57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی لہو و لعب، زیب وزینت اور مال و اولاد کے معاملے میں باہمی تفاخر و تکاثر کی تمثیل اس بارش کی ہے جس کی اونچائی ہوئی فصل کافروں کے دل کو موہ لے، پھر وہ بھڑک اٹھے اور تم اسے زرد دیکھو، پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور آخرت میں ایک عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کی ٹٹی ہے

(اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وزینۃ و تفاخر بینکم و تکا ثرفی الاموال والاولاد، کمثل غیث اعجب الکفار نباتہٗ ثم یھیج فترہ مصفرا ثم یکون حطاما و فی الاخرۃ عذاب شدید و مغفرۃ من اللہ ورضوان و ما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور) (20)۔ (زیر پرستوں کو تنبیہ)۔ یہ ان مال پرست منافقین کو تذکیر و تنبیہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی، یعنی لہو و لہب، زینت و آرائش کا شوق، مال و اولاد کی تکثیر کی بھاگ دوڑ اور معیار زندگی اونچا کرنے کا باہم مقابلہ، جن میں جو تم ہر وقت ڈوبے ہوئے ہو، یہ کوئی خوش انجام سرگرمی نہیں ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ بارش اچھی ہوجائے جس سے فصل لہلہا اٹھے اور اس کو دیکھ کرنا شکرے لوگ پھولے نہ سمائیں لیکن پھر اس پر کوئی ایسی افتاد آپڑے کہ وہ سوکھ کر زرد ہوجائے پھر ریزہ ریزہ ہوجائے۔ یہی حشر تمہاری ان تمام سرگرمیوں کا ہونا ہے جو تم اس دنیا کے حاصل کرنے اور اس میں ایک دوسرے پر باری لے جانے کے لیے کر رہے ہو، ان میں سے کوئی چیز بھی باقی رہنے والی نہیں ہے۔ (وفی الاخرۃ عذاب شدید ومغفرۃ من اللہ ورضوان وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور) یعنی تم نے اپنی نادانی سے اس دنیا کی لذات کو زندگی کا مقصود اپنی تمام مساعی کا حاصل اور گول قرار دے رکھا ہے حالانکہ یہ دنیا محض ایک سرمایہ غرور اور دھوکے کی ٹٹی ہے۔ اصل گول تو آخرت ہے اور وہاں دو چیزوں میں سے ایک سے سابقہ پیش آنا ہے۔ ایک طرف عذاب شدید ہوگا، دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی، اگر کوئی شخص اس دنیا کے مطامع کو قربان کر کے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودگی کے حصول کا حوصلہ نہیں کر پائے گا تو وہ لازماً اس کے عذاب شدید سے دو چار ہوگا۔ (ایک خاص نکتہ) اس آیت میں تالیف کلام عام مفسرین کے نزدیک تو اس طرح ہے کہ وہ (انما الحیوۃ الدنیا) کو مبتداء اور اس کے بعد کی ساری عبادت کو خبر قرار دیتے ہیں لیکن میرے نزدیک (انما الحیوۃ الدنیا) کے بعد (لعب ولھو و زینۃ و تفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والاولاد) کے الفاظ بطور بدل بیان آئے ہیں اور (کمثل غیث) الایۃ اس مبتداء کی خبر ہے۔ اس اسلوب کلام کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں، مثلاً (لنسفعا بالناصیۃ ناصیۃ کاذبۃ خاطۃ) (العلق : 96، 15، 16) (ہم اس کی چوٹی پکڑ کر گھسیٹیں گے، جھوٹی، نابکار، گنہگار چوٹی) اس تالیف کلام سے معنی میں بڑا فرق پیدا ہوجائے گا۔ مفسرین کے نزدیک تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض لہو و لہب، زینت و آرائش اور تفاخر و تکاثر ہے۔ میرے نزدیک مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی یعنی لعو و لہب، زینت آرائش اور تفاخر کی تمثیل یوں ہے جس طرح۔۔۔۔۔ مفسرین کی تاویل کی رو سے یہ دنیا اور اس کی زندگی بحیثیت مجموعی ایک قابل نفرس و لعنت چیز ٹھہرتی ہے اور اس سے اسی رہبانی تصور کی تاہید نکلتی ہے جس کی قرآن نے پوری شدت سے آگے اسی سورة میں تردید کی ہے اور اگر وہ تاویل لی جائے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے تو اس سے دنیا بحیثیت مجموعی نہیں بلکہ اس کا صرف وہ پہلو قابل نفرت قرار پائے گا جس پر کفارو منافقین ریجھتے ہیں اور جو ان کو جہنم میں لے جانے کا سبب بنتا ہے۔ فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ دنیا اور اس کی زندگی بجائے خود لعنت نہیں ہے بلکہ اس کے لعنت یا رحمت ہونے کا تعلق انسان کے رویہ سے ہے۔ اگر انسان ان حدود کے اندر زندگی گزارے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں تو اس دنیا کی حیات چند روزہ اس کے لیے آخرت کی ابدی بادشاہی کی ضامن ہے اور اگر وہ ان حدود سے بےپروا ہو کر اس کو خود معبود بنا بیٹھے اور اس کی لذتوں میں کھو جائے تو یہ اس کے لیے ابدی لعنت بن جاتی ہے، اس آیت میں اس کے اسی پہلو سے ہوشیار کیا گیا ہے۔ (ایک اور نکتہ)۔ آیت میں لفظ کفار بھی قابل غور ہے۔ اس کے معنی مفسرین نے عام طور پر ’ زراع ‘ یعنی کسانوں کے لیے ہیں لیکن دل اس پر نہیں جمتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ اس معنی میں معروف نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جس مادے سے ہے اس کے اندر یہ معنی لینے کی گنجائش بھی ہے لیکن محض اتنی بات ایک ایسے لفظ کو جو ایک اصطلاح کی حیثیت سے، ایک خاص مفہوم میں قرآن میں کثرت سے استعمال ہوا ہے، ایک ایسے شاذ معنی میں لینے کے لیے کافی نہیں ہے جس معنی میں اس کی کوئی اور مثال قرآن میں نہیں ہے۔ سورة ٔ فتح کی آیت (فاستوی علی سوقہ یعبعب الزراع لیغیظ بھم الکفار) (29) (پس وہ کھیتی اپنے تنوں پر کھڑی ہوگئی کسانوں کے دلوں کو لبھاتی ہوئی کہ ان سے کافروں کے دل آزادہ ہوں) میں دونوں لفظ اپنے اپنے خاص معنوں میں استعمال ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اپنے معانی میں معروف و متعین ہیں۔ اس وجہ سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں کفار اپنے اصل مفہوم ہی میں ہے۔ چونکہ اس تمثیل میں پیش نظر منکرین آخرت ہی کے رویہ کو نمایاں کرنا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ اس دنیا کی عارضی رونقیں منکرین آخرت کے دلوں کو لبھا لیتی ہیں وہ انہی کے اندر پھنس کے رہ جاتے ہیں اور بالآخر اس عذاب سے دو چار ہوتے ہیں جو اس قسم کے محروم القسمت لوگوں کے لیے مقدر ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تمثیل و تشبیہ میں بعض اوقات ایسے الفاظ داخل کردیئے جاتے ہیں جن سے مقصود ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے جو اس تشبیہ یا تمثیل میں پیش نظر ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بعض چیزوں کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں۔ ان پر نگاہ رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ تشبیہ یا تمثیل کا اصل حسن ظاہر نہیں ہوتا، یہاں یہ لفظ استعمال کر کے ان لوگوں کا سراغ دے دیا گیا ہے جو تمثیل میں پیش نظر ہیں۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

