Ayah 53:32(الذین یجتنبون کبیرالاثم والفواحش الا المم ان ربک واسمع المغفرۃ ھو اعلم بکم اذا نشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امتھکم فلا تزکوانفسکم ھو اعلم بمن اتقی) (32)
(انسان سے اللہ تعالیٰ کا اصل مطالبہ) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک وہ ہیں جو بڑے گناہوں اور کھلی ہوئی بےحیائیوں سے بچنے والے ہیں، ان سے اگر کوئی برائی صادر ہوتی ہے تو اس کی نوعیت بس یہ ہوتی ہے کہ گویا چلتے چلتے کسی گندگی پر پائوں پڑگئے۔ وہ کبھی ٹھوکر کھا کر کسی گناہ میں مبتلا تو ہوجاتے ہیں لیکن جس طرح کوئی صفائی پسند کسی گندگی پر اپنا بستر نہیں ڈال دیتا بلکہ جلد سے جلد اس سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے اس طرح یہ بھی نہیں کرتے کہ اس گناہ ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں، جلد سے جلد تو بہ و اصلاح کے ذریعے سے اس سے پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
المام اور لمم کے اصل معنی کسی جگہ ذرا ادیر کے لیے اتر پڑتے کے ہیں، مجاہد اور ابن عباس سے لمم کا مفہوم یہ نقل ہوا ہے کہ آدمی کسی گناہ میں آلودہ تو ہوجائے لیکن پھر اس سے کنارہ کش ہوجائے۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ وہ معصوم بن کر زندگی گزارے۔ جذبات اور خواہشوں سے مغلوب ہو کر گناہ کا مرتکب ہوجانا اس سے بعید نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ اس سے ضرور ہے کہ اس کی حس ایمانی اتنی بیدار ہے کہ کوئی گناہ اس کی زندگی کا اس طرح احاطہ نہ کرے کہ اس کے لیے اس سے پیچھا چھڑانا ہی ناممکن ہوجائے بلکہ جب بھی اس کا نفس اس کو ٹھوکر کھلائے وہ متنبہ ہوتے ہی توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے، جو لوگ اس طرح زندگی گزارتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما دے گا اس کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے۔ سورة نسا میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔
(النساء : 17۔۔۔۔ 18) (اللہ پر صرف ان کی توبہ کی قبولیت کی ذمہ داری ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر برائی تو کر بیٹھتے ہیں پھر جلدی توبہ کرلیتے ہیں، ایسے لوگوں کی توبہ اللہ قبول کرلیتا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے اور ایسے لوگوں کی توبہ، توبہ نہیں ہے جو برائی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو وہ بولا کہ اب میں نے توبہ کی اور ان لوگوں کی بھی توبہ نہیں ہے جو کفر ہی کی حالت میں مرتے ہیں، یہی ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔)
(کبیر الاثم والفواحش) میں اثم سے ماد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق غضب حقوق اور ظلم وتعدی سے ہے اور فاحشۃ سے مراد کھلی ہوئی بےحیائیوں اور بد کاریاں ہیں۔ کبائر سے بچنے کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صغائر پر کوئی گرفت نہیں ہے بلکہ اس میں حکمت، جیسا کہ اسکے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، یہ ہے کہ جو لوگ کبائر سے بچتے ہیں ان کی حس ایمانی اتنی قوی ہوجاتی ہے کہ وہ صغائر کے ارتکاب پر کبھی راضی نہیں ہوتے۔ جو ہزاروں کی امانت ادا کرتا ہے وہ کسی کے دھیلے پیسے میں خیانت کر کے خائن کہلانے پر کس طرح راضی ہوگا۔
