55. Surah Ar-Rahmaan

الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

تدبر قرآن۔ ٥٥۔ الرحمن۔ ا۔ سورة کا مزاج، عمود اور سابق سورة سے تعلق اس سورة کو بعض سوگوں نے مدنی قرار دیا ہے لیکن پوری سورة کا مدنی ہونا تو الگ رہا اس کی ایک آیت بھی مدنی نہیں معلوم ہوتی۔ پوری سورة بالکل ہم آہنگ و ہم رنگ ہے اور پڑھنے والا صاف محسوس کرتا ہے کہ یہ بیک دفعہ نازل ہوئی ہے۔ اپنے مزاج اور مطالب کے اعتبار سے یہ سورتوں کے اس زمرے سے تعلق رکھتی ہے جو مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی میں جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کے جوش میں مخالفین اس مطالبہ پر اڑ گئے ہیں کہ جب تک ان کو کوئی نشانی عذاب نہ دکھا دی جائے گی اس وقت تک نہ وہ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اس نئی دعوت کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر کوئی عذاب آجائے گا اور نہ یہ تسلیم کرنے والے ہیں کہ فی الواقع آگے کوئی دن آنے والا ہے جس میں ان کو دائمی عذاب اور ابدی رسوائی سے دوچار ہونا پڑے۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی اس ذہنیت کے سبب سے سابق سورة میں بھی آپ نے دیکھا ہے کہ ( فکیف کان عذابی و نذرہ ولقد یسرنا القران للکذکر فھل من مد کر) کی تذکیر بار بار دہرائی گئی ہے اور اس سورة میں ( فبای الاء ربکما تکذبین) کی تنبیہ بار بار آئی ہے۔ کسی ایک ہی بات کی طرف بار بار توجہ دلانے کا یہ اسلوب ظاہر ہے کہ اسی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب یا تو اتنا ضدی ہو کہ اپنی خواہش کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہو یا اتنا غبی ہو کہ جب تک اس کو کان پکڑ پکڑ کر ایک ایک چیز کی طرف توجہ نہ دلائی جائے اس سے کسی مفعول بات کے سمجھنے کی توقع ہی نہ کی جاسکتی ہو۔ کلام میں مخاطب کی ذہنیت اور اس کے مزاج کی رعایت ایک نا گزیر شے ہے۔ اگر متکلم یہ چیزملحوظ نہ رکھ سکے تو اس کا کلام نہ مطابق حال ہوگا، نہ بلیغ۔ جو لوگ کلام کے ان تقاضوں سے نا بلد ہوتے ہیں وہ اس نوعیت کے کلام کی خوبیوں اور نزاکتوں کے پرکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ ایک ہی آیت کے بار بار اعادے کو تکرار پر محمول کرتے اور اس تکرار کو ایک عیب قرار دیتے ہیں، چناچہ اس سورة پر بھی بعض کم سو ادوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں ایک ہی آیت کا بار بار اعادہ ہے۔ حالانکہ اگر وہ یہ سمجھ جائیں کہ اس میں مخاطب کس ذہنیت کے لوگ ہیں تو وہ پکار اٹھیں کہ اس سورة کی ایک ایک ترجیع اپنے محل میں اس طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح انگشتری میں نگینہ ہوتا ہے۔ سورة قمر میں قریش کے ہٹ دھرموں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سے آخر کیوں سبق نہیں لیتے ؟ کیوں اڑے ہوئے ہو کہ جب عذاب کا تاز یا نہ دیکھ لو گے تب ہی مانو گے ؟ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے نہایت موزوں ہے ! اس سورة میں اس مضمون کو ایک نئے اسلوب اور نہایت اچھوتے انداز سے لیا ہے اور انہیں یہ سمجھایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم کے لیے قرآن اتارا۔ تمہاری فطرت کا تقاضا یہی تھا کہ اس مقصد کے لیے قرآن ہی اتارا جائے۔ جب اللہ نے تم کو نطق وبیان کی صلاحیت سے نوازا ہے تو تم بات سمجھ بھی سکتے ہو اور سمجھا بھی سکتے ہو۔ اس اعلیٰ صلاحیت کا حق یہی ہے کہ اس کو تمہاری تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے نہ کہ عذاب کے ڈنڈے کو، لیکن تمہاری یہ بد بختی ہے کہ تم اس نعمت و رحمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نئی نشانی دیکھنے کے لیے مچلے ہوئے ہو۔ اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو آسمان و زمین اور آفاق وانفس کی نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جوہر روز تمہارے مشاہدے میں آتی ہیں اور تمہیں انہی حقائق کے درس دیتی ہیں جن کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان نشانیوں کے ہوتے کسی نئی نشانی کی کیا ضرورت ہے ؟ اس کے بعد زمین و آسمان کی ایک ایک نشانی پر انگلی رکھ کر اور گویا ان ضدیوں کے کان پکڑ پکڑ کر توجہ دلائی ہے کہ یہ نشانیاں نہیں ہیں تو کیا ہیں ! آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے رہو گے ! ب۔ اس سورة کی بعض اہم مشکلات اس سورة میں زبان و اسلوب اور تاویل کی جو مشکلات ہیں ان سے تو ہم انشاء اللہ متعلق آیات کے تحت ہی تعرض کریں گے لیکن دو باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت ہم تمہیدہی میں کر دینی چاہتے ہیں تاکہ ان سے بار بار تعرض کی نوبت نہ آئے۔ ان میں سے پہلیے چیز لفظ الا کی تحقیق ہے اور دوسری ( فبای الا ربکما تکذبن) میں خطاب کی نوعیت۔ لفظ الا جمع ہے انی۔ الی اور الی کی۔ اس کے معنی تمام ائمہ لغت اور ارباب تاویل کے نزدیک نعمت کے ہیں، لیکن استاد امام مولانا فراہی (رح) نے اپنی کتاب، مفردات القرآن میں اہل لغت کی اس رائے سے اختلاف کیا ہے۔ مولانا کے نزدیک یہ لفظ صرف نعمت کے معنی میں نہیں آتا بلکہ اس کے معنی اس سے وسیع ہیں۔ وہ اس بحث کی تمہید اس طرح اٹھاتے ہیں۔ ” ہرچند لوگوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ ’ الا ‘ کے معنی نعمتوں کے ہیں لیکن قرآن اور کلام عرب سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ کلام عرب کے متبع اور لفظ کے مواقع استعمال سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ تو یہ ہے کہ اس کے اصل معنی کا رناموں، کرشموں اور عجائب قدرت و حکمت کے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے کرشموں اور اس کی نشانیوں کا غالب حصہ آیات رحمت پر مشتمل ہے اس وجہ سے لوگوں نے یہ گمان کرلیا کہ ’ الا ‘ کے معنی نعمت ہی کے ہیں “۔ اسی سلسلہ میں مولانا (رح) نے اس روایت کی بھی توجیہ کی ہے جو حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ انہوں نے اس کے معنی نعمت کر بتائے ہیں۔ مولانا (رح) نے فرماتے ہیں کہ سلف کا طریقہ یہ رہا ہے کہ جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا تو وہ سوال کے موقع و محل کو سامنے رکھ کر جواب دیتے کہ اس خاص مقام میں لفظ کا کیا مفہوم ہے۔ اس تمہید کے بعد مولانا (رح) نے شعرائے جاہلیت میں سے طرفہ، میہ نبت ضرار، مہلہل، ربیعہ بن مقروم، اجدع الہمدانی، فضالہ بن زید، خنساء اور بعض حماسی شعراء کے کلام سے اپنی تائید میں شواہد پیش کئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مشہور جاہلی شاعروں نے، جن کا کلام لغت اور نخو کا مآخذ ہے، اس لفظ کو صرف نعمت ہی کے معنی میں نہیں لیا ہے بلکہ وسیع معنوں میں لیا ہے جس کے اندر نعمت، قدرت، شان، نشانی، کرشمہ، کارنامہ، اعجوبہ اور اس نوع کے تمام مفہوم شامل ہیں۔ ہمارے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ قرآن مجید کے اس دور کی مترجمین و مفسرین مولانا (رح) کی تحقیقات اپنی کتابوں میں ( بلا حوالہ سہی) اب نقل کرنے لگے ہیں، لیکن مولانا (رح) کی تصنیفات عربی میں ہیں اس وجہ سے جن کی عربی خام ہے بعض اوقات وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اوپر کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس لفظ کو نعمت کے معنی میں لینے سے مولانا (رح) کو انکار نہیں ہے بلکہ صرف نعت کے معنی میں اس کو محدود کردینے سے انکا رہے۔ ( فبای الا ربکما تکذبین) میں خطاب سے متعلق یہ امر تمام ارباب تاویل کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ کہ یہ جن و انس دونوں سے ہے۔ اس کو وضاحت خود قرآن نے اسی سورة میں مختلف اسلوبوں سے کردی ہے۔ البتہ دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ قرآن کی دعوت جس طرح انسانوں کے لیے ہے کیا اسی طرح جنوں کے لیے بھی ہے ؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس طرح اللہ تعالیٰ کی حجت اپنی قوم پر تمام کی اسی طرح جنوں پر بھی کی۔ اس کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ رسولوں بعثت اور ان کی دعوت سے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو ضابطے قرآن میں بیان فرمائے ہیں ان کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت جنوں کی طرف بھی تھی اور جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انسانوں پر حجت تمام کی اس طرح جنوں پر بھی کی۔ قرآن میں یہ بات گونا گوں اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول جس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے وہ انہی کے اندر سے ہوتا ہے، انہی کی زبان میں کلام کرتا ہے، انہی کی فطرت کا اعلیٰ نمونہ ہوتا ہے اور وہ اپنی عملی مثال سے ان کی خیر کو اجاگر کرتا اور ان کے شر کو مٹاتا ہے اس وجہ سے اس کی زندگی ہر شخص کے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو جنوں کے لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات سے ظہور میں آئی ہو۔ یہ بات بھی اپنی جگہ پر واضح ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قوم کو دعوت دینے اور اس کی اصلاح و تربیت کے لیے جو جدوجہد فرمائی اس طرح کی کوئی جدوجہد جنوں کے اندر آپ کی طرف سے ہمارے علم میں نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی دعویٰ کیا جاسکتا ہے تو بس یہ کہ ایک دو بار آپ جنوں کی کسی پارٹی سے ملے ہوں یا ان کی کسی پارٹی نے آپ کی زبان مبارک سے قرآن پاک کا کوئی حصہ سنا اور اس کو پسند کیا ہو۔ سورة احقاف آیات ٢٩۔ ٣٢ کے تحت گزر چکا ہے اور آگے سورة جن میں ذکر آئے گا کہ جنوں کی ایک پارٹی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے قرآن پاک کی کچھ آیتیں سنیں اور ان کو نہایت پسند کیا، لیکن وہاں بھی اس امر کی تصریح ہے کہ جنوں کی اس پسندیدگی کی اطلاع حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براہ راست نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے ہوئی۔ اس طرح کی اتفاقی ملاقاتیں ظاہر ہے کہ اس دعوت اور اتمام حجت کے لیے کافی نہیں ہیں جو ہر نبی و رسول نے اپنی قوم کے لیے انجام دی ہیں اور جس کے لیے ہی در حقیقت کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہوتی ہے۔ قرآن میں جنوں سے اس طرح کے خطاب کہیں کہیں جو پائے جاتے ہیں اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ نہیں ہے کہ وہ براہ راست اس کے مخالف ہیں بلکہ جب ابر رحمت برستا ہے تو جس طرح خشک و ترسب کی سیراب کردیتا ہے اسی طرح کبھی کبھی قرآن کی رحمت کا فیض جنوں تک بھی متعدی ہوجاتا ہے۔ بالخصوص ان کلیاتی امور میں جو ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہیں۔ توحید، معاد، جزاء و سزا، حق اور عدل اور اس نوع کے امور ہمارے اور ان کے مابین بالکل یکساں ہیں۔ اختلاف ہوسکتا ہے تو ان امور میں ہوسکتا ہے جن کا تعلق ہماری اور ان کی نوعی خصوصیات سے ہے۔ اس سورة کا اصل مقصد، جیسا کہ اوپر واضح ہوچکا ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی نشانیوں کی یاددہانی اور غافلوں کو جھنجھوڑنا اور جگانا ہے اس وجہ سے غافل انسانوں کے ساتھ ساتھ اس میں غافل جنوں کو بھی مخاطب کرلیا ہے جس سے اس کلام کی ہیبت تمام آفاق پر چھا گئی ہے۔ ممکن ہے یہاں کسی کے ذہن میں یہ سوال پیداہو کہ اس تقریرکا نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ جس طرح انسانوں کے اندر انسانوں میں سے نبی اور رسول آئے اسی طرح جنوں کے اندر انہی کے اندر سے نبی و رسول آئے ہوں جنہوں نے ان کی زبان اور ان کی نوعی خصوصیات و ضروریات کے مطابق ان کی اصلاح و تربیت کی ہو۔ ہم اس نتیجہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ یہ بات عقل و فطرت کے ٹھیک مطابق اور اللہ تعالیٰ اس سنت کے بالکل موافق ہے جو اس نبیوں اور رسولوں کی بعثت سے متعلق قرآن میں بار بار واضح فرمائی ہے۔ جنات جب ہماری ہی طرح ملکف اور ہماری طرح عند اللہ مسول اور ہمارے ہی طرح اپنے اعمال کی جزاء یا سزا کے سزا وار ہیں تو سنت الٰہی کے مطابق ضروری ہے کہ ان کی ہدایت کے لیے نبی اور رسول بھی مبعوث ہوئے ہوں اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ انہی کے اندر سے اٹھائے گئے ہوں اور انہی کی زبان میں انہوں نے ان کو دعوت دی ہو۔ ہمارے نزدیک قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں ہے جو اس کے خلاف جاتی ہو بلکہ مختلف آیات سے نہایت واضح طور پر اس کی تائید ہوتی ہے۔ سورة بقرہ میں آدم و ابلیس کا جو ماجرا بیان ہوا ہے اس کے آخر میں آدم ( علیہ السلام) ابلیس دونوں سے بحیثیت جماعت خطاب کر کے فرمایا ہے کہ ۔۔۔۔۔ (البقرۃ : ٣٨) ۔۔۔ ( ہم نے حکم دیا کہ یہاں سے اترو سب، پس اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور زدہ غمگین ہوں گے ) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت بھیجنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ جس طرح آدم ( علیہ السلام) و اولاد آدم سے متعلق ہے اسی طرح ابلیس اور اس کی ذریت سے متعلق بھی ہے۔ اسی طرح دوسرے مقام میں تصریح ہے کہ جنوں کے اندر انہی کے اندر سے رسول مبعوث ہوئے۔ (الانعام۔۔ ١٣١) ۔۔۔۔ (اے جنوں اور انسانوں کے گروہ، کیا تمہارے پاس تمہی میں سے رسول میری آیتیں بیان کرتے اور تمہیں اس دن کی پیشی سے ڈراتے نہیں آئے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور انہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دی کہ وہ کافر رہے۔ ) ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ اس سورة کا نظم بالکل واضح ہے۔ ابتدا میں یہ تمہید ہے کہ قرآن خدائے رحمان کی رحمت کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اپنے فضل خاص سے اس کو نطق و ادراک اور گویائی کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا۔ ان اعلیٰ صلاحیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت اعلیٰ ترین آسمانی کلام۔ قرآن کے ذریعہ سے کی جائے نہ کہ عذاب کے تاریانے کے ذریعے سے۔ بد قسمت ہیں۔ وہ لوگ جو اس کتاب سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد آفاق وانفس کی نمایاں نشانیوں پر گویا انگلی رکھ رکھ کے انسانوں اور جنوں، دونوں کو بار بار جھنجھوڑا ہے کہ یہ ساری نشانیاں ہی تو ہیں، تو تم اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے ! ان نشانیوں کے بیان کی تربیت یہ ہے۔ ان نشانیوں کی طرف اشارہ جو شہادت دیتی ہے کہ خالق کائنات عدل پسند ہے۔ اپنی اس دنیا کے کسی گوشے میں وہ تعدی، طفیان اور حدود سے تجاوز کو پسند نہیں فرماتا۔ ان نشانیوں کی طرف اشارہ جو شہادت دیتی ہیں کہ خالق نے اس دنیا میں ربوبیت کا جو وسیع انتظام فرمایا م ہے وہ مقتضی ہے کہ انسان اس میں شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑا گیا بلکہ لازماً ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جس میں اللہ تعالیٰ لوگوں کا حساب کرے گا، جو انعام کے مستحق ٹھہریں گے ان کو انعام دے گا اور جو سزا کے سزا اور نکلیں گے ان کو سزا دے گا۔ خدا ہی نے جنوں اور انسانوں کو آگ اور مٹی سے پیدا کیا اور وہ ان کودو بارہ بھی پیدا کرسکتا ہے اس کام میں اس کو کوئی زحمت نہیں پیش آئیگی۔ یہ ساری کائنات خدا ہی کے تصرف میں ہے۔ مشرق اور مغرب، دونوں کا رب وہی ہے۔ جو طلوع ہوتے ہی اس کے حکم سے طلوع ہوتے ہیں اور جو ڈوبتے ہیں اسی کے حکم سے ڈوبتے ہیں۔ اس کائنات کے اضداد میں ان کے اپنے وجود سے بالا تر مقصد کے لیے ساز گاری پائی جاتی ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ ایک بالا تر ارادہ سب پر حاوی ہے جو ان تمام اضداد کے اندر توافق پیدا کرتا اور ان کو اس کائنات کے مجموعی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کائنات اپنے اضداد کے تصادم سے فنا ہوجاتی۔ اس کا باقی رہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس پوری کائنات پر صرف ایک ہی قاہر و حکیم ارادہ کار فرما ہے۔ اس بات کی نشانی کہ صرف وہی ایک ذات باقی رہنے والی ہے۔ اس کے سوا سب فانی ہیں۔ اس حقیقت کا اظہار کہ اس کے سوا سب محتاج ہیں۔ وہی اکیلا محتاج الیہ ہے۔ سب کی ضرورتیں وہی پوری کرتا ہے، جو نادان دوسروں سے مانگتے ہیں وہ بھی پاتے اسی سے ہیں۔ اس امر کا اعلان کہ حساب کتاب اور جزائے اعمال کا ایک دن ضرور آئے گا اور اس دن نہ کوئی انسان خدا کے قابو سے باہر نکل سکے گا نہ کوئی جن، اس دن کسی مجرم کا جرم ثابت کرنے کے لیے کسی ثبوت اور گواہی کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ مجرموں کی پیشانیاں خود ان کے مجرم ہونے کی گواہی دیں گی پھر وہ چوٹی اور پائوں سے پکڑ کر جہنم میں جھونک دیے جائیں گے۔ اس دن متقربین کی جو جنتیں ملیں گی ان کا بیا ن۔ اصحاب الیمین کو ملنے والی جنتوں کی تصویر۔

