57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة الواقعۃ کی مثنیٰ ہے۔ اگرچہ دونوں میں مکی اور مدنی ہونے کے اعتبار سے فی الجملہ زمانی اور مکانی بعد ہے لیکن معنوی اعتبار سے دونوں میں غایت درجہ ربط و اتصال ہے۔ سابق سورة میں یہ اصولی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ جزاء و سزا کا دن لازماً آ کے رہے گا اور اس دن لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک گروہ سابقوں اولون کا ہوگا، دوسرا اصحاب یمین کا، تیسرا اصحاب شمال کا۔ اس سورة میں خاص طور پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کو سابقین اولین کی صفت میں اپنی جگہ پیدا کرنے پر ابھارا ہے اور اس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے پہلے جو لوگ جہاد و انفاق کریں گے وہ سابقین کے زمرے میں شامل ہوں گے اور ان کا مرتبہ ان لوگوں سے اونچا ہوگا جو فتح مکہ کے بعد جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کریں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے تاہم تقرب الٰہی کے اعتبار سے دونوں میں جو فرق ہے وہ واضح ہے۔ اسی ضمن میں ان مسلمانوں کو جہاد و انفاق پر ابھارا ہے جو اسلام میں داخل تو ہوگئے تھے لیکن ایمان کے متقضیات سے اچھی طرح آشنا نہ ہونے کے سبب سے، اس کے مطالبات پورے کرنے کے معاملے میں کمزور تھے۔ ان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر دنیا کی محبت میں پھنس کر تم نے آخرت کی ابدی بادشاہی حاصل کرنے کا حوصلہ کھو دیا تو یاد رکھو کہ بالآخر یہود کی طرح تمہارے دل بھی سخت ہوجائیں گے اور تمہارا انجام وہی ہوگا جو ان کا ہوا۔ اس معنویرابطہ کے ساتھ ساتھ دونوں صورتوں میں ظاہری ربط بھی نہایت واضح ہے۔ سابق سورة کا خاتمہ (فسبح باسم ربک العظیم) کے الفاظ پر ہوا ہے اور اس کا آغامز ( سبح للہ ما فی السموات والارض) الایۃ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ گویا اس کی آخری اور اس کی پہلی آیت نے ایک حلقہ اتصال کی شکل اختیار کر کے دونوں کو نہایت خوبصورتی سے باہم وگر مربوط کردیا ہے اس قسم کے ربط کی نہایت خوبصورت مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور یہ قرآن کے ایک منظم و مربوط کتاب ہونے کا ایک واضح قرینہ ہے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (١۔ ٦) ۔ سورة کی تمہید جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات عزت، حکمت، قدرت، علم، خلق اور تدبیر کی طرف ایک جامع اشارہ ہے جس سے مقصود اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جو ان صفات سے متصف ہے وہی آخرت میں سب کا مرجع ومولیٰ بھی ہوگا اس وجہ سے وہی حمد و تسبیح کا سزا وار ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز اس کی تسبیح کر رہی ہے اور اپنے عمل سے انسانوں کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ بھی اسی کی بندگی اور اس بندگی میں کسی اور کو اس کا شریک نہ بنائیں۔ (٧۔ ١٠) مسلمانوں کو عموماً اور ضعیف الایمان مسلمانوں کو خصوصاً یہ تنبیہ کہ رسول سے ( سمعنا واطعنا) کا جو عہد انہوں نے کیا ہے اس کے تقاضے عزم و ہمت سے پورے کریں۔ آج اللہ کا رسول جہاد و انفاق کی جو دعوت دے رہا ہے اس پر لبیک کہنا ایمان کا بدیہی تقاضا ہے۔ یہی چیز لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے گی۔ جو لوگ آج انفاق و جہاد کریں گے ان کا مرتبہ ان لوگوں سے اونچا ہوگا جو اس وقت جہاد و انفاق کریں گے جب مکہ فتح ہوجائے گا۔ اگرچہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ کا معاملہ اچھا ہی ہوگا۔ (١١۔ ١٥) اللہ کی راہ میں انفاق قیامت کے دن ان لوگوں کے لیے روشنی بنے گا جو اخلاص کے ساتھ انفاق کریں گے۔ اس روشنی سے وہ لوگ محروم رہیں گے جو نفاق کے سبب سے انفاق سے جی چراتے رہے۔ اس طرح کے لوگ ایمان والوں سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہمیں بھی اپنی روشنی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیجئے لیکن ان کو جواب ملے گا کہ اس روشنی کو حاصل کرنے کا وقت پیچھے تھا جو تم نے کھودیا۔ اب یہ چیز تمہیں نصیب ہونے والی نہیں ہے۔ اسکے بعد ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوارکھڑی کردی جائے گی جس کے ایک طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوگی اور دوسری جانب اس کا عذاب بھڑک رہا ہوگا۔ (١٦۔ ١٧) منافقین کو تہدید کہا گر غلبہ حق کی اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی تمہاری آنکھیں نہ کھیلیں تم اسی طرح تردد و تذبذب میں مبتلا اور خدا کی راہ میں انفاق سے جی چراتے رہے تو یاد رکھو کہ تمہارے دل بھی اسی طرح سخت ہوجائیں گے جس طرح بہبود کے دل سخت ہوگئے اور پھر تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جوان کا ہوا۔ یاد رکھو کہ آخرت لازمی ہے نہ اس کی جزاء سے مایوس ہونا جائز ہے نہ اس کی سزا سے بےخوف ہونا۔ (١٨، ١٩) جو لوگ اللہ کی راہ میں انفاق اور جہاد کرتے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے بلکہ انکی ہر قربانی کا صلہ ان کو مضاعف ہو کر ملے گا۔ یہی انفاق و جہاد زینہ سے اس مرتبہ تک پہنچنے کا صدیقین و شہدا کے لیے خاص ہے اور اسی کے صلہ میں وہ روشنی ملے گی جس سے منافقین محروم رکھے جائیں گے۔ (٢٠، ٢١) ان لوگوں کی پست حوصلگی اور تنگ دامنی پر اظہار افسوس جو اس دنیا کی چند روزہ لذتوں پر فریفتہ ہو کر اپنے رب کی مغفرت اور اس وسیع جنت کو بھول بیٹھے جس کی وسعت، زمین و آسمان کی وسعت کے مانند ہوگی۔ (٢٢، ٢٤) اس حقیقت کی یاددہانی کہ فقر وغنا کا تعلق انسان کی اپنی سعی و تدبیر سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ سختی و نرمی دونوں حالتوں میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے۔ اگر اس کو اللہ نے مال دے رکھا ہے تو وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہ کے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھے کہ اللہ کے اختیار میں جس طرح بخشنا ہے اسی طرح چھین لینا بھی ہے۔ (٢٥۔ ٢٧) ان لوگوں کے زعم کی تردید جو مذہب کے رہنمائی تصور کے تحت جہاد بالسیف اور اس راہ میں انفاق دنیا داری سمجھتے اور مسلمانوں کے شوق جہاد پر طعن کر رہے تھے۔ نبیوں اور رسولوں کی تاریخ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ جہاد انبیاء (علیہم السلام) کی سنت ہے اور رہبانیت نصاریٰ کی ایجاد کردہ بدعت ہے جو انہوں نے اپنے دین میں غلو کی راہ سے پیدا کی ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل تعلیم سے اس کو رئی تعلق نہیں ہے۔ ( ٢٨، ٢٩) مسلمانوں کو یہ تلقین کہ تم اللہ کے رسول کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے سرفروشانہ جہاد کے لیے اٹھو اور اس راہ میں پوری فیاضی سے اپنے مال خرچ کرو۔ اہل کتاب میں سے جو مفسدین تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ اندازی کر رہے ہیں کہ جہاد ایک دنیا دارانہ کام ہے انکی وسوسہ اندازیوں کو نظر اندازکرو۔ قیام دل کے لیے جہاد ابتداء سے انبیاء (علیہم السلام) کی سنت ہے اور تم کو انہی کی سنت کی پیروی دعوت دی گئی ہے۔ نصاریٰ نے جو رہبانیت ایجاد کی ہے اس کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ حسد کا بخا رہے جو تمہارے خلاف نکال رہے ہیں لیکن ان کے حسد کے علی الرغم اللہ تعالیٰ تمہیں وہ مقام دے کر رہے گا جو اس نے تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہے۔

Ayah 57:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

(اللہ کی تسبیح کرتی ہیں ساری چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ غالب و حکیم ہے۔

