Ayah 53:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(والنجم اذا ھوی) (1)۔۔۔۔ (النجم سے مراد) النجم سے عام طور پر مفسرین نے ثریا کو مراد لیا ہے، لیکن اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے، اس سے زیادہ واضح قرینہ تو شعریٰ کا ہوسکتا ہے جس کا ذکر اسی سورة میں آگے آیا ہے لیکن اس کو مراد لینے کا بھی، جیسا کہ وضاحت آئے گی، یہاں کوئی محل نہیں ہے، ہمارے نزدیک یہ اسم جنس کے مفہوم میں ہے جس طرح (وبا النجم ھم یھتدون) (النحل : 2) (اور ستاروں سے وہ ہنمائی حاصل کرتے ہیں) یا (والنجم والشجر یسجدن) (الرحمن 6) (اور ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں) اور اس نوع کی دوسری آیات میں جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے۔
(ھوی یھوی کا مفہوم) ھوی یھوی کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے گرنے کے ہیں، یہ لفظ ستاروں کے مافق سے غائب ہونے اور ڈوبنے کی تعبیر کے لیے بھی موزوں ہے اور اس آتش باری کے لیے بھی موزوں ہے جو غیب کی ٹوہ لگانے والے شیاطین پر ستاروں سے ہوتی ہے اور جس کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ ہوا ہے۔ والنجم میں و قسم کے لیے ہے اور قسم سے متعلق ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں یہ بیشتر شہادت کے لیے آئی ہے۔
Ayahs 53:2–4(ما ضل صا حبکم وما غوی وما ینطق عن الھدی ان ھو الا وحی یوحی) (2، 4)۔
(آنحضرت ﷺ پر کتاب کے الزام کی تردید)۔ یہ پوری مقسم علیہ کی حیثیت رکھتی ہے ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر ﷺ نہ تو بھٹکے ہیں نہ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو کلام وہ تمہیں سنا رہے ہیں اپنے جی سے گھڑ کے نہیں سنا رہے ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو تمہیں سنائیں تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔
موقع کلام دلیل ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ پر کہانت کا جو الزام لگاتے تھے یہ اس کی تردید ہے۔ قریش کے لیڈروں کو جب آپ قرآن سناتے اور وحی اور اس کے لانے والے فرشتہ سے متعلق اپنے تجربات و مشاہدات بیان فرماتے تو وہ اپنے عوام کو یہ باور کراتے کہ یہ بھی ہمارے کاہنوں اور منجموں کے قسم کے ایک کاہن و منجمی ہیں۔ جس طرح ستاروں کے قرآن، نکھتروں کے مشاہدات اور جنات کے القاء کی مدد سے وہ مسجع و مقفی کلام پیش کرتے اور غیب کی باتیں بتاتے ہیں اسی طرح یہ بھی مسجع کلام سناتے اور مستقبل کی باتیں جاننے کے مدعی ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ان کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے محض دھونس ہے۔ جس طرح ہمارے کاہنوں پر جناب القاء کرتے ہیں اسی طرح کوئی جن ان پر بھی القاء کرتا ہے جس کو یہ فرشتہ سمجھتے ہیں۔
قریش کے اس الزام کی تردید قرآن میں جگہ جگہ ہوئی ہے۔ خاص طور پر سورة شعراء کے آخر میں اس کے بعض نہایت اہم پہلو زیر بحث آئے ہیں۔ یہاں اسی الزام کی تردید ایک مختلف نہج سے کی جا رہی ہے جس کا آغاز ستاروں کے غروب اور سقوط کی قسم سے ہوا ہے۔
(ستاروں کے غروب اور سقوط کی شہادت) ستاروں کے غروب یا ان کے سقوط سے قرآن نے دو پہلوئوں سے عربوں کے اس تصور پر ضرب لگائی ہے جو وہ کاہنوں اور منجموں سے متعلق رکھتے تھے۔ ایک تو اس پہلو سے کہ یہ سورج اور چاند اور یہ تمام نجوم و کواکب نہ خود اپنے اختیار سے کوئی تصرف کرتے ہیں نہ بذات خود موثر یا نافع و ضار ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں مسخر اور اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ ان کا پوری پابندی کے ساتھ ایک مقررہ نظام الاوقات کے مطابق، طلوع و غروب خود اس بات کی شہادت ہے کہ یہ بذات خود کسی اقتدار و اختیار کے مالک نہیں ہیں اس وجہ سے نہ تو عبادت کے حق دار ہیں نہ اس بات کے کہ ان کو وحی والہام کا مصدر سمجھ کر ان سے رجوع کیا جائے یا ان کو آفات کا منبع خیال کر کے ان کی دیائی دی جائی یا ان کو خیر و برکت کا مرکز بان کر ان سے دعا والتجاء کی جائے ! بلکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے اور اپنے عمل سے اللہ کے بندوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی انہی کی طرح اللہ ہی کی بندگی اور اسی کو سجدہ کریں۔ یہ مضمون قرآن میں یوں تو گوناگوں شکلوں میں بیان ہوا ہے لیکن خاص طور پر حضرت ابراہیم ؑ کی وہ حجت جو انہوں نے اپنی قوم پر تمام کی اس بات میں حرف آخر ہے۔
یہ امر یہاں پیش نظر رہے کہ کہانت کی گرم بازاری جس طرح جنات و شیاطین کے تعلق سے تھی اسی طرح ستاروں کی گردش اور اس کے اثرات سے بھی اس کا نہایت گہرا ربط تھا۔ قرآن نے یہاں (والنجم اذا ھوی) کہہ کر اسکے اسی پہلو پر ضرب لگائی ہے کہ ستارے تو خوداپنے عمل سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ خالق کائنات کے حکم کے تابع ہیں۔ اسی کے حکم سے وہ طلوع ہوتے اور اسی کے حکم سے ڈوبتے ہیں، تو احمق ہیں وہ لوگ جو ان سے الہام حاصل کرنے یا لوگوں کی تقدیر معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے بھی زیادہ احمق ہیں وہ جو اللہ کے رسول کو نجومی یا کاہن بتاتے ہیں درآنحالیکہ ان کی ساری تعلیم ان خرافات پر ایک ضرب کاری ہے۔ دوسرے اس پہلو سے کہ کاہنوں کا یہ دعویٰ جھوٹ ہے کہ ان کا ربط ایسے جنوں سے ہے جو آسمان کی خبریں معلوم کر کے ان کو بتاتے ہیں۔ غیب تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے، جو جنات و شیاطین غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے آسمانوں میں گھات میں بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو کھد یڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ سورة صفت میں اس کا ذکر یوں آیا ہے۔
(الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب) (الصفت 10) (مگر جو کوئی کچھ اچک لینے کی کوشش کرے تو اس کا تعاقب کرتا ہے ایک شہاب ثاقب)۔ اللہ تعالیٰ کے اس انتظام کا اعتراف خود جنات نے ان الفاظ میں کیا ہے۔ (وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع فمن یستمع الان بجدلہ شھابا رصدا) (الجن : 9) (اور یہ کہ ہم آسمان کے ٹھکانوں میں غیب کی باتیں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے لیکن اب جو سننے کی کوشش کرے گا تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو گھات میں پائے گا۔) انہی ٹوٹنے والے ستاروں یا آسمانی راکٹوں کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ واقعہ (75، 78۔۔۔۔ سورة حاقہ 38، 43) اور سورة تکریرا 15، 25 میں قرآن کریم کو شیطانی چھوت سے بالکل پاک اور بالا تر قرار دیا ہے اور یہ واضح فرمایا ہے کہ قرآن کی حریم قدس تک کسی جن و شیطان کو رسائی نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ شیاطین نہ اس لوح محفوظ تک پہنچ سکتے ہیں جس میں قرآن محفوظ ہے۔ نہ اس جلیل القدر فرشتہ کو متاثر کرسکتے جو اس کو لے کر اترتا ہے اور نہ اس رسول ہی کو گمراہ کرسکتے جس پر یہ نازل ہوتا ہے۔ شیاطین ان کا ہنوں پر اترتے ہیں جو بالکل جھوٹے اور نابکار ہوتے ہیں اور محض لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے بھگل بناتے اور غیب دانی کے دعوے کرتے ہیں۔