تم مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور ایک ایسی جنت کی طرف جس کا طول و عرض آسمان و زمین کے طول و عرض کے مانند ہوگا۔ وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کا فضل ہے، اس کو بخشے گا وہ جس کو چاہے گا اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے

(سابقوا ا لی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عومھا لعرض السماء والارض، اعدت للذین امنوا باللہ ورسلہ ذلک فضل اللہ یوقیہ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم) (21)۔ (اصل میدان مسابقت)۔ اوپر کی آیت میں بتایا کہ اہل کفر کی بھاگ دوڑ اور ان کا تکاثر و تفاخر تو بس اسی دنیا کی عارضی وفائی مطلوبات و مرغوبات کی راہ میں ہے۔ وہ ان سے آگے جانے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن اہل ایمان کا نصب العین اپنے رب کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہونا چاہیے اور اس دنیا کی تنگ نائے کی جگہ انہیں اس جنت کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا طول و عرض آسمانوں اور زمین کے طول و عرض کے برابر ہے اور جو ان مومنین صادقین کے لیے اللہ نے تیار کر رکھی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر سچا اور پکا ایمان رکھنے والے ہیں۔ لفظ ’ عرض ‘ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ طول و عرض یعنی وسعت اور پہنائی کے مفہوم میں ہے اور سما جنس یعنی سموات کے معنی میں ہے چناچہ دوسرے مقام میں یہی مضمون جمع کے لفظ سے بیان ہوا ہے (وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عضھا السموات والارض) (ال عمران : 3، 133) (اور مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور ایک ایسی جنت کے لیے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے مانند ہوگی۔) (اعدت للذین امنوا باللہ ورسلہ) یعنی اس کو بہت دور کی چیز نہ سمجھو، یہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے والوں کے لیے تیار کی ہوئی موجود ہے، جونہی اس دنیا کا امتحان ختم ہوا ہر ایک کے سامنے اس کی جنت بےنقاب ہوجائے گی اور اس بات پر بھی تعجب نہ کرو کہ چند دنوں کی نیکیوں کی صلہ میں اللہ تعالیٰ ہر ایک ایسی ناپیدا کنار جنتیں دے گا۔ اللہ بڑے فضل والا ہے، وہ جس کو چاہے بخشے اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔
Ayah 57:22

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

اور تمہیں کوئی مصیبت بھی نہیں پہنچتی ہے، نہ زمینی پیداوار میں اور نہ تمہارے اپنے نفوس کے اندر مگر یہ کہ وہ لکھی ہوئی ہے ایک کتاب میں اس سے پہلے سے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں اور یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔

(ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر) (22)۔ (تقدیر کا نوشتہ اٹل ہے) یعنی یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ جو مالی یا جانی مصیبت بھی تمہیں پیش آنی ہے وہ پیش آ کے رہے گی، تم اس سے بچنے کے کتنے ہی جتن کرو لیکن اس سے بھاگ نہیں سکتے، ہر دکھ اور سکھ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ایک کتاب میں لکھ رکھا ہے اور یہ کسی کے امکان میں نہیں ہے کہ وہ نوشتہ تقدی کو بدل سکے۔ اللہ تعالیٰ کا علم حاضر و مستقبل سب پر محیط ہے اس وجہ سے اس کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ تم اپنے محدود علم پر قیاس کر کے اس کو بعید از امکان خیال کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے۔ اس کے لیے یہ معمولی بات ہے کہ وہ جس کو وجود بخشے اس کے وجود سے پہلے ہی اس کی تقدیر بھی لکھ دے۔ یہاں دعوت انفاق کی ذیل میں اس نکتہ کی وضاحت اس وجہ سے ضروری ہوئی کہ اللہ تعالٰ کی راہ میں انفاق مال و جان سے جی وہی لوگ چراتے ہیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ان کو جو مال حاصل ہوتا ہے وہ ان کی اپنی تدبیر سے حاصل ہوتا ہے اور جو زندگی عطا ہوئی ہے اس کے محافظ وہ خود ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا کہ مال اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اس وجہ سے یہ انتہائی نادانی ہے کہ اس کو خدا سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ جو چیز خدا ہی کی بخشش سے ملی ہے اس کو کوئی خدا سے کس طرح بچا سکتا ہے ؟ اگر وہ اللہ کے حق میں بخالت کرے گا تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کوئی آفت بھیج کر اس کا مال چھین لے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور اپنے رب سے یہ امید رکھے کہ جس طرح اس نے آج اپنی مدد سے نوازا ہے اسی طرح آئندہ بھی ہر مشکل میں وہ مدد فرمائے گا۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں منافقوں اور بخیلوں کا یہ کردار بیان ہوا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے اس ندیشہ سے جی چراتے ہیں کہ کل کہ اگر کوئی افتاد پیش آئی تو کیا بنے گا۔ گویا وہ اپنی نجالت کو آئندہ پیش آنے والی مشکلوں اور گروشوں کا علاج سمجھتے ہیں، حالانکہ جو کچھ پیش آنا ہے وہ اٹل ہے۔ اس کا علاج خدا سے بخالت نہیں بلکہ اس کی راہ میں انفاق اور اسی پر توکل ہے۔ (فی الارض) سے یہاں اشارہ ان مالی قسم کی آفتوں کی طرف ہے جو زمین کی پیداوار کو لا حق ہوتی ہے اور (فی انفسکم) سے وہ تکلیفیں اور مصیبتیں مراد ہیں جو جسم اور جان کو لا حق ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں انسان کو جو آزمائشیں بھی پیش آتی ہیں انہی دونوں راہوں سے پیش آتی ہیں، فرمایا کہ ان دونوں ہی راہوں سے جو کچھ بھی پیش آنے والا ہے وہ پہلے سے اللہ تعالیٰ کے باں نوشتہ ہے۔ اس وجہ سے انسان کے لیے نہ یہ جائز ہے کہ وہ اپنے رب سے اپنا مال چرائے اور نہ یہ جائز ہے کہ وہ اس سے اپنی جان چرانے کی کوشش کرے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی وہ خدا سے بچا سکنے پر قادر نہیں ہے۔ انہی منافقین کو خطاب کر کے قرآن میں دوسری جگہ فرمایا ہے کہ آج تم خدا کی راہ سے جی چراتے اور موت سے ڈرتے ہو لیکن موت کا جو وقت مقرر ہے وہ اس وقت آ کے رہے گی اور تم کتنے ہی محکم قلعوں کے اندر چھپ کے بیٹھو لیکن وہ تم کو ڈھونڈلے گی۔ فی کتب سے مراد وہ کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی تقدیر رقم فرما رکھی ہے۔ اس کی لوح محفوظ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے اور اس سے مراد در حقیقت علم الٰہی ہے۔ (ان ذلک علی اللہ بسیر) یعنی تمہارا علم بہت محدود ہے اس وجہ سے تمہارے لیے یہ تصور کرنا بڑا مشکل ہے کہ ایک ایک فرد کی زندگی میں جو کچھ پیش آتا ہے وہ لکھا ہوا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ وہ اس پوری کائنات کا خالق اور اس کا علم محیط کل ہے وہ ہر ایک کے متعلق جانتا ہے کہ وہ کن مراحل سے ہوتا ہوا کس منزل تک پہنچے گا۔
Ayahs 57:23–24

