Ayah 54:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔۔۔۔۔ (قتربت الساعۃ وانشق القمر (1)
(رسول قوم کے لیے خدا کی عدالت ہوتا ہے)۔ الساعۃ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے جس سے قریش کو، یوں تو اس گروپ کی تمام ہی سورتوں میں آگاہ کیا گیا ہے لیکن سابق سورة میں خاص اہتمام کے ساتھ ان کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ (ازفت الازفۃ) (57) یہ قریب آنے والی قریب آ لگی ہے۔ اس کو بہت دور نہ سمجھو، جاگو اور اٹھو اور اس سے بچنے کی واحد تدبیر پہ، جو تمہیں سمجھائی جا رہی ہے، عمل کر کے اپنے کو اس کی آفتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اس عذاب سے جو اس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے اگر وہ رسول کے انداز کو خاطر میں نہیں لاتی بلکہ اس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ ان دونوں عذابوں میں فرق صرف آغازو تکمیل و تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے وہ در حقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے اس وجہ سے لفظ اساعۃ بسا اوقات ان دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آگیا اس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آگئی۔ گویا (اقتربت الساعۃ) کا اسلوب بیان مبالغہ کا اسلوب نہیں بلکہ یکسر بیان حقیقت ہے۔
(ظہور عذاب کی ایک نشانی)۔ (وانشق القمر)۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے جس سے رسول کے انداز اور اس کے دعوائے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن میں اس سنت الٰہی کا ذکر جگہ جگہ ہوا ہے ہم ایک آیت بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ فرمایا ہے۔ (سر یھم ایتنا فی الافاق و فی انفسھم) (حم السجدۃ : 53) (ہم عنقریب ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں اس کائنات میں بھی اور خود ان کے اندر بھی) ان نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انداز کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے اس کی تائید کے آثار و شواہد اس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہوجائے۔ اسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ ﷺ کے انداز کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ قرآن ان کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضاء میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہوجائے گا۔ یہ باتیں ان کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہ حقائق ہیں جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہے، ان کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔
اس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے ان کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو بلکہ ان کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو جو ظاہر ہوئی بلکہ ان کی طرف سے کسی مطالبہ کے بغیر محض اس لیے بھی ان کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا ان کا جواب مل جائے، کفار قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہوجائے۔ پہاڑوں سے متعلق ان کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیر متزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر ان کو بتایا کہ اس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا ان سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔
(ایک سوال کا جواب)۔ رہا یہ سوال کہ اس طرح کا کوئی واقعہ نبی ﷺ کے عہد میں پیش آیا بھی ہے تو کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ سے، یہی بات نکلتی ہے کہ یہ پیش آیا اور حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ صورت واقعہ کے بارے میں تو حدیثیں ضرور مختلف ہیں لیکن نفس واقعہ کے بارے میں کوئی اختلاف منقول نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قیامت کے دن پیش آنے والے واقعہ کی خبر ہے۔ جس کو ماضی کے صیغہ سے اس کی قطعیت کے اظہار کے لیے بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ یہ قول اگرچہ اگلوں میں سے بھی بعض لوگوں سے نقل ہوا ہے اور اس نے زمانے میں بھی اس کو ایک گروہ کے اندر حسن قبول حاصل ہے لیکن سیاق کلام اس سے اباء کرتا ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ قیامت میں پیش آنے والے واقعات قرآن میں ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں لیکن یہاں یہ معنی لیے جائیں تو کلام آگے والی بات سے بےجوڑ ہوجاتا ہے۔ آگے فرمایا گیا ہے کہ یہ کوئی سی نشانی بھی دیکھیں گے تو اس سے اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے کہ اس میں کوئی خاص ندرت نہیں، یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ غور کیجئے کہ چاند کے پھٹنے کا تعلق قیامت سے ہوتا تو اس کے بعد یہ بات کہنے کا محل تھا ؟ قیامت کے دن تو کٹر سے کٹر منکر بھی کسی چیز کو جادو نہ کہہ سکے گا بلکہ سب اعتراف کریں گے کہ رسولوں نے جو خبر دی وہ حرف حرف سچی نکلی، چناچہ آگے بیان بھی ہوا ہے کہ (یقول الکفرون ھذا یوم عسر) (8) (اس دن کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا ہی کٹھن دن آگیا)۔
یہ شبہ صحیح نہیں ہے کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی اس کا ذکر ہوتا۔ ہماری زمین دوسرے کردں میں اس طرح کی شکست و ریخت اور ان کے ٹکڑوں کے درمیان انفصال و اتصال کے کتنے واقعات ہیں جو آئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن پہلے زمانے میں ان کا مشاہدہ ایک خاص دائرہ ہی کے اندر محدود رہتا تھا۔ ہمارے زمانے میں اس طرح کے تغیرات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارے اور صد گاہیں وجود میں آگئی ہیں اس وجہ سے کوئی واقعہ ظہور میں آتا ہے تو اس کی تحقیق کے لیے فوراً ساری دنیا کے تحقیقاتی ادارے بھاگ دوڑ شروع کردیتے ہیں اور برق کی رفتار سے اس کی اطلاع دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ جاتی ہے۔ پہلے تحقیق و اطلاع کے یہ وسائل موجود نہیں تھے۔ اس وجہ سے اس کی خبر ایک خاص دائرے ہی میں محدود رہ گئی۔ لیکن یہ دائرہ نہایت ثقہ لوگوں کا ہے اس وجہ سے نفس واقعہ کی تکذیب کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کل کو سائنس دانوں کے لیے چاند کی تحقیق کی وسیع راہیں کھل جائیں اور علمی تحقیقات سے ثابت ہوجائے کہ چاند کا فلاں حصہ فلاں حصہ سے مربوط تھا لیکن اتنے سو سال پہلے وہ الگ ہو کر فلاں حصے سے جا ملا۔ اس طرح کے کتنے انکشافات ہیں جو ہمارے کرہ زمین سے متعلق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور لوگ ان کو باور کررہے ہیں تو آخر چاند سے متعلق قرآن کی اس خبر پر تعجب کی کیا وجہ ہے ؟ سائنس نے اگر ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے تو یہ اس کی نار سائی کی دلیل ہے۔ انتظامیہ اور صبر کیجئے، شاید مستقبل میں وہ بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہوجائے۔
Ayah 54:2(وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولو سحر مستمر) (2)
