Ayah 58:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا وتشتکی الی اللہ واللہ یسمع تحاور کما ان اللہ سمیع بصیر (1)
(سن قبول کرنے کے معنی میں)۔ (قد سمیع اللہ) کے معنی موقع کلام دلیل ہے کہ یہاں صرف سن لینے کے نہیں بلکہ قبول کرلینے کے ہیں۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں بھی معروف ہے بلکہ ہماری زبان میں بھی سننا قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ (تجاد لک) سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن خاتون کا واقعہ یہاں مذکور ہے ان کو اپنا معاملہ پیش کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بار بار حاضر ہونا پڑا۔
(مجادلۃ کا مفہوم)۔ مجادلۃ قرآن میں اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ برے معنی اس کے کٹ حجتی کرنے اور جھگڑنے کے ہیں اور اچھے معنی اس کے کسی سے اپنی بات محبت، اعتماد، حسن گزارش، تدلل اور اصرار کے ساتھ منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اس میں جھگڑنا تو بظاہرہوتا ہے لیکن یہ جھگڑنا محبت اور اعتماد کے ساتھ ہوتا ہے جس طرح چھوٹے اپنی کوئی بات اپنے کسی بڑے سے، اس کی شفقت پر اعتماد کر کے منوانے کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اس مجادلہ محبت کی بہترین مثال سیدنا ابراہیم ؑ کا وہ مجادلہ ہے جو انہوں نے قوم لوط کے باب میں اپنے رب سے کیا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ نے نہایت تعریف فرمائی ہے۔ اس کی تفصیل ہم اس کے محل میں پیش کرچکے ہیں۔ یہاں ان خاتون کے سب جس مجادلہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت بالکل یہی ہے۔ اردو میں اس کا مفہوم ادا کرنے کے لیے کوئی موزوں لفظ سمجھ میں نہیں آیا اس وجہ سے میں نے ترجمہ جھگڑنا ہی کیا ہے لیکن یہ جھگڑنا خاص مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے بشرطیکہ آدمی موقع و محل کو ملحوظ رکھ سکے۔
(جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کی نوعیت)۔ آیت میں جن خاتون کی طرف اشارہ ہے روایات میں ان کا نام خولہ بنت ثعلبہ ؓ آیا ہے۔ ان کے شوہر اوس بن صامت ؓ انصاری تھے۔ ایک مرتبہ غصہ میں آ کر وہ بیوی کو کہہ بیٹھے کہ (انت علی کظھر امی) (اب تجھ کو کبھی ہاتھ لگایا تو گویا اپنی ماں کی پیٹھ کو ہاتھ لگایا) زمانہ جاہلیت میں بیوی کو اس طرح کی بات کہہ دینے سے ایسی طلاق پڑجاتی جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے جدا ہوجاتی، اس وجہ سے حضرت خولہ ؓ کو سخت پریشانی پیش آئی کہ اس عمر میں شوہر اور بچوں سے جدا ہو کر کہاں جائیں ! بالآخر انہوں نے معاملہ نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا اور باصرار و بالحاح آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کی اس پریشانی کا کوئی حل بتائیں۔ آپ کے سامنے وحی الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اس مارے میں موجود نہیں تھی اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جواب میں کچھ توقف فرمایا جس کے سبب سے ان کو بار بار اپنے معاملے کی طرف حضور ﷺ کو توجہ دلانی پڑی۔
الفاظ قرآن سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بھی کچھ مدافعت کی۔ حضرت اوس ؓ کے مزاج ہیں، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، کچھ تیزی تھی جس کے سبب سے غصہ میں ان کی زبان سے ایک نار وافقرہ نکل گیا۔ مقصد ہرگز بیوی کو طلاق دینا نہیں تھا اس وجہ سے میاں بیوی دونوں کو سخت پریشانی پیش آئی۔ حضرت خولہ ؓ نے یہ صورت حال بھی حضور ﷺ کے سامنے رکھی ہوگی تاکہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ فقرہ کہتے ہوئے ان کے شوہر کے ذہن میں طلاق کا کوئی خیال موجود نہ تھا محض اشتعال میں ایک فقرہ بلا قصدان کی زبان سے نکل گیا۔
(ایک سوال کا جواب)۔ ظہار کا ذکر سورة احزاب میں بھی آیا ہے، لیکن بالکل ضمناً صرف اتنا آیا ہے کہ (وما جعل ازواجکم الی تظھرون منھن امھتکم) (الاحزاب : 33، 4) (اور تمہاری وہ بیویاں جن سے تم ظہار کرتے ہو خدا نے ان کو تمہاری مائیں نہیں بنایا ہے) لیکن اول تو یہ ضروری نہیں کہ سورة احزاب سورة مجادلہ سے پہلے نازل ہوئی ہو۔ دوسرے نازل ہوئی بھی ہو تو اس سے صرف اتنی ہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ظہار سے کسی کی بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ یہ نہیں واضح ہوتا کہ کوئی شخص یہ حرکت کر بیٹھے تو اس سے اس کے اوپر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کی تلافی کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس وجہ سے حضور ﷺ کے سامنے سورة احزاب والی آیت رہی بھی ہو جب بھی آپ حضرت خولہ ؓ کے معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ اسی صورت میں فرما سکتے تھے۔ جب وحی الٰہی آپ کی رہنمائی فرمائے۔ چناچہ آپ نے وحی الٰہی کے انتظار میں توقف فرمایا یہاں تک کہ ان خاتون کے اس شکوہ و مجادلہ کی برکت سے نہ صرف ان کے لیے بلکہ اللہ کے بیشمار بندوں اور بندیوں کے لیے جاہلیت کی ایک بےہودہ رسم کے عواقب سے چھوٹنے کی ایک نہایت مبارک راہ کھل گئی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرماکر ان کو اور ان کے اس مجادلہ کو زندہ جاوید بنا دیا اور لوگوں کو سبق دیا کہ جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آئے انہیں اس مومنہ خاتون کی طرح اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرنی چاہیے، منافقوں کی طرح اس کو نکتہ چینی، سرگوشی اور اللہ و رسول کے خلاف محاذ آرائی (محاوہ) کا بہانہ نہیں بنا لینا چاہیے۔
(ہر مشکل کی کلیدی اللہ تعالیٰ سے استعانت)۔ (واللہ یسمع تحاور کما) یعنی یہ شکوہ و مجادلہ چونکہ خاص اللہ تعالیٰ ہی سے تھا اس وجہ سے وہ خاص توجہ و مہربانی سے اس کو سنتا رہا چناچہ اس نے اپنی اس بندی کی مشکل حل کرنے کی راہ کھول دی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جو لوگ اپنی کوئی مشکل اپنے رب سے عرض کرتے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہایت توجہ و شفقت سے سنتا ہے۔ وہ سمیع وبصیر ہے اور جب وہ سنتا ہے اور ہر چیز کی قدرت بھی رکھتا ہے تو بندہ اس سے مایوس و بدگمان کیوں ہو۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ دنیوی و مادی مشکلات کی طرح روحانی و عقلی الجھنوں سے نکلنے کی بھی سب سے زیادہ کامیاب راہ یہی ہے کہ آدمی اس کو اپنے رب کے آگے پیش کرے۔ بسا اوقات کوئی ایسی علمی و عقلی مشکل پیش آجاتی ہے جس کا حل کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور اس سے دین کے معاملے میں شکوک پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں آدمی اگر اپنی مشکل اپنے رب کے آگے پیش کرے اور اس سے ہدایت کا طالب ہو تو انشاء اللہ اس کو شرح صدر حاصل ہوجائے گا بشرطیکہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے استعانت کرے۔ طالبین حق کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے لیکن جو لوگ سفلہ اور جلد باز ہوتے ہیں وہ یہ راہ اختیار کرنے کے بجائے یا تو اپنے اوہام و شکوک ہی کو دین بنا لیتے ہیں یا ان کو دین پر نکتہ چینی کا ذریعہ بنا کر اس کے خلاف محاذ آرائی شروع کردیتے ہیں جس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جس کا ذکر اسی سورة میں آگے تفصیل سے آئے گا۔
Ayah 58:2(الذین یظھرون منکم من نساء ھم ما ھن امھتھم ان امھتھم الا الی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزورا وان اللہ لعفو غفور (2)۔