Ayahs 55:1–2

اَلرَّحْمٰنُۙ Open ayah 55:1 in the Quran reader

خدائے رحمان نے

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ Open ayah 55:2 in the Quran reader

قرآن کی تعلیم دی۔

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت ہے)۔ (الرحمن علم القرآن) (1۔ 2)۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ خاص مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن کریم جیسی رحمت و برکت نازل فرمائی۔ وہ چاہتا تو تمہاری طلب کے مطابق تم پر عذاب بھیج سکتا تھا، لیکن اس نے غایت رحمت کے سبب سے تم کو اپنے صحیفہ رحمت سے نوازا کہ تم اس کو پڑھو، سمجھو اور اس کی روشنی میں اپنی عقلی و عملی کج رویوں کی اصلاح کر کے اس دنیا میں بھی پھلو پھولو اور آخرت میں بھی فلاح پائو۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے رب رحمان نے تمہیں اپنی رحمت سے نوازا تو تم رحمت کی جگہ اس کی نعمت کے طالب کیوں بنتے ہو !
Ayahs 55:3–4

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ Open ayah 55:3 in the Quran reader

اس نے انسان کو پیدا کیا۔

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ Open ayah 55:4 in the Quran reader

اس کو گویائی سکھائی

(خلق الانسان علمہ البیان) (3۔ 4) (انسان کی فطرت مقتضی تھی کہ اس کی ہدایت کے لیے قرآن نازل ہوا)۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے تقاضے کے ساتھ ساتھ انس کی خلقت اور اس کی صفات کا تقاضا بھی یہی ہوا کہ اس کی رہنمائی کے لیے صحیفہ ہدایت اترے نہ کہ تازیانہ عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو نطق و گویائی کی تعلیم دی۔ یہ گویائی اس بات کی شہادت ہے کہ خالق نے اس کو ایک عاقل و مدرک ہستی بنایا ہے۔ دو بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی خیر و شر میں امتیاز کرسکتا ہے اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچا اور ان کو سمجھا سکتا ہے۔ جب ان گوناگوں صلاحیتوں سے وہ آراستہ ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ قدرت نے یہ چاہا ہے کہ اسکو کلام کے ذریعہ سے تعلیم دی جائے نہ کہ جانوروں کی طرح ڈنڈے کے ذریعے سے۔ یہ امر یہاں ملحوظ ہے کہ انسان میں نطق کی صلاحیت اس کے اندر دوسری گونا گوں صلاحیتوں کی شاہد ہے۔ یہ نطق متلزم ہے کہ انسان عاقل و مدرک ہے، و کلیات سے جزئیات اور جزئیات سے کلیات بنا سکتا ہے، وہ استدلال، استباط اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ارسطو نے اسی وجہ سے انسان کی اسی صفت کو اس کے لیے حیوانات سے ممتاز کرنے والی صفت قرار دیا ہے۔ یہ صفت اس کے اندر نہ پائی جائے تو پھر وہ انسان نہیں بلکہ دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ کسی حقیقت کو دلائل کی روشنی میں سمجھنے کی جگہ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننے کے منتظر ہیں وہ بھی جانوروں ہی کے گلے میں شامل ہیں۔ اگرچہ وہ رہتے شانداربنگلوں میں ہوں۔
Ayah 55:5

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪ Open ayah 55:5 in the Quran reader

سورج اور چاند ایک حساب سے گردش کرتے ہیں

(الشمس والقمر بحسبان والنجم والشجر یسجدن) (5، 6)۔ (کائنات کی نشانیوں کی طرف ایک اشارہ)۔ یہ اس کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ اگر قرآن کے انداز کی تصدیق کے لیے نشانیوں ہی کی ضرورت ہے تو کسی نئی نشانی کے منتظر کیوں ہو ؟ اپے سروں کے اوپر آسمان کی نشانیوں کو دیکھو، یہ سورج اور چاند کس پابندی اوقات اور کس نظم و ضبط کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ کبھی منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق واقع ہونے پائے۔ پھر یہ دیکھو کہ یہ کس طرح ان حدود وقیود کی پابندی کر رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ٹھہرا دیئے ہیں، یہ کبھی نہیں ہوتا کہ سورج اپنی سرحد میں لانگ کر چاند کے مدار میں گھس جائے یا چاند سورج کے حدود میں دراندازی کر دے۔ (لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا الیل سابق النھار وکل فی فلک یسبحون یٰسین : 40) (نہ سورج کے لیے یہ روا کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات کو یہ حق کہ وہ دن سے سبقت کر جائے۔ ہر ایک اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے)۔ کیا یہ نشانی ہر روز انسانی کو یہ درس نہیں دیتی کہ جب اس کائنات کے خالق نے سورج اور چاند جیسی عظیم مخلوقات کو اپنے حدود وقیود کا پابند کر رکھا ہے تو انسان کو وہ کیوں اپنے امر و نہی کی پابندی ہے آزاد رکھے گا ؟ اور اگر انسان اس کے حدود وقیود کو توڑ کر دنیا میں اودھم مچانے کی جسارت کرے گا تو وہ آخر اس کو کیوں سزا نہیں دے گا ؟ جو قانون اس نے کائنات کے ہر گوشے میں نافذ کر رکھا ہے اس کی پابندی کا سب سے زیادہ سزا اور تو انسان ہے۔
Ayah 55:6

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ Open ayah 55:6 in the Quran reader

اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں

(والنجم والشجر یسجدن)۔ شمس و قمر کی پابندی حدود، جس کو شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ سے تعبیر کرتے ہیں، کا حوالہ دینے کے بعد یہ آسمان کے ستاروں اور زمین کے درختوں کے سجدے کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی اپنے خالق ومالک کو سجدہ کرتے اور اپنے عمل سے انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے رب سے سر کشی نہ کرے بلکہ نہایت فرمانبردار انہ اس کو سجدہ اور اس کی بندگی کرے۔ ستاروں اور درختوں کے سجدے کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس بحث کو اس کے محل میں دیکھے۔ یہاں اعادے میں طوالت ہوگی۔ (النجم کا صحیح مفہوم)۔ (النحم) سے بعض لوگوں نے زمین پر پیدا ہونے والے چھوٹے پودے، جھاڑ اور بیلوں وغیرہ کے قسم کی چیزیں مراد لی ہیں۔ غالباً شجر کے ساتھ ستاروں کی مناسبت ان حضرات کی سمجھ میں نہیں آئی اس وجہ سے انہیں یہ تکلیف کرنا پڑا حالانکہ ان دونوں کے درمیان نہایت واضح و صفی اشتراک موجود ہے۔ قرآن میں دونوں کے سجدہ کا ذکر مختلف اسلوبوں سے بار بار آیا ہے۔ اسی اشتراک کی بناء پر یہاں بھی دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہوا۔ اس سے آسمان و زمین دونوں کی ہم آہنگی واضح ہوتی ہے کہ ان کا رب ایک ہی ہے جس کو آسمان کے ستارے بھی سجدہ کرتے ہیں اور زمین کے درخت بھی، یہ امر واضح رہے کہ مجاہد ؒ ، قتادہ ؒ اور حسن ؒ وغیرہ نجوم کو اسکے معروف معنی ہی میں لیتے ہیں۔ ابن کثیر ؒ نے بھی انہی لوگوں کی تائید کی ہے اور آیت (الم تران اللہ یسجد لہ ٗ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر و النجوم) (الحج : 18) (نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج، چاند اور ستارے بھی) کا حوالہ دیا ہے۔)
Ayah 55:7

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ Open ayah 55:7 in the Quran reader

اور اس نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان رکھی

(والسماء رفعھا وضع المیزان) (7) آسمان کی بعض روشن نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خود آسمان کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو، ستونوں کے بغیر کس طرح تمہارے رب نے ایسی نا پیدا کنارچھت بلند کردی جس کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا، پھر دیکھو کہ اس بےپایاں عظمت و وسعت کے باوصف اس میں اس نے ایسا توازن رکھا ہے کہ اس کے کسی کونے گوشے میں نہ کوئی کسی جھول کا پتہ دے سکتا ہے نہ کسی رختے اور دراڑ کا، دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے۔ (۔۔۔۔) (لقمان : 10) (اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی سمت کو لڑھک جائے)۔ سورة ملک میں فرمایا ہے۔ (۔۔۔ الملک 30۔ 40)۔۔۔ (وہی ہے جس کے تہہ بہ تہہ سات آسمان بنائے اور تم خدائے، ان کی اس کا ریگری میں کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ نگاہ دوڑائو، کیا دیکھتے ہوگئیں کوئی غلل ! پھر نگاہ دوڑائو بار بار، نگاہ ناکام اور تھک کر واپس آجائے گی۔) (بغیر عمید تردنھا) سے یہ بات نکلتی ہے کہ آسمان کی چھت میں توازن (میزان) قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جذب وکشش کے ایسے ستون استعمال کیے ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتے۔
Ayah 55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ Open ayah 55:8 in the Quran reader

کہ تم بھی میزان میں تجاوز نہ کرو

(الا بطغوا فی المیزان) (8) (آسمان کے خالق کی پسند کا اظہار اس کی صفت سے)۔ یعنی جب خالق نے اسکے اندر میزان رکھی جس پر یہ قائم ہے، یہ نہ ہو تو آسمان درہم برہم ہوجائے تو اس سے خالق کا مزاج اور اس کا ذوق معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرہ اختیار کے اندر اسی طرح توازن، عدل اور قسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ مطلب یہ نکلا کہ اسی عدل و قسط کی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے۔ جس کی شہادت تمہارے سروں پر پھیلے ہوئے آسمان کے ہر گوشے سے مل رہی ہے اور اسی کی خلاف ورزی کے نتائج تمہیں وہ ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے اپنے طغیان سے اندھے ہو کہ یہ میزان درہم برہم کر ڈدالی تو اس کی سزا اس دنیا میں بھی بھگتو گے اور آخرت میں بھی اس کا وبال تم پر آئے گا تو آخر یہ واضح بات جس کی شہادت آسمان و زمین کے گوشے گوشے سے مل رہی ہے، تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی ! آفاق کی ان سبق آموز نشانیوں کو نظر انداز کر کے کسی صاعقہ عذاب کے درپے کیوں ہو !
Ayah 55:9

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ Open ayah 55:9 in the Quran reader

اور ٹھیک تولو پورے انصاف کے ساتھ اور وزن میں کمی نہ کرو۔

(واقیموا الوزن بالقسط والا تخسرو المیزان) (9)۔ اوپروالی بات ایک کلیہ کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اس کلیہ پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ فرمایا کہ جس خدا کے بنائے ہوئے آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہو جب وہ میزان رکھنے والا اور عدل پسند ہے تو اس کی دنیا میں ڈنڈی ماری کی زندگی نہ بسر کرو بلکہ ناپ تول میں پورے انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور ہرگز تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ قوم شعیب کی سر گزشت کے سلسلہ میں ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ ناپ تول میں کمی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے نظام تمدن میں فساد کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہاں ایک مزید حقیقت واضح ہوئی کہ یہ برائی در حقیقت اس میزان کے منافی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین قائم فرمائے ہیں۔ اگر کوئی قوم اس فساد کو قبول کرلیتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اس بنیاد ہی کے ڈھا دینے کے درپے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کی تعمیر فرمائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بنائی ہوئی زمین پر ایسے لوگوں کو کبھی گوارا نہیں کرسکتا۔ یہاں یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ ایک ہی بات مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے فرمائی گئی ہے۔ قرآن مجید پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب ان مواقع پر اختیار فرمایا گیا ہے جہاں اصل حکم کی خلاف ورزی نہایت خطرناک نتائج پر منتہی کرسکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس میزان عدل کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کردیتی ہے وہ سارے نظام تمدن میں فساد برپا کردیتی ہے۔
Ayahs 55:10–12

وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ Open ayah 55:10 in the Quran reader

اور زمین کو اس نے بچھایا خلق کے لیے

فِیْهَا فَاكِهَةٌ١۪ۙ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِۖ Open ayah 55:11 in the Quran reader

اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں

وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُۚ Open ayah 55:12 in the Quran reader

اور بھس والے اناج بھی ہیں اور خوشبو دار پھول بھی

(والارض وضعھا للانام فیھا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام والحب ذوالعصف الریحان) (10۔ 13) (زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ)۔ آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے دفع کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے وضع کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان دیا اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگادیئے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے پھلوں، غلوں اور پھولوں کے انبار بھی لگا دیئے کہ اس کے مکینوں کو غذا بھی حاصل ہو، اس کے پھلوں سے وہ لذت اندوز اور خوش کام ہوں اور اس کے پھول ان کے لیے با صرہ نوازی اور معطر مشامی کا سامان بھی مہیا کریں۔ یہاں غلے کے ساتھ پھلوں اور خاص طور پر پھولوں کا ذکر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے صرف پیٹ بھرنے ہی کا سامان نہیں کیا ہے بلکہ ان کے ذول و جمال، لذت کام و دہن اور شوق آرائش کا بھی سامان کیا ہے جو اس کی ربوبیت ہی کی دلیل نہیں بلکہ خاص اہتمام ربوبیت کی دلیل ہے۔ اسی طرح حب کے ساتھ ذوالعصب کی صفت اور نخل کے ساتھ ذاب الاکمام کی صفت اس خاص عنایت پر دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرمائی ہے کہ اس نے غلے اور پھل جو دیے تو اس طرح نہیں کہ گویا پھینک مارے ہوں بلکہ ایک ایک دانے اور ایک ایک پھیل کی پیکنگ کا ایسا اعلیٰ انتظام فرمایا ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اہتمام اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے رب کی اس پروردگاری کا حق پہنچانے، اس کا شکر گزار رہے اور یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارے کہ جس نے اس کے لیے یہ سارا اہتمام کسی استحقاق کے بغیر کیا ہے وہ اس کو یوں ہی شتر بےمہار کی طرح چھوڑے نہیں رکھے گا بلکہ حساب کتاب کا بھی ایک دن وہ لائے گا۔ اس آیت میں لفظ ریحان سے متعلق ایک تنبیہ بھی ضروری ہے بعض لوگوں نے اس کے معنی پتوں کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں یہ لفظ نہ عربی زبان میں استعمال ہوا ہے اور نہ یہاں پتوں کے ذکر کا کوئی محل ہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے غلہ کے ذکر کے ساتھ پھول کا ذکر ان حضرات کو بےجوڑ سا معلوم ہوا اس وجہ سے انہیں یہ انوکھی تاویل کرنی پڑی حالانکہ اس کے ذکر کا ایک محل ہے جس کی وضاحت ہم نے اوپر کردی۔
Ayah 55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:13 in the Quran reader

تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن عنایتوں کو جھٹلائو گے !