(بعض الفاظ کی وضاحت)۔۔۔۔۔ قسم اور مقسم کا تعلق سمجھ لینے کے بعد ان آیتوں کے الفاظ اور ان کے مفہوم کو بھی اچھی طرح سمجھ لیجئے تاکہ بات پوری طرح ذہن نشین ہوجائے۔ (ما ضل صا جیکم و ما غوی ضد) تمام طور پر انسان کی اس گمراہی کے لیے آتا ہے جس کا تعلق بھول چوک یا فکر و اجتہاد کی غلطی سے ہو اور غوی کا تعلق اس گمراہی سے ہوتا ہے جس میں نفس کی اکساہٹ اور آدمی کے قصد و تعمد کو بھی دخل ہو۔ لفظ صاحب یہاں نبی ﷺ کے لیے استعمال ہوا ہے اور ضمیر خطاب کے مخاطب قریش ہیں۔ ان کو خطاب کر کے کیا جا رہا ہے کہ پیغمبر ﷺ جو تمہارے اپنے دن رات کے ساتھی ہیں تمہارے لیے کوئی اجنبی نہیں ہیں۔ تم ان کے ماضی و حاضر، ان کے اخلاق و کردار اور ان کے رجحان و ذوق سے اچھی طرح واقف ہو۔ تم نے کب ان کے اندر کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے یہ شبہ بھی ہو سکے کہ ان میں کہانت یا نجوم کا کوئی میلان پایا جاتا ہے۔ اس طرح کا ذوق کسی کے اندر ہوتا ہے تو دن رات کے ساتھیوں سے وہ عمر بھر چھپا نہیں رہتا لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جو چیز اتنی مدت تک تم نے ان کے اندر کبھی محسوس نہیں کی اب جب انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تم کو اللہ کا کلام سنایا تو تم نے ان کو کاہن اور نجومی کہنا شروع کردیا حالانکہ ان کی زندگی اور ان کا کلام شاہد ہے کہ ان کے اندر کسی ضلالت یا غوایت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ (وما ینطق عن الھوی) عن۔ یہاں منبع و منشا کا سراغ دینے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو کلام وہ تمہارے سامنے پیش کر رے ہیں اس کا کوئی تعلق نفس اور اس کی خواہشوں سے نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر وحی ہے جو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری ہدایت کے لیے اتاری جارہی ہے۔ اس ٹکڑے میں کاہنوں اور نجومیوں پر تعریض ہے کہ ان کا کلام تو تمام تر ان کے نفس کی تحریک سے پیدا ہوتا ہے لیکن اس کلام کا منبع ومصدر اور ہے۔
جو ہر جام جم از کان جہان در گراست
اس آیت میں اصلاً تو بیان قرآن کا ہے جو نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کی وحت کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے چناچہ آگے کی آیت ان ھو الا وحی یوحی سے اس کی وضاحت بھی ہوگئی ہے، لیکن نبی چونکہ معصوم اور اس کا ہر قول و فعل لوگوں کے لیے نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے عام زندگی میں بھی اس کی کوئی بات حق و عدل سے ہٹی ہوئی نہیں ہوتی اور اگر کبھی اس سے کوئی فروگزداشت صادر ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح فرما دیتا ہے
Ayah 53:5(علمہ شدید القوی) (5)
(حضرت جبرئیل ؑ کی صفات) کلام اور صاحب کلام کی صفات بیان کرنے کے بعد یہ اس فرشتہ (حضرت جبرئیل) کی صفات بیان ہو رہی ہے جس نے اس کلام کی نبی ﷺ کو تعلیم دی۔ فرمایا کہ وہ (شدید القوی) یعنی تمام اعلیٰ صفات اور صلاحیتیوں سے بھر پور اور اس کی ہر صفت و صلاحیت نہیں محکم و مضبوط ہے۔ اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اس کو متاثر یا مرعوب کرسکے، اس سے خیانت کا ارتکاب کر اسکے یا اس کی تعلیم میں کوئی خلط مبحث کرسکے یا اس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اس کو کوئی وسوسہ لا حق ہو سکے۔ اس طرح کی تمام کمزوروں سے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اس کے سپرد فرمایا ہے اس کو وہ بغیر کسی خلل و نساء کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ دا کرسکے۔ سورة تکویر میں اس فرشتہ کی تعریف یوں آئی ہے۔ (انہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین) (19، 21) (یہ ایک با عزت فرستادہ کی وحی ہے، وہ بڑی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بارسوخ ہے، اس کی اطاعت کی جاتی ہے، مزید برآں وہ نہایت امین ہے۔) زومرۃ۔ یعنی وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکہ کھا سکے یا کوئی اس کو دھوکہ دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اس کو خرید سکے، یہ لفظ اخلاقی و عقلی برتری کے لیے آتا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت جبرئیل ؑ کی یہ صفات کاہنوں اور نجومیوں کے مصدر الہام کی تحقیر ہی کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں بلکہ یہود اور ان کے ہم مشرب روافض نے جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیریں ہم اشارہ کر آئے ہیں، آپ پر نعوذ باللہ خیانت، جانب داری اور بےبصیرتی کا الزام لگایا ہے اور اسی بنا پر ان کو حضرت جبریل ؑ سے ہمیشہ عداوت بھی رہی ہے جس کا حوالہ قرآن مجید میں موجود ہے۔
Ayahs 53:6–10(زومرہ فاستوی وھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوا دنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (6، 10)
(جبریل ؑ کا طریقہ تعلیم) ذو مرۃ، کا تعلق شدید القوی سے ہے اس وجہ سے اس کی ضاحت ہم نے شدید القوی کے ساتھ ہی کردی ہے۔ اب فاسنوی سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر علمہ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ فاستری میںتفصیل کے لیے ہے۔ یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں مستوی القامت ہو کر، نمو دار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جو سمت راس میں ہوتا ہے۔ اگرچہ کوئی چیز سمت راس کے افق سے نمایاں ہوگی تو چودھویں کے چاند اور دوپہر کے سورج کی طرح وہ بالکل صاف شفاف، جلی اور غیر مشتبہ صورت میں نظر آئے گی۔ اس کے برعکس مشرق یا مغرب یا شمال یا جنوب کے افق سے اگر کوئی چیز نمودار ہوگی تو وہ خفی صورت میں نمودار ہوگی جس طرح پہلی کا چاند نکلتا ہے۔ مقصود اس وضاحت سے یہ ہے کہ حضرت جبریل ؑ اپنی اصلی ہیئت میں پیغمبر ﷺ کے لیے افق اعلیٰ کے سٹیج پر نمودار ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے کھلی آنکھوں سے ان کا اچھی طرح مشاہدہ کیا۔