(ان لوگوں کو تنبیہ جو ایمان و عمل کے بغیر جنت کے خواب دیکھ رہے ہیں)۔ یہ تنبیہ ہے ان لوگوں کو جو ہر قسم کی برائیوں اور بےحیائیوں میں تو آلودہ تھے لیکن اپنے مزعومہ شرکاء کی شفاعت، اپنے آباء و اجداد کی بزرگی اور اپنے حسب و نسب کی برتری کے بل پر جنت کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ خدا کے ہاں کام آنے والی چیز ایمان اور عمل صالح ہے نہ کہ یہ جھوٹے سہارے۔
پیچھے ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ قریش اور اہل کتاب سب اسی قسم کے کسی نہ کسی وہم میں مبتلا رہے ہیں۔ قریش کو دیویوں دیوتائوں کے سوا اپنے اولاد ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) اور پاسبان حرم ہونے پر بھی بڑا ناز تھا۔ ان کے اسی ناز پر ان کو (اجعلتم سقایۃ الحاج و عمارۃ المسجد الحرام) (التوبۃ : 9، 19) والی آیت میں تنبیہ فرمائی گئی کہ حاجیوں کو پانی پلا دینا اور خانہ کعبہ کی کچھ دیکھ بھال کردینا نیکی ہے لیکن یہ وہ نیکی نہیں ہے جو ایمان و عمل صالح کی قائم مقام اور تمہارے دوسرے جرائم کے ئے پردہ پوش بن سکے۔ اسی طرح اہل کتاب کو یہ غرہ تھا کہ وہ برگزیدہ امت اور ابراہیم و اسحاق (علیہما السلام) جیسے بزرگ نبیوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے دوزخ کی آگ ان پر حرام ہے۔ دوزخ میں اول تو وہ ڈالے ہی نہیں جائیں گے اور اگر کسی کو ڈالا بھی گیا تو صرف چند دنوں کے لیے۔ ابدی عذاب ان کے لیے بہر حال نہیں ہے۔ یہ چیز صرف دوسری قوموں کے لیے مخصوص ہے۔ ان کے اسی غرور پر سیدنا مسیح ؑ نے ان کو سرزنش فرمائی کہ اولاد ابراہیم ؑ ہونے پر ناز نہ کرو، میرا رب چاہے گا تو ان پتھروں سے ابراہیم ؑ کے لیے اولاد پیدا کرے گا۔ انہی یہود کی پیروی ان کے بعد مسلمانوں نے کی اور اپنے کو امت مرحومہ قرار دے کر ایمان و عمل کی ساری ذمہ داریوں سے بری کرلیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر کتنے خاندان ہیں جن میں پیدا ہوجانا ہی جنت کی ضمانت ہے اور کتنے قبرستان ہیں جن میں دفن ہونا ہی ابدی بادشاہی کی بشارت ہے۔ اس سے بچت نہیں کہ پیدا ہونے والے اور مرنے والے کے عقائد و اعمال کیا رہے !
(ھو اعلم بکم اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھتکم فلا تزکوا انفسکم ھوا علم بمن اتقی) اس ذہن کے سارے ہی لوگوں کو مخاطب کر کے یہ تنبیہ فرمائی جا رہی ہے کہ اپنی پاک دامنی کی حکایت زیادہ نہ بڑھائو ! اور اپنے منہ میاں مٹھو نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اس دور کو بھی سب سے زیادہ جانتا ہے۔ جب اس نے زمین سے تم کو پیدا کیا اور اس دور کو بھی جانتا ہے جب تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں جنین کی صورت میں رہے۔ مطلب یہ ہے کہ پانی، کیچڑ اور مٹی سے وجود میں آنے والی مخلوق اور پھر ذلیل پانی کی ایک بوند سے رحم م اور کے اندر پرورش پانے والی ہستی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ بجائے خود اپنے وجود ہی کو بڑے سے بڑے مرتبہ کا مستحق سمجھ بیٹھے اور نیکی وتقویٰ کی راہ میں کسی جدوجہد کی ضرورت سے مستعفی ہوجائے۔ اس کا وجود ہر شخص جانتا ہے کہ نہایت حقیرعنصر سے ہوا ہے اور اس کی ابتدائی پرورش رحم مادر کی تنگنائے میں ہوئی ہے۔ اس وجہ سے مجرد وجود کی بنیاد پر تو اس کو کسی خاص شرف کے حاصل ہونے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ اس کو شرف حاصل ہوسکتا ہے تو تقویٰ اور دین کی بنیاد پر ہوسکتا ہے اور اس چیز سے سب سے زیادہ واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی اپنی میزان میں تول کر جس کو جس مرتبہ کا مستحق پائے گا اس پر سرفراز فرمائے گا۔ اس میزان کے فیصلہ سے پہلے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنی عالی مقامی کی مناوی کرتا پھرے۔ یہ مضمون سورة معارج کی آیت 38۔ 39 میں بھی آئے گا وہاں انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت ہوگی۔