(فباری الاربکما تکذبن) (13) (جنوں کو خطاب کرنے کی ایک خاص وجہ)۔ یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورة کی اہم ترین آیت ہے اس وجہ سے تم نے تمہیدہی میں لفظ الا کی تحقیق بھ بیان کر رہی ہے اور اس میں جنوں اور انسانوں سے جو خطاب ہے اس کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ البتہ ایک بات ہم یہاں واضح کریں گے وہ یہ کہ قریش کے مکذبین کے ساتھ جنات کے مکذبین کو بھی یہاں جو شامل کرلیا ہے تو اس کی ایک خاص وجہ ہے کہ تکذیب کی یہ مہم اس دور میں پوری شدت اختیار کرگئی تھی اور شیاطین انس وجن، دونوں گٹھ جوڑ کر کے اپنا پورا زور صرف کر رہے تھے کہ دعوت حق کے قدم اکھاڑ دیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو براہ راست خطاب کر کے ان کو سرزنش بھی فرمائی اور آگے کی آیات سے معلوم ہوگا کہ ان کو چیلنج بھی کیا ہے کہ وہ اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لیں، کلمہ حق ان کے علی الرغم بلند ہو کررہے گا۔ تمہید میں یہ بات ہم واضح کرچکے ہیں کہ یہ سورة ٔ مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب قریش پر ضد اور فی صمت کا بخار پوری شدت کے ساتھ چڑھا ہوا تھا۔ اس دور میں ظاہر ہے کہ ان کو شیاطین جن کی کک بھی سب سے زیادہ حاصل ہوئی ہوگی۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ دونوں مخاطب کیے جائیں۔ (منعم کی شکر گزاری فطرت کا تقاضا ہے)۔ نعمت کے ساتھ منعم کی شکر گزاری اور ربوبیت کے ساتھ مسئولیت کا احساس انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں سے ایک شخص متمتع تو ہو رہا ہے لیکن وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ان کے عوض میں اس کے اوپر نعمتوں کے بخشنے والے کا کوئی حق بھی قائم ہوتا ہے یا ان کے باب میں اس سے کوئی پرسش بھی ہونی ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ان تمام نعمتوں کا مکذب ہے۔ قرآن نے یہاں اسی تکذیب پر قریش اور ان کے ہم مشرب جنوں کو سرزش فرمائی ہے کہ ہر قوم پر تمہارے سامنے تمہاری رب کی وہ نعمتیں موجود ہیں جو تمہیں روز باز پرس کی یاددہانی کر رہی ہیں لیکن تم اس کا انکار کیے جا رہے ہو تو اس کی کن کن نعمتوں اور عنایتوں کی تکذیب کرو گے !۔
Ayahs 55:14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ Open ayah 55:14 in the Quran reader

اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ Open ayah 55:15 in the Quran reader

اور پیدا کیا جنات کو شعلہ آتش سے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:16 in the Quran reader

تو تم دونوں اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔

(خلق الانسان من صلصال کا لفخار وخلق الجان من مارج من نار فبای الا ربکما تکذین) (14۔ 16) (انسانی خلقت کے مختلف مراحل سے قیامت پر استدلال) یہ جنوں اور انسانوں دونوں کو ان کی خلقت یاد دلا کر ان کی دوسری خلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس غلطی فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں رہا اس وجہ سے اب کسی روز حساب کا معاملہ خارج از امکان ہوگیا۔ یادرکھو کہ جس میٹریل سے اس نے تم کو پیدا کیا ہے وہ میٹریل بھی پوری مقدار میں موجود ہے اور خدا کی قدرت تخلیق بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح تمہاری خلقت اول کے وقت موجود تھی تو اگر تم اپنی خلقت کا انکار نہیں کرسکتے تو اپنی دوبارہ پیدائش سے انکار کی بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ (صلصال) خالص مٹی کو کہتے ہیں اور فخار اس مٹی کو کہتے ہیں جو ٹھیکرے کی طرح خشک ہوجائے۔ زندگی جن مراحل سے گزرتی ہوئی انسانیت کے مرحلے تک پہنچتی ہے قرآن نے جگہ جگہ ان تمام مراحل کا حوالہ دیا ہے۔ کہیں فرمایا ہے، انسان کو پانی سے پیدا کیا، کہیں مٹی کا حوالہ دیا ہے، کہیں سڑے ہوئے گارے کا ذکر کیا ہے۔ یہاں خشک مٹی کا ذکر ہے۔ اسی طرح سب سے آخری مرحلہ یہ بیان ہوا ہے کہ نطفہ سے اس کی نسل جاری کی۔ یہ انسانی زندگی کے ارتقائی مراحل ہیں جن کی وضاحت سورة حجر آیت 26 کے تحت ہوچکی ہے۔ ان مراحل کے بیان سے مقصود انسان کو خود اس کے وجود کے اندر خدا کی شانوں، قدرتوں اور حکمتوں کا مشاہدہ کرانا ہے تاکہ انسان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ خدا ہی کی شان ہے کہ اس نے اس کو پانی اور کیچڑ سے نکالا، پھر میدانی علاقوں کی خشک و معتدل آب و ہوا میں اس کی پرورش کی، پھر درجہ بدرجہ اس کو ایک نیا ہیولی بخشا اور اس کی نسل چلانے کے لیے ایک نیا نظام قائم فرمایا۔ ان باتوں کے بیان سے ظاہر ہے کہ مقصود یہ ثابت کرنا ہے کہ جس انسان کو اللہ تعالیٰ ان طویل راستوں سے گزار کر اس اہتمام سے یہاں تک لایا ہے اس کا وجود بےغایت و بےمقصد نہیں ہوسکتا اور ساتھ ہی یہ دکھانا بھی ہے کہ جو خدائے علیم و حکیم کیچڑ کے اندر پیدا ہونے والے ایک خلیہ کو انسان بنا دے سکتا ہے اس کی قدرت سے کوئی بات بھی بعید نہیں ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (جنات کی خلقت آگ کے شعلہ سے ہوئی)۔ (وخلق الجان سن مارج من تار)۔ ’ مارج ‘ کے معنی شعلہ کے ہیں۔ شعلہ آگ کا خلاصہ ہوتا ہے۔ جس طرح انسان مٹی کے خلاصہ اور جوہر سے پیدا ہوا ہے اسی طرح جنات کی پیدائش آگ کے جو ہر سے ہوئی ہے ان کے مدارج حیات کی زیادہ تفصیل قرآن نے نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بالکل مختلف نوع کے تمام مدارج خلقت کو سمجھنا ہمارے لیے نہایت مشکل تھا۔ اس کے بعد وہی آیت ترجیح ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب یہاں ہوگا کہ جب اپنے رب کی یہ شانیں اور یہ قدرتیں و حکمتیں خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو تو اس بات کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہو کہ خدا تمہیں دوبارہ حساب کتاب کے لیے اٹھا کھڑا کرے، آخر اپنے کی رب کی کتنی نشانیوں کو جھٹلاتے اور نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے رہوگے !
Ayahs 55:17–18

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ Open ayah 55:17 in the Quran reader

وہی مشرق کے دونوں اطراف کا خداوند ہے اور وہی مغرب کے دونوں اطراف کا بھی

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:18 in the Quran reader

خداوند ہے تو تم اپنے رب کی کن کن عظمتوں کو جھٹلائو گے !