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (سبح للہ ما فی السموات والارض وھو العزیز الحکیم) (1) (تسبیح کی حقیقت اور اس کے مختلف پہلو)۔ لفظ تسبیح کی وضاحت جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس کے اندر تنزیہہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور بندگی و عبادت کا بھی یہ چیز قول سے بھی ہوتی ہے اور عمل سے بھی۔ زبان سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا بھی تسبیح ہے اور نماز پڑھنا اور اس کے حضور میں قیام، رکوع اور سجود بھی تسبیح ہے۔ اس کی شکلیں مختلف ہیں۔ کائنات کی ہر چیز کسی نہ کسی صورت میں اپنے رب کی تسبیح کرتی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ جو انسان طوعاً تسبیح نہیں کرتے ہیں انہیں تکوینی دائرے میں کرھایہ کام کرنا پڑتا ہے۔ چناچہ اسی بنیاد پر لوگوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار اور دائرہ تکوین میں بےربطی نہ پیدا کریں۔ اس نکتہ کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ کائنات کی تمام چیزوں کی تسبیح کا حوالہ قرآن میں جہاں جہاں دیا گیا ہے وہ بالعموم تین مقاصد کو سامنے رکھ کردیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کو اس حق کی یاددہانی کی جائے کہ جب اس کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے خالق ومالک کا حق پہچانتی اور اس کی تسبیح کرتی ہے تو انسان پر بدرجہ اولیٰ یہ حق عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی تسبیح کرے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ بخشا اور اپنی خلافت کی خلعت سے نوازا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ دنیا میں ناسپاسوں کی کثرت دیکھ کر بددل اور پست حوصلہ نہ ہوں۔ اگر انسانوں میں اپنے رب کا حق پہچاننے والے تھوڑے ہیں تو یہ چیز دل برداشتہ ہونے کی نہیں ہے۔ باقی ساری کائنات کی ہر چیز اپنے رب کی تسبیح و تقدس میں سرگرم ہے۔ اس راہ کا مسافر تنہا نہیں ہے بلکہ قافلوں سے بھیر ہوئی راہ یہی ہے۔ تیسرا یہ کہ ان لوگوں سے اظہار بےنیازی کیا جائے جو یاددہانی کے باوجود اللہ تعالیٰ کی بندگی سے گریز کر رہے ہیں اور ان کو بتایا جائے کہ اگر وہ خدا کی تسبیح نہیں کرتے تو خدا ان کی تسبیح کا محتاج نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز اس کی تسبیح کر رہی ہے، اگر کچھ بد قسمت انسان اس سے گریز کر رہے ہیں تو وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں بلکہ اپنا ہی بگاڑ رہے ہیں۔ قرآن میں بعض جگہ یہ تینوں مطالب پیش نظر ہیں۔ بعض جگہ ان میں سے ایک یا دو مد نظر ہیں۔ ان میں امتیاز کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے اگر سر رشتہ نظم پر نگاہ جمی رہے تو غور کرنے والا آسانی سے امتیاز کرلیتا ہے۔ (صفات عزیز و حکیم کے تقاضے)۔ (وھو العزیز الحکیم) یعنی اللہ تعالیٰ چونکہ عزیز اور ساتھ ہی حکیم ہے اس وجہ سے وہی حق دار ہے کہ سب اس کی تسبیح و بندگی کریں۔ عزیز یعنی ہر چیز پر غالب، ہر اختیار کا مالک، کوئی نہیں جو اس کی دسترس سے باہر ہو، کوئی نہیں جو اس کو دبا سکے یا اپنے زور سے اس پر اثر انداز ہو سکے۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اس کا ہر فعل حکمت، عدل اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے زور میں جو چاہے کر ڈالے خواہ اس میں کوئی حکمت وغایت ہو یا نہ ہو۔ یہ کائنات اس کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے اور یہ اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہے کہ اس کو وجود میں لانے والاہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام میں اتھاہ حکمت پوشیدہ ہے۔ اس کی یہ حکمت مقتضی ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ان لوگوں کو صلہ عطا فرمائے جنہوں نے اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر زندگی گزار دی اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کے حدود سے تجاوز کیا، اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو یہ اس کی عزت وقدرت کے منافی ہے اور اگر کرسکنے کے باوصف نہ کرے تو یہ اس کی حکمت اور اس کے عدل و رحمت کے منافی ہے۔ اس کے بغیر یہ دنیا بازیچہ اطفال اور ایک اندھیر نگری بن کے رہ جاتی ہے اور ایک عزیز و حکیم کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ اتنا بڑا کارخانہ محض کھیل تماشے کے طور پر بنا ڈالے۔
Ayah 57:2

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(لہ ملک السموات والارض یحی ویمت و ھو علی کل شی قدیر) (2) (مزید صفات کا حوالہ)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے ہاتھ میں ہے، کوئی دوسرا اس کے اقتدار میں ساجھی نہیں ہے کہ کسی قسم کی مداخلت کرسکے، یحییٰ و یمیت وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ یعنی جب زندگی اس کی بخشی ہوئی ہے اور موت بھی اسی کے حکم سے واقع ہوتی ہے تو اس کی بادشای میں کسی اور کی حصہ داری کی گنجائش کہاں سے نکلی۔ (وھو علی کل شی قدیر) یعنی کوئی کام اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کہ وہ کسی معاون و مدد گا رکا محتاج ہو۔ اپنی مملکت کے ایک ایک چپہ پر وہ خود قابض و متصرف ہے اور جو چاہے براہ راست اپنے کلمہ کن سے کرسکتا ہے۔
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی اہل بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی اور باطن بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

(ھو الاول والاخر والظاھر والباطن و ھو بالکل شئی علیم) (3) احاطہ قدرت کے بعد یہ اس کے احاطہ علم کا بیان ہے کہ وہی اول ہے اور وہی آخر ہے، جب کچھ نہیں تھا وہ تھا اور جب کچھ نہیں ہوگا تب بھی وہ ہوگا۔ اسی نے ہر چیز کا آغاز کیا ہے اور بالآخر ہر چیز کی وراثت اسی کو لوٹنے والی ہے۔ (والظاھر و الباطن) کی تفسیر نبی ﷺ نے یوں فرمائی ہے۔ (انت الظاھر فلیس فوتک شی وانت الباطن فلیس دونک شی) (تو ظاہر ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوپر نہیں اور تو باطن ہے پس کوئی چیز تجھ سے اوجھل نہیں) آیت 13 میں یہ الفاظ بالکل اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں جس معنی میں ہم اندر باہر کے الفاظ بولتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا علم اندو باہر ہر چیز کو محیط ہے۔ (وھو بکل شی علیم) یہ ایک کلیہ کی شکل میں خلاصہ سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ ہر چیزکو جانتا ہے۔ اسکے لیے ظاہر و باطن سب یکساں ہے۔
Ayah 57:4

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا چھ دنوں میں پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ وہ جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہوتے ہو اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو وہ سب کو دیکھتا ہے۔

(ھوالذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو معکم این ما کنتمو اللہ بما تعملون بصیر) (4) یہ اس احاطہ علم وقدرت کی مزید تفصیل ہے کہ اللہ ہی نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور انکو پیدا کرکے ان کا انتظام دوسروں کے سر ڈال کر وہ کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے۔ بلکہ وہ بذات خود عرش حکومت پر متمکن ہو کر سامنے انتظام کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ عرش تعبیر سے زمام اقتدار اور حکومت کی۔ فی ستۃ ایام کی وضاحت ہم دوسرے مقامات میں کرچکے ہیں کہ اس سے مراد ہمارے ایام نہیں بلکہ خدائی ایام ہیں۔ (کائنات میں جو اہتمام ہے وہ اس کے با مقصد ہونے کی دلیل ہے)۔ قرآن میں کہیں آسمانوں اور زمین کے چھ دنوں میں پیدا کیے جانے کا ذکر آیا ہے اس سے مقصود اس اہتمام خاص کی طرف ہم کو متوجہ کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے پیدا کرنے میں ملحوظ رکھا ہے۔ اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام سے پیدا کی ہے کس طرح ممکن ہے کہ اس کو پیدا کر کے وہ اس سے بالکل بےتعلق ہو کے بیٹھ رہے ؟ نہ اس کے خیر سے اسے کوئی دلچسپی رہے، نہ اس کے شر سے اسے کوئی تعلق، لوگ جو دھاندلی چاہیں اس میں مچاتے پھریں اور وہ خاموش تماشائی کی طرح تماشادیکھتا رہے ! اگر وہ ایسا کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے یہ ساری کائنات محض ایک کھیل کے طور پر بنائی ہے جس میں اہتمام تو اس نے بہت صرف کیا مگر اس کا مقصد کچھ بھی نہیں (یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا وھو معکم ابن ما کنتم واللہ بما تعملون بصیر) یہ وضاحت ہے اس بات کی کہ وہ نہایت بیدار مغزی اور جزرسی کے ساتھ اپنی مملکت کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ فرمایا کہ زمین میں جو چیز داخل ہوتی ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو چیز نکلتی ہے اسکو بھی جانتا ہے۔ اسی طرح جو چیز آسمان سے اترتی ہے وہ بھی اس کے علم میں ہوتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے اس سے بھی وہ باخبر ہوتا ہے نیز تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
Ayah 57:5

