Ayahs 56:1–2ا۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(اذا وقعت الواقعۃ لیس لوقعتھا گا ذبۃ) (1۔ 2)۔ (قیامت شدنی ہے) واقعۃ سے مراد قیامت ہے۔ اس لفظ سے تعبیر اس کے ایک امر شدنی ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے دلائل، پوری تفصیل کے ساتھ، گروپ کی پچھلی سورتوں میں، بیان ہوچکے ہیں اور ان شبہات و سوالات کا بھی ایک ایک کرکے جواب دیا جا چکا ہے جو منکرین نے اس کے امکان اور اس کے وقوع کے باب میں اٹھائے ہیں۔ اب یہ فرمایا کہ اس وقت کو یاد رکھو جب کہ وہ واقع ہونے والی، تمہارے ان تمام لا یعنی شبہات و اعتراضات کے علی الرغم، واقع ہو کے رہے گی اور تم کسی طرح بھی اس سے بھاگ نہ سکو گے۔
(لیس لوقعتھاگاذبۃ) یہاں گا ذبۃ میرے نزدیک عاقبۃ اور عافیۃ کی طرح مصدر ہے یعنی اس کے واقع ہونے میں ذرا کسی شک و شبہ اور جھوٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر تم اس وہم میں مبتلا ہو کر تم کو جھوٹ موٹ ایک ہولے سے ڈرایا جا رہا ہے تو اس میں جھوٹ کا ادنیٰ شائبہ بھی نہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے جس سے تمہیں لازماً دو چار ہونا ہے۔ تو عاقبت کی بہبود چاہتے ہو تو اس کے مواجہہ کے لیے تیاری کرو۔
Ayah 56:3(خافضۃ رافعۃ) (3)۔
(قیامت میں عزت کا معیار ایمان ہوگا)۔ یعنی اس وہم میں نہ رہو کہ تم کو جو سر بلندی آج حاصل ہے وہ ہمیشہ حاصل رہے گی اور جن کو حقیر و مبتذل گمان کر رہے ہو وہ اسی طرح حقیر و پست حال رہیں گے بلکہ جب وہ واقع ہونے والی واقع ہوگی تو یہ آسمان و زمین نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نمودار ہوں گے۔ آج عزت و شرف کے جو معیارات ہیں وہ یک قلم تبدیل ہوجائیں گے۔ اس دن تمام عزت و سرفرازی ایمان و عمل صالح کو حاصل ہوگی۔ وہ لوگ سربلند و سرفراز ہوں گے جن کے پاس ایمان و عمل صالح کا سرمایہ ہوگا اور وہ پست و ذلیل ہوں گے جو اس دولت سے محروم اٹھیں گے۔ یہاں بات اجمال کے ساتھ فرمائی ہے۔ آگے آیت 7 سے اس خفض و رفع کی تفصیل آرہی ہے۔ اس سے واضح ہوجائے گا کہ اس کے لیے کسوٹی کیا ہوگی۔
Ayahs 56:4–6(اذا رجت الارض رجا و بست الجبال بسا فکانت ھبا منبثا) (4۔ 6)
(قیامت کے دن کی ہلچل)۔ یہ اس قیامت کی تصویر ہے کہ اس دن زمین بالکل ہلا دی جائے گی اور یہ اونچے اونچے پہاڑ جن کو نادان لوگ غیر فانی اور غیر متزلزل گمان کیے بیٹھے ہیں۔ غبار کی طرح پراگندہ ہوجائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دن اس زمین کی ساری ہی بلندیاں پست کردی جائیں گی۔ ایک ایسا زلزلہ آئے گا جو پوری زمین کو جھنجھوڑ کر اس کے تمام ایوانوں اور محلوں کو زمین بوس کر دے گا یہاں تک کہ یہ فلک بوس پہاڑ بھی غبار بن کر فضا میں اڑنے لگیں گے۔ یہی مضمون سورة حاتہ میں یوں بیان ہوا ہے (۔۔۔ الحاقۃ 69۔ 14۔ 15) (اور اس دن زمین اور پہاڑ دونوں اٹھا کر بیک دفعہ پاش پاش کردیئے جائیں گے، پس اس دن واقع ہونے والی واقع ہوجائے گی)
Ayah 56:7(لوگوں کی تقسیم تین گروہوں میں)۔ یہ اس خفض و رفع کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر آیت 3 میں ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم کیے جائو گے۔ ایک گروہ اصحاب المیمنہ کا ہوگا، دوسرا گروہ اصحاب المشمئہ کا ہوگا اور تیسرا سابقون پر مشتمل ہوگا۔ (اصحب المیمنۃ) سے مراد خود قرآن کی تصریح کے مطابق، وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ چناچہ سورة حاقہ میں فرمایا ہے (۔۔ الحاقۃ : 69 : 19۔ 20) (تو اس دن جس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں پکڑایاجائے گا وہ لوگوں سے خوش ہو کر کہے گا کہ یہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو، میں دنیا میں برابر اندیشہ ناک رہا کہ بالآخر مجھے اپنے اعمال کے حساب سے دو چار ہونا ہے۔) (اصحب المشمۃ) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔ سورة حاقہ میں ان کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے (۔۔ الحاقۃ 69۔ 25، 29) (رہا وہ جس کا اعمالنامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ کاش ! میرا اعمال نامہ مجھکو ملتا ہی نہ ! اور مجھ کو یہ خبر ہی نہ ہوتی کہ میرا حساب کیا ہے ! اے کاش ! پہلی موت ہی فیصلہ کن بن گئی ہوتی ! میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ! میرا اقتدارہوا ہوگیا !)
