Ayah 58:16(اتخذوا ایمانھم جنۃ فصدوا عن سبیل اللہ فلھم عذاب مھین) (16)۔
(جھوٹی قسموں کی آڑ میں چھپنے کی کوشش)۔ انہوں نے قسموں کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے ان کی جس غلطی پر بھی گرفت کی جائے اس کے بارے میں جھوٹی قسموں سے یہ اطمینان دہانی کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح اپنی دانست میں اپنے کو بچا لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان قسموں کی آڑ میں انہوں نے اپنے لیے جائے پناہ بنائی ہے تاکہ دین کے مطالبات سے اپنے کو بچائے رکھیں، ایمان کا اظہار کر کے اللہ کی راہ میں انہوں نے جو قدم اٹھایا تھا اس کو روک لیا اور اب آگے بڑھنے کے بجائے قسموں کے ذریعہ سے اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ اس طرح کب تک اپنا بھرم قائم رکھیں گے۔ بالآخر ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
لفظ صد قرآن میں لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ لازم معنی میں ہے یعنی اللہ کی راہ میں آگے بڑھنے سے رک گئے۔
Ayah 58:17(لن تغنی عنھم امرالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا اولیک اصحب النار ھم فیھا خلدون) (17)۔ یہ ان بیڑیوں کی طرف اشارہ ہے جو ان کے پائوں میں پڑی ہوئی ہیں اور جو اللہ کی راہ میں ان کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اموال و املاک اور بیوی بچوں کی محبت میں گرفتار ہیں اس وجہ سے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ان کے مال اور ان کی اولاد خدا کے عذاب سے ان کو ذرا بھی بچانے والے نہیں ہیں۔ (من اللہ) میں مضاف مخذوف ہے یعنی (من عذاب اللہ)۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں گرفتار رہے تو یہ چیز ان کو جہنم میں لے جائے گی اور پھر یہ اس سے کبھی نہیں چھوٹیں گے۔
Ayah 58:18(یوم یبعثھم اللہ جمعیاً فیحلفون لہ کما یحلفون لکم یحسبلون انھم علی شی الا انھم ھم الکذبون) (18)
اگر یہ اسی طرح مال و اولاد کی محبت میں پھنسے ہوئے دین کے تقاضوں سے بھاگتے رہے تو اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان کو اور ان کی اولاد کو اٹھائے گا اور اس دن بھی ان کے پاس اس جھوٹی قسم کے سوا کوئی اور سہارا نہیں ہوگا جس کا سہارا انہوں نے آج لے رکھا ہے۔ اس دن وہ اپنے رب کے سامنے اپنی بریت میں اسی طرح جھوٹی قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھا رہے ہیں۔ سورة انعام کی آیت 23 میں مشرکین کے بارے میں مشرکین کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جب عذاب دیکھیں گے تو قسم کھا کر اپنی بےگناہی کا اظہار کریں گے کہ (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) (اللہ ہمارے خداوند کی قسم، ہم شریک ٹھہرانے والوں میں نہیں تھے)۔
(ویحسبون انھم علی شی) یعنی جھوٹی قسم کھا کر سمجھیں گے کہ اپنی بےگناہی کے ثبوت میں ایک بہت بڑی دلیل انہوں نے پیش کردی اور کریں گے کہ جس طرح اس دنیا میں انہوں نے جھوٹی قسموں سے بہتوں کو فریب دے رکھا ہے اسی طرح آخرت میں بھی ان کا فریب چل جائے گا لیکن وہاں ان کا یہ فریب کچھ کام نہ دے گا۔ اس دن اللہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پائوں اور ان کے دوسرے اعضاء وجوارح ان کے جرائم کی خود گواہی دیں گے جس کے بعد کسی کے لیے کسی معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
؎(الاانھم ھم الکذبون)۔ فرمایا کہ سب کان کھول کر اچھی طرح سن لیں کہ اگر کسی نے غلط فہمی سے ان کو سچا گمان کر رکھا ہے تو وہ اس گمان کو اپنے ذہن سے نکال دے۔ اصل جھوٹے یہی ہیں جنہوں نے یہاں بھی لوگوں کو اپنے جھوٹ سے مغالطہ دے رکھا ہے اور آخرت میں اپنے رب کو بھی دھوکا دینے کی جسارت کریں گے۔
Ayah 58:19(استحوذ علیھم الشیطن فانسھم ذکر اللہ اولیک حزب الشیطن الا ان حزب الشیطن ھم الخسرون) (19)۔
(جو خدا کو بھلا بیٹھتا ہے وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے)۔ (استحوذ علیھم) کے معنی ہیں (تسلط علیھم) شیطان نے ان پر اپنا پورا تسلط جما لیا ہے۔ شیطان جن پر پورا تسلط جما لیتا ہے ان کو خدا کو یاد سے بالکل غافل کردیتا ہے اور جو خدا کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ وہ شیطان کی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ جہاں تک وسوسہ اندازی کا تعلق ہے شیطان سب سے اپنا یہ ہنر آزمایا ہے لیکن اس کا تسلط انہی پر جمتا ہے جو اس کی وسوسہ اندازیوں کے لیے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیتے اور اس کو اپنا ناصح و مرشدسمجھنے لگتے ہیں۔ جو لوگ اس طرح اس کے مرید بن جاتے ہیں ان کے دلوں سے خدا کی یاد بالکل غائب ہوجاتی ہے پھر وہ اپنی عاقبت سے بالکل بےپروا ہو کر اپنی باگ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ سب شیطان کی پارٹی کے ممبر بن جاتے ہیں اور شیطان ان کا لیڈر بن کر ان کو جدھر چاہتا ہے آوارہ گردی کراتا ہے۔ انسان کی اصل محافظ خدا کی یاد ہے۔ اس سے محروم ہوجانے کے بعد وہ شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور پھر اس کو اس کے چنگل سے چھوٹنا نصیب نہیں ہوتا۔