(ظہار اور اس کا شرعی حکم)۔ اس سلسلہ میں پہلی اصولی بات یہ فرمائی کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو اس طرح کی کوئی بات کہہ بیٹھتے ہیں اس سے ان کی بیویاں ان کی مائوں کے حکم میں نہیں داخل ہوجاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ ان کو جو حرمت حاصل ہوئی ہے وہ جننے کے تعلق سے حاصل ہوئی ہے جو ایک فطری اور راہدی حرمت ہے یہ چیز کسی دوسری عورت کو مجرد اس بنیاد پر نہیں حاصل ہوجائے گی کہ ایک شخص نے اس کو یا اس کے کسی عضو کو اپنی ماں یا اس کے کسی عضو سے تشبیہ دی۔ اس طرح کی بات کسی نے کہی ہے تو اس کی بات بھونڈی اور جھوٹی ہے جس پر وہ تنبیہ و تادیب کا مستحق ضرور ہے لیکن اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوجائے گی۔ (وان اللہ لعفو عفور) یعنی اس طرح کی منکر اور خلاف حقیقت بات اشتعال میں آ کر کوئی مسلمان اپنے منہ سے نکال بیٹھا پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تو اللہ تعالیٰ در گزر فرمانے والا اور معاف کرنے والا ہے چناچہ اس معاملے میں بھی چونکہ غلطی کے مرتکب کو اپنی غلط کا پورا پورا احساس ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے در گزر فرمایا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جاہلیت میں عربوں نے جس طرح منہ بولے بیٹوں کو بالکل صلبی بیٹوں کا درجہ دے رکھا تھا اسی طرح ظہار کے معاملے میں بھی ان کا رویہ نہایت متشددانہ تھا۔ کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کی بات کہہ گزرتا جس کا حوالہ اوپر گزرا تو رواج عام اس کی بیوی کو فی الواقع اس کی ماں ہی کی طرح حرام بنا دیتا۔ مجال نہیں تھی کہ کوئی شخص ظہار کے بعد بیوی سے زن و شو کا تعلق قائم کرسکے۔ کوئی اس طرح کی جسارت کرتا تو لوگ اس کو بالکل اسی نگاہ سے دیکھتے گویا اس نے اپنی ماں کو نکاح میں رکھ چھوڑا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے اس طرح کی خلاف فطرت باتوں کی اصلاح کرتے ہوئے ہر جگہ اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فطرت کے قانون میں جس چیز کے لیے جو جگہ ہے اس کو اسی جگہ رکھو۔ اس میں رد و بدل کر کے دین فطرت کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ سورة احزاب کی تفسیر میں یہ بحث تفصیلی سے گزر چکی ہے۔ یہاں بھی اس رسم بد کی اصلاح کرتے ہوئے معترضین کا منہ بند کرنے کے لیے پہلے ہی یہ بات واضح فرما دی کہ اس طرح کی ناروا باتوں سے فطرت کے قوانین نہیں بدل جاتے۔ بیوی محض کسی شخص کی ایک جھوٹ بات کی وجہ سے اس کی ماں نہیں بن جائے گی۔
(ایک نحوی سوال)۔ (ما ھن امھتھم) میں ایک سوال (امھتھم) کے اعراب سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس کو نصب کیوں ہے ؟ میرے نزدیک یہاں ما معنی میں لیس کے ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں موجود ہیں، مثلاً سورة حاقہ میں فرمایا ہے (فما منکم من احد عند حجزین) (47) (تو کوئی بھی تم میں سے اس کو بچانے والا نہیں بنے گا)۔
Ayah 58:3(والذین یظھرون من نسائھم ثم یعودون لما قالوا فتحریررقبۃ من قبل ان یتعاسا ذلکم تو عظون بہ واللہ بما تعملون خیبر (3)۔
(ظہار کا کفارہ)۔ یہ اس کا حل بتایا ہے کہ جو شخص اپنی سے ظہار کر بیٹھے پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹنا چاہے جس کو اس نے حرام ٹھہرایا تو اس کو اس سے پہلے کفارہ کے طور پر ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔ یعنی اس کی بیوی اس کے ظہار کے سبب سے اس کی ماں کی طرح حرام تو نہیں ہوجائے گی لیکن چونکہ نکاح و طلاق کے اثرات معاشرتی زندگی پر نہایت دور رس ہوتے ہیں اس وجہ سے اس معاملے میں جدوہزل دونوں ہی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ ایسے شخص کو کچھ تنبیہ و تادیب کی جائے، تاکہ وہ بھی آئندہ احتیاط کی روش اختیار کرے اور دوسروں کو بھی اس سے سبق حاصل ہو، چناچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے۔ یہاں لفظ رتبۃ آیا ہے جس کے معنی گردن کے ہیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ غلام یا لونڈی کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ بعض فقہاء نے تو مسلم اور غیر مسلم کی کوئی قید بھی ضروری نہیں سمجھی ہے۔ دونوں میں سے جو بھی میسر ہو اس سے کفارہ ادا ہوجائے گا بس اتنی بات ہے کہ مسلم غلام میسر ہو تو اس کو ترجیح حاصل ہوگی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ غلام کی آزادی کو مقدم رکھا ہے۔ اگر غلام میسر نہ آئے تو دوسری متبادل شکلیں، جو آگے مذکور ہیں۔ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جس کا اظہار ہم نے سورة نور کی تفسیر میں کیا ہے کہ اسلام نے اپنے نظام میں غلام کی آزادی کی نہایت وسیع راہیں کھول دی تھیں یہاں تک کہ بہت سے چھوٹے بڑے گناہوں کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا قرار دے دیا تاکہ اس مہم کو ہر پہلو سے تقویت حاصل ہو۔
(منکر بات کا ذکر ابہام کے ساتھ)۔ (ثم یعودون لما تالوا) میں تھوڑا سا ابہام ہے۔ اس ابہام کی وجہ یہ ہے کہ جس بات کی طرف اشارہ ہے وہ بالبداہت بھی منکر ہے اور قرآن نے بھی اس کو منکر اور دذور قرار دیا ہے۔ ایک منکر بات کا ذکر صراحت کے ساتھ موزوں نہیں تھا اس وجہ سے قرآن نے مبہم الفاظ میں اس کی طرف اشارہ کردیا۔ مطلب یہی ہے کہ ظہار کے بعد وہ پھر وہی کام کرنا چاہیں جس کو انہوں نے اپنی ماں کی حرمت کی طرح حرام ٹھہرایا تو ان کے لیے ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔ اس ابہام کی وضاحت اول (تو من قبل ان یتما سا) کے الفاظ سے بھی ہوجاتی ہے پھر بعینہٖ یہی اسلوب کلام اسی سورة کی آیت 8 میں بھی استعمال ہوا ہے۔ فرمایا ہے (ثم یعودون لما نھوا عنہ) (پھر وہ کرتے ہیں وہی کام جس سے وہ روکے گئے) اسی طرح یہاں بھی اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پھر وہ کریں وہی کام جس سے رکنے کا انہوں نے عہد کیا یا جس کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا قالوا اور یقول وغیرہ کے الفاظ میں بتقاضائے بلاغت و ایجاز جو ابہام ہوا کرتا ہے اس کی ایک عمدہ مثال سورة مریم کی آیت 80 میں بھی ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔
(من قبل ان یتما سا) میں زور اس بات پر ہے کہ یہ کفارہ ہاتھ لگانے سے پہلے پہلے ادا کردیا جائے۔ آگے والی آیت میں بھی اس قید کا اعادہ ہے جس سے اس کا موکد ہونا ظاہر ہوتا ہے اس وجہ سے یہ جائز نہیں ہے کہ غلبہ نفس سے بےبس ہو کر کفارہ ادا کرنے سے پہلے تعلق قائم کرلیا جائے، اگر ایسا کیا گیا تو یہ حدود اللہ سے، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، تجاوز ہوگا۔
(تنبیہ)۔ (ذلکم توعظون بہ واللہ بما تعملون خبیر) یہ تنبیہ ہے کہ ان باتوں کی نصیحت تمہیں تمہارے رب کی طرف سے کی جا رہی ہے۔ اگر تم نے در پردہ یا علانیہ ان کی خلاف ورزی کی تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ خبر رکھتا ہے تو اس کی گرفت سے نہ بچ سکو گے۔ ذلکم میں اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر بیان ہوئیں۔ یعنی نہ تو ظہار کے معاملے میں جاہلیت کے رسوم پر اصرار کرو اور نہ کفارہ سے متعلق جو ہدایت کی جا رہی ہے اس سے فرار کے لیے چور دروازے اور فقیہی حیلے ایجاد کرو بلکہ ہر حکم کی تعمیل اس کی صحیح سپرٹ میں کرو۔ اسی میں دین و دنیا دونوں کی فلاح ہے۔