(سابقون) سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دعوت حق کے قبول کرنے میں سبقت کی اور اس دور میں اپنے جان و مال سے اس کی خدمت کی توفیق پانی جب اس کی خدمت کرنے والے تھوڑے تھے اور اس کی مدد کے لیے حوصلہ کرنا اپنے آپ کو جوکھوں میں ڈالنا تھا۔ چناچہ سورة حدید میں، جو اس کی مثنی سورة ہے۔ اس حقیقت پر یوں روشنی ڈالی ہے۔ (۔۔۔ الحدید : 57 : 10) (تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے اللہ کی راہ میں انفاق اور جہاد کریں گے اور دوسرے جو اس سعادت سے محروم رہیں گے، یکساں نہیں ہوں گے، پہلے انفاق و جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں اتفاق و جہاد کیا اگرچہ اللہ کا وعدہ دونوں سے اچھا ہی ہے۔)
Ayah 56:8(ما اصحب المیمنۃ) میں جو استفہام ہے یہ اظہار شان و عظمت کے لیے بھی آتا ہے اور اظہارنفرت و کراہت کے لیے بھی، یہاں یہ بھی اظہار شان و عظمت کے لیے ہے یعنی دہنے والوں کی شان و عظمت ان کے عیش جاوداں، ان کی رفاہیت و خوش حالی اور ان کی عالی مقامی کا کیا پوچھنا ہے ! بھلا اس کی تفصیل کس طرح بتائی جاسکتی ہے اور اس کا صحیح اندازہ کون کرسکتا ہے ! یہ اسلوب کلام اس صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب صورت واقعہ الفاظ کے احاطہ اور قیاس و گمان کی رسائی سے مافوق ہو۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب معروف ہے۔
Ayahs 56:9–10(ما اصحب المشئمۃ) میں وہی اسلوب اس کے برعکس یعنی اظہار نفرت و کراہت کے مفہوم میں ہے یعنی جس طرح (اصحب المیمنۃ) کی خوش حالی و بلند اقبالی کا اندازہ نہیں کرسکتا اسی طرح (اصحب المشمۃ) کی بد بختی ان کی ذلت و مصیبت اور ان کی بد انجامی کا حال بھی کچھ نہ پوچھو ! اس کی تصویر بھی الفاظ میں نہیں کھینچی جاسکتی۔ اس کا اندازہ انہی کو ہوگا جن کو اس سے سابقہ پیش آئے گا۔ (واسبقون اسبقون) میں دوسرا (سابقون) خبر کے محل میں ہے اور اس ایجاز میں غایت درجہ بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ (سابقون) کی عالی مقام کا کیا پوچھنا ہے۔ وہ تو (سابقون) ہی ہوئے ! جب وہ سابقون ہیں تو ان کے درجہ و مرتبہ کو کون پہنچ سکتا ہے ! وہ لازماً وہاں تک پہنچیں گے جو انسانی شرف و مزیت کا آخری نقطہ ہے اور اس نقطہ کمال کا اندازہ بھلا اس عالم ناسوت میں کون کرسکتا ہے !۔
(بعض غلط فہمیوں کا ازالہ)۔ اس تفصیل سے ایک تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے جنہوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ دربار الٰہی میں جگہیں پانے والوں کی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ اللہ جل شانہٗ کے دربار سے متعلق اول تو داہنے بائیں اور آگے پیچھے کا تصور ہی ایک بےمعنی تصور ہے اور اگر اس تصور کی گنجائش تسلیم بھی کرلی جائے تو یہ امر اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ اس دربار میں اصحاب الشمال کے لیے کوئی جگہ بھی نہیں ہوگی نہ بائیں نہ پیچھے بلکہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جس کی وضاحت آگے اس سورة میں بھی آرہی ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے۔
دوسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ (اصحب الیمین) عام مسلمانوں کے مفہوم میں نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال نامے بطور اعزاز داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور وہ اپنے شاندار کارناموں پر نہایت شاداں و فرماں بھی ہوں گے۔ عام مسلمانوں میں تو بیشمار ایسے لوگ بھی ہیں جن کی نسبت یہ گمان کرنا بڑا ہی فیاضانہ حسن ظن ہوگا کہ ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے اور وہ جوش مسرت میں (ھائوم اقوء وا کتبیہ) کا نعرہ بھی لگانے کے لائق ہوں گے۔ رہا یہ سوال کہ (اصحب الیمین) اور (سابقون) میں کس نوعیت کا فرق ہے تو اس کی طرف اوپر بھی ہم اشارہ کرچکے ہیں اور آگے بھی اس کی وضاحت آرہی ہے