(وحدہ الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں کی برخود غلطی)۔ اس آیت میں انسان کے وجود کا جس حقارت آمیز انداز میں ذکر فرمایا گیا ہے اس پر بھی نگاہ رہے اور (فلا تزکوا انفسکم) میں اس کے دعوئے پاکی و برتری پر جو طنز ہے وہ بھی پیش نظر رہے۔ پھر غور کیجئے اپنے ان صوفیوں کے عقیدہ وحدت الوجود پر جو مدعی ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی کا ایک جزو ہے۔ جو بالآخر اپنے کل میں مل جائے گا اور اس طرح قطرہ سمندر میں مل کر سمندر بن جائے گا۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ ہی کا ایک جزو ہے تو کیا اللہ تعالیٰ نے العیاذ باللہ اپنے ہی وجود کے ایک جزو کا اس حقارت آمیز انداز میں ذکر کیا ہے۔
پھر اس بات پر بھی غور کیجئے کہ مجرد وجود کی بناء پر کسی دعوئے برتری و پاکی کو قرآن نے اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے تعبیر فرمایا ہے لیکن صوفی حضرات بنکارتے ہیں کہ سبحانی سبحانی ما اعظم شانی (میں پاک ہوں، ہر عیب سے پاک ! کیا کہنے میں میری عظمت کے ! میری شان بڑی عظیم ہے ! !) کیا کوئی انسان جس کے اندر ایمان کی رمق بھی ہو اپنی ذات کے بارے میں یہ فرعونی دعویٰ کرسکتا ہے ؟ لیکن صوفیوں نے، چونکہ قرآن و حدیث کی جگہ باطینہ، روافض اور برہمنوں سے رہنمائی حاصل کر کے اس وجہ سے، ان فتنوں کو اسلام میں لا گھسایا اور آج کتنے کم سواد ہیں جو ان فقروں کو دہراتے ہیں حالانکہ وہ ان کے معنی سے بالکل بیخبر ہیں۔
Ayahs 53:33–35(افرء یت الذی تولی واعطی قلیلاً والدی اعندہ علم الغیب فھویری (33، 35)
(مفت کی جنت کے خواب دیکھنے والوں کی تمثیل)۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کردار کو ممثل کر کے پیش کیا ہے جو اس کی راہ میں دینے دلانے کا تو کوئی حوصلہ نہیں رکھتے اور کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو بس چھدا اتارنے کے لیے لیکن اپنے لیے اس کے ہاں بڑے اونچے اونچے مرتبوں کے مدعی ہیں۔ فرمایا کہ کیا ان کے پاس علم غیب کی دوربین ہے کہ وہ اس کی مدد سے ان مراتب و مقامات کو دیکھ رہے ہیں جو ان کے لیے محفوظ ہیں۔
الذی سے ہمارے مفسرین نے عام طور پر قریش کے ایک سردار ولید بن مغیرہ کو مراد لیا ہے۔ اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن اس کے ایک ساتھی کو جب اس کے ارادے کی اصلاح ہوئی تو اس نے اس سے کہا کہ اگر تم آخرت کے ڈر سے اسلام لانا چاہتے ہو تو اس سے بےفکر ہو۔ اگر تم مجھے اتنی رقم دے دو تو آخرت کے خطرے سے تم کو بچانے کا ذمہ دار میں ہوں۔ ولید نے اس کی اطمینان دہانی کے بعد اسلام لانے کا ارادہ ترک کردیا اور اس کو مطلوبہ رقم دینے کا وعدہ کرلیا لیکن بعد میں اس کو تھوڑی سی رقم دے کر باقی دینے سے مکر گیا۔
یہ واقعہ اگرچہ تمام مفسرین نے بیان کیا ہے لیکن اول تو روایت ہی کے اعتبار سے اس کا کوئی درجہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر یہ واقعہ صحیح بھی ہے تو اس کا تعلق کسی پہلو سے بھی ان آیات سے سمجھ میں نہیں آیا۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کرلیجئے کہ ولید نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو کیا قرآن نے یہاں اس بات پر اس کو ملامت کی ہے کہ اس نے اپنا وعدہ کیوں نہیں پورا کیا !