(پیغمبر ﷺ کو تسلی)۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مکذبین کو ملامت ہے کہ ان لوگوں کی تکذیب کی اصل علت یہ نہیں ہے کہ ان کی نشانی نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ نشانیاں تو قدم قدم پر موجود ہیں اور آئے دن ان کو نئی نئی نشانیاں بھی دکھائی جا رہی ہیں لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ جزا و سزا کو ماننا نہیں چاہتے ات وجہ سے کسی بڑی سے بڑی نشانی سے بھی سبق نہیں لیتے۔ اگر پیغمبر ﷺ نے ان کو شق قمر سے بھی بڑی کوئی نشانی دکھادی تو اس کا بھی یہ جادو کو کرشمہ قرار دے کر نظر انداز کردیں گے۔
(متمر کا مفہوم)۔ سحر کے ساتھ مستمر کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ وہ اس نشانی کو صرف جادو ہی نہیں کہیں گے بلکہ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لیے یہ بھی کہیں گے کہ جادو ہونے کے اعتبار سے بھی اس میں کوئی ایسی ندرت و جدت نہیں ہے کہ اس کو کوئی خاص اہمیت دی جائے بلکہ یہ اسی قسم کا جادو ہے جس قسم کے جادو پچھلے جادوگروں نے دکھائے اور سکھائے اور جو برابر منتقل ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ اس نشانی کی وجہ سے ان کو خدا کا نذیر ماننا تودر کنار کوئی غیر معمولی جادوگر سمجھنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے مستمر کے معنی فانی کے لیے ہیں لیکن اس معنی میں اس کا استعمال میرے علم میں نہیں ہے۔
Ayah 54:3(وکذبوا واتبعوا اھواء ھم و کل امر مستقر) (3)
(کفار کو ڈھیل دینے کی حکمت)۔ یہ ان کی تکذیب، سبب تکذیب اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ انہوں نے (یعنی قریش نے) خدا کے نذیر اور اس کے انداز کی تکذیب کردی اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے سبب سے وہ سنت الٰہی کے سابق عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر کام ایک معین پروگرام کے مطابق ہوتا ہے۔ جب ان کی اجل معین پوری ہوجائے گی تو پکڑ لیے جائیں گے۔ یعنی ان کو جو ڈھیل مل رہی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ پیغمبر ﷺ کا انداز محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کر رکھا ہے تاہم وہ بالکل قریب آگیا ہے۔
(تکذیب کی علت)۔ کذابو کے بعد (واتبو اھوا ھم) کے الفاظ سے ان کی تکذیب کی علت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ انہوں نے رسول کے انداز کو جو تکذیب کی ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس اس تکذیب کی کچھ دلیلیں ہیں یا فی الواقع کچھ شبہات ہیں جو ابھی صاف نہیں ہوئے ہیں یا ان کو کوئی ایسی نشانی نہیں دکھائی گئی ہے جو ان کو مطمئن کر دے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے غلام ہیں۔ اگر وہ جزاء و سزا کو مان لیں تو اپنی ان خواہشوں سے انہیں دست بردار ہونا پڑتا ہے جس کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے اس وجہ سے وہ مختلف قسم کی باتیں بنا رہے ہیں۔ یہ مضمون سورة نجم کی آیت 29 کے تحت وضاحت سے گزر چکا ہے۔
Ayah 54:4(ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزد جز) (4)
(عاقل دوہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے)۔ یہ اسی اوپر والی بات ہی کی وضاحت ہے کہ اگر ان پر ابھی عذاب نہیں آیا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی جو سر گزشتیں سنائی گئی ہیں اگر وہ غور کریں تو ان کے اندرکافی سامان عبرت موجود ہے۔ ان سرگزشتوں سے انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس قوم نے بھی رسول کے انداز کی تکذیب کی بالآخر عذاب الٰہی کی گرفت میں آگئی۔ تاخیر عذاب سے وہ قومیں بھی انہی کی طرح اس مغالطے میں مبتلا ہوئیں کہ پیغمبر کی دھمکی محض خالی خولی دھمکی ہے لیکن وہ بالکل سچی ثابت ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے حق میں بہتر ہے کہ تاریخ سے سبق لیں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ جب سب کچھ ان کے اپنے سروں پر سے گزر جائے گا تب مانیں گے۔ اس وقت کا اعتراف نہ پہلوں کے لیے مفید ہوا ہے نہ ان کے لیے مفید ہوگا۔
قوموں کی یہ گر گزشتیں پچھلی صورتوں میں بھی اجمالاً و تفصیلاً گزر چکی ہیں اور اس سورة میں بھی آیت 9 سے وہ آرہی ہیں۔ وہاں آپ دیکھیں گے ہر سر گزشت کے بعد (فکیف کان عذابی ونذر) کی آیت بار بار آئی ہے تاکہ مخاطب پر واضح کردیا جائے کہ رسول کے انداز کی صداقت یوں ثابت ہو کے رہتی ہیں اور اس کو جھٹلانے والے یوں عذاب میں پکڑے جاتے ہیں۔
Ayah 54:5(حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر) (5) یعنی ان سرگزشتوں کے اندر نہایت دل نشین حکمت موجود ہے، مگر دیکھ لو یہ تنبیہات کیا نفع دے رہی ہیں ! ’ ما ‘ نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ بھی ؟ لیکن استفہامیہ میں زیادہ زور بھی ہے اور موقع کلام سے زیادہ مناسبت بھی۔
Ayah 54:6(فتول عنھم یوم یدع الداع الی شی نکیر) (6)
(نبی ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت)۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی آمیز ہدایت ہے کہ ایسے اندھوں کی آنکھوں کی پٹی کھولنا اور ان کو راہ دکھانا تمہارے بس میں نہیں۔ اب تم ان سے اعراض کرو اور اس دن کا انتظار کرو جس دن اسرافیل صور پھونکیں گے اور یہ قیامت کے عذاب کی طرف پکارے جائیں گے۔ ’ تول ‘ یہاں ’ انتظر ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ یہی مضمون دوسری آیت میں یوں آیا ہے۔ (واستمع یوم ینا دالمنا من مکان قریب) (ق : 41) (اور کان لگائو اس دن کی پکار کے لیے جس دن پکارنے والا نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا) ’ نکر ‘ سے اشارہ ہوں قیامت کی طرف ہے۔ اس کی ہولناکی کی شدت ظاہر کرنے کے لیے ابہام کا اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یعنی آج تو ان کو اس دن کے لیے تیاری کی جو دعوت دی جا رہی ہے اس کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں، لیکن جلد وہ وقت آ رہا ہے کہ ایک داعی اسی ہولناک چیز کی طرف پکارے گا اور سب اس کی طرف نہایت فرمانبرداری دخشیت کے ساتھ بھاگیں گے۔
(صور کے بعد قبروں سے نکلنے کی تصویر)۔ یعنی آج تو اللہ کا رسول ان کو اس دن کے ہول سے بچنے کے لئے تیاری کی دعوت دے رہا ہے تو یہ اس سے اکڑتے ہوئے اعراض کر رہے ہیں لیکن جب روز قیامت کا دعی پکارے گا تو یہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے جس طرح ٹڈی دل نکلتا یہ اور ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کی نگاہیں ذلت سے جھکی ہوئی ہوں گی اور داعی کی طرف نہایت تیزی سے بھاگ رہے ہوں گے۔
Ayahs 54:7–8(خشعاً) اور (مھطعین) دونوں حال ہیں (گا نھم جراد منتشر) نفخ صور کے بعد لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تمثیل ہے۔ برسات میں کبھی سر شام پتنگوں کو زمین سے ابھرتے دیکھاہو گا۔ معلوم ہوتا ہے زمین سے پتنگوں کا طوفان ابل پڑا ہے۔ یہی صورت ٹڈیوں کے ابھرنے کی بھی ہوتی ہے اور یہی شکل لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ شانیں دکھائی ہیں اس لیے ہیں کہ انسان کو قیامت کی یاددہانی زمین و آسمان کے گوشے گوشے سے برابر ہوتی رہے۔ (یقول الکفرون ھذا یوم عشر) یعنی آج تو جب اللہ کا رسول ان لوگوں کو اسدن کے ہول سے ڈراتا ہے تو ان کو ہر چیزانہونی اور ناممکن نظر آتی ہے اور نہایت ڈھٹائی سے اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب وہ دن سامنے آجائے گا تو نہایت حسرت و یاس کے ساتھ پکار اٹھیں گے کہ لاریب وہ کٹھن زدن آگیا جس سے نبیوں اور رسولوں نے آگاہ کیا تھا !
