Ayah 59:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔ (سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض، وھو العزیز الحکیم (1)
(اس آیت کی اہمیت اور حکمت)۔ یہ آیت سورة حدید کے شروع میں بھی گزر چکی ہے۔ وہاں اس کے مضمرات کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ اس سورة کا آغاز اور اختتام دونوں، نہایت معمولی فرق کے ساتھ، اسی آیت پر ہوا ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس میں جو حقائق بیان ہوئے ہیں وہ اس آیت کے مضمرات کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ گویا یہ سورة اپنے اصل دعوے کو بھی ثابت کرتی ہے جو سابق سورة میں بیان ہوا اور اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی شہادت بھی فراہم کرتی ہے جو تمہید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ آیت جس حقیقت کی یاددہانی کرتی ہے وہ دراصل یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اپنی تسبیح و تقدیس اور اپنی بندگی و سرافگندگی سے اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ اس کا خالق ہر عیب، ہر کمزوری اور ہر شائبہ شرک سے بالکل پاک و منزہ ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت و اختیار رکھتا ہے۔ اس کے کسی ارادے میں کوئی مزاحکم نہیں ہوسکتا اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ اس وجہ سے بندوں کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کریں، اسی پر بھروسہ کریں، اسی کے احکام کی تعمیل کریں، اسی سے ڈریں اور اسی سے امید رکھیں۔ مصرف حقیقی وہی ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی چیز اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرسکتی۔ اسی حقیقت کے ذہن میں راسخ ہونے سے صحیح ایمان پیدا ہوتا ہے جو تمام عزم و قوت کا سرچشمہ ہے اور اسی کے اندر رختہ پیدا ہونے سے نفاق اور کفر و شرک کو دل کے اندر گھسنے کی راہ ملتی ہے جس سے علم و عمل کے ہر گوشے میں فساد پھیل جاتا ہے۔
Ayah 59:2(ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیار ھم لاول الحشر ما ظننتم ان یحرجوا وظنوا انھم ما نعتھم حصونھم من اللہ فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبو وقذن فی قلوبھم الرغب یخربون بیوتھم بایدیھم وایدی المومنین فاعتبروا یاولی الابصار) (2)۔
(بنی نفیر کی غدامی اور ان کا حشر)۔ (الذین کفروا من اھل الکتب) سے مراد مفسرین کے نزدیک یہود بنی نفیر ہیں جو مدینہ منورہ کے قریب آباد تھے۔ بخاری ؒ کے بیان کے مطابق مختصراً ان کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ اگرچہ صلح دامن کا معاملہ کر رکھا تھا لیکن بدر کے چھٹے مہینہ معاہدے کے خلاف انہوں نے اسلام کے دشمنوں سے ساز باز بھی کی اور آنحضرت ﷺ کے قتل کی ایک ناکام سازش کے بھی مرتکب ہوئے۔ ان کے اس جرم کی پاداش میں آپ نے ان کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پہلے تو وہ اس حکم کی تکمیل پر آمادہ ہوگئے لیکن بعد میں مشہور منافق عبد اللہ بن ابی نے انہیں اکسایا کہ میرے دو ہزار آدمی تمہارے ساتھ ہیں نیز قریش اور غطفان بھی تمہاری حمایت کریں گے، تم نکلنے سے انکار کر دو۔ عبد اللہ بی ابی کی ان باتوں سے وہ اس کے چکمہ میں آگئے اور نکلنے سے انکار کردیا۔ بالآخر آنحضرت ﷺ نے ان پر فوج کشی کی۔ اس وقت نہ بنو قریظہ نے ان کا ساتھ دیا نہ قریش اور غطفان نے، ناچارا نہیں آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی۔ آپ نے ازراہ عنایت یہ اجازت انہیں دے دی کہ جتنا سامان وہ اونٹوں پر لے جاسکتے ہیں اتنا لے جائیں۔ چناچہ وہ جتنا سامان لے جاسکے لے کر خیبر اور اذرعات چلے گئے۔ ان کی باقی املاک و جائیداد پر آپ ﷺ نے قبضہ کرلیا۔ (لاول الحشر)۔ یعنی ان کا یہ اخراج پہلے حشر کے طور پر ہوا۔ اس کے اندر یہ تنبیہ ہے کہ اس کے بعد انہیں اسی طرح کے حشر سے دو چار ہونا پڑے گا، چناچہ حضرت عمر ؓ کے عہد میں انہیں وہاں سے بھی نکلنا پڑا اور سب سے بڑا حشر قیامت کا حشر آگے آنے والا ہے۔
(منافقوں سے خطاب)۔ (ماظنتم ان یخرجوا وظنوا انھم ما نعتھم حصونھم من اللہ)۔ یہ خطاب انہی منافقین سے ہے جن کا ذکر پچھلی سورة میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ تم کو ان کی قوت و جمعیت اور ان کے حلیفوں کی حمایت و نصرت پر بڑا اعتماد تھا، تم سمجھے بیٹھے تھے کہ انہیں یہاں سے ہلایا نہیں جاسکے گا اور خود ان کو بھی اپنے قلعوں اور اپنی گڑھیوں پر بڑا ناز تھا کہ بھلا کسی کی مجال ہے کہ وہ ان سے دو بدو ہونے کی جرأت کرسکے لیکن دیکھ لو، ان کا غرور کس طرح پامال ہوا۔
(مغروروں ذہنیت)۔ (من اللہ) میں عربیت کے قاعدے کے مطابق مضات مخدوف ہے یعنی (من باس اللہ) یا (من عذاب اللہ یا من بطش اللہ) مطلب یہ ہے کہ انہوں نے قلعے اور گڑھیاں بنا لیں تو اس زعم میں مبتلا ہوگئے کہ وہ صرف انسانوں ہی سے نہیں بلکہ خدا کی پکڑ سے بھی مامون ہوگئے۔ یہ مغروروں کی ذہنیت کی بالکل صحیح تصویر ہے۔ جن کو اس دنیا میں قوت و شوکت حاصل ہوجاتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بھلا ان کے قلعہ کے اندر کہاں سے کوئی رخنہ پیدا ہوسکتا ہے ! یہاں تک کہ اگر اللہ کا کوئی بندہ ان کو خدا کی پکڑ سے بھی ڈرائے تو بھی ان کو سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان کے اس محفوظ حصار کے اندر خدا کدھر سے آجائے گا !