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور تمام امور کا مرجع اللہ ہی ہے۔

(لہ ملک السموات والارض والی اللہ ترجع الامور) (5) یعنی اللہ تعالیٰ صرف ہر چیز سے واقف ہی نہیں ہے بلکہ عملاً تمام امور کا مرجع و ماویٰ بھی وہی ہے۔ سارے امور اسی کے حکم سے جاری ہوتے ہیں اور پھر ان سب کی رپورٹ اسی کے آگے پیش ہوتی ہے۔ اس کے کارندے جملہ ہدایات کے لیے اسی سے رجوع کرتے اور اپنی کارگزاریاں اسی کے حضور میں پیش کرتے ہیں۔ نہ کوئی اپنی صوابدید پر کچھ کرنے کا مجاز ہے اور نہ کوئی اس کے آگے مسئولیت سے بری ہے۔
Ayah 57:6

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

وہی دخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ سینوں کے بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔)

(یولج الیل فی النھار ویولج انھار فی الیل وھو علیم بذات الصدور (6) یعنی یہ رات اور دن کا چکر جو چل رہا ہے نہ اپنے آپ چل رہا ہے اور نہ کوئی اور اس کو چلا رہا ہے بلکہ یہ اللہ ہی ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور نکالتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے تعاقب میں برابر سرگرم تگاپو ہیں۔ (وھو علیم بذات الصدور) یعنی جب دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں کالا نے والا وہی ہے۔ وہی دن کی روشنی نمودار کر کے رات کی عالم گیر تاریکی کو کافور اور اس کی ڈھانکی ہوئی ہر چیز کو بےنقاب کرتا ہے تو اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے۔ وہ ہر مخفی سے مخفی راز یہاں تک کہ عینوں کے بھیدوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

(ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس مال میں سے جس میں اس نے تم کو امین بنایا ہے۔ پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں اور خرچ کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے

2۔ آگے آیات 7۔ 15 کا مضمون آگے ان مسلمانوں کو مخاطب فرمایا ہے جو کلمہ پڑھ کر اور سمعنا واطعنا کا اقرار کرکے مسلمانوں کے زمرے میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن جب انفاق و جہاد کا مرحلہ سامنے آیا تو وہ ایمان کے تقاضے پورے کرنے میں بودے ثابت ہوئے۔ اس طرح کے کمزور مسلمانوں کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے آئینہ میں اپنے کردار کا جائزہ لیں اور جس ایمان کا انہوں نے اظہار کیا ہے اسکے مطالبے پورے کریں۔ آج اگر وہ چاہیں تو رسول کی دعوت انفاق و جہاد پر لبیک کہہ کر اپنے مقام سابقین اسلام کی صفت میں محفوظ کرسکتے ہیں ورنہ یاد رکھیں ان کا حشر منافقین کے ساتھ ہوگا اور جو فرصت آج وہ کھو دیں گے اس کے پا سکنے کا پھر کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔ 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (امنوا باللہ ورسولہ وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیہ فالذین امنوا منکم وانفقوا لھم اجر کبیر (7)۔ (عام خطاب سے منافقین کو تنبیہ)۔ امنوا کا خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن آگے قرآئن سے واضح ہوجائے گا کہ روئے سخن در حقیقت خام قسم کے مسلمانوں اور منافقین کی طرف ہے جو اللہ اور رسول پر ایمان کا دعویٰ تو کر بیٹھے لیکن جب اس ایمان کے مطالبے، انفاق اور جہاد کی صورت میں، سامنے آئے تو ان سے کترانے اور منہ چھپانے لگے۔ اس طرح کے مدعیان ایمان سے خطاب کر کے فرمایا کہ اللہ و رسول پر ایمان لائو۔ ظاہر ہے کہ یہاں فعل امنوا اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے جس طرح (یایھا الذین امنوا امنوا) (اے وہ لوگو جو ایمان کے مدعی ہو سچا اور پکا ایمان لائو) میں ہے۔ فعل کے اپنے ابتدائی معنی اور اپنے کامل معنی میں استعمال کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ (ایمان کا لازمی تقاضا)۔ (انفقوا مما جعلکم مستخلفین فیہ) اس ایمان کا لازمی تقاضا بھی بیان ہوا ہے اور اسکی نہایت واضح عقلی اور فطری دلیل بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول پر ایمان کا حق صرف (امنا باللہ ورسولہ) کے اقرارو اظہار سے نہیں ادا ہوجاتا بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جب اللہ کی راہ میں مال و جان کی قربانی کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک کہو۔ جو لوگ مال بھی خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ان سے جان کی قربانی کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے ! اور جو نہ مال قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں نہ جان، ان کے دعوئے ایمان کی کیا وقعت ہے۔ (مال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے)۔ (مما جعلکم مستخلفین فیہ) یعنی اس مال کے متعلق تمہیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ تم نہ تو اس کے خالق ہو نہ مالک بلکہ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں اس میں خلیفہ بنایا ہے کہ تم اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر اس میں تصرف کرو اور اس کے حضور میں اس کی پائی پائی کی جواب دہی کے لیے تیاررہو۔ مطلب یہ ہوا کہ جب تم اس مال کے خالق ومالک نہیں بلکہ صرف اس کے امین ہو تو جب اس مال کے خرچ کرنے کا مطالبہ اسی کی طرف سے ہو رہا ہے جس نے تم کو اس کا امین بنایا ہے تو اس فسفے نجالت کرنے کا کیا معنی ؟ (نفاق ایمان کی تصدیق)۔ (فالذین امنوا منکم وانفقوا لھم اجر کبیر) یہاں (امنوا) کے بعد (انفقوا) ایمان کی تصدیق اور شہادت کے طور پر آیا ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان کا اظہار کرنے کے بعد اپنے انفاق سے اپنے اس اقرار کی تصدیق کردیں گے وہ مطمئن رہیں کہ ان کا یہ سودا خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ کے ہاں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے، وہ ایک کا دس پائیں گے تو ایسے نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگانے سے وہ کیوں گھبرائیں۔ یہاں وہ بات یاد رہے جس کی طرف اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ سورة کی تمہید میں جو صفات الٰہی بیان ہوئی ہیں وہ بمنزلہ ایک آئینہ کے ہیں تاکہ اس کو سامنے رکھ کر وہ لوگ اپنے اخلاق و کرار کو سنواریں جنہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے۔ اوپر ارشاد ہوا ہے کہ اللہ ہی اول و آخر ہے اور ساری چیزیں اسی کی طرف لوٹنے والی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے کہ تو اس دنیا میں انسان کو جو کچھ بھی حاصل ہوا ہے وہ اس کا مالک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا امین ہے تو جب اصل مالک اللہ ہے تو اس کا مال اسی سے دریغ رکھنے کے کیا معنی !
Ayah 57:8

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لا رہے ہو درآنحالیکہ رسول تم کو تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم مومن ہو !