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جا رہی ہے کہ جو چیز جاتی رہے اس پر غم نہ کرو اور نہ اس چیز پر اترائو جو اس نے تمہیں بخشی ہے اور یاد رکھو کہ اللہ اکڑنے والوں اور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں اور جو اعراض کریں گے وہ یاد رکھیں گے کہ اللہ بےنیاز و ستو وہ صفات ہے۔

(لکیلا تا سوا علی ما قد تکم ولا تفرحوا بما اتکم واللہ لا یحب کل مختال فخور الذین یبخلون و یامرون الناس بالبخل ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) (23، 24) (تقدیر کا فلسفہ)۔ یہاں لگی سے پہلے کچھ حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ اس موقع پر تمہیں اس حقیقت کی یاددہانی اس لیے کرائی جا رہی ہے کہ نہ تم کسی چیز کے قوت ہونے پر غور کرو اور نہ کسی چیز پر جو تمہیں ملے اترائو اور فخر کرو، بلکہ اس عقیدے کی روشنی میں تمہارا کردار یہ ہونا چاہیے کہ تمہیں کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچے تو اس پر صبر کرو کہ یہ نوشتہ تقدیر کے مطابق پہنچا ہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اور اگر کوئی نفع پہنچے تو اس پر اپنے رب کے شکر گزار بنو کہ اسی نے تمہیں اپنے فضل سے نوازا ہے۔ اس گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اترانے نہ لگو کہ یہ تمہاری تدبیر و قابلیت کا ثمرہ اور تمہارے استحقاق کا کرشمہ ہے۔ (واللہ لا یحب کل مختال فخور) جو لوگ اللہ کی بخشی ہوئی نعمتیں پا کر اکڑنے والے بن جاتے ہیں انہیں یہ بات یاد رکمنی چاہیے کہ اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پسند نہیں کرتا کے الفاظ اگرچہ بظاہر نرم ہیں لیکن باعتبار معنی بہت سخت ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ بسا اوقات اس طرح کے منفی اسلوب میں جو بات کہی جاتی ہے اس کو مثبت اسلوب میں کہیں تو وہ یوں ادا ہوگی کہ ان اللہ یبغض کل مختال فخور لیکن متکلم صاف لفظوں میں بات کہنے کے بجائے اپنے تیور اور لب و لہجہ سے اپنی شدت نفرت کا اظہار کردیتا ہے۔ (الذین یبخلون و یامرون الناس بالبخل) یہ ان کے اسی کردار کے دوسرے پہلے کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے لوگ چونکہ اس خبط میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں جو کچھ حاصل ہوتا ہے اپنی تدبیر سے حاصل ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اپنی نمائش و آرائش و نکاثر و تفاخر کے سودا دین و ملت کی راہ میں خرچ کرنے کو خسارہ اور تاوان سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے کاموں میں وہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ان کی بخالت پر پردہ پڑا رہے۔ بخیلوں کے کردار کا یہ پہلو قرآن میں بعض جگہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ان کی خواہش اور کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ جس طرح وہ بخیل ہیں اسی طرح دوسرے بھی بخیل بنے رہیں تاکہ ان کی بخالت پر پردہ پڑا رہے۔ لفظ ’ امر ‘ یہاں مشورہ دینے کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ معروف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ دوسروں کو دینی و ملی کاموں میں خرچ کرتے دیکھتے ہیں تو ان کو خیر خواہانہ انداز میں مشورے دیتے ہیں کہ بہت شاہ خرچ مت بنو ورنہ کوئی سخت وقت آپڑا تو پچھتائو گے اور اس وقت کوئی مدد کرنے والا نہیں بنے گا۔ (ومن یتول فان اللہ ھوا الغنی الحمید) یہ اس طرح کے بخیلوں سے نہایت تہدید آمیز الفاظ اظہار بےنیازی و اعلان بیزاری ہے کہ اگر یہ لوگ اس تذکیرو تعلیم کے بعد بھی اعراض ہی کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ خدا بھی ان سے بالکل بےنیاز ہے، اللہ تعالیٰ ان کو انفاق کی دعوت دے رہا ہے تو اس لیے نہیں کہ اس کے خزانے میں کوئی کمی ہے بلکہ اس نے یہ اپنے بندوں کے لیے (جیسا کہ آیت 18 میں بیان ہوا) ایک ابدی نفع کمانے کی راہ کھولی ہے۔ ’ غنی ‘ کے ساتھ صفت ’ حمید ‘ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بالکل بےنیاز و بےپروا ہے۔ اسے کسی کی حاجت نہیں، وہ لوگوں سے مانگتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ ان کا محتاج ہے بلکہ وہ ’ حمید ‘ ہے اس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اس طرح وہ لوگوں کو اپنے افضال کا حق دار بنائے اور ان کے دیئے ہوئے خزف ریزوں کو ایک لازوال خزانے کی شکل میں تبدیل کر کے ان کو واپس کرے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

(بےشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں اور لوہا بھی اتارا جس میں بڑی قوت بھی ہے اور لوگوں کے لیے اس میں دوسرے فوائد بھی ہیں اور اس سے اللہ نے یہ بھی چاہا کہ وہ ان لوگوں کو ممیز کرے جو اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد غیب میں ہوتے کرتے ہیں۔ بیشک اللہ بڑا ہی زور آور اور غالب ہے۔