(حملہ ہے)۔ (فاتھم اللہ من حیث لم یحسبوا) یعنی انہوں نے تو اپنی دانست میں اپنے قلعوں کے اندر خدا کے در آنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھی لیکن خدا وہاں سے ان پر آ دھمکا جہاں سے ان کو سان گمان بھی نہ تھا۔ (وتذف فی قلوبھم الرعب) یہ نشان دہی فرمائی ہے کہ خدا نے کدھر سے ان پر تاخت کی۔ فرمایا کہ وہ اپنے ارد گرد اینٹوں اور پتھروں کی دیواریں چن کر سمجھے کہ خدا کی پکڑ سے باہر ہوگئے لیکن اللہ نے ان کی دیواریں ہٹانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ براہ راست ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ قلعے گڑھیاں رکھتے ہوئے ایسے مرعوب ہوئے کہ اپنے بنائے ہوئے گھروں کو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اجاڑا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اصل طاقت اسلحہ اور قلعوں کی دیواروں کے اندر نہیں بلکہ دلوں کے اندر ہوتی ہے جو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ طاقت موجود ہو تو فی الواقع بےتیغ بھی سپاہی لڑتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو ایٹمی آلات کی بڑی سے بڑی مقدار بھی بےسود ہے بلکہ اندیشہ اس بات کا بھی ہے کہ یہ چیزیں دشمن کے بجائے خود اپنی اپنی تباہی کا ذریعہ بن جائیں۔ (یخربون بیوتھم بایدیھم وایدی المومنین) یہ ان کی مرعوبیت کی تصویر ہے کہ اپنے جو مکانات انہوں نے نہ جانے کتنے دلولوں اور ارمانوں سے بنائے تھے خود اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے۔ (یخرنون) یہاں تصویر جال کے لیے ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ ان کو یہ اجازت دے دی گئی تھی کہ اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لے جاسکتے ہیں اتنا لے جائیں۔ اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے مکانوں کی شتہیریں، کڑیاں، دروازے اور کھڑکیاں بھی اکھاڑ کر اپنے اونٹوں پر لاد لینے کی کوشش کی۔ حرص مال کے علاوہ مسلمان دشمنی کا جذبہ بھی کار فرما تھا اس وجہ سے انہوں نے یہ کوشش بھی کی ہوگی کہ جو چیز بچ بھی رہے اس کو بھی اس طرح ناکارہ بنا دیں کہ مسلمان اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ (وایدی المومنین) ان کی اس تخریب میں مسلمانوں نے بھی ہاتھ بٹایا ہوگا کہ یہ مفسدین جس قدر جلد ممکن ہو ان کے قریب سے دفع ہوں۔ علاوہ ازیں آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بعض باغ مسلمانوں نے جنگی ضروریات کے لیے بھی کاٹے۔ (فاعتبروایاولی الابصار) یہ اس واقعہ سے ان تمام لوگوں کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے جن کے اندر عبرت پذیری کی صلاحیت ہے کہ دیکھ لو قرآن کی ہر بات کس طرح سچی ثابت ہوئی۔ اللہ و رسول کی مخالفت کرنے والوں کو کس طرح ذلت سے دو چار ہونا پڑا۔ حزب اللہ کے مقابل میں حزب الشیطان کو کس طرح شکست ہوئی۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ لوگ اللہ و رسول کے دشمنوں سے دوستی رکھنے کے خواہش مند ہیں تو کر کے دیکھ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayah 59:3(ولو لا ان کتب اللہ علیھم الجلاء لعذبھم فی الدنیا ولھم فی الاخرۃ عذاب النار (3)۔ یعنی یہ تو اللہ نے ان کے ساتھ رعایت فرمائی کہ ان کو جلا وطنی ہی کی سزا دی۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ اس تنبیہ پر کفایت کی جائے کہ ان کے اندر عبرت پذیری کی کچھ صلاحیت ہو تو وہ اپنے رویہ کی اصلاح کریں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس دنیا ہی میں ان پر اس طرح کا کوئی فیصلہ کن عذاب بھیج دیتا جس طرح کے عذاب عاد وثمود اور فرعون وغیرہ پر آئے جن سے ان کا قصہ ہی پاک ہوگیا۔
(ولھم فی الاخرۃ عذاب النار)۔ یعنی اس سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو معاملہ اس جلا وطنی ہی پر ختم نہیں ہوجائے گا بلکہ آخرت میں انکے لیے دوزخ کا عذاب بھی ہے جو ساری کسر پوری کر دے گا۔
Ayah 59:4(ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ ومن یشاق اللہ فان اللہ شدید العقاب) (4)۔ یہی یہ غضب ان پر اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور سنت الٰہی یہی ہے کہ جو اللہ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کی شدید پاداش سے دو چار ہوتے ہیں۔ اس آیت میں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ (ومن یشاق اللہ) میں (ورسولہ) کہ حذف کردیا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ رسول سے مخاصمت در حقیقت اللہ سے مخاصمت ہے اور جو اللہ سے مخاصمت کے لیے اٹھتا ہے وہ اچھی طرح سوچ لے کہ اس کا کیا انجام ہوسکتا ہے !
Ayah 59:52۔ آگے آیات 5۔ 10 کا مضمون
آگے اصل سلسلہ مضمون سے ذرا ہٹ کر بطورجملہ معترضہ، یہود اور منافقین کے بعض اعتراضات و شبہات کے جواب دیئے ہیں جو اسی واقعہ بنی نضیر کے تعلق سے پیدا ہوئے۔ ایک اعتراض تو یہود نے اٹھایا کہ مسلمانوں نے انکے باغوں کے بہت سے بار آور درخت کاٹ دیئے۔ یہ درخت اگرچہ جنگی مصلحت سے کاٹے گئے تھے لیکن یہود اور ان کے ہمدردوں نے اس کو یہ رنگ دینے کی کوشش کی کہ یہ افساد فی الارض ہے درآنحالیکہ مسلمان اصلاح فی الارض کے مدعی ہیں۔ اس اعتراض سے ان کا مقصود یہ تھا کہ اسلام کی دعوت کو لوگوں کی نگاہوں میں مشکوک بنائیں کہ یہ دین کی دعوت نہیں بلکہ حصول اقتدار کی کشمکش ہے، جس میں دین کا نام محض لوگوں کو العیاذ باللہ دھوکہ دینے کے لیے لیا جا رہا ہے۔ اس نوعیت کے ایک اعتراض کا جواب سورة حدید بھی گزر چکا ہے جو اہل کتاب ہی کا اٹھایا ہوا تھا۔
دوسرا سوال منافقین نے بنی نضیر کے متروکہ اموال و املاک سے متعلق اٹھایا کہ ان کو بھی اموال غنیمت کی طرح، پانچواں حصہ الگ کر کے، باقی فوجیوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے لیکن قرآن نے اس کو مال غنیمت کے بجائے مال نے کی حیثیت دی اور اس کے متعلق یہ حکم دیا کہ یہ سب کا سب سرکاری خزانے میں جمع ہوگا تاکہ اس سے غرباء و مساکین اور خا ص طور پر ان مہاجرین کی مدد کی جائے جو صرف دین کی خاطر اپنے گھروں سے نکالے اور اپنی جائیدادوں سے محروم کیے گئے ہیں۔ اسی ذیل میں انصار اور مہاجرین اولین کے ایثار اور ان کی سیر چشمی کی تحسین فرمائی کہ وہ اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے نہایت فراخ دل ہیں اور اپنی ضرورت پر ان کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی رویہ اہل ایمان کے شایان شان ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(ایک اعتراض کا برمحل جواب)۔ (لینۃ) کھجور کے مثمر درخت کو کہتے ہیں۔ یہ یہود اور ان کے حلیفوں کے ایک اعتراض کا بر محل جواب ہے۔ مسلمانوں نے جب بنی نضیر پر فوج کشی کی تو جنگی ضرورت و مصلحت کے تحت ان کے باغوں کے کچھ درخت انہیں کاٹنے پڑے۔ اس چیز کو انہوں نے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کا ذریعہ بنا لیا کہ مسلمان دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ ملک میں اصلاح کے لیے اٹھے ہیں لیکن ان کا حال یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے باغوں کے پھل لانے والے عمدہ درخت کاٹ کے ڈال دیے۔ بھلا مثمر درختوں کا کاٹنا بھی کوئی اصلاح کا کام ہوا، یہ تو صریح افساد فی الارض ہے !۔
