوط عقد (بندھن) جیسے عقد موالات ‘ عقد نکاح وغیرہ۔ اللہ نے مشرک عورتوں سے نکاح برقرار رکھنے کی ممانعت فرما دی۔
بغوی نے زہری کی روایت سے لکھا ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے اپنی دو عورتوں کو جو مکہ میں رہ گئی تھیں اور مشرک تھیں ‘ طلاق دیدی۔ ایک قرینہ بنت ابی امیّہ بن مغیرہ۔ اس سے معاویہ نے مکہ میں نکاح کرلیا ‘ معاویہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ دوسری ام کلثوم خزاعیہ بنت عمرو بن جردل جو حضرت عبداللہ بن عمر کی ماں تھی ‘ اس سے ابو جہیم بن حذافہ بن غانم نے نکاح کرلیا ‘ ابو جہیم مشرک تھا۔
ارویٰ بنت ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی بیوی تھی ‘ طلحہ تو ہجرت کر کے چلے آئے لیکن ارویٰ اپنی قوم کے مذہب پر رہی۔ اسلام نے ان دونوں میں تفریق کردی تو خالد بن سعد بن عاص بن امیہ نے اس سے نکاح کرلیا۔ شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ابو العاص بن ربیع کے نکاح میں تھیں ‘ مسلمان ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آپہنچیں۔ ابو العاص مکہ میں ہی بحالت شرک رہا ‘ پھر کچھ مدت کے بعد مدینہ میں آگیا اور مسلمان ہوگیا۔
وَسْءَلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ : یعنی اگر کوئی مسلمان عورت مرتد ہو کر مشرکوں کے پاس چلی جائے اور وہ روک لیں تو جس مسلمان کے وہ نکاح میں تھی وہ اس کافر سے جو اس عورت سے نکاح کرے اپنا دیا ہوا مہر طلب کرلے۔
وَلْیَسْءَلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا : اور جو مہاجر عورتیں کفرستان چھوڑ کر اسلامستان میں آجائیں تو ان کو جو مہر کافروں نے ان کے نکاح کے وقت دیا ہو ‘ وہ اپنا دیا ہوا مہر اس شخص سے طلب کرسکتے ہیں جو ان عورتوں سے نکاح کرے۔
وَ اللہ ُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ : یعنی اللہ وہی حکم دیتا ہے جس کو تمہارے لیے بہتر جانتا ہے اور جو اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔
بغوی نے زہری کا قول نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو جو حکم دیا گیا تھا انہوں نے تو حکم خداوندی کی تعمیل کی اور کافروں کو وہ مہر مہاجرات کی طرف سے دے دیئے ‘ جو نکاح کے وقت کافروں نے ان کو دیا تھا لیکن کافروں نے اس فیصلہ کو ماننے سے انکار کردیا اور ان عورتوں کے مہر جو مرتد ہو کر چلی گئی تھیں اور مسلمانوں نے نکاح کے وقت ان کو جو مہر دیا تھا واپس دینے کا اقرار نہیں کیا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 60:11وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاتوا الذین ذھبت ازواجھم مثل ما انفقوا واتقوا اللہ الذی انتم بہ مؤمنون .