Ayah 54:92۔ آگے آیات 9۔ 17 کا مضمون
اوپر آیت 4 (ولقد جاء ھم من الانباء ما فیہ مزدجو) میں قریش کو یہ تنبیہ جو فرمائی گئی ہے کہ آخر یہ لوگ عذاب دیکھنے ہی کے لیے کیوں مچلے ہوئے ہیں، ان کو پچھلی قوموں کی جو تاریخ سنائی گئی ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے ! ! اس کی وضاحت کے لیے آگے رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سنائی جا رہی ہے کہ تمہاری ہی طرح ان قوموں نے بھی اپنے رسولوں کے انداز کا مذاق اڑایا۔ بالآخر وہ اس عذاب کی گرفت میں آگئیں جس سے اللہ کے رسول نے ان کو ڈرایا تو بہتر ہے کہ ان قوموں کی تقلید کر کے اپنی شامت کو دعوت نہ دو بلکہ اللہ نے اپے فضل خاص سے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس سے یاددہانی حاصل کرو۔ یہ کتاب مقصد تعلیم و تذکیر کے لیے ہر پہلو سے آراستہ و پیراستہ ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(کذبت قبلھم قوم نوح فکذبوا عبدنا وقالوا مجنون واز دجر) (9)
(قوم نوح کے انجام کی طرف اشارہ) ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ آیت 4 میں قوموں کی تاریخ کی طرف جو اجمالی اشارہ فرمایا ہے یہ اسی کی تفصیل ہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کی قوم کے واقعہ کو لیا ہے اس لیے کہ یہاں بیان واقعات کی تربیت تاریخی ہے۔ فرمایا کہ ان سے (یعنی قریش سے) پہلے قوم نوح بھی اللہ کے رسول کے انداز کی تکذیب کرچکی ہے۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تنہا تمہی کو اپنی قوم کی طرف سے تکذیب سے دو چار نہیں ہونا پڑا ہے۔ ان مکذبین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان سے پہلے قوم نوح بھی اپنے پیغمبر کی تکذیب کرچکی ہے اور دوسری قومیں بھی جن کی تفصیل آ گے آرہی ہے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کرتی آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تاریخ کی ایک پرانی اور معروف حکایت ہے جو کچھ اگلے رسولوں کو پیش آیا ہے اس سے تمہیں بھی سابقہ پیش آئے گا اور تکذیب کے جس انجام سے دوسری قومیں دو چار ہوئی ہیں اسی سے تمہاری قوم بھی دو چار ہوگی اگر اس نے انہی قوموں کی تقلید کی۔
(فکذبوا عبدنا وقالوا مجنون وازدجر)تفصیل کے لیے ہے۔ واقعہ کا اجمالاً حوالہ دینے کے بعد اب یہ اس کی تفصیل سنائی جا رہی ہے کہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا، اس کو دیوان اور خطبی ٹھہرایا اور اس کو جھڑک دیا گیا۔ لفظ ’ عبدنا ‘ سے حضرت نوح ؑ کے لیے اللہ تعالیٰ کی جس محبت خاص کا اظہار ہو رہا ہے یہ محتاج بیان نہیں ہے۔ عزت و جاہ کے سرمستوں اور عیش دنیا کے متوالوں کو اللہ کے رسولوں نے جب عذاب دنیا اور عذاب آحرت سے ڈرایا اور اس طرح ڈرایا کہ اس کے لیے اپنے رات دن ایک کردیئے تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آخر ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آجائے گا ؟ اگر وہ سزا وار عذاب ہیں تو انہیں جو دولت و عزت حاصل ہے وہ کیوں حاصل ہوئی ؟ یہ عزت شوکت تو دلیل ہے کہ وہ خدا کی نظروں ک میں معزز ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی اسی طرح معزز رہیں گے جس طرح یہاں ہیں۔ اس مغالطہ میں پڑ کر وہ رسول کے ہر وقت کے انداز عذاب سے اس درجہ برا فروختہ ہوئے کہ اس کو انہوں نے دیوانہ اور خطبی کہنا شروع کردیا کہ اس شخص کو عذاب اور قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے اس کو ہر طرف سے عذاب ہی آتا دکھائی دیتا ہے یہ کہہ کر وہ اپنے دل کا غصہ بھی نکال لیتے اور اپنے عوام کو بھی اطمینان دلانے کی کوشش کرتے کہ رسول کے انداز سے وہ متاثر نہ ہوں۔ یہ کوئی رسول نہیں بلکہ ایک خبطی ہے جو ہر وقت عذاب عذاب کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ (وازدجر) سے اشارہ قوم نوح کی ان دھمکیوں کی طرف ہے جو حضرت نوح ؑ کو سنگسار کردینے کی دی گئیں۔ مثلاً سورة شعراء میں آیا ہے (قالو الئن تم تنتہ یتوح لتکونن من المرجومین) (116) (انہوں نے دھمکایا کہ اے نوح، اگر تم اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو سنگسار کیے ہوئے لوگوں میں ہو کے رہو گے !)