(اوتر کتموھا قائمۃ) کے بظاہر ذکر کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی اس لیے کہ ان کو اعتراض درختوں کے کاٹنے پر تھا نہ کہ ان کے چھوڑنے پر لیکن اس کے ذکر سے ان کے اعتراض کے ایک خاص پہلو پر روشنی پڑتی ہے جس پر اس کے بغیر روشنی نہیں پڑ سکتی تھی۔ وہ یہ کہ جب انہوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہوگا تو اس کو موثر بنانے کے لیے یہ بھی کہا ہوگا کہ اگر مسلمانوں کو صرف وقتی ضرورت کے لیے لکڑی مطلوب تھی تو وہ فلاں اور فلاں درخت کاٹ سکتے تھے جن کے کاٹنے سے کچھ زیادہ نقصان نہ ہوتا لیکن وہ درخت تو انہوں نے کھڑے چھوڑ دیئے اور یہ اچھے بھلے، مثمر درخت انہوں نے کاٹ کے ڈھیرے کردیئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقدام کسی واقعی ناگزیر ضرورت کے لیے نہیں بلکہ محض انتقام کے جذبہ کے تحت، معاشی تباہی پھیلانے کے لیے کیا گیا ہے جو اصلاح نہیں بلکہ صریح افساد ہے۔
(فباذن اللہ ولیخری الفسقین)۔ یہ اس اعتراض کا جواب دیا ہے لیکن معترضین کو مخاطب کرنے کے بجائے صرف مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے کہ تم ان ناصحوں کی مطلق پروانہ کرو کہ تمہیں کون درخت کاٹنے اور کون چھوڑنے تھے۔ تم نے جو کچھ کیا رسول کی موجودگی میں، اس کی ہدایت کے تحت، کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کام اللہ کے اذن کے تحت ہوا ہے اور جب اللہ کے اذن کے تحت ہوا تو اللہ سے بڑھ کر نہ کوئی حکمت و مصلحت کو جاننے والا ہوسکتا اور نہ اصلاح و افساد کے درمیان امتیاز کرنے والا۔
(الیخری الفسقین) یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو اس لیے یہ اذن دیا کہ ان عہد شکنوں اور غداروں کو رسوا کرے اور یہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ انہوں نے جو درخت بڑے ارمانوں سے لگائے وہ ان کے سامنے کاٹے جا رہے ہیں لیکن وہ اتنے بےبس ہیں کہ چوں بھی نہیں کرسکتے۔ لفظ ’ فاسق ‘ یہاں غدار اور عہد شکن کے مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ یہاں معترضوں اور نکتہ پنیوں کو خطاب نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اعتراض ایک بالکل نامعقول اعتراض تھا جو انہوں نے محض اپنے دل کا بخار نکالنے کے لیے اٹھایا۔ اس وجہ سے وہ لائق خطاب نہ تھے البتہ مسلمانوں کو خطاب کر کے ان کے اس فعل کی تصویب فرما دی تاکہ غداروں کو اس سے رنج بھی پہنچے اور ساتھ ہی منافقوں کو بھی تنبیہ ہوجائے کہ وہ اس کو وسوہ اندازی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ رہا یہ سوال کہ مسلمان بحالت جنگ دشمنوں کے باغوں اور کھیتوں کو اجاڑ سکتے ہیں یا نہیں تو یہ کوئی اہم سوال نہیں ہے۔ اگر جنگ کی ضرورت داعی ہو تو وہ ان کے گھروں کو بھی مسمار کرسکتے ہیں چہ جائیکہ انکے باغ اور کھیت، لیکن جنگ کی ضرورت داعی نہ ہو تو ان کی کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی نقصان پہنچانا مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے۔
Ayah 59:6(وما اناء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من جبل ولا رکاب ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشا واللہ علی کل شی قدیر) (6)۔
(ایک دوسرے سوال کا جواب)۔۔۔ یہ دوسرے سوال کا جواب ہے جو بنی نضیر کی متروکہ املاک سے متعلق پیدا ہوا اور جس کو منافقین نے اپنی حرص مال کی وجہ سے زیادہ شدت کے ساتھ ہوا دی۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ بھی دشمن سے حاصل شدہ مال ہے اس وجہ سے اس کو بھی مال غنیمت کی طرح پانچواں حصہ نکال کر باقی ہر چیز فوجیوں میں تقسیم کردی جائے۔ اس سے کچھ ہی پہلے جنگ بدر کے موقع پر ایسا ہی کیا گیا تھا۔ اسی کو سامنے رکھ کر اس کے بارے میں بھی مطالبہ کیا گیا لیکن قرآن نے دونوں صورتوں میں نمایاں فرق ہونے کی وجہ سے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا۔ بدر کے موقع پر مجاہدین کو باقاعدہ جنگ کرنی پڑی تھی جس میں ان کو اپنے اسلحہ اور اونٹ گھوڑے کام میں لانے پڑے جب کہ اس موقع پر اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ اللہ کے رسول کے دبدبہ سے مرتب ہو کر دشمن نے اپنا علاقہ خود خالی کردیا۔ اس فرق کی وجہ سے اس کے متعلق حکم ہوا کہ اس کی حیثیت مال نے کی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے دشمنوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے چناچہ یہ کل کا کل اللہ و رسول یا بالفاظ دیگر اسلامی حکومت کی ملکیت ہوگا اور اسلام اور مسلمانوں کی اجتماعی بہبود میں صرف ہوگا۔
(مال فے اور اس کا حکم)۔۔۔ اسی (ما افاء اللہ) سے اسلامی مالیات میں ایک مستقل اصطلاح مال نے کی پیدا ہوگئی جس سے وہ مال مراد ہوا کرتا ہے جو دشمن سے بغیر جنگ کے حاصل ہوا ہو۔ ’ فے ‘ کے معنی لوٹانے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اس مال کو غاصبوں سے لے کر اس کے حقیقی حق داروں کو لوٹا دیتا ہے۔ (فما اوجفتم علیہ من خیل ولا دگاب) سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجیوں کو مال غنیمت سے جو حصہ دیا جاتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنے ذاتی اسلحہ، گھوڑے اور اونٹ جنگ میں استعمال کرنے پڑتے تھے یہاں تک کہ اپنا زادراہ بھی ساتھ رکھنا ہوتا تھا۔ اب صورت حال بالکل تبدیل ہوگئی ہے اس وجہ سے اس زمانے میں دشمن سے جو کچھ حاصل ہوگا اس کی حیثیت فے کی ہوگی، خواہ جنگ سے حاصل ہو یا صلح سے۔
(ولکن اللہ یسلط رسلہ علی من یشا واللہ علی کل شی قدیر) سورة مجادلہ کی آیت 21 میں گزر چکا ہے کہ (کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی) (اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول) اس سنت الٰہی کے تحت رسول کے لیے غلبہ ضروری ہے۔ اس غلبہ کے لیے اللہ کا رسول اپنے رب کے سوا کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں ہے اور اس کا رب ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ چاہے تو اس کو دشمنوں کے بڑے سے بڑے ملک پر بغیر کسی فوج ہی کے غالب کر دے۔ اہل ایمان سے اگر وہ مدد کا طالب ہوتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ان کی مدد کا محتاج ہے بلکہ اس سے ایک مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ ان کے لیے حصول سعادت کی راہ کھلے اور دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مخلص اور منافق میں امتیاز ہوجائے۔
Ayah 59:7(ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القری فللہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم وما اتکم الرسول فخذوہ وما فھکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب) (7)۔
مال غنیمت اور مال فے کے درمیان فرق واضح کرنے کے بعد یہ مال فے کا مصرف بتا دیا کہ یہ کل کا کل اللہ، رسول، رسول کے متعلقین، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہوگا۔ یعنی اس میں جنگ کرنے والوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہاں جو مصارف بیان ہوئے ہیں وہ سب سورة انفال میں اموال غنیمت کے سلسلہ میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف خاص خاص باتوں ہی کی طرف توجہ دلائیں گے۔ تفصیل کے طالب تفسیر سورة انفال کی مراجعت کریں۔
