60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق پچھلی سورتوں میں منافقین کو اہل کتاب، بالخصوص یہود سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور یہ منافقین تھے بھی، جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں، بیشتر اہل کتاب ہی میں سے ہے۔ اس سورة میں مشرکین مکہ سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور خطاب خاص طور پر ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل بھی تھے اور دین کی خاطر انہوں نے ہجرت بھی کی تھی لیکن اہل مکہ سے رشتہ و برادری کے جو تعلقات تھے۔ اس کی زنجیریں ابھی انہوں نے نہیں تھوڑی تھیں اس وجہ سے امتحان کے مواقع پر ان سے ایسی کمزوریاں صادر ہوجاتیں جو ایمان و اخلاص کے منافی ہوتیں۔ گویا نفاق کی بیخ کنی یا تطہیر مومنین جو تمام مسجات کا مشترک مضمون ہے وہی مضمون اس سورة کا بھی ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے جنہوں نے ہجرت تو کی لیکن ہجرت کی اصل ابراہیمی حقیقت ابھی ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوئی تھی۔ ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کی یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ اگر ہجرت کی برکات سے متمتع ہونا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح اپنے سابق ماحول سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر کے کلیۃً اللہ اور رسول سے وابستہ ہو جائو۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١۔ ٣) جو کمزور مسلمان ہجرت کے بعد مشرکین مکہ سے خفیہ روابط موذت قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان کو تنبیہ کہ جنہوں نے تم کو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے گھروں سے اس جرم میں نکالا ہے کہ تم اللہ پر ایمان لائے اس نے محبت کی پینگیں نہ بڑھائو۔ تم تو ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر ان کا قابو تم پر چل جائے تو ان کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ جس طرح بھی ممکن ہو وہ تم کو مرتد کر کے چھوڑیں یاد رکھو کہ اپنے عزیز انہ تعلقات کی پاسداری میں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بےوفائی کرو گے تو قیامت کے دن یہ رشتے تمہارے کام آنے والے نہیں بنیں گے اس دن تمام رشتے ناتے ختم ہوجائیں گے۔ (٤۔ ٧) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ ہجرت کی یاددہانی اور اس سے سبق حاصل کرنے کی ہدایت کہ وہ اپنی پوری قوم سے اپنی ابدی بیزاری کا اعلان کر کے اٹھے کہ جب تک تم لوگ اللہ واحد پر ایمان نہ لائو گے اس وقت تک میرا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس ضمن میں اس دعائے ابراہیمی کی تلقین جو انہوں نے ہجرت کی آزمائشوں میں ثابت قدمی کے لیے فرمائی اور اس امر کی بشارت کہ کیا عجب کہ جن لوگوں سے تم کو آج قطع علائق کا حکم دیا جا رہا ہے وہ کل اسلام سے مشرف ہو کر تم سے گلے ملیں۔ (٨۔ ٩) اس امر کی وضاحت کہ ممانعت ان لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھانے کی کی جا رہی ہے جنہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی ہے اور رسول کو اور تم کو تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے کی ممانعت نہیں کی جا رہی ہے جنہوں نے اس طرح کی کوئی زیادتی نہیں کی ہے۔ (١٠۔ ١١) ان عورتوں کے باب میں جو مکہ سے ہجرت کر کے آئیں یہ ہدایت کہ فجرد اس بناء پر کہ وہ آگئی ہیں، ان کو اپنے اندر شامل نہ کرلیا جائے بلکہ ان کے ایمان و اسلام کی تحقیق کی جائے۔ جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ فی الواقع انہوں نے اسلام ہی کی خاطر ہجرت کی ہے تب ان کو اپنے اندر شامل کیا جائے۔ اسی طرح جو مشرکات مسلمانوں کے عقد میں ہیں ان کو بھی اپنے عقد میں باندھے رکھنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ آزاد کردی جائیں اور آپس میں مہروں کا تبادلہ کرلیا جائے۔ (١٢) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی کہ آپ کے پاس جو عورتیں اسلام کی خاطر آئیں اور خالص اسلامی زندگی بسر کرنے کا عہد کریں، ان سے بیعت لے لیا کریں۔ (١٣) آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ کو نہ یہود سے دوستی بڑھائو نہ کفار سے، ان دونوں کا حشر ایک ہی ہے، ان کی بنیادیں بالکل کھوکھلی ہوچکی ہیں۔

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا جو تمہارے پاس آیا، وہ رسول کو اور تم کو اس بنا پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اللہ، اپنے خداوند پر، ایمان لائے !۔۔۔۔ اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا جوئی کو نکلتے ہو، ان سے راز دارانہ نامہ و پیام کرتے ہوئے، درآں حالیکہ میں جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہو، اور جو تم میں سے ایسا کرتے ہیں وہ راہ راست سے بھٹک گئے۔