ثم دنا فتدلی، تدلی۔ کے معنی جھک پڑنے یا لٹک آنے کے ہیں۔ یہ بیان ہے اس بات کا کہ اس کے بعد حضرت جبریل ؑ آنحضرت ﷺ کو تعلیم دینے کے قصد سے آپ کے قریب ہوئے اور جس طرح شفیق اور بزرگ استاد اپنے عزیز و محبوب شاگرد پر غایت شفقت سے جھک پڑتا ہے اسی طرح وہ آپ کے اوپر جھک پڑے۔ یعنی یہ نہیں ہوا کہ دور سے اپنی بات پھینک ماری ہو اور اس امر کی پروا نہ کی ہو کہ آپ نے بات اچھی طرح سنی یا نہیں اور سنی تو سمجھی یا نہیں بلکہ پورے التفات و اہتمام سے اس طرح آپ کے کان میں بات ڈالی کہ آپ اچھی طرح سن اور سمجھ لیں، یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ کاہنوں کے شیاطین کا جو علم ہوتا ہے اس کو قرآن نے نطف الخطفۃ (الصفت : 10) سے تعبیر کیا ہے یعنی اچکی ہوئی بات، جس طرح چور اور اچکے کوئی چیز اچک لیتے ہیں، ظاہر ہے کہ جب استاد آ چکے ہیں تو وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم بھی اچکوں ہی کی طرح دیتے ہوں گے۔ قرآن نے یہاں حضرت جبریل ؑ کے طریقہ تعلیم کو اس لیے نمایاں فرمایا ہے کہ دونوں کا فرق اچھی طرح واضح ہو سکے۔ (فکان قاب قوسین او ادنی) قاب کے معنی بقدر کے ہیں یہ غایت قرب و اتصال کی تعبیر ہے، یعنی حضرت جبریل ؑ آنحضرت ﷺ سے اتنے قریب ہوگئے کہ بس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ اس تشبیہ میں اہل عرب کے ذوق کا بھی لحاظ ہے۔ اہل عرب تیر و کمان والے لوگ تھے اس وجہ سے غایت قرب کی تعبیر کے لیے ایک کمان یا دو کمانوں کے بقدر کی تشبیہ استعمال کرتے تھے، جس طرح ہم ایک گز یا دو گز کے الفاظ بولتے ہیں۔ او یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرر ہا ہے کہ یہ تشبیہ محض قرب کی تعبیر کے لیے ہے، یہ فاصلہ اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ (فاوحی الی عبدہ ما اوحی) اوحی۔ کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے اور حضرت جبریل ؑ بھی۔ پہلی صورت میں بالکل واضح ہے کہ اس اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے یعنی رسول اللہ ﷺ کی طرف جو وحی کرنی تھی وہ کی۔ دوسری صورت میں مصاف الیہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہوگا، یعنی اس توجہ اور اہتمام کے ساتھ جبریل ؑ نے اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کرنی تھی وہ کی یا وہ حی کی جو اللہ تعالیٰ نے جبریل ؑ کو کرنے کے لیے ہدایت فرمائی۔ میرا رجحان پہلے قول کی طرف ہے، ویسے دوسرے قول میں بھی کوئی خاص قباحت نہیں ہے۔ بعض صوفیوں نے اس سے یہ بالکل غلط نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبریل ؑ کا بندہ قرار دیا ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ، مثالوں کی روشنی میں، واضح کرتے آ ہے ہیں کہ ضمیروں کے مرجع کا تعین قرینہ سے ہوتا ہے۔ انتشار ضمیر ہر صورت میں عیب نہیں ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس سے ایجاز کا فائدہ ہوتا ہے جو کلام عرب میں داخل بلاغت ہے۔
Ayah 53:11(ما کذب الفوا دما رای) (11)
(نبی ﷺ کے مشاہدے کی تصدیق)۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کے اس مشاہدے کی تصدیق و تصویب ہے کہ کوئی اس مشاہدے کو دل کی خیال آرائی اور نفس کے فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریب نفس اور دھوکا نہیں بلکہ فی الحقیقت نبی کو یہ مشاہدہ ہوا ہے۔
(نبی ﷺ کے مشاہدے کی تصدیق) ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب اپنے ان مشاہدات کا ذکر کیا تو مخالفین نے آپ کا مذاق اڑایا کہ جس قسم کے ارمان اس شخص کے دل میں بسے ہوئے ہیں اسی قسم کے خواب اس کو نظر آتے ہیں اور یہ خواب کو حقیقت گمان کر کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے ان کو سناتا پھرتا ہے، حالانکہ یہ تمام فریب نفس اور ذہن کی خیال آرائی ہے۔ قرآن نے اس الزام کی تردید مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ کی ہے۔ سورة تکویر کی تفسیر میں انشاء اللہ اس پر مفصل بحث آئے گی۔
Ayah 53:12(افتمرونہ علی ما بری) (12) یہ مخالفین کو مخاطب کر کے ان کو ملامت فرمائی ہے کہ کیا تم پیغمبر ﷺ سے اس کے مشاہدات پر جھگڑتے ہو ؟ وہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کانوں سے سنتا ہے اس سے تم کو آگاہ کر رہا ہے، اگر یہ چیز تم کو نظر نہیں آتی تو اس سے نفس حقیقت باطل نہیں ہوجائے گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ مخالفین اپنے کاہنوں کی تو ساری خرافات بےدریغ تسلیم کرلیتے تھے اس لیے کہ ان کی باتیں ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی تھی لیکن پیغمبر ﷺ کی دعوت ان کی خواہشوں کے خلاف تھی اس وجہ سے آپ کی مخالفت کے لیے طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے۔
Ayahs 53:13–15(ولقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتھی عندھا حبۃ الماوی (13، 15)
(دوسرا مشاہدہ) یعنی یہ بات نہیں ہے کہ پیغمبر ﷺ کو یہ مشاہدہ صرف ایک ہی بار ہوا ہو اس وجہ سے اس کو کوئی داہمہ یا مغالطہ قرار دیا جاسکے بلکہ اسی طرح انہوں نے دوبارہ بھی جبریل ؑ کو سدرۃ المنتی کے پاس دیکھا جس کے پاس ہی جنت الماویٰ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا جو مشاہدہ تمہارے سامنے وہ بیان کر رہے ہیں وہ مذاق اڑانے کی چیز نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور کرنے کی چیز ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں صرف دو ابتدائی مشاہدوں کا حوالہ ان لوگوں کے جواب میں دیا گیا ہے جنہوں نے شروع شروع میں آپ کے ان مشاہدات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نے حضرت جبریل ؑ کو دو ہی بار دیکھا۔ ان دو ابتدائی مشاہدات کے بعد حضرت جبریل ؑ کا ظہور مختلف شکلوں اور مختلف اوقات میں تواتر کے ساتھ ہونے لگا، یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے لیے حضرت جبریل ؑ کی آمد سے زیادہ نہ کسی کی آمد معلوم و معروف تھی نہ محبوب و مطلوب۔