” اور اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی (کافروں کے پاس چلی جائے اور وہیں رہ پڑنے کی وجہ سے) بالکل تمہاے ہاتھ نہ آئے۔ پھر تمہاری نوبت آئے تو جن کی بیبیاں ہاتھ سے نکل گئیں ‘ جتنا (مہر) انہوں نے خرچ کیا تھا اس کے برابر تم ان کو (ضرور) دے دو اور اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو ‘ ڈرتے رہو۔ “
وَاِنْ فَاتَکُمْ : اور اگر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے ‘ فوت ہوجائے۔
شَیْ ءٌ : کوئی بی بی۔
اِلَی الْکُفَّارِ : پھر مرتد ہو کر کافروں سے جا ملے۔ اَحَدٌ : (کوئی شخص) کی جگہ شَیْ ءٌ : (کوئی چیز) کا استعمال مرتد عورت کی تحقیر کے لیے اور تعمیم میں مبالغہ کرنے کے لیے کیا گیا۔ یا شی ءٌ سے مراد ہے مہر۔ یعنی تمہاری (مرتد) بیبیوں کے مہر تمہارے ہاتھ سے نکل جائیں اور کافر نہ دیں۔
ابن ابی حاتم نے حسن کی روایت سے بیان کیا کہ یہ آیت ام الحکم بنت ابو سفیان کے حق میں نازل ہوئی جو مرتد ہوگئی تھی اور ارتداد کے بعد ایک ثقفی شخص نے اس سے نکاح کرلیا تھا ‘ سوائے ام الحکم کے قریش کی کوئی عورت مسلمان ہونے کے بعد اسلام سے نہیں پھری۔
فَعَاقَبْتُمْ : بغوی نے لکھا ہے کہ اہل تفسیر نے اس لفظ کا مطلب یہ بیان کیا کہ جو عقبیٰ یعنی مال غنیمت تم کو کافروں سے ملا ہو ‘ بعض نے اس کا ترجمہ کیا تم کامیاب ہوجاؤ اور آخری نوبت تمہاری آجائے۔
فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَھَبَتْ اَزْوَاجُھُمْ : یعنی جب مسلمانوں کی بیبیاں کافروں کے پاس چلی گئی ہوں ‘ ان کو کافروں سے حاصل شدہ مال غنیمت میں سے اتنا دے دو جتنا انہوں نے مرتد ہوجانے والیوں کو دیا ہو اور ان کے لیے خرچ کیا ہو۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : چھ مہاجر مؤمن عورتیں مشرکوں سے جا ملی تھیں جو پھر اسلام کی طرف لوٹ آئیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے ان کے شوہروں کو مال غنیمت میں سے ان کے دیئے ہوئے مہر عطا کردیئے : 1) ام الحکم بنت ابی سفیان زوجہ عیاض بن شداد فہری ‘ 2) حضرت ام سلمہ کی بہن فاطمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ جو حضرت عمر ؓ بن خطاب کے نکاح میں تھی۔ جب حضرت عمر ؓ نے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا تو بی بی نے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور مرتد ہوگئی ‘ 3) بروع بنت عقبہ زوجہ شماس بن عثمان ‘ 4) عزہ بنت عبدالعزیٰ بن فضلہ زوجہ عمر بن عبدود ‘ 5) ہندہ بنت ابوجہل بن ہشام جو ہشام بن عاص بن وائل کی زوجیت میں تھی ‘ 6) ام کلثوم بنت خرول جو حضرت عمر بن خطاب ؓ کے نکاح میں تھی ‘ بیضاوی نے فعاقبتم کا ترجمہ کیا ہے تمہاری عقبہ یعنی تمہاری نوبت (باری) آئی ‘ گویا مؤمنوں کی طرح سے سابق کافر شوہروں کو ان کا دیا ہوا مہر ادا کرنا اور کافروں کی طرف سے اسلام سے برگشتہ ہو کر آنے والیوں کو مسلمانوں کا دیا ہوا مہر ادا کرنا ‘ یہ دونوں عمل ایسے ہیں جیسے ایک سواری پر دو شخص اپنی اپنی باری سے سوار ہوجائیں۔ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَھَبَتْ اَزْوَاجُھُمْ ۔ بیضاوی نے اس کا مطلب یہ لکھا ہے کہ مہاجر عورتوں کو اتنا مہر دے دو جو کافروں نے ان کو دیا تھا۔ سابق کافر شوہروں کو کچھ نہ دو ۔ صحیح تفسیر وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کردی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جن کافروں کی عورتیں مسلمان ہو کر ہجرت کر آئی ہوں ‘ ان کو کافر شوہروں کی طرف سے ملا ہوا مہر واپس دینا کیا مسلمانوں پر واجب تھا یا مستحب ؟ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ علماء کے اس میں دو قول ہیں۔ اس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں کیا یہ تھا کہ جو کوئی مرد یا عورت اس معاہدہ کے بعد مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آئے گا اس کو لوٹا دینا لازم ہوگا یا یہ تھا کہ جو مرد مؤمن ہجرت کر کے آئے گا ‘ اس کی واپسی لازم ہوگی۔ اوّل قول کی دلیل یہ ہے کہ معاہدہ میں لفظ احدمنا آیا۔ یعنی ہم میں سے جو شخص بھی (خواہ مرد ہو یا عورت) آپ کے پاس مسلمان ہو کر پہنچے گا۔ آپ بواپسی اس کو ہمارے حوالے ضرور کریں گے۔ معاہدہ میں تو عموم تھا لیکن پھر عورتوں کو واپس کرنے کی ممانعت ہوگئی تو اس کے عوض وہ مہر جو اس کے کافر شوہر نے دیا تھا ‘ واپس کرنا واجب ہوگیا۔ دوسرے قول کا حاصل یہ ہے کہ صرف مرد مہاجر کو واپس کرنے کی شرط تھی۔ عورت کو لوٹا دینے کی شرط ہی نہیں تھی ‘ کیونکہ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ہم میں سے جو مرد ہجرت کر کے آپ کے پاس پہنچے گا آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے۔ مرد اور عورت کی واپسی کے حکم میں تفریق اس وجہ سے کی گئی کہ مؤمن مرد کو اگر دوبارہ لوٹا کر کافروں کے سپرد کر بھی دیا جائے گا تو اس کے مرتد ہوجانے کا زیادہ اندیشہ نہیں کیونکہ کافر اگر اس کو ڈرا دھمکا کر اور سختی کر کے زبان سے کلمات کفر کہلوا بھی لیں گے تو وہ تقیہ کرلے گا اور دل میں ایمان چھپائے رکھے گا لیکن عورت عام طور پر ضعیف القلب ہوتی ہے ‘ اس کو ڈرا دھمکا کر اور دکھ پہنچا کر مرتد بنا لینا زیادہ ممکن ہے ‘ وہ اپنی کمزوری اور ناچاری کی وجہ سے تقیہ بھی نہیں کرسکتی ‘ دل میں ایمان چھپائے رکھے اور بظاہر مرتد ہوجائے اس کی امید کم ہوتی ہے۔ اس لیے معاہدہ میں اس کی واپسی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس صورت میں اداء مہر سابق مستحب ہوگا۔
میرے نزدیک ظاہر یہ ہے کہ معاہدہ میں ہر مہاجر مرد و عورت کی واپسی کی شرط تھی۔ پھر مہاجر عورتوں کی واپسی کا حکم منسوخ کردیا گیا ‘ اگر معاہدہ کی رو سے مہاجر عورتوں کی واپسی ضروری نہیں تھی ‘ تو ان کو لوٹا دینے کی کوئی وجہ ہی نہ تھی۔ نہ جدید حکم کے نازل ہونے کی ضرورت تھی۔ مہاجر عورت کی واپسی کی ممانعت کے بعد واپسی مہر واجب تھی ‘ امر کے صیغے اسی پر دلالت کر رہے ہیں اور آیت : ذٰلِکُمْ حُکْمُ اللہ بھی اسی کو چاہتی ہے۔
اَلَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ : ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کی جائے پس جب اللہ کو مانتے ہو تو اس کی نافرمانی سے بھی پرہیز کرو۔
ایک شبہ عہد شکنی تو حرام ہے پھر مہاجر عورتوں کی واپسی کا جب معاہدہ ہوگیا تو کیوں منسوخ کیا گیا ؟
ازالہ عہد شکنی حرام ہے یہ صحیح ہے لیکن ایک خاص صورت میں اس کی حرمت کو منسوخ کیا گیا (گویا حرمت نقض عہد کا حکم عام مخصوص البعض تھا ‘ مترجم) یا یوں کہا جائے کہ عورت کی واپسی کی ممانعت عہد شکنی نہیں بلکہ مساویانہ ترک معاہدہ ہے (قریش نے معاہدہ شکنی کی تو مسلمانوں کو ترک معاہدہ کا حکم دے دیا گیا ‘ مترجم)
بغوی نے لکھا ہے کیا اب بھی مسلمان ہوجانے والی کسی کافر بیوی کو روک کر مسلمان اس کا مہر اس کے شوہر کو واپس کرسکتے ہیں۔ جبکہ کافروں سے کیے ہوئے معاہدہ میں عورتوں کی واپسی کی شرط موجود ہو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور عطاء نے کہا : اب واجب نہیں ہے اور آیت منسوخ ہے۔ میں کہتا ہوں کوئی حکم منسوخ اس وقت تک ہوسکتا ہے جب اسی کی قوت کا کوئی ناسخ موجود ہو اور ایسا کوئی ناسخ موجود نہیں ہے۔ بعض علماء کے نزدیک آیت منسوخ نہیں ہے ‘ حکم مذکور اب بھی لازم ہے۔
Ayah 60:12یایھا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان الا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولادھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن ولا یعصینک فی معروف فبا یعھن واستغفر لھن اللہ ان اللہ غفور رحیم .