6۔ آگے آیات 25۔ 29 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کے اٹھائے ہوئے ایک اعتراض کا بر محل جواب دیا گیا ہے۔ اوپر کی آیات میں اہل ایمان کو جس انفاق کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کا تعلق جیسا کہ سیاق وسباق سے واضح ہے، جہاد سے ہے۔ مسلمان جب تک مکہ میں مظلوم و مغلوب رہے اس وقت تک تو اہل کتاب اور قریش نے ان کی کمزوری اور بےبسی کو ان کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کیا لیکن جب انہوں نے مدینہ میں ایک منظم جمعیت کی شکل اختیار کرلی یہاں تک کہ انہوں نے قلت تعداد کے باوجود قریش کو بعض جنگوں میں نہایت کھلی ہوئی شکست بھی دے دی تو قریش اور اہل کتاب دونوں نے مل کر ان کے جوش جہاد کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا کہ یہ جماعت مذہب جماعت کس طرح ہو سکتی ہے جب کہ ان کے نزدیک سب سے بڑا نیکی کا کام جنگ و خونریزی ہے، بھلا اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کو جنگ و خونریزی سے کیا تعلق، وہ تو دنیا میں امن و سلامتی اور صلح و محبت کے داعی ہوتے ہیں ! اس دور میں مذہب کا رہبانی تصور ذہنوں پر غالب تھا اس وجہ سے قریش نے اہل کتاب کے اٹھائے ہوئے اس اعتراض کو اٹھا لیا، چناچہ غروہ بدر کے موقع انہوں نے نبی ﷺ کو طعنہ دیا کہ یہ اللہ کے رسول کس طرح ہو سکتے ہیں جب کہ انہوں نے بھائیوں کی تلوار بھائیوں ہی کی گردنوں پر چلوا دی۔ قرآن نے جگہ جگہ اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔ سورة انفال اور سورة حج میں اس کے بعض اہم پہلو زیر بحث آ چکے ہیں۔ یہاں اس کے جواب میں انبیاء و رسل کی تاریخ کی روشنی میں تین باتیں واضح فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی اور رسول بھی بھیجے اس لیے بھیجے کہ لوگ ان کی ہدایات کی روشنی میں حق و عدل کی شاہراہ پر چلنے والے بنیں۔ اسی مقصد کے لیے اللہ نے ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ کتاب ان کے لیے میزان حق کا کام دے اور وہ اس کسوٹی پر پرکھ کر لوگوں کو بتائیں کہ کیا حق ہے، کیا باطل، کیا عدل ہے، کیا ظلم ؟ دوسری یہ کہ عدل و قسط کا قیام اس امر کو مستلزم ہے کہ ظلم وجود کا سدباب کیا جائے۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ کتاب و میزان کے ساتھ قوت و طاقت بھی ہوتا کہ عدل کی مزاحم طاقتیں اس کے قیام میں مانع ہوں تو ان کو دبایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب کے ساتھ لوہا بھی اتارام جس میں خلق کے لیے دوسرے گونا گوں فوائد کے ساتھ یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے وہ قوت حاصل کی جاسکتی ہے جو قیام حق وعدل کی راہ میں جہاد کے لیے ضروری ہے۔ یہ جہاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کا ایک امتحان ہے جس سے وہ مخلصین و منافقین کو پرکھتا ہے کہ کون حق کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے سکتے ہیں اور کون محض دکھاوے کے مسلمان ہیں۔ تیسری یہ کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی ذریت میں جتنے بنی و رسول بھی آئے سب اسی مقصد حق اور قیام عدل کے لیے آئے اور انہی کے طریقہ پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح ؑ ابن مریم کو بھی بھیجا۔ ان کے پیروئوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر رافت و رحمت رکھی تھی جس کی آڑ میں ان کے بعد کے نام لیوائوں نے رہبانیت ایجاد کرلی جو محض ان کی اپنی ایجاد کردہ بدعت ہے۔ ان پر جو چیز فرض کی گئی تھی وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا طلبی تھی جو تمام نبیوں اور رسولوں کی مشترک تعلیم ہے لیکن اپنی غلو پسندی کے سبب انہوں نے اس کے حدود ملحوظ نہیں رکھے اور رہبانیت ایجاد کرکے خدا کے دین کا حلیہ بگاڑ ڈالا اور اب اسی بگڑے ہوئے دین کو دلیل بنا کر اسلام کے حکم جہاد پر اعتراض کر رہے ہیں۔ اس فتنہ رہبانیت کے سبب سے سب سے زیادہ گمراہی چونکہ نصاریٰ ہی کو پیش آئی اس وجہ سے آخر میں ان کو خاص طور پر اسلام کی دعوت بھی دے دی گئی کہ جو لوگ حضرت مسیح ؑ پر ایمان کے مدعی ہیں وہ رہبانیت وغیرہ جیسی بدعات میں پھنس کر اسلام کی نعمت عظمیٰ سے محروم نہ ہوں۔ اگر وہ اللہ کے آخری رسول پر ایمان لائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اپنی رحمت میں ان کو دو حصے دے گا اور یہ یہود جو اللہ کے تمام فضل و رحمت کا اجارہ دار تنہا اپنے کو سمجھے بیٹھے ہیں حسد کی اسی آگ میں جلتے رہیں گے جس میں وہ اجل رہے ہیں۔ اسی روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (لقد ارسلنا رسلنا بالبینت وانزلنامعھم الکتب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ ورسلہ بالغیب ان اللہ قوی عزیز) (25)۔ (رسول کی بعثت کا مقصد)۔ یہ رسولوں اور کتابوں کے بھیجنے کا مقصد واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں کہ لوگ زندگی کے ہر شعبہ میں حق و عدل کے اختیار کرنے والے بنیں۔ عقائد میں وہ راہ اختیار کریں جو ہر کج پیچ سے پاک، سیدھی اور بیچ (وسط) کی راہ ہو اور اعمال میں خواہ وہ انفرادی زندگی سے متعلق ہوں یا اجتماعی زندگی سے وہ روش اختیار کریں جو حق و عدل پر مبنی اور ظلم و جور کے ہر شائبہ سے پاک ہو۔ معلوم ہوا کہ اللہ نے اپنے رسول محض وعظ سنا دینے کے لیے نہیں بھیجے اور نہ اپنی کتابیں محض تلاوت کے لیے نازل کیں بلکہ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگ ان کی رہنمائی میں حق و عدل پر قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے والے بنیں۔ کتب کے ساتھ میزان کا ذکر سپرے نزدیک کتاب ہی کے سب سے بڑے مقصد کی وضاحت کے لیے ہے کہ وہ تول کر بتاتی ہے کہ کس کے ساتھ کتنا حق ہے اور اس میں کتنا غیر مطلوب اضافہ ہے۔ سورة ٔ شوریٰ میں کتاب الٰہی کے اس پہلو کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔ 1 ؎۔ وہاں پہلے یہ حقیقت واضح فرمائی گئی کہ اللہ کے تمام رسولوں نے صرف توحید کی تعلیم دی ہے اور اس راہ سے معمولی انحراف کو بھی نہایت شدت کے ساتھ روکا ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی ہے کہ تم اسی راہ کی لوگوں کو دعوت دو اور اپنے مخالفوں کو آگاہ کر دو کہ میں اللہ کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان لایا ہوں تو تمہاری بدعتوں کی پیروی کس طرح کرسکتا ہوں۔ یہ کتاب دے کر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس متصب پر مامور فرمایا ہے کہ میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں اور اس میزان پر تول کر بتائوں کہ تم میں سے کس کے پاس کتنا حق ہے اور کتنا باطل، اس بحث کا خاتمہ آیت ذیل پر ہوا ہے۔ (اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان وما یدریک لعل الساعۃ قریب) (الشوریٰ : 42، 17)۔ (اللہ ہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب حق کے ساتھ اور جو فیصلہ کے لیے میزان ہے اور تمہیں کیا خبر کہ شاید قیامت کی گھڑی بھی (فیصلہ کے لیے) قریب ہی آ لگی ہو۔) (1 ؎ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد ششم، صفحات : 152، 157)۔۔۔ اسی پہلو سے قرآن کو مھیمن بھی کہا گیا ہے۔ مھیمن کے معنی کسوٹی کے ہیں۔ یعنی قرآن ایک کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ عدل اور قسط کو قائم کرنے کے لیے میزان اور کسوٹی کا ہونا ضروری ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی یہ دونوں صفتیں واضح فرمائی ہیں۔ (قیام عدل کے لیے طاقت کی ضرورت)۔ (وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس)۔ یعنی جب رسولوں کی بعثت اور کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے اصل مقصود و قیام قسط ہوا تو یہ کام مجرد وعظ و تذکیر اور انداز و بیشتر سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے طاقت کی بھی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو رسولوں کو بنیات یعنی نہایت واضح دلائل کے ساتھ اور کتابوں کو میزان اور کسوٹی بنا کر بھیجا تاکہ لوگوں پر عقلی و اخلاقی پہلو سے اچھی طرح حجت تمام ہوجائے، دوسری طرف لوہا بھی اتارا کہ جو لوگ اتمام حجت کے بعد بھی حق کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوں اور اپنے اغراض کے لیے خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے ہی پر تلے ہوں ان کو طاقت کے ذریعہ سے زیر کیا جائے، چناچہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت رہی ہے کہ جب اس نے کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجا تو اتمام حجت کے بعد اس کو دو صورتوں میں سے کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیش آئی۔ اگر اس کے اندر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوئی۔ اکثریت کفر پر جمے رہ جانے والوں ہی کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے کوئی ارضی و سماوی عذاب بھیج کر کفار کو تباہ کردیا اور اپنے باایمان بندوں کو ان کے اندر سے نکال لیا اور اگر اس کے اندر ایمان لانے والوں کی تعداد بھی معتدبہ ہوئی تو رسول اور اس کے ساتھیوں کو کفار سے جہاد بالسیف کا حکم دیا گیا جس کے نتیجہ میں بالآخر کفار کا استیصال ہوگیا۔ قرآن مجید میں رسولوں کی جو تاریخ بیان ہوئی ہے وہ اس سنت الٰہی پر شاہد ہے اور ہم جگہ جگہ اس کے تمام پہلوئوں کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ (ہر خبر کا منبع اللہ ہے)۔ لوہا اگرچہ نکلتا زمین ہی سے ہے لیکن اس کے لیے لفظ انزلنا استعمال ہوا ہے۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح چوپایوں کے پیدا کیے جانے کے لیے یہ لفظ قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ مقصود اس سے ایک طرف تو اس عنایت خاص کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کے اندر انسانوں کی بہبود کے لیے مضمر ہے۔ دوسری طرف یہ لفظ ہر چیز کی اصل منبع ومصدر کا سراغ دیتا ہے کہ کوئی چیز کہیں سے حاصل ہو لیکن حقیقت میں وہ نازل خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ جب تک انسان کی نظر اس پہلو پر نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کرسکتا۔ (ایک نکتہ)۔ اس ٹکڑے میں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ باس مقدم ہے لفظ منافع پر جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوہے کی اصل افادیت جہاد کی قوت فراہم کرنا ہے۔ اس کے دوسرے تعمیری و تمدنی فوائد مزید برآں اور ضمنی ہیں۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ قرآن نے یہاں لوہے کا ذکر اصل ابتدائی ذریعہ جنگ کی حیثیت سے کیا ہے۔ اس زمانے میں بیشتر اسلحہ جنگ اسی سے بنتے تھے۔ اب لوہے کی حیثیت ثانوی رہ گئی ہے، اصل اہمیت دوسری چیزوں کو حاصل ہوگئی ہے۔ حالات کی تبدیلی سے ان دوسری چیزوں کو اب وہی اہمیت حاصل ہوجائے گی جو پہلے لوہے کو حاصل تھی۔ (جہاد کی حکمت)۔ (ولیعلم اللہ من ینصرہ ورسلہ بالغیب ان اللہ تری عزیز)۔ یہ جہاد کی حکمت واضح فرمائی کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ خود قوی اور غالب ہے، وہ اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو چشم زدن میں شکست دے سکتا ہے لیکن اس جہاد کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کا امتحان کرتا ہے کہ کون غیب میں ہوتے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے اور کون محض دکھاوے کا مجنوں سے جو امتحان میں پھسڈی ثابت ہوتا ہے۔ (علم یعلم) کے معنی کی وضاحت ہم کرچکے ہیں کہ یہ ممیز کردینے کے معنی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تو سب کچھ ہے لیکن اس طرح کے امتحان کے ذریعہ سے وہ جھوٹے اور سچے میں امتیاز بھی کرا دیتا ہے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