(سدرۃ المنتھی) سدرۃ المنتھی وہ مقام ہے جہاں اس عالم نا سوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ سدرۃ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے یہ بیری کا درخت عالم نا سوت اور عالم لاہوت کے درمیان ایک حد فاضل ہے۔ ہمارے لیے یہ سارہ عام نادیدہ ہے، نہ ہم عام نا سوت اور عالم لاہوت کے حدود کو جانتے اور نہ ان دونوں کے درمیان کے اس نشان فاصل کی حقیقت سے واقف ہیں جس کو یہاں سدرۃ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ چیزیں متشابہات میں داخل ہیں اس درجہ سے، قرآن کی ہدایت کے مطابق، ان پر ایمان لانا چاہیے، ان کی حقیقت کے در پے ہونا جائز نہیں ہے، ان کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جن کا علم راسخ ہوتا ہے ان کے علم میں ان چیزوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو ان کی حقیقت جاننے کے درپے ہوتے ہیں وہ ٹھوکر کھاتے اور گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
(عندھا جنۃ الماوی، یہ سدرۃ المنتھی کے مقام کی نشان دہی فرما دی کہ اس کے پاس جنۃ الماوی بھی ہے۔ جنۃ الماوی پر سورة سجدہ کی آیت 19 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سدرۃ المنتھی عالم نا سوت کی آخری حد پر ہے۔ اسی طرح جنۃ الماوی عالم لاہوت کے لفظ آغاز پر ہے۔ اس نشان دہی سے یہ بات واضح ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت جبریل ؑ کا دوباہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطہ اتصال پر ہوا۔
Ayah 53:16(اذا یغشی السدرۃ ما یغنی (16)
(مشاہدے کی کیفیت حیط بیان سے باہر ہے) یہ اس مشاہدے کی کیفیت بیان ہوئی ہے کہ سدرۃ کو چھائے ہوئے تھی۔ یہ اسلوب بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس وقت اس سدرۃ پر انوار تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ کی گرفت میں نہیں آسکتی۔
Ayah 53:17(ما زاغ البصر وما طغی) (17)
(تجلیات کے ہجوم میں پیغمبر ﷺ کا قرار و سکون)۔ جس طرح اوپر ارشاد ہوا ہے (ما کذب الفواد ما رای) (11) (جو کچھ اس نے دیکھا وہ دل کی خیال آرائی نہیں تھی) اسی طرح یہاں فرمایا کہ اس مشاہدے کے موقع پر بھی نہ تو لگاہ بہکی اور نہ بےقابو ہوئی، بلکہ پیغمبر ﷺ نے جو کچھ مشاہدہ کیا پورے قرار و سکون اور پوری دلجمعی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ زیغ کے معنی کج ہونے کے ہیں یعنی نبی ﷺ کی نگاہ کسی جلوے کے مشاہدے میں اس کے صحیح زاویے سے کج نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اس کے بالکل صحیح زاویے سے کیا۔ طغی کے معنی بےقابو ہونے کے ہیں۔ یعنی اگرچہ انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ الفاظ اس کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہیں لیکن آپ کی نگاہ ذرا بھی بےقابو نہیں ہوئی بلکہ آپ نے ہر چیز کا مشاہدہ اچھی طرح جم کر کیا۔
Ayah 53:18(لقد رای من آیت ربہ الکبری) (18)
(اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ)۔ یہ بیان ہے ان مشاہدات کا جو اس موقع پر نبی ﷺ کو ہوئے۔ فرمایا کہ اس نے اپنے رب کی بعض بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ ان کے متحمل ہو سکتے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آسکتیں تاہم لفظ کبری دلیل ہے کہ یہ نشانیاں ان نشانیوں سے بالا تر تھیں جن کا مشاہدہ، آفاق وانفس ہیں، ہر قدم پر، ہر صاحب نظر کو ہوتا رہتا ہے۔ مفسرین نے ان سے وہ مشاہدہ مراد لیے ہیں جو حضور ﷺ کو معراج کے موقع پر ہوئے۔ ان کی اس رائے کے حق میں یہ قرینہ موجود ہے کہ سورة اسراء میں ذکر ہے کہ اس موقع پر آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کے مشاہدے کیے۔ تاہم یہ امر ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کو مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہو، خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔ اب اس تمہیدی کا خلاصہ بھی سامنے رکھ لیجئے تاکہ آگے کے مباحث کے سمجھنے میں آسمانی ہو۔ جو لوگ قرآن کریم کو نجوم و کہانت کے قسم کی چیز قرار دے کر اس کو وقعت گھٹانی چاہتے تھے ان کو خطاب کر کے مندرجہ ذیل حقائق ان کے سامنے رکھے گئے ہیں۔
1۔ یہ قرآن جس روز جزا و سزا سے تم کو آگاہ کر رہا ہے اس کو کوئی معمولی بات نہ سمجھو۔ یہ تمہارے کاہنوں اور نجومیوں کی بفوات کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کے پیش کرنے والے نے خود اپنے جی سے گھڑ لی ہو۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو اس نے سب سے زیادہ مقرب فرشتے کے ذریعے سے اپنے اس خاص بندے پر اس لیے نازل کی ہے تاکہ وہ تمہیں اس آنے والے دن سے اس کے ظہور سے پہلے، اچھی طرح آگاہ کر دے۔
2۔ جس فرشتہ کے ذریعہ سے یہ وحی آئی ہے وہ خدا کا نہایت مقرب فرشتہ ہے اس وجہ سے اس اہم ذمہ داری کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا انتخاب فرمایا، وہ نہایت امین ہے، خدا کی امانت میں وہ کوئی خیانت نہیں کرسکتا، وہ نہایت قوی ہے، مجال نہیں ہے کہ کوئی دوسری طاقت اس کو مرعوب یا مغلوب کرسکے، وہ تمام اعلیٰ علمی و اخلاقی صفات سے متصف ہے، اس وجہ سے اس بات کا کوئی اندیشہ ہے کہ وہ کسی مغالطہ میں مبتلا ہو سکے یا کوئی اسے دھوکا دے سکے یا وہ کسی کی جانب داری یا کسی کی ناحق مخالفت کرے۔
3۔ اس فرشتہ کو پیغمبر ﷺ نے دوبارہ نہایت وضاحت سے دیکھا ہے۔ پہلی بار اس کا مشاہدہ افق اعلیٰ میں ہوا اور دوسری بار سدرۃ المنتیٰ کے پاس، اس شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ محض کوئی وہم تھا جو اس کو لا حق ہوا اور اس نے اس کو تمہارے سامنے بیان کردیا۔
4۔ فرشتہ نے پیغمبر ﷺ کو جو تعلیم دی وہ ایک شفیق استاد کی طرح نہایت قریب سے، اس کے اوپر جھک کردی جس کو پیغمبر نے اچھی طرح سنا اور سمجھا، یہ نہیں ہوا کہ دور سے اس کے کانوں میں کوئی آواز آ پڑی ہو جس کے سننے یا سمجھنے میں کوئی شبہ یا تردد لا حق ہوا ہو۔
Ayahs 53:19–202۔ آگے آیات 19۔ 30 کا مضمون
آگے مخالفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ تم کو اس اہتمام کے ساتھ روز جزاء و سزا سے جو ڈرایا جا رہا ہے تو آخر کس بل بوتے پر اس سے نچنت بیٹھے ہو ! کیا اپنی مزعومہ دیویوں، لات، عزی اور نہایت کی سفارش کے بھروسہ پر اگر اس وہم پر مبتلا ہو تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے رکھے ہوئے محض فرضی نام ہیں جن کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے۔ جزاء و سزا ایک حقیقت ہے، حقیقت کا مقابلہ تم محض اٹکل پچو مفروضات سے نہیں کر سکت، تم نے جو جھوٹی آرزو میں اپنے دلوں میں پال رکھی ہیں یہ محض تمہاری خواہشیں ہیں، ضروری نہیں کہ یہ پوری بھی ہوجائیں۔ دنیا و آخرت کے سارے معاملات اللہ ہی کے ہی اختبار میں ہیں۔ کسی فرشتہ کا بھی یہ درجہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کے اذن کے بدون زبان ہلا سکے۔ جن لوگوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیں اور ان کی سفارش کے بل پر قرآن کے انداز سے بالکل بےپروا ہیں انہوں نے آخرت کی مسئولیت سے فرار کے لیے یہ ایک چور دروازہ نکالا ہے لیکن یہ چیز ذرا بھی ان کو نفع پہنچانے والی نہیں بنے گی۔ اللہ تعالیٰ نیک اور بد دونوں قسم کے لوگوں کو سب سے زیادہ خود جانتا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(افرء یتم اللت والعزی ومنوۃ الثالثۃ الاخری) (19۔۔ 20)