اصل یہ ہے کہ الذی چونکہ عام طور پر معرفہ کے لیے آتا ہے اس وجہ سے ہمارے مفسرین جہاں کہیں الذی یا التی دیکھ پاتے ہیں تو ان کی تلاش کسی خاص شخص کی ہوتی ہے جس سے اس کو منطبق کرسکیں۔ اس کوشش میں انہیں لازماً کوئی نہ کوئی واقعہ بھی بنانا پڑتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی بےتکا اور کلام کے موقع و محل سے کتنا ہی بےجوڑ ہو۔
ہم اس کتاب میں جگہ جگہ مثالیں پیش کرتے آ رہے ہیں (الذی یا التی) ہر جگہ کسی خاص مرد یا کسی معین عورت ہی کے لیے نہیں آتے بلکہ بعض مواقع میں یہ تمثیل کے لیے بھی آتے ہیں یعنی مقصود تو کسی گروہ یا جماعت کے مجموعی کردار کو پیش کرنا ہوتا ہے لیکن وہ پیش اس طرح کیا جاتا ہے کہ گویا لوگوں کے سامنے اس کو ایک خاص شکل میں مشکل کردیا گیا۔ ہم پچھلی مثالوں میں سے یہاں ایک مثال کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ سورة نحل آیت 92 میں یہود کو تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ (ولا تکونو اکالتی نقضت عزلھا من بعد قوۃ انکاثا) کہ اس بڑھیا کی مانند نہ بن جائو جس نے اپنا سارا کا تابنا، اچھی طرح محکم کرنے کے بعد، ادھیڑ کے رکھ دیا۔ یہاں دیکھ لیجئے التی آیا ہے لیکن اس سے کوئی معین بڑھیا مراد نہیں ہے کہ اس کا نام خاندان محلہ کا سراغ لگایا جائے اور اس بات کی تحقیق کی جائے کہ وہ کس طرح کا تتی اور کیوں اپنے کا تے ہوئے کو ادھیڑتی تھی۔ یہ ساری کاوشیں وغیرہ ضروری ہیں اس لیے کہ یہاں اشارہ کسی معین بڑھیا کی طرف نہیں بلکہ ایک تمثیلی کردار کی طرف ہے۔
اسی طرح یہاں ان مشرکین کے سامنے جو اللہ کی راہ میں کچھ دینے دلانے کا حوصلہ تو نہیں رکھتے تھے لیکن اپنے فرضی معبودوں کی شفاعت اور اپنے خاندانی شرف کے زعم میں مدعی تھے کہ جس طرح دنیا میں وہ عالی مقام ہیں اسی طرح آخرت میں بھی، اگر وہ ہوئی ان کے لیے مراتب عالیہ ہیں، ایک کردار تمثیل کی صورت میں رکھا گیا ہے جس کی صورت میں رکھا گیا ہے جس کے آئینہ میں ولید بن مغیرہ بھی اپنی شکل دیکھ سکتا تھا ابو لہب بھی دیکھ سکتا تھا اور قریش کے وہ سارے اغنیاء و بخلاء بھی دیکھ سکتے تھے جو پیغمبر ﷺ کی دعوت انفاق سن کر تو منہ پھیر لیتے لیکن مدعی تھے کہ جنت کی کنجیاں ان کے قبضہ میں ہیں۔ اسلوب کلام یہاں طنز و تحقیر کا ہے۔ یعنی ذرا ان بوالفضولوی کو تو دیکھو جو خدا کی راہ میں کچھ خرچ کرنے سے تو جی چراتے ہیں، شرما شرمی میں کبھی کچھ دیتے بھی ہیں تو محض چھدا اتارنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مدعی اپنے لیے اونچے اونچے درجوں کے ہیں، گویا ان کے لیے جنت میں جو سامان عیش نہیا ہے اسکو غیب کی عینک سے یہیں سے بیٹھے بٹھائے دیکھ رہے ہیں۔