(وما لکم لا تومنون باللہ والرسول یدعوکم لتومنوا بربکم وقد اخذ میثا قکم ان کنتم مومنین) (8) یہ اس طرح کے کمزور مسلمانوں کے لیے نصیحت بانداز ملامت ہے کہ جب تم رسول سے سمعنا واطعنا کا عہد کرچکے ہیں تو اس عہد کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم اترے اور رسول جس بات کی دعوت دیں اس پر (امنا وصدقنا) کہتے ہوئے عمل کرو لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ رسول اللہ کی راہ میں انفاق کی دعوت دے رہا ہے اور تم منہ چھپاتے پھر رہے ہو ! تو یہ کس قسم کا عہد اور کس نوع کا ایمان ہے ! اور جب آج تمہارے ایمان اور عہد کا یہ حال ہے جب کہ رسول تمہارے اندر موجود ہے اور بذات خود تمہیں ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی دعوت دے رہا ہے تو کل تمہارا کیا حال ہوگا جب رسول تمہارے درمیان موجود نہیں ہوگا۔ اس آیت سے دو باتیں نہایت واضح طور پر سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی ہر اس چیز پر ایمان لائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی اور رسول نے جس کی دعوت دی۔ ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار بھی سب کے انکار کے ہم معنی ہے۔ دوسری یہ کہ ایمان عمل ہی سے متشکل اور وجود پذیر ہوتا ہے اور انفاق کو اس کے نشوونما اور اس کے تغدیہ وتقویت میں خاص دخل ہے چناچہ اسی بناء پر یہاں انفاق کی دعوت کو ایمان کی دعوت سے تعبیر فرمایا ہے۔ (میثاق سے سمع وطاعت کا عہدیدار ہے)۔ میثاق سے مراد میرے نزدیک یہاں سمع وطاعت کا وہ عہد ہے جو ہر مسلمان کو نبی ﷺ سے بیعت کے وقت کرنا پڑتا۔ استاد امام ؒ کا رجحان اس عہد کی طرف معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 80 میں ہے۔ میں نے اس پر غور کیا لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ دوسرے سیاق وسباق کی بات ہے، یہاں اس کا محل نہیں ہے۔ میرے خیال کی تائید سورة مائدہ کی آیت 77 سے بھی ہوتی ہے۔ (واذکرو انعمۃ اللہ علیکم ومیثاقہ الذی واتقاء بہ اذ قلتم سمعنا واطعنا) (پس اپنے اوپر اللہ کے فضل اور میثاق کو یاد رکھو جو اس نے تم سے لیا اور تم نے (سمعناواطعنا) کہہ کر اس کا اقرار کیا۔
Ayah 57:9

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر واضح آیات تاکہ تمہیں نکالے تاریکیوں سے روشنی کی طرف اور بیشک اللہ تمہارے حال پر نہایت ہی شفیق اور مہربان ہے

(ھو الذی ینزل علی عبدہ ایت بینت لیخرجکم من الظلمت الی النور وان اللہ بکم الرئوف رحیم (9)۔ (انفاق تاریکی سے روشنی میں لاتا ہے)۔ یعنی رسول تمہیں انفاق کی جو دعوت دے رہے ہیں اس کو گراں اور اپنے لیے نقصان رساں سمجھ کر اس سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر یہ روشن آیتیں اس لیے نازل فرما رہا ہے کہ تمہیں خواہشات نفس اور حسب دنیا کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور حب آخرت کی روشنی میں لائے۔ یہ نہ گمان کرو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں نقصانات اور مشقتوں میں ڈالنا چاہتا ہے۔ وہ رئوف رحیم ہے وہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی بہبود کی راہ کھول رہا ہے نہ کہ تمہیں کسی زحمت و مشقت میں ڈال رہا ہے۔ (ایت بینت) سے مراد یوں تو وہ ساری ہی تعلیمات ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے لوگوں کو مل رہی تھیں یہاں خاص طور پر ان آیات کی طرف اشارہ ہے جو انفاق و جہاد سے متعلق ہیں اور جن کا ایک حصہ آگے اس سورة میں بھی نہایت روشن دلائل کے ساتھ آ رہا ہے۔ (ظلمت) سے مراد شہوات نفس اور حب دنیا کی تاریکیاں ہیں جن کا واحد علاج اللہ کی راہ میں انفاق ہے اور نور سے وہ مراد ہے جو انفاق سے پیدا ہوتا ہے اور جس کا ذکر آگے آیت 21 میں آ رہا ہے۔ رئوف اور رحیم کی وضاحت انکے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ پہلے میں دفع شرکا کا پہلو غالب ہے دوسرے میں اثبات خیرکا۔
Ayah 57:10

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میراث اللہ ہی کو لوٹنے والی ہے۔ ! تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے انفاق و جہاد کریں گے اور جو بعد میں انفاق و جہاد کریں گے یکساں نہیں ہوں گے۔ ان لوگوں کا درجہ ان سے بڑا ہوگا جو بعد میں انفاق اور جہاد کریں گے۔ اگرچہ اللہ کا وعدہ ان میں سے ہر ایک سے اچھا ہی ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔

(ومالکم الا تنقوا فی سبل اللہ وللہ میراث السموات والارض لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قتل اولیک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقتلو وکلا وعد اللہ الحسنی واللہ بما تعملون خبیر) (10) (ترغیب انفاق کی دوردلیلیں)۔ یہ انہی کمزور قسم کے مسلمانوں کو انفاق پر ابھارا ہے اور اس مقصد کے لیے دو دلیلیں انفاق کے محرک کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔ ایک وہی جس کی طرف اوپر آیت کے تحت اشارہ گزر چکا ہے کہ آسمان زمین کی تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس دنیا میں انسان کو جن چیزوں پر بھی تصرف حاصل ہوتا ہے وہ بالکل عارضی طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور امین کی حیثیت سے، حاصل ہوتا ہے۔ بالآخر ہر چیز ہی کی طرف لوٹ جانے والی ہے تو جب انسان کی حیثت چند روہ امین کی ہوئی تو امانت کے مال پر مارگنج بن کر بیٹھ جانے کے کیا معنی ! پھر تو اس کے لیے صحیح رویہ یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بخل کرے تو کرے لیکن جس نے اس کی تحویل میں اپنی امانت رکھی ہے اس کو جب وہ طلب کرے پوری فیاضی کے ساتھ دے۔ دوسرا یہ کہ حالات کے تغیر سے اعمال کی قدر و قیمت میں بڑا فرق ہوجاتا ہے۔ آج جب کہ کفر اور اہل کفر کا مکہ پر غلبہ ہے (واضح رہے کہ یہ سورة فتح مکہ سے پہلے نازل ہوئی ہے) اور قریش کی ہیبت بدستور عرب پر قائم ہے جو لوگ اسلام کو غالب کرنے کے لیے اپنے مال پر خرچ کریں گے اور جنگ میں حصہ لیں گے ان لوگوں کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سے کہیں زیادہ بلندہو گا جو فتح مکہ کے بعد جب کہ قریش کا زور ٹوٹ جائے گا۔ انفاق اور جہاد کریں گے۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آج کے کٹھن حالات میں اسلام کی خدمت کی توفیق پائیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ موقع حاصل ہوا ہے تو اس کو اپنی پست حوصلگی سے ضائع نہ کرو بلکہ ہمت کر کے اسلام کے سابقین اولین اور اللہ تعالیٰ کے مقربین میں اپنی اپنی جگہ محفوظ کرنے کی کوشش کرو۔ سورة واقعہ میں یہ حقیقت واضح کی جا چکی ہے کہ سابقین و مقربین کے زمرے میں زیادہ تعداد انہی لوگوں کی ہوگی جنہوں نے اسلام کی غربت اولیٰ کے دور میں اولو العزمی کے ساتھ اس کی خدمت کی توفیق پائی۔ بعد کے ادوار کے لوگوں میں سے تھوڑے ہی لوگوں کو ان کے زمرے میں جگہ ملے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جن کو بڑے سخت امتحانوں سے گزرنا پڑا ہوا اور انہوں نے دین کی راہ میں کوئی بہت بڑی بازی کھیلی ہو۔ (وکلا وعد اللہ الحنسی واللہ بما تعملون خبیر) یعنی وعدہ تو اللہ کا دونوں ہی سے اچھا ہے۔ فتح مکہ کے بعد بھی اسلام کے لیے قربانیاں کرنے والوں کے لیے ان کی خدمات کے اعتبار سے درجے اور مرتبے ہیں۔ حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ جو لوگ بھی اسلام کی خدمت کریں گے وہ اپنی قربانیوں کا صلہ پائیں گے بلکہ ان میں سے ایسے لوگ بھی نکلیں گے جو اگلو کی صفت میں جگہ حاصل کریں گے تاہم فتح مکہ سے پہلے کا دور اور ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس دور کی قدر پہچانیں اور اس سے صحیح فائدہ اٹھا لیں۔ (فتح سے فتح مکہ مراد ہے)۔ یہاں فتح سے مراد ظاہر ہے کہ فتح مکہ ہی ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے صلح حدیبیہ بھی مراد لی ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ کی حیثیت اصل فتح کی نہیں بلکہ فتح مکہ کی تمہید کی ہے۔ لفظ فتح سے ذہن فتح مکہ ہی کی طرف جاتا ہے۔ اس جدوجہد کے دوران میں ہر مسلمان کے دل میں یہ بات بطور ایک عقیدہ کے راسخ تھی کہ بعثت ِ محمدی ﷺ کا اصل مقصود بیت اللہ کو، کفر و شرک کی تمام آلودگیوں سے پاک کر کے، اس کے اصل ابراہیمی جمال میں خلق کے سامنے نمایاں کرنا ہے۔ چناچہ ہر سچے مسلمان کو اس واقعہ کے ظہور کا ارمان بھی تھا اور انتظار بھی، صرف منافقین اپنے تھڑوے پن کا سبب سے تذبذب تھے۔ ان کے اس تذبذب کا ذکر آگے ان کے نفاق کی دلیل کی حیثیت سے آ رہا ہے۔
Ayah 57:11

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون اٹھتا ہے کہ اللہ کو قرض دے اچھا قرض کہ وہ اس کو اس کے لیے بڑھائے اور اس کے لیے با عزت صلہ ہے !