(شیطان کی پارٹی کے لیے نامرادی مقدر ہے)۔ (الا ان حزب الشیطن ھم الخسرون) فرمایا کہ اس دنیا میں اگرچہ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے قانون کے تحت ایک خاص حد تک مہلت عمل ملی ہوئی ہے، چناچہ شیطان کی پارٹی کو بھی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنا ہنر آزمالے لیکن ہر شخص اچھی طرح جان لے کہ بالآخر شیطان کی پارٹی ہی نامراد ہونے والی ہے۔
Ayah 58:20(ان الذین یحادون اللہ ورسولہ اولیک فی الاذلین) (20) شیطان کی پارٹی کا اصل کام اللہ و رسول کی مخالفت اور ان کے مقابل میں محاذ آرائی ہے۔ فرمایا کہ ان کو جتنی ڈھیل ملتی ہے یہ اللہ اور رسول کے خلاف زور آزمائی کرتے ہیں لیکن بالآخر یہ انہی ذلیل ہونے والی میں شامل ہوتے ہیں جو ان سے پہلے یہ زور آزمائی کر کے ذلیل ہوچکے ہیں۔
Ayah 58:21(کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ان اللہ قوی عزیز) (21)۔
(رسول کے باب میں سنت الٰہی)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا اعلان فرمایا ہے جو ازل ہے اس نے لکھ رکھی ہے کہ جو کشمکش اللہ و رسول اور حزب الشیطان کے درمیان برپا ہوگی اس میں غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کو حاصل ہوگا، شیطان کی پارٹی ذلیل و خوار ہوگی۔ اس سنت اللہ کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ رسول جتنے بھی دنیا میں آئے وہ جس قوم کے اندر آئے اس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آئے۔ اس کے بعد اس قوم کا لازماً فیصلہ ہوگیا۔ اگر قوم نے بحیثیت مجموعی رسول کی تکذیب کردی تو اس کے اندر سے رسول اور اس پر ایمان لانے والے افراد کو الگ کر کے باقی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی عذاب کے ذریعہ سے فنا کردیا اور اگر ایمان لانے والوں کی تعداد متعدبہ ہوئی تو اتمام حجت کے بعد اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ وہ جہاد کے لیے تلوار اٹھائیں اور ان اعدائے حق سے مقابلہ کر کے ان کا زور توڑ دیں کہ زمین ان کے فتنہ سے پاک ہوجائے۔ قرآن نے رسولوں کی جو تاریخ پیش کی ہے ان میں سے اکثر کو پہلی صورت پیش آئی یعنی رسول اور اس کے ساتھیوں کی ہجرت کے بعد قوم پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کن عذاب آگیا۔ صرف آنحضرت ﷺ کے معاملے میں دوسری صورت پیش آئی کہ ہجرت کے بعد آپ کو جہاد کا حکم ہوا اور آپ کے اعداء نے آپ کے صحابہ ؓ کی تلوار سے شکست کھائی یہاں تک کہ ان کا بالکل قلع قمع ہوگیا۔ (ان اللہ قری عزیز) یہ اس دعوے کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ کیوں اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے غلبہ لازمی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہ قوی و عزیز ہے۔ وہ (ا ؎۔ یہاں نبی اور رسول کے درمیان وہ فرق ملحوظ رہے جو ہم نے اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کیا ہے)۔ جب اپنے بندوں کے پاس اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ رسول اللہ کا سفیر ہوتا ہے جو لوگوں کے پاس ان کے حقیقی بادشاہ کے احکام سے آگاہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ اگر لوگ اپنے مالک حقیقی کے احکام کی بجا آوری کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ زمین میں ان کو اقتدار بخشتا اور ان کو اپنے افضال و غیایات سے نوازتا ہے اور اگر وہ خود اللہ سے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ باغی قرار پاتے ہیں اور اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ ان باغیوں کے وجود سے اپنی زمین کو پاک کردیتا ہے۔
Ayah 58:22(لا تجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاذ اللہ ورسولہ ولو گانو اباء ھم اوا بناء ھم اوا حوانھم او عشیرتھم اولیک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا رضی اللہ عنھم ورضواعنہ اولیک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون (22)۔