(للہ وللرسول) میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے، وہ کسی مال و متاع کا محتاج نہیں ہے۔ وہ کسی مال و متاع کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے نام کا حصہ در حقیقت اس کے بندوں ہی کی طرف لوٹتا ہے اور اسلامی حکومت امین کی حیثیت سے اس کو مستحقین اور مسلمانوں کی اجتماعی بہبود کے کاموں میں صرف کرتی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا حصہ اس میں بحیثیت رسول کے نہیں بلکہ بحیثیت اسلامی حکومت کے سربراہ کے ہے۔ رسول کی حیثیت سے آپ کی کفالت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی تھی جس کی تصریح خود قرآن میں ہے البتہ جب اسلامی حکومت وجود میں آئی اور اس کے فرائض کا بوجھ بھی آپ کے کندھوں پر پڑا تو ضروری ہوا کہ سرکاری خزانے سے آپ کو بھی اپنی ضروریات کے مطابق لینے کا حق ہو۔ آپ کا یہ حق چونکہ بحیثیت سربراہ حکومت کے تھا اس وجہ سے آپ کی وفات کے بعد یہ آپ کے خلیفہ کی طرف لوٹ گیا۔ اس کی نوعیت کسی ذاتی ملکیت کی نہیں تھی کہ اپ کے بعد اس کی وراثت کا سوال پیدا ہو۔ حضرت انبیاء (علیہم السلام) دین کی وراثت چھوڑتے ہیں، اموال و املاک کی وراثت نہیں چھوڑتے۔
(فلذی القربی) سے رسول اللہ ﷺ کے وہ اقرباء مراد ہیں جن کی کفالت کی آپ پر ذمہ داری تھی۔ یہ چیز در حقیقت آپ کی ذاتی ضرورت ہی کا ایک حصہ تھی۔ اس کی نوعیت بھی کسی ذاتی جائیداد کی نہیں تھی کہ آپ کے بعد یہ وراثت کی حیثیت سے آپ کے خاندان کی طرف لوٹے۔ جس طرح اسلام پر کسی خاص خاندان کا اجارہ نہیں ہے اسی طرح اسلام کی حکومت یا اس کے بیت المال کے کسی حصہ پر بھی کبھی کسی خاندان کا اجارہ نہ ہوا نہ ہوسکتا۔ اس قسم کے خیالات یہودیوں کے زیر اثر مفسدین کے ایک گروہ نے مسلمانوں کے اندر پھیلائے لیکن ان کو کوئی بنیاد نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اقرباء کے بعد معاً یتامی، مساکین اور مسافروں کے حق کا ذکر اسلامی نظام میں ان کے مرتبہ و مقام کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں کے حق کے ساتھ فرمایا ہے۔ اسلامی حکومت کی اولین ذمہ داری ان لوگوں کی کفالت و سرپرستی ہے جو معاشرہ کے اندر بےوسیلہ ہیں۔ اس کے دوسرے فرائض کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔ اگر حکومت اس مقدم ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسری ضرورتوں پر بیت المال کی آمدنی خرچ کرتی ہے تو ہرچند وہ ضرورتیں رفاہی اور تمدنی نقطہ نظر سے اہمیت رکھنے والی ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ اصل حق داروں کے حقوق میں خیانت کی مجرم ہے اور اس امر کے جواز کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ کوئی اسلامی حکومت سرکاری خزانے کا ایک پیسہ بھی فضول قسم کی نمائشوں اور عیاشیوں پر صرف کرے۔ جو حکومت ایسا کرتی ہے وہ اسلامی حکومت نہیں بلکہ شیطانی حکومت ہے۔ اسی قسم کی حکومتوں کی بدولت اس دنیا پر وہ آفت نازل ہوئی جس کی اشتراکیت کہتے ہیں، جس نے انفرادی ملکیت کے تصور ہی کو سرے سے ایک جرم بلکہ تمام جرائم کی اصل قرار دے دیا۔ اور اس جرم کے استیصال کے لیے دنیا میں خون کی ندیاں بہا دیں۔
(کی لا یکون دولۃ بین الاغنیا منکم، دولۃ) کے معنی گردش کے ہیں (دالت الایام) کے معنی ہوں گے (دارالزمان) زمانہ نے گردش کی۔ اس سے (مداولت) ہے جو قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ (وتلک الایام نداولھا بین الناس) (ال عمران : 30، 140) (اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں) مطلب یہ ہے کہ غرباء و یتامی اور بےوسیلہ لوگوں کا حق اس لیے سرکاری بیت المال میں محفوظ کردیا ہے کہ دولت صرف مال داروں ہی کے درمیان نہ گردش کرتی رہے بلکہ اس کو غریبوں تک پہنچنے کی بھی راہ ملے۔
اس سے اسلامی اقتصادیات کا یہ اصول واضح ہوا کہ اسلام یہ نہیں پسند کرتا کہ دولت کسی خاص طبقہ کے اندر مرتکز ہو کر رہ جائے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا بہائو ان طبقات کی طرف بھی ہو جو اپنی خلقی کمزوریوں یا فقدان وسائل کے سبب سے اس کے حصول کی جدوجہد میں پورا حصہ نہیں لے سکتے۔ اس مقصد کے لیے اس نے افراد کو زیادہ سے زیادہ انفاق پر ابھارا ہے اور ان کے اس آزادانہ انفاق کو ان کی روحانی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا ہے اور قانون کے ذریعہ سے بھی ہر صاحب مال کے مال میں سے ایک حصہ غریبوں کے حق کی حیثیت سے الگ کر کے حکومت کی تحویل میں دے دیا ہے۔
(معترضین کو تنبیہ)۔۔ (وما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب) یہ آخر میں تہدید دو عید ہے کہ رسول جو کچھ دے وہ لے لو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جائو۔ کسی بات کو اعتراض و نکتہ چینی اور نجویٰ و سرگوشی کا بہانہ نہ بنائو۔ اللہ سے برابر ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ اللہ بڑی ہی سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ تہدید دو عید دلیل ہے کہ جن سوالوں کے جواب یہاں دیئے گئے ہیں وہ منافقین کی طرف سے اٹھائے گئے تھے اور ان کے اٹھانے سے مقصود و مسئلہ کی تحقیق نہیں بلکہ ان کی عادت کے مطابق اعتراض نکتہ چینی تھا۔ اگر سوال محض تحقیق حق کے لیے مخلص مسلمانوں کی طرف سے ہوتا تو اس تہدید کا یہاں کوئی موقع نہیں تھا۔
(ایک حکم خاص سے ایک کلمہ کا استنباط)۔ یہاں رسول کا یہ درجہ جو واضح فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ وہ دے وہ لے لو اور جس سے روکے اس سے رک جائو، اگرچہ اس کا ایک خاص محل ہے لیکن اس سے جو حکم مستنبط ہوتا ہے وہ بالکل عام ہوگا، یعنی زندگی کے ہر معاملے میں رسول کے ہر حکم و نہی کی بےچون و چرا تعمیل کی جائے گی اس لیے کہ رسول کی حیثیت جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے ایک واجب الاطاعت ہادی کی ہوتی ہے۔ فرمایا ہے (وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ) (النساء : 4، 64) (اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے) گویا اس ٹکڑے کے دو مفہوم ہوں گے۔ ایک خاص، دوسرا عام، اپنے خاص مفہوم کے پہلو سے یہ اپنے سابق مضمون سے مربوط ہوگا اور اپنے عام مفہوم کے اعتبار سے اس کی حیثیت اسلامی شریعت کے ایک ہمہ گیر اصول کی ہوگی۔
Ayah 59:8(للفقراء المھجرین الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا ویتصرون اللہ ورسولہ اولیک ھم الصدقون) (8)۔
(اموال فے کا ایک ہنگامی مصرف)۔ اموال فے کا عام مصرف بتانے کے بعد یہ اس کے ایک خاص مصرف کی طرف اشارہ فرمایا جو وقت کا سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مصرف اور تمام مسلمانوں کی یکساں توجہ کا مستحق تھا۔ یعنی مہاجرین کی امداد جو اس وقت ہر طرف سے اپنے گھروں سے اجڑ کھڑا کر مدینہ آ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کو از سر نو بسانے اور ان کو معاشی زندگی کو پھر سے متحرک کرنے کی ذمہ داری اس چھوٹے سے اسلامی معاشرہ ہی پر عائد ہوتی تھی جو ابھی نیا نیا مدینہ کی سر زمین میں ابھر رہا تھا۔ یہ صورت بھی مقتضی تھی کہ اموال فے کو حکومت کی تحویل میں دیا جائے تاکہ اس طرح کے ملی مسائل کے حل کے لیے اس کے پاس وسائل موجود رہیں۔