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا الذین امنوا لا تتخذو اعدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلۃ منکم فقد ضل سواء السبیل) (1) (مصلحت پرست مسلمانوں کو تنبیہ)۔ خطاب اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن انہی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد مشرکین مکہ کے ساتھ اپنے سابق خاندانی اور عزیز انہ تعلقات کا لحاظ باقی رکھے ہوئے تھے۔ جب تک مشرکین سے عام جنگ کا حکم نہیں ہوا اس وقت تک تو ان کی اس کمزوری پر پردہ پڑا رہا لیکن جب ان کے عام تعاقب کا حکم ہوگیا تو ان کی یہ کمزوری ظاہر ہونے لگی۔ یہ لوگ اپنے خاندان اور قبیلہ والوں کے خلاف تلوار اٹھانے سے بھی جھجکتے تھے اور قریش کے لیڈروں کو خوش رکھنے کی بھی خواہش مند تھے کہ وہ ان کے عزیزوں کے درپے آزار نہ ہوجائیں۔ اگرچہ ان کی یہ روش نفاق سے زیادہ مصلحت پرستی پر مبنی تھی۔ ان کا گمان تھا کہ اگر انہوں نے اپنے ان مشرک عزیزوں سے اچھے تعلقات باقی رکھے تو ان کے رویے سے متاثر ہو کر وہ ایک دن سچے مسلمان بن جائیں گے۔ لیکن قرآن نے اس مصلحت کو ایمان کے منافی قرار دیا اور ان پر واضح فرمایا کہ جس ایمان کے تم مدعی ہو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں سے رشتہ موالات نہ رکھو جو اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ لفظ عدو واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فعول کے وزن پر ہے اور عربی میں یہ وزن دونوں کے لیے یکساں ہے بلکہ اس میں مذکر و مونث کا بھی امتیاز نہیں ہے۔ (تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بما جاء کم من الحق یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ و بکم) یہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ تم تو ان سے موالات و محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی۔ ان کی یہ دشمنی اس سے واضح ہے کہ جو دین تمہارے پاس آیا اس کا بھی انہوں نے انکار کیا اور رسول کو اور تم کو اس جرم میں جلا وطن کرنے کے درپے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ایمان کیوں لائے۔ (تلقون الیھم بالمودہ) اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جس طرح (ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ) (البقرۃ : ہ، 195) اس طرح کے کام نامہ و پیام اور وسائل و وسائط سے انجام پاتے ہیں اس وجہ سے تعبیر مطلب کے لیے یہ اسلوب نہایت موزوں ہے۔ ہم نے اسلوب کی معنویت ملحوظ رکھنے کے لیے ترجمہ محبت کی پینگیں بڑھانا کیا ہے۔ (یخرجون الرسول وایا کم) میں حال کا صیغہ صورت حال کو نگاہوں کے سامنے کردینے کے لیے ہے تاکہ ان لوگوں کو غیرت دلائی جائے جو ایسے بےدرد لوگوں سے سوالات کے خواہش مند تھے جنہوں نے رسول اور ان کے ساتھیوں کو ان کے وطن سے جلا وطن کیا، فرمایا کہ اگر اس کے باوجود تم ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہو تو اپنے ایمان و اسلام کا جائزہ لو اس لیے کہ ان کا سارا غصہ تو اسی بات پر ہے کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے، ایمان لائے ! ربکم یہاں دلیل کے محل میں ہے کہ اللہ ہی جب رب ہے تو وہی ایمان کا حق دار ہوا۔ اگر تم اس پر ایمان لائے تو تم نے اصل حق دار کا حق پہچانا لیکن تمہاری یہی حق شناسی ان کے غضب کا سبب بن گئی ہے۔ (ان تومنوا) کے اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ ’ ان ‘ سے پہلے بعض اوقات مضاف محذوف ہوجایا کرتا ہے۔ اگر اس کو کھول دیجئے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس الزام یا اس گناہ پر تمہیں نکال رہے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے، ایمان کیوں لائے ؟ گویا تمہاری سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑی حق شناسی ان کے نزدیک تمہارا سب سے بڑا گناہ بن گئی ہے۔ (ان کنتم خرجتم جھاد فی سبیلی وابتخاء مرضاتی تسرون الیھم بالمودۃ وانا اعلم بما اخفیتم وما اعلنتم ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل)۔ (ایک اسلوب کی وضاحت)۔ اس ٹکڑے کی نحوی تالیف مفسرین پر اچھی طرح واضح ہوئی اس وجہ سے وہ اس کا مطلب واضح نہ کرسکے۔ پہلے اس کی تالیف نحوی سمجھ لیجئے، پھر ہم اس کا مطلب واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ مفسرین نے عام طور پر یہاں شرط کا جواب مخدوف مانا ہے اور قرینہ سے اس کو معین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میرے نزدیک یہاں (ان کنتم) اور (من یفعلہ) دونوں شرطوں کا جواب ایک ہی یعنی (فقد ضل سواء السبیل) ہے۔ تسرون ضمیر خطاب سے حاصل واقع ہوا ہے اور (انا اعلم بما اخفیم وما اعلنتم) جملہ معترضہ کے محل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم میری راہ میں جہاد اور رضا طلبی کے لیے اس حال میں نکلے کہ تم اپنے دلوں میں اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ سوالات کی خواہش چھپائے ہوئے ہو۔ درآنحالیکہ میں تمہارے باطن اور ظاہر دونوں کو جانتا ہوں تو یاد رکھو کہ جو تم میں سے ایسا کریں گے وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔ (اللہ کی رضا طلبی اور اس کے دشمنوں سے سوالات ایک جگہ نہیں جمع ہو سکتیں)۔ سیدھی راہ سے بھٹک جانے کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی رضا طلبی اور اللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں۔ یہ دونوں بیک وقت کسی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اگر اللہ ظاہر و باطن دونوں سے آگاہ نہ ہوتا تب تو اس کو دھوکہ دیا جاسکتا تھا لیکن جب وہ ہر ایک کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح آگاہ ہے تو اس کو کس طرح دھوکا دیا جاسکتا ہے ! جو لوگ اس طرح کی وہ متضاد خواہیں اپنے دلوں میں رکھ کے نکل رہے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ شیطان کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ع ایں رہ کہ تو میروی بہ ترکستان است (شان نزولی سے متعلق ایک نکتہ)۔ اس آیت کے تحت مفسرین نے حضرت حاطب بن بلتعہ ؓ کا ایک واقعہ بطور شان نزول، نقل کیا ہے۔ شان نزول سے متعلق ہم مقدر کتاب میں استاذ امام ؒ کی رائے نقل کرچکے ہیں کہ سلف جب کسی آیت کے تعلق سے کوئی واقعہ بطور شان نزول نقل کرتے ہیں تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں ہوا کرتا کہ بعینہٖ وہی واقعہ آیت کے نزول کا سبب ہے بلکہ اس سے ان کا مقصود صرف یہ رہنمائی دینا ہوتا ہے کہ اس آیت میں اس طرح کے واقعات کے لیے بھی حکم موجود ہے۔ اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص قسم کی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ جس کمزوری کی طرف آیت میں اشارہ سے بعض لوگوں کے اندر اس کا پایا جانا کچھ عجیب بھی نہیں ہے بلکہ یہ عام بشری کمزوری کا نتیجہ یا جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مصلحت خیر پر بھی مبنی ہو سکتی ہے اور یہاں یہی پہلو، جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، قرین عقل ہے۔ لیکن مصالح کا اصل جاننے والا خدائے علیم و حکیم ہی ہے۔ بسا اوقات آدمی نیک نیت سے ایک رائے قائم کرتا ہے لیکن اس میں اس کے نفس کی کوئی کمزوری بھی چھپی ہو سکتی ہے جس تک اس کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کی کمزوریوں پر تنبیہ فرمایا ہے تاکہ اس امت کے ہر اول دستہ کا ہر عمل بعد والوں کے لیے نمونہ ہو۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تم کو پا جائیں تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اور تم پر دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی اور چاہیں گے کہ تم کافر ہو جائو۔

(ان یتقفوکم یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیھم والسنتھم بالسوئو و دوا لو تکفرون) (2)۔ (کفا کے غباد کا حال)۔ یعنی تم تو ان سے دوستی کے خواہشمند ہو لیکن ان کے دلوں میں تمہارے خلاف ایسا عناد بھرا ہوا ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں قابو پا گئے تو نہ دست درازی سے باز رہیں گے نہ زبان درازی سے بلکہ ان کی پوری کوشش یہ ہوگی کہ تمہیں مرتد کر کے چھوڑیں۔ یہی بات سورة توبہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ (وَاِنْ یَّظْہَرُوْا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَاذِمَّۃًط) (التوبۃ : 9، 8) (اگر وہ تم پر قابو پا گئے تو پھر تمہارے معاملہ میں نہ وہ قرابت کا پاس کریں گے نہ کسی عہد کا) مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ان کی دشمنی من حییث الجماعت ہے اور اس سے وہ اتنے سخت ہیں کہ کسی رشتہ و قرابت یا کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے نہیں ہیں تو ان سے کسی نیکی کی توقع نہ رکھو بلکہ تمہارے لیے بھی صحیح رویہ یہی ہے کہ ان سے سوالات کی ہر خواہش سے دست بردار ہو جائو۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

تمہارے رشتے ناتے اور تمہارے آل و اولاد قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے

(لن تفعکم ارحا مکم ولا اولاد کم یوم القیمۃ یفصلی بینکم واللہ بما تعملون بصیر) (3)۔ (قیامت میں رشتے کام نہیں آئیں گے)۔ ارحام یہاں قرابات یعنی رشتے ناتے کے مفہوم میں ہے۔ یہ تنبیہ ہے کہ جو لوگ دینی تقاضوں کے مقابل میں اپنے رشتوں باتوں کو زیادہ اہمیت دیں گے وہ یاد رکھیں کہ یہ چیزیں قیامت میں کام آنے والی نہیں ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ اس طرح کے تمام رشتہ داروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ اس دن کی تصویر یوں کھینچی گئی ہے۔ (وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا۔ یُّبَصَّرُوْنَھُمْط یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ۔ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤِْیْہِ۔ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔) المعارج : 7، 10، 14) (اور اس دن کوئی دوست کسی دوست کا پر سال حال نہیں ہوگا وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم کی تمنا یہ ہوگی کاش ! اس دن کے عذاب سے وہ اپنے بیٹوں، اپنی بیوی، اپنے بھائی اور اپنے اس خاندان کو جو اس کی پناہ گاہ رہا ہے اور تمام اہل زمین کو فدیہ میں دے کر اپنے کو بچا لے۔ یہی حقیقت سورة عبس میں یوں واضح فرمائی گئی ہے۔ (یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ۔ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ۔ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ۔) (عبس : 34، 36) (اس دن کو یاد رکھو جس دن آدمی اپنے بھائی، اپنے ماں باپ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا)۔ اسی قسم کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہی تنبیہ سورة توبہ میں یوں فرمائی گئی ہے۔ (یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَآئَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَآئَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہ ُ بِاَمْرِہٖط وَ اللہ ُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔) (التوبۃ : 9 : 23 : 24)۔ (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بنائو اگر وہ کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں اور جو تم میں سے ان کو دوست بنائیں گے تو وہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔ کہہ دو ، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا خاندان، تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا، وہ کاروبار جس کی کساد بازاری کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں۔ تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔) آیت زیر بحث میں (یوم القیمۃ) اس خوبصورتی سے بیچ میں آیا ہے کہ وہ آگے اور پیچھے آنے والے دونوں فعلوں کا ظرف بن گیا ہے۔ (واللہ بما تعملون بصیر) یہ ایک دوسری تنبیہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ جو کچھ تم چھپا کر کرنے کی کوشش کر رہے ہو یہ اللہ سے بھی چھپا رہے گا۔ اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں رہتی۔ تمہارا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لیے بہترین نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان سے، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بیزاری آشکارا ہوگئی تآنکہ تم اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ پر ایمان لائو۔ مگر ابراہیم کی اپنے باپ سے اتنی بات کہ میں آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا اگرچہ میں آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے رب، ہم نے تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