Ayah 54:10(فدعاربہ انی مغلوب فانتصر) (10) جب قوم کی عداوت اس حد کو پہنچ گئی کہ حضرت نوح ؑ کو سنگ سار کردینے کی دھمکی دی گئی تب انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی کہ اے رب ! میرے اندر جتنا زور تھا وہ میں نے ان کو رام کرنے پر صرف کردیا لیکن میں اپنی کوشش میں ناکام رہا۔ اب میری طاقت جو اب دے چکی ہے اس وجہ سے تجھ سے فریاد ہے کہ تو ان سرکشوں سے نمٹ ! (انتصار) کے معنی مدافعت کرنے اور انتقام لینے کے ہیں۔ یعنی میری طرف سے مدافعت کر اور ان کی سر کشی کا انتقام لے۔ حضرت نوح ؑ کی اس دعا کی پوری تفصیل آگے سورة نوح میں آئے گی۔
Ayahs 54:11–12نفتحنا ابواب السماء بما منھمرہ و فجرنا الارض عیونا فالتقی مالماء علی امر قد قدرا (11۔ 12) (یہ اس سائیکلونی طوفان کی تصویر ہے جو حضرت نوح ؑ کی دعا کے بعد انکی قوم پر آیا۔ اس کی تفصیل سورة ذرایا کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ ان پر آسمان سے تمام دروازے کھول دیے اور زمین کو چشمے ہی چشمے کردیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی ظوفانی بارش جس کے لیے آسمان کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے ہوں تھوڑی ہی دیر میں زمین کو دریائوں، ندیوں اور نالوں کی شکل میں تبدیل کر دے گی۔ (فالتقی الماء علی امر قد قدر) یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نشان پانی کے بلند ہونے کے لیے ٹھہرا لیا گیا تھا اس نقطہ پر زمین اور آسمان کا پانی باہم جا ملا اور اس نے پوری قوم نوح کو اس طرح چھا لیا کہ کسی کے لیے بھی اس سے بچنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
Ayah 54:13(وحملنہ علی ذات الواح و رسر) (13)
(اصل محافظ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے)۔ (ذات الواح ودسر) سے مراد ظاہر ہے کہ وہ کشتی ہے جو حضرت نوح ؑ نے، اللہ تعالیٰ کی خاص ہدایت کے تحت بنائی۔ اس کا ذکر اس کے اجزائے تعمیر کی تفصیل کے ساتھ یہاں، میرے نزدیک، اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، عنایت، رحمت اور شان کے اظہار کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طوفان نے پوری قوم کی قوم کا بیڑا غرق کردیا۔ جس سے کوئی متنفس بھی نہ بچ سکا۔ اس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو بچانا چاہا ان کو میخوں سے جڑے ہوئے لکڑی کے تختوں پر بچا لیا۔ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہے، وہ شامل حال ہو تو لکڑی کے چند تختے طوفان نوح سے بچا لیتے ہیں اور وہ شامل حال نہ ہو تو بڑے سے بڑے جنگی جہاز چشم زدن میں بلبل کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور مضبوط سے مضبوط بند تنکوں کی طرح سیلاب کے زور میں بہہ جاتے ہیں۔
Ayah 54:14(تجری باعینتا جزاء لمن کان کفر (14) یعنی یہ کشتی چونکہ خاص ہماری حفاظت اور ہماری نگرانی میں تھی اس وجہ سے وہ بےخوف و خطر چلتی رہی، طوفان کے تھپیڑے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ کشتی اکیلے حضرت نوح ؑ کے پاس ہی تو نہیں تھی۔ دوسروں کے پاس بھی کشیاں رہی ہوں گی۔ لیکن ان کی کشتیاں ان کے کچھ کام نہ آسکیں اس لئے کہ ان کو خدا کی حفاظت حاصل نہیں تھی۔ (جزاء لمن کان کفر) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ شان اپنی اس لیے دکھائی کہ اپنے اس بندے کی داد رسی فرمائے جس کی نا شکری اور ناقدری کی گئی، یہاں تک کہ اس کو مضطر ہو کہ (انی مغلوب فانتصر) (10) کی فریاد کرنی پڑی۔
Ayah 54:15(ولقد ترکنھا ایہ فھل من مد کر (15)
(نشانیاں بہت ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے تھوڑے ہیں)۔ ضمیر مفعول کا مرجع وہ سر زمین بھی ہو سکتی ہے جس کا ذکر اوپر (فجزنا الارض عیونا) (13) کے الفاظ سے ہوچکا ہے اور قوم نوح کی یہ سر گزشت بھی ہو سکتی ہے جس کی تفصیل تورات کے صحیفوں میں بھی نقل ہوئی ہے۔ اور جس کو ہر دور میں تواتر عام کی حیثیت بھی حاصل رہی ہے۔ عربی زبان میں ضمیروں کا اس طرح استعمال ایک معروف چیز ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں ہم پیش کرچکے ہیں اور آگے بھی آئیں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے کشتی نوح کے ڈھانچے کو مراد لیا ہے جس کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس امت کے بعض اگلوں نے کوہ جودی کے کسی حصہ میں اس کو دیکھا تھا۔ لیکن اس روایت کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سورة حاقہ کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔ (فھل من مد کر) یعنی نشانیاں اور عبرت انگیز واقعات تو بہت ہیں جو صحیفہ و ارض پر بھی ثبت ہیں اور تاریخ کے اوراق میں بھی محفوظ ہیں لیکن عبرت حاصل کرنے والے دل کہاں ہیں !
Ayah 54:16(فکیف کان عذا بی ونذ) (61) نذر اصل میں نذری ہے۔ ’ ی ‘ قافیہ کی رعایت سے گر گئی۔ کسرہ اس کی نشانی کے طور پر باقی رہ گیا ہے۔ نذر یہاں انداز سے اسم ہے اور اس کے معنی ڈراوے، تنبیہ اور آگاہی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس سننے والے کان اور عبرت پکڑتے والا دل ہو تو وہ اس سر گزشت میں دیکھ سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب کیسا بےپناہ ہوتا ہے اور اس کی دھمکی کس طرح پوری ہوتی ہے۔
Ayah 54:17(ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مد کر) (17) یہ آیت ہر سر گزشت کے بعد، ٹیپ کے بند کے طور، بار بار آئے گی۔ اس کا مطلب اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے تاکہ ہر جگہ وضاحت کی ضرورت پیش نہ آئے۔
(تیسیر اور ذکر کا مفہوم)۔ اس آیت کا مطلب عام طور پر لوگوں نے یہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو حفظ کرنے یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے نہایت آسان کتاب بنایا ہے۔ یہ بات اگرچہ بجائے خود صحیح ہے کہ قرآن حفظ کرنے کے لیے بھی آسان ہے اور نصیحت حاصل کرنے کے لیے بھی سہل ہے لیکن آیت کا مفہوم اس سے بہت وسیع ہے۔ لفظ تیسیر عربی میں کسی چیز کو کیل کانٹے سے درست کرنے، پیش نظر مقصد کے لیے اس کو اچھی طرح موزوں بنانے اور جملہ لوازم سے اس کو آراستہ و پیرا ستہ کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً (یسرالفرس للرکوب) کے معنی ہوں گے گھوڑے کو تربیت دے کر اس کو کھلا پا کر زین، لگام، رکاب سے آراستہ کر کے سواری کے لیے بالکل ٹھیک ٹھاک کردیا۔ یہیں سے یہ لفظ کسی شخص کو کسی مہم کے لیے تیار اور جملہ لوازم سے مسلح کر کے اس کو اس کا اہل بنا دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایک جاہل شاعر کہتا ہے۔ (ونعین فاعلنا اذا مانا یہ۔۔۔۔ حتی نیسرہ لفعل السید)۔ (اور جب ہمارے سربراہ کار کو کوئی مہم پیش آتی ہے تو ہم اس کی مدد کرتے ہیں یہاں تک کہ سرداروں کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کی راہ اس کے لیے ہموار کردیتے ہیں)
لفظ ذکر بھی یہاں وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی تعلیم، تذکیر، آگاہی، تنبیہ، نصیحت، موعظت، حصول عبرت اور اتمام حجت سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ ان تمام مفہوموں میں یہ لفظ قرآن میں بھی آیا ہے۔ یہ حقیقت بھی یہاں پیش نظر رہے کہ قرآن مجید ہمارے اوپر کوئی چیز خارج سے نہیں لا دتا بلکہ ہماری ہی فطرت اور ہماری ہی عقل کے اندر اللہ تعالیٰ نے علم و معرفت کے جو خزانے و دیعت فرمائے ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں، انہی کو ہمارے سامنے اجاگر کرتا اور اس سے بہرہ مند ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کا صحیح مفہوم سمجھ لینے کے بعد اب آیت کے موقع و محل اور اس کے مفہوم پر غور فرمایئے اور یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں وہ ایک امر شدنی ہے۔ آفاق وانفس سب سے اس کے گواہ ہیں۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ اس کی شاہد ہے لیکن تم مچلے ہوئے ہو کہ جب اس عذاب کی نشانی دیکھ لو گے تب مانو گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے قرآن اتارا ہے جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے جملہ لوازم سے آراستہ و مسلح ہے تو آخر اس عظیم نعمت سے کیوں فائدہ نہیں اٹھاتے، عذاب کے تازیانے ہی کے لیے کیوں بےقرار ہو ! !