اور ہم نے نوح اور ابراہیم کو رسول بنا کر بھیجا اور ان دونوں کی ذریت میں نبوت اور کتاب کا سلسلہ جاری کیا۔ پس ان میں سے کچھ تو ہدایت پانے والے بنے اور زیادہ ان میں نافرمان نکلے۔

(ولقد ارسلنا نوحا و ابراہیم وجعلنا فی ذریتھما النبوۃ والکتب فمھنم مھتدوکثیر منھم فسقون) (26)۔ (تاریخ انبیاء کا حوالہ)۔ یہ تمام انبیاء کی تاریخ کا حوالہ ہے کہ اللہ نے جتنے نبی اور رسول بھی بھیجے اسی مقصد سے بھیجے کہ وہ لوگوں کو عدل و قسط کے قیام کی دعوت دیں لیکن ان کی ذریت میں سے تھوڑے ایسے نکلے جو اس مقصد پر استوار رہے، اکثریت اپنی بدعت پسندیوں کے سبب سے اس نصیب العین سے منحرف ہو کرنا فرمان بن گئی۔ رسولوں میں سے یہاں نام کی تصریح کے ساتھ صرف دو رسولوں۔ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ حضرت نوح ؑ کی حیثیت آدم ثانی کی ہے اور بنی اسرائیل و بنی اسماعیل میں جو انبیاء آئے ان کے ابو الآباء حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ ان دو کا ذکر ہوگیا تو گویا یا نبوت کے تمام سلسلوں کا ذکر ہوگیا۔ یہ آیت تمہید ہے اس مضمون کی جو آگے آ رہا ہے۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر انہی کے نقش قدم پر ہم نے اپنے اور رسول بھی بھیجے اور انہی کے نقس قدم پر بھیجا عیسیٰ ابن مریم کو بھی اور اس کو عنایت کی انجیل اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے اس کی پیروی کی رافت و رحمت رکھی اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کی۔ ہم نے ان کے اوپر صرف اللہ کی خوشنودی کی طلب فرض کی تھی تو انہوں نے اس کے حدودکماحقہ، ملحوظ نہیں رکھتے۔ تو ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان پر جمے رہے ان کا اجر عطا فرمایا اور زیادہ ان میں نافرمان نکلے۔