(منافقین کے سامنے ایک واضح کسوٹی)۔ اب یہ آخر میں ایک نہایت واضح کسوٹی منافقین کے سامنے رکھ دی تاکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان کوئی التباس باقی نہ رہے اور وہ جس کا بھی ساتھ دیں علی وجہ البصیرت ساتھ دیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں میں سے وہ ایک ہی کو اختیار کرسکتے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ بیک وقت وہ دونوں کے ساتھ چل سکیں۔ فرمایا کہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی قوم اللہ اور روز آخرت پر ایمان بھی رکھتی ہو اور ان لوگوں سے دوستی بھی گانٹھے رکھے جو اللہ اور رسول سے نبرد آزمائی کر رہے ہیں۔ اگر کوئی جماعت اللہ و رسول کے مخالفین کے ساتھ دوستی بھی رکھتی ہے اور ساتھ ہی ایمان کی بھی مدعی ہے تو وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹی ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں میں نسبت ضدین کی ہے اور انسان کے پہلو میں دل ایک ہی ہوتا ہے، دو دل نہیں ہوتے کہ وہ دو متضادو متحارب چیزوں کی محبت اپنے اندر جمع کرسکے۔ (ولو کانو اباءھم اوابناءھم او اخوانھم او عشیرتھم) یعنی دوسرے رشتے اور روابط تو درکنار، باپ، بیٹے، بھائی اور کنبہ و قبیلہ کے روابط جو سب سے زیادہ قریبی ہیں اور جن کے ساتھ انسان کو فطری وابستگی ہوتی ہے، وہ بھی یہ درجہ نہیں رکھتے کہ وہ ایمان کے ساتھ متصادم ہوں تو کوئی مومن ان کو اپنے دل میں جگہ دے۔
(اولیک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ) یعنی جو لوگ اس کسوٹی پر اپنے کو پرکھنے اور پرکھوانے کے لیے تیار ہوں در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرمایا ہے اور ان کو اپنی طرف سے ایک خاص فیضان روحانی سے نوارا ہے۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کے مدعی بھی ہیں اور اللہ و رسول کے دشمنوں سے ساز باز رکھتے ہیں تو یہ لوگ محض زبان کے مسلمان ہیں اس کے دل ایمان سے آشنا نہیں ہوئے۔ (ایدھم بروح منہ) کے الفاظ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ باپ، بیٹے، بھائی اور کنبہ و قبیلہ کے روابطہ دل کے ریشہ ریشہ میں رچے بسے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کو کاٹ دینا کوئی آسان بازی نہیں ہے لیکن جو لوگ ایمان کی غیرت و حرمت اپنے اندر زندہ رکھتے ہیں جب ان کو اس طرح کی کوئی نازک آزمائش پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص روحانی فیض سے ان کو قوت بہم پہنچاتا ہے اور وہ اس آزمائش سے بھی سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔ ع
فیض روح القدس اور باز مدد فرماید دیگراں ہم بہ کنند آنچہ مسیحا می کرد
یہ اسی فیض روحانی کا کرشمہ تھا کہ ابو عبیدہ ابن جراح ؓ نے غزوہ احد میں اپنے باپ عبد اللہ الجراح پر تلوار چلائی، سیدنا ابوبکر ؓ نے بدر میں اپنے فرزند کو للکارا، مصعب بن عمیہ ؓ نے احد میں اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا اور علی، حمزہ اور ابو عبیدہ ؓ نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو لقمہ اجل بنایا۔ (ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا) یعنی زندگی میں اللہ نے ان کو رسوخ ایمان اور فیضان روحانی سے نوازا اور ان کو پابرجا رکھا اور مرنے کے بعد ان کو جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (رضی اللہ عنھم ورضواعنہ) یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو ان کو اس دن حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا کہ انہوں نے جس ایمان کا اقرار کیا اس کا پورا حق ادا کردیا، جس امتحان میں بھی وہ ڈالے گئے اس میں پورے اترے، اس دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے جس کردار کا مظاہرہ چاہتا ہے انہوں نے ہر امتحان میں اسی کردار کا مظاہرہ کیا اس وجہ سے رب کریم ان کو شاباش دے گا کہ ہم تم سے راضی ہوئے۔ ہم نے جو چاہا وہ تم نے پورا کر رکھا۔ اب تم ہم سے جو چاہو گے وہ تمہیں ملے گا۔
وہ اللہ سے راضی ہوئے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے جن وعدوں پر اس دنیا میں جیے اور مرے وہ سارے وعدے انکی امیدوں اور ان کے گمانوں اور قیاسوں سے کہیں بہتر شکل میں ان کے سامنے آئیں گے اور وہ اس طرح نہال ہوجائیں گے کہ ان کے دل کا ہر ارمان پورا ہو ائے گا۔ (اولیک حزب اللہ الا ان حزب اللہ ھم المفلحون) فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جن کو حزب اللہ میں ہونے کا شرف حاصل ہے اور یہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے۔ اوپر حزب الشیطان اور اس کی خصوصیات کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب حزب اللہ کے ذکر پر یہ سورة تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی ذلک، اللھم ارنا الحق حقاوارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزفنا اجتنابہ) (رحمان آباد۔ 10 جنوری 1978 ء۔ 29 محرم الحرام 1398۔