4۔ تیسیرا قرآن کے چند پہلو
تیسیر قرآن ا کے مختلف پہلوئوں پر ہم اپنی کتاب ”مبادیٔ تدبر قرآن، میں مفصل بحث کرچکے ہیں۔ یہاں ان کے اعادے کی گنجائش نہیں ہے کہ لیکن آیت کے تعلق سے چند ضروری باتوں کی طرف ہم یہاں بھی ارشاد کریں گے تاگ کہ ان لوگوں کی غلط فہمی رفع ہو جو اس آیت سے استدال کرتے ہیں کہ قرآن ایک سہل اور سپاٹ کتاب ہے جو صرف حفظ وتلاوت کے لئے نازل ہوئی ہے، اس کے سمجھنے کے لئے کسی تفکر وتدبتر کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے زعم میں ہر شخص جو الٹی سیدھی عربی سمجھ سکتا ہے وہ بےتکلف قرآن بھی سمجھ سکتا ہے۔ یہ غلط فہمی فہم قرآن کی راہ کو مسدود کردینے والی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ تیسیرِ قرآن کے جن پہلوئوں کی طرف خود اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ہم ان کو یہاں بالا جمال یکجا کردیں۔ ٭تیسیرِقرآن کا سب سے نمایاں پہلو جس کا قرآن نے بار بار حوالہ دیا ہے یہ ہے کہ وہ ’ عربی مبین ‘ میں نازل ہوا ہے، یعنی قرین کی فصیح وبلیغ ٹکسالی زبان ہیں جس میں کوئی کج پیچ نہیں ہے تاکہ اہل عرب اس کو خوبی سے سمجھ سکیں اور ان پر اللہ تعالییٰ کی محبت تمام ہوجائے۔٭دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے نجما ً نجما ً یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے باللہ ریج نازل فرمایا تاکہ نبی ﷺ اس کو بالتّدریج سنائیں اور سکھائیں اور لوگ اس کو بالتدریج سنیں سمجھیں اور اس کی تعلیمات اچھی طرح ہضم کریں۔ ”وقراناً فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلنہ تنزیلا“ (بنی اسرائیل : 106) اور قرآن کو ہم نے قسط قسط کر کے اتارا تاکہ تم لوگوں کو اس کی تعلیم ٹھہر ٹھہر کر دو)۔ اگر پورا قرآن بیک دفعہ جملۃ واحدۃ نازل کردیا جاتا۔ جیسا کہ کفار کا مطالبہ تھا ،۔ تو یہ چیز تیسرا قرآن کے منافی ہوتی۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کی تمام بنیادی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے الفاظ اور فقروں اور چھوٹی چھوٹی جامع اور محکم سو رتوں کی شکل میں نازل ہوئیں تاکہ لوگوں کے لئے ان کا اخذ کرنا، ان کو محفوظ رکھنا، ان پر عمل کرنا اور دوسروں تک ان کو پہنچانا آسان ہو۔ بعد میں جب لوگ مانوس ہوگئے تب اللہ تعالیٰ نے ان گٹھے ہوئے محکم فقروں کو ووضاحت فرمائی۔ کتب احکمت ایتہ ثم فصلت ‘ (ھود : 1) میں اسی تیسیر کی طرف اشارہ ہے۔ چوتھا پہلویہ ہے کہ قرآن میں ہر بات گو نا گوں پہلوئوں سے مختلف شکلوں، صورتوں، مختلف سوابق و لواحق اور نئے نئے اطراف و جوانب کے ساتھ بیان ہوئی ہے تاکہ ایک جگہ قاری کے ذہن میں بات نہیں آئی ہے تو دوسری جگہ آجائے اور ایک مقام میں کوئی دلیل دل میں نہیں اتری ہے تو دوسرے سیاق وسباق میں وہ ذہن نشین ہوجائے، قرآن نے اس چیز کو تصریف آیات، سے تعبیر فرمایا ہے۔ کذلک نصرف الایت۔ (الاعرف : 58) پانچواں پہلو یہ ہے کہ قرآن میں مکی اور مدنی سورتوں پر مشتمل سات گروپ ہیں۔ یہ ساتوں گروپ مل کر قرآن عظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ہر گروپ میں مطالب مشترک بھی ہیں اور فی الجملہ ایک دوسرے سے ممتاز بھی ہر سورة اپنے ساتھ ایک مثنی بھی رکھتی ہے اور یہ دونوں مل کر اپنے زیر بحث موضوع کو ایک مکمل سورت میں پیش کرتی ہیں۔ ’ کتباً متشا بھا مثانی ‘(الزمر : 3 2) اور ولقد اتینک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم (الحجر : 87) کے تحت ہم ان اجمالات کی وضاحت کرچکے ہیں۔ ظا ہے کہ ترتیب کا یہ اہتمام اللہ تعالیٰ نے تیسیر ہی کے مقصد سے اختیار فرمایا ہے۔
Ayah 54:185۔ آگے آیات 18۔ 2 4 کا مضمون۔ جس مقصد سے اوپر حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت بیان ہوئی ہے بعینہ اسی مقصد سے آگے عاد، ثمود، قوم لوط اور آل ِ فرعون کی ہرگز شت تمام ہوئی ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے کذیت عاد کیف کان عذانی ونذر (18) انا ارسلنا علیھم (آیات 18۔ 47)۔
(1 ؎) ملاحظہ ہو تدتبر قرآن، جلد پنجم، صفحہ : 580، (2 ؎) ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات : 2 2 6۔ 4 2 6
6۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
کذبت عادفکیف کان عذابی وفذر (18) عاد کی سرگزشت ’ کذبت عاد کے بعد بالنذر ٗ بر بنائے قرینہ مخدوف ہے۔ آگے کے ذکر میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے۔ چناچہ فرمایا ہے۔ کذبت ثمود بالنذر۔ نذر، نذیر، کی جمع بھی ہے اور انذارء سے اسم یا حاصل مصدر بھی۔ اگر نذیر کی جمع مانیے تو اس کے معنی ہوں گے ڈرانے والے رسول، آگاہی دینے والی نشانیاں، بیدار کرنے والی تنبیہات، اور اگر اس کو حاصل مصدر کے مفہوم میں لیجئے تو اس کے معنی ہوں گے ڈراوا، تنبیہ، آگاہی اور تہدیدو وعید قرآن میں یہ لفظ ان تمام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا ترجمہ کرتے وقت موقع محل کی مناسبت کا لحاظ ضروری ہے۔