(ثم فقفینا علی اثارھم یرسلنا وقفینا بعیسی ابن مریم واتینہ الانجیل وجعلنا فی قلوب الدین اتبعوہ رافۃ ورحمۃ ورھبا نیۃ ابتد عوھا ماکتبنھا علیھم الا ابتخاء رضوان اللہ فما رعوھا حق رعایتھا فاتینا الذین امنوا منھم اجرھم و کثیر منھم فسقون) (27)۔ (اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب تمام انبیاء کا طریقہ وہی رہا ہے جو اوپر بیان ہوا تو دین میں رہبانیت کی بدعت اور جہاد کو خلاف دینداری قرار دینے کی ضلالت کہاں سے اور کس طرح گھسی ؟ فرمایا کہ نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کے بعد جتنے نبی بھی ہم نے بھیجے انہی کے نقش قدم پر بھیجے یعنی سب نے لوگوں کو نقطہ عدل پر استوار ہونے کی دعوت دی اور اگر ضرورت داعی ہوئی تو انہوں نے قیام قسط کے لیے سنت انبیاء کے مطابق جہاد بھی کیا۔ ان میں سے کسی رسول کا عمل بھی اس طریقہ کے خلاف نہیں ہوا۔ ٹھیک اسی مقصد کے لیے عیسیٰ ابن مریم ؑ کی بھی بعثت ہوئی اور انہیں انجیل عطا کی گئی۔ وہ لوگوں کو رہبانیت کی تعلیم دینے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے۔ بس یہ بات تھی کہ ان کے پیروئوں میں رافت و رحمت کا جذبہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر رکھا تھا۔ اسی کا سہارا لے کر بعد کے مبتد عین نے رہبانیت کا ایک نظام کھڑا کردیا حالانکہ ان پر رہبانیت نہیں فرض کی گئی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی فرض کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کے حدود ملحوظ نہیں رکھے بلکہ فطرت و شریعت کے حدود توڑ کر بالکل دوسری وادیوں میں بھٹک گئے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ دین میں رہبانیت کی بدعت داخل تو ہوئی ہے نصاریٰ کے ذریعہ سے لیکن اس میں سیدنا مسیح ؑ کی تعلیم یا انجیل یا ان کے اصل خلفاء کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر بعد کے مبتدعین کی ایجاد ہے۔ (وجعلنا فی قلوب الذین اتبعوہ رافعۃ ورحمۃ)۔ یہ حضرت مسیح ؑ کے اولین پیروئوں کی تعریف فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رافت و رحمت رکھی تھی۔ اس تعریف سے مقصود یہ دکھانا ہے کہ ان کے یہی بہترین انسانی اوصاف بعد والوں کے لیے رہبانیت کی دلیل بن گئے حالانکہ رافت و رحمت کی تعلیم جس طرح سیدنا مسیح ؑ نے دی ہے اسی طرح اللہ کے ہر نبی و رسول نے دی ہے۔ نبی ﷺ کے متعلق قران میں ارشاد ہے کہ (حریص علیکم بالمومنین رئوف رحیم) (التوبۃ : 9، 128) (وہ تمہاری ہدایت کا حریص اور مومنین کے لیے نہایت شفیق و مہربان ہے)۔ خود مسلمانوں کے باب میں (رحماء بینھم) (آپس میں رحم دل ہیں) کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ احادیث میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں وہ ان سے زیادہ واضح ہیں۔ فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان باہمی ہمدردی و درد مندی میں اس طرح ہیں جس طرح ایک جسم کے اعضاء یا ہمد گر ہوتے ہیں۔ سعدی نے ایک حدیث ہی کا ترجمہ اسی طرح کیا ہے۔ ع چو عضوے بدرد آورد روزگار دگر عضو ہار انماند قرار رافت و رحمت عدل و قسط کے منافی نہیں ہے بلکہ اس کا اولین تقاضا عدل و قسط کا قیام ہی ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں قیامت کو، جو عدل کامل کے ظہور کا دن ہے، اپنی صفت رحمت ہی کا ایک لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔ (کتب علی نفسہ الرحمۃ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ) (الانعام : 6، 12) (اللہ نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے، وہ تمہیں قیامت کے دن کے لیے ضرور جمع کر کے رہے گا) سید مسیح ؑ کے پیروئوں کو چونکہ آپ کی زندگی میں جہاد کا موقع نہیں ملا اس وجہ سے بعد والوں نے ان کی رافت و رحمت کو رہبانیت کی دلیل بنا لیا، حالانکہ انہیں جہاد کا موقع ملا ہوتا، جس طرح آنحصرت ﷺ کی امت کو اس کی سعادت حاصل ہوئی، تو وہ بھی (اشداء علی الکفار حماء بینھم) کی تصویر ہوتے۔ 1 ؎ (رہبانیت بدعت ہے)۔ (ورھبانیۃ ابتدعوھا ما کتبنھا علیھم الا ابتغا رضوان اللہ فما رعوما حق رعایتھا)۔ یعنی ان کے دلوں میں رافت و رحمت تو ہم نے ضرور رکھی لیکن اس کی آڑ میں یہ رہبانیت جو بعد والوں نے ایجاد کی اس کو مسیح ؑ کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (رھبانیۃ) ، جعلنا کے تحت نہیں ہے۔ اس کا نصب ایک فعل مضمر کے زیر اثر ہے جس کی وضاحت بعد کے فعل ابتدعوھا سے ہو رہی ہے۔ البتہ یہاں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ رہبانیت کی ایجاد ہوئی تو ایک اچھے محرک سے لیکن ہے یہ خدا کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کی وہ ایک اچھے محرک کے باوجود اپنی بدعت پسندی، غلو اور تشدد کے باعث بالکل غلط راہ پر جا پڑے۔ (ما کتنھا علیھم الا ابتغاء رضوان اللہ)۔ یعنی یہ رہبانیت جو انہوں نے اپنے اولر اولیٰ پر ہماری فرض کردہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی اپنی ایجاد کردہ ہے۔ ہم نے ان پر جو چیز قرض کی تھی وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا طلبی کی جدوجہد تھی۔ اگر یہ رہبانیت اسی حد تک ہوتی تو ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں باعث خیر و برکت ہوتی لیکن انہوں نے اس کے حدود و ملحوظ نہیں رکھے۔ (فما رعوھا حق رعایتھا)۔ میں مضمر مؤنث کا مرجع ظاہر ہے (رھبانیۃ) ہی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ رہبانیت کے معاملے میں نصاریٰ کی اصل غلطی یہ ہے کہ انہوں نے اس کے حدود کما حقہ، ملحوظ نہیں رکھے جس کے سبب سے اس میں فطرت اور عقل کے خلاف باتیں داخل ہوگئیں اگر وہ اس کے حدود ملحوظ رکھتے تو ابتغاء رضوان اللہ کے نصب العین سے یہ متجاوز نہ ہوتی اور یہ چیز ایسی ہے جو تمام انبیاء اور تمام آسمانی صحیفوں کی تعلیم میں مشترک ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد اور جنگ و قتال اس رہبانیت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت سورة توبہ میں یوں فرمائی گئی ہے۔ (1 ؎، جہاد کے باب میں سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے)۔ (ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم وامرالھم بان لھم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وعدا علیہ حقانی التورائۃ والا نجیل والقرآن) (التوبۃ : 9، 11) (اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے عوض میں خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پس نقل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں، یہ اللہ کے ذمہ قطعی وعدہ ہے، تورات، انجیل اور قرآن سب میں۔) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا طلبی کے لیے جنگ و قتال تمام انبیاء اور تمام آسمانی صحیفوں کی مشترک تعلیم ہے۔ یہی تعلیم نصاریٰ کو انجیل میں بھی دی گئی تھی اس لیے کہ انجیل میں درباب احکام تورات کی پوری پابندی کی بار بار تاکید کی گئی ہے لیکن انہوں نے ایک ایسی رہبانیت ایجاد کرلی جس میں یہ اصل نصب العین غائب ہوگیا۔ یہاں ایک اور حقیقت بھی ذہن میں از سر نو تازہ کرلیجئے جس کی طرف سورة توبہ کی تفسیر میں لفظ سائحون کے تحت ہم توجہ دلا چکے ہیں کہ رہبانیت اور سیاحت وغیرہ کے باب میں ہمارے ہاں منفی اور مثبت دونوں ہی طرح کی باتیں ملتی ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بجائے خود مطعون چیزیں نہیں ہیں بلکہ ان میں خرابی ان کے حدود کی حفاظت نہ کرنے کے سبب سے پیدا ہوتی ہے جیسا کہ قرآن نے (فمارعوھا حق رعایتھا) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے، چناچہ اسلام نے سیاحت و رہبانیت کے وہ تمام اجزاء اپنے نظام میں داخل کرلیے ہیں جو فطرت موافق اور ابتغائے رضوان اللہ کے نصب العین سے ہم آہنگ ہیں ہیں البتہ وہ چیزیں اپنے نظام سے خارج کردی ہیں جو عبتدعین نے عقل و فطرت کے خلاف ایجاد کی ہیں۔ اسلام کے نظام عبادت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ نماز، روزہ، حج، انفاق ہر عبادت کے اندر رہبانیت کے صالح اجزاء موجود ہیں۔ یہاں تک کہ بعض احادیث میں جہاد کو بھی رہبانیت کہا گیا ہے۔ (سچے نصاری کی تعریف)۔ (ناتینا الذین امنوا منھم جرھم و کثیر منھم فسقون)۔ قرینہ دلیل ہے کہ فعل امنوا یہاں اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی حضرت مسیح ؑ کے نام لیوائوں میں سے جو لوگ حضرت مسیح ؑ کی اصل تعلیم پر استوار اور ثابت قدم رہے ان کو تو ہم نے ان کے حصہ کا وہ اجر دیاجس کے وہ سزا ٹھہرے لیکن ان کی اکثریت نافرمان ہی نکلی جو اپنے کیفر کردار کو پہنچی۔ یہاں (الذین امنوا) سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے سچے خلیفہ شمعون اور انکے نقش قدم پر چلنے والے نصاریٰ ہیں جو ہر قسم کے مخالف حالات کے باوجود اصل دین پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ جب اسلام کی دعوت بلند ہوئی تو یہی بقیۃ السلف کے صالحین تھے جنہوں نے نہایت ولی جوش۔ (یہ الفاظ میں نے یہاں معروف لغوی معنی میں نہیں بلکہ اصطلاحی معنی میں استعمال کیا ہے۔) کے ساتھ اس دعوت کا خیر مقدم کیا، قرآن نے متعدد مقامات پر نہایت شاندار الفاظ میں ان لوگوں کی حق پرستی کی تعریف کی ہے۔ (وکثیر منھم فسقون) سے اشارہ پال اور اس کے پیروئوں کی طرف ہے جنہوں نے تثیت اور رہبانیت کی بدعتیں ایجاد کر کے دین مسیحی کا حلیہ بگاڑا اور رومیوں کی تمام ضلالتیں اپنے دین میں گھسا دیں۔ بعد میں ضالین و مضلین کے اسی گروہ کو اکثریت حاصل ہوگئی یہاں تک کہ اصل نصرانیت کے جاننے اور ماننے والے بہت تھوڑے رہ گئے۔
Ayah 57:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے وہ لوگو جو ایمان لائے، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لائو وہ تم کو اپنی رحمت میں سے دو حصے دے گا اور تمہارے لیے روشنی بنائے گا جس کو لے کر تم چلو گے اور تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ اللہ بڑا ہی غفور رحیم ہے

(یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وامنوا برسولہ یوتکم کفلین من رحمتہ و یجعل لکم نعدا تمشون بہ ویعفرلکم واللہ غفور رحیم) (28)۔ (سچے نصاری کو دعوت ایمان)۔ یہاں الذین امنوا سے خطاب انہی نصاری سے ہے جن کا ذکر اوپر والی آیت میں (فاتینا الذین امنوا منھم اجرھم) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ جب بات ان کے ذکر تک پہنچ گئی تو انہی کے حوالہ سے ان نصاری کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دے دی گئی جن کے اندر ایمان کی رمق موجود تھی۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ اے لوگو جو ایمان لائے (یعنی مسیح ؑ پر ایمان لائے) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (محمد ﷺ پر ایمان لائو تو خدا تم کو اپنی رحمت میں سے دو حصے دے گا اور تمہارے لیے نور نمایاں فرمائے گا جس کو لے کر تم آخرت میں چلو گے اور اللہ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ سورة مائدہ میں نصاری کے ایک گروہ کی تعریف ان الفاظ میں آئی ہے۔ (۔۔۔۔ المائدۃ۔۔۔۔۔۔ 5۔ 82، 83)۔۔۔ (تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین قریش کو پائو گے اور اہل ایمان کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائو گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں۔ یہ بات اس وجہ سے ہے کہ ان کے اندر علماء اور راہب موجود ہیں اور یہ لوگ استکبار میں مبتلا نہیں۔ یہ لوگ جب اس کلام کو سنتے ہیں ہوگیا ہے تو اس حق کو پہچان دینے کے سبب سے جو اس کے اندر موجود ہے ان کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوجاتی ہیں۔ وہ بکار اٹھتے ہیں کہ ابے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں آخری رسول کی گواہی دینے والوں میں لکھ۔) آیت زیر بحث میں ان تمام نصاری کو جن کے اندر ایمان سابق کی رمق باقی ہے نبی امی پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اسکے اس رسول پر ایمان لائو جس کی بشارت دینے پر تم مامور کیے گئے تھے۔ اللہ سے ڈرنے کی تنبیہ اس لیے فرمائی گئی ہے کہ بہت سے نصاری یہ سمجھتے تو تھے کہ آنحضرت ﷺ وہی نبی امی ہیں جن کی پشین گوئی انجیل میں وارد ہے لیکن اسلام کے خلاف خاکبازی کرنے والوں سے یہ لوگ ڈرتے تھے کہ اگر انہوں نے اس حق کا اعتراف کرلیا تو یہ سارے لوگ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ ان کے اس اندیشے کی بناء پر متنبہ فرمایا کہ لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف اللہ سے ڈرو۔ لوگوں کے ڈر سے تم نے اللہ کے ڈر کو نظر انداز کردیا تو اس کے انجام کو اچھی طرح سوچ لو۔ (دہرے اجر کا وعدہ)۔ (یوتکم کفلین من رحمتہ)۔ یہ اس وعدے کا اعادہ ہے جو سچے اور راست باز اہل کتاب کے لیے سورة قصص میں مذکورہ ہوا ہے۔ وہاں فرمایا گیا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو اپنے دین پر بھی استوار رہے اور جب ان کے صحیفوں کو پیشین گوئیوں کے مطابق ان کے پاس اللہ کا آخری رسول آیا تو انہوں نے اس کے موعود اور بر حق ہونے کی بھی گواہی دی تو ان کو ان کا اجر دہرا ملے گا اس لیے کہ انہیں حق کی گواہی دینے کے لیے دو کڑے امتحانوں سے گزرنا پڑا اور وہ دونوں امتحانوں میں کامیاب رہے، فرمایا ہے : (۔۔۔۔ القصص :۔۔ 28، 52، 54۔۔۔۔)۔ (جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہی اس (قرآن) پر ایمان لانے والے بنیں گے۔ اور جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہ ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے اور ہم پہلے سے اس کے ماننے والے رہے ہیں، یہ لوگ ہیں جن کو ان کا اجر دو مرتبہ ملے گا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لوگوں کی ایذار سانیوں کو اچھے سلوک سے دفع کرتے اور سارے بخشے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہے۔) سورة قصص کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا ہے کہ (الذین اتینھم الکتب) سے اچھے اہل کتاب بالخصوص نصاری کے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے جس کی حق دوستی اور خشیت رب کا ذکر سورة مائدہ کی محولہ بالا آیت میں ہوا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اہل کتاب کے صالحین کو دہرا اجر پانے کا یہ شرف اس بناء پر نہیں حاصل ہوگا کہ وہ اہل کتاب میں سے ہیں بلکہ اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے اس حق کی بھی گواہی دی جو حضرت مسیح ؑ اور سابق نبیوں پر نازل ہوا اور اس حق کی بھی شہادت دی جو نبی امی ﷺ پر نازل ہوا۔ یہ امت چونکہ اس تمام حق کی بلا کسی تفریق و تحزب کے گواہی دینے والی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، خواہ وہ سابق انبیائے کرام پر نازل ہوا یا نبی ﷺ پر نازل ہوا، اس وجہ سے یہ دہرا اجر پانے کی حق دار ہے چناچہ جو لوگ بھی اس امت میں داخل ہوں گے وہ اس شرف سے بہرہ مند ہوں گے۔ احادیث میں اس کی وضاحت ہوئی ہے لیکن اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس وجہ سے ہم زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ (ویجعل لکم نورا تمثون بہ ویغفرلکم)۔ یہ اسی طرح کی بشارت ہے جس طرح کی بشارت اسی سورة کی آیت 21 میں بدیں الفاظ گزر چکی ہے۔ (یوم تری المومنین والمومنت یسعی نورھم بین الدیھم و بایما نھم) (جس دن تم مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نوران کے آگے اور ان کے دائیں چل رہا ہوگا)۔ وہی بشارت ان صالحین کو بھی دی گئی ہے کہ ان کو اللہ نے ایمان کی جو روشنی دی تھی اس کی انہوں نے حفاظت کی، اس سے خود بھی رہنمائی حاصل کی اور اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی راہ دکھائی۔ اس کے صلے میں ان کو آخرت میں ایک نور عطا ہوگا جس کو اس دن کے اندھیرے میں لے کر چلیں گے اور وہ سارے لوگ اس سے کسب نور کریں گے جنہوں نے دنیا میں ان کا ساتھ دیا ہوگا۔
Ayah 57:29