(بخیلوں کی عام روش)۔ (الدی، الدی العافر) سے نکلا ہوا محاورہ ہے۔ (الدی العافر) کا مفہوم یہ ہے کہ کھودنے والے کے آگے کھدائی کے وقت کوئی ایسی چٹان آگئی جس کو توڑنا اس کے لیے دشوار ہوگیا۔ یہ بخیلوں کی عام روش بیان ہوئی ہے کہ اگر مارے باندھے کبھی کچھ خرچ کرتے بھی ہیں تو تھوڑا سا خرچ کرتے ہیں ان پر بخل کا ایسا دورہ پڑتا ہے کہ ان کی مٹھیاں بھینچ جاتی ہیں اور اگر کوئی ان کو اکسانے کی کوشش کرے تو وہ اس کا منہ نوچنے کو دوڑتے ہیں کہ کہاں تک خرچ کیے جائوں ! چلو ہٹو، میں تو ڈھیروں مال لٹا چکا ہوں۔ (یقول اھلکت مالا لبدا (البلد : 6) والی آیت میں انہی بخیلوں کی تصویر ہے۔
Ayahs 53:36–37(ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ وابراھیم الذی و فی الا تزروازرۃ وزرا اخری) (36، 38)
(قریش اور اہل کتاب دونوں کو ایک تنبیہ)۔ یعنی یہ لوگ مفت میں، محض اپنے بزرگوں اور فرضی دیوتائوں کی سفارش کے بل پر جنت کے خواب دیکھے جا رہے ہیں۔ کیا موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کے صحیفوں کی یہ تعلیم ان کو نہیں پہنچی کہ خدا کے ہاں کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں مخاطب اصلاً قریش اور ضمناً اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ ، دونوں نبیوں کی پیروی کے مدعی تھے۔ اسی طرح قریش حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا خاندانی بزرگ بھی مانتے تھے اور دنی پیشوا بھی، اس وجہ سے ان دونوں جلیل القدر نبیوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ فرمایا۔
حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر یہاں الذی و فی کی صفت کے ساتھ ہوا ہے۔ یعنی وہ جس نے اپنے رب کے ہر حکم کی تعمیل کا حق ادا کردیا، جس نے ہر عہد پورا کیا اور جو ہر امتحان میں صادق الوعد اور کامل العیار ثابت ہوا۔ دوسرے مقام میں ارشاد ہوا ہے (واذا ابتلی ابراہیم ربہ بکلمت فاتمھن) (البقرۃ : 124) (یاد کرو) جب کہ ابراہیم ؑ کو اسکے رب نے چند باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ سب پوری کر دکھائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ سب پوری کر دیکھائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کی اس صفت کی یاددہانی میں قریش اور اہل کتاب دونوں کو تنبیہ ہے کہ ان کو دنیا اور آخرت میں جو رتبہ بلند ملا وہ اپنے رب کے ساتھ کامل وفاداری کے صلہ میں ملا اور تمہارا حال یہ ہے کہ کرنے کرانے کے تو کچھ نہیں لیکن ابراہیم ؑ کے نام پر استخوان فروشی کی ایک دکان کھولی رکھی ہے۔
(ایک سوال کا جواب)۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحف کی اضافت حضرت ابراہیم ؑ کی طرف بھی فرمائی ہے تو کیا حضرت ابراہیم ؑ کا بھی کوئی صحیفہ تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصطلاحی مفہوم میں تو حضرت ابراہیم ؑ کا کوئی صحیفہ نہیں تھا۔ ان کی تعلیمات زبانی تھیں جو بطریق روایت ان کی ذریت کی دونوں شاخوں میں نقل ہوتی رہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ تعلیمات زیادہ روشن رہیں اس لیے کہ ان کے اندر برابر انبیاء آتے رہے۔ بنی اسماعیل امی تھے۔ اس وجہ سے ان کے اندر یہ دھندلی ہوتی چلی گئیں۔ بعد میں جب تورات مرتب ہوئی تو اس میں حضرت ابراہیم ؑ کی تاریخ اور ان کی تعلیمات بھی جمع کردی گئیں۔ ان میں یہود نے اگرچہ اپنے اغراض کے تحت بہت سی تحریف کر ڈالی جس کی طرف پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم اشارے کرچکے ہیں لیکن آپ کی بنیادی تعلیمات خاص طور پر وہ جن کا یہاں حوالہ ہے، اس میں موجود ہیں۔ اس وجہ سے اگر صحف ابراہیم سے وہ صحیفے مراد لیے جائیں جن میں حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیمات مذکور ہیں تو یہ نسبت بالکل صحیح ہوگی۔
(ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کے صحیفوں کی بنیادی تعلیم)۔
Ayah 53:38(الا تزروازرۃ اخری) یہ اس تعلیم کا حوالہ ہے جو موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کے صحیفوں میں موجود ہے کہ خدا کے ہاں کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی بلکہ ہر ایک کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا۔ یہ اسی شفاعت باطل کے تصور کی تردید ہے جو اس سورة کا موضوع ہے۔ یہ تعلیم تورات اور انجیل دونوں میں اتنی کثرت سے بیان ہوئی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ اتنی واضح ہدایات کے باوجود ان کتابوں کے حاملین کو شیطان نے کس طرح شرک کے کھڈ میں گرا دیا۔ ہم ان کے حوالے اس کتاب میں جگہ جگہ نقل کرتے آ رہے ہیں، یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayahs 53:39–41(وان لیس للانسان الا ما سعی وان سعیہ سوف یری ثم یجزنہ الجزاء الاوفی (39، 41)
یہ اسی اوپر والی بات کی شرح مزید ہے کہ یہ حقیقت بھی اس کے ساتھ واضح کردی گئی تھی کہ ہر انسان خدا کے ہاں صرف اپنی ہی محنت کا حاصل پائے گا، یہ نہیں ہوگا کہ نیکی تو کسی نے کی اور اس کا پھل کوئی اور کھائے، یا بدی تو زید نے کی اور اس کی سزا بکر بھگتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے آباء و اجداد بڑے نیک تھے تو انکی نیکی کا صلہ انہی کو ملے گا، یہ نہیں ہوگا کہ ان کے اعمال کے صلہ میں تم جنت میں جا براجو۔ یہی اصول دوسرے الفاظ میں یوں بھی بیان ہوا ہے۔ (تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت ولکم ما کسبتم) (البقرۃ : 134) (یہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا ہے، اس کو ملے گا جو اس نے کہا یا اور تمہیں ملے گا جو تم کمائو گے) اگر نیک باپ کے اعمال کے صلہ میں اس کی اولاد جنت میں جاسکتی تو حضرت نوح ؑ سے زیادہ نیک کون ہوسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کے باوجود ان کے بیٹے کو نہیں بخشا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم ؑ جیسے خلیل اللہ نے اپنے باپ کے لیے دعا فرمائی لیکن وہ بھی قبول نہیں ہوئی۔ حضرت لوط ؑ کی بیوی بھی ایک جلیل القدر پیغمبر کی بیوی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون ایسا بےلاگ ہے کہ ایک پیغمبر کی بیوی ہونا اس کے کچھ کام نہ آیا۔ اس کے برعکس فرعون کی بیوی اللہ تعالیٰ کے ایک بہت بڑے دشمن کی بیوی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے سورة تحریم میں نہایت شاندار الفاظ میں اس کی تعریف فرمائی۔ باپ بیٹے اور میاں بیوی کے رشتے سب سے زیادہ محبوب رشتے ہیں اور پیغمبروں سے زیادہ خدا کا کوئی مقرب نہیں ہوسکتا لیکن آپ نے دیکھ لیا کہ جن کے پاس اپنی نیکی کا توشہ موجود نہیں تھا وہ ان رشتوں سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے تو تابہ دیگراں چہ رسد !۔
(دوسرے کی نیکی کے کام آنے کی صورتیں)۔ آدمی کو دوسرے کی نیکی سے خدا کے ہاں کوئی فائدہ دو صورتوں میں پہنچنے کی توقع ہے۔ ایک یہ کہ یہ نیکی ایمان کے رشتہ محبت پر مبنی ہو۔ مثلاً ایک مومن اپنے دوسرے مومن بھائی کے لیے دعا کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے۔ دوسری یہ کہ آدمی کو بلا واسطہ یا بالواسطہ اس نیکی میں کوئی دخل ہو، مثلاً یہ کہ اس نے اس کی تعلیم دی ہو یا اپنے عملی نمونہ سے اس کی مثال قائم کی ہو یا اس کے وسائل مہیا کرنے میں کسی نوع سے اس کا حصہ رہا ہو۔ اگر اس طرح کا کوئی دخل اس نیکی میں اس کا ہے تو یہ بھی در حقیقت ایک طرح سے اس کی سعی و کسب ہی میں داخل اور اس کے لیے یہ ایک خیر جاری ہے۔
(اشتراکی ذہن کے لوگوں کا ایک بےبنیاد استدلال)۔ بعض اشتراکی ذہن کے لوگ اس آیت سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ قرآن اس اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ ہر شخص کو صرف اس کی محنت کی بقدر ہی ملنا چاہیے، لیکن یہ آیت جس موقع و محل میں ہے اس سے یہ استنباط اپنی ذہانت کا بالکل بےجا استعمال ہے۔ اس وجہ سے یہاں ہم ایک غیر متعلق مسئلہ سے تعرض نہیں کرنا چاہتے۔ البتہ نفس اشتراکیت کے بنیادی فلسفہ پر اس کے محل میں ہم نے بحث کی ہے اور آگے بھی موزوں مقامات پر اس کے بعض پہلوئوں پر انشاء اللہ ہم روشنی ڈالیں گے۔ بس اتنی بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ اس دنیا کا نظام امتحان و آزمائش کے اصول پر مبنی ہے اور آخرت میں معاملات عدل و انعام کے اصول پر طے ہوں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے حق المحنت کے طور پر کوئی چیز نہیں دی ہے بلکہ کسی کو کم دیا کسی کو زیادہ اور اس طرح دونوں کے صبر و شکر کا امتحان کیا ہے۔ آخرت میں ان لوگوں کو ان کی نیکی کا صلہ ملے گا جو اس امتحان میں پورے اتریں گے اور وہ لوگ محروم رہیں گے جو امتحان میں ناکام رہے۔ ان کا یہی ناکامی ان کو جہنم میں لے جائے گی، اس لیے کہ اس طرح کے ناکاموں کا ٹھکانا آخرت میں جہنم ہی ہے۔