(قد کا نت لکم اسوۃ خسنۃ فی ابراھیم والذین معہ اذقالوا لقومھم انا برئو مثکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابداء حتی تومنوا باللہ وحدہٗ الا قول ابراہیم لا بیہ لا ستغفرن لک وما املک لک من اللہ من شی ربنا علیکم توکلنا والیک انبنا والیک المصیر) (4)۔ (اسوہ ابراہیم کی پیروی کی تلقین)۔ فرمایا کہ اس معاملے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے جدامجد حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین قابل تقلید نمونہ پہلے سے موجود ہے۔ (قد کا نت) کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ پہلے سے تمہارے سامنے ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ اہل عرب کو اس بات پر ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد ہیں۔ انہیں ان کی ہجرت اور قربانی کی روایات کا بھی علم تھا۔ اگرچہ امتداد زمانہ سے ان پر گردو غبار کی تہیں بھی جم گئی تھیں اور بدعات نے ان کے بعض پہلوئوں کو مسخ بھی کردیا تھا تاہم یہ بات نہیں تھی کہ وہ ان سے بالکل ہی نا آشنا ہوں، جیسا کہ بعض مورخین نے گمان کیا ہے۔ (والذین معہ) سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب ہجرت فرمائی ہے تو تنہا نہیں ہجرت فرمائی ہے بلکہ ان کی قوم کے کچھ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے، اس ہجرت میں ان کے ہم رکاب تھے۔ (حضرت ابراہیم ؑ کا اعلان برأت)۔ (اذا قالو لقومھر) الایۃ۔۔۔ یہ اس اعلان برأت کا حوالہ ہے جو حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم کے سامنے کیا۔ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ ان کو سنایا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہوئے۔ تمہارے مسلک و مذہب کا ہم نے انکار کیا وہ اس اعلان برأت کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت اس وقت تک کے لیے آشکارا ہوگئی جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لائو۔ (وبدا بیننا و بینکم العدواۃ) یعنی اب تک تو ہم نے تمہارے ساتھ اس لیے رعایت برتی کہ تمہیں دین کی دعوت پہنچا دیں لیکن اب جب کہ تم پر حجت قائم ہوچکی ہے اور تم اپنی ضلالت پر اڑے ہوئے ہو، ہم تم سے اعلان برأت کر کے الگ ہو رہے ہیں۔ اب تمہارے ساتھ ہمارا تعلق کھلم کھلا عداوت ہی کا رہے گا الا آنکہ تم اپنے شرک سے ثاثت ہو کہ توحید کی دعوت قبول کرلو۔ (الا قول ابراہیم لابیہ) عام طور پر ہمارے مفسرین نے سمجھا ہے کہ یہ اسوہ حسنہ سے استثناء ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ اعلان برأت سے استثناء ہے۔ یعنی اس کھلم کھلا اعلان برأت میں اگر حضرت ابراہیم ؑ نے ان کے ساتھ کوئی رعایت برتی تو صرف یہ کہ اپنے باپ سے انہوں نے یہ وعدہ کرلیا کہ میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا اگرچہ میں خدا کی طرف سے آپ کے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یعنی ہوگا تو وہی جو اللہ تعالیٰ چاہے گا تاہم میں دعا کروں گا۔ اس رعایت کی وجہ، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، یہ تھی کہ وہ نہایت درد مند اور بردبار تھے، انہوں نے خیال فرمایا کہ اگر وہ اپے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں تو یہ چیز اس اعلان برأت کے منافی نہیں ہوگی جو وہ اپنی پوری قوم سے کر رہے ہیں بلکہ یہ اس برو احسان کا مقتضی ہے جو ہر بیٹے پر اس کے والدین کا ایک واجبی حق ہے۔ اس وقت تک ان کو یہ اندازہ بھی پورا پورا نہیں تھا کہ دین کے ساتھ باپ کی دشمنی کس درجے کی ہے۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ باپ کا سارا غصہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زعم کے مطابق اپنے بیٹے کو ایک گمراہی سے بچانا چاہتا ہے لیکن جب ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ ان کا باپ اللہ کے دین کا کٹر دشمن ہے تو انہوں نے اس سہ کلیۃً اعلان برأت کردیا۔ (وما املک لک من اللہ من شئی) شیء یہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے وعدہ مغفرت کے ساتھ ہی توحید کی اصل حقیقت بھی واضح فرما دی کہ مجھے جو اختیار حاصل ہے صرف اتنا ہی ہے کہ میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں۔ رہا تمہارا بخشا جانا یا نہ بخشا جاتا تو یہ کلیۃً اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس معاملے میں مجھے کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ کسی کے لیے استغفار اس کے حق میں ایک قسم کی سفارش ہے۔ اس سفارش کے معاملے میں جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ جیسے جلیل القدر پیغمبر اپنی اس بےاختیاری کا اظہار فرماتے ہیں تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ (مرحلہ ہجرت کی دعا)۔ (ربنا علیکم توکلنا والیک انبنا والیک المصیر) اس دعا کا تعلق اعلان برأت سے ہے۔ بیچ میں (الا قول ابراہیم) کا ٹکڑا جملہ معترصہ کے طور پر آگیا تھا۔ اس کے ختم ہوتے ہی وہ دعا نقل ہوئی ہے جو اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ دوسرے مقامات میں ہم اس حقیقت کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اعلان برأت کے بعد لازماً پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کے لیے ہجرت کا مرحلہ آجاتا ہے۔ یہ مرحلہ نہایت کٹھن ہوتام ہے۔ اپنی پوری قوم سے ابدی دشمنی اور بیزاری کا اعلان کر کے الگ ہوجانا کوئی سہل بازی نہیں ہے اس وجہ سے ہر رسول نے اپنی ہجرت کے وقت اپنا اور اپنے ساتھیوں کا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا حضرت موسیٰ ؑ نے بھی فرمائی اور اسی طرح کی دعا ہمارے نبی کریم ﷺ سے بھی منقول ہے یہ دعا اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ بندے کا نیک سے نیک ارادہ بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے انجام پاتا ہے اس وجہ سے ہر قدم اسی کی مدد کے بھروسے پر اٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی آزمائشوں میں وہی سرخ رو ہوتے ہیں جن کے دل ہر وقت اس کی طرف جھکے رہتے ہیں اور جن کے اندر یہ یقین راسخ ہوتا ہے کہ بالآخر ان کو ایک دن اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے رب، ہم کو ان لوگوں کا تختہ مشق نہ بننے دینا جنہوں نے کفر کیا ہے اور اے ہمارے رب ہم کو بخش، بیشک تو عزیز و حکیم ہے

(ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم) (5) یہ بھی اسی دعا کا حصہ ہے جو اوپرمذکور ہوئی۔ فتنۃ یہاں ہدف فتنہ کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کفار کی وہ اذیتیں ہیں جو مسلمانوں کو وہ پہنچا سکتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو تیری توحید کی غیرت و حمیت میں ان مشرکوں سے اعلان برأت و عداوت کردیا۔ اب ان کی طرف سے جو کچھ پیش آئے ہم اس کے لیے سینہ سپر ہیں۔ لیکن ہمارا بھروسہ تیری مدد پر ہے۔ ان کو اتنی ڈھیل نہ دینا کہ وہ ہم کو اپنے مظالم کا تختہ شق بنا لیں۔ (واغفرلنا ربنا) اے ہمارے رب ہماری کمزوریوں اور ہمارے گناہوں کو بخش، ہمارے گناہ اس بات کا سبب نہ بن جائیں کہ ہمارے دشمن ہمیں کمزور پا کر اپنی ستم رانیوں کا ہدف بنا لیں۔ اس فقرے میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی آزمائش پیش آئی تو وہ ہمارے اپنے ہی اعمال کی پاداش میں پیش آئے گی اور تیرے اختیار میں سب کچھ ہے تو ہمارے گناہوں کو بخش دے تو ہم ان کے وبال سے بچ جائیں گے۔ (انک انت العزیز الحکیم) یہ کامل تفویض کا کلمہ ہے تو ہر چیز پر غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے۔ تیرا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اس وجہ سے ہم اپنا معاملہ کلیۃً تیرے حوالے کرتے ہیں۔ تو جو کرے گا اسی میں خیر اور اسی میں حکمت و مصلحت ہے۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بیشک تمہارے لیے ان لوگوں کے اندر بہترین نمونہ ہے۔ ان کے واسطے جو خدا اور آخرت کے متوقع ہیں اور جو اعراض کریں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں ستو دہ صفات ہے۔