Ayahs 56:11–14(سالقون کا صلہ)۔ چونکہ گل سر سبد اور سر خیل قافلہ کی حیثیت انہی (سابقون) کو حاصل ہوگی اس درجہ سے انہی کا مرتبہ اور صلہ سب سے پہلے بیان فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ انہی لوگوں کو مقربین کا درجہ حاصل ہوگا۔ ’ مقربین ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقربین ہیں لیکن ان مقربین کا ٹھکانہ (جنت النعیم) ہی بتایا ہے، دربار الٰہی کے قسم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہیں دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقربین الٰہی کے لیے خاص ان کے درجے و مرتبے کے لحاظ سے جنتیں ہوں گی جن میں وہ رکھے جائیں گے آگے ان کی جنت سے متعلق بعض ارشادات آ رہے ہیں۔
(ثلثۃ من الاولین و قلیل من الاخرین)۔ اب یہ واضح فرمایا کہ اس مبارک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت کن لوگوں کو حاصل ہوگی۔ فرمایا کہ ان میں زیادہ تعداد تو اگلوں کی ہوگی اور ایک قلیل تعداد پچھلوں کی بھی ہوگی۔ (ثلثۃ) کے اصلمعنی تو گروہ اور جماعت کے ہیں لیکن اس کے مقابل میں چونکہ لفظ قلیل استعمال ہوا ہے اس وجہ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس کو گروہ کثیر کے مفہوم میں لیا جائے۔
(اولین اور آخرین سے مراد)۔ اولین اور آخرین سے مراد ہمارے نزدیک اسی امت کے اولین و آخرین ہیں اوپر ہم نے سورة حدید کا حوالہ دیا ہے جس سے واضح ہوا کہ ان لوگوں کے انفاق اور جہاد کا درجہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اونچا ہے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے جہاد و اتفاق کی سعادت حاصل کی۔ بعد والوں کے جہاد و انفاق کا درجہ وہ نہیں ہوگا تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے، یعنی بعد والے اگرچہ من حیث العموم اگلوں کے مرتبہ کو تہ نہ پہنچ سکیں گے تاہم اپنے اخلاص و حسن عمل سے ان کے لیے (اصحب الیمین) میں جگہ حاصل کرنے کی راہ کھلی ہوگی۔
(ثلثۃ من الاولین)۔ کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلی کہ اگلوں میں سے لازماً سب ہی متقربین کا درجہ حاصل نہیں کرلیں گے بلکہ ان کی اکثریت کو یہ مقام حاصل ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس درجے کا تعلق مجرد زمانے ہی سے نہیں ہے بلکہ اس میں اصلی دخل اوصاف و اعمال کو ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے تو اولین میں ہو لیکن اپنی عزیمت، رسوخ اور قربانیوں کے اعتبار سے مقربین کا درجہ نہ حاصل کرسکا بلکہ (اصحب الیمین) ہی کے درجے تک رہ گیا۔
(ایک خاص نکتہ) اسی طرح (قلیل من الاخرین) کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امت کے پچھلوں میں سے بھی ایسے لوگ نکلیں گے جو سابقون الالون کے زمرے میں شامل ہونے کا شرف حاصل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو فتنوں کے زمانے میں بھی حق پر قائم رہیں گے، حق ہی کی دعوت دیں گے، اور حالات خواہ کتنے ہی صبر آزما ہوجائیں اور ان کی تعداد خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو لیکن وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ اس قسم کا ایک گروہ اس امت میں، جیسا کہ احادیث میں بشارت ہے، ہر دور میں پیدا ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ زمانے کے اعتبار سے تو آخرین میں ہوں گے لیکن اپنی خدمات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اولین کے زمرے میں جگہ جگہ پائیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف سیدنا مسیح ؑ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ کتنے پیچھے آنے والے ہیں جو آگے ہوجائیں گے۔
یہاں یہ حقیقت پیش نظر رکھنی کی ہے کہ ہرچند ان آیات کا تعلق اسی امت سے ہے لیکن اصولی طور پر یہ بات ہر نبی و رسول کی امت پر منطبق ہوتی ہے، چناچہ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہی بات ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے۔ فرمایا ہے (۔۔ فاطر : 32، 35) (پھر ہم نے کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے اس کا یہ خاص کے لیے منتخب کیا تو ان میں کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے نکلے، کچھ میانہ رو ہوئے اور کچھ اللہ کی توفق سے بھلائیوں کی راہ میں سبق کرنے والے ہوئے)۔ اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلومہو گا کہ الفاظ بدلے ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی انہی تین گروہوں کا ذکر ہے جن کا ذکر اوپر (اصحب المیمنۃ، اصحب المشئۃ اور سابقون) کے الفاظ میں ہوا ہے۔
