59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

(اے ایمان والوں، اللہ سے ڈرو اور چاہیے کہ ہر نفس اچھی طرح جائزہ لے رکھے اس کا جو اس نے کل کے لیے کیا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو ،

6۔ آگے آیات۔ 18۔ 24 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں خطاب اگرچہ نفطا ً عام مسلمانوں سے ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر منافقین ہی کی طرف ہے۔ ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ ہر شخص کے لیے سب سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کل جو روز حساب آنے والا ہے اس کے لیے اس نے کیا کیا اور کیا کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے ہر قول و فعل سے اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ ہر ایک کو اس کے ایک ایک عمل کا بدلہ دے گا۔ ساتھ ہی ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ یہود کی طرح اللہ کو بھلا نہ بیٹھو۔ جو لوگ اللہ کو بھلا بیٹھتے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ وہ خود اپنے ہی خبر و شر سے بالکل اندھے پن کے رہ جاتے ہیں۔ یاد رکھو کہ اہل دوزخ اور اہل جنت کے درمیان جو فرق ہوگا وہ کوئی معمول فرق نہیں ہوگا کہ اس کو سہل انگاری سے نظر انداز کردیا جائے بلکہ یہ بہت بڑا فرق ہوگا۔ فوز و فلاح صرف اہل جنت کو حاصل ہوگی۔ دوسروں کے لیے ابدی خسران کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر ان کو یہ آگاہی بھی دے دی گئی ہے کہ جہاں تک اتمام حجت کا تعلق ہے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے کہ لوگ اللہ کے آگے کوئی عذر پیش کرسکیں۔ یہ قرآن جو سنایا جا رہا ہے، ایسی چیز ہے کہ اگر یہ پہاڑ پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی اپنی تمام سختی و صلابت کے باوجود خشیت الٰہی سے شق ہوجاتا۔ جن کے دل اس سے متاثر نہیں ہو رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ یہ قرآن کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ خود ان کے دلوں کی قساوت ہے کہ وہ اس سے پسیج نہیں رہے ہیں۔ اس طرح کے قسی القلب کسی چیز سے بھی متاثر ہونے والے نہیں ہیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا آئینہ لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حاضر و مستقبل، اپنے خیر و شر، اپنے عقائد و اعمال اور اپنے مال و انجام کا جائزہ لیں اور اپنے ظاہر و باطن کو اپنے رب کی صفات کے تقاضوں کے مطابق بنائیں اور سنواریں ورنہ وہ اپنے وجود کو اپنے لیے لعنت بنا لیں گے اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون) (18)۔ (روز حساب کی یاددہانی)۔ خطاب، با عتبار الفاظ، اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن موقع و محل بتا رہا ہے کہ روئے سخن اصلاً ان منافقین ہی کی طرف ہے جن کی کمزوریاں اس سورة میں شروع سے زیر بحث ہیں۔ ان کو آخر میں گویا اس حقیقت الحقائق کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جس سے غفلت نفس کی تمام بیماریوں کی جڑ اور جس کی یادداشت ہی انسان کی تمام عقلی و روحانی اور اخلاقی بیماریوں کا واحد علاج ہے۔ فرمایا کہ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اپنے رب سے ڈرتے اور اپنے اعمال کا برابر جائزہ لیتے رہو کہ کل جو روز حساب آنے والا ہے اس کے لیے تم نے کیا تیاری کی ہے۔ ڈرتے رہو کی تاکید اس لیے فرمائی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑا رہے کہ یہ دنیا کوئی کھیل تماشا ہے جو یوں ہی ختم ہوجائے گا۔ یہ یوں ہی نہیں ختم ہوگا بلکہ اسکے بعد جزا و سزا بھی ہے جو لازمی ہے۔ روز قیامت کو لفظ ’ غد ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مقصود اس کے قرب اور اس کی قطعیت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے میں دفع الوقتی سے کام نہ لو کہ ابھی بہت دن پڑے ہیں۔ جب وقت قریب آجائے گا تو دیکھ لیں گے۔ وہ دن دور نہیں ہے جس طرح آج کے بعد کل ہے اسی طرح اس کو بھی آیا ہی سمجھو۔ (واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون) معاملہ کی اہمیت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے (اتقوا اللہ) کو پھر دہرایا اور اس کے بعد اس حقیقت کو یاددہانی فرمائی کہ اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ خدا تمہارے کسی عمل سے بیخبر ہے۔ وہ تمہارے ایک ایک قول و فعل سے واقف ہے اس وجہ سے سلامتی اسی میں ہے کہ جو کچھ کرو یہ پیش نظر رکھ کرو کہ تمہارے یہ عمل خدا کے علم میں رہے گا اور ایک دن تمہیں اس کی جزا یا سزا ملنی ہے۔
Ayah 59:19

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جائو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے ان کو خود ان کی جانوں سے غافل کردیا یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔

(ولا تکونو گا لذین نسوا اللہ فانسھم انفسھم اولیک ھم الفسقون) (19)۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح نہ بن جائو جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو خود ان کے انجام سے غافل کردیا۔ (گا لذین نسو اللہ) سے اشارہ یہود کی طرف ہے۔ یہود ہی ان منافقین کے مرشد تھے قرآن نے ان کو آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کی طرح اگر تم بھی خدا کو بھلا بیٹھے تو یاد رکھو کہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ و گے بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔ (جو خدا کو بھلا دیتے ہیں وہ خود اپنے کو بھلا دیتے ہیں)۔ (فانسھم انفسھم) میں ایک بڑی اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو لوگ خدا کو بھلا دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے خیر و شر اور اپنی عاقبت سے بالکل بےپرواہ ہوجاتے ہیں۔ زندگی کی ساری قدر و قیمت اور اس کا سارا اشرف و جمال اس حقیقت کے سمجھنے پر منحصر ہے کہ خالق نے اس کو محض چند روزہ عیش دنیا کے لیے نہیں بنایا ہے بلکہ اس لیے بنایا ہے کہ انسان اس کو خدا کے احکام کے تحت گزار کر اپنے کو ابدی بادشاہی کا سزا دار بنائے۔ یہ معراج ظاہر ہے کہ اسی کو حاصل ہوگی جو ہمیشہ اس حقیقت کو یاد رکھے کہ یہ زندگی اس کو اتفاقہ نہیں مل گئی ہے بلکہ ایک بخشنے والے کی بخشی ہوئی ہے اور اس نے ایک خاص مقصد سے یہ اس کو بخشی ہے۔ اگر اس مقصد کے تحت میں اس کو گزاروں گا تب تو یہ عظیم ابدی نعمت ہے اور اگر اس مقصد کو بھلا بیٹھا تو یہ آپ سے آپ ایک ابدی لعنت بن جائے گی۔ (اولیک ھم انفسقون) فرمایا کہ خدا کے اصل نافرمان یہی لوگ ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلایا تو خدا کے ساتھ اپنی زندگی کے تعلق کی نوعیت بھی بھول بیٹھے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خدا کے بالکل ہی نافرمان بن گئے۔ اس سے خدا کی یاد کی حقیقت بھی واضح ہوئی کہ اس کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی اس تعلق کی نوعیت کو ہمیشہ اپنے سامنے مستحضر رکھے جو اس کے اور اس کے رب کے مابین ہے۔ اسی کے استحضار سے یہ یاد زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو یہ یاد کچھ نتیجہ خیز نہیں ہوتی بلکہ یہ بالکل رسمی سی چیز بن کے رہ جاتی ہے جس کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوتا ہے۔
Ayah 59:20

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

دوزخ میں پڑنے والے اور جنت میں جانے والے یکساں نہیں ہوں گے۔ جنت والے ہی کامیاب ہونے والے بنیں گے۔