(لقد کان لکم فیھم اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) (6)۔ (ایک برجمع تنبیہ) یہ (قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ) سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے اس اعلان برأت و عداوت میں نمونہ تو بیشک نہایت بہترین ہے لیکن ان کے اس اسوہ کی پیروی کرنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس کا حوصلہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اللہ کی نصرت کی امید بھی رکھتے ہوں اور آخرت کے ظہور کے بھی متوقع ہوں۔ جن کے اندر یہ دونوں باتیں راسخ نہ ہوں وہ یہ بازی نہیں کھیل سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے گھر در، اموال واملاک، وطن اور قوم ہر چیز سے دست بردار ہو کر اٹھ کھڑے ہونا صرف انہی کے لیے ممکن ہے جو اپنے اس اقدام میں ہر قدم پر خدا کی نصرت کے متوقع ہوں اور جن کا اصل بھروسہ اس دنیا کے مال و متاع پر نہیں بلکہ آخرت کے فضل و انعام پر ہو۔ اس آیت سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو کر سامنے آگئی کہ ہجرت کی راہ میں اصل زادراہ کیا ہے اور یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ جن لوگوں سے اس مرحلے میں کمزوریاں صادر ہو رہی تھیں ان کی کمزوریوں کی تہہ میں کیا چیز چھپی ہوئی تھی۔ (ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ فلاح کا راستہ یہی ہے کہ تم ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ کی پیروی کرو ورنہ یاد رکھو کہ جو اس سے اعراض کریں گے اللہ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ سب سے مستغنی اور خود اپنی ذات میں ستو دہ صفات ہے۔ اس کی خدائی دوسروں کے بل پر نہیں بلکہ خود اس کے اپنے بل پر قائم و دوائم ہے۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

توقع ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کر دے۔ اللہ قدرت والا اور غفور رحیم ہے۔

(عسی اللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عایتم منھم مودۃ واللہ قدیر واللہ غفور رحیم) (7)۔ (ایک عظیم بشارت)۔ یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ آج اگر تم جی کڑا کر کے اپنے ان اقرباء سے اپنی دشمنی کا اعلان کردو گے تو یہ نہ خیال کرو کہ یہ دشمنی ہمیشہ دشمنی ہی رہے گی بلکہ امکان اس کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دشمنی کو محبت سے بدل دے اور جن سے آج تمہیں عداوت کرنی پڑ رہی ہے وہ ایمان و اسلام کی توفیق سے بہرہ مند ہو کر تم سے گلے ملیں۔ (واللہ قدیر واللہ غفور رحیم) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ وہ لوگوں کو عذاب میں ڈالنے کے بہانے نہیں ڈھونڈتا بلکہ مغفرت و رحمت سے نوازنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اس کے کٹر سے کٹر دشمنوں سے متعلق بھی یہ گمان نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ ہمیشہ دشمن ہی رہیں گے، کیا عجب اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے لیے بھی توفیق خیر کی راہ کھول دے۔ یہاں (غفور ورحیم) کی صفت کے حوالے میں بشارت کا یہ پہلو بھی ہے کہ اب تک جو لوگ اللہ کے ان دشمنوں سے خفیہ روابط رکھتے ہیں اس تنبیہ کے بعد اگر وہ چوکنے ہوگئے اور اپنی روش کی انہوں نے اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے، وہ ان کی ان کمزوریوں کو معاف کردے گا۔ (ہجرت کا ایک نفسیاتی پہلو)۔ اس آیت میں اہل مکہ کے قبول ایمان کی جو بشارت ہے اس کی ایک خاص نفسیاتی وجہ بھی ہے جو یہاں ملحوظ رکھنے کی ہے۔ وہ یہ کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بہت سے بھائی بہن، عزیز قریب محض دین کی خاطر اپنے گھر در، اپنے اہل و عیال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان سے جدا ہو رہے ہیں درآنحالیکہ یہ لوگ ہر اعتبار سے ان کے اندر کے بہترین اشخاص تھے تو وہ سونچنے لگ گئے کہ اس دعوت کا مقابلہ ظلم وتعدی سے کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ ہمیں خود اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ شاید اسی کتاب میں یا اپنے کسی اور مضمون میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ جیسے عظیم شخص کو جس چیز نے سب سے پہلے اسلام کی طرف مائل کیا وہ کچھ مظلوم مردوں اور عورتوں کی حبشہ کی طرف ہجرت ہے۔ ہجرت کا یہ اثر ہر حساس مرد اور عورت پر پڑنا لازمی تھا چناچہ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد قبول اسلام کی رفتار بہت تیز ہوگئی۔ اس عمل کو اپنی فطری رفتار پر قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ مہاجرین میں سے کوئی گروہ اہل مکہ کے آگے اپنی کمزوری کا اظہار نہ کرتا۔ اگر ان کی طرف سے کسی کمزوری کا اظہارہوتا تو اہل مکہ یہ خیال کرتے کہ مسلمان ہجرت تو کر گئے لیکن اب وہ اپنے اقدام پر پچھتا رہے ہیں اور ہم سے دوستانہ و نیاز مندانہ روابطہ قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ چیز ان کے اندر بھی اسلام کے احساس کو دبا دیتی اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے مظلوم مسلمانوں کے حوصلے بھی پست کردیتی۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کمزوری پر شدت سے گرفت کی اور لوگوں کو متنبہ کیا کہ دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ روابط نہ بڑھائو۔ آج اگر کفر میں لتھڑے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگائو گے تو یہ تمہارے لیے موجب ہلاکت ہوں گے۔ البتہ اگر ان سے دشمنی پر جمے رہے تو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مسلمان بنا کر تمہارا دوست بنائے، چناچہ یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے پوری کردی اور فتح مکہ کے وقت خلق نے (یدخلون فی دین اللہ افواجا) النصر : 110، 2) کا منظر اپنی آنکھوں دیکھ لیا۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

2۔ آگے آیات۔ 8، 9 کا مضمون آگے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ ممانعت جس چیز کی کی جا رہی ہے وہ ان لوگوں سے سوالات اور دوستی بڑھانے کی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا ہے یا نکالنے والوں کی مدد کی ہے۔ جن لوگوں نے اس طرح کی کوئی زیادتی نہیں کی ہے ان کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے کی ممانعت نہیں کی جا رہی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آیتیں بعد میں اس وقت نازل ہوئی ہیں جب مذکورہ بالا حکم کی تعمیل میں کفار کے ساتھ مسلمانوں کا رویہ غیر معتدل ہوگیا ہے حالانکہ اس طرح کی کوئی بات فرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اوپر کی آیات میں خطاب، جیسا کہ واضح ہوا، ان لوگوں سے ہے جو اہل مکہ سے اپنے روابط قائم رکھنے کے خواہشمند تھے ان کو ایک ہی ساتھ یہ دونوں باتیں بتائی جاسکتی تھیں کہ دین کے کٹر دشمنوں کے ساتھ دوستی بڑھانا تو اس ایمان کے منافی ہے جس کے تم مدعی ہو البتہ جن لوگوں کا رویہ جارحانہ نہیں ہے ان کے ساتھ اگر احسان و عدل کرو تو یہی تمہارے شایان شان ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیار کم ان تبرو ھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین) (8)۔ (ملاحظہ ہو تدبر قرآن جلد اول، صفحات، 143، 144)۔ (ممانعت کے حدود کی تعیین) بر کی تحقیق سورة بقرہ کی آیت 44 کی تفسیر کے تحت گزر چکی ہے۔ اس کے معنی صلہ رحم، احسان اور ادائے حقوق کے ہیں۔ اقساط کے معنی عدل و انصاف کرنے کے ہیں۔ یعنی جس کا جو حق واجب ہے وہ پورا پورا ادا کیا جائے، اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے۔ فرمایا کہ تمہیں یہ حکم جو دیا گیا ہے کہ (لا تتخذوا عدوی وعدو کم اولیا) (1) (میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو)۔ تو اس سے مقصود یہ نہیں ہے کہ تم ان کفار کے ساتھ احسان اور عدل بھی نہ کرو جنہوں نے دین کے معاملے میں نہ تم سے جنگ کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ممانعت جس چیز کی کی جا رہی ہے وہ جیسا کہ آگے والی آیت میں تصریح آرہی ہے۔ سوالات کی ہے نہ کہ عدل و احسان کی اور یہ ممانعت بھی تمام کفار کے حق میں نہیں بلکہ صرف ان کے حق میں ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی اور تم کو جلا وطن کیا۔ دین کی قید سے مقصود اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہے کہ یہاں زیر بحث وہ نزاعات نہیں ہیں جو حاندانی و قومی مفادات کے تصادم سے آپس میں پیدا ہوجایا کرتی ہیں بلکہ صرف وہ جنگ مراد ہے۔ جو محض دین کی مخالفت میں کفار نے برپا کی اور جس سے مقصود ان کا لوگوں کو اللہ واحد کی بندگی سے روکنا تھا۔ دین تمام اہل ایمان کی مشترک متاع ہے اور اسی پر ان کی نجات و فلاح کا انحصا رہے اس وجہ سے کوئی مسلمان دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستی رکھتا ہے تو وہ اپنے دعوے ایمان میں جھوٹا ہے۔ (ایک سوال اور اس کا جواب)۔ (ان اللہ یجب المقسطین) یہ انصاف کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوپر جب بر اور قسط دو چیزوں کا ذکر آیا ہے تو مناسب تھا کہ یہاں دونوں نیکیوں کے کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی صرف عدل کرنے والوں ہی کی محبوبیت کا ذکر کیوں آیا ؟ میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ صلہ رحم وغیرہ کے قسم کی نیکیاں نفس پر اتنی بھاری نہیں ہیں۔ جنتی عدل و انصاف کے قسم کی نیکیاں ہیں، بالخصوص جب کہ ان کا تعلق کفار سے ہو، کمزوروں کو سہارا دے دیتا محتاجوں کی مدد کردینا اور اپنے کا فرماں باپ کے ساتھ صلہ رحم کردینا زیادہ مشکل کام نہیں ہیں۔ انسانی فطرت کے اندر ان کے لیے نہایت قوی محرکات موجود ہیں لیکن عدل و انصاف کا حق ادا کرنا اور وہ بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کوئی سہل بازی نہیں ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے ان لوگوں کو اپنی محبوسیت کا خاص مقام بخشا جو یہ بازی کھیلیں گے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قیام عدل و قسط اس امت کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ جو لوگ دوست اور دشمن دونوں کے ساتھ یکساں انصاف کریں گے وہی اس امت کے گل سر مبد ہیں اور وہی اللہ کو محبوب ہیں۔ یہ حق ادا کیے بغیردوسری نیکیاں بالکل بےاثر ہو کر رہ جاتی ہیں۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