Ayahs 56:15–23(مقربین کی جنت کی تمثیل)۔ یہ ان مقربین کی جنت کی تمثیل ہے۔ پہلے ان کی نشست گاہ اور ان کے انداز نشست کی تصویر کھینچی ہے کہ وہ جڑائو اور زر نگار تختوں پر گائو تکیوں سے ٹیک لگائے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (موضونۃ) کے معنی بعض لوگوں نے دوسرے بھی لیے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا صحیح مفہوم وہی ہے جو ہم اپنی زبان میں لفظ جڑائو سے ادا کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے شاہان عجم اپنے درباروں میں اسی طرح کے زر نگار، سونے، ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تختوں پر جلوہ فروز ہوا کرتے تھے۔
(متکین) کے لفظ کے اندر گائو تکیوں کا مفہوم خود مضمر ہے اس لیے کہ ٹیک لگانے کے لیے مسندیں اور گائو تکیے ضروری ہیں اور زمانہ قدیم میں تخت شاہی کے لوازم میں یہ شامل بھی رہے ہیں۔ آمنے سامنے، بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے دل باہمی رنج و رقابت اور کینہ و حسد سے بالکل پاک ہوں گے۔ جن کے دلوں کے اندر کدورت ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر کے بیٹھتے ہیں لیکن اہل جنت کے دل کینہ و حسد سے، جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں تصریح ہے، بالکل پاک ہوں گے اس وجہ سے وہ مخلص اور محبت کرنے والے عزیزوں اور ساتھیوں کی طرح ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے بیٹھیں گے۔ (یطوف علیھم ولد ان مخلدون باکواب وابا ریق وک اس من معین لا یصدعون عنھا ولا ینزفون وفاکھۃ مما یتخیرون و لحم طیر مما یشتھون) یہ اس سامان ضیافت کی طرف اشارہ ہے جو انکے لیے وہاں مہیا ہوگا۔ فرمایا کہ ان کی خدمت میں غلمان پیالے، جگ اور شراب خالص کے جام لیے ہوئے ہر وقت حاضر باش ہوں گے۔)
(مخلدون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی سن و سال کے رہیں گے۔ ان کی حیثیت دائمی خدام کی ہوگی۔ مجلس خدمات کے لیے ایک خاص سن کے لڑکے ہی زیادہ موزوں، خوش آداب و مستعد و سرگرم خیال کیے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ ایک ہی سن کا رکھے گا اور چونکہ مزاج شناس خادم ہی اپنے آقا کی سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر خدمت کرسکتا ہے اس وجہ سے جو لڑکے جن کے ساتھ لگا دیئے جائیں گے وہ برابر انہی کی خدمت میں رہیں گے۔ قرآن کے الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لڑکوں کو اللہ تعالیٰ خاص اسی مقصد کے لیے بنائے گا۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ کفار کے بچے، جونا بالغی میں وفات پا جائیں گے، ان کو اللہ تعالیٰ اہل جنت کی خدمت میں لگادے گا۔ اس رائے کے حق میں اگرچہ قرآن میں کوئی اشارہ نہیں ہے لیکن کوئی ایسی چیز بھی نہیں ہے جو اس کے خلاف جاتی ہو۔ اس لیے کہ کفار کے بچوں کے دوزخ میں جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ اس خدمت ہی میں لگائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی جنت بہت وسیع اور وہ بڑا کریم ہے۔ وہ ان کو ان کی بےگناہی کے صلہ میں جنت دے سکتا ہے۔
(اکواب، کو ب) کی جمع ہے اور کو ب اور کپ (CUP) ایک ہی چیز ہے۔ (اباریق) جمع ہے (ابریق) کی۔ ابریق فارسی کے آب ریز سے مغرب معلوم ہوتا ہے اور یہ چیز اپنی جگہ پر تابت ہے کہ عربوں نے بہت سے تمدنی الفاظ عجمیوں سے لیے ہیں۔ لفظ کاس ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لیے آتا ہے۔ معین خالص پانی اور خالص پانی کے چشمہ کے لیے بھی قرآن میں آیا ہے اور شراب خالص کے ایک چشمہ کے لیے بھی جو جنت میں ہے یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے۔