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تا کہ اہل کتاب نہ جانیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے اور یہ کہ فضل تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

(لئلا یعلم اھل الکتب الا یقددون علی شیء من فضل اللہ وان الفضل بید اللہ یوتیہ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم) (29)۔ (یہود کے حسد کی طرف اشارہ)۔ یہ ان لوگوں کو ابھارا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے اس فضل عظیم کے حاصل کرنے کے لیے سبقت کرو اور حاسد یہود کو چھوڑو، وہ نبی امی اور ان پر ایمان لانے والوں کے خلاف حسد کی جس آگ میں جل رہے ہیں اسی میں جلتے رہیں۔ ان کے اس حسد کا سبب ان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اللہ کے تمام فضل کا اجارہ دار اپنے کو سمجھتے ہیں۔ ان پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ اللہ کے فضل کے مالک وہ نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کا مالک خود ہے وہ اس کو بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ بڑے فضل والا ہے جس کو چاہے بخش دے۔ (اھل الکتب)۔ اگرچہ باعتبار الفاظ عام ہے، یہود و نصاریٰ دونوں ہی اس سے مرادہوسکتے ہیں۔ لیکن قرینہ ذلیل ہے کہ یہاں اس سے مراد یہود من حیث الجماعت ہیں اس لیے کہ وہی اللہ تعالیٰ کے تمام فضل و انعام کے وارثو مورث ہونے کے خبط میں مبتلا تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان سے باہر نہ کسی کو نبوت و رسالت مل سکتی اور نہ ان کے سوا کوئی خدا کے ہاں کسی اجر اور فضل کا حق دار ہے چناچہ اپنے اسی پندار کے سبب سے وہ آنحضرت ﷺ کے دعوائے رسالت کے شدید مخالف تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی مخالفت کے علی الرغم یہ دعوت برابر بڑھتی جا رہی ہے یہاں تک کہ ان کی اپنی صفوں کے اندر سے بھی بہت سے اخیار ٹوٹ کر اس کے جانثار بنتے جا رہے ہیں تو ان پر حسد کا ایسا بخار چڑھا کہ بالآخر وہ ان کو ہلاک کر ہی کے اترا۔ اس حسد کے اسباب اور اس کے اثرات و نتائج پوری تفصیل سے سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں۔ (لئلا یعلم اھل الکتب۔۔ الایۃ) سے مراد یہاں یہود کی اس جہالت و حماقت کے لازمی نتیجہ یعنی برابرمبتلائے حسد رہنے کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس حسد میں اس وجہ سے مبتلا تھے کہ وہ اپنے کو اللہ کے تمام فضل و انعام کا پشتینی حق دار اور اجارہ دار سمجھے بیٹھے تھے۔ اگر وہ اس حماقت میں مبتلا نہ ہوتے بلکہ اس حقیقت کو جانتے ہوتے کہ نبوت و رسالت اور سیادت و امامت اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے، وہ جس کو چاہے بخشے تو ان کے لیے کسی غصہ اور حسد میں مبتلا ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ وہ سمجھ سکتے تھے کہ اب تک اللہ نے اس منصب پر ان کو سرفراز رکھا، اب اگر وہ اس کے لیے کسی دوسرے کو منتخب کررہا ہے تو کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور ان کی سعادت اب حسد اور مخالفت میں نہیں بلکہ اپنے رب کے فیصلہ کو قبول کرلینے میں ہے لیکن وہ برابر اپنے اسی خبط میں مبتلا رہے جس میں مبتلا تھے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ وہ جس حسد و بعض کی آگ میں جل رہے تھے وہ برابر برتیز سے تیز تر ہی ہوتی گئی۔ گویا اصل بات جو یہاں نبی ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت کے ساتھ فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایمان لانے والے اللہ کے آخری رسول پر ایمان لا کر اپنے کو دہرے اجر کا حق دار بنائیں اور ان حاسد یہودیوں کو ان کے حال پر چھوڑیں، وہ برابر اپنے حسد کی آگ میں جلتے رہیں۔ اس بات کے بیان کرنے کے لیے اسلوب یہ اختیار فرمایا گیا ہے کہ یوں کہنے کے بجائے کہ ان یہودیوں کو ان کے حسد میں جلنے مرنے دو ، تم اپنے آپ کو اپنے رب کے دہرے اجر کا حق دار بنائو، بات یوں فرمائی گئی کہ یہود کو ان کی اس جہالت میں مبتلا رہنے دو کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی تمام سرفرازیوں کا حق دار سمجھتے ہیں حالانکہ یہ محض ان کی حماقت ہے اور یہی حماقت ان کے سارے رنج و حسد کا سبب ہے۔ اس اسلوب میں بات کہنے کا فائدہ یہہوا کہ یہود کی اصل بیماری بھی واضح ہوگئی اور اس کا اصل سبب بھی معلوم ہوگیا اور کلام میں کوئی تلخی بھی پیدا نہیں ہونے پائی۔ اس سورة کی ان آخری آیات کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑا اضطر اب پیش آیا ہے۔ اگر ان کے اقوال نقل کر کے ہم ان پر تنقید کرتے تو اس میں بڑی طوالت ہوتی جس کا کچھ خاص فائدہ نہیں تھا۔ اس وجہ سے زبان، نظام اور نظائر قرآن کی روشنی میں ہمارے نزدیک جو تاویل صحیح ہے وہ ہم نے بیان کردی ہے۔ امید ہے کہ تدبر کرنے والوں کو اس سے اطمینان ہوجائے گا۔ یہاں خاص طور پر زبان اور اسلوب سے متعلق دو باتیں پیش نظر رکھیے۔ (زبان کا ایک اسلوب)۔ ایک یہ کہ بعض مرتبہ کلام میں مد نظر ظاہر کلام نہیں بلکہ اس کا نتیجہ ہوتا ہے، مثلاً یہ جو فرمایا کہ تاکہ اہل کتاب نہ جانیں کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے، تو مقصود اس سے اس کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی اس جہالت کے لازمی نتیجہ یعنی فضل والوں پر حسد میں مرتے رہیں۔ دوسری یہ کہ حرف لا نہ یہاں زائد ہے اور نہ قرآن میں اس کے زائد ہونے کی کوئی مثال موجود ہے بلکہ جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، یہ ان حروف میں سے ہے جن کو زائد ماننے کی گنجائش کسی شکل میں نہیں ہے۔ ورنہ اس سے مفسدین اور ہل بدعت کے لیے دین میں فتنے پیدا کرنے کی راہیں کھل جائیں گی البتہ کبھی کبھی بنظر احتیاط تاکید کے لیے یہ دہرادیا جاتا ہے اور یہ بات زبان کے معروف قاعدے کے مطابق ہوتی ہے جس کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں بہت ہیں مثلاً (ما منعک الا تسجد) (الاعراف : 7، 12) یا (وحرم علی قطیۃ اھلکنھا انھم لا یرجعون) (الانبیاء : 21، 95) وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی ذلک)۔ رحمان آباد۔ 15 دسمبر 1977 ء، 4 محرم الحرام 1398 ء۔