اللہ بس ان لوگوں سے تم کو سوالات کرنے سے روکنا ہے جنہوں نے تمہارے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے اور جو اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے تو وہ اپنے ہی اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔

(انما ینھکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم و ظھروا علی اخراجکم ان تولو ھم ومن یتوتھم فاولیک ھو الظلمون) (9)۔ (روکا کن سے اور کس چیز سے گیا ہے ؟)۔ یہ صراحت کے ساتھ بتا دیا کہ اللہ تم کو کن لوگوں سے روکتا ہے اور خاص طور پر کس چیز سے روکا ہے۔ فرمایا کہ روک ان لوگوں سے رہا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے یا تمہارے نکالنے میں تمہارے دشمنوں کی مدد کی ہے اور روک جس چیز سے رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان کو اپنا دوست بنائو۔ دوست بنانے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم ملت کے مفاد سے قطع نظر کر کے کسی معاملے میں اپنا دست ِ تعاون اس غرض سے ان کو پیش کرو کہ وہ تمہاری کوئی ذاتی غرض پوری کرنے کا ذریعہ بنیں۔ اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں جو حضر ہے اس کا زور (ان ترتوھم) پر ہے یعنی ممنوع جو چیز ہے وہ (تولی) یعنی ان کفار کو دوست اور کار ساز بنانا ہے نہ کہ ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنا۔ نیکی ایک یک طرفہ عمل ہے۔ اس کا انحصار اس شخص کے رویہ پر نہیں ہوتا جس کے ساتھ نیکی کی جاتی ہے۔ ایک شخص حاجت مند ہے تو ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کریں، خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان اور ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس سے نہ کسی شکر یہ کے طالب ہوں نہ کسی صلہ کے (لا نرید منکم جزا ولا شکورا) (الدھر : 76، 9) یہاں تک کہ اگر کسی سبب سے اس کے خلاف ہمارے دل میں عداوت بھی ہو جب بھی ہمارے لیے صحیح رویہ یہی ہے کہ ہم اس کے ساتھ نیکی کریں۔ اس طرح کی نیکی کا ہم کو جیسا کہ قرآن و حدیث میں تصریح ہے، زیادہ ثواب ملے گا۔ رہا عدل و قسط کا معاملہ تو اس کی بنیاد قانون معاہدے اور معروف پر ہوتی ہے۔ اس میں کافر و مومن یا دوست و دشمن کے امتیاز کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ قانون اور معاہدے کا جو تقاضا ہوگا وہ بہر حال پورا کرنا ہوگا اس سے بحث نہیں کہ معاملہ دوست کا ہے یا دشمن کا۔ آگے کفار قریش کے ساتھ چند تو اعات کا فیصلہ آ رہا ہے اور اس میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح قرآن نے بےلاگ فیصلہ کیا ہے اور اسی بےلاگ فیصلہ پر عمل کرنے کی مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے۔ (ومن ینم لھم فاولیک ھم الظلمون) یعنی اس تنبیہ کے بعد بھی جو مسلمان ان کافروں سے سوالات کریں گے وہ یاد رکھیں کہ نہ وہ خدا کا کچھ بگاڑیں گے نہ اسلام کا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کی تحقیق کرو، یوں اللہ تو انکے ایمان سے اچھی طرح واقف ہی ہے، پس اگر تم ان کو مومنہ پائو تو ان کو کفار کی طرف نہ لوٹائو، نہ وہ عورتیں ان کے لیے جائز ہیں اور نہ وہ ان عورتوں کے لیے جائز ہیں اور انہوں نے جو کچھ خرچ کیا ہو وہ ان ان کو ادا کر دو اور تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کے مہران کو ادا کرو اور کافرہ عورتوں کی عصمتوں پر قابض نہ رہو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا اس کا مطالبہ کرو اور وہ بھی مطالبہ کریں اس کا جو انہوں نے خرچ کیا ہے یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو وہ تمہارے درمیان کر رہا ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