(رب المشرقین و رب المغربین فبای الاء ربکما تکذبن) (17۔ 18) (مشرق اور مغرب کی مثنی لانے کی وجہ) یعنی مشرق و مغرب، سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نہ کوئی اس کے حدود مملکت سے باہر ہے اور نہ کوئی اس کی خدائی میں حصہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مشرق و مغرب کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ اس کے آسمانوں اور زمین میں بالشت بھر علاقہ بھی کسی اور کے قبضہ میں نہیں ہے کہ وہ اس علاقہ والوں کو خدا کی پکڑ سے بچا لے۔ سورة معارج میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے (فلا اقسم برب المشرق و المغرب انا لقدرون نلی ان نبدل خیرا منھم وما نحن بمسبعرقین) (40۔ 41) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی، ہعم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر صورت میں بدل کر ان کو اٹھا کھڑا کریں اور ہم اس کام میں عاجز ہونے والے نہیں ہیں)۔ مصرقین اور مغربین کے مثنیٰ لانے کی توجیہ عام طور پر ہمارے مفسرین نے یہ کی ہے کہ اس سے سردی اور گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں لیکن یہ محض تکلیف ہے۔ قرآن میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ جمع تینوں صورتوں میں استعمال ہوئے ہیں اور ان تینوں ہی صورتوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ مثنیٰ کی صورت میں مقصود ان کے دونوں اطراف کا احاطہ ہوتا ہے اور جمع کی شکل میں ان کے اطراف و اکناف کی بےنہایت وسعت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ مثنیٰ اور جمع کے اس نوع کے استعمال کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کے بعد وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے یعنی جس خدا کی عظمت و شان کا حال یہ ہے کہ مشرق و مغرب سب اس کے زیر نگیں ہیں، اگر اس کے انداز کو سمجھتے ہو کہ یہ ڈرائوے محض ہوائی ہیں تو آخر اس کی کن کن عظمتوں کی تکذیب کرو گے !
Ayahs 55:19–21

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ Open ayah 55:19 in the Quran reader

اس نے چھوڑے دو دریار، دونوں ٹکراتے ہیں

بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ Open ayah 55:20 in the Quran reader

لیکن ان کے درمیان ایک پردہ حائل رہتا ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:21 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلائو گے۔

(مرج البحرین یلتقین بنھما برزخ لا یبغین فبای الاء ربکما تکذبین) (19۔ 21) (توحید کی دلیل انسداد کا توافق کے پہلو سے)۔ یہ اوپر کے دعوائے توحید کی دلیل اس کائنات کے اضداد میں توافق کے پہلو سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ہر گوشے میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے، طلوع کے ساتھ غروب، دن کے ساتھ رات اور سردی کے مقابل میں گرمی ہے تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے اندر مختلف ارادے اور مشتیں کار فرما ہیں۔ انسان اگر اس کی تہہ میں جھانک کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ اس کے ہر تضاد کے اندر نہایت گہرا توافق اور نہایت عمیق سازگاری ہے۔ ہر چیز اپنے مقابل کے ساتھ مل کر ایک بالا تر مقصد کی خدمت میں لگی ہوئی ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ در حقیقت ایک ہی ارادہ اس تمام کائنات پر حکمران ہے جو اس کے تمالی اضداد کی اپنی حکمت کے تحت کائنات کے مجموعی مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ فرمایا کہ دیکھو، وہ دو دریائوں کو چھوڑتا ہے، ایک کھاری ہوتا ہے، دوسرا شیریں، دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں لیکن خدائے قادر و حکیم دونوں کے درمیان ایک ایسا غیر مرئی پر دہ ڈال دیتا ہے کہ وہ دونوں ملتے بھی ہیں اور الگ الگ اپنے مزاج پر قائم بھی رہتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ کھاری دریا شیریں یا شیریں دریا کھاری بن جائے۔ اس سے معلومہوا کہ جو لوگ ظاہری تضاد کو دیکھ کر اس مغالطہ میں پڑگئے کہ اس کے اندر متضاد ارادے کار فرما ہیں اور پھر انہوں نے اپنے اپنے تصور کے مطابق اپنے الگ الگ دیوتا بنا لیے ان کی نظر اس توافق پر نہیں پڑی جو ہر تضاد کے اندر موجود ہے اور جو توحید کی سب سے بڑی حجت ہے۔ آخر میں وہی ترجیح ہے جو اوپر گزرچکی ہے۔ یعنی ان روشن شواہد کے بعد بھی اگر اس مغالطہ میں مبتلا ہوا کہ خدا نے تم کو پکڑا تو تمہارے دیوی دیو تاتم کو بچا لیں گے، تو آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے۔
Ayahs 55:22–23

یَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ Open ayah 55:22 in the Quran reader

ان دونوں ہی سے نکلتے ہیں موتی اور مونگے ،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:23 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن کن نیرنگیوں کو جھٹلائو گے !

(یحرج منھما اللولو والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن) (22۔ 23)۔ یہ ایک مشترک مجموعی فائدہ کی طرف اشارہ ہے جو باوصف تضاد ان سے حاصل ہوتا ہے کہ ان دونوں ہی سے موتی اور مونگے حاصل ہوتے ہیں جو انسان کے لیے دولت بھی ہیں اور زینت بھی۔ (بعض مفسرین کا ایک غلط دعویٰ)۔ بعض مفسرین نے یہاں یہ سوال اٹھایا ہے کہ مونگے اور موتی تو صرف کھا ری پانی سے نکلتے ہیں اور قرآن کا بیان یہ ہے کہ دونوں سے نکلتے ہیں تو اس کا جواب کیا ہے ؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دعویٰ بالکل بےبنیاد ہے کہ موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹیا نیکا (Paedia Britanica Dencyclo) میں موتی پر جو مضمون ہے اس کا ایک ضروری اقتباس ہم یہاں درج کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مونگے اور موتی میٹھے پانی سے بھی نکلتے ہیں۔ مضمون نگار لکھتا ہے۔ ”نصف کرہ شمالی کے منطقہ معتدلہ میں بیٹھے پانی کے سیپ کے کیڑے (Seis Fresh Waters mus) بہت قیمتی موتی پیدا کرتے رہے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے میٹھے پانی کے موتی زیادہ تر دریائے مس سس پی (Mississippi River) سے نکلتے ہیں۔ برطانیہ میں موتی نکالنے کی صنعت اب زوال پر ہے۔ لیکن سکاٹ لینڈ کے دریائوں، سفے (Spey) اور سے (Tay) اور شمالی ویلز کے دریا کان وے (Conmay) سے نکلنے والے موتیوں کی ایک زمانے میں بہت مانگ رہی ہے۔ چین میں میٹھے پانی سے موتی نکالنے کی صنعت ہزار برس قبل مسیح سے معروف ہے۔ اور بالفرض کھاری پانی ہی سے نکلتے ہوں جب بھی اس سے قرآن کے بیان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ قانون قدرت یہ ہے کہ اشیاء تضادات کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہیں۔ بچہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ پرورش اگرچہ ماں کے پیٹ میں پاتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ عورت اور مرد دونوں سے وجود میں آتا ہے۔ اسی طرح موتی شیریں اور کھاری، دونوں ہی پانیوں کے ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں اگرچہ وہ پرورش کھاری پانی ہی کے اندر پاتے ہوں۔ اس کے بعد وہی ترجیح ہے جو اوپر گزر چکی ہے اور اس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:24–25

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ Open ayah 55:24 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں ہیں سمندروں میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے جہاز ،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠ Open ayah 55:25 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن عجائب کو جھٹلائو گے !