(من ذا الذی یقرمن اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ ولہ اجر کریم (11) (جہاد کے لیے مالی امانت کی نہایت موثر اپیل)۔ اب یہ نہایت واضح اور موثر الفاظ میں جہاد کے لیے مالی اعانت کی اپیل ہے کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دینے کے لیے اٹھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بڑھائے اور اس کو با عزت اجر عطا فرمائے۔ لفظ ’ فرض ‘ سے اگرچہ عام انفاق بھی مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں سیاق وسباق سے واضح ہے کہ اس سے جہاد کے لیے مالی اعانت ہی مراد ہے۔ آگے ہم اس کے بعض قرآئن کی طرف انشاء اللہ اشارہ کریں گے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے قرض کے لیے لفظ میں جو اپیل ہے وہ محتاج وضاحت نہیں ہے۔ اوپر واضح ہوچکا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی سپرد کردہ امانت ہے۔ اب یہ کتنا بڑا فضل ہے اس رب کریم کا کہ وہ اپنا ہی عطا کیا ہوا مال اپنی راہ میں خرچ کرنے کی جب بندوں کو دعوت دیتا ہے تو اس کو اپنے ذمہ قرض ٹھہراتا ہے جس کی واپسی کا وہ گویا اسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح ایک قرض دار اپنے مہاجن کی رقم کی واپسی کا ذمہ دارہوتا ہے۔ (نبضعفہ) یعنی اللہ تعالیٰ یہ قرض اس لیے نہیں مانگ رہا ہے کہ اس کے خزانے میں کوئی کمی ہے۔ جب سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اسی کا عطا کردہ ہے تو اس کے پاس کمی کا کیا سوال ؟ بلکہ وہ تو صرف اس لیے مانگ رہا ہے کہ لوگوں کے عطا کردہ مال کو وہ اپنے بنک میں جمع کر کے اس کو اچھی طرح بڑھائے تاکہ اس کا منافع ایک ابدی زندگی میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سرمایہ کی صورت میں ان کے کام آئے۔ اس اسلوب بیان میں سود خواروں پر جو تعریفیں ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو اپنا سرمایہ اس دنیا کے بنک میں جمع کرتا ہے تو یہ دنیا اور اس کا سرمایہ ہر چیز چند روزہ ہے البتہ جو اپنا مال اپنے رب کے پاس جمع کرتے ہیں ان کا منافع ابدی اور ہر اندیشہ سے محفوظ ہے۔ (مضاعفۃ) کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے دگنا کرنا کیا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ اس کے معنی بڑھانے کے ہیں۔ یہ بڑھانا دگنا، چوگنا، دس گنا بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔ اس کا تعلق دینے والے کے خلوص اور ان حالات سے ہے جن میں وہ مال دیا گیا ہے اور سب سے زیادہ اس رب کریم کے فضل سے ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے ابدی منفعت کی راہ کھولی ہے۔ (قرض حسن کے شرائط)۔ اس کے ساتھ یہاں صرف ایک شرط لگائی ہے کہ یہ قرض ’ قرض حسن ‘ ہو۔ قرآن میں اس کی وضاحت میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرض، قرض حسن، اس شکل میں بنتا ہے جب دل کی پوری فراخی اور بلندی حوصلگی کے ساتھ دیا جاتا ہے، دل کی تنگی کے ساتھ محض مادے باندھے یا دکھاوے کے لیے نہیں دیا جاتا، اچھے مال میں سے دیا جاتا ہے، محض چھدا اتارنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے، کسی غرض دنیوی کے لیے نہ دیا جاتا ہے اور نہ دینے کے بعد اس کے دیے جانے پر احساس جتایا جاتا ہے یا کسی پہلو سے کوئی دل آزادی کی جاتی ہے۔ (ولہ اجر کریم) یعنی اس کے دیے ہوئے مال میں جو بڑھوتری ہوگی وہ تو ہوگی ہی، علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ خاص اپنے فضل سے بھی اس کو نہایت با عزت اجر دے گا۔ اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو جس دن ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے داہنے چل رہی ہوگی۔ تمہارے لیے آج کے دن خوش خبری ہے باغوں کی جن میں نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ رہو گے ! یہی دراصل بڑی کامیابی ہے !

(یوم تری المومنین و المومنت یعسی نور ھم بین ایدیھم و بایما نھم بشریکم الیوم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ذلک ھو الفوز العظیم) (12) (انفاق قیامت کے دن روشنی بنے گا)۔ یہ اسی باعزت صلہ کے ایک خاص پہلو کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کی رہنمائی جنت کی طرف روز حشر اس طرح کرے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے اور دہنے چل رہی ہوگی اور وہ اس روشنی میں جنت کی طرف بڑھیں گے جب کہ دوسرے لوگ جنہوں نے یہ روشنی اپنے اندر نہیں پیدا کی ہوگی تاریکی میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ آیات کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ یہ روشنی اسی انفاق کے فیض سے حاصل ہوگی۔ جس کی یہاں دعوت دی جا رہی ہے۔ اوپر آیت 9 ھو الذی ینزل علی عبدہ ایت بینت لیخرجکم من الظمت الی النور کے تحت ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ آیت بینت سے اشارہ یہاں خاص طور پر ان آیات کی طرف ہے جو انفاق کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لیے نازل ہوئیں اسی انفاق سے نفاق کی جڑ کٹتی ہے اور اسی سے وہ نور حکمت عطا ہوتا ہے جو اس دنیا کی تاریکیوں میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور آخرت میں بھی یہ رہنمائی کرے گا۔ سعی یہاں دوڑنے کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ کسی کام کے سرگرمی اور مستعدی کے ساتھ ہونے یا اس کو مستعدی کے ساتھ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے بلکہ اس کا غالب استعمال اس معنی میں ہے۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔ یہ نور صرف ان کے آگے اور ان کے داہنے پھیلے گا۔ بائیں جانب اس کا عکس نہیں پڑے گا تاکہ اصحاب الشمال اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ آگے ان کی اس نور سے محرومی کا ذکر آ رہا ہے۔ (بشر لکم الیوم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ذلک ھو الفونا العظیم) یہ بشارت صورت حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے اور فرشتوں کی زبانی بھی ہو سکتی ہے۔ قرآن میں نظائر دونوں کی تائید میں موجود ہیں۔ (ذلک ھو الفوز العظیم) یعنی اگر کسی کو اللہ نے مال بخشا ہے تو اس سے وہ سب سے بڑا فائدہ جو حاصل کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اپنے دل کے اندر وہ روشنی پیدا کرے جو قیامت کے اندھیرے میں اس کی رہنمائی کرے۔ اس کے سوا جتنے فائدے بھی ہیں وہ وقتی اور عارضی ہیں اور ان کے اندر جو ضرر ضمیر ہے وہ دائمی اور ابدی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حوصلہ ہے تو اس فوز عظیم کو حاصل کرنے کے لیے اپنے مال خرچ کرو۔
Ayah 57:13

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں کو آواز دیں گے کہ ذرا ہمیں بھی موقع عنایت کیجئے کہ ہم آپ کی روشنی سے فائدہ اٹھا لیں ! ان کو جواب ملے گا کہ تم پیچھے لوٹو اور وہاں روشنی تلاش کرو۔ پس ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے اندر کی جانب میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔

(یوم یقول المنفقون والمنفقت للذین امنوا انظرونا نقتبس من نور کم قیل ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا فضرب بینھم بسورلہ باب باطنہ فیہ الرحمۃ وظاھرہ من قبلہ العذاب) (13) (منافقین کی نور سے محرومی)۔ اس دن منافقین کا حال یہ ہوگا کہ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں گے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں انفالق کر کے وہ روشنی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جو آخرت میں ان کے کام آتی۔ وہ جب دیکھیں گے کہ ایک گروہ ان لوگوں کا، جن کے اندر وہ دنیا میں رہے بسے، اپنے ساتھ ایسی روشنی رکھتا ہے جو اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ان کی رہنمائی کر رہی ہے تو وہ نہایت حسرت کے ساتھ ان سے درخواست کریں گے کہ ذرا ہمیں بھی قریب پہنچ لینے دیجئے کہ ہم بھی آپ کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا جواب ملے گا کہ اس روشنی سے فائدہ اٹھانے کی تمنا نہ کرو۔ پیچھے پلٹو اور وہاں روشنی تلاش کرنے کی کوشش کروا گر کرسکتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس روشنی کے حاصل کرنے کی جگہ تو تم پیچھے چھوڑ آئے اب اس کو پانے کا وقت گزر چکا۔ تمہارے لیے اب حسرت، ندامت اور اس تاریکی کے سوا یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس قول کو العیاذ باللہ محض ایک چکمہ سمجھا ہے لیکن یہ چکمہ نہیں بلکہ بیان حقیقت ہے۔ کسب و اکتساب کی جگہ یہ دنیا ہے۔ جس نے اس میں نیکی کی کمائی نہیں کی آخرت میں اس کا حصہ صرف محرومی ہے۔ اس جواب کے بعد فوراً ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں صرف ایک دروازہ ہوگا۔ اس کے اندر کے حصہ میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب عذاب ہوگا۔ اہل ایمان اس دروازے سے رحمت والے حصہ میں چلے جائیں گے اور منافقین عذاب کی تاریکی میں گھرجائیں گے۔ اس قسم کی ایک دیوارکا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ تفصیل مطلب ہو تو وہاں دیکھئے۔
Ayah 57:14

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

یہ ان سے فریاد کریں گے کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں تھے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ساتھ تو تھے لیکن تم نے اپنے کو فتنوں میں مبتلا رکھا، ہمارے لیے گردشوں کے انتظار میں رہے، شبہات میں مبتلا رہے اور آرزوئوں نے تمہیں دھوکے میں رکھا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہرہو گیا اور فریب دینے والے نے تمہیں اللہ کے باب میں مبتلائے فریب ہی رکھا۔

(ینا دونھم الم نکن معکم قالوا بلی ولنکنکم فتنتم انفسکم و تربصتم و ارتبتم و غرتکم الا مانی حتی جاء امرا للہ و غر کم باللہ الغرور) (14) (منافقین کی فریاد اور ان کو جواب)۔ منافقین جب دیکھیں گے کہ روشنی کی جو جھلک نظر آئی تھی وہ بھی اور جھل ہوگئی اور جن کے ساتھ دنیا میں رہے ان سے بالکل ہی رابطہ ٹوٹ گیا تو وہ دل شکستہ ہو کر فریاد کریں گے کہ بھائیو، آپ لوگوں نے ہمیں بالکل ہی کاٹ پھینکا، کیا دنیا میں ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہے بسے ! اپنے بھائیوں سے یہ بےاعتنائی و بےپروائی ! ! جواب ملے گا کہ اس میں تو شبہ نہیں کہ دنیا میں تم لوگ بظاہر ہمارے ہی ساتھ رہے لیکن تمہارے دل ہمارے ساتھ نہیں تھے بلکہ تم انہی فتنوں میں مبتلا رہے جن سے اللہ نے تم کو نکالنا چاہا۔ تم نے ایمان کا دعویٰ بڑی بلند آہنگی سے کیا لیکن اس ایمان کے جتنے مطالبے تمہارے سامنے آئے ان میں سے ایک کو بھی پورا کرنے کا حوصلہ تم نے نہیں کیا۔ اپنے مال اور اپنی جان کو اللہ کے دین اور اس کے رسول سے تم نے زیادہ عزیز جانا، تمہاری وفاداریاں اسلام کے دشمنوں کے ساتھ رہیں اور حق کی جگہ ہمیشہ اپنے مفاد ذاتی کو تم نے ترجیح دی۔ (و تربصتم) یعنی تم برابر ہمارے لیے گردشوں اور آفتوں کے منتظر رہے۔ سورة توبہ میں ان منافقین کا کردار ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ (ومن الاعراب من یتخذما ینفق مغرما و یتربص بکم الدوائر (التوبۃ : 9 : 98) (اور ان بدوی منافقین میں وہ بھی ہیں جو اگر کبھی اسلام کی راہ میں کچھ خرچ کر بیٹھتے ہیں تو اس کو اپنے اوپر ایک تاوان خیال کرتے ہیں اور تمہارے لیے برابر گردشوں کے انتظار میں رہتے ہیں) انہی لوگوں کا کردار سورة نساء میں یوں بیان ہوا ہے۔ (الذین یتربصون بکم فان گان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم) (النساء : 4، 14) (جن کا حال یہ ہے کہ وہ تمہارے لیے منتظر تو رہتے ہیں شکست کے لیکن ان کے علی الرغم اگر اللہ تمہیں فتح دے دیتا ہے تو غنیمت کی طمع میں بھاگے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا ہم آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہے ہیں ؟) (وارتبتم) یعنی تم برابر شک اور تذبذب میں مبتلا رہے۔ اسلام اور پیغمبر ﷺ کی حقانیت پر کبھی تمہارا دل نہیں جما۔ تم نے کفر اور اسلام دونوں سے تھوڑا تھوڑا تعلق جوڑے رکھنا چاہا کہ اس کشمکش میں جس کو غلبہ حاصل ہوا اپنا مستقبل اس کے ساتھ وابستہ کرلو گے۔ اس ذہنی کیفیت کی تصویردوسرے مقام میں اس طرح کھینچی گئی ہے (مذبذبین بین ذلک لا الی ھولاء ولا الی ھولاء) (النساء : 4، 143) (ان دونوں کے درمیان مذبذب، نہ یکسوئی کے ساتھ ادھر نہ یکسوئی کے ساتھ ادھر۔) (وعزتکم الامانفی حتی جاء امر اللہ وغر کم باللہ الغرور) یعنی تم جھوٹی آرزئوں میں برابر پھنسے رہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں جو ڈھیل ملی تو تم اس دھوکے میں مبتلا ہوگئے کہ تمہاری یہ دو رخی پالیسی کامیاب ہے اور اس کو تم آخر تک کامیابی کے ساتھ بناہ لے جائو گے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوسکی۔ شیطان نے تمہیں دھوکے ہی میں رکھا اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق کو غالب کرنے کے لیے صادر ہوگیا اور تمہیں یہ روز بد دیکھنا پڑا۔ (وغر کم باللہ الغرور) میں لفظ غرور شیطان کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے باب میں دھوکے میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ آگاہی جودی جاتی رہی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول اتمام حجت کے لیے بھیج دیا ہے، جو لوگ اس کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے رہیں گے یا نفاق کے پردے میں چھپنے کی کوشش کریں گے وہ لازماً خدا کی گرفت میں آجائیں گے، تو شیطان تم کو یہ سبق پڑھا دیتا تھا کہ یہ سب محض دھونس جمانے کی باتیں ہیں، جو نہ پہلے سچی ثابت ہوئی ہیں نہ آئندہ ہوں گی، ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 57:15

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

پس آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول ہوگا اور ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تم سب کا ٹھکانہ آگ ہے، وہی تمہارا مرجع ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے !

(فالیوم لا یوخذ منکم فدیۃ ولا من الذین کفروا ما و لکم النار ھی ھولکم وبس المصیر (15) یعنی یہ صورت حال جو تمہیں یش آئی ہے پوری آگاہی اور اتمام حجت کے بعد پیش آئی ہے اس وجہ سے اب اس سے چھوٹنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے۔ یہاں کسی کے پاس نہ تو کوئی چیز فدیہ میں دینے کی ہے اور نہ کسی سے فدیہ قبول ہی ہوگا نہ تم سے اور نہ ان کافروں سے جن کے ساتھ تمہارا یارا نہ رہا ہے تم چونکہ اسلام کی طرف یکسو نہیں ہوئے اس وجہ سے ایمان کے ادعا کے باوجود تمہارا اور ان کفار کا حشر ایک ہی ساتھ ہوگا۔ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہی تمہارا مولی یعنی مرجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے لیے نہ خدا کے سامنے کسی وادو فریاد کی گنجائش ہے اور نہ وہاں اب تمہاری کوئی شنوائی ہونی ہے، تمہارا مرجع اب دوزخ ہے۔ اب جو کچھ پائو گے اسی سے پائو گے اور یاد رکھو کہ وہ برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 57:16

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

(کیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاددہانی اور اس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہوچکا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ بن کے رہ جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی پس ان پر طویل مدت گزر گئی، بالآخر ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے بہتیرے نافرمان ہیں۔