Ayah 58:4(فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین من قبل ان یتما شا فمن لم یسطع فا طعام ستین مسکینا ذلک لتومنوا باللہ ورسلہ وتلک حدود اللہ وللکفرین عذاب الیم) (4)۔ یعنی غلام میسر نہ آئے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے اور اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس زمانے میں عملاً یہی دو شکلیں باقی رہیں گی اس لیے کہ غلام ختم ہوچکی ہے اور یہ بات عین متشائے اسلام کے مطابق ہوئی ہے۔ لفظ متتا بعین سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر دو ماہ کے روزے تمام ہونے سے پہلے پہلے اختلاط کرلیا تو از سر نو پورے روزے رکھنے پڑیں گے۔ یہاں اگرچہ (اطعام ستین مسکینا) کے ساتھ (من قبل ان یتما سا) کی قید نہیں ہے لیکن اس صورت میں بھی یہ قید مفہوم ہے۔ اس کے ذکر نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ شکل اصل نہیں بلکہ اصل کی فرع ہے تو جب اصل کے ساتھ اس کا ذکر ہے تو فرع کے ساتھ اس کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی۔ (ذلک لتومنوا باللہ ورسولہ) یہ ان ہدایات کا فائدہ بتاتا ہے کہ یہ اس لیے دی گئی ہیں کہ اللہ اور رسول پر تمہارا ایمان مستحکم ہو۔ (لتومنوا) یہاں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق اپنے کامل معنی میں ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ انسان اگر اپنی کسی غلطی یا کمزوری کی تلافی کے لیے کوئی مشقت اٹھاتا ہے تو اس سے اس کی غلطی کی تلافی بھی ہوتی ہے اور اصل مقصد میں اس کے قدم راسخ بھی ہوتے ہیں۔
(وتلک حدود اللہ) یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ (ذلکم توعظون بہ) کے الفاظ سے اوپر گزر چکی ہے، یعنی یہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے حدود ہیں۔ ان کو توڑنے کی جسارت نہ کرنا ورنہ اس کا انجام نہایت برا ہوگا۔ (وللکفرین عذاب الیم) یعنی اللہ کے حدود کو توڑنے والے کافر ہیں اور ان کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے تو بد قسمت ہوں گے وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ رکھتے ہوئے اپنے کو کافروں میں شامل کرلیں۔ ظہار سے متعلق بعض اور سوالات بھی ہیں لیکن ان کا تعلق تفسیر سے نہیں بلکہ فقہ سے ہے اس وجہ سے ہم ان سے تعرض نہیں کریں گے۔ تفصیل کے طالب فقہی جزئیات کے لیے فقہ کی کتابوں کی مراجعت کی۔
Ayah 58:52۔ آگے آیات 5۔ 11 کا مضمون
مجادلہ حسن کے بعد اب آگے ان لوگوں کا کردار بیان ہو رہا ہے جو محادہ یعنی اسلام دشمنی اور رسول دشمنی کے روگ میں مبتلا تھے۔ اگرچہ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے اندر شامل تھے لیکن یہ ساختہ پر داختہ یہود کے تھے اور مسلمانوں کے اندر ان کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ ان لوگوں کا مخصوص طریقہ کار یہ تھا کہ یہ کسی چیز کو بہانہ بنا کر اسلام اور پیغمبر ﷺ کے خلاف مسلمانوں کے اندر سرگوشیاں کرتے تاکہ ان کے عقیدے کو متزلزل اور اسلام کے مستقبل سے ان کو مایوس کریں۔ یہاں ان کی انہی ریشہ دوانیوں سے پردہ اٹھایا اور ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ایک ایک سرگوشی سے اچھی طرح باخبر ہے اور بہت جلد اس کا انجام ان کے آگے آجائے گا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رہنے اور مجلس نبوی ﷺ کو ان کی سرگوشیوں سے پاک رکھنے کی بعض تدبیریں بتائی گئی ہیں۔ آیت کی تلاوت فرمایئے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(ان الذین یحادون اللہ ورسلہ کبتراک ما کبت الذین من قبلھم وقد انزلنا ایت بینت وللکفرین عذاب مھین) (5)۔
(محادۃ کا مفہوم)۔ محاذۃ کے معنی مخالفت اور دشمنی کرنے کے ہیں۔ یہ لفظ موادہ کا مقابل ہے۔ اسی سورة میں یہ دونوں لفظ ایک ہی آیت میں نہایت خوبی سے استعمال ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے مفہوم پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ فرمایا ہے (لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاذا اللہ ورسولہ) (22) (تم کوئی ایسی قوم نہیں پا سکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو پھر وہ ان لوگوں کو دوست بنائے جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوں)۔
(جھوٹے مدعیان اسلام کا کردار)۔ اوپر کے پیرے میں جیسا کہ واضح ہوا ان لوگوں کا کردار بیان ہوا جن کو دین کے معاملے میں کوئی مشکل پیش آتی تو وہ اس کو اللہ و رسول کے آگے ہی پیش کرتے اور اپنا شکوہ و مجادلہ اللہ و رسول ہی سے کرتے۔ اب ان کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا کردار بیان ہو رہا ہے جو مدعی تو تھے ایمان و اسلام کے لیکن ان کا رویہ اللہ و رسول کے ساتھ مخالفت کا تھا۔ اسلام کی جو بات ان کو اپنے مفاد اور اپنی خواہشوں کے خلاف محسوس ہوتی اس کے خلاف سرگوشیوں اور خفیہ پر اپیگنڈے کی مہم شروع کردیتے تاکہ مخلص مسلمانوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے ان کے ایمان و اسلام کو بھی متزلزل کردیں۔ ان کی ساری ہمدردیاں جیسا کہ آگے واضح ہوگا، اسلام کے دشمنوں بالخصوص یہود کے ساتھ تھیں۔ یہ مسلمانوں کے اندر یہود کے ایجنٹ تھے اور انہی کے زیر ہدایت برابر اس کوشش میں رہتے کہ جو موقع بھی لے اس سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت زینت ؓ کے معاملے میں انہوں نے جو فتنے اٹھائے ان کی تفصیلات سورة نور اور سورة احزاب کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ ظہار کا مسئلہ بھی ان مسائل میں سے تھا جس کے بارے میں وہ قرآن کی رعایت کو نکتہ چینی کا ہدف بنا سکتے تھے جس سے سادہ لوحوں کے اندر غلط فہمیاں پھیل سکتی تھیں۔ دور جاہلیت میں جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں اس کو لوگوں نے طلاق مغلظ کا درجہ دے رکھا تھا۔ یہ اشرار آسانی سے لوگوں میں یہ سرگوشی کرسکتے تھے کہ اسلام نے نعوذ باللہ اپنے پیروئوں کے لیے ماں کے ساتھ نکاح کو بھی جائز کردیا۔ یہ صورت مقتضی تھی کہ اس موقع پر ان شریروں کو اچھی طرح بےنقاب کردیا جائے تاکہ کوئی فتنہ اٹھانے کی کوشش وہ کریں تو اس کا سدباب ہو سکے۔
(رسول کے مخالفین کا انجام)۔ (کبتوا کما کبت الذین من قبلھم)۔ کبت۔ کے معنی ذلیل و خوار کر کے تباہ کرنے کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ ذلیل و خوار ہو کر ان لوگوں کی طرح تباہ ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب تباہ ہوچکے ہیں۔ (وقد انزلنا ایت بینت) (اور اس دعوے کی صداقت کی نہایت واضح دلیلیں ہم قرآن میں اتار چکے ہیں) یہ اشارہ ان تاریخی حقائق کی طرف ہے جو قرآن میں نہایت تفصیل سے یہ واضح کرنے کے لیے بیان ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کرنے والے بالآخر ذلیل و خوار ہو کر تباہ ہوتے ہیں۔ (وللکفرین عذاب مھین) فرمایا کہ ان کافروں کے لیے بھی بالآخر ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ یہ اشارہ ان کافروں کی طرف ہے جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔ فرمایا کہ یہ بھی بالآخر اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح ان کے پیش روز ذلیل و خوار ہوچکے ہیں۔ جب ان کا کردار وہی ہے جو ان کا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی تاریخ ان سے مختلف ہو۔ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے ایک ہی ہے۔ قرآن کی یہ دھمکی اس وقت پوری ہوگئی جب قریش کی طاقت بھی ختم ہوگئی اور یہودبھی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ اس وقت ان منافقین کے لیے بھی کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہی جو یہود کی زیر سر سرپرستی ریشہ دوانیاں کرتے تھے۔ ان کا حشر بھی وہی ہوا جو ان کے مرشد یہود کا ہوا۔ آگے کی سورتوں میں ان کے انجام کی عبرت انگیزتفصیل آرہی ہے۔