” اے نبی ! اگر مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے) آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان کی اولاد لائیں گی جس کے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (نطفہ شوہر سے جنی ہوئی اولاد) ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہوں اور نہ شرعی باتوں میں آپ کی نافرمانی کریں گی تو آپ ان سے بیعت لے لیا کریں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا اللہ سے کیا کریں ‘ بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔ “
وَلاَ یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ : یعنی جاہلیت کی رسم کے موافق اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ‘ جاہلیت کے زمانے میں عورتیں اپنی بچیوں کو زندہ دفن کردیتی تھیں۔
بِبُھْتَانٍ : ایسا جھوٹ جس کو سن کر سننے والا متحیر ہوجائے۔
یَفْتَرِیْنَہٗ : اپنی طرف سے بنا لیں ‘ خود گھڑ لیں۔
بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ : بعض اہل علم نے کہا : ایدیؔ اور ارجلؔ کی صراحت اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کی گئی ہے کہ انسان کے ہاتھ پاؤں گناہوں کی شہادت دیں گے۔ لہٰذا گواہوں کے سامنے بہتان تراشی نہ کریں۔ بعض اہل تفسیر نے کہا : بہتان سے مراد ہے کہ کوئی بچہ لے کر عورت اپنے شوہر سے کہے کہ یہ میرا بچہ تیرے نطفہ سے ہے ‘ بہتان میں الایدی والارجل کا یہی مطلب ہے کیونکہ ماں اپنے پیٹ میں بچہ کو اٹھائے رہتی ہے یہ بین الایدی کا مطلب ہوگیا ‘ پھر شرمگاہ کے راستے سے باہر لاتی ہے۔ یہ عمل بین الارجل ہوگیا ‘ بہتان کا لفظ ہر قسم کی کذب تراشی کو شامل ہے ‘ لیکن اس جگہ مراد ہے دوسرے بچہ کو اپنے شوہر کے نطفہ سے قرار دینا۔
فِیْ مَعْرَوْفٍ : کسی (شرعی) نیکی کے کرنے میں یا گناہ اور بدی سے باز رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ ہی نیکی کرنے کا حکم دیتے تھے اس لیے فی معروف کہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ‘ مگر لفظ معروف کو ذکر کرنے سے اس بات پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ اللہ کی نافرمانی کا حکم کوئی بھی دے ‘ اس کی اطاعت جائز نہیں۔
مجاہد نے کہا عدم عصیان فی معروف سے مراد یہ ہے کہ عورتیں (غیر) مردوں کے ساتھ تخلیہ نہ کریں۔ سعید بن مسیب ‘ کلبی اور عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ مصیبت پڑنے پر عورتیں نوحہ نہ کریں اور ہائے وائے نہ کریں اور کپڑے نہ پھاڑیں اور نہ سر منڈوائیں اور نہ منہ پیٹیں اور کوئی عورت اپنے محرم کے علاوہ کسی اور مرد سے باتیں نہ کرے۔ نہ غیر محرم کے ساتھ تخلیہ کرے ‘ نہ محرم کے علاوہ کسی مرد کے ساتھ سفر کرے۔ ابن جریر ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے لکھا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے آیت : لَا یَعْصِیْنَکَ کی تشریح میں فرمایا ‘ اس سے مراد ہے نوحہ نہ کرنا۔ بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت امّ عطیہ ؓ نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور حضور ﷺ نے نوحہ کرنے سے بھی ہم کو منع کیا ‘ اس ممانعت کو سن کر ایک عورت نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا ‘ فلاں عورت نے (نوحہ کرنے میں) میری مدد کی تھی (اس کا نوحہ کرنا مجھ پر قرض ہے پہلے میں جا کر اس کے ساتھ نوحہ کر آؤں ‘ پھر آکر نوحہ کرنے پر بیعت کروں گی) یہ کہہ کر وہ چلی گئی پھر کچھ دیر کے بعد واپس آئی اور بیعت کی۔