Ayah 54:19اناارسلنا علیھم ریحا صرصرا ً فی یوم نحس مستمر (19) یہ اس عذاب کی وضاحت ہے جو قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے مسلط کیا۔ فرمایا کہ ہم نے ان پر شمال کی باتند مسلط کردی۔ صرصر، شمال کی اس بادتند کو کہتے ہیں جو سردیوں میں چلتی ہے۔ جس سے ہر چیز پر ایک عام نحوست وہوست چھاجاتی ہے۔ یہ زمانہ عرب میں قحط کا زمانہ ہوتا اس وجہ سے اہل عرب اس کو یوم نجریا ایام نحات، کہتے ،۔ آیت میں یوم نحس ٗ سے کوئی معتین دن مراد نہیں ہے بلکہ وقت اور زمانہ داد ہے۔ عربی میں یہ اس معنی میں معروف ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر یہی مضمون ایام نحات ٗ کے الفاظ سے بیان ہوا ہے اور بعض مقامات میں یہ تصریح بھی ہے کہ یہ باد تند ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط رہی۔ ، نقط متمر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ ہوا وقتی جھونکے کی طرح نہیں چلی کہ لوگ اس کو سہہ لیتے بلکہ سات آٹھ دن کے لئے وہ ان پر عذاب الٰہی بن کر مسلط وہی۔
Ayah 54:20تنزع الناس کا نھم اعجاز نخل منقعر (20) ہوا کے زور اور اس کی قہر مانیت کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی گویا وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔ سورة ٔ حاتہ، میں منقعر، کی جگہ لفظ، خاویۃ، آیا ہے جس کے معنی کھو کھلے کے ہیں۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ اشارہ موجود ہے کہ جب باد تند چلنی شروع ہوئی تو جو جہاں تھا وہیں زمین سے چمٹ کر رہ گیا لیکن ہوا کا زور بڑھتا ہی گیا اس وجہ سے کسی کو اٹھنا نصیب نہ ہوا۔ اسی حال میں سب فنا ہوگئے اور ان کی لاشیں ہوا کے زور میں اسی طرح لڑھکتی پھرتی تھیں جس طرح کھجوروں کے کھوکھلے تنے لڑھکتے پھرتے ہیں۔ ان کے عذاب کی پوری تفصیل سورة ذاریات کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
Ayahs 54:21–22فکیف کان عذابی ونذر۔ ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مد کر (22021) یہ آیتیں قوم نوح کی سرگزشت کے آخر میں اوپر گزر چکی ہیں اور ان کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
Ayahs 54:23–24کذبت ثمود بالنذرہ فقا لو ابشر منا واحد نتبعہ انا اذالفی ضلل وسعر (23۔ 4 2) یعنی قوم ثمود نے بھی اسی طرح رسول کی تنبیہات کی تکذیب کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ہی اندر (واقعہ ثمرد) کے ایک بشر کو رسول مان کر اس کی پیروی کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم گمراہی میں پڑے اور بھاڑ میں گئے عام طور پر مترجموں نے ’ سعر ‘ کا ترجمہ جنون کیا ہے لیکن یہاں یہ لفظ جس اسلوب سے استعمال ہوا ہے وہ اس معنی سے اباء کرتا ہے، میرے نزدیک یہ ’ سعیر ‘ کی جمع ہے اور آگ کے معنی میں آیا ہے۔ ، اسی سورة کی آیت 47 میں ہے۔ ان المجر میں فی ضل وسعر (بےشک مجرمین گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑنے والے ہیں) ظاہر ہے کہ یہ انذار حضرت صالح ؑ نے بھی اپنی قوم کو کیا ہوگا۔ انہی کو کہی ہوئی بات قوم نے ان کے اوپر الٹ دی کہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو ہم گمراہی میں ہیں اور جہنم میں پڑیں گے، حالانکہ اگر ہم ان کے پیر وبن گئے تب گمراہی میں مبتلا ہو کر جہنم کے سزا وار ٹھہر گے۔ بھاڑ میں جانے اور جہنم میں پڑنے کے محاورے ہماری زبان میں بھی معروف ہیں۔ گمراہی اور جہنم میں سبب اور مسبب کا رشتہ واضح ہے لیکن گمراہی اور جنون میں اس طرح کا کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔
Ayah 54:25ء القی الذکر علیہ من بیننا بل ھو کذاب اشر (25)
یعنی اول تو یہی بات عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بشیر کو رسول بنائے لیکن اس سے بھی عجیب تر یہ ہے کہ اس کار عظیم کے لئے ان کی نظر ِ انتخاب ہماری پوری قوم کے اندر سے انہی کے اوپر پڑی۔ آخران کے کیا ایسے موتی ٹن کے ہوئے ہیں کہ اللہ کو اپنی ہدایت اتارنی ہوئی تو اس نے ان پر اتاری ! جو لوگ پشہتا پشت سے قوم کی سرداری و پیشوائی کررہے ہیں آخر وہ کیوں نظر اندناز کردیئے گئے۔ بل ھو کذاب اشر یعنی یہ بالکل ناممکن ہے کہ یہ شخص اپنے دعوے اور دعوت میں سچا ہو بلکہ یہ بالکل جھوٹا ہے اور ساتھ ہی شیخی باز ہے اس وجہ سے رسول ہونے کا دعویٰ کر کے ہمارے اوپر دھونس جمانا اور اپنی برتری کا سکہ بٹھانا چاہتا ہے۔
Ayah 54:26سیعلمون عذا من الکذاب الا شر (26)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا بر سر موقعہ جواب دے دیا کہ جو مکبو اس کرنی چاہتے ہیں کرلیں۔ فیصلہ کی گھڑی قریب ہے۔ اللہ کا عذاب آیا ہی چاہتا ہے۔ اس وقت یہ دیکھ لیں گے کہ جھوٹا اور شیخی باز کون ہے ؟
Ayah 54:27انا مر سلو النا قۃ فتنۃ تھو فارتقبھم واصطیر (27) یہ اس عذاب کی تمہید ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے۔ فرمایا کہ ہم ایک خاص اونٹنی کو ان کے لئے ایک آزمائش بنا کر بھیجنے والے ہیں تو تم ان پر نگاہ رکھو اور صبر کے ساتھ حالات کو دیکھتے جائو۔ مطب یہ ہے کہ دیکھو یہ اونٹنی کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں اور پھر کس انجام سے دور چارہوتے ہیں۔ اس اونٹنی کے آزمائش ہونے کی شکل آگے والی آیت میں بیان ہو رہی ہے۔