(ولہ الجوار المشت فی البحر کالا علام فبای الاء ربکما تکذبن) (24۔ 25)۔ (تضاد کے اندر توافق کی ایک اور نشانی)۔ تضاد کے باوصف توافق کی ایک اور نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کی طرح اونچے اور بھاری بھاری جہاز سمندروں کے سینے پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ کوئی وزن رکھنے والی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی پانی کے اندر ڈالیے تو ڈوپ جاتی ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی کار سازی ہے کہ جہاز جیسی بھاری چیز، ہزاروں ٹن سامان اپنے اوپر لادے ہوئے، پانی کو چیرتی ہوئی چلتی اور ڈوبنے سے محفوظ رہتی ہے۔ لہ سے مطلب یہاں یہ ہے کہ تضادات کے اندر اس قسم کی موافقت و سازگاری پیدا کرنا صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کے اختیار میں ہے۔ صرف اسی کی قدرت و حکمت سے ایسے کرشمے ظہور میں آتے ہیں اور تم ہر جگہ یہ دیکھ رہے ہو تو اپنے رب کے کن کن کرشموں کو۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹیانیکا مضمون Pearal)۔ جھٹلائو گے، یہ مضمون سورة فاطر میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ (۔۔۔۔ فاطر 13۔۔۔۔) (اور دونوں دریا یکساں نہیں ہوتے ایک شیریں اور خالص، جس کا پانی پینے کے لیے خوش گوار ہوتا ہے اور دوسرا کھاری تلخ اور ان دونوں ہی سے تم تازہ گوشت بھی کھاتے ہو اور آرائش کے سامان بھی نکالتے ہو جن کو پہنتے ہو اور کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ان میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اس کا فضل چاہو اور تاکہ اس کے شکر گزار بنو)۔ سورة شوریٰ کی آیات کے تحت بھی یہ مضمون بیان ہوچکا ہے۔ مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجئے۔
Ayahs 55:26–28

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ Open ayah 55:26 in the Quran reader

روئے زمین پر جو بھی ہیں سب فانی ہیں

وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ Open ayah 55:27 in the Quran reader

اور تیرے رب کی عظمت و عزت والی ذات باقی رہنے والی ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:28 in the Quran reader

تو اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے

(کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذعا الجلل والاکرام فبای الاء ربکما تکذبین) (26۔ 28)۔ (مذکورہ بالا دلائل کا لازمی نتیجہ)۔ ضمیر مجرور کا مرجع الارض (زمین) ہے اس کا ذکراوپر آیت 10 سے چلا آ رہا ہے۔ زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے انسان کی پرورش کا جو سامان کیا ہے، اس کی خلقت میں اپنی شانیں اور حکمتیں دکھائی ہیں، اس کے ہر گوشے پر جس طرح اس کا اقتدار محیط ہے اور اس کے اضداد کے باہمی توافق سے جس طرح اس کے خالق کی یکتائی نمایاں ہو رہی ہے، یہ باتیں مستلزم ہیں کہ ایک دن یہ ساری چیزیں فنا ہوجائیں گی، صرف اللہ تعالیٰ کی با عظمت اور سزا وار تعظیم ذات ہی باقی رہ جائے گی، جس کے حضور سب کی پیشی ہونی ہے اور وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ سزا وار ہوگا، کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کے آگے دم مار سکے یا اس کے اذان کے بغیر کسی سفارش کے لیے زبان کھول سکے۔ (ذی الجلل والاکرام) کے الفاظ اس سورة کی آخری آیت میں بھی آئے ہیں۔ مقصود ان دونوں لفظوں کے لانے سے یہ ہے کہ در حقیقت وہی اپنی ذات میں با عظمت ہے اس وجہ سے وہی سب کی تعظیم و تکریم کا حقیقی سزا وار ہے۔ کوئی اور ان اوصاف میں اس کا شریک نہیں ہے۔ لفظ ’ وجہ ‘ یہاں اس کی ذات کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ چہرہ ذات کا سب سے اشرف حصہ ہے اس وجہ سے بعض اوقات اس سے پوری ذات کو تعبیر کردیتے ہیں۔ آخر میں آیت ترجیح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پیغمبر کے انداز کو سنو یا نہ سنو لیکن بالآخر یہ بات ہو کے رہے گی کہ ایک دن سب فنا ہوجائیں گے، صرف اللہ جل شانہٗ کی ذات ہی باقی رہے گی تو تم اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلائو گے !
Ayahs 55:29–30

یَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ Open ayah 55:29 in the Quran reader

اسی سے مانگتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ وہ ہر وقت ایک نئی شان میں ہے

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:30 in the Quran reader

تو تم رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔

(یسئلہ من فی السموات والارض کل یوم ھو فی شان فبای الاء ربکما تکذبین) (29۔ 30)۔ (حقیقی مرجع اللہ ہی ہے)۔ یعنی سب کا مرجع حقیقی وہی ہے۔ جو بھی پاتا ہے اسی کا دیا ہوا پاتا ہے۔ لفظ ’ سوال ‘ یہاں اپنے ثمر اور نتیجہ کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی ہر مانگنے والا چونکہ پاتا اسی سے ہے اس وجہ سے خواہ کسی سے مانگے لیکن حقیقت کے اعتبار سے اسی سے مانگتا ہے۔ دوسروں سے اس کا مانگنا بالکل بےسود اور لا حاصل ہے۔ کوئی دوسرا نہ کچھ دے سکتا نہ کچھ لے سکتا۔ اس وجہ سے کسی اور کو مولیٰ و مرجع سمجھ کر اس کے آگے اپنی التجاء درخواست پیش کرنا محض سفاہت ہے۔ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے خدا ہی کا دیا ہوا ملتا ہے اور آخرت میں بھی جو کچھ ملے گا اسی کا دیا ہوا ملے گا۔ یہ لفظ امتیاج کے معنی میں بھی آتا ہے۔ (مثلاً سورة حم السجدہٗ میں ہے) سواء للسائلین (10) (تمام ضرورت مندوں کے لیے یکساں) یہ معنی لیے جائیں تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کے محتاج ہیں۔ (کائنات کا سارا انتظام اللہ کے ہاتھ میں ہے)۔ (کل یوم ھو فی شان) یعنی اس مغالطہ میں نہ رہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کر کے اس کا انتظام و انصرام تمہارے فرضی دیویوں، دیوتائوں کے سپرد کردیا ہے اور خود بالکل معطل ہو کر کسی گوشہ تنہائی میں جا بیٹھا ہے۔ جو لوگ اس مغالطہ میں ہیں وہ خدا کی شانوں سے بالکل بیخبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی اس کائنات کا سارا انتظام خود سنبھالے ہوئے ہے۔ وہی آسمانوں میں سورج اور چاند کو حرکت دیتا ہے اور وہی زمین میں اپنے بندوں کی ضروریات پوری کرتا ہے اس وجہ سے اس کا ہر لمحہ کسی نہ کسی کام میں ہے۔ ’ یوم ‘ یہاں وقت کے مفہوم میں ہے اور قرآن میں یہ لفظ اس مفہوم میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالٰ اس دنیا کا انتظام خود سنبھالے ہوئے ہے تو کسی اور وسیلہ وواسطہ کی ضرورت کہاں باقی رہی ؟ پھر تو جس کو جو کچھ مانگنا ہو اسی سے مانگے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی گوشہ مغلوت میں نہیں بیٹھا ہوا ہے بلکہ وہ ہر وقت اپنی دنیا کے انتظام و انصرام میں لگا ہوا ہے اور اس کی شانیں اس کائنات کے گوشہ گوشہ سے نمایاں ہیں تو اس کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے۔
Ayahs 55:31–32

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ Open ayah 55:31 in the Quran reader

(ہم تمہارے لیے فارغ ہی ہو رہے ہیں ،

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:32 in the Quran reader

اے دونوں جتھو ! تو تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے !

2۔ آگے آیات 31۔ 45 کا مضمون آگے اس دن کی تصویر آرہی ہے جس سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ (آیات 31۔ 45) 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔ (سنفرع لکم ایہ الثقلن فبای الاء ربکما تکذبن) (31۔ 32) (جزاء و سزا کی وعید)۔ ثقلن سے مراد جن و انس، دونوں من حیث الجماعت ہیں۔ جماعتی حیثیت میں چونکہ دونوں بھاری بھر کم بن جاتے ہیں اس وجہ سے ’ ثقلن ‘ کا لفظ استعمال ہوا۔ اس لفظ استعمال ہوا۔ اس لفظ کے استعمال سے اس چیلنج کی منگنی واضح ہوتی ہے جو اس آیت میں جنوں اور انسانوں دونوں گروہوں کو ہیک وقت دیا گیا ہے۔ مطلب یہ نکلا کہ خواہ تم کتنے ہی بھاری لشکر ہو لیکن اللہ جل شانہٗ تم سے تنہا نمٹنے کے لیے عنقریب فارغ ہوا چاہتا ہے۔ فارغ ہونے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ ابھی تو اس دنیا کا کارنامہ چل رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اپنی مدت پوری کرے لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب یہ مدت پوری ہوجائے گی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اس دنیا کے نظم و نسق سے بالکل فارغ ہو کر بندوں کے حساب کتاب کی طرف متوجہ ہوگا اور ایک ایک کا حساب کر کے جس کو جس جزا یا سزا کا سزا اور پائے گا اس کو وہ دے گا۔ اس اسلوب بیان سے یہ مضمون بھی نکلا کہ یہ کام اللہ تعالیٰ سرسری طور پر نہیں بلکہ پوری یکسوئی سے کرے گا۔ اس لیے کہ یہی کام در حقیقت اس دنیا کے پیدا کرنے کی اصل غایت ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو یہ دنیا بالکل بےمقصد بن کے رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے۔ یہاں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس دنیا میں جو واضح دلیلیں تمہارے سامنے جزاء و سزا کے حق ہونے کی پیش کی گئیں وہ تو تم نے رد کردیں لیکن اس وقت کیا کرو گے جب دیکھو گے کہ فی الواقع روز حساب آگیا اور اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگئی ؟ کیا اس وقت بھی جھٹلائو گے ؟ اگر جھٹلائو گے تو آخر اپنے رب کی کتنی نشانیوں کو جھٹلائو گے ؟
Ayahs 55:33–34

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْا١ؕ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ Open ayah 55:33 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ، اگر تم یہ کرسکو کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے اطراف سے تو نکل بھاگو، تم پروانہ راہداری کے بدون نہیں نکل سکو گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:34 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن اختیارات کو جھٹلائو گے !

(یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوامن اقطار السموات والارض فانفذوا لا تفذون الا بسلطن فبای الاء ربکما تکذبین) (33۔ 34) (کوئی چیز خدا کی گرفت سے باہر نہیں ہے)۔ یعنی اگر تمہارا گمان ہے کہ تم بالکل غیر مسئول اور مطلق العنان ہو تو ذرا اللہ کے بنائے ہوئے آسمانوں اور اس کی پیدا کی ہوئی زمین کے حدود سے باہر نکل کر دکھائو تاکہ ثابت ہوجائے کہ تم اس کی گرفت سے آزاد ہو یا ہو سکتے ہو)۔ (لا تنفذون الا بسلطن) لفظ سلطن اختیار و اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے اور سند کے معنی میں بھی۔ یہاں یہ اس دوسرے معنی میں ہے۔ یعنی تم لاکھ چاہو لیکن آسمانوں اور زمین کے حدود سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمہارے پاس پاسپورٹ ہو اور یہ چیز ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمہیں نہیں دے سکتا۔ آگے آیت ترجیح ہے۔ یہاں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تمہاری بےاختیاری و بےبسی کی یہ دلیل بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئی تو آخر اپنے رب کی کن کن قدرتوں اور شانوں کو جھٹلاتے رہو گے۔
Ayahs 55:35–36

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ١ۙ۬ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ Open ayah 55:35 in the Quran reader

تم پر مارے جائیں گے آگ کے شعلے اور تانبے تو تم اپنا بچائو نہ کر پائو گے۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:36 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے !)

(یرسل علیکما شواظ من نار ونحاس فلا تنتصران فبای الا ربکما تکذبن) (35۔ 36) (یعنی اگر تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کے مقرر حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اس پر آگ کے شعلوں اور پگھلے ہوئے تانبے کی مار پڑے گی اور وہ ایسی بےپناہ ہوگی کہ تم میں سے کوئی بھی اس سے اپنا بچائو نہیں کرسکے گا۔) (شواظ من نار) سے مراد شہاب ثاقب ہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں تصریح ہے کہ یہ ان شیاطین جن پر پھینکے جاتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کے حدود میں دراندازی اور غیب کی باتوں کی ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن میں خود جنوں کی زبان سے اس امر واقعی کا اعتراف یوں نقل ہوا ہے (۔۔۔۔۔ الجن : 12۔۔) (اور ہم نے اچھی طرح اندازہ کرلیا ہے کہ نہ ہم زمین میں چھپ کر اللہ کی گرفت سے بچ سکتے ہیں نہ آسمانوں میں بھاگ کر اس سے نکل سکتے)۔ (مفسرین کی ایک غلط فہمی)۔ نحاس کے معنی عام طور پر ہمارے مفسرین و مترجمین نے دھوئیں کے لیے ہیں لیکن یہ لفظ اس معنی میں معروف نہیں ہے۔ بعض اہل لغت نے اگرچہ ایک شاذ معنی کی حیثیت سے اس کا ذکر کیا ہے اور بالغہ کے ایک شعور کا بھی حوالہ دیا ہے لیکن اول تو وہ شعر محل نظر ہے دوسرے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ دھوئیں کے لیے معروف لفظ ’ دخاز ‘ چھوڑ کر، جو قرآن میں بھی استعمال ہوا ہے، ایک غیر معروف لفظ لانے کی وجہ کیا ہے جب کہ قرآن عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ اس وجہ سے ہم کو ’ نحاس ‘ کے یہ معنی قبول کرنے میں تردد ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اپنے معروف معنی ہی میں استعمال ہوا ہے اور یہ انہی شہادتوں کی ایک قسم ہے جن کا ذکر (شواط من نار) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سائنس کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بیشتر شہا بیے تو گرتے ہی فضا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے غلزآتی اور حجری گونوں کی شکل میں گرتے ہیں لیکن اشیاء کی حر کی توانائی (Kinetic Energy) غلاف جوی میں داخل ہوتے ہی زیادہ تر حرارت میں تبدیل ہوجاتی ہے جس سے شہاب پگھل کر آگ کے گولوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور زمین کی طرف گرنے کے دوران ان کا فلزاتی اور حجری مادہ بڑی حد تک ضائع ہوجاتا یا عمل تجیرا سے غباء کی شکل میں تبدیل کردیتا ہے۔ تاہم جو شہاب زمین پر پائے گئے ہیں ان کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1۔ فلزاتی شہاب (Siderites) 2۔ حجری شہاب (Aerolites) 3۔ حجری، فلزاقی شہاب (Siderolgtes) ان شہادبوں کے اندر جس طرح لوہے اور پتھر کے اجزاء پائے گئے ہیں اسی طرح تحقیق سے ان کے اندر کانسی اور تانبے کے اجزاء بھی پائے گئے ہیں جس کا آیت زیر بحث میں نحاس کے لفظ سے ذکر آیا ہے۔ یہ فلزاتی اجزاء زیادہ تر شدت حرارت سے تحلیل ہوجانے والے ہیں تاہم زمین پر گرنے والوں شہابوں میں ان کا پایا جانا قرآن کی بات کی تصدیق کرتا ہے۔
Ayahs 55:37–38

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ Open ayah 55:37 in the Quran reader

پس یاد رکھو اس وقت کو جب آسمان پھٹ کر کھال کی مانند سرخ ہوجائے گا

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:38 in the Quran reader

تو تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کو جھٹلائو گے !

(فاذا انشقت السماء فکانت وردۃ کا لدھان فبای الاء ربکما تکذبن) (37۔ 38)۔۔۔ (شہابوں سے متعلق یہ تحقیق انسائیکلو پیڈیا برٹیا نیکا میں فہرست شھب (Gatalogue of Meteorites) کے مصنف (Max hohey) کے مضمون ’ شہاب ثاقب ‘ سے مآخوذ ہے۔ (دھان کے معنی) دھان کے معنی لوگوں کے تلچھٹ کے بھی لیے ہیں لیکن یہ لفظ کھال کے معنی میں بھی معروف ہے۔ سرخی کی تشبیہ کے لیے کھال زیادہ موزوں ہے اس وجہ سے ہم نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ دوسرے مقام میں (واذا السماء لشطت) (التکویر : 88) بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں جب کہ آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ یعنی جس طرح کھال کھینچ لینے کے بعد جسم کا گوشت سرخ سرخ نظر آتا ہے اسی طرح آسمان بھی سرخ نظر آئے گا۔ یہاں اس کی سرخی کو سرخ کھال سے تشبیہ دی ہے اور یہ تشبیہ نہایت موزوں ہے۔ یہ روز قیامت کے ظہور کی تصویر ہے کہ آج تو تم بڑی ڈھٹائی سے قیامت کا انکار کر رہے ہو لیکن وہ دن بھی آنے والا ہے جب آسمان شق ہوجائے گا اور یہ نیلگوں چھت سرخ کھال کی طرح نظر آئے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت کیا کرو گے ؟ کیا اس وقت بھی انکار کرو گے ؟ آخر اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلائو گے، اس کے عجائبات قدرت تو یکے بعد دیگرے ظاہر ہی ہوتے رہیں گے۔