(لا یصدعون عنھا ولا ینزفون) یہ شراب ایسی ہوگی کہ اس سے شراب کا جو اصل فائدہ ہے یعنی سرور، وہ تو حاصل ہوگا لیکن اس دنیا کی شراب کے تمام مضر اثرات سے وہ بالکل پاک ہوگی۔ یہاں کی شراب سے اعضاء شکنی، خماز اور درد سر بھی لا حق ہوتا ہے۔ جنت کی شراب میں یہ فاسد نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اس دنیا کی شراب کا سب سے بڑا مفسدہ یہ ہے کہ اس سے عقل جاتی رہتی ہے درآنحالیکہ عقل ہی انسان کا اصل جوہر ہے اور ایک منٹ کے لیے اس کا فتور نہ جانے کن کن ہلاکتوں میں اس کو ڈال سکتا ہے۔ جنت کی شراب اس زہر سے محفوظ ہوگی۔ (نزف الرجل) کے معنی ہیں (ذھب، عقلہ) آدھی کی عقل جاتی رہی۔
(وفاکھۃ مما یتخیرون ولحم طیر مما یشتھون) شراب کے ساتھ ساتھ یہ دوسرے لوازم کا ذکر ہے کہ غلمان ان کے سامنے ان کے انتخاب کے پھل اور ان کی پسند کے پرندوں کے گوشت بھی لیے پھریں گے۔ کھانے کی چیزوں میں سر فہرست یہی دو چیزیں ہیں۔ ان کا ذکر آگیا تو گویا سب ہی کا آگیا۔ ان کے ساتھ (مما یتخیرون) اور مما یشتھون) کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ ہر شخص کے ذوق اور انتخاب کا یورایورا لحاظ ہوگا۔ پھل ان کے سامنے وہ پیش کیے جائیں گے جن کا وہ انتخاب کریں گے اور گوشت ان پرندوں کے ان کے سامنے حاضر کیے جائیں گے جن کی وہ خواہش کریں گے۔
(وحورعین کا مثال للولوالمکنون) کھانے اور پینے کی ساری لذتیں انسان کے لیے ادھوری ہیں اگر ان میں بیوی شریک نہ ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے سرمایہ راحت و سکینت بنایا ہے۔ جس طرح اس دنیا میں آدمی اس شریک رنج و راحت کا محتاج ہے، جس کے بغیر اس کی بزم سونی رہتی ہے، اسی طرح جنت میں بھی اس کی لذت ادھوری رہ جاتی اگر یہ اس میں شریک نہ ہوتی، چناچہ اللہ تعالیٰ وہاں اس کو غزال چشم اور درمکنون کی طرح اچھوتی اور پاک حوریں دے گا۔ ان دو صفتوں کے اندر ان حوروں کے حسن ظاہر اور حسن باطن کے سارے پہلو جمع ہوگئے۔
Ayah 56:24(جزاء بما گانو یعملون) (24)
(یہ وہ اصل سرفرازی ہے جو ان جانبازوں کو حاصل ہوگی۔ فرمایا کہ یہ جو کچھ ان کو ملے گا ان کے اعمال کے بدلے میں ملے گا۔ اس کے وہ حقدار ہوں گے اور رب کریم لازماً ان کا یہ حق ادا کرے گا۔ انسان کی فطرت کے اس پہلو پر یہاں نظر رہے کہ اس کی نگاہوں میں جو قدرو قیمت اس چیز کی ہوتی ہے جو اس نے اپنے حق کے طور پر حاصل کی ہو وہ قدر و قیمت اس چیز کی نہیں ہوتی جو اس کو اتفاقاً حاصل ہوگئی ہو یا بطور صدقہ ملی ہو، خواہ یہ پہلی کے مقابل میں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
Ayahs 56:25–26(لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما الا قیلاسلما سلما) (25۔ 26)
یہ ان کے بےنمل دغش عیش کی طرف اشارہ ہے کہ دشمنوں، معزضوں اور نکتہ چینوں کی جتنی ژاحقائیاں اور بکواسیں سننی ہیں وہ دنیا میں سن چکے ہوں گے اور جتنے چرکے سہنے ہیں وہ سہہ چکیں گے۔ وہاں نہ کسی بکواس کرنے والے کی بکواس ہوگی اور نہ کوئی گناہ کی بات ان کے کانوں میں پڑے گی۔ وہاں ان کے لیے رحمت ہی رحمت اور سلام ہی سلام ہے۔ رب رحیم و غفور کی طرف سے بھی سلام، فرشتوں کی طرف سے بھی سلام اور ساتھیوں کی طرف سے بھی سلام ! ! صبح بھی سلام اور شام بھی سلام پایا۔
Ayah 56:27(واصحب ایمین ما اصحب الیمین) (27)۔
(اصحب الیمین کی جنت)۔ یہ اصحاب الیمین کی جنت کا بیان آ رہا ہے۔ اوپر ان کا ذکر (اصحب المیمنۃ) کے الفاظ سے ہوا ہے جس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ قرآن میں (اصحب المیمنۃ) اور (اصحب الیمین) کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی وہ لوگ جن کے اعمال نامے ان کے دہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ (ما اصحب الیمین) کا مفہوم بھی وہی ہے جو اوپر (ما اصحب المیمنۃ) کا بیان ہوا۔ یعنی کیا کہنے میں ان کے مرتبہ کے ! کیا پوچھنا ہے ان کی عظمت و شان کا ! کیا بیان ہو ان کے عیش و آرام کا !