مسلم نے ابو مالک اشعری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں جن کو لوگ ترک نہیں کریں گے۔ اپنے نسب پر فخر ‘ دوسرے کے نسب پر طنز ‘ ستاروں (کے طلوع) سے بارش کی طلب اور نوحہ کرنا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر نوحہ کرنے والی توبہ نہیں کرے گی تو قیامت کے دن خارشت کی وجہ سے تارکول کا کرتہ اور دوپٹہ پہنے اٹھائی جائے گی۔
صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو منہ پیٹے ‘ گریبان پھاڑے اور جاہلیت جیسی ہائے وائے کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں) ۔
ابوداؤد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت کی ہے۔
فَبَا یِعْھُنَّ : یعنی اس بات پر ان سے بیعت لے لیجئے کہ اگر ان شرطوں کو پورا کرو گے تو تمہارے ثواب کا میں ضامن ہوں۔
وَاسْتَغْفِرْ لَھُنَّ اللہ : اور گزشتہ گناہوں کی ان کے لیے اللہ سے معافی طلب کیجئے۔
اِنَّ اللہ غَفُوْرٌ : اللہ معاف کرنے والا ہے ‘ بندہ سے جو گناہ پہلے ہوگئے ہوں ان کو محو کردیتا ہے۔
رَّحِیْمٌ : یعنی آئندہ توفیق ہدایت دینے والا ہے۔
بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ اس آیت کے ساتھ عورتوں سے زبانی بیعت لیتے تھے ‘ سوائے اس عورت کے جو آپ کی مملوکہ (منکوحہ یا باندی) تھی اور کسی عورت کے ہاتھ سے آپ ﷺ کا ہاتھ مَس بھی نہیں کرتا تھا۔
بغوی نے بروایت محمد بن المنکدر بیان کیا کہ امیمہ بنت رقیقہ کہہ رہی تھیں۔ میں نے چند عورتوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا : جتنی تم میں استطاعت اور طاقت ہو (ان گناہوں سے پرہیز کرو) میں نے (اپنے دل میں) کہا : رسول اللہ ﷺ ہم پر اپنی جانوں سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم سے مصافحہ کرلیجئے۔ فرمایا : میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا جو قول میرا ایک عورت کے لیے ہے وہی سو عورتوں کے لیے ہے۔ کچھ اہل تفسیر کا قول ہے کہ یہ آیت فتح مکہ کے دن نازل ہوئی تھی۔ مگر ایسا خیال کرنا غلط ہے ہم آیت امتحان کی تفسیر میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ذکر کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اسی آیت یعنی آیت : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ ..... غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ تک کو سنا کر عورتوں کا امتحان لیتے تھے اور آیت امتحان صلح حدیبیہ کے بعد ہی نازل ہوئی تھی ‘ لیکن رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن جب کوہ صفا پر مردوں کی بیعت سے فارغ ہوچکے تھے اور حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے کچھ نیچے تھے اور حضور ﷺ کے حکم سے عورتوں سے بیعت لے رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عورتوں کو پیام پہنچا رہے تھے۔ ہند بنت عتبہ زوجہ ابو سفیان بھی عورتوں میں شامل تھی اور نقاب پوش تھی اس نے اپنا حلیہ بدل لیا تھا کیونکہ اس کو اندیشہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ اس کو پہچان لیں گے۔ عورتیں جمع ہوگئیں تو حضور ﷺ نے فرمایا : میں تم سے بیعت اس شرط پر لیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہیں قرار دو گی۔ ہند سر اٹھا کر بولی : خدا کی قسم ! جس طرح کی بیعت آپ مردوں سے لے رہے ہیں ‘ اس طرح کی بیت آپ ﷺ ہم سے نہیں لے رہے ہیں ‘ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ بیعت مردوں کی بیعت کے مغایر ہے (حضور ﷺ نے اس روز مردوں سے صرف اسلام اور جہاد کی بیعت لی تھی۔ حضور ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا) اور فرمایا اور چوری نہیں کرو گی۔ ہند بولی : ابو سفیان انتہائی کنجوس آدمی ہے۔ میں اس کے مال میں سے کچھ لے لیا کرتی تھی کیا وہ میرے لیے حلال تھا یا حرام ؟ یہ بات سن کر ابو سفیان نے کہا : جو کچھ تو نے پہلے لے لیا ‘ آئندہ لے گی ‘ وہ تیرے لیے حلال ہے (میری طرف سے معافی ہے) رسول اللہ ﷺ یہ مکالمہ سن کر ہنس دیئے (مسکراء دیئے) اور فرمایا : تو یقیناً ہند بن عتبہ ہے۔ بولی : ہاں ‘ جو کچھ گزر چکا اس سے اب آپ ﷺ درگزر کیجئے۔ فرمایا : اللہ تجھ کو معاف کرے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا : اور تم زنا نہیں کرو گی۔ ہند بولی : کیا کوئی آزاد عورت بھی زنا کرسکتی ہے ؟ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی۔ ہند بولی : جب ہماری اولاد چھوٹی تھی تو ہم نے اس کو پالا اور تم نے اس کو قتل کیا تم اور وہ اس سے خوب واقف ہیں۔ ہند کا بیٹا حنظلہ بن ابی سفیان بدر کی لڑائی میں مارا گیا تھا۔ یہ بات سن کر حضرت عمر ؓ اتنا ہنسے کہ پیچھے گرگئے اور حضور ﷺ بھی مسکرا دیئے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا اور تہمت تراشی نہیں کرو گی۔ ہند بولی : واللہ ! تہمت تراشی بری بات ہے اور آپ ﷺ ہم کو سیدھی راہ پر چلانے اور مکارم اخلاق اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا : اچھی باتوں میں نافرمانی نہیں کرو گی۔ ہند کہنے لگی : ہم جو اس مجلس میں آئے ہیں تو ہمار دلوں میں آپ ﷺ کی کسی قسم کی نافرمانی کا خیال ہی نہیں ہوسکتا۔ اس طرح جو عہد عورتوں سے حضور ﷺ نے لیا عورتوں نے اس کا اقرار کیا۔
مردوں سے جو اسلام کی بیت لی گئی تھی ‘ اس میں وہ تمام دفعات اجمالاً موجود تھیں جن کی تفصیل وار بیعت عورتوں سے لی گئی ‘ مردوں کی بیعت میں اجمال اور عورتوں کی بیعت میں تفصیل سے کام کیوں لیا گیا ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ امور مفصلہ کا صدور عورتوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ دیکھو بکثرت مسلمان عورتیں (توہم پرستی کی وجہ سے) شرک آمیز عقیدہ رکھتی ہیں ‘ شوہروں کے مال کی چوری کرتی ہیں ‘ اپنی (ناجائز) اولاد کو زندہ درگور کرتی ہیں (یا قتل کردیتی ہیں) رہی عورتوں کی بدکاری تو وہ مردوں کی بدکاری سے زیادہ بری ہے کیونکہ اس سے حق اللہ بھی تلف ہوتا ہے اور حق شوہر بھی ‘ عورتیں ہی غیر مرد کی اولاد کو اپنے شوہروں کی طرف منسوب کرتی ہیں اور شوہروں کے مال کا (غلط طور پر) ان کو وارث قرار دیتی ہیں۔ بہتان تراشی ‘ دروغ بافی کا ارتکاب تو عورتیں بکثرت کرتی ہی ہیں اور کو ستی بھی بہت ہیں اور شوہروں کی احسان فراموشی بھی بہت کرتی ہیں۔ میّت پر نوحہ کرنا تو ان کی خصوصیت ہی ہے ‘ ہائے وائے کرنا ‘ رونا پیٹنا ‘ گریبان پھاڑنا اور اسی طرح کے دوسرے ایسے کام کرتی ہیں جو مرد نہیں کرتے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے کسی قدر تفصیلی بیعت لی۔ جہاد مردوں کے ساتھ مخصوص تھا اس لیے بیعت جہاد صرف مردوں سے لی۔ ابن المنذر نے بطریق محمد بن اسحاق بروایت محمد از عکرمہ یا از سعید بن مسیب بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : عبداللہ بن عمر ؓ اور زید بن حارث ؓ کچھ یہودیوں سے دوستی رکھتے تھے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 60:13یایھا الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب اللہ علیھم قد یئسوا من الاخرۃ کما یئس الکفار من اصحاب القبور . ” اے ایمان والو ! ان لوگوں سے (بھی) دوستی مت کرو جن پر اللہ نے غضب (نازل)
فرمایا ہے۔ وہ آخرت (کے ثواب اور فلاح سے ایسے ناامید ہوگئے ہیں جیسے کفار قبر والوں سے۔ “
قَوْمًا غَضِبَ اللہ عَلَیْھِمْ : جن پر خدا نے غضب کیا ہے یعنی یہودی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہی فرمایا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کچھ غریب مسلمان یہودیوں سے جوڑ اور تعلق رکھتے اور ان کو مسلمانوں کی کچھ خبریں پہنچا دیتے تھے اور یہودیوں کے پاس سے ان کو کچھ پھل مل جاتے تھے۔ اللہ نے اس کی ممانعت فرما دی۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ عام کافر مراد ہیں۔
قَدْ یَءِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ : اگر مغضوب علیہم سے یہی مراد ہوں تو یہودیوں کا آخرت کی بہبودی سے مایوس ہونا اس بنا پر ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے نبی برحق ‘ صاحب معجزات ہونے کے منکر تھے حالانکہ توریت میں حضور ﷺ کی بشارت موجود تھی مگر شیطان کے زیر تسلط آکر محض حسد وعناد کی وجہ سے وہ حضور ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے اور ان تمام باتوں کو جانتے تھے ‘ مگر بدبختی ان پر غالب تھی ‘ دانستہ دشمنی اور حسد کرتے تھے اسی وجہ سے آخرت کی فلاح و بہبود سے ناامید ہوگئے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ آخرت کے ثواب میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔
اگر عام کفار مراد ہوں تو چونکہ ان کا آخرت پر اور آخرت کے ثواب اور عذاب پر ایمان ہی نہ تھا اس لیے نہ عذاب آخرت سے ڈرتے تھے نہ ثواب آخرت کے امیدوار تھے۔
کَمَا یَءِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ : یعنی کفار جس طرح قبروں کے مردوں کے دوبارہ اٹھائے جانے یا ان کے ثواب پانے کی امید نہیں رکھتے۔ اگر قَوْمًا غَضِبَ اللہ عَلَیْھِمْ سے مراد عام کفار ہوں تو پھر دوبارہ صراحت کے ساتھ لفظ کفار کا استعمال یہ بات بتارہا ہے کہ کفر ہی نے ان کو مایوس بنا رکھا تھا۔ اس تفسیر پر مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ کا تعلق یَءِسَ سے ہوگا اور ظرف لغو ہوگا۔
بعض کے نزدیک ظرف مستقر ہے اور مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ ‘ الکفار کا بیان ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح قبروں میں دفن ہونے والے مردہ کافر ثواب آخرت سے مایوس ہیں ‘ اسی طرح یہودی بھی فلاح آخرت سے نراس 1 ہیں۔
(کذا قال مجاہد و سعید بن جبیر)
الحمد اللہ سورة ممتحنہ کی تفسیر مظہری کا ترجمہ مکمل ہوا