ان کے عذاب کو ذلیل کرنے والا عذاب اس لیے کہا گیا کہ ان کو نہایت رسوا کن قتل و جلا وطنی اور غلامی کی سزائوں سے دو چار ہونا پڑا اور کسی کو بھی ان کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہوئی بلکہ سب نے ان پر لعنت ہی کی۔
Ayah 58:6(یوم یبعثھم اللہ جمیعا فینبئھم بما عملوا احصہ اللہ ونسوہ والہل علی کل شی شھید) (6)۔ (یوم) کا نصاب اگرچہ (عذاب مھین) سے بھی ہوسکتا ہے لیکن میرے نزدیک یہ معروف ضابطہ عربیت کے مطابق، فعل محذوف سے منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو جو پیش آئے گا آئے گا ہی، یہ لوگ اس دن کو بھی یاد رکھیں جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا وہ سب ان کے آگے رکھ دے گا۔ (جمعیا) کی قید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے کہ آج جو سازشیں اور سرگوشیاں ہو رہی ہیں ان کے تمام ارکان و عوامل جمع کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کے سامنے اس کے سارے راز بےنقاب کر دے گا کہ کس نے کیا مشورے دیے اور کس نے کس طرح اس کی تعمیل کی۔ (فینبھم) سے مراد ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کے سارے کیے دھرے سے ان کو آگاہ کرے گا تاکہ وہ اس کے نتائج بھگتیں۔
(ایک مغاملہ پر تنبیہ)۔ (احصہ اللہ ونسوہ) میں ایک بہت بڑے مغالطہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ جس طرح یہ سب کچھ کر کے بھول گئے اللہ بھی اس کو بھول گیا۔ ان لوگوں کو ان کی شرارتوں کی سزا نہیں ملی اس وجہ سے سمجھ بیٹھے کہ اللہ بھول گیا ہے لیکن اللہ نے ان کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رکھی ہے اور جزاء و سزا کے لیے ایک دن مقرر کر رکھا ہے جس دن سب کی نیکی بدی اس کے سامنے آجائے گی۔ (واللہ علی کل شی شھید) یہ اس کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہیں غائب نہیں ہوتا ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ ہر جگہ موجود ہوتا ہے۔
Ayah 58:7(الم تران اللہ یعلم ما فی السموات وما فی الارض ما یکون من نجری ثلثۃ الا ھو رابعھم ولا خمسۃ الا ھو سادسھم ولا ادنی من ذلک والا اکثرالا ھو معھم این ما گانو ثم ینبھم بما عملوا یوم المقیمۃ ان اللہ کل شی علیم) (7)
(اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے)۔ یہ اوپر والی بات کی مزید وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز سے باخبر ہے۔ وہ ہر ایک کے سامنے اس کا ایک ایک عمل رکھ دے گا۔ الم تر کا خطاب یہاں عام ہے اور یہ اسلوب بیان اس موقع پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر شخص پر واضح ہونی چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے وہی اس سارے نظام کو چلا رہا ہے، اس کے ایک ایک پرزے کی حرکت اس کے اذن سے ہوتی ہے اور اسی کے حکم سے اس کے ایک ایک متنفس کی زندگی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ آسمانوں اور زمین کی کسی چیز سے بھی وہ بیخبر رہے۔ (الا یعلم من خلق) (کیا وہ نہ نہ جانے گا جس نے سب کو پیدا کیا ہے)۔
(ما یکون من نجوی ثلثۃ)۔ الایۃ۔۔ فرمایا جب اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے تو یہ اللہ اور رسول کے خلاف سرگوشیاں کرنے والے یاد رکھیں کہ جب ان کے تین سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ چوتھا اللہ ہوتا ہے اور جب ان کے پانچ سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ چھٹا اللہ ہوتا ہے، علی ہذا القیاس اس سے کم ہوں یا زیادہ اللہ ان کے پاس لازماً ہوتا ہے۔ (این ما گانو) اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی چھپ کر سوگوشی کریں گے، اللہ وہاں ان کے پاس موجود ہوگا۔ آسمانوں اور زمین میں کوئی گوشہ وہ ایسا نہیں تلاش کرسکتے جہاں وہ اپنے آپ کو خدائے عالم الغیب سے چھپا سکیں۔
Ayah 58:8(الم ترائی الذین نھوا عن النجوی ثم یعودون لما نھوا عنہ و یتنجون بالاثم والعدوان و معصیت الرسول واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ ویقولون فی انفسھم لولا یعدبنا اللہ بما نقول حسبھم جھنم یصلونھا فبئس المصیبر (8)۔
(سرگوشیوں کی اصل غایت)۔ یہ ان کی حالت پر اظہار تعجب ہے کہ ذرا ان کی جسارت تو دیکھو کہ یہ جس نجوی سے روکے گئے ہیں اسی کا ارتکاب بار بار کر رہے ہیں اور اس سے بڑی جسارت یہ ہے کہ یہ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور ان کو نہ ذرا اپنی اس حرکت پر شرم آتی ہے اور نہ ان کو ذرا خوف خدا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کی سرگوشیوں کا آغاز ہوا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی حرکتوں پر توجہ دلائی لیکن اس کا انہوں نے کوئی اثر قبول نہیں کیا بلکہ یہ شرارت بڑھتی ہی گئی، بالآخر ان آیات میں ان کو آخری تنبیہ فرمائی گئی۔
(ویتنجون بالاثم والعدوان و معصیت الرسول) یعنی ان کی ساری سرگوشی میں خیر کا کوئی پہلو نہیں ہوتا حالانکہ سرگوشی، جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے، خیر کی بھی ہو سکتی ہے لیکن ان کے سینے خیر سے بالکل خالی ہیں اس وجہ سے ان کی ہر سر گوشی گناہ وتعدی اور رسول کے خلاف لوگوں کو بغاوت پر ابھارنے کے لیے ہوتی ہے۔ اثم ان گناہوں کو کہتے ہیں جن میں حق تلفی کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور عدوان ان گناہوں کے لیے آتا ہے جن میں تعدی، سر کشی اور طغیان کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ یہ دونوں لفظ جب ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں تو گناہ کی تمام اقسام پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ (معصیت الرسول) کے الفاظ یہاں ان اشرار کی سرگرمیوں کے اصل ہدف کے اظہار کے لیے آئے ہیں کہ ان کی اس تمام تگ و دو کا مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اللہ کے رسول کے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھاریں تاکہ یہ شیرازہ درہم برہم ہوجائے۔ یہ منافقین جیسا کہ ہم نے اوپر ارشارہ کیا اور آگے تفصیل آرہی ہے، یہود کے ساختہ پر داختہ تھے اور ان کی تمام سرگرمیوں کا منتہایہ تھا کہ صحابہ ؓ کے اندر کوئی ایسا فتنہ برپا کریں کہ یہ گروہ ایک ناقابل شکست طاقت بننے سے پہلے پہلے ختم ہوجائے۔ ان کے ان فتنوں کی تفصیلات پیچھے بھی اس کتاب میں گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور محمد رسول ﷺ کی تربیت سے جو حزب اللہ منظم ہوئی وہ حق کے تمام دشمنوں پر غالب آگئی۔
(اشرار کی کینہ توڑی)۔ (واذا جاءوک حیوک بما لم یحیک بہ اللہ)۔ یہ پیغمبر ﷺ کے خلاف ان شریروں کی کینہ توزی کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں سلام کرتے ہوئے اس لفظ کے بالکل برعکس لفظ استعمال کرتے ہیں جو اللہ نے تمہارے لیے پسند فرمایا۔ اللہ اور اس کے ملائکہ تو تمہارے اوپر رحمت اور سلام بھیجتے ہیں ؎ اور ان بد بختوں کا حال یہ ہے کہ تمہیں سلام کرتے ہوئے لفظ السلام اس طرح بگاڑ کر نکالتے ہیں کہ (السلام علیکم نہ السلام علیکم) بن جاتا ہے۔
(بما لو یحیک بہ اللہ) کے الفاظ سے مقصود ان کی شقاوت کو ظاہر کرنا ہے کہ ان لوگوں کی بد بختی و محرومی میں کیا شک کی گنجائش رہی جو اس ذات اقدس کے لیے موت کے بد دعا کریں جس پر اللہ اور اس کے فرشتے درود وسلام بھیجیں ! اس میں پیغمبر ﷺ کے لیے پیام تسلی بھی ہے کہ اگر یہ تمہارے لیے موت کے متمنی ہیں تو رہیں تمہارے اوپر خدا کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی دعائے رحمت ہے تو تمہیں کسی اور کی دعا و بد دعا کی کیا پروا ! !