(قریش کو علامت) سوال یہاں تعجب اور استحقاف و تحقیر کے لیے ہے۔ اوپر آپ نے حضرت جبریل ؑ کی صفات ملاحظہ فرمائیں۔ کہ وہ شدید القوی اور ذومزۃ ہیں۔ دوسرے مقام میں ان کی تعریف مطاع (التکویر : 21) اور عند ذی العرش مکین (التکویر : 20) کے الفاظ سے بھی آتی ہے۔ ان صفات کے مضمرات کے بعض پہلوئوں کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں۔ یہاں ان کا ایک اور خاص پہلو بھی قابل توجہ ہے جو اس آیت کے تحقیر آمیز اسلوب کلام سے سامنے آتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حضرت جبریل ؑ کی یہ صفات نہایت اعلیٰ مردانہ صفات ہیں۔ گویا قریش کو اس جلیل القدرفرشتہ کی ان صفات کا حوالہ دے کر ملامت کی گئی کہ نا دانو ! کہاں یہ اعلیٰ مردانہ صفات کے ملائکہ اور کہاں تمہاری یہ دیویاں۔۔ لات، عزمی اور منات۔۔ جن کی نسبت تمہارا یہ گمان ہے کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور جن کے نام تم نے عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیں۔
(مشرکین کی تین عالی مرتبہ دیویاں)۔ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ یہ تینوں فرشتوں کے بت تھے۔ فرشتوں کی نسبت، جیسا کہ جگہ جگہ اس کتاب میں وضاحت ہوچکی ہے، مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی چہیتی، بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات مانتا ہے اس وجہ سے وہ اپنے پجاریوں کو اس دنیا میں بھی رزق و اولاد دلواتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی یہ ان کی بخشوا لیں گے۔ خاص طور پر ان تینوں دیویوں کا ان کے ہاں بڑا مرتبہ تھا۔ ان کی سفارش بےخطاسمجھی جاتی تھی۔ ان کی نسبت ان کا عقیدہ تھا کہ (تلک الغرانیق العلی وان شفا عتھن لترتجی) یہ بڑے مرتبے کی دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی قبولیت کی پوری امید ہے۔
اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے کہ قبائل عرب میں سے کون ان میں سے کس کو پوجتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی خاص قبیلہ کو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کچھ زیادہ خصوصیت رہی ہو لیکن ان کی عظمت تمام مشرکین کے نزدیک یکساں مسلم تھی۔ قریش نے ساری عرب پر اپنی سیاسی و مذہبی پیشوائی کی دھاک جمائے رکھنے کے لیے تمام دیویوں دیوتائوں کی مورتیاں خانہ کعبہ میں بھی جمع کر چھوڑی تھیں۔ ان تینوں دیویوں کے پجاریوں کی تعدادچون کہ سارے عرب میں سب سے زیادہ تھی اس وجہ سے قریش بھی ان کی سب سے زیادہ تعظیم کرتے تھے۔
(ان دیویوں میں فرق مراتب) قرآن کے بیان میں سے یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ تینوں دیویاں اس اعتبار سے اگرچہ ایک ہی زمرہ سے تعلق رکھنے والی تھیں کہ یہ سب عالی مرتبہ عیاں کی جاتی تھیں تاہم ان میں باہم فرق مراتب بھی تھا۔ لات اور عزی کا مرتبہ سب سے اونچا تھا۔ منات اگرچہ زمرہ میں انہی کے اندر شمار ہوتی تھی لیکن مرتبے کے لحاظ سے یہ ان سے فروتر تھی، چناچہ قرآن نے اس کا ذکر دو صفتوں کے ساتھ کیا ہے ایک ثالثہ اور دوسری اخری پہلی صفت اس کے زمرے کا پتہ دیتی ہے کہ یہ انہی تین کی تیسری ہے۔ دوسری صفت اخری اس کے درجے کا پتہ دیتی ہے کہ یہ عندیہ شامل تو انہی میں تھی لیکن یہ دوسرے نمبر پر تھی۔ اولی اور اخری کے الفاظ درجے کو واضح کرنے کے لیے عربی زبان میں معروف ہیں اور اس مفہوم کے لیے قرآن میں بھی یہ آئے ہیں۔ وقالت اولھم لا خرھم (الاعراف 39) والی آیت میں اس کی نظیر موجود ہے۔
(ان ناموں کے اشتقاق سے متعلق بعض اشارات)۔ ان ناموں کے اشتقاق اور ان کے معانی سے متعلق جو تحقیق تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں ان کا بیشتر حصہ بےبنیاد ہے۔ ہمارے نزدیک اللت لو الالھۃ کی بگڑی ہوئی شکل ہے، جس طرح معبود اعظم کے لیے اللہ تھا اسی طرح بڑی دیوی کے لیے انہوں نے الالھۃ اختیار کیا جس کو عوام نے اپنے کثرت استعمال سے اللہ بنا دیا۔ بعض لوگوں نے اس کو لت کے مادہ سے لیا ہے، جس کے معنی گوندھنے، دولت کرنے کے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ یہ ایک شخص تھا جو زمانہ حج میں حاجیوں کو ستو گھول کر پلاتا تھا اس کے مرنے کے بعد لوگوں نے اس کی قبر کی پوجا شروع کردی اور اس نام سے وہ ایک معبود بن گیا۔ یہ رائے اشتقاق کے قاعدے کی رو سے بھی غلط ہے اور قرآن کی تصریحات کے بھی خلاف ہے۔ قرآن کے بیان سے یہ بات واضح ہے کہ یہ دیویوں کے بت تھے اور یہ دیویاں فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ کر بنائی گئی تھیں۔ عزی ظاہر ہے کہ عزیز اور اعز کی مونت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں عزیز ایک نمایاں صفت ہے جو اس کی عزت و عظمت کو ظاہر ہوتی ہے۔ اسی پہلو سے اس دیوی کے لیے عزی کا نام اختیار کیا گیا۔ مذات میرے نزدیک منیعۃ کے مادہ سے بنایا ہوا نام ہے جس کے معنی ہوں گے وہ دیوی جس کے قرب کی آرزو کی جائے یا جو آرزئو وں کے بر آنے کا ذریعہ ہو۔
Ayahs 53:21–22(الکم الذکر ولہ الاتثی تلک اذا قسمۃ صیزی) (21، 22)
(ستم بالا ستم)۔ ان فقروں کا اسلوب طنزیہ ہے، مطلب یہ ہے کہ تم اپنے لیے تو لڑکے پسند کرتے ہو اور لڑکیوں سے اس درجہ نفرت کرتے ہو کہ جس کے ہاں لڑکی پیدا ہوجائے وہ شرم سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، تو جب لڑکیوں سے متعلق تمہارے احساسات یہ ہیں تو کم از کم اپنے رب پر اتنا کرم تو کیا ہوتا کہ جس چیز کو اپنے لیے اس درجہ ناپسند کرتے ہو وہ اس کی گود میں نہ ڈالتے ! آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پیدا تو ہر چیز اللہ نے کی لیکن بیٹیاں تم اس کے حصے میں ڈالو اور بیٹے اپنے حصہ میں، یہ تقسیم تو نہایت غیر منصافنہ اور بھونڈی تقسیم ہوئی ! عدل و انصاف کا بدیہی تقاضا یہ تھا کہ جو چیز تم اپنے لیے ناپسند کرتے اس کو اپنے رب سے منسوب نہ کرتے۔ ضیزی کے معنی ہیں عدل و انصاف سے ہٹا ہوا معاملہ ضازہ کے معنی ہوں گے ظلمہ اس نے اس کے اوپر ظلم کیا، اس کے ساتھ ناانصافی کی۔ مطلب یہ ہے کہ اول تو خدا سے بیٹے بیٹیاں منسوب کرنا ہی اس کی شان الوہیت کے بالکل منافی اور عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے لیکن تم پہ ستم یہ کیا ہے کہ اس سے منسوب وہ چیز کی ہے جس کو خوداپنے لیے شرم کی چیز خیال کرتے ہو ! گویا اللہ کا مرتبہ تمہارے نزدیک تم سے بھی فروتر ہے۔