4۔ آگے آیات۔ 10۔ 13 کا مضمون آگے اسی (لا تتخذ واعدوی وعدو کم اولیاء) والی ہدایت کی روشنی میں جو پہلی آیت میں مذکور ہوئی پہلے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ مکہ سے جو عورتیں ہجرت کر کے آئیں۔ ان کے ایمان و اسلام کی تحقیق کی جائے، مجرد اس بنیاد پر ان کو اپنے اندر شامل نہ کرلیا جائے کہ وہ ان کے پاس آگئی ہیں اور ان کے اندر شامل ہونا چاہتی ہیں۔ ہاں تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ ان کی ہجرت فی الواقع دین ہی کی خاطر ہے تب ان کو شامل کیا جائے ورنہ واپس کردیا جائے۔ اسی طرح مہاجرین میں سے جن کی بیویاں مکہ میں ہیں اور وہ کافر ہیں ان کو اپنے عقد نکاح میں باندھے رکھنا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ ان کو آزاد کردینا چاہیے کہ وہ جس سے چاہیں نکاح کرلیں اور ان کے مہروں کا آپس میں تبادلہ کرلیا جائے۔ دوسری ہدایت پیغمبر ﷺ کو دی گئی ہے کہ جو عورتیں بیعت کے لیے آئیں ان سے اسلامی زندگی کے تمام معروفات پر عمل کرنے کی بیعت لی جائے۔ اگر یہ ذمہ داری اٹھانے کا وہ عہد کریں تب ان سے بیعت لی جائے ورنہ نہ لی جائے۔ اسلامی معاشرہ ہر قسم کے لوگوں کی بھرتی کے لیے نہیں ہے۔ اس میں شامل ہونے کا استحقاق صرف انہی کو حاصل ہے جو ایمان و اسلام کے مطالبات پورے کرنے کا عہد کریں۔ (معاہدہ حدیبیہ نے متعلق ایک اہم نزاع کا فیصلہ)۔ یہ ہدایتیں اصلاً تو یہ بتانے کے لیے دی گئی ہیں کہ اسلام کے ساتھ غیر اسلام کا جوڑ خلاف عقل و فطرت ہے جس کی جانچ پرکھ تعلقات کے ہر گوشے میں ہونی چاہیے تاکہ نفاق کی کوئی آلائش کہیں باقی نہ رہنے پائے۔ جس طرح مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ و رسول کے مخالفوں سے مودت رکھیں اسی طرح یہ بات بھی ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مشرکات کے ساتھ کوئی رشتہ مناکمت رکھیں۔ اگر اب تک اس طرح کا کوئی تعلق قائم رہا ہے تو اب وقت آگیا ہے کہ وہ کاٹ دیا جائے لیکن یہی مسئلہ مقتضی ہوا کہ یہاں ایک نزاع کا فیصلہ بھی کردیا جائے جو معاہدہ حدیبیہ سے متعلق قریش اور مسلمانوں میں شروع ہی سے چلی آرہی تھی اور اس دور میں اس نے ایسی صورت اختیار کرلی تھی کہ اس کا فیصلہ کرنا نا گزیر ہوگیا تھا۔ یاد ہوگا معاہدہ حدیبیہ میں ایک اہم دفعہ اس مضمون کی تھی کہ قریش میں سے کوئی شخص مسلمانوں سے جا ملے گا تو اگرچہ وہ اسلام پر ہو لیکن مسلمان اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے اس کے برعکس کوئی مسلمان اگر قریش سے آ ملے گا تو وہ اس کو واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔ اس دفعہ کے الفاظ کے بارے میں اگرچہ راویوں کے درمیان اختلاف ہے لیکن عروہ، ضحاک، عبد الرحمن بن زید، زہری، مقابل بن حیان اور سدی سے جو روایت ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ (علی انہ لا یاتیک منا احد وان کان علی دینک الادوتہ العینا) یعنی اس شرط پر صلح کی جاتی ہے کہ ہم میں سے (قریش میں سے) کوئی خواہ دہ آپ کے (محمد ﷺ کے) دین ہی پر ہو، اگر آپ کے پاس چلا جائے گا تو آپ اس کو لازماً واپس کریں گے۔ اس دفعہ کو مسلمانوں نے مردوں کی حد تک تو قبول کرلیا، چناچہ اسی کی تعمیل میں حضرت ابو جندل ؓ نہایت جذبات انگریز حالات میں عین اس وقت واپس کیے گئے جب کہ معاہدہ کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی، لیکن عورتوں کے باب میں مسلمانوں نے ان الفاظ کو واضح نہیں تسلیم کیا اور جو شخص بھی عربی زبان سے واقف ہے وہ اس امر سے انکار نہیں کرسکتا کہ یہ الفاظ عورتوں کی واپسی کے بارے میں واضح ہیں بھی نہیں۔ معاہدے کے الفاظ جو اوپر نقل ہوئے ہیں اس میں ’ احد ‘ کا لفظ اپنے اندر اگرچہ عموم کا مفہوم رکھتا ہے لیکن غور سے دیکھے تو معلوم ہوگا کہ بعد میں جتنی ضمیریں اور فعل بھی آئے ہیں سب مذکر ہیں۔ ایسی صورت میں ایک شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ احد کے عموم میں عورتیں بھی داخل ہیں لیکن کوئی عاقل یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ مردوں کی طرح عورتوں کے باب میں یہ الفاظ قطعی ہیں بلکہ اس کے برعکس یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر فریقین کا منشا یہ ہوتا کہ عورتوں پر بھی یہ دفعہ قطعی طور پر حاوی ہو تو احد کے بعد (ذکر کان اونثی) یا اسکے ہم معنی کوئی تصریح ضرور پڑھائی جاتی۔ لیکن جب اس طرح کی کوئی تصریح نہیں بڑھائی گئی درآنحالیکہ معاہدہ کا مزاج اس کا مقتضی تھا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ معاہدہ کے وقت فریقین کے ذہن میں عورتوں کا مسئلہ نہیں تھا۔ اس اجمال نے قدرتی طور پر مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک قفیہ کی صورت اختیار کرلی یہ قفیہ معلوم ہوتا ہے اس سورة کے زمانہ نزول میں زیادہ اہمیت حاصل کر گیا اس لیے کہ بہت سی عورتیں بھی ہجرت کر کے مدینہ پہنچیں اور ضروری ہوا کہ مسلمان اس باب میں کوئی قطعی پالیسی اختیار کریں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایک قطعی فیصلہ صادر فرمایا اور ساتھ ہی یہ تصریح بھی فرما دی کہ (ذلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیکم حکیم) (یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو وہ تمہارے درمیان کر رہا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے) اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا الذین امنوا اذا جاء کم المومنت مھجرت فامتحنوھن اللہ اعلم بایما نھن فان علمتموھن مومنت فلا ترجعوھن الی الکفار لاھن حل لھو ولا ھم یحلون لھن واتوھم ما انفقوا ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا تیتموھن اجورھن ولا تمسکر ابعصھم الکوافر واسئلو ما انفقتم ولیسلوا ما انفقوا ذلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیکم حکیم) (10) (مکہ سے ہجرت کر کے آنے والی عورتوں سے متعلق تحقیق کی ہدایت)۔ مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ جو مسلمان عورتیں دارالکفر سے ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں ان کو کفار کی طرف واپس کرنے کی ذمہ داری تو، جیسا کہ اوپر تمہیدی بحث میں اشارہ گزرا، تم پر نہیں ہے لیکن ان کے کفرو ایمان کی تحقیق کیے بغیر یوں ہی اپنے گھروں میں ان کو مفت کا مال سمجھ کر ڈال لینا بھی جائز نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ جو عورتیں آئیں ان کے باپ میں اچھی طرح تحقیق کرلی جائے کہ فی الواقع ان کی ہجرت اسلام ہی کے لیے ہے یا کوئی اور غرض ان کے اس نقل مکان کا سبب ہوئی ہے۔ اگر تحقیق سے اطمینان ہوجائے کہ ان کی ہجرت اسلام ہی کے لیے ہے تب تو ان کو واپس کرنا جائز نہیں ہے، لیکن یہ اطمینان وہ نہ دلا سکیں تو پھر ان کو روکنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ اسلامی معاشرہ طیبوں اور طیبات کا معاشرہ ہے۔ خبیثوں اور خبیثات کا معاشرہ نہیں ہے۔ اس امتحان و تحقیق کو نوعیت حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت سے واضح ہوتی ہے جو اس طرح نقل ہوئی ہے۔ (سئل ابن عباس کیف کان امتحان رسول اللہ ﷺ النساء قال کان لیمتعنھن باللہ ما خرجت میں خض الزوج وباللہ ما خرجت رغبۃ عن ارض الی ارض وباللہ ما خرجت التماس دنیا وباللہ ما خرجت الاحبا اللہ ورسولہ)۔ (ابن عباس ؓ سے سوال کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ عورتوں کی تحقیق کس طرح فرماتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ قسم لیتے تھے کہ خدا کی قسم وہ شوہر سے بیزار ہو کر نہیں نکلی ہیں، خدا کی قسم محض جگہ کی تبدیلی کے شوق میں نہیں نکلی ہیں، خدا کی قسم کوئی اور دنیوی غرض بھی اس نکلنے کا محرک نہیں ہوئی ہے، خدا کی قسم وہ محض اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں نکلی ہیں۔) (اللہ اعلم با یما لھن) یہ ایک جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم قسم اور دوسرے قرائن و حالات سے جس حد تک تحقیق کرسکتے ہو کرنے کی کوشش کرو۔ رہی اصل حقیقت تو وہ اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اگر کوشش کے باوجود تم صحیح نتیجہ تک نہ پہنچ سکے تو عبد اللہ تم معذور ہو اور اگر انہوں نے تم کو دھوکا دیا تو یاد رکھیں کہ اللہ انکے ایمان و کفر سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ (فان علمتمو ھن مومنت فلا ترجعوھن الی الکفار) یعنی میسر ذرائع تحقیق سے اگر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ وہ مومنہ ہیں تو ان کو کفار کے حوالہ نہ کرو، اس لیے کہ نہ وہ کفار کے لیے جائز ہیں اور نہ کفار ان کے لیے جائز ہیں بلکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے حرام ہیں۔ (منصفانہ نیسر)۔ اس حکم سے قرآن نے اس نزاع کا فیصلہ کردیا جو معاہدہ حدیبیہ کی دلعہ کے بارے میں پیدا ہوگئی تھیں اور غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ فیصلہ نہایت ہی منصفانہ ہے۔ اگر قرآن کا فیصلہ یہ بھی ہوتا کہ ازروئے معاہدہ کسی عورت کی بھی واپسی کے مسلمان پابند نہیں ہیں تو یہ بھی بےجا نہ ہوتا یہ محض الفاظ سے فائدہ اٹھانے والی بات ہوتی۔ قرآن نے صرف الفاظ سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی ایک نہایت محکم عقلی و اخلاقی بنیاد ہے۔ یعنی ان عورتوں کو تو واپس کردینے کی ہدایت فرمائی جن کی ہجرت اللہ و رسول کے لیے نہیں بلکہ کسی حقیر دنیوی مقصد کے لیے ہو البتہ جن کا مومنہ ہونا ثابت ہوجائے ان کو واپس کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ ایک ایسی اصولی بات ہے جس کا کوئی عاقل انکار نہیں کرسکتا۔ انسان اپنی ایک عقلی و اخلاقی ہستی رکھتا ہے اس وجہ سے یہ اس کے اوپر صریح ظلم ہے کہ اس کو کسی ایسے معاشرے کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور کیا جائے جس کے اندر اس کا یہ اخلاقی و عقلی تشخص محفوظ نہ رہ سکے۔ بالخصوص عورتیں جنس ضعیف ہونے کے سبب سے اور بھی حق دار ہیں کہ ان کا تحفظ کیا جائے۔ (واتوھم ما انفقوا) یہ ایک اور منصفانہ بات کی ہدایت فرمائی کہ جو مومنہ روکی گئی ہے اگر وہ کسی کافر کی زوجیت میں رہی ہے تو مسلمانوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے شوہر نے جو مہر اس کو ادا کیا ہے وہ مسلمانوں کی طرف سے اس کو واپس کردیا جائے۔ اس کو واپس کیے جانے کی عملی شکل یہی یہی ہوگی کہ اس کی واپسی کا ذمہ دار بیت المال ہوگا (ما انفقوا) کے الفاظ اگرچہ عام ہیں لیکن میاں بیوی کی جدائی کی صورت میں مہر ہی زیر بحث آتا ہے اس وجہ سے قرینہ ذلیل ہے کہ وہی مراد ہے۔ (ولا جناح علیکم ان تنکحو ھن اذا اتیتموھن اجورھن) یعنی ان مراحل کے طے ہوجانے کے بعد اگر کوئی مسلمان ان سے نکاح کرنا چاہیے تو وہ بےتکلف کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ مہر ادا کرے۔ یعنی جو مہر سابق شوہر کردیا گیا ہے اس کے علاوہ عورت کو بھی اس کا مہر دینا ہوگا جو نکاح کرنے والا ادا کرے گا۔ (لا جناح) کے الفاظ اس امر کے اظہار کے لیے ہیں کہ جو عورت اس طرح دارالاسلام میں آ کر اسلامی معاشرہ میں شامل ہوگئی اس کے ساتھ نکاح میں یہ چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی کہ وہ دارالکفر میں کسی کے نکاح میں رہی ہے یا اس کے ماں باپ یا دوسرے ولیاء ہیں جن کی اجازت کی ضرورت ہے۔ اب وہ اپنے کافر شوہر اور کافراقرباء کی حملہ پابندیوں سے آزاد اور اسلامی شریعت کے حدود کے اندر اپنی مرضی کی آپ مالک ہوگی۔ (ایک اور فیاضانہ قدم)۔ (ولا تمسکوا بعصم الکوافر عصم) جمع ہے (عصمۃ) کی یہ اسی سلسلہ میں اسلام نے ایک اور قدم بھی نہایت فیاضانہ اور بالکل یک طرفہ اٹھایا کہ مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ تم میں سے جن کی بیویاں دارالکفر میں ہیں اور وہ اپنے کفر پر قائم ہیں ان کی عصمتوں کے مالک نہ بنے رہو بلکہ ان کو اپنے نکاح کی قید سے آزاد کرو، وہ جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔ (واسئلوا ما انفقتم والیسئلو ما انفقوا) اس اعلان کے بعد گویا معاملہ کی شکل یہ ہوئی کہ جو عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آگئی ہیں ان کا نکاح ان کے کافر شوہروں کے ساتھ ختم اور جو عورتیں مسلمانوں کے نکاح میں تھیں لیکن وہ دارالکفر ہی میں رہ گئیں اور کفر ہی پر قائم ہیں ان کے نکاح مسلمانوں کے ساتھ کالعدم رہا ان کے مہروں کا معاملہ تو ان کا مبادلہ اجتماعی طور پر کرلیا جائے۔ مسلمانوں نے جو مہر اپنی کافر بیویوں کو دیے وہ کفار مسلمانوں کو واپس کردیں اور کفار نے جو مہر اپنی ان بیویوں کو دیے جو مسلمان ہوگئیں ان کے مہر مسلمان کفار کو واپس کریں۔ (ذلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیکم حکیم) یہ آخیر میں واضح فرما دیا کہ یہ اس نزاع کا فیصلہ ہے جو عورتوں کی واپسی سے متعلق معاہدہ حدیبیہ کی تشریح میں تمہارے اور قریش کے درمیان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن نے قریش کے اس مطالبہ کو تو تسلیم نہیں کیا کہ معاہدہ کی رو سے مسلمانوں پر ان عورتوں کی واپسی لازمی ہے جو ہجرت کرکے ان کے پاس جائیں البتہ اس نزاع کا ایک معقول، مبنی بر انصاف اور جامع فیصلہ ایسا کردیا جس سے اس وقت کی ایک بہت بڑی اجتماعی الجھنیں بھی دور ہوگئی اور آئندہ ابھرنے والے بعض جھگڑوں کا بھی سد باب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اس وجہ سے بندوں کو چاہیے کہ اس کے فیصلوں پر اعتماد کریں۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے تو جب تمہیں موقع ہاتھ آجائے تو جن کی بیویاں گئی ہیں ان کو ادا کر دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہے اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