(مہاجرین کی تعریف)۔ ان مہاجرین کی تعریف میں فرمایا کہ یہ لوگ اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے مجبور کر کے نکالے گئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب اور اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کے مقصد سے اپنی املاک سے یہ محرومی اور اپنے گھر در سے یہ مجہوری برداشت کی ہے اس وجہ سے یہ مستحق ہیں کہ ان کے دینی بھائی پوری فراخ دلی اور سیر چشمی سے ان کی مدد کریں۔ (یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا) سے اشارہ اس ایمانی زادراہ کی طرف ہے جس کے اعتماد پر یہ مہاجرین اپنے گھروں اور اپنی املاک سے بغیر اس بات کی پروا کیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ کیا کھائیں گے اور کہاں سر چھپائیں گے۔ اور (ینصرون اللہ ورسولہ) سے اس مقصد کی طرف اشارہ ہے جس مقصد عزیز کے لیے یہ بازی انہوں نے کھیلی۔ یعنی انہوں نے یہ چاہا کہ وہ اللہ کے رسول کے ہم رکاب رہیں تاکہ ہر قدم پر اللہ اور اس کے رسول کی مدد کے لیے سربکف رہ سکیں۔
(اولیک ھم الصدقون) فرمایا کہ یہی لوگ در حقیقت اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی رضا طلبی اور رسول کی نصرت کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیا نہ کہ یہ منافقین جو مدعی تو ہیں ایمان کے لیکن اللہ کی راہ میں معمولی چوٹ کھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ بس یہ چاہتے ہیں کہ گھر بیٹھے بٹھائے انہیں لقمہ تر ہاتھ آتا رہے۔ ان منافقین ہی کے بارے میں آگے اسی سورة کی آیت 11 میں فرمایا ہے کہ (واللہ یشھد انھم لکذبون) (اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین بالکل جھوٹے ہیں)۔
Ayah 59:9(والذین تبو والداروالایمان من قبلھم یحبون من ھاجرالیھم ولا یجدون فی صدور ھم حاجۃ لما اوتو اویوثرون علی انفسھم ولو گان بھم خاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولیک ھم الفلحون) (9)۔
(انصار اور مہاجرین اولین کی سیر چشمی کی تحسین)۔ یہ انصار ومہاجرین اولین کی سیر چشمی اور ان کی فراخ دلی کی تعریف ہے کہ اس بات سے ان کے دل تنگ نہیں ہو رہے ہیں کہ مہاجروں کے قافلے پر قافلے ان کے غنائم و فے میں حصہ بٹانے کے لیے چلے آ رہے ہیں بلکہ وہ بڑی فراخ دلی سے ان کا خیر مقدم کر رہے ہیں اور ان کی جو مدد کی جا رہی ہے اس سے اپنے دلوں میں کوئی رشک و حسد محسوس کرنے کے بجائے وہ اپنے اوپر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود ضرورت لا حق ہو۔
(عربیت کا ایک ضابطہ)۔ (تبو والدارو الایمان)۔ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح (علفتہ تبنا و ماء) (میں نے اس کو چارہ کھلایا اور پانی پلایا) (یا ذججن الحواجب والعیونا، یا قلدنی سیفا ورمحا) وغیرہ مختلف ترکیبیں عربی میں معروف ہیں۔ اس طرح کی ترکیبوں میں ایک فعل، جو دوسرے مفعول سے مناسب رکھنے والا ہو۔ محذوف ہوتا ہے جو قرینہ سے سمجھ لیا جاتا ہے چناچہ مذکورہ تینوں مثالوں میں ایک ایک فعل مخدوف ہے۔ اسی طرح اس آیت میں بھی ایک فعل (الایمان) سے مناسبت رکھنے والا محذوف ہے۔ اگر یہاں (احکموا) یا اسکے ہم معنی کوئی فعل مخدوف مانئے تو پوری عبارت یوں ہوگی (اتو وا الدارواحکم الایمان) یعنی جنہوں نے پہلے سے گھر ٹھکانا بھی بنا رکھا ہے اور اپنے ایمان کو بھی مضبوط کر رکھا ہے۔
اس کے اولین مصداق تو ظاہر ہے کہ انصار ہی ہوں گے اس لیے کہ وہ پہلے سے اپنے گھرور بھی رکھتے تھے اور ایمان کی نعمت سے بھی متمتع تھے لیکن میرے نزدیک اس میں وہ مہاجرین اولین بھی شامل ہیں جو پہلے ہی ہجرت کر کے مدینہ پہنچ چکے تھے اور وہاں اللہ نے ان کے لیے قیام و معاش کی قابل اطمینان صورت بھی پیدا کردی تھی۔ اس طرف ذہن (من قبلھم) کے الفاظ سے جاتا ہے۔ اس لیے کہ مہاجرین اولین ہی کا یہ درجہ ہے کہ انہوں نے مہاجرین متاخرین کے مقابل میں ایمان اور ہجرت دونوں میں سبقت کی۔ جہاں تک انصار کا تعلق ہے ان کو گھردر والے ہونے کے معاملے میں تو تقدم ضرور حاصل تھا لیکن ایمان کے معاملہ میں یہ کہنا صحیح نہیں ہوسکتا کہ ان کو تمام مہاجرین کے مقابل میں تقدم حاصل تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعد کے مہاجرین کے مقابل میں ان کو بحیثیت مجموعی تقدم حاصل تھا۔ وہاں انصار کے ساتھ اگر مہاجرین اولین کو بھی شامل کرلیجئے تب ان کے اوپر (الذین تبو وا الدارو الایمان) کے الفاظ ٹھیک ٹھیک منطبق ہوجاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ دونوں مل کر بعد والوں کے مقابلے میں باعتبار سکونت مدینہ بھی مقدم ہیں اور باعتبار قبول اسلام بھی۔ فرمایا کہ یہ لوگ نئے آنے والے مہاجرین سے محبت رکھتے اور پوری فراخ دلی سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کے دل اس بات سے تنگ نہیں ہو رہے ہیں کہ مہاجرین کے قافلے پر قافلے چلے آ رہے ہیں اور جو مال انہیں ملنا چاہیے تھا وہ سب ان پر صرف ہو رہا ہے یا اب وہ بھی اس میں حصہ دار بن جائیں گے بلکہ وہ نہایت سیر چشمی کے ساتھ اپنی ضروریات پر ان کی ضرورت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ان کی اس تعریف سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ اہل ایمان کو اسی طرح باہم دگر ہمدرد، فیاض اور ایثار کرنے والا ہونا چاہیے، یہ گویا ایک آئینہ رکھا گیا ہے ان منافقین کے سامنے جنہوں نے بنی نضیر کے چھوڑے ہوئے اموال سے متعلق یہ مطالبہ پیش کیا کہ اس کو مال غنیمت کی طرح لوگوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے۔ اس آئینہ میں انہیں دکھایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے لیے اس طرح فیاض ہوتا ہے تاکہ انہیں اپنی خود غرضی پر کچھ شرم آئے۔
(ومن یوق شخ نفسہ فاولیک ھم المفلحون) یہ ان انصار و مہاجرین کے لیے فلاح کی بشارت بھی ہے اور نفس انسانی کی ایک بہت خطرناک بیماری سے آگاہی بھی۔ شخ کے معنی حرص و طمع اور لالچ کے ہیں۔ نفس کی طرف اس کی نسبت سے یہ بات تو نکلتی ہے کہ یہ نفس کے دواعی میں سے ایک داعیہ ہے لیکن ساتھ ہی اس سے بچتے رہنے کے لیے جو آگاہی دی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطرناک داعیہ ہے۔ اگر اس کو آدمی قابو میں نہ رکھ سکے تو یہ چیز اس کی آخرت برباد کردیتی ہے۔ اس ٹکڑے میں منافقین کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ اگر انہوں نے اس کے علاج کی فکر نہ کی تو وہ ابدی خسران سے دو چار ہوں گے۔ میں نے اس کے اسی خطرناک پہلو کر واضح کرنے کے لیے اس کا ترجمہ خود غرضی کیا ہے۔ ایک حدیث میں اس کی وضاحت یوں آئی ہے۔ (ایاکم والشح فانہ اھلک من کان قبلکم امرھم بالظلم فظلموا وا مر بالفجور فجروا وا مرھم بالقطیعۃ فقطعوا) (شیخ خود غرضی) سے بچو ! یہی چیز ہے جس نے تم سے پہلے کی قوموں کو تباہ کیا، اس نے ان کو ظلم کی راہ سمجھائی تو انہوں نے ظلم کیے۔ اس نے ان کو فسق و فجور کا حکم دیا تو انہوں نے فسق و فجور کا ارتکاب کیا، اس نے ان کو قطع رحم پر ابھارا تو انہوں نے قطع رحم کیا)۔