Ayah 53:23(ان ھی الا اسماء سمیتوھا انتم واباکم ما انزل اللہ بھا من سلطن ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاء ھم من ربھم الھدی) (23)۔
(نام جن کا کوئی مسمی نہیں ہے)۔ یہ ان دیویوں کی حقیقت واضح فرمائی کہ یہ محض تمہارے اور تمہارے باپ دادا کے رکھے ہوئے نام ہیں جن کا کوئی مسمی موجود نہیں ہے (ما انزل اللہ بھا من سلطنن) ان کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری جو تم اپنی تائید میں پیش کرسکو۔ اگر تم نے اپنے باپ دادا کو ان کو پوجتے پایا تو یہ بھی کوئی دلیل نہیں ہوئی، انہوں نے بھی اسی طرح اپنے اگلوں کی اندھی تقلید کی جس طرح تم کر رہے ہو۔ خدا کی اتاری ہوئی دلیل ہو سکتی تھی تو یہ کہ تمہاری عقل و فسات میں ان کے لیے کوئی گواہی موجود ہوتی یا آفاق وانفس کے دلائل سے ان کی تائید ہوتی یا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے یہ خبر دی ہوتی کہ فلاں اور فلاں میری چہتی بیٹیاں ہیں، میں ان کی سفارش لازماً قبول کروں گا اور ان کی پرستش کرنے والوں کو ضروربخش دوں گا۔ جب اس طرح کی کوئی چیز بھی ان کے حق میں موجود نہیں ہے تو یہ محض تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی اپنی گھڑی ہوئی دیویاں ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہے۔ (ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاء ھم من ربھم الھدی)
(اللہ کی ہدایت کے مقابل میں خواہش نفس کی پیروی)۔ اوپر کے ٹکڑے میں اسلوب کلام خطاب کا تھا، اس میں اسلوب غائب کا ہوگیا ہے، یہ ان کی محرومی اور بد بختی پر ان کو ملامت اور ان کی ذہنی پستی پر اظہار افسوس ہے کہ اللہ نے تو ان کی رہنمائی کے لیے خاص اپنے پاس سے ہدایت اتاری لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی جگہ اپنے گمان اور اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ لفظ الھدی یہاں اس ہدایت کے لیے استعمال ہوا ہے جو قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی اور جس کی عظمت و طہارت کا ذکر تمہید کی آیتوں میں ہوا ہے۔ ظن اور خواہش نفس کی پیروی یوں تو کسی حال میں بھی خطرے سے خالی نہیں ہے لیکن خدا کی ہدایت کے موجود ہوتے ان کی پیروی کرنا اپنے آپ کو پورے دن کی روشنی میں ہلاکت کے کھڈ میں گرانا ہے۔۔
(ہر بدعت خواہش نفس سے وجود میں آتی ہے)۔ (ما تھوی الانفس) سے یہاں اشارہ خاص طور پر ان کی اس بدعت شرک کی طرف ہے جو زیر بحث ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بد عت کی بنیاد انسان کے نفس کی کسی نہ کسی خواہش پر ہوتی ہے، جب انسان کا نفس کسی حقیقت کے تقاضے پورے کرنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا اور اس کا انکار بھی اس کے لیے آسان نہیں ہوتا تو وہ کوئی ایسی شکل اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ بظاہر اس کا انکار بھی نہ ہوا اور اس کے اقرار سے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان سے فرار کی کوئی آسان راہ بھی نکل آئے، آپ جس بدعت پر بھی غور کیجئے اس کی تہہ میں خواہش نفس کا یہ خناس آپ کو چھپا ہوا ملے گا۔ ان دیویوں کے حق میں ظاہر ہے کہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہیں، لیکن جزا اور سزا کی ہر خلش سے مامون کردینے کے لیے شیطان نے ان مشرکین کو یہ فریب دیا کہ فرشتے خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں۔ خاص طور پر اس کی فلاں اور فلاں بیٹیاں اس کو بہت محبوب ہیں، وہ ان کی ہر بات سنتا اور مانتا ہے اس کے حضور میں ان کی ہر سفارش تیر بہدف ہے اس وجہ سے جو ان کی جے پکاریں گے اور ان کے تھانوں پر قربانی پیش کردیا کریں گے، ان کو وہ خدا سے سفارش کر کے، اس دنیا میں بھی رزق و اولاد سے بہرہ مند کرائیں گے اور اگر آخرت کا کوئی مرحلہ پیش آیا تو وہاں بھی ان کوڑے درجے دلوائیں گے۔ دیکھے دنیا اور آخرت دونوں کی فلاں کی کیسی آسان راہ نکل آئی اور آخرت کے حساب و کتاب اور جزاء و سزا کا ہر خطرہ کیسی آسانی سے دور ہوگیا ! (رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی)
لیکن غور کیجئے کہ خواہش نفس کے سوا اور کیا چیز ہے جس پر اس ساری میتھالوجی (Mythology) کی بنیاد ہو، نفس نے چاہا کہ خدا کے تقرب اور اس کی جنت کے حصول کی کوئی ایسی راہ نکل آئے جس میں اپنی کسی خواہش کی قربانی نہ دینی پڑے، شیطان نے یہ راہ نکال دی۔
Ayahs 53:24–25(ام للانسان ما تمنی فلللہ الاخرۃ والاولی (24، 25)
(خواہشیں حقائق کو نہیں بدل سکتیں)۔ یہ اسی اوپر والی بات پر اظہار تعجب بھی ہے اور اس پر تبصرہ بھی، مطلب یہ ہے کہ تم اپنی خواہشوں اور تمنائوں کی رہنمائی میں، اپنے جی کو خواہش رکھنے کو، جو فلسفہ چاہو بنا ڈالو لیکن ضروری نہیں کہ تمہاری ہر تمنا اور خواہش پوری بھی ہوجائے، در حقیقت اور خواہش میں بڑا فرق ہے۔ جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تب دیکھ لو گے کہ تم جو خیالی محل تعمیر کرتے رہے اس کی بنیاد ریت پر تھی۔ تمہارے یہ معبود ذرا بھی کسی کے کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ ہر ایک کو سابقہ اپنے اعمال سے پیش آئے گا۔ جس کے نیک اعمال کی میزان بھاری ہوگی وہ جنت میں جائے گا اور جس کی میزان ہلکی ہوگی وہ دوزخ میں جھونک دیا جائے گا، خواہ کوئی ہو۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ جس طرح مشرکین نے اپنے ان دیوتائوں کے بل پر بہت سی بےبنیاد تمنائیں اپنے دلوں میں پال رکھی تھیں اسی طرح یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں نے بھی اپنے دلوں میں بہت سی جھوٹی آرزئوئیں پال رکھی ہیں جو محض خواہش نفس کی ایجاد سے وجود میں آئی ہیں۔ یہود اور نصاریٰ کی ان بےبنیاد آرزوئوں کی، جس کو قرآن نے امانی سے تعبیر کیا ہے، تفصیل سورة بقرہ اور سورة آل عمران کی تفسیر میں ہم پیش کرچکے ہیں۔ مسلمانوں نے ان کی تقلید میں جو عقیدے کتاب و سنت کے بالکل خلاف ایجاد کیے ہیں ان پر مفصل بحث ہم نے اپنی کتابوں حقیقت شرک اور حقیقت توحید میں کی ہے۔ قرآن نے اس آیت میں لفظ انسان سے خطاب کر کے گویا بلا استثناء سب کو آگاہی دی ہے کہ آرزوئیں اور تمنائیں جس کا جو جی چاہے پال رکھے لیکن یاد رکھے کہ کسی کی آرزوئوں کی خاطر نہ حقائق میں کوئی تبدیلی ہوگی اور خدا کا قانون سر مو کسی کی جانب داری کرے گا۔ (نللہ الاخرۃ والاولی)۔ یعنی اگر کوئی اس طمع میں مبتلا ہے کہ کسی کی خواہشوں کی خاطر خدا کی کسی سنت یا اس کے کسی قانون میں کوئی تبدیلی ہوجائے گی تو وہ اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ دنیا اور آخرت دونوں کلیۃً خدا ہی کے اختیار میں ہیں۔ کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں کہ اس کے اذن کے بدون کوئی سفارش کرسکے یا اس کے کسی قانون یا فیصلہ کو تبدیل کرا سکے۔ (اذن انہی کے بغیر کوئی سفارش کے لیے زبان نہیں ہلاسکے گا)۔