(وان فاتکم شی من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاتوا الذین ذھبت ازواجھ تمثل ما انفقوا واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون) (11)۔ (عاقبتم) کے معنی ہیں کہ (صادق العقبی لکم) یعنی پھر تمہاری باری آگئی یا تمہیں موقع مل گیا۔ (بدلے کی ایک منصفاد شکل)۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ کفار کی طرف سے (واسئلوا ما انفقتم ولیسئلو ما انفقوا) کے اصول کی خلاف ورزی ہو، وہ کسی ایسی عورت کا مہر واپس نہ کریں جو اس کے مسلمان شوہر نے اس کو دیا تو اس صورت میں مسلمانوں کو حق ہوگا کہ اگر ان کو کسی عورت کا مہر کفار کو ادا کرنا ہے تو ان کو ادا کرنے کے بجائے اپنے اس بھائی کو ادا کردیں جس کی چلی جانے والی بیوی کا مہر واپس نہیں ہوا۔ یہ گوا بدلہ لینے کی ایک منصفانہ اور مبنی بر عدل کارروائی ہوئی جس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ ایک فریق نے ناانصافی کی راہ اختیار کی۔ (واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون)۔ یہ اس اجازت سے فائدہ اٹھانے میں خاص احتیاط کی تاکید فرمائی کہ دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرنے میں اپنے اس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر ایمان لائے ہو، بلا کسی وجہ معقول کے نہ کوئی انتقامی اقدام کرنے کے بہانے ڈھونڈے جائیں نہ اپنے واجبی حق سے زایادہ کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر، جب تمہارے پاس مومنہ عورتیں اس بات پر بیعت کے لیے آئیں کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ وہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کی مرتکب ہوں گی اور نہ وہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق کوئی بہتان تراشیں گی اور نہ کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو، بیشک اللہ غور و رحیم ہے۔