(ایک سوال اور اس کا جواب)۔ ایک اہم سوال اس آیت کے موقع و محل سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہاں یہ کیا بات بتانے کے لیے وارد ہوئی ہے ؟ ہمارے مفسرین کا خیال تو یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جس طرح یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اموال فے میں مہاجرین کا حصہ ہے اسی طرح اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس میں انصار کا بھی حصہ ہے، لیکن یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ مہاجرین کے ذکر کی ضرورت تو اس وجہ سے تھی کہ ان کے سبب سے اس وقت حکومت ایک ایسی صورت حال سے دو چار تھی جو مقتضی ہوئی کہ حکومت کے پاس ایسے وسائل موجود رہیں کہ وہ اس طرح کی نازک صورت حال سے عہدہ بر آہو سکے۔ گویا ان کا ذکراموال فے کے حکومت کی ملک میں دینے کی ایک دلیل کے طور پر آیا۔ اس ذیل میں انصار کے ذکر کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ شبہ تو کسی کے ذہن میں تھا نہیں کہ انصار اس مال میں حق دار نہیں ہیں۔ جب تمام تیامی، فقراء اور مساکین کا حق اس میں بیان ہوا تو ظاہر ہے کہ انصار کے قراء و مساکین بھی اس میں حق دار ٹھہرے۔ پھر انصار کے خاص طور پر ذکر کرنے کی ضرورت کیا پیش آئی اور وہ بھی (والذین تبو وا الدارو الایمان) کی صفت کے ساتھ جو ان کی احتیاج کو نہیں بلکہ ان کے مستغنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے ؟
ہمارے نزدیک مفسرین نے اس آیت کا موقع محل بالکل نہیں سمجھا ہے۔ اس آیت کو اس بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ انصاراموال نے میں حصہ دار ہیں۔ نہ کسی کے ذہن میں یہ سوال تھا، نہ اس کے پیدا ہونے کی کوئی وجہ تھی اور نہ اس کے جواب کا کوئی فائدہ تھا۔ یہاں جو بات بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین اولین (جو پہلے سے گھر در والے اور ایمان سے بہرہ مند ہیں) اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والے بھائیوں کو منافقین کی طرح اپنے لیے کوئی معاشی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کا محبت سے خیر مقدم کرتے اور ان کے لیے ہر قسم کا ایثار کرتے ہیں اور یہی رویہ ایمانی اخوت کا حقیقی تقاضا ہے۔ جو ہر سچے مسلمان کو اختیار کرنا چاہیے۔
Ayah 59:10(والذین جاء و من بعد ھم یقولون ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا ربنا انک رئو وف رحیم) (10)۔
(مہاجرین تماخرین کی تحسین)۔ انصار اور مہاجرین اولین کا رویہ بیان کرنے کے بعد یہ مہاجرین متاخرین کا رویہ بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے دلوں میں بھی اپنے ان سابق الایمان اور سابق الہجرت بھائیوں کے لیے بڑا اخلاص اور بڑی محبت ہے۔ ان کو یہ حسد نہیں ہے کہ انہوں نے پہلے پہنچ کر تمام میسر وسائل و اسباب پر قبضہ جما لیا اور گھر دروالے بن گئے جب کہ یہ ابھی ہر چیز سے محروم ہیں بلکہ یہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے اور اپنے ان بھائیوں کے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم کو بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش جن کو ایمان و ہجرت میں ہم پر سبقت کی سعادت حاصل ہوئی اور اے ہمارے رب، ہمارے دلوں کے اندر ہمارے باایمان بھائیوں کے خلاف کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے رب، تو نہایت شفیق و مہربان ہے۔
(ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنوا)۔ میں ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اپنے مقابل میں ان کے بہتر حالات دیکھ کر شیطان ہمارے دلوں میں کوئی کینہ و حسد کا جذبہ پیدا کرے۔ بلکہ تو اپنی شفقت و عنایت سے ان کے حق میں ہمارے دلوں کو مہرو محبت سے معمور رکھنا۔ یہاں منافقین کے دلوں کے اس روگ پر نظر رہے جو اوپر سخ کے لفظ سے بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان اصحاب صدق و صفا کے دل اس قسم کے امراض سے بالکل پاک صاف ہیں۔
Ayah 59:114۔ آگے آیات 11۔ 17 کا مضمون
بنو نضیر کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے ان یہود دوست منافقین کی آنکھیں نہیں کھیلیں۔ انہوں نے اس کے بعد بنو قریظہ کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کردی۔ یہود کی یہی ایک شاخ بنو نضیر کے مدینہ کے قرب میں باقی رہ گئی تھی۔ قدرتی طور پر بنو نضیر کے واقعہ کے بعد ان کو اندیشہ ہوگیا ہوگا کہ اب شاید جلد ہی ان کی بھی باری آنے والی ہے۔ ممکن ہے اپنے ہمدردوں سے انہوں نے ساز باز بھی شروع کردی ہو۔ منافقین نے ان کی ہمت بندھائی کہ آپ لوگ ہر اساں نہ ہوں۔ بنو نضیر کی طرح اگر آپ لوگ بھی نکالے گئے تو ہم بھی آپ لوگوں کا ساتھ دیں گے اور آپ کے بارے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کی کسی بات کی ہرگز کوئی پرواہ نہیں کریں گے اور اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم آپ کے ساتھ سر بکف ہو کر لڑیں گے۔ قرآن نے مسلمانوں کو اطمینان دلایا کہ یہ بالکل بزدل اور جھوٹے ہیں۔ نہ جلا وطنی میں ساتھ دینے والے ہیں نہ جنگ میں اور اگر جنگ میں انہوں نے ان کا ساتھ دیا تو منہ کی کھائیں گے اور پھر کبھی ان کو منہ دکھانا نصیب نہ ہوگا۔ ساتھ ہی بنو قریظہ کو متنبہ کردیا کہ اگر وہ ان کے چکمے میں آئے تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو بنو نضیر کا ہوا اور یہ شیطان کی طرح یہ کہہ کر الگ ہوجائیں گے کہ (انی بری منک انی اخان اللہ رب العلمین) (الحشر : 59، 16) (میں تم سے بری ہوں، میں اللہ عالم کے خداوند سے ڈرتا ہوں) اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(الم ترالی الذین نافقوا یقولون لاخوانھم الذین کفروا من اھل الکتب لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا ابدا وان قوتلتم لننصرنکم واللہ یشھد انھم لکذبون) (11)۔
(منافقین کا ساز باز بنو قریظہ سے)۔ (الم تر) کا خطاب یہاں اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ذرا ان مدعیان ایمان کو تو دیکھو، ایک طرف ایمان کا دعویٰ ہے دوسری طرف ان اہل کتاب سے جنہوں نے محمد ﷺ کی دعوت و رسالت کا انکار کیا ہے، محبت کی پینگیں بھی بڑھائی جا رہی ہیں۔ (لاخوانھم) کے لفظ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ جن منافقین کا ذکر ہے یہ یہودیوں ہی کے اندر سے آئے ہوئے تھے۔ اپنے مصالح کی خاطر یہ یہودیوں سے تو نکل آئے لیکن یہودیت ان کے اندر سے نہیں نکلی تھی۔ اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے حد تک یہ مسلمانوں کے ساتھ تھے باقی ان کی اصل ہمدردی اپنے بھائیوں ہی کے لیے تھی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ منافقین میں زیادہ تعداد انہی افراد کی تھی جو پہلے یہودی تھی اور انہی کا رویہ ان سورتوں میں زیر بحث ہے۔ عربوں میں سے جو لوگ اسلام لائے ان میں منافق بہت کم تھے اور ان کے نفاق کی نوعیت بھی مختلف تھی۔ آگے سورة ممتحنہ میں اس گروہ کا رویہ زیر بحث آئے گا۔