Ayahs 56:28–33(فی سدر محضود و طلح منضود وظل ممدود وما مسکوب وفا کھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ) (28، 33)۔ یہ ان کی جنت پھلوں، اس کے سایہ اور اس کی طرادت کا ذکر ہے۔
(فی سدرمخضود، سدر) بیری کو کہتے ہیں۔ ہمارے علاقوں میں بیری کی کچھ زیادہ وقعت نہیں ہے اس وجہ سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ یہ کیا ایسا پھل ہے جس کا قرآن نے ذکر فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی بعض علاقوں میں اس کے پھل نہایت لذیز، خوشبو دار اور خوش رنگ ہوتے ہیں۔ ثانیاً یہ جنت کی بیری ہے، جس کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل ہی کے پیرا یہ میں ہوسکتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی ذریعہ نہیں ہے، صرف وہی لوگ اس حقیقت سے آشنا ہوں گے جن کو اصحاب الیمین میں شمولیت کا شرف حاصل ہوگا۔ ویسے قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس درخت کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے۔ سورة نجم میں فرمایا ہے۔ (۔۔۔۔ النجم 53۔ 13۔ 16) (اور پیغمبر نے جبریل کو دوبارہ بھی اترتے دیکھا آخری سرے کی بیری کے پاس، اسی کے پاس جنت ماویٰ بھی ہے، جب کہ بیری کو چھپائے ہوئے تھی جو چیز چھائے ہوئے تھی !) سورة نجم کی ان آیات کے تحت، اشارات قرآن کی رہنمائی میں، ہم نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ اس بیری کا ذکر ہے جو عالم ناسوت اور عالم لا ہوت کے نقطہ اتصال پر ہے، اسی کے پاس جنت الماوی ہے جہاں سے عالم لاہوت کی حدود شروع ہوتے ہیں۔ اس بیری پر نبی ﷺ نے ان انوار و تجلیات کا مشاہدہ فرمایا جس کا ذکر (اذ یغثنی السدرۃ ما ینثی ما زاع البصر وما طغی) (النجم : 53، 16، 17) کے شاندار الفاظ میں ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے ابتدائی مشاہدات نبوت، جو تورات اور قرآن میں بیان ہوئے ہیں، میں بھی ذکر آتا ہے کہ انہوں نے ایک درخت سے اللہ تعالیٰ کی آواز سنی اور اسی پر انوار و تجلیات الٰہی کا مشاہدہ کیا۔ اگرچہ قرآن میں کوئی اشارہ اس طرح کا نہیں ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ درخت کس چیز کا تھا لیکن دونوں واقعات میں یکسانی واضح ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ درخت بھی بیری ہی کا ہو۔
(سدر) کے ساتھ (مخضود) کی صفت اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ یہ بیری دنیا کی بیریوں کی طرح آزاد پہنچانے والی نہیں ہوگی کہ کوئی ایک بیر لینے کی کوشش کرے تو اپنے ہاتھوں کو اس کے کانٹوں سے زخمی بھی کرائے۔ یہ بےخار اور بالکل بےآزاد ہوں گی۔ اہل جنت جب چاہیں اور جہاں سے چاہیں گے ان کے پھل توڑ لیں گے۔ لفظ خضد کسی کانٹوں والی چیز کے کانٹوں کو کاٹ دینے کے لیے آتا ہے۔ یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ ان کے پھلوں کی طرح ان کے درخت بھی دنیا کی بیریوں سے مختلف مزاج کے ہوں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دنیا میں بھی بیریوں کی جو قسمیں جتنی ہی اچھی ہوتی ہیں اتنے ہی ان میں کانٹے کم ہوتے ہیں۔ کانٹے زیادہ جھڑبیریوں میں ہوتے ہیں۔ قرآن میں اہل سبا کے جس جنت نشان باغ کی تباہی کا ذکر ہے اس میں بیریوں کی تباہی کا بھی ذکر ہے کہ وہ جھاڑ بن کے رہ گئیں۔ اس سے معلومہوتا ہے کہ یہ پھل ان کے پسندیدہ پھلوں میں تھا، اور اس کے درخت ان کے باغوں کی زینت بنتے تھے۔ اپنے خاندان کے اعتبار سے بھی بیر سیب کے خانوادہ سے نسبت رکھنے والا پھیل ہے۔