یہود اور ان کے ایجنٹ آنحضرت ﷺ کی توہین کے لیے اپنی زبان توڑ مروڑ کر الفاظ کو جس طرح بگاڑتے تھے اس کی مثالیں سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ راعنا اور سمعناء اطعنا کے تحت ہم ان کی اس شرارت پر روشنی ڈال چکے ہیں۔ 3 ؎ اس قسم کا تصرف لفظ السلام میں کر کے اس کو وہ السام کردیتے کہ سننے والے کو دھوکا السلام علیکم کا ہوتا حالانکہ فی الحقیقت وہ السام علیکم کہتے۔
(1 ؎۔ چناچہ الاحزاب، 33، 56 میں ارشاد ہے۔ ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی۔۔۔ الایۃ)
(2 ؎۔ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر سلام و رحمت بھیجتے ہیں)
(2 ؎۔ عربی میں لفظ سام موت کے معنی میں آتا ہے)
(3 ؎ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد اول صفحات : 25، 252 اور 228)۔
(ویقولون فی انفسھم لولا یعذ بنا اللہ بما نقول) یہ ان کے اس مغالطے کی طرف اشارہ ہے جس کے سبب سے وہ اپنی ان شرارتوں میں دلیر ہوتے جا رہے تھے۔ فرمایا کہ ان کی ان شرارتوں پر چونکہ فوراً پکڑ نہیں ہو رہی ہے اس وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ رسول کی تکذیب و تضحیک میں یہ بالکل بجانب حق ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہوتے تو لازماً ان باتوں پر ہماری پکڑ ہوجاتی لیکن جب اس طرح کی کوئی بات نہیں ہو رہی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کا دعویٰ محض دھونس ہے۔ (جسبھم جھنم، یصلونھا، فبئس المصیر) فرمایا کہ ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے جس میں وہ لازماً پڑیں گے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس کے ہوتے اس دنیا میں اگر ان کے اوپر عذاب نہ بھی آئے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہی ساری کسر پوری کردینے کے لیے کافی ہے۔ ان اشرار کر اس دنیا میں بھی عذاب کی دھمکی دی گئی ہے، جیسا کہ اوپر آیت 5 میں ارشاد گزر چکا ہے اور آگے بھی آ رہا ہے، لیکن اصل حقیقت یہی ہے کہ جب جہنم موجود ہے تو اس کے ہوتے دنیا کی پکڑ سے کوئی بچ بھی گیا تو اس میں اس کے لیے اطمینان کا کوئی پہلو نہیں ہے۔
(شریروں کی اصل مغالطہ)۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ انسان کی غفلت اور سر کشی میں سب سے زیادہ اضافہ اس کے اسی مغالطہ سے ہوتا ہے جو یہاں مذکور ہوا۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کی شرارتوں پر اس دنیا میں کوئی گرفت نہیں ہورہی ہے تو وہ مطمئن ہو بیٹھتا ہے کہ اس پر کہیں بھی اور کبھی بھی گرفت نہیں ہوگی اور ملا جو ڈرواوے سناتے پھر رہے ہیں یہ محض ان کی دھونس ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں، حالانکہ یہ محض انسان کی بےبصیرتی ہے۔ اگر اعمال کے نتائج فوراً سامنے آجانے والے ہوتے تو کس کی مجال تھی کہ وہ نیکی کے سوا کبھی بدی کی جرأت کرسکتا۔ پھر تو سبھی صالح و متقی بن کے رہتے۔ اس دنیا کا اصل بھید تو یہی ہے کہ یہ دارالجزاء نہیں بلکہ دارالامتحان ہے۔ دارالجزاء آگے ہے اور وہ اس کائنات کی سب سے زیادہ واضح اور اٹل حقیقت ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو یہ سارا عالم ایک اندھیر نگری اور کسی کھلنڈرے کا کھیل بن کر رہ جائے گا حالانکہ اس عالم کا خالق کوئی کھلنڈرا نہیں بلکہ وہ بالپداہت ایک عزیز و حکیم ہے۔
Ayah 58:9(یایھا الذین امنوا اذ تت جیتم فلا تتنا جوا بالاثم والعدوان و معصیت الرسول و تما جوا بلبر والتقوی واتقوا اللہ الذی الیہ تحشرون) (9)۔
(نجوی کی پاکیزہ قسم)۔ یہ مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ نجوی بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے۔ اجتماعی و معاشرتی زندگی میں ایسے مواقع بھی پیش آتے ہیں جب ہم دگرراز دارانہ مشورت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شوری اجتماعی زندگی کی اساسات میں سے ہے اور اس میں راز داری کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، اگر یہ مشورت نیکی، تقویٰ اور اصلاح ذات البین کے لیے ہے تو یہ نجویٰ باعث خیر و برکت ہے اور تم جب بھی کوئی راز دارانہ مشورت کرو تو کسی مقصد خیرہی کے لیے کرو۔ البتہ وہ نجویٰ شیطانی نجویٰ ہے جو گناہ، تعدی اور معصیت رسول کے مقصد سے یہ منافقین کرتے ہیں۔ اہل ایمان کو اس سے بچنا چاہیے اور اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے جس کے حضور میں سب اکٹھے کیے جائیں گے اور جو سب کے نحوی سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔
Ayah 58:10(انما النجری من الشیطن لیحزن الذین امنوا ولیس بضادھم شیاء الا باذن اللہ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون) (10)۔
(اہل ایمان کو تسلی)۔ یہ مومنین مخلصین کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین کی یہ ساری سرگوشیاں شیطان کی تحریک اور اس کی وسوسہ اندازی سے وجود میں آئی ہیں اور شیطان زیادہ سے زیادہ بس یہی کرسکتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے اہل ایمان کے دلوں کو ذرا رنج و ملال پہنچا دے۔ اس سے زیادہ اس کے امکان میں کچھ نہیں ہے۔ وہ اللہ کے اذن کے بدون اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا تو اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی ان وسوسہ اندازیوں کی کوئی پروا نہ کریں بلکہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھیں کہ وہ ان کو ہر شریر کی شرارت سے محفوظ رکھے گا۔
Ayah 58:11(یایھا الذین امنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس فا فسحوا یفسح اللہ لکم واذا قیل انشزوا فانشزوا یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتو العلم درجت واللہ بما تعملون خبیر) (11)