4۔ آگے آیات 16۔ 24 کا مضمون آگے کی آیات میں خطاب کا رخ ان منافقین ہی کی طرف ہے جن سے اوپر کے پیرے میں خطاب ہے۔ ان کو پہلے تو اس تذبذب کی روش کے انجام بد سے ڈرایا ہے کہ رسول ﷺ کی تائید میں اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اگر تمہارا تذبذب دور نہیں ہوا تو بالآخر تمہارے دلوں پر بھی اسی طرح کی قساوت چھا جائے گی جس طرح کی قساوت یہود پر چھا گئی تھی جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی۔ اس کے بعد ان کو کچھ ابھارا ہے کہ موجود حالات سے ہراساں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت پر بھروسہ رکھو۔ جس اللہ کی یہ شان دیکھتے ہو کہ وہ اس سر زمین کو مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کردیتا ہے اس سے بعید نہیں ہے کہ وہ اس دعوت حق کو اتنا فروغ دے کہ یہاں کفر کا کوئی نشان باقی نہ رہ جائے۔ اسی ذیل میں ان کو یہ اطمینان بھی دلایا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے خسارے میں رہنے والے نہیں ہیں بلکہ ایک کا ستر پائیں گے اور یہی راستہ ہے اس امت کے صدیقین اور شہداء میں داخل ہونے کا۔ پھر اس دنیا کی ان چیزوں کی بےثباتی و بےحقیقی کی تصویر کھینچی ہے جن کے عشق میں پھنس کر لوگ آسمانوں اور زمین کے برابر کی اس ابدی بادشاہی کو بھول بیٹھے ہیں جس کو وہ چاہیں تو اپنے جمع کردہ خزف ریزوں کے عوض خرید سکتے ہیں۔ آخر میں اس نکتہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ اس دنیا میں یسرا اور عسر، دکھ اور سکھ، فقر اور غنا انسان کی اپنی تدبیروں پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی تقدیر پر ہے۔ اس وجہ سے نہ تو انسان کے لیے یہ جائز ہے کہ فراخی حاصل ہو تو اس کو اپنی تدبیر کا کرشمہ سمجھ کر اس پر اترانے اور اکڑنے لگ جائے اور نہ یہ جائز ہے کہ کوئی ابتلاء پیش آجائے تو مایوس و دل شکستہ ہو کر واویلا شروع کر دے بلکہ وہ نعمت میں شکر اور مصیبت میں صبر کی روش اختیار کرے اور دونوں صورتوں میں اپنے رب پر اپنے دل کو جمائے رکھے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ وما نزل من الحق ولا یکونو گا لذین اوتو الکتب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم وکثیر منھم فسقون) (16)۔ (منافقین کے سامنے ایمان کے تقاضوں کی وضاحت)۔ للذین امنوا سے مراد جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہی منافقین ہیں جن کا رویہ زیر بحث ہے، چونکہ وہ ایمان کے مدعی تھی اس وجہ سے ان کے دعوے کے مطابق ان کا ذکر للذین امنوا کی صفت سے کیا تاکہ وہ ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں جو اس دعوے ایمان کے تعلق سے ان پر عائد ہوتے ہیں اور اگر ان کے اندر اس دعوے کی کچھ لاج ہے تو اس کا حق ادا کریں۔ (الم یان) کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورة اس زمانے میں نازل ہوئی ہے جب دعوت حق کی صداقت و حقانیت اور اس کے غلبہ کے اتنے آثار و شواہد نمایاں ہوچکے تھے کہ جن کے اندر کچھ شکوک و شبہات تھے وہ دور ہوجانے چاہیے تھے۔ اگر اتنے آثار آیکھ لینے کے بعد بھی ان کے شبہات علیٰ جالہ باقی ہی رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس وقت تک شرح صدر کے ساتھ اسلام کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے جب تک وہ اس کے ہر دعوے کی صداقت اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ اس طرح کا ایمان اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں ہے اس وجہ سے ان لوگوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اب بھی وہ شبہات ہی میں مبتلا رہے تو ان کا وہی حال ہوگا جو یہود کا ہوا۔ وہ بھی برابر شبہات میں مبتلا رہے اور اسی حالت میں ان پر ایک مدت گزر گئی بالآخر ان کے دل سخت ہوگئے۔ یہاں تک کہ جن کی روئیدگی کی صلاحیت ہی ان کے اندر سے ختم ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی جس کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ (ایک سنت الٰہی)۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی امر حق میں شبہ و تردد کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اور نہ کچھ عرصے تک اس کا باقی رہنا کوئی قابل ملامت چیز ہے۔ ایک نیک نیت آدمی کے اندر بھی یہ حالت پیدا ہو سکتی ہے لیکن کوئی شخص اگر ان شبہات کی آڑ لے کر اپنے اندر حق کی آواز کو برابر دباتا ہی رہے اور اس کو باطل سے چمٹے رہنے کے لیے ایک بہانہ بنا لے تو سنت الٰہی کے مطابق ایسا شخص قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی طرف سے حق کی ناقدری کو زیادہ عرصے تک گوارا نہیں فرماتا۔ (شک کی بیماری مہلک ہے)۔ (ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ وما نزل من الحق) میں (ذکر اللہ) اور (حق) سے مراد تو قرآن مجید ہی ہے لیکن قرآن کے دو خاص پہلوئوں کی طرف توجہ دلانے کے لیے دو الگ الگ الفظ استعمال ہوئے ہیں۔ (ذکر اللہ) سے مراد وہ تنبیہات ہیں جو ان خطرات و مہالک سے آگاہ کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں جن سے ان لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں لازماً دو چار ہونا پڑے گا جو حق سے اعراض کے لیے بہانے ڈھونڈتے رہیں گے اور حق سے وہ کلیات مراد ہیں جو قرآن نے از سر نو باطل سے الگ کر کے اجاگر کیے فرمایا کہ ان کی تائید میں اتنے شواہد و قرائن ظاہر ہوچکے ہیں کہ چاہیے تھا کہ لوگوں کے دل ان کے آگے سر فگندہ ہوجاتے۔ اگر اب بھی نہیں ہوئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں جس میں یہود مبتلا ہوئے۔ یہود کے متعلق پیچھے، مختلف سورتوں میں تفصیل سے یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ شک کے ایسے مریض تھے کہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں قدم قدم پر، اس کے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے برابر بےیقینی اور تردد میں مبتلا رہے۔ یہاں تک کہ ان کی اسی بیماری نے ان کو تورات سے محروم کردیا اور اسی کی پاداش میں ان کی اکثریت قرآن سے بھی محروم رہی۔ یہاں اسی روش بد اور اس کے انجام سے قرآن نے ان منافقین کو متنبہ کیا ہے کہ تم بھی یہود ہی کی طرح، اپنے رسول کی موجودگی میں بےیقینی کے مرض میں مبتلا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ مرض تمہارے لیے بھی اسی طرح مہلک بن جائے جس طرح ان کے لیے مہلک بنا۔
Ayah 57:17

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

یاد رکھو کہ اللہ زندہ کردیتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد ہم نے تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح کر کے بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔

(اعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا قد بینا لکم الایت لعلکم تعلقلون) (17)۔ (یہ آیت یہاں نہایت ہی بر محل وارد ہوئی ہے اور اس میں دو مختلف پہلوئوں سے اس بےیقینی کا علاج مضمر ہے جس میں یہ منافقین مبتلا تھے۔ (بےیقینی کا علاج)۔ سب سے نمایاں پہلو تو یہ ہے کہ آدمی میں اگر آخرت کا یقین نہ ہو تو اس کے لیے جان و مال کی قربانی نہایت کٹھن کام ہے۔ ان منافقین کی اصل بیماری یہی تھی کہ ان کے اندر آخرت کا یقین نہیں تھا اس وجہ سے وہ قرآن کے وعدوں کو محض ایک بہلا و اخیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بےیقینی دور کرنے کے لیے اپنی ان نشانیوں اور دلیلوں کی طرف توجہ دلائی جو قیامت کے ایک معلوم و مشہود حقیقت ہونے پر اس نے نہایت تفصیل سے اپنی کتاب میں بیان فرمائی ہیں۔ یہاں چونکہ مقصود محض آخرت کے ایک امر واقعی ہونے کے یاددہانی ہے اس وجہ سے اس کے امکان کی ایک بد یہی دلیل کی طرف اشارہ کر کے بالا جمال یہ فریاد دیا کہ اس کی دلیلیں ہم تفصیل سے قرآن میں بیان کرچکے ہیں، ان کو مستحضر کرو اور سمجھو تاکہ تمہارے اندر جان و مال کی قربانی کا حوصلہ پیدا ہو۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ منافقین مخالفین اسلام کی سطوت سے بہت مرعوب تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ مٹھی بھر مسلمان اعداء کی دل بادل افواج سے کس طرح عہدہ بر آسکیں گے اور کس طرح مکہ سے قریش کی جمی جمائی حکومت اکھاڑ کر بیت اللہ کو پھر دعوت ابراہیمی کا مرکز بنا سکیں گے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بعض جنگیں ہوچکی تھیں جن میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا تھا لیکن منافقین کے دلوں سے ابھی ڈر نہیں نکلا تھا۔ اسلام کے مستقبل کی طرف سے وہ بدستور مایوسی و بےیقینی میں مبتلا تھے۔ ان کی اس مایوسی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کی نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ جس خدا کی یہ شان برابر دیکھتے ہو کہ وہ مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کی قدرت سے بعید نہ سمجھو کہ وہ اس کفرستان عرب کو از سر نو ایمان و اسلام کی زندگی سے معمور کر دے۔
Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مرد اور عورتیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو قرض دیا اچھا قرض، ان کا دیا ہوا ان کے لیے بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے با عزت صلہ ہے