(وطلع منضود۔ طلح) کے لئے کو کہتے ہیں۔ (منضود) اس کے پھلوں کی تصویر ہے کہ وہ تہ بہ تہ ایک دوسرے سے پیوستہ ہوں گے۔ ان کی تربیت اور انکے چنائو کا حسن گواہی دے گا کہ خالق نے خاص اہتمام سے اپنے بندوں کی ضیافت کے لیے ان کو چنا ہے۔
(وظل ممود وما مسکوب) یہ اس باغ کی شادابی اور اس کی طراوت کا بیان ہے کہ اس کے درخت اپنے زور اور شادابی کے سبب سے اس طرح ایک دوسرے کے متصل ہوں گے کہ ان کے اندر دھوپ کا گزر نہیں ہونے پائے گا اس وجہ سے ہر طرف سایہ ہی سایہ ہوگا اور اس میں دواما ً پانی بھی بہایا جاتا رہے گا تاکہ اس کی رونق میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ (وفاکھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ) یعنی اوپر جن پھلوں کا ذکر ہوا ہے محض مثال کے طور پر ہوا ہے۔ دوسرے بہت سے پھل بھی ہوں گے اور ان کا حال بھی اس دنیا کے پھلوں سے بالکل مختلف ہوگا۔ اس دنیا کا حال تو یہ ہے کہ ایک خاص وقت پر درخت کے پھل توڑ لیے جاتے ہیں یا از خود ختم ہوجاتے ہیں لیکن وہاں کے درخت سدا بہار ہوں گے ان کے پھل کبھی منقطع نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اس دنیا کے باغوں کو یہ افتاد بھی پیش آتی ہے کہ ایک سال پھل آئے، دوسرے سال نہیں آئے یا بہت کم آئے۔ وہاں کے درختوں کو یہ آفت بھی کبھی پیش نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو بار آوری سے کبھی محروم نہیں فرمائے گا۔
Ayahs 56:34–37(فرش مرفوعہ انا انشانھن انشا فجعلنھن ابکاراہ عربا اترابا) (34۔ 37) یہ ان کی نشست گاہوں اور ان کی بیویوں کا ذکر ہے۔ اوپر سابقین مقربین کے ذکر میں یاد ہوگا، ترتیب بیان اس سے مختلف ہے۔ اس فرق کے بعض نفسیاتی وجود ہیں لیکن اس طرح کی تفصیلات میں یہاں جانے کا موقع نہیں ہے۔
فرمایا کہ ان کے بیٹھنے کے لیے اونچے بچھونے ہوں گے اور ان کے لیے بیویاں ہوں گی جن کو ہم نے ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہوگا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیویوں کے لیے ضمیر بغیر کسی مرجع کے آگئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ضمیر کے لیے لفظوں میں کوئی مرجع نہیں ہے لیکن قرینہ نہایت واضح موجود ہے عربی میں مثل ہے کہ (الشی بالشی یذکر) بات سے بات یاد آتی ہے۔ یہاں بچھونوں کے ذکر کے بعد بیویوں کا ذکر اسی نوع کی چیز ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں تختوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ بیویوں کا ذکر آیا ہے۔ اسی تعلق کی بناء پر یہاں ان کا ذکر محض ضمیر سے کردیا جس میں ایجاز کی بلاغت بھی ہے اور خواتین کے ذکر میں پردہ داری کے لحاظ کی تعلیم بھی، یہ بات کہ تختوں اور بچھونوں کے ساتھ قرآن میں بیویوں کا ذکر آیا ہے محتاج حوالہ نہیں ہے۔ لیکن محض اطمینان خاطر کے لیے ہم بعض شواہد نقل کیے دیتے ہیں۔ سورة طور میں ہے۔
(متئین علی سرر مصفونہ وزوجنھم بحورعین) (الطور : 52، 20) (وہ ٹیک لگائے ہوں گے صف پہ صف بچھے ہوئے تختوں پر اور ہم ان کی شادیاں کردیں گے غزال چشم حوروں کے ساتھ۔) اسی طرح سورة یٰسین میں ہے (ھم وازواجھم فی ظلل علی الارائک متکئون) (یٰسین : 36 : 56) (وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔) (انا انشا نھن انشاء) ان حوروں کی تعریف میں فرمایا کہ ہم نے انکو ایک خاص اٹھان پر اٹھایا ہے اس وجہ سے ان کی خصوصیات وصفات اس دنیا کی عورتوں کی خصوصیات وصفات سے بالکل مختلف ہوں گی۔ اس دنیا کی عورت کا کنوارہ پن اور اس کی جوانی و دل ربائی ہر چیز وقتی اور فانی ہے۔