(مجلس نبوی کو نجویٰ سے پاک رکھنے کے لیے بعض ہدایات)۔ منافقین کی سرگوشیاں یوں تو ہر مجلس و مقام میں ہوتی تھیں لیکن مجالس نبوی میں اس شرارت کے لیے وہ خاص اہتمام کرتے اس لیے کہ اسلام پر طعن، مسلمانوں کی دل آزادی و حوصلہ شکنی اور نبی ﷺ کی توہین و تضحیک کے مواقع سب سے زیادہ ان کو وہیں ملتے، چناچہ وہ مجلس نبوی میں اپنے مخصوص جتھے بنا کر بیٹھتے اور اس امر کا اہتمام رکھتے کہ کوئی غیر ان کے درمیان نہ گھسنے پائے تاکہ وہ حضور ﷺ کی باتوں پر جو نقد و تبصرہ اور جو طعن و طنز کرنا چاہیں آسانی سے کرسکیں۔ بسا اوقات وہ یہ بھی کرتے کہ حضور ﷺ مجلس سے اٹھ جاتے یا مجلس کے برخاست ہونے کا اعلان ہوجاتا لیکن یہ لوگ اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے دھرنا دیے بیٹھے رہتے تاکہ لوگوں کے اندر کچھ وسوسہ اندازی کریں یا آپس میں کسی نئی شرارت کی کوئی سکیم بنائیں۔ یہ صورتحال مقتضی ہوئی کہ مجلس نبوی سے متعلق کچھ ایسی ہدایات دے دی جائیں کہ منافقین اس کو اپنے شیطانی نجویٰ کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔
(بعض مجلس آداب)۔ (اذا قیل لکم نفسحوا فی المجلس فانفسجوا)۔ قرینہ دلیل ہے کہ مجلس سے یہاں مراد اصلاً مجلس نبوی ہے لیکن لفظ جمع استعمال کر کے یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ یہاں جو آداب بتائے جا رہے ہیں وہ مسلمانوں کی تمام مجالس کے لیے عام ہیں تاکہ ان کی ہر جلس میں مجلس نبوی ﷺ کا عکس پایا جائے۔ قرآن میں اسی طرح بعض جگہ لفظ مساجد جمع کی شکل میں استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ اصلاً اس سے مراد مسجد حرام ہے۔ جیسا کہ (انما یعمر مسجد اللہ (التوبۃ : 9، 18) میں ہے لیکن لفظ جمع استعمال کر کے یہ تعلیم دی گئی کہ جو ہدایت اس مرکزی مسجد سے متعلق دی جا رہی ہے وہی حکم تمام مساجد الٰہی کا ہوگا اس لیے کہ وہ سب اسی کے تابع ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جب صدر مجلس کی طرف سے ہدایت کی جائے کہ لوگ مجلس میں کھل کر بیٹھیں تو اس حکم کی چون و چرا تعمیل ہونی چاہیے اور ایک دوسرے سے ہٹ ہٹ کر بیٹھنا چاہیے تاکہ دوسرے آنے والوں اور بیٹھنے والوں کو آسانی بھی ہوا اور منافقین کے لیے مجلس نبوی میں جتھ بندی کر کے بیٹھنے اور سرگوشیاں کرنے کی گنجائش بھی کم ہوجائے۔ اوپر ہم نے اشارہ کیا کہ منافقین مجلس نبوی میں ایک پارٹی کی شکل میں اس طرح بیٹھتے کہ ان کے جتھے سے باہر کے کسی آدمی کے لیے ان کے اندر گھسنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے تاکہ وہ جس ردعمل کا اظہار کرنا چاہیں اس میں نہ دوسرے کوئی مزاحمت پیدا کرسکیں، نہ ان کی سرگوشیوں ان کے اشاروں، کنائیوں اور ان کے طنز یہ فقروں کی پردہ دری ہو سکے۔ اپنے اس طرز عمل سے انہوں نے بعض اوقات بڑی بڑی الجھنیں پیدا کردیں جن کی تفصیلات تاریخ کی کتابوں میں بھی موجود ہیں اور قرآن نے بھی ان کی طرف اشارے کیے ہیں۔ اس سورة کے زمانہ دل میں، جیسا کہ واضح ہے، یہ فتنہ بہت بڑھ گیا تھا۔ اس کے سدباب کے لیے ہدایت ہوئی کہ جب صدر مجلس کی طرف سے حکم دیا جائے کہ لوگ کھل کر بیٹھیں تو لوگوں کو اس حکم کی بےچون و چرا تعمیل کرنی چاہیے۔
(فافسحوا یفسح اللہ لکم) یعنی اگر تم دوسروں کے لیے کشادگی پیدا کرو گے تو اللہ بھی تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔ اگرچہ اس کا ظاہر مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے جنت میں کشادگی پیدا کرے گا لیکن واقعہ یہ ہے کہ جو انسان اپنا سینہ و دوسروں کے لیے کشادہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ دوسروں کے سینے اس کے لیے اس دنیا میں بھی کشادہ کردیتا ہے۔ آدمی کا ہر عمل، ظاہری ہو یا باطنی، نیک ہو یا بد، اپنا ایک قدرتی اثر رکھتا ہے جس کا حقیقی ظہور تو آخرت ہی میں ہوگا لیکن اس کے برگ و بار اس دنیا میں بھی دیکھتے جاتے ہیں بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔ (واذا قیل الشزوا فانشرزوا) یعنی اسی طرح صدر مجلس کی طرف سے اگر اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا جائے تو اس کی بھی بےچون و چرا، بغیر کسی احساس کتہیر کے، تعمیل کی جائے۔
اس حکم کی نوعیت اجتماعی بھی ہو سکتی ہے، انفرادی بھی، مطلب یہ ہے کہ پوری مجلس برخاست کردی جائے تو لوگ اس کو بھی بخوشی قبول کریں، یہ نہ خیال کریں کہ ہمارے وقت کی ناقدری کی گئی، ذاتی آرام کو جماعتی کام پر ترجیح دی گئی، ہمیں اظہار خیال کا موقع نہیں دیا گیا، اس بارے میں ہمارے رائے نہیں لی گئی۔ اسی طرح انفرادی طور پر بھی اگر کسی شخص کو ہدایت کی جائے کہ وہ مجلس میں اپنی جگہ سے اٹھ کر کسی دوسری جگہ بیٹھ جائے، یا مجلس سے باہر چلا جائے یا اپنی جگہ کسی دوسرے کے لیے خالی کر دے تو وہ اس حکم کی بھی بغیر کسی نکیر کے تعمیل کرے اجتماعی نظم زندگی کے احترام میں اگر وہ یہ کسر نفسی گوارا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اس ایثار کو ذریعہ رفعت بنائے گا۔ (فانشزوا یرفع اللہ الذین امنوا منکم۔۔۔ الایۃ) بالکل مقابل میں ہے۔ فافسحوا یفسخ للہ لکم کے یعنی اس کھڑے ہونے میں بظاہر دلت بھی ہو تو اللہ اسکو ان لوگوں کے لیے باعث عزت و رفعت بنائے گا جو تم میں سے اہل ایمان میں۔
یہاں (الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجت) کے الفاظ بڑے معنی خیز ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر جو منافقین گھسے ہوئے ہیں وہ تو اس قسم کے حکم پر بہت ناک بھول چڑھائیں گے کہ ان کی توہین ہوئی کہ ان کو اٹھا کر دوسروں کو ان کی جگہ دی گئی۔ ان میں سے بعض یہ بھی محسوس کریں گے کہ کیا وہ باعتبار علم و عمل فلاں اور فلاں سے فروتر تھے کہ ان کو ان کے اوپر ترجیح دی گئی لیکن جو اہل ایمان نہ اصحاب علم خوش دلی سے اس حکم کی تعمیل کریں گے اللہ تعالیٰ آخرت میں انکے مدارج پر مدارج بلند کرے گا۔ (واللہ بما تعملون خبیر) یہ ان اصحاب ایمان و علم کی تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔ اس کو آگاہ ہونے کے لیے اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ تمہاری خدمات کا اشتہار اخباروں میں چھپے تب ہی اس کے علم میں آئے، تم دین و ملت کے قیام اور نظام جماعت کے احترام کی خاطر جو ایثار بھی کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے اور وہ اس کا بھر پور صلہ دے گا۔