(الذین کفروا من اھل الکتب)۔ میں یہود کے جس گروہ کی طرف اشارہ ہے اس کے تعین میں لوگوں کا بڑا اضطراب پیش آیا ہے لیکن میں اس بات پر مطمئن ہوں کہ یہ اشارہ یہود بنی قریظہ کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ کے جوار میں یہود کے تین ہی بڑے قبیلے آباد تھے۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنوقریظہ، بنو قینقاع کا قصہ پہلے ہی پاک ہوچکا تھا۔ بنو نضیر کا حشر اسی سورة میں اوپر بیان ہوا۔ اس کے بعد صرف بنو قریظہ بچ رہے تھے جو مدینہ سے کچھ فاصلہ پر آباد تھے اس وجہ سے منافقین کے جس ساز باز کا ذکر ہے وہ انہی کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ ان کا خاتمہ غزوہ خندق کے معا بعد ہوا ہے جس کی تفصیل سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔
(لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولا نطیع فیکم احدا ابدا وان قرتلتم لنضرنکم) ان منافقین نے ان کو اطمینان دلانا شروع کیا کہ اگر آپ لوگوں کو بھی بنو نضیر کی طرح یہاں سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکل جائیں گے اور آپ لوگوں کے معاملے میں ہم کسی کے حکم یا مشورہ کی ہرگز کوئی پرواہ نہ کریں گے اور اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم آپ لوگوں کی مدد کریں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو قریظہ کو یہ اندیشہ تھا کہ اب جلد ہی ان کی باری تھی آنے والی ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان منافقین کے وعدوں پر ان کو کچھ زیادہ بھروسہ نہیں تھا۔ وہ بنو نضیر کے معاملے میں اندازہ کرچکے تھے کہ یہ صرف زبان کے غازی ہیں، چناچہ منافقین کو بڑی تاکید و توثیق کے ساتھ ان کو اپنے عہد پر مطمئن کرنے کی کوشش کرنی پڑی۔ یہاں تک کہ یہ اطمینان بھی انہوں نے دلایا کہ وہ اس معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنے اس عہد کی خاطر ان لوگوں سے قطع تعلق بھی کرلینا پڑا تو ہم یہ بھی کر گزریں گے۔
Ayah 59:12(واللہ یشھد انھم لکذبون) جس قسم و تاکید کی ساتھ ان منافقین نے بنو قریظہ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اسی تاکید و توثیق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا قرار دیا (واللہ یشھد) کے الفاظ ہم واضح کرچکے ہیں کہ قسم کے مفہوم میں آتے ہیں۔ (لئن اخرجوالایخرجون معھم ولئن قوتلوا لا ینصرونھم ولئن نصروھم لیولن الادبار ثم لا ینصرون) (12)
(منافقین کی تردید)۔ یہ قرآن نے ان کے ایک ایک قول وقرار کی تکذیب کردی کہ وقت آنے پر یہ اپنی ایک بات میں بھی سچے ثابت نہیں ہوں گے۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کا ساتھ نہیں دیں گے، اگر ان پر حملہ ہوا تو یہ ان کی حمایت میں اٹھنے والے نہیں ہیں اور اگر اٹھنے تو منہ کی کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھائیں گے، چناچہ یہی ہوا کہ وقت پر کوئی بھی ان کے کام نہ آیا ان کی عبرت انگیز انجام کی تفصیل سورة احزاب کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
(وقت پر بنو قریظہ کا کسی نے ساتھ نہ دیا)۔ یہاں بالا جمال اتنی بات یاد رکھیے کہ بنو نضیر کی طرح انہوں نے بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ امن و صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا۔ غزوہ خندق کے موقع پر مشہور یہودی حی بن اخطب نے ان کو نقص عہد پر ابھارا۔ اس نے ان کو سمجھایا کہ اس وقت قریش اور غطفان اپنی پوری جمعیت کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں، اگر تم بھی میدان میں آجائو تو بس سمجھو کہ مسلمانوں کا خاتمہ ہے۔ اس کے چکمے میں آ کر بنو قریظہ بھی معاہدہ توڑ کر حملہ آوروں میں شریک ہوگئے۔ غزوہ خندق کا جو انجام ہوا وہ معلوم ہے۔ اس سے فارغ ہوتے ہی حضور ﷺ نے بنو قریظہ کا رخ کیا اور ان کا محاصرہ کرلیا۔ اس وقت کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا بالآخرا نہیں مجبور ہو کر اپنی قسمت کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ اس فیصلہ کی تفصیل سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سعد ؓ کے ہاتھوں ان کی جڑ کاٹ دی۔ (ثم لا ینصرون) یعنی پھر ان کے لیے امید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ یہ اللہ کی فیصلہ کن پکڑ ہوگی اور جو لوگ اللہ کی پکڑ میں آجاتے ہیں ان کو پھر کوئی بھی سہارا نہیں دے سکتا۔
Ayah 59:13(لا التم اشد رھبۃ فی صدورھم من اللہ ذلک بانھم قوم لا یفقھون) (13)۔
(جو اللہ سے نہیں ڈرتے وہ بندوں سے ڈرتے ہیں)۔ یعنی تمہارے مقابل میں یہ اپنے ان بھائیوں کی نصرت کے لیے اس وجہ سے نہیں اٹھیں گے کہ اللہ سے زیادہ تمہاری دہشت ان کے دلوں میں سمائی ہوئی ہے۔ اللہ کی مخالفت اور نافرمانی تو یہ سرا بھی کرتے ہیں اور علانیہ بھی لیکن تمہارے مقابل میں اٹھنے کا حوصلہ یہ کبھی کرنے والے نہیں ہیں۔ (ذلک بانھم قوم لا یفقھون) یعنی یہ بات ہے تو عجیب سی کہ یہ خدا سے ڈھیٹ اور تم سے دہشت گردہ ہیں لیکن جن کی مت ماری جاتی ہے ان کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ صاحب تازیانہ سے نہیں بلکہ صرف تازیانہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر ان کے اندرذرا بھی عقل و ایمان کی رمق ہوتی تو یہ سوچ سکتے تھے کہ جب وہ اپنے اصل مالک کو اپنے اوپر غضب ناک بنا چکے ہیں تو اس کے دربانوں اور نوکروں سے چھپ کر کتنے دن اپنے کو بچا سکیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ عقل اور فطرت کے بدیہی حقائق کے سمجھنے سے دل اس وقت محروم ہوتا ہے جب بدیہیات کی خلاف ورزی کے جرم میں اللہ تعالیٰ اس پر مہر کردیا کرتا ہے۔ چناچہ منافقین ہی کے باب میں ارشاد ہوا ہے کہ (ذلک بانھم امنوا ثم کفروا نطبع علی قلوبھم فھولا یفقھون) (المنفقون : 63، 3) (یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ پہلے ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا پس ان کے دلوں پر مہر کردی گئی، پس وہ سمجھنے سے رہ گئے)۔
Ayah 59:14(لا یقلوتلونکم جمعیا الا فی قری مجصنۃ او من وراء جدر باسھم بینھم شدید تحسیھم جمعیاً وقلوبھم شی ذلک بانھم قوم لا یعقلون) (14)
یعنی ان بزدلوں کی ان گیدڑ بھبھکیوں کو ذرا اہمیت نہ دو۔ ان میں اتنا جیوٹ نہیں ہے کہ یہ کبھی میدان میں نکل کر، منظم فوج کشی کی صورت میں، تم سے نبردار آزمائی کا حوصلہ کرسکیں۔ میدان میں نکلنا تو درکنار، ان پر تو اگر حملہ بھی ہوا تو یہ باہر نکل کر مدافعت کا حوصلہ نہیں کریں گے بلکہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر یا گھروں میں محصور ہوکر، دیواروں کی اوٹ ہی سے، اپنے کو بچانے کی کوشش کریں گے۔ یہ امر واضح رہے کہ قلعہ بندیا محصور ہو کر اول تو صرف دفاعی جنگ ہی لڑی جاسکتی ہے، حملہ آورانہ جنگ کا اس صورت ہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ثانیاً دفاعی پہلو سے بھی سب سے زیادہ کمزور جنگ یہی ہے۔ صرف مجبوری کی حالت ہی میں یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ یہود کے متعلق یہ بات یاد رکھنے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں کو ابھارنے کے معاملے میں تو بڑے شاطر رہے ہیں لیکن یہ کبھی کھل کر میدان میں نہیں آئے اور جب مسلمانوں نے ان پر کبھی حملہ کیا تو انہوں نے ہمیشہ قلعہ بند اور محصور ہو کر مدافعت کی کوشش کی اور اس میں ناکامی بلکہ ذلت سے دو چار ہوئے۔