اگر ماندشیے ماند شب دیگر نمی ماند
لیکن حوران جنت کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بالکل مختلف ساخت پر نشوونما بخشی ہے اس وجہ سے ان کے کنوار پن اور حسن و جوانی خزاں نہیں آئے گی۔ (فجعلنھن ابکارا، عربا اقرابا)یہاں اس خاص اٹھان کی وضاحت کے لیے ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کنواریاں رہیں گی۔ ان کے مرد جب بھی ان سے ملاقات کریں گے ان کی ملاقات اس اعتبار سے گویا پہلی ملاقات ہوگی۔ ’ عرب ‘ جمع ہے ’ عروب ‘ کی۔ اس کی معنی ہیں محبوب اور دل ربا بیوی۔ ظاہر ہے کہ جب انکے حسن، جوانی اور کنوار پن کسی چیز میں بھی فرق نہیں آئے گا تو شوہروں کی نظر سے ان کو گرنے کی بھی کوئی وہ نہیں ہوگی بلکہ وہ گل تر کی طرح ہمیشہ مطلوب و محبوب نبی رہیں گی۔ (اتراب) جمع ہے (ترب) کی یہ لفظ ہم سن وہم عمر کے معنی میں آتا ہے لیکن عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس کا غالب استعمال عورتوں کے لیے ہے اس وجہ سے میرے نزدیک یہاں یہ ہم جو لیوں کے معنی میں ہے۔ سورة نبا میں کو اعب اترابا (کنواری ہم جولیاں) کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جنتی حوریں بھی ملیں گی سب ہم جولیاں اور ہم سنیں ہوگی اس وجہ سے نہ ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کا سوال پیدا ہوگا اور نہ ان حوروں کے اندر رشک و رقابت کے جذبات ابھریں گے۔ جس طرح وہ ہمیشہ جوان اور کنواریاں رہیں گی اسی طرح ان کے شوہر بھی جوان رعنا رہیں گی۔
Ayah 56:38(لا صحب الیمین) (38)۔
اس کو (انا انشانھن انشاء) سے متعلق بھی مان سکتے ہیں اور بمتدائے مخدوف کی خبر بھی قرار دے سکتے ہیں، اگر پہلی صورت مانیں تو معنی یہ ہوں گے کہ اس خاص اٹھان اور ان خاص اوصاف کی حوریں ہم نے اصحاب الیمین کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ دوسری صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ یہ ساری نعمتیں جو اوپر بیان ہوئیں، ہمارے ہاں اصحاب الیمین کے لیے ہیں۔ میرا رجحان پہلی صورت کی طرف ہے، لیکن دونوں صورتوں میں سے جو بھی اختیار کی جائے با اعتبار مدعا کوئی خاص فرق نہیں ہوگا، صرف بلاغت بیان کے اعتبار سے نازک سا فرق واقعہو گا جس کا اندازہ اہل ذوق خود کرسکتے ہیں اس وجہ سے وہ وجوہ ترجیح کی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین)
Ayahs 56:39–40(39، 40)۔
اوپر سابقون کے ذکر میں بتایا ہے کہ اس گروہ میں بڑی تعداد اگلوں ہی میں سے ہوگی، پچھلوں میں سے اس میں شامل ہونے کی سعادت کم ہی خوش بختوں کو حاصل ہوگی۔ یہاں بتایا کہ اصحب الیمین میں اگلوں اور پچھلوں دونوں میں سے ایک ایک گروہ ہوگا۔ اوپر یہ وضاحت ہوچکی ہے کہ اگلوں اور پچھلوں سے اپنی امت کے اگلے اور پچھلے مراد ہیں جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قیام قیامت تک جتنے مسلمان اس دنیا میں انئیں گے ان میں سے ایسے لوگ برابر نکلتے رہیں گے جن کا شمار (اصحب الیمین) کے طبقہ میں ہوگا اور قیامت کے دن وہ ایک ہی گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں گے۔