(عصر حاضر کی مجالس کا حال)۔ یہ ہدایت اگرچہ اصلاً مجلس نبوی سے متعلق دی گئی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی آداب مسلمانوں کی تمام مجالس میں ملحوظ ہونے چاہئیں۔ آج اہل مغرب کی کو رانہ تقلید میں جو طریقے اختیار کرلیے گئے ہیں اگرچہ ان کو بہت ترقی یافتہ خیال کیا جاتا ہے لیکن یہ انہی کی برکت ہے کہ ہماری پارلیمنٹیں اور کونسلیں اکھاڑے بنتی جا رہی ہیں جن میں مختلف پارٹیاں جتھے بنا بنا کر آتی ہی ایک دوسرے کو شکست دینے، اشارہ بازیاں اور سرگوشیاں کرنے، فقرے اور پھبتیاں چست کرنے کے لیے ہیں، یہاں تک کہ بسا اوقات ایک دوسرے کا منہ نوچنے اور ان پر جوتے اور کرسیاں پھینکنے تک بھی نوبت آجاتی ہے اور صدر مجلس کو آداب مجلس کی یاددہانی کے بجائے پولیس کی مدد حاصل کرنی پڑتی ہے۔
Ayah 58:124۔ آگے آیات 12۔ 13 کا مضمون
اوپر کی آیات میں جس طرح مجلس نبوی کی سرگوشیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض تدبیریں بتائی گئی ہیں اس طرح آگے کی آیت میں خود ذات نبوی ﷺ کو سرگوشیاں کرنے والوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک ہدایت دی گئی۔ جب یہ فتنہ بڑھا اور اس پر قرآن میں نکسیر بھی فرمائی گئی تو بہت سے منافقین نبی ﷺ سے راز دارانہ طور پر مل کر اپنی صفائی پیش کرنے اور اپنے سر کا الزام دوسرے بےگناہوں کے سر تھوپنے کی کوشش میں لگ گئے۔ یہ لوگ کھلی مجلس میں تو اپنی صفائی پیش کرنے کا حوصلہ کر نہیں سکتے تھے اس وجہ سے ہر ایک کی کوشش یہ رہی ہوگی کہ اس کو حضور ﷺ سے خلوت میں بات کرنے کا موقع ملے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ آپ سے ملاقات پر بعض پابندیاں عائد کردی جائیں تاکہ ہر شخص آپ کا وقت ضائع نہ کرسکے۔ یہ حکم ایک ہنگامی حکم تھا کچھ عرصے کے بعد جب اس کا مقصد پورا ہوگیا تو یہ منسوخ کردیا گیا اور منسوخ کرنے والی آیت کو بھی قرآن کی ترتیب میں ابتدائی حکم کے ساتھ ہی جگہ دی گئی تاکہ نظم کلام کے سمجھنے میں کوئی زحمت نہ پیش آئے اسی روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا الذین امنوا اذا تاجیتم الرسول فقد موابین یدی نجولکم صدقۃ ذلک خیر لکم واطھر فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم) (12)۔
(سرگوشیوں کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی حکم)۔ یہ حکم جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سرگوشیوں کی اس دبائے عام کے زمانے میں اس لیے دیا گیا کہ منافقین کو نبی ﷺ کے عزیز اوقات میں مداخلت سے روکا جائے۔ جب ان لوگوں کے رویہ پر گرفت ہوئی تو ان میں سے ہر ایک کو فکر ہوئی کہ نبی ﷺ سے تنہائی میں مل کر اپنی چکنی چپڑی باتوں سے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش بھی کرے اور ہو سکے تو اپنے گناہوں کا بوجھ کسی دوسرے بےگناہ کے سرتھوپ دے۔ حضور ﷺ نے اپنی ملاقاتوں پر چونکہ کوئی پابندی نہیں رکھی تھی اس وجہ سے اس طرح کے اصحاب الاغراض حضور ﷺ کی اس فیاضی سے بہت غلط فائدے اٹھاتے۔ اس دور میں انہوں نے اس سے خاص طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہوگی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پابندی عائد کردی گئی کہ جو شخص آپ سے تنہائی میں کوئی راز دارانہ بات کرنی چاہیے وہ اس سے پہلے راہ خدا میں کچھ صدقہ کرے۔ اس حکم سے ان لوگوں کو مستثنیٰ رکھا گیا جو نادار ہوں تاکہ یہ حکم کسی غریب مسلمان کے لیے باعث زحمت نہ بنے اور صدقے کی کوئی مقدار بھی معین نہیں کی گئی تاکہ لوگ اس کو زیادہ گراں نہ محسوس کریں۔ اس سے اصل مقصود جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، منافقین کے بڑھتے ہوئے رجحان سرگوشی کی حوصلہ شکنی تھا۔ بخل اور حرص مال کی بیماری ان منافقین میں عام تھی۔ قرآن نے ان کی اس بیماری کی جگہ جگہ نشان دہی کی ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے یہ پابندی عائد کردی تاکہ نبی ﷺ سے تنہائی میں ملاقات کا معاملہ ایک سنجیدہ معاملہ بن جائے کہ اس طرح کے لوگ اپنی بحالت کے سبب سے اول تو اس کا حوصلہ ہی نہ کریں اور اگر کریں تو ان کا انفاق ان کے لیے تظہیر و تزکیہ کا ذریعہ بنے اور فساد کی باتوں سے ان کو بچنے کی توفق حاصل ہو۔ (ذلک خیر لکم واطھر) اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ اگر تم اس پر نیک نیتی سے عمل کرو گے تو یہ تمہارے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی کا ذریعہ اور تمہارے دلوں کو پاک کرنے کا وسیلہ ہوگا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حکم پیغمبر ﷺ کے آرام و آسائش کے خیال سے نہیں بلکہ تمہاری صلاح و فلاح کے لیے دیا جا رہا ہے بشرطیکہ تم اس کی قدر کرو۔ (فان لم تجدوا فان اللہ غفور رحیم) یعنی غریبوں اور ناداروں کے لیے بدستور پیغمبر ﷺ سے تنہائی میں ملنے اور عرض معروض کرنے کی راہ کھلی ہوئی ہے۔
Ayah 58:13(اشفقتما ان تقدموا بین یدی تجولکم صداقت فاذلکم تفعلوا و تاب اللہ علیکم فاقیموالصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ واطیعوا اللہ ورسولہ واللہ خبیر بما تعملون) (13)۔
(ناسخ اور منسوخ دونوں یکجا ہیں)۔ یہ آیت کچھ عرصہ کے بعد سابق آیت کے حکم کو منسوخ کرنے کے لیے نازل ہوئی لیکن اس کو جگہ یہیں سورة کے بیچ میں اصل ابتدائی حکم کے ساتھ ہی دی گئی تاکہ منسوخ اور ناسخ دونوں آیتیں یکجا ہوجائیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان اتنا وقفہ گزرا ہوگا کہ سابق حکم کا مقصد فی الجملہ پورا ہوگیا ہوگا یعنی منافقین کی سرگوشیوں کا وہ فتنہ دب گیا ہوگا جس کو دبانے کے لیے صدقہ کا مذکورہ بالا حکم نازل ہوا۔ لیکن بعض تفسیری روایات سے کچھ ایسا مترشح ہوتا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے درمیان بس صبح و شام کا فاصلہ ہے۔ غالباً اس خیال کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں قرآن میں ایک ہی جگہ ہیں لیکن ہر چیز اس بات کی دلیل نہیں ہو سکتی کہ دونوں کے زمانہ نزول میں سرے سے کوئی فرق ہی نہ ہو یا محض برائے نام فرق ہو۔ قرآن میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ناسخ آیت عرصہ کے بعد نازل ہوئی لیکن ترتیب میں اس کو جگہ منسوخ حکم کے ساتھ ہی ملی۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورة مزمل میں موجود ہے۔