Ayah 53:26(وکم من ملک فی السموات لا تغنی شفاعتھم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضی (26)۔ یہ اسی اوپر والے ٹکڑے کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کی ان دیویوں کا تو کیا ذکر آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے، بڑے اور چھوٹے، موجود ہیں جن کی شفاعت ذرا بھی کسی کے کام آنے والی نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ ان میں سے کسی کو کسی کے باب میں شفاعت کی اجازت دے۔ اول تو کوئی خدا کے اذن کے بغیر زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرے گا اور جو اذن کے بعد زبان کھولے گا بھی تو صرف اسی کے باب میں کھولے گا جس کے لیے خدا یہ پسند فرمائے کہ اس کی سفارش کی جائے۔
Ayah 53:27(ان الذین لا یومنون بالاخرۃ لیسمون الملیکۃ تسمیۃ الانثی) (27)
(شرک کی دیومالا کے مصنفین)۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے یہ ساری دیو ما لا گھڑی ہے، فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی ہیں تو اس کی اصل حقیقت، یعنی اس بات پر ان کا ایمان نہیں ہے کہ وہ دن خدا کے کامل کے ظہور کا دن ہوگا اور ہر ایک ٹھیک اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پائے گا۔ فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جنہوں نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ کر یہ دیو مالا تصنیف کی ہے کہ یہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں، انہی کی سفارش سے اس دنیا کی نعمتیں بھی حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت ہوئی تو یہی اس دن بھی ہمارا مرجع بنیں گی اور ہمیں وہ سب کچھ دلوائیں گی جو ہم چاہیں گے۔
Ayah 53:28(وما لھم بہ من علم ان یتبعون الا الظن وان الظن لا یغنی من الحق شیاء) (28)
(شرک کی تمام تر بنیاد ظن پر ہے)۔ فرمایا کہ آخرت کی ذمہ داریوں سے اپنے کو بچانے کے یلے انہوں نے یہ افسانہ ایجاد تو کر ڈالا لیکن اس کی بنیاد کسی علم پر نہیں، بلکہ محض ظن پر ہے۔ محض اپنی خواہش نفس کو حقیقت بنانے کے لیے یہ اٹکل کے تیر تکے چلائے گئے ہیں۔ ان نادانوں کو خبر نہیں کہ اٹکل بہر حال اٹکل ہے، یہ حق و حقیقت کا بدل کسی درجے میں نہیں ہو سکتی۔ جب حقیقت ظاہر ہوگی تب ان کو پتہ چلے گا کہ یہ عمر بھر محض خواب دیکھتے رہے ہیں۔
(ظن اور علم میں فرق)۔ لفظ ظن آیت 23 میں الھدی کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ علم کے مقابل کی حقیقت سے بھی استعمال ہوا ہے اور حق کے مقابل کی حیثیت سے بھی، علم انسان کو اس کی فطرت اور عقل کی راہ سے بھی حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی سے بھی، جو علم اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے وہ دراصل الھدی کا درجہ رکھتا ہے اس لیے کہ وہ ہر شبہ سے بالا تر ہوتا ہے چناچہ یہاں اس کو حق سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جس بات کے حق میں نہ فطرت اور عقل کی گواہی موجود ہو نہ وحی کی شہادت وہ سر تا سرظن ہے اور یہ بالکل باطل ہے۔ قرآن نے یہاں وما لھو بہ من علمہ فرما کر ان مشرکین کے اس ساری دیو مالا کو علم کے ہر سہارے سے محروم، ایک بالکل من گھڑت فساد قرار دیا ہے، یعنی (اس کی تائید میں ان کے پاس عقل کی کوئی دلیل ہے اور نہ وحی کی، اہل عرب اس حقیت سے اچھی طرح واقف تھے کہ جس بات کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو وہ علم نہیں بلکہ ظن ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ ایک شاعر نے ظن اور علم کے اس فرق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (واعلم علما لیس بالظن انہ) (اور میں ایک علم پر مبنی بات جانتا ہوں جو ظن نہیں کہ۔۔۔۔) لفظ ظن کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کی وضاحت انشاء اللہ ہم آیت (انی ظنت انی ملق حسابیہ) (الحاقۃ : 20) کے تحت کریں گے۔
Ayah 53:29(فاعرض عن من تولی عن ذکرنا ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا) (29)
(ہدایت سے اعراض کرنے والوں سے اعراض کی ہدایت)۔ یہ نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ ایسے سر پھرے ہیں کہ اللہ کی ہدایت کے مقابل میں اپنی ہوائے نفس کی، علم کے مقابل میں ظن کی اور حق کے مقابل میں باطل کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، تم انکے زیادہ درپے نہ ہو، جب انہوں نے ہماری یاددہانی سے منہ پھیرلیا تو بھی ان سے اعراض کرو، تم نے اپنا فرض ادا کردیا، اب ذمہ داری ان کی ہے۔ یہ اس کا انجام خود دیکھیں گے۔ ذکر سے مراد یہاں قرآن مجید ہے۔ یہ لفظ قرآن کے لیے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں جن کی طرف ہم مختلف مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں۔ یہاں یہ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ قرآن ان لوگوں کو آخرت اور اس کی ذمہ داریوں کی یاددہانی کر رہا ہے جو چند فرضی دیویوں کی سفارش کے بل پر اس سے بالکل نچنت بیٹھے ہیں۔ (ولم یرد الا الحیوۃ الدنیا) یہ ان کے اس اعراض کی اصل علت کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد صرف اس دنیا اور اس کی مرغوبات کو بنا لیا ہے، ان سے ہٹ کر کسی اور چیز پر غور کرنے کا حوصلہ ان کے اندر نہیں ہے۔
Ayah 53:30(ذلک مبلغھم من العلم ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بمن اھتدی) (30)
(دنیا پرستوں کی تنگ نگاہی)۔ یعنی ان لوگوں کے علم کی رسائی بس اس دنیا کے ظاہر ہی تک ہے، اس ظاہر کے پیچھے جو حقیقت پوشیدہ ہے اس تک ان کی رسائی نہ ہے اور نہ یہ اس کے طالب ہیں، حالانکہ اصل چیز وہی ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک بازیچہ اطفال بن کر رہ جاتی ہے، حالانکہ اس کے ہر گوشے سے اس کے خالق کی قدرت و حکمت ایسی واضح ہے کہ ایک بلید کے سوا کوئی اس کے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا اور ایک قدیر و حکیم ذات سے یہ بات بعید ہے کہ وہ اتنا بڑا کا رخانہ محض ایک کھیل کے طور پر بنا ڈالے۔ (ذلک مبلغھم من العلم) کے اسلوب بیان سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ یہ محض ان کی تنگ نظری اور تنگ ظرفی ہے کہ یہ اس کے ظاہر پر ریجھ کر اسکے باطن سے بےپرواہ ہو بیٹھے حالانکہ اس کی تمام ظاہری رونقیں عارضی اور فانی ہیں۔ اصل ابدی بادشاہی تو اس کے پیچھے ہے جس کے لیے قرآن ان کو دعوت دے رہا ہے لیکن یہ اپنی پشت ہتمی اور محرومی کے سبب سے اس کا حوصلہ نہیں کر رہے ہیں، اس پہلو کی وضاحت (یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا) (الروم : 7) والی آیت میں ہوئی ہے۔