Ayah 54:28ونبئھم ان الماء قئمۃ بینھم کل شرب محتضر (28) اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی نامزد کر کے حضرت صالح ؑ کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کر دو کہ پانی پینے کا جو گھاٹ ہے اب اس پر پانی پلانے کی باری تقسیم کردی گئی۔ اب ہر ایک کو اپنی باری پر حاضر ہونا ہوگا۔ اور جو باری اللہ کی اونٹنی کے لئے مقرر کردی گئی ہے کہ کسی کو حق نہیں ہوگا کہ اس کی باری میں کوئی اس سے تعرض کرے۔ اگر اونٹنی کو کوئی گزند پہنچایا گیا تو یہ اللہ کے عذاب کا پیش خیمہ ہوگا۔ یہ امتحان اللہ تعالیٰ نے اس لئے مقرر فرمایا کہ ان کے اندر کا سارا کھوٹ باہرآجائے اور آشکارا ہوجائے کہ ان کی سر کشی کا پارا کتنا چڑھ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تنبیہ کے بعد کہ یہ اونٹنی عذاب الٰہی کا نشان ہے اس کو گزنذپہنچانے کی جسارت وہی کرسکتے تھے جن کو خود پیغمر پر ہاتھ اٹھانے میں کوئی خوف مانع نہیں ہوسکتا تھا۔ کسی قوم کے طغیان کی یہی حد سے جس پر پہنچ جانے کے بعد وہ اللہ کے عذاب کی مستحق ہوتی ہے۔ اس کے بعد اتمام محبت کے لئے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔
Ayah 54:29فنا دواصا حبھم قتعا طی فعقر (29) قوم کے لوگ بھلا اس پابندی کو کب گوارا کرنے والے تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ محض حضرت صالح کی دھونس ہے۔ چناچہ اپنے سردار سے انہوں نے فریاد کی۔ وہ بدبخت لپکا اور اونٹنی کی کونچیں اس نے کاٹ دیں۔ تعامل کے معنی پنجوں پر کھڑے ہو کر کسی کام کے لئے اقدام کرنے کے ہیں۔ یعنی اپنے زعم میں اس نے بڑی بسالت دکھائی اور اپنی قوم کے لئے ایک نہایت جرأت مندانہ قدم اٹھایا لیکن اس کی یہ جسارت پوری قوم کو لے ڈوبی۔
لفظ عقر اونٹ کی کونچیں کاٹ دینے کے لئے آتا ہے۔ کونچیں کاٹ دینے کے بعد اونٹ یا اونٹنی کا زندہ رہنا ممکن ہوجاتا ہے۔
Ayah 54:30فکیف کان عذابی ونذر (30) اس آیت کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔ اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے انذار کے مطابق ان پر عذاب آدھمکا۔ قرآن کے دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد ان کو صرف تین دن کی مہلت ملی کہ اب بھی اگر وہ توبہ کرنی چاہیں تو کرلیں لیکن انہوں نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
Ayah 54:31اناارسلنا علیھم صیحۃ واحدۃ فکانو اکھشیم المحطتظر (31) (یہ اشارہ اس عذاب کی طرف ہے جو ان پر آیا (صیعۃ) کے معنی کڑک کے ہیں۔ دوسرے مقام میں لفظ صاعقۃ بھی آیا ہے۔ استاذ امام نے سورة ذاریات کی تفسیر میں اس عذاب کی نوعیت پر قرآن کی روشنی میں مفصل بحث کی ہے۔ آخر میں خلاصہ بحث ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ”اس تفصل سے معلوم ہوا کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ نے سرما کے بادلوں، تند ہوا اور ہولناک کڑک کا عذاب مطلب کیا۔ لیکن اصل تباہی ہوا کے تصرفات سے واقع ہوئی۔ اس وجہ سے اگر اثر سے موثر پر استدلال کرنے کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے سرما کے دھاریوں والے بادل بھیجے جن کے اندر ہولناک کڑک اور بہرا کردینے والی چیخ بھی تھی“۔
یہ امر بھی واضح رہے کہ اس طرح کی گرج چمک کے لوازم میں سے ژالہ باری بھی ہے جو اگر شدت اختیار کرے تو سنگ باری کے ہولناک عذاب کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور ہر چیز کو بھس بنا کر رکھ دیتی ہے۔ (فگانو کھشیم المحتظر محتظ) باڑھ جانے والے کو کہتے ہیں۔ چرواہے عام طور پر اپنے گلوں کی حفاظت کے لیے میدانوں میں جھاڑ جھنکاڑ کی باڑھ بنا لیتے ہیں جس کے ا ندر شب میں گلہ کو محفوظ کردیتے ہیں۔ اس قسم کی باڑھ کچھ عرصہ کے بعد بارش، ہوا اور جانوروں کے روندنے سے ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ ھشیم اسی طرح کی ریزہ ریزہ چیز کو کہتے ہیں۔ یہ ان کی تباہی کی تمثیل ہے کہ ہوا، بارش، سنگباری اور کڑک نے اس طرح ان کو چور چور کردیا جس طرح باڑھ والے کی باڑھ چور چور ہو کے رہ جاتی ہے، یعنی دیکھنے والا ان کے گھروں اور آبادیوں کو دیکھتا تو یہ گمان کرتا کہ کبھی یہاں کچھ بسے تو تھے لیکن اب صرف ان کے روندے ہوئے آثار باقی رہ گئے ہیں۔
Ayah 54:32(ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مد کر) (32) (یہ وہی ترجیح کی آیت ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے)۔
Ayahs 54:33–34(کذبت قوم لوط بالنذرہ انا ارسلنا علیھم حاصبا الا ال لوط نجینھم بسحر) (33۔ 34)
(واقعہ قوم لوط)۔۔ فرمایا کہ اسی طرح لوط کی قوم نے بھی تنبیہات کو جھٹلایا تو اتمام حجت کے بعد ہم نے ان پر سنگ ریزے برسانے والی آندھی مسلط کردی۔ حاصب کی نوعیت سورة ٔ ذاریات کی تفسیر میں واضح کی جا چکی ہے۔ (الا ال لوط) یعنی اس عذاب سے صرف ال لوط محفوظ ہے۔ لفظ ال پر اس کے محل میں بحث گزر چکی ہے کہ اس کے مفہوم میں صرف آدمی کی صلبی ذریت ہی شامل نہیں ہے بلکہ اس کی معنوی ذریت یعنی اس کے اتباع بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ (نجینھم بسحر) فرمایا کہ لوط ؑ اور ان کے اتباع کو ہم نے عذاب کے ظہور سے پہلے ہی سحر کے وقت بستی سے نکال لیا۔ عذاب کا وقت آگے (ولقد صبحھم بکرۃ) کے الفاظ سے واضح فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب صبح کو آیا اور یہ لوگ طلوع فجر سے پہلے پہلے عذاب کے علاقہ سے نکل چکے تھے، ظاہر ہے کہ یہ حفاظت ان کو اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے حاصل ہوئی۔