آنحضرت ﷺ سے تنہائی کی ملاقاتوں پر جو پابندی عائد کی گئی وہ جیسا کہ ہم نے وضاحت کی، ایک خاص فتنہ کے سدباب کے لیے، ایک خاص دور میں عائد کی گئی تھی۔ یہ پابندی اسی وقت اٹھائی گئی ہوگی جب یہ فتنہ یا تودب گیا ہوگا یا لوگوں کے اندر اس سے احتراز کا احساس پیدا ہوگیا ہوگا، یہ مقصد چند گھنٹوں میں پورا نہیں ہوسکتا۔ اس میں لازماً کچھ وقت صرف ہوا ہوگا اس وجہ سے ان دونوں آیتوں کے زمانہ نزول میں اتنا بعد لازماً ہوگا جتنا اس طرح کے کسی مقصد کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہے۔
(متفقتم ان تقدموا بین یدی نجولکم صدقت)۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے کا رجحان جو بہت بڑھ رہا تھا وہ اس حکم کے بعد دب گیا۔ منافقین تو اپنی بخالت کے سبب سے رک گئے ہوں گے اور مخلصین غربت کے علاوہ اس وجہ سے بھی محتاط ہوگئے ہوں گے کہ انہوں نے اندازہ کرلیا ہوگا کہ نبی ﷺ سے راز دارانہ کوئی بات کرنی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ بہر حال اس ہنگامی حکم سے جو اصل مقصود تھا جب ایک حد تک وہ حاصل ہوگیا تو یہ منسوخ کردیا گیا۔ (فاذلم تفعلوا وتاب اللہ علیکم) سے ایک تو یہ بات نکلتی ہے کہ لوگوں نے نہ تو نبی ﷺ سے راز دار نہ بات کرنے کی جرأت کی، نہ صدقہ دینے کی نوبت پیش آئی اور دوسری بات یہ نکلتی ہے کہ لوگوں کے اندر فی الجملہ ندامت کا احساس ابھرا کہ اب تک ان کی جو روش رسول کے معاملے میں رہی وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ نہیں تھی اس وجہ سے وہ مستحق تادیب و تنبیہ ٹھہرے۔ (تاب اللہ علیکم) کے معنی ہیں اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ نظر کرم ان پر اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے اپنے احساس ندامت سے اپنے آپ کو اس کا سزا دار بنایا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ سخت دل ایسے بھی رہے ہوں جو اس تنبیہ کے بعد بھی متنبہ نہ ہوئے ہوں لیکن آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی لوگوں کے اندر ندامت کا احساس پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جب جماعت کے اندر کوئی اچھا احساس بحیثیت مجموعی ابھرتا ہے تو اس کو وہ قبولیت سے محروم نہیں فرماتا چناچہ یہ پابندی اٹھالی گئی۔
(فاقیموا الصلوٰۃ واتو الزکوۃ۔۔۔۔ الایۃ) یہ بات بطور بدرقہ ارشاد ہوئی ہے کہ یہ پابندی اگرچہ اٹھالی گئی لیکن احتیاط کے طور پر ضروری ہے کہ نماز و زکوٰۃ اور اللہ و رسول کی اطاعت کا خاص اہتمام رکھو تاکہ معاشرے میں اس طرح کی بحرانی کیفیت پھر نہ پیدا ہونے پائے اور شیطان کو نجویٰ کا فتنہ اٹھانے کا موقع پھر نہ مل سکے۔ (واللہ خیبر بما تعملون) اور اس حقیقت کو ہمیشہ مستحضر رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے)
Ayah 58:146۔ آگے آیات 14۔ 22 کا مضمون
بیچ میں جو ناسخ آیت آگئی تھی اس کی نوعیت جملہ معترضہ کی تھی۔ اس کے ختم ہوتے ہی مسئلہ کلام پھر منافقین کے ذکر سے مربوط ہوگیا اور یہ بتایا گیا کہ ان منافقین کا اصل رشتہ اسلام کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام کے دشمن یہود کے ساتھ ہے۔ یہ ان سے دوستی رکھتے ہیں اور اپنی جھوٹی قسموں کے بل پر مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے ہیں۔ ان کی اصل بیماری دنیا کی محبت ہے جس کے سبب سے یہ شیطان کے ساتھی بنے ہوئے ہیں اور اللہ کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ غلبہ اللہ اور اس کے رسول کر حاصل ہوگا اور شیطان کی پارٹی شکست کھائے گی۔ ایمان باللہ کے ساتھ اعدائے دین کی دوستی جمع نہیں ہو سکتی۔ سچے اہل ایمان وہی ہیں جو اعدائے دین سے اپنے تمام تعلقات کاٹ لیں اگرچہ وہ ان کے کتنے ہی قریبی رشتہ دار اور عزیز ہوں۔ یہی لوگ اللہ کی پارٹی ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق آیات کی وضاحت
(الم ترالی الذین تولوا قوما غضب اللہ علیھم ما ھم منکم ولا منھم ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون) (14)
(منافقین اپنے مفاد کے سوا کسی کے ساتھی نہیں ہیں)۔ یہ ان منافقین کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ ایک طرف تو یہ ان لوگوں کے دوست بنے ہوئے ہیں جو اللہ کے مغضوب ہیں دوسری طرف یہ تم کو (مسلمانوں کو) بھی قسمیں کھا کھا کے یقین دلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ فرمایا کہ (ما ھم منکم ولا منھم) نہ یہ لوگ تمہارے ساتھ ہیں اور نہ ان کے ساتھ ہیں۔ تمہارے ساتھ تو اس وجہ سے نہیں ہیں کہ اللہ اور رسول پر ایمان اور اللہ کے مغضوبوں کے ساتھ دوستی ہیں نسبت ضدین کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتیں اور ان کے ساتھ یہ اس وجہ سے نہیں ہیں کہ ان کی دوستی اپنے مفاد کے ساتھ ہے۔ اگر ان پر کوئی سخت وقت آیا تو یہ ان کی خاطر کوئی چوٹ کھانے کو تیار نہیں ہوں گے بلکہ شیطان کی طرح اظہار برأت کر کے بھاگ کھڑے ہوں گے۔
(ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون) یعنی وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے مفاد کے سوا وہ کسی کے ساتھ نہیں ہیں لیکن وہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کے تم کو بھی راضی رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کو بھی (غضب اللہ علیھم) سے اشارہ یہود کی طرف ہے جن کو قرآن کی پہلی ہی سورة میں (مغضوب علیھم) کہا گیا ہے۔ اگرچہ ان منافقین کی دوستی مشرکین مکہ سے بھی تھی جس کا ذکر تفصیل سے اگلی سورتوں میں آئے گا لیکن یہاں خاص طور پر یہود کے ساتھ ان کی سوالات کی طرف اشارہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ منافقین زیادہ تر یہود ہی کے ساختہ پر داختہ اور انہی کے ایجنٹ کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر گھسے ہوئے تھے۔
Ayah 58:15(اعد اللہ لھم عذابا شدید انھم ساء ما گانو یعملون) (15)۔
یعنی یہ بد قسمت لوگ سمجھے رہے ہیں کہ انہوں نے بڑی دانشمندانہ سیاست اختیار کی ہے کہ اپنی قسموں کے ذریعہ سے دونوں کو مطمئن کر رکھا ہے حالانکہ یہ دانشمندانہ سیاست نہیں بلکہ نہایت مہلک کھیل ہے جو یہ کھیل رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس سے یہ دو چار ہوں گے۔ اللہ اور رسول کے دشمنوں پر اس دنیا میں جو عذاب آئے گا۔ یہ اس میں بھی پائیں گے اور آخرت میں ان کے لیے جو عذاب ہے وہ تو ہے کی۔