(دنیا پرستوں کو تہدید)۔ (ان ربک ھوا علم بمن ضل عن سبیلہ وھوا علم بمن اھتدی) یہ آنحضرت ﷺ کو تسلیم اور ان سرگشتگان دنیا کو تہدید و عید ہے۔ حضور ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہے کہ تم اب ان کو نظر انداز کرو، تمہارے رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی اچھی طرح باخبر ہے جنہوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی، وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔ اس کا علم سب کو محیط اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے، نہ وہ لوگ اس کی پکڑ سے بچ سکیں گے جو اس کی راہ سے برگشتہ ہیں اور نہ وہ لوگ اس کی نصرت و رحمت سے محروم رہیں گے جو اس کی راہ میں ہر قسم کے آلام کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
Ayah 53:314۔ آگے آیات 31۔ 55 کا مضمون
آگے اسی مضمون کو جو اوپر والے پہرے میں بیان ہوا ہے مزید واضح اور موکد فرمایا ہے۔ پہلے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کے قبضہ میں ہے۔ تمہارے مزعومہ دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کو بھی اس نے اپنا شریک نہیں بنایا ہے کہ وہ اس کے عدل و انصاف پر اثر انداز ہو سکے، چناچہ وہ لازماً ان لوگوں کو سزا دے گا جو گناہوں کے مرتکب ہوں گے اور ان لوگوں کو اصلہ دے گا جو نیکی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنے سفارشیوں یا اپنے حسب و نسب یا بزرگوں کو صلہ دے گا جو نیکی کی زندگی بسر کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنے سفارشیوں یا اپنے حسب و نسب یا بزرگوں کے ساتھ اپنی نسبت کے بل پر یا حرم اور حجاج کی چند ظاہری خدمتیں انجام دے کر، اپنے منہ میاں مٹھو بنے پھر رہے اور اپنے آپ کو جنت کا پیدائشی حق دار سمجھ رہے ہیں، ان سب کو خدا جہنم میں بھر دے گا، اس کی پکڑ سے صرف وہی بچیں گے جو کھلی ہوئی حق تلفیوں اور بےحیائیوں سے بچتے رہیں گے۔ اس طرح کے لوگوں سے اگر کوئی برائی وقتی طور پر صادر ہوجائے گی تو توبہ و اصلاح کے بعد اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔ اس کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے، جو لوگ اپنی برتری اور تقدس کے زعم میں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں، اللہ تعالیٰان پر ہاتھ نہیں ڈالے گا، انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ ان کی خلقت کس چیز سے ہوئی ہے۔ مٹی، کیچڑ اور نجس پانی کی بوند سے پیدا ہوئی مخلوق کو اپنی پاک داہنی اور برتری کی حکایت زیادہ نہیں بڑھانی چاہیے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی بر خود غلطی پر تعجب کیا ہے جو خدا کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے لیکن ابراہیم ؑ موسیٰ ؑ سے نسبت رکھنے کے زعم میں یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ آخرت میں ان کے لیے اونچے اونچے مراتب محفوظ ہیں حالانکہ ابراہیم ؑ و موسیٰ ؑ کی تعلیمات میں سب سے زیادہ نمایاں تعلیم یہی ہے کہ آخرت میں کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، بلکہ ہر ایک کے آگے اس کی اپنی کمائی ہی آئے گی۔
اس کے بعد یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ خوشی اور غم، زندگی اور موت، رزق اور اولاد، غنی اور فقر سب خدا ہی کے اختیار میں ہے اس وجہ سے ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جن لوگوں نے موسم بہار میں طلوع ہونے والے شعری کو معبود بنا رکھا ہے کہ بہار کی رونقیں اس کی بخشش سے حاصل ہوتی ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شعری کا رب بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کے بعد پچھلی قوموں کا بالا جمال حوالہ دے کر قریش کو تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ قومیں بھی انہی گمراہیوں میں مبتلاہوئیں جن میں تم مبتلا ہو تو ان کے انجام اور ان کی تاریخ سے سبق حاصل کرو اور خدا کے غضب کو دعوت نہ دو ، اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(وللہ ما فی السموات والارض لیجزی الذین اساء وابما عملوا ویجزی الذین احسنوا بالحسنی) (31)
(خدا کی بادشاہی میں کسی کی حصہ داری نہیں)۔ اوپر کی آیات میں شرک و شفاعت کی جو تردید فرمائی ہے یہ اس کا نتیجہ سامنے رکھ دیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے اختیار میں ہے، کسی اور کی حصہ داری ان کے اندر نہیں ہے کہ وہ خدا کے اقتدار کو چیلنج کرسکے یا اس کی مشیت میں کوئی مداخلت کرسکے یا اس کے ارادوں اور فیصلوں پر کسی پہلو سے اثر انداز ہو سکے۔ (لیجزی الذی۔۔۔ الایۃ) یہ ل بیان علت کے لیے نہیں بلکہ بیان نتیجہ کے لیے ہے، مطلب یہ ہے کہ جب تنہاوہی مالک و مختار ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ اپنے مزعومہ شرکاء اور سفارشیوں کے اعتماد پر بیٹھی نیند سو رہے ہیں وہ محض فریب نفس میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ عادل و حکیم ہے، وہ ان لوگوں کو ضرور سزا دے گا، جو گناہوں کے مرتکب ہوں گے اور کوئی نہیں ہے جو ان کو خدا کی پکڑ سے بچا سکے۔ اسی طرح لازماً وہ ان لوگوں کو جنہوں نے نیکی اور نیکو کاری کی زندگی گزاری ہوگی، نہایت ہی اچھا صلہ عطا فرمائے گا اور اس صلہ کے حصول کے لیے انہیں کسی دوسرے کی سفارش کی مطلق ضروری نہیں ہوگی۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بروں کے سامنے تو صرف ان کے برے اعمال کی حقیقت آئے گی، جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا وہ بےکم وکاست ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر کوئی اضافہ نہیں کرے گا، لیکن نیکوں کو صرف ان کی نیکیوں کا صلہ ہی نہیں ملے گا بلکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام بھی ہوگا، اللہ تعالیٰ عادل ہے اس وجہ سے وہ کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کرے گا لیکن وہ صاحب جو دو فضل بھی ہے اس وجہ سے اپنے نیک بندوں کو ان کے حق سے زیادہ بھی بخشے گا۔