(ان المصدقین و المصدقت واقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعف لھو و لھم اجر کریم) (18) یہ آیت 11 کے مضمون کو ایک دوسرے پہلے سے لیا ہے اور منافقین کو ابھارا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا خسارے کا سودا نہیں بلکہ نہایت نفع بخش کاروبار ہے۔ جو لوگ برابر صدقہ کرتے رہتے ہیں اور جب کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے موقع پر ان سے مدد کی اپیل کی جائے تو اس وقت بھی وہ فراخ دل سے مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی پائی پائی خدا کے ہاں محفوظ ہے۔ وہ ان کے لیے اس کو بڑھا رہا ہے اور بڑھا کر ایک لازوال خزانے کی شکل میں ان کو واپس کرے گا۔ علاوہ ازیں ان کے ایک بہت بڑا با عزت اجر بھی ہے۔ یعنی ان کا دیا ہوا تو کئی گنا بڑھ کر ان کو واپس کیا جائے گا، اس کے علاوہ رب کریم ان کو خاص اپنے پاس سے ایک اجر عظیم دے گا۔ (صدقہ اور قرض)۔ یہاں انفاق کے لیے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا فاعل یا صفت کی شکل میں دوسرا فعل کی صورت میں۔ اس اختلاف کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ایک انفاق تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذمی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے اور جو تزکیہ نفس کے پروگرام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ دوسرا وہ انفاق ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لیے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لیے کہ وہ دواماً مطلوب ہے۔ دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے۔ جو عند الضرورت دیا جاتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ (مردوں کے ساتھ یہاں عورتوں کے خاص طور پر ذکر کی حکمت)۔ ان آیات میں یہ امر بھی خاص توجہ کے لائق ہے کہ نفاق اور انفاق کے بیان میں قرآن نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی ذمہ داری خاص طور پر نمایاں فرمائی ہے۔ اس کی وجہ غور کرنے سے، یہ معلوم ہوتی ہے کہ بیوی بچے بخل اور بزدلی کے بڑے اہم عوامل میں سے ہیں اور یہی دو چیزیں دراصل نفاق میں مبتلا کرنے والی ہیں۔ یہ حقیقت حدیث شریف میں بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ بیوی بچے بخل و بزدلی کے سبب بنتے ہیں۔ اسی پہلو کے سبب سے یہاں منافقین کے ساتھ منافقات اور مصدقین کے ساتھ مصدقات کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے تاکہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں پر بھی یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر شخص اپنی ذمہ داریوں سے متعلق مسئول ہوگا، مرد ہو یا عورت۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر وہی لوگ اپنے رب کے ہاں صدیقوں اور شہداء کے زمرے میں ہوں گے۔ ان کے لیے ان کا صلہ بھی ہوگا اور ان کی روشنی بھی رہے وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی جنہوں نے تکذدیب کی وہ جہنم والے بنیں گے

(والذین امنوا باللہ ورسلہ اولیک ھم الصدیقون والشھداء عند ربھم لھم اجرھم ونورھم والذین کفروا وکذبو بایتنا اولیک اصحب الجحیم) (19)۔ قرینہ دلیل ہے کہ جس طرح آیت، میں لفظ ایمان اپنے کامل مفہوم میں استعمال ہوا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (منافقین ایک تنبیہ)۔ یہ منافقین کو بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیقین اور شہداء کے لیے جو درجے ہیں وہ صبر مدعی ایمان کو نہیں حاصل ہوجائیں گے بلکہ یہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہیں جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان لائیں گے اور اپنے عمل سے اپنے دعوائے ایمان کی صداقت ثابت کریں گے۔ یہاں چونکہ زیر بحث خاص طور پر انفاق ہے اس وجہ سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو لوگ دین کی نفرت کے لیے فراخ دلی سے اپنے مال خرچ کریں گے در حقیقت وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں اور وہی لوگ جن کو صدیقین اور شہداء کے زمرے میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوگی۔ (صدیق کی تعریف)۔ لفظ صدیق کی تحقیق اس کے محل میں ہوچکی ہے کہ اس کی اصل روح قول و عمل کی کامل مطابقت اور اس کی پختگی ہے۔ عربی میں اس نیزے کو صادق الکعبوب کہیں گے جس کی گرہیں تجربہ سے بھی اویسی ہی محکم ثابت ہوں جیسے وہ دیکھنے میں نظر آتی ہیں۔ صادق اور صدیق اس شخص کو کہیں گے جو اپنے قول کا پکا ہو۔ اس پختگی کی اولین عملی شہادت یہ ہے کہ وہ اس مقصد حق کی خاطر اپنی محنت کی کمائی قربانی کرنے والاہو جس کا اس نے اقرار و اعلان کیا ہے۔ اسی قربانی سے وہ اس مقصد حق کی شہادت دینے والا بنتا ہے اور ایسے ہی مرد حق سے یہ توقع ہوتی ہے کہ اس کو امتحان پیش آیا تو وہ اپنی جان دے کر بھی اس حق کی شہادت دے گا۔ اسلام میں اس وصف کے سب سے نمایاں مصداق حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ انہوں نے اسے اقرار ایمان کی صداقت، نازک سے نازک زمانے میں، اپنے انفاق سے جس طرح ثابت کی ہے وہ ہماری تاریخ کا سب سے زیادہ روشن باب ہے۔ (شہید)۔۔ شھداء یہاں اس معنی میں استعمال ہوا ہے جس معنی میں (کذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونو اشھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا) (البقرۃ : 2، 143) (اسی طرح ہم نے تم کو وسط راہ پر قائم رہنے والی امت بنایا کہ تم لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے) میں استعمال ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس امت کو (شھدا علی الناس) ہونے کا جو عظیم اعزاز حاصل ہے وہ مجرد ایمان کا دعویٰ کردینے سے کسی کو نہیں حاصل ہوجائے گا بلکہ یہ صرف انہی کو حاصل ہوگا جن کا ہر بن ہو ان کے ایمان کی گواہی دے۔ یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ خدا کی راہ میں مارے جانے والوں کو جو شہید کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شہادت علی الناس کے فرض منصبی کا حق اس راہ میں اپنی جان قربان کردیتے ہیں۔ یہ شہادت چونکہ سب سے بڑ شہادت ہے اس وجہ سے ان کو شہید کہتے ہیں۔ بعینہٖ یہی بات ان منافقین ہی کو خطاب کر کے سورة نساء میں یوں فرمائی گئی ہے۔ (من یطع اللہ والرسول فاولیک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصلحین) (النساء : 4، 70) (اور جو پوری وفاداری سے اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہی لوگ اللہ کے انعام یافتوں انبیاء صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ ہوں گے)۔ (لھم اجرھم و نور ھم) یعنی اوپر آیات (11، 20) میں جو اجر اور جو نور بیان ہوا ہے وہ انہی جان بازو کے لیے ہے۔ ہر مدعی ان کا حق دار نہیں بن جائے گا۔ (والذین کفروا کذبوا بایتنا اولیک اصحب الجحیم) یعنی وہ سارے لوگ جو کفر اور تکذیب کے مرتکب ہوئے وہ جہنم میں پڑیں گے۔ یہاں موقع کلام دلیل ہے کہ یہی حکم ان لوگوں کا بھی ہوگا جنہوں نے اگرچہ زبان سے تکذیب نہ کی ہو لیکن اپنے عمل سے تصدیق بھی نہ کی ہو بلکہ ان کا عمل ان کے دعوے کے بالکل برعکس ہی ہو رہا ہے۔