(ایک نہایت اہم حقیقت)۔ (لا یستوی اصحب النار واصحب الجنۃ اصحب الجنۃ ھم الفائزون) (20) یہ ایک اور نہایت اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے جس کو پیش نظر رکھنا زندگی کی حقیقی قدر و قیمت سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان جو فرق ہوگا وہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو اہمیت نہ دی جائے۔ آج خواہشات نفس سے مغلوب ہو کر اگر کوئی جنت اور دوزخ کے تفاوت کو محسوس نہیں کر رہا ہے تو اس کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دونوں میں صرف ڈگری کا فرق نہیں ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں اہل دوزخ کی زندگی پر بھی قناعت کی جاسکے۔ بلکہ دونوں کے درمیان ابدی نقمت اور ابدی رحمت کا فرق ہوگا۔ فوز و فلاح صرف اہل جنت کے لیے خاصل ہوگی۔ اہل دوزخ کے لیے لعنت اور عذاب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر اس قرآن کو ہم کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ خشیت الٰہی سے پست اور پاش پاش ہوجاتا اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔

(لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون) (21)۔ (ایک طیغ تمثیل)۔ یہ ان منافقین کو زجرو ملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمام حجت کا تعلق ہے اللہ نے تمہارے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ قرآن ایسی چیز ہے کہ اگر پہاڑ جیسی سخت اور بےحس چیز پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت ِ الٰہی سے سرفگندہ اور پاش پاش ہوجاتا لیکن تم ایسے سنگ دل اور ٹھس ہو کر تمہارے دل ذرا بھی اس سے متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ (وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرون) فرمایا کہ یہ تمثیلیں ہم اس لیے بیان کر رہے ہیں کہ لوگ اپنے حال پر غور کریں کہ اگر ایسی موثر چیز بھی ان کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہے تو اس میں قصور اس شے کا نہیں بلکہ صرف ان کے دلوں کی قساوت کا ہے اور پھر وہ اس معاملے پر بھی غور کریں کہ جب ان کے دلوں کی قساوت اس درجہ بڑھ گئی ہے تو ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ان کے دلوں پر بھی اسی طرح مہر کر دے جس طرح اس نے یہود کے دلوں پر کردی۔ یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔ ہم بعض مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ اس کا اصل رخ نگاہوں کے سامنے آجائے۔ سورة بقرہ میں یہود کے متعلق فرمایا ہے : (ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃًط وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُط وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُط وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہ ِط وَمَا اللہ ُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ (البقرۃ : 2، 74)۔۔۔ (پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو کر پتھر کے مانند بن گئے بلکہ اس سے بھی سخت اور پتھروں میں سے تو بعض ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ پڑتی ہیں اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہوجاتا ہے اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کی خشیت سے گر پڑتے ہیں اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔) اسی طرح سورة حدید میں انہی منافقین سے متعلق فرمایا ہے جن سے یہاں بحث ہے۔ (الم یان لللذین امنوا ان تشخع قلوبھم لذکر اللہ وما نزل من الحق ولا یکونوا گا لذین اوتو الکتب من قبل فطال علیھم الا مد فقست قلوبھم وکثیر منھم فسقون (الحدید : 57، 16)۔۔۔۔ (کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ابھی وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاددہانی اور جو حق نازل ہوا ہے اس کے آگے ان کے دل جھک پڑیں اور وہ ان لوگوں کی طرح ہو کے نہ رہ جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تو ان پر ایک مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہو کے رہ گئے اور ان میں سے بہتیرے نافرمان ہیں۔) استاذ امام ؒ کے بعض اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس آیت کو (انا عرضنا الا مانۃ علی السموات والارض والجبال فا بین ان یحملنھا واشفن منھا وحملھا الانسان انہ گان ظنوما جھولا (الاحزاب : 33، 72) (اور ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈرے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بیشک وہ ظلم کرنے والا اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والا ہے)۔ کی روشنی میں لیتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ اسی کے ایک پہلو کی وضاحت اس کی روشنی میں بھی ہوتی ہے لیکن البقرۃ اور الحدید کی مذکورہ بالا آیات سے اس کا ہر پہلو واضح ہوجاتا ہے۔ قرآن نے اس کو تمثیل سے تعبیر فرمایا ہے۔ تمثیل میں مبالغہ یا تخییل کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک معنوی حقیقت ایک مادی پیرایہ بیان میں ممثل ہو کر سامنے آگئی یا نہیں۔ اس پہلو سے دیکھتے تو معلوم ہوگا کہ یہ تمثیل ایک نہایت ہی اعلیٰ اور بلیغ تمثیل ہے۔ (لرایتہ) میں خطاب عام بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کا مخاطب اگر نبی ﷺ کو مانیے تو ایس آیت کے اندر حضور ﷺ کے لیے بہت بڑی تسلی بھی ہے کہ اگر تمہاری دعوت سے یہ لوگ متاثر نہیں ہو رہے ہیں تو اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ جو قرآن تم ان کو سنا رہے ہو یہ تو وہ چیز ہے کہ اگر کسی پہاڑ پر بھی اتا را جاتا تو وہ بھی اللہ کی خشیت سے سرنگوں اور دو نیم ہوجاتا لیکن ان لوگوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں کہ وہ اس سے کوئی اثر نہیں لے رہے ہیں۔
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب و حاضر کا جاننے والا، وہ رحمان و رحیم ہے

(ھواللہ الذی لا الہ الا ھو علم الغیب والشھادۃ ھو الرحمن الرحیم)۔ (22)۔ (صفات ِ الٰہی کا حوالہ)۔ اوپر کی آیت میں جب اللہ تعالیٰ کی خشیت کا ذکر آیا تو اس آیت میں اور آگے کی آیات میں اس کے وہ اسمائے حسنیٰ بیان کردیئے گئے جن کی حیثیت بنیادی اسماء کی ہے تاکہ مومنین، کفار اور منافقین سب کو معلوم ہوجائے کہ جس رب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ کن اوصاف کا مالک ہے۔ انہیں کس طرح اس سے ڈرنا چاہیے، کس قدر اس سے محبت کرنی چاہیے، کس طرح اس سے امید کرنی چاہیے، کس طرح اس پر بھروسہ کرنا چاہیے اور کس طرح اس کے لیے جینا اور اسی کی راہ میں مرنا چاہیے۔ فلسفہ دین کی یہ حقیقت ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ تمام دین و شریعت کی بنیاد در حقیقت اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے مقتضات ہی پر ہے۔ قرآن میں (الحمد) سے لے کر (والناس) تک جو کچھ بیان ہوا ہے وہ تمام تر صفات ِ الٰہی کے مظاہرو انوار اور ان کے تقاضوں ہی کا بیان ہے۔ انہی سے دین کا فلسفہ وجود میں آیا ہے اور انہی سے دین کے مظاہر و اشکال بھی ظہورپذیر ہوئے ہیں اس وجہ سے ان کا سمجھنا ضروری ہے لیکن ان کو سمجھنے کے لیے پورے قرآن کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں ہم بالا جمال صرف ان پہلوئوں کی طرف اشارہ کریں گے جن سے ان صفات کے ابتدائی تقاضوں کے سمجھنے میں مدد ملے۔ (ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو) سب سے پہلے اپنی الوہیت کی یاددہانی فرمائی اور ساتھ ہی اس بات کی کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اس وجہ سے امید وہم دونوں حالتوں میں بندوں کو اسی سے رجوع کرنا چاہیے اس کے سوا کوئی اور حق دار نہیں ہے کہ اس کو معبود مانا جائے یا اس کی پرستش کی جائے یا اس کو مرجع سمجھ کر اس سے امیدیں وابستہ کی جائیں۔ (علم الغیب والشھادۃ) وہ غائب و حاضر دونوں کو جاننے والا ہے۔ لفظ غیب یہاں بندوں کے لحاظ سے استعمال ہوا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہر چیز شہادت (حاضر) کے حکم میں داخل ہے۔ اس صفت کے اندر امید وہم دونوں کے پہلو ہیں۔ ہم کا پہلو یہ ہے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے۔ خواہ سرایا علانیہ ً ، وہ اللہ کے علم میں ہے اور جب سب کچھ اس کے علم میں ہے تو وہ لازماً ایک ایک چیز سے متعلق بازپرس کرے گا۔ پھر نہ تو کوئی اپنے کسی قول و فعل کو چھپا سکے گا اور نہ اس کا کوئی سفارشی خدا کے سامنے اس کے باب میں کوئی غلط بیانی کرسکے گا۔ امید کا پہلو اس میں یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کے ہر غائب و حاضر سے واقف ہے تو اس کو اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے اور اپنی ہر درخواست اسی کے آگے پیش کرنی چاہیے۔ (ھو الرحمن الرحیم، رحمن) اور (رحیم) کے فرق پر آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کے تحت ہم بحث کرچکے ہیں۔ صفت (رحمان) کے اندر رحمت کے جوش کا اور (رحیم) کے اندر رحمت کی پائیداری کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ ان صفات کے اندر بھی غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ امید وہم دونوں کے پہلو موجود ہیں۔ امید کا پہلو تو واضح ہے کہ جب خدا رحمان بھی ہے اور رحیم بھی تو اس سے کسی ظلم یا ناانصافی کا کوئی اندیشہ نہیں ہوسکتا کہ اسکے ہاں کسی سفارشی کی ضرورت پیش آئے۔ اس نے جو کچھ کچھ کیا ہے اور جو کچھ کرے گا رحمت ہی کے لیے کیا ہے اور رحمت ہی کے لیے کرے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ بیم کا پہلو اس میں یہ ہے کہ جب خدا رحمان اور رحیم ہے تو وہ کسی کے ظلم کو گوارا نہیں کرے گا بلکہ ہر شخص کے ظلم کا لازماً بدلہ لے گا، چناچہ یہی وجہ ہے کہ اس نے قرآن میں جگہ جگہ قیامت کو اپنی صفت رحمت ہی پر مبنی کیا ہے کہ یہ اس کی رحمت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ قیامت لائے تاکہ ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کرے۔ (کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ) (الانعام : 6 : 13)
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بادشاہ، یکسر پاک، سراپا سکھ، امن بخش، معتمد، غالب، زور آور، صاحب کبریا، اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

(ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلم المومن المھیمن العزیز الجبار والمتکبر سبحن اللہ عما یشرکون) (23)۔ اس آیت میں پہلے تو اسی ٹکڑے کا اعادہ ہے جو اوپر والی آیت میں گزرا جس سے معلوم ہوا کہ شرک کی نفی اور توحید کا اثبات یہاں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ مد نظر ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ خدا کی صفات کے باب میں ساری گمراہی شرک ہی سے پیدا ہوتی ہے اور جب ان صفات ہی پر، جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، تمام دین و شریعت کی بنیاد ہے، تو ضروری ہوا کہ اس بنیاد پر کجی کے ہر امکان کا سدباب کردیا جائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے حتی میں سے آٹھ اسماء اتصال کے ساتھ بیانے ہوئے ہیں یعنی ان کے درمیان کوئی حرف عطف نہیں ہے۔ ہم عربیت کے اس قاعدے کی وضاحت اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ جب صفات اس طرح بغیر حرف عطف کے آئیں تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ یہ تمام صفات موصوف میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ (الملک) یعنی وہ بادشاہ ہے اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے اور وہی بلاشرکت غیرے اس کا مالک اور حکمران ہے۔ چناچہ اس نے اپنے اسی حق کی بناء پر اپنے رسول بھیجے تاکہ وہ اس کے بندوں کو اس کے احکام سے آگاہ کریں اور بندے ان کی تعمیل کر کے اپنے بادشاہ حقیقی کی خوشنودی حاصل کریں۔ (القدوس) وہ ہر عیب ہر نقش اور برائی و خرابی سے بالکل پاک و منزہ ہے اس وجہ سے اس نے اپنے بندوں کو پاکیزہ بنانے کے لیے کتاب اتاری اور رسول بھیجے تاکہ بندے پاکیزہ بن کر اس کا قرب حاصل کرنے کے اہل بن سکیں۔ سورة جمعہ میں (ملک) اور (قدوس) دونوں صفتوں کا حوالہ دے کر ان کا مقتضی واضح فرمادیا ہے۔ پہلے اپنی صفات کا حوالہ ان الفاظ میں دیا (الملک القدوس العزیز الحکیم) (1) اس کے بعد اپنی ان صفات کا مقتضی اس طرح واضح فرمایا (ھو الذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ و یزکیھم) (2) (وہی ہے جس نے اٹھایا امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو اس کی آیتوں کی تلاوت اور ان کا تزکیہ کرتا ہے) غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ رسول اور کتاب تو اس نے اسے لیے بھیجے کہ وہ بادشاہ ہے، اس کے بادشاہ ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اپنی رعیت کے پاس اپنے سفیر بھی بھیجے اور اپنے احکام بھی اور اپنے بندوں کا تزکیہ اس وجہ سے اس نے چاہا کہ وہ قدوس اور پاک ہے۔ وہ یہ نہیں پسند کرسکتا کہ اس کے بندے گناہوں میں آلودہ رہیں۔ آگے عزیز اور حکیم کی صفتوں کے تقاضے بھی بیان ہوئے ہیں جن کی وضاحت ان کے محل میں انشاء اللہ آئے گی۔ (السلم) کے معنی سلامتی، سکھ اور چین کے ہیں۔ کسی کو سلامتی کو دعا دینی ہو تو ہم یہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن میں لیلۃ القدر کے متعلق فرمایا ہے (سلم ھی حتی مطلع الفجر) (القدر : 970، 5) (اس میں سلامتی ہی سلامتی ہے، وہ طلوع فجر تک ہے) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے ہر آفت اور ہر خطرے سے امان اور سپر ہے۔ بندہ جب اپنے کو اس کو پناہ میں دے دیتا ہے تو وہ سکھ اور چین پاتا ہے۔ اس کی اسی صفت کا فین ہے کہ اس کی یاد دلوں کو سکینت و طمانیت بخشتی ہے۔ (الا بذکر اللہ تطمن تقلوب) (الرعد : 13، 28) (سن لو کہ اللہ ہی کی یاد سے دلوں کی طمانیت حاصل ہوتی ہے۔) (المومن) کے معنی ہیں امان دینے والا یعنی شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے حملے سے بچنے کے لیے جب بندہ اس کی پناہ ڈھونڈتا ہے تو وہ اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ یہ پناہ اس کے سوا اور کہیں بھی بندے کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ شیطان کی رسائی خدا کے دامن کے سوا ہر جگہ ہے۔ (المھیمن) کے معنی خلیل اور ابو عبیدہ کے نزدیک نگران کے ہیں۔ ابن الابناری کے نزدیک (القائم علی الناس) یعنی لوگوں کے محافظ کے ہیں۔ امام فراہی ؒ کے نزدیک اس کے معنی معتمد اور وکیل کے ہیں۔ میرے نزدیک ان معانی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ جو محافظ و نگران ہوتا ہے وہی در حقیقت معتمد اور وکیل ہوتا ہے۔ قرآن بھی (مھیمن) ہے اس لیے کہ تمام آسمانی صحیفوں کے لیے قابل اعتماد کسوٹی وہی ہے۔ (العزیز) کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس کے اندر رسائی سے بالا تر اور دست رسی سے مافوق ہونے کا مفہوم بھی ہے اور غالب و قوی ہونے کا بھی یعنی اس پر کوئی حاوی نہیں ہوسکتا، وہ سب کو شکست دے سکتا ہے۔ (الجبار) کے معنی زور آور اور تگڑے کے ہیں۔ عربی میں یہ لفظ کھجور کے ان درختوں کے لیے بھی آتا ہے جو غیر معمولی طور پر اونچے ہوں۔ قرآن میں یہ ان زور آوروں کے لیے بھی آیا ہے جن سے ڈر کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے فریاد کی تھی کہ (وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَا حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْہَاج فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْہَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ۔) (المائدۃ : 5، 22) (اس بستی میں بڑے ہی زور آور اور تگڑے لوگ ہیں، جب تک وہ اس میں ہیں، ہم اس میں داخل ہونے کا حوصلہ نہیں کرسکتے)۔ یہ صفت ان تمام تصورات الوہیت کی نفی کرتی ہے جن میں ساری اہمیت دیویوں کو دی گئی ہے۔ (المتکبر) کے معنی ہیں اپنی بڑائی اور برتری کا احساس رکھنے والا، یہ احساس اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے اندر ہو تو باطل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی ایسی بڑائی حاصل نہیں ہے جو اس کی ذاتی ہو بلکہ جس کو بھی کوئی بڑائی حاصل ہے وہ اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے لیے تکبر زیبا اور بر حق ہے اس لیے کہ اس کی بڑائی ذاتی اور ازلی و ابدی ہے۔ اسکے اس احساس ہی کا یہ اثر ہے کہ وہ اپنی خدائی اور بادشاہی ہی کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے اس شعور کی تعبیر دوسرے آسمانی صحیفوں میں یوں کی گئی ہے کہ تمہارا خداوند خدا غیور ہے۔ جس طرح تم یہ گوارا نہیں کرتے کہ تمہاری بیوی کسی غیر کی بغل میں سوئے اسی طرح وہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ اس کا بندہ کسی غیر کی بندگی کرے۔ میرے نزدیک قرآن نے جو مضمون لفظ متکبر سے ادا کیا ہے دوسرے آسمانی صحیفوں میں وہی مضمون ’ غیور ‘ سے ادا کیا گیا ہے۔ (سبحن اللہ عما یشرکون) یعنی کہاں اللہ تعالیٰ کی یہ صفات جمال و کمال اور کہاں ان مشرکوں کے یہ مرضی دیوی دیوتا ! دونوں میں کیا نسبت ! ! جو خدا ان صفات سے متصف ہے، وہ اس سے ارفع ہے کہ اس کے ساتھ اس طرح کی چیزوں کا جوڑ ملایا جائے۔ اگر اس طرح کا کوئی جوڑ اس کے ساتھ ملایا جائے گا تو اس کی دوسری بنیادی صفات اس کو قبول کرنے سے ابلد کریں گی اور اگر زبردستی اسی کو چپکانے کی کوشش کی گئی تو اس کی صفات میں بےربطی پیدا ہوجائے گی۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ ہے نقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا، صورت گری کرنے والا۔ اسی کے لیے ساری اچھی صفتیں ہیں۔ اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ غالب و حکیم ہے۔

(ھو اللہ الخالق لباری المصورلہ الاسماء الحسنی یسبح لہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم) (24) یعنی یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کے وجود کے تمام مراحل کو طے کراتا ہے۔ وہی ہر چیز کا خاکہ تیار کرتا ہے۔ وہی پھر اس کو جود بخشتا ہے پھر وہی اس کی صورت گری کرتا اور نوک پلک سنوارتا ہے۔ ان میں سے کسی مرحلہ میں نہ وہ کسی سے طالب مدد ہوتا نہ کوئی اس کا ہاتھ بٹایا یا بٹا سکتا ہے تو آخر کوئی دوسرا اس کا کسی چیز میں بھی شریک کس طرح بن جائے گا ! ہر وجود کے اندر یہی تین اولین مرحلے پیش آتے ہیں۔ پہلا مرحلہ اس کے ڈیزائن کا ہوتا ہے جس کے لیے عربی میں لفظ (خلق) ہے۔ دوسرا مرحلہ اس کو وجود میں لانے کا ہے اس کے لیے لفظ ’ برء ‘ ہے۔ تیسرا مرحلہ اس کی نوک پلک سنوارنے کا ہے اس کے لیے لفظ تصویر ہے۔ اگر ہر شے کے یہ تینوں مرحلے اللہ طے کراتا ہے تو وہی ہر ایک کی تسبیح اور بندگی کا حق دار ہے۔ (لہ الاسماء الحسنی) یعنی یہ توحید بنیادی صفات ہیں جو بیان ہوئی ہیں، ان کے علاوہ جتنی بھی اچھی صفتیں ہیں ان سب کا حقیقی موصوف وہی ہے۔ لفظ اسماء یہاں صفات کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جتنے بھی نام ہیں وہ سب اس کی کسی نہ کسی صفت ہی کو تعبیر کرتے ہیں۔ (یسبح لہ ما فی السموات والارض) چونکہ ہر چیز کے وجود کے تمام مراحل اللہ تعالیٰ ہی نے طے کرائے ہیں اس وجہ سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی تسبیح کرتی ہے۔ انسان اگر اختیار سے بہرہ مند ہونے کے سبب سے اس سے اعراض کرتا ہے تو یہ اس کی حق شناسی اور سرکشی ہے۔ اس کے لیے بھی صحیح رویہ یہی ہے کہ وہ اپنے رب ہی کی تسبیح و بندگی کرے، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔ (وھو العزیز الحکیم)۔ یہ آخر میں اپنی ان صفات کی پھر یاد دہانی کرا دی جن سے سورة کا آغاز فرمایا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ عزیز ہے اس وجہ سے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو انسان بھی اسی طرح مجبورا نہ اپنے رب کی بندگی اور تسبیح کرتا جس طرح ساری کائنات کر رہی ہے لیکن وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اس نے یہ چاہا کہ وہ انسان کو اختیار دے کر آزمائے کہ وہ یہ شرف پا کر اپنے رب کا حق پہچانتا ہے یا شیطان کا مرید بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی ذلک)۔ (رحمان آباد۔ 3، فروری 1978 ء۔ 23 صفر 1398 ھ۔