(بزدلوں کی اصل کمزوری) (باسمھم بینھم شدید تحسبھم جمعیا وقلوبھم شتی) مطلب یہ ہے کہ ان کو تم سے کھلے میدان میں مقابلہ کا حوصلہ تو جب ہو کہ ان کے دل آپس میں جڑے ہوئے ہوں۔ جہاں تک اسلام دشمنی کا تعلق ہے اس میں تو یہ بیشک متحد ہیں جس سے آدمی کو دھوکہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر وحدت کر ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مخالفت اسلام کے منفی مقصد کے سوا ہر معاملے میں ان کے دلوں کے اندر ایک دوسرے کیخلاف شدید بغض وعناد ہے۔ یہود کی مختلف شاخوں کے اندر بھی عداوت جا گزیں ہے اور قریش و قبائل مشرکین کے ساتھ بھی ان کی دوستی بالکل نمائشی محض اسلام کی مخالفت کے حد تک ہے۔ ایسے بےثبات اور نمائشی اتحاد میں اتنا دم داعیہ کہاں کہ وہ کیسے میدان میں ان لوگوں کے مقابل میں پابر جا رہ سکے جن کے دلوں کو اللہ کے ایمان نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے۔ (ذلک بانھم قوم لا یعقلون) یہ ان کی بیماری کے اصل سبب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ عقل سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ یعنی حقائق پر غور کرنے، سنجیدگی سے ان کان موازانہ کرنے اور بھر پورے عزم و ثبات سے ان کا مواجہہ کرنے کی جگہ انہوں نے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے اور جب کوئی قوم عقل کی جگہ اپنی خواہشوں کو امام بنا لیتی ہے تو وہ اسی طرح کے انتشار فکر میں مبتلا ہو کر تباہ ہوجاتی ہے۔
Ayah 59:15(کمثل الذین من قبلھم قریبا ذا قواوبال امرھم ولھم عذاب الیم) (15)۔
(بنو نضیر کے انجام کی مثال)۔ یہ مثال دی ہے ان لوگوں کے انجام کی جن کو یہ منافقین ابھا رہے تھے کہ اگر آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکل جائیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم بھی آپ کے ساتھ ہو کر لڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ ان کی بھڑی میں آ کر کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے تو یاد رکھیں کہ ان کا انجام بھی رہی ہوگا جو ان لوگوں کا ہوچکا ہے جو ابھی جلد ہی اپنی شرارت کا مزا چکھ چکے ہیں۔ (الذین من قبلھم قریبا ذا قواوبال امرھم) سے عام طور پر لوگوں نے قریش کو مراد لیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ اشارہ غزوہ ٔ بدر کی طرف ہے کہ جس طرح بدر میں قریش کو منہ کی کھانی پڑی اسی طرح یہ لوگ بھی منہ کی کھائیں گے۔
یہ اشارہ اگرچہ قریش کی طرف بھی ہوسکتا ہے، بلکہ بنو قینقاع کی طرف بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ابن کثیر ؓ نے سمجھا ہے، لیکن میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ ان آیات میں اس سازش کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جو بنو نضیر کی جلا وطنی کے بعد منافقین نے بنو قریظہ کے ساتھ کرنی شروع کی تھی، اس وجہ سے میرے نزدیک یہ اشارہ بنو نضیر کے انجام کی طرف ہے۔ اس کی وجہ سے اول تو یہ ہے کہ بنو نضیر کی مثال بالکل تازہ تھی، جیسا کہ قریباً کے الفاظ سے واضح ہے۔ دوسری یہ ہے کہ یہود کے کسی گروہ کے لیے سب سے زیادہ موثر مثال یہود ہی کے کسی گروہ کی ہو سکتی تھی۔ (ولھم عذاب الیم) یعنی دنیا میں تو وہ اس طرح کے کسی انجام سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں ان کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔ یہ امریہاں واضح رہے کہ بنو قریظہ دنیا میں بھی بنو نضیر کی نسبت کہیں زیادہ سخت انجام سے دو چار ہوئے اور آخرت میں ان کے سامنے جو کچھ آنیوالا ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
Ayah 59:16(کمثل الشطین اذ قال للانسان کفر فلما کفرقالدانی بری منک انی اخاف اللہ رب العلمین) (16)۔
(منافقین کی مثال شیطان سے)۔ یہ بنو قریظہ کو ابھارنے والے منافقین کی مثال بیان ہوئی ہے کہ یہ کہتے تو ہیں کہ آپ لوگ نکالے گئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلیں گے اور اگر آپ لوگوں پر حملہ ہوا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور اس معاملے میں ہرگز کسی کا کوئی دبائو نہیں قبول کریں گے لیکن یہ شیطان کے بھائی ہیں اور اسی کا رویہ اختیار کریں گے۔ جس طرح وہ انسان کو خدا کی نافرمانی کی راہ سمجھاتا ہے اور جب آدمی اس کے چکمے میں آ کر کوئی جرم کر بیٹھتا ہے تو وہ ناصح بن کر اس کو ملامت کرتا اور اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح یہ منافقین بھی آج تو ان لوگوں کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں لیکن جب یہ کوئی اقدام کر بیٹھیں گے اور اس کا انجام بدان کے سامنے آئے گا تو پیٹھ ٹھونکنے والے شیاطین دم دبا کر بھاگیں گے اور ان کے نتائج کہ ذمہ داری قبول کرنے پر ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔
(غزوہ بدر میں یہود کی شرارت)۔ سورة انفال آیت 48 میں بسلسلہ واقعات غزوہ بدر بیان ہوا ہے کہ جب قریش اور مسلمانوں کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو پہلے تو شیطان نے کفار کو شہ دی کہ شاباش۔ بھڑ جائو (لاغالب لکم الیوم من الناس وانی جارلکم) (لوگوں میں کسی کی تاب نہیں کہ آج تم پر غالب آسکے، میں تمہاری پشت پر ہوں) لیکن جب دونوں فوجیں بھڑگئیں اور فرشتوں کی کمک سے میدان جنگ کا نقشہ بالکل بدلا ہوا نظر آیا تو اس نے فوراً پینترابدل کر پکارا کہ (انی بری منکم انی اری مالا ترون انی اخان اللہ واللہ شدید العقاب) (میں تمہارے اس اقدام کی ذمہ داری سے بری ہوں، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت پاداش والا ہے۔) ہم نے سورة انفال کی تفسیر میں واضح کیا ہے کہ بدر کی جنگ یہود کی سازش سے پیش آئی تھی۔ انہی نے قریش کو ابھارا اور اس کا سارا نقشہ بنا کر ان کو دیا اور اپنی مدد کا بھی ان کو اطمینان دلایا لیکن جب اصل وقت آیا تو یہ شیطان کی طرح ان سے بری الذمہ ہوگئے۔
(شیطان لیڈروں کا معروف طریقہ)۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات واضح فرمائی گئی ہے کہ قیامت کے دن جب مجرمین اپنے جرم کی ذمہ داری اپنے شیطان لیڈروں پر ڈالنی چاہیں گے تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہماری پیروی کی۔ ہمیں تمہارے اوپر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ ہم تمہارے جرموں کے ذمہ دار ہوں۔ تم نے جو کچھ کیا خود کیا، اب اس کا خمیازہ بھگتو۔ اس دنیا میں بھی شیطان کے ایجنٹوں کا طریقہ کار یہی ہے کہ وہ جرائم پر لوگوں کا ابھارا تو دیتے ہیں لیکن جب ان کے نتائج سامنے آتے ہیں تو کیا ان کی ذمہ داری سے اپنے کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 59:17(فکان عاقبتھما انھما فی النار خالدین فیھا وذلک جزوا الظلمین) (17)۔ یعنی جرم کو گزرنے کے بعد اس طرح اپنے کو بچانے اور دوسرے کو مہتم کرنے کی جو کوشش کی جاتی ہے اس کا فائدہ کسی فریق کو بھی نہیں پہنچتا بلکہ دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پڑتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے۔
(1 ؎۔ قال مختلف معنوں میں آتا ہے، مثلاً کہنا، سمجھانا، اشارہ کرنا، دعوت دینا ابھارنا اور کسی اقدام پر آمادہ کرنا)۔