(وان سعیہ سوف یری ثم یجزنہ الجزاء الاوفی)۔ یعنی کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ یہ کوئی ہوائی بات ہے بلکہ ہر شخص نے جو کچھ کمائی کی ہوگی وہ جلد اللہ تعالیٰ کے ملاحظے میں آئے گی اور پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ اہل ایمان کے لیے تسلی اور منکرین جزاء و سزا کے لیے تنبیہ ہے کہ اہل ایمان مطمئن رہیں کہ ان کی رائی کے دانے کے برابر نیکی بھی رائیگاں نہیں جائے گی اور منکرین بھی آگاہ رہیں کہ ان کی چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی نظر انداز نہیں کی جائیگی۔
Ayah 53:42(وان الی ربک المنتھی) (42)
(سب کا مرجمع صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا)۔ اور یہ بات بھی واضح رہے کہ سب کی بازگشت تیرے رب ہی کی طرف ہوگی۔ اس مغالطے میں کوئی نہ رہے کہ تیرے رب کے سوا کسی کا مولیٰ و مرجع کوئی اور بھی ہے جو اس کو خدا کی باز پرس سے بچا لے گا، یا خدا کے فیصلوں کے خلاف وہ کوئی مرافعہ اس کی عدالت میں کرسکے گا۔ خدا ہی کے حضور میں سب کی پیشی بھی ہوگی اور خدا کے فیصلے بالکل آخری اور حتمی بھی ہوں گے۔
Ayahs 53:43–47(وانہ ھوا اضحک وابکی وانہ ھو امات واحیا وانہ خلق الزوجین الذکر والانثی من نطفہ اذا تمنی وان علیہ النشاۃ الاخری) (43، 47) یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں سب کا مولیٰ و مرجع اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس کے اختیار میں ہنسانا بھی ہے اور رلانا بھی، یعنی وہی خوشی کے اسباب بھی پیدا کرتا ہے اور وہی غم کے اسباب سے بھی دوچار کرتا ہے۔ اسی کے اختیار میں سکھ بھی ہے اور اسی کے اختیار میں دکھ بھی۔ رنج و غم اور نفع و فہ سب اسی کے اختیار میں ہے تو اس کے سوا کوئی دوسرا کس حق کی بناء پر مولیٰ و مرجع بن جائے گا ؟ اسی طرح وہی موت دیتا ہے اور وہی زندگی بخشتا ہے۔ تو جب کسی دوسرے کو نہ موت کے معاملے میں کوئی دخل نہ زندگی کے معاملے میں کوئی اختیار تو اس کے سوا کسی اور کو مولیٰ و مرجع بنانے کے کیا معنی ؟
اسی نے جوڑے کے دونوں فرد مرد اور عورت پیدا کیے۔ یہ نہیں ہوا ہے کہ مرد کو تو کسی نے پیدا کیا ہو اور عورت کہیں اور سے وجود میں آئی ہو، بیٹے کوئی بخشتا ہو اور بیٹیاں کہیں اور سے آدھمکتی ہوں۔ تو جب اس طرح کی کسی تقسیم کا امکان عورت اور مرد کی پیدائش میں نہیں ہے تو کسی اور کے مرجع بنانے کے کیا معنی ؟
ان کی پیدائش پانی کی ایک بوند سے ہوتی ہے جو ٹپکا دی جاتی ہے۔ اس ٹپکا دینے کے بعد کسی کو بھی پتہ نہیں کہ اس کی نشوونما کس شکل میں ہوگی۔ اس سے لڑکی پیدا ہوگی یا لڑکا، اس کی تکمیل ہوگی یا نہ نا تمام ہی رہے گا ؟ اس کو شکل و صورت کیسی ملے گی ؟ ان باتوں میں سے کسی بات کا بھی کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ یہ ساری باتیں صرف وہ خالق وعلیم ہی جانتا ہے جو گو