Ayah 54:35(نعمۃ من عندنا کذلک نجزی من شکر) (35)۔ ایسے ہولناک عذاب سے اس طرح بال بال بچا لیا جانا صرف اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی غیایت ہی سے ممکن ہے۔ کسی دوسرے کے لیے اس طرح کا پروگرام بنا لینا ممکن نہیں ہے۔ (کذلک نجزی من شکر) میں حضرت لوط ؑ کی غیر معمولی صفت شکر کی غیر معمولی داد بھی ہے اور اس امر کا اعلان عام بھی کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عنایت صرف حضرت لوط ؑ ہی کے لیے خاص نہیں تھی بلکہ آج بھی جو لوگ اس کے شکر کرنے والے ہوں گے وہ اس کی عنایت خاص کے حق دار ہوں گے۔ اس کا داہن رحمت بہت وسیع ہے۔
Ayah 54:36(ولقد انذرھم ھم بطشتنا فتماروا بالنذر) (36)۔ آیت 35 بیچ میں بطورجملہ معترضہ آگئی تھی۔ یہ ان کے اوپر عذاب نازل ہونے کا سبب بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب اسکے سزا اور ٹھہرے۔ اللہ کے رسول نے ان کو ہر پہلو سے اچھی طرح آگاہ کردیا کہ انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اور اس کی پکڑ سے کوئی بچانے والا نہیں بنے گا، لیکن وہ ہر تنبیہ میں حجتیں نکالتے رہی رہے۔
Ayah 54:37(ولقد راودوہ عن ضیفہ فطمسنا اعینھم فذوقوا عدابی ونذر (37)۔ یہ ان کی اس آخری جسارت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر آ دھمکا۔ فرمایا کہ جس بےحیائی میں وہ مبتلا تھے رسول کی تنبیہات سے اس سے باز آتا تو الگ رہا وہ اس میں دن پر دن دلیر ہی ہوتے گئے یہاں تک کہ جب فرشتے خوبصورت مردوں کے بھیس میں حضرت لوط ؑ کے پاس آئے تو یہ ان کے مکان پر چڑھ دوڑے اور ان کو راضی کرنا چاہا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کی ہوس کاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ جو لوگ اس طرح اندھے بہرے بن جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق وہ اندھے بہرے ہی کردیئے جاتے ہیں، پھر نہ کوئی موعظت وہ سننے کے اہل رہ جاتے، نہ کوئی بڑی سے بڑی نشانی دیکھنے کے اس کے بعد واحد چیز جوان کے لیے باقی رہ جاتی ہے وہ اللہ کا عذاب ہے چناچہ یہ لوگ بھی اسی عذاب کے حوالہ کردیئے گئے۔ (فطمسنا اعینھم) کے الفاظ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ ان کی ظاہری آنکھیں بھی موند دی گئی ہوں بلکہ یہ ان کی بصیرت سے کلیۃً محروم کردیئے جانے کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے۔ قرآن میں اس مفہوم کے لیے یہ اسلوب بیان جگہ جگہ استعمال ہوا ہے مثلاً سورة محمد میں ہے۔
(۔۔۔۔ محمد 23۔۔۔۔۔) (یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی۔ پس ان کے کان بہرے کردیئے اور ان کی آنکھیں اندھی کردیں)۔ اس آیت کی روشنی میں (طمسنا اعینھم) کا مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ اپنی ہوائے نفس سے مغلوب ہو کر اس حد کو پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عاقبت بینی کی صلاحیت ہے بالکل محروم ہوگئے۔ انسان کی آنکھوں کا اصلی جوہر ان گڑھوں میں نہیں جو چہروں پر نظر آتے ہیں بلکہ آنکھوں کی بصیرت میں ہے۔ یہ چیز جسکے اندر ختم ہوگئی اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جس پر اللہ کی لعنت ہوئی وہ ہر لمحہ خدا کے غضب کا ہدف ہے۔ ویسے یہ بات بھی معلوم ہے کہ جب ان اشرار نے حضرت لوط ؑ کو ان مہمانوں کے لیے ورغلا نا چاہا تو مہمانوں نے حضرت لوط ؑ پر یہ راز کھول دیا تھا کہ آپ مطمئن رہیں، ہم بشر نہیں بلکہ خدا کے فرستادے ہیں۔ ان شیاطین کی مجال نہیں ہے کہ ہمارے پاس پھٹک سکیں۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے حضرت لوط ؑ کو روانہ ہوجانے کی ہدایت فرمائی۔ حضرت لوط ؑ کے روانہ ہوجانے کے بعد قرین قیاس یہی ہے کہ وہ اپنے اصل ملکوتی روپ میں آگئے ہوں گے اور اس روپ میں ان کو بشری آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں۔
Ayah 54:38(ولقد صبحھم بکرۃ عذاب مستفر) (38)
صبح کے وقت ان پر کنکر برسا دینے والا ہوا کا عذاب آ دھمکا۔ عرب میں حملہ اور غارت گری کا وقت بالمعموم صبح ہی کا وقت ہوتا تھا، اس وجہ سے لفظ صبح اس معنی میں آنے لگا۔ اوپر اشارہ گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ؑ اپنے اتباع کے ساتھ سحر کے اول وقت بستی سے نکل چکے تھے، یہاں یہ وضاحت ہے کہ عذاب طلوع صبح کے بعد آیا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے بستی سے نکلنے کے بعد عذاب کے آنے میں اتنی دیر ہوئی کہ حضرت لوط ؑ عذاب کے علاقہ سے باہر نکل گئے۔ (عذاب مستقر) سے مراد تک جانے والا عذاب ہے۔ عذاب ایک تو وہ ہے جو محض تنبیہ کے لیے آتا ہے جس میں کافر و مومن دونوں بلا امتیازحصہ پاتے ہیں۔ البتہ مومن اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور کافر اس سے اپنی قساوت قلب میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسرا عذاب وہ ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں مکذبین کا فیصلہ کردینے کے لیے آتا ہے۔ یہ عذاب جس قوم پر آیا اس نے وہیں ڈیرے ڈال دیے۔ اہل ایمان تو اس علاقہ سے نکال لیے گئے لیکن جنہوں نے رسول کی تکذیب کی وہ سب وہیں فنا کردیئے گئے۔ (مستقر) سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ عذاب کوئی ایسا عذاب نہیں تھا جو ایک جھونکے کی طرح آیا اور گزر گیا بلکہ یہ وہیں ٹک کے رہ گیا۔
Ayahs 54:39–40(فذوقوا عذبی ونذرہ ولقد یسرنا القران للذکر فھل من مذکر) (39۔ 40) یہ وہی ترجیح ہے جو اوپر والی سر گزشتوں کے ساتھ گزر چکی ہے اور جس کی پوری وضاحت ہوچکی ہے