(یایھا النبی اذا جاءک المومنت یبایعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولاد ھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن ولا یعصینک فی معروف فبایعھن واسغفرلھن اللہ ان اللہ غفور رحیم) (12)۔ (عام عورتوں سے متعلق ایک احتیاطی ہدایت)۔ اور جس طرح مہاجرات کے امتحان کی ہدایت فرمائی اسی طرح اس آیت میں یہ ہدایت فرمائی کہ جو عورتیں اسلام میں داخل ہونے کے لیے آئیں وہ بھی یوں ہی داخل نہ کرلی جائیں بلکہ ان سے اسلام کے تمام معروفات کی پابندی کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان برائیوں سے بچتے رہنے کا اقرار لیا جائے جو جاہلی معاشرے میں عام رہی ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ میں ان برائیوں کے جراثیم پھیلنے نہ پائیں۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ یہ ہدایت اس زمانے میں فرمائی گئی ہے جب مردوں کی طرح عورتوں کے بھی ہجوم کے ہجوم آنحضرت ﷺ کے پاس بیعت کے لیے آنے لگے ہیں اور ان میں بہت سی عورتیں ان طبقات سے تعلق رکھنے والی بھی ہوتیں جن کا اخلاقی معیار زمانہ جاہلیت میں بہت پست تھا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ ان کو برائیوں سے بچتے رہنے کی خاص طور پر تاکید کی جائے تاکہ جس نئے معاشرے میں وہ داخل ہو رہی ہیں اس کی خصوصیات سے ان کو آگاہی ہو اور وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا ارادہ کر کے اس میں داخل ہوں۔ یہاں ان سے جن برائیوں سے بچنے کا اقرار لینے کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہ یہ ہیں۔ (علی ان لا یشرکن باللہ شیئا) یہ کہ وہ کسی چیز کو بھی اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ تمام دین کی بنیادتوحید خالص پر ہے اس وجہ سے سب سے پہلے شرک سے اجتناب کا اقرار لینے کی ہدایت فرمائی۔ ایک متوسط درجہ کے ذہن کے لیے توحید تک پہنچنے کا آسان راستہ شرک کی نفی ہی کی راہ سے کھلتا ہے۔ اگر شرک سے اجتناب کا شعور نہ ہو تو بہت سے لوگ شرک کی تمام آلودگیوں میں لتھڑے ہوئے بھی یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ توحید خالص پر ہیں۔ (ولا یسرقن) دوسری چیز یہ ہے کہ چوری نہ کریں یعنی جس طرح خدا کے حقوق میں کسی قسم کا غلط تصرف ناجائز ہے اس طرح بندوں کے مال میں بھی بےجا تصرف ناجائز ہے۔ (ولا یزینن) تیسری چیز یہ ہے کہ زنا کی مرتکب نہ ہوں۔ زنا اور شرک کی مشابہت کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ ہم اشارے کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ولا یقتن اولاد ھن) چوتھی چیز یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی۔ زمانہ جاہلیت میں قتل اولاد کا ارتکاب مشرکانہ توہمات کے تحت بھی ہوتا تھا، اندیشہ مغقرا اور بےجا غیرت کے تحت بھی۔ اس زمانے میں اس کے دوسرے محرکات بھی پیدا ہوگئے ہیں جو معروف ہیں۔ یہ ممانعت ان سب پر حاوی ہے۔ (ولا یا تین یبھتاک یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن) پانچویں چیز یہ ہے کہ کسی کے متعلق خواہ مرد ہو یا عورت کوئی ایسا بہتان نہ تراشیں جس کا تعلق ان کے ہاتھوں اور پائوں کے درمیان سے متعلق ہو۔ (بین ایدیھن وارجلھن) سے اشارہ میرے نزدیک جنسی اعضاء کی طرف ہے۔ یہ اعضاء ہاتھوں اور پائوں کے درمیان ہی ہوتے ہیں۔ ان کی طرف اشارہ کے لیے یہ ایک شائستہ اسلوب بیان ہے۔ اس میں پردہ پوشی کے ساتھ پورا احاطہ بھی ہے۔ نہایت مہذب اسلوب سے ان تمام تہمتوں کی طرف اشارہ ہوگیا ہے جو جنسی نوعیت کی ہو سکتی ہے، مثلاً زنا، تقبیل اور ملامست وغیرہ۔ بہتان لگانا، کسی قسم کا بھی ہو، نہایت سنگین برائی ہے لیکن جس بہتان کا تعلق جنسی امور سے ہو اس کی سنگینی دو چند بلکہ وہ چند ہوجاتی ہے اس لیے کہ اس طرح کا بہتان اس شخص کی (خواہ مرد ہو یا عورت) حیثیت عرنی پر نہایت خطرناک حملہ ہے جس پر بہتان لگایا گیا ہے۔ اس سے معاشرے کے اندر بسا اوقات ایسے فتنے بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کو دبانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ بہتان کوئی مرد لگائے یا کوئی عورت دونوں ہی کے لیے گناہ ہے اور شریعت میں دونوں ہی کے لیے اس کو جرم قرار دیا گیا ہے لیکن یہاں خاص طور پر عورتوں کو اس سے روکا گیا ہے اس لیے کہ عورتوں کا بہتان اور وہ بھی جنسی نوعیت کا ایک ایسا خطرناک وار ہے جس کا دفاع نہایت مشکل ہے۔ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس ٹکڑے کا یہ مطلب لیا ہے کہ کوئی عورت کسی غیر مرد کے حمل کو اپنے شوہر سے منسوب نہ کرے لیکن اس کو اس قدر محدود کردینے کی کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔ میں نے اس کے الفاظ کی روشنی میں اس کی وسیع تاویل کی ہے جس کے اندر وہ ساری باتیں آجاتی ہیں جو اس کے تحت آسکتی ہیں۔ (ولا یعصینک فی معروف) چھٹی چیز یہ ہے کہ کسی معروف کی تعمیل میں وہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی۔ (معروف) یہاں (منکر) کے مقابل میں ہے اور جن جن باتوں کا حوالہ ہے ان سب کا تعلق منکرات کے باب سے ہے۔ ان میں معروفات یعنی نماز زکوٰۃ، روزہ، حج اور عدل و احسان کے قسم کی چیزوں میں سے کسی چیز کا بھی ذکر نہیں آیا ہے۔ اس کی وجہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا یہ ہے کہ یہ ان عورتوں کی بیعت کا ذکر ہے جو فتح مکہ کے دور میں بکثرت اسلام میں داخل ہو رہی تھیں اور جن کے اندر زمانہ جاہلیت میں یہ برائیاں پائی جاتی تھیں جن کا یہاں ذکر ہے۔ یہ خاص تور حال مقتضی ہوئی کہ منکرات سے بچتے رہنے کا تو ان سے صراحت و تفصیل کے ساتھ اقرار کرایا جائے اور معروفات سے متعلق آخر میں ایک جامع اقرار لے لیا جائے کہ شریعت کے معروفات میں سے کسی معروف کی تعمیل میں وہ پیغمبر ﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ شریعت کے مصروفات معلوم و مشہور ہیں اس وجہ سے ان کی تفصیل کی ضرورت یہاں نہیں تھی۔ (ایک غلط فہمی)۔ بعض لوگوں نے (فی معروف) کے الفاظ یہاں قید و شرط کے مفہوم میں لیے ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اسلام میں پیغمبر کی اطاعت بھی معروف کی قید سے مقید و مشروط ہے تو تابہ دیگراں چنہ رسد ! ہمارے نزدیک یہ نکتہ محض ایک نکتہ بارد ہے۔ پیغمبر نہ کسی منکر کا حکم دیتا ہے نہ دے سکتا ہے۔ وہ دین کے معاملے میں وہی بات کہتا ہے جو معروف ہوتی ہے اس لیے کہ وہ خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اور اس کی حیثیت حق و باطل کے امتیاز کے لیے ایک کسوٹی کی ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے ہر حکم کی اطاعت لازمہ ایمان ہے۔ جب وہ خود معروف و منکر کے امتیاز کی کسوٹی ہوا تو کسی دوسرے کے لیے اس کی کسی بات کو معروف کے خلاف قرار دینے کے کیا معنی پیغمبر کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں صرف تابہ حد استطاعت کی قید ہو سکتی ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ بیعت کرنے والوں کو خود یاددہانی فرما کر یہ قید لگوا دیتے تھے لیکن اس کی اطاعت کے معروف کی قید سے مقید ہونے کی بات بالکل بےمعنی ہے۔ البتہ پیغمبر ﷺ کے خلفاء و امراء کے ہاتھ پر جو بیعت ہوگی وہ اطاعت فی المعروف کی قید سے مشروط ہوگی اس لیے کہ ان سے امکان ہے کہ وہ کوئی ایسا حکم دے بیٹھیں جو معروف کے خلاف ہو چناچہ رسول کے بعد کسی کی بھی مطلق اطاعت کا عہد کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے۔ عورتوں سے بیعت لینے کے طریقہ کی وضاحت روایات میں موجود ہے۔ اس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں جو حدیثوں میں بیان ہوئی ہیں، البتہ یہ بات مسلم ہے کہ عورتوں سے بیعت لینے میں حضور ﷺ نے ان کے ہاتھ کبھی اپنے ہاتھ میں نہیں لیے۔ (فبالیھن واستغفر لھن اللہ ان اللہ غفور رحیم) فرمایا کہ جو عورتیں ان تمام منکرات سے بچتے رہنے اور دین کے تمام معروفات کی پابندی کا اقرار کریں ان سے بیعت لو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو کہ اس سے پہلے ان سے جو غلطیاں صادر ہوئی ہیں وہ ان سے در گزر فرمائے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے وہ ان پر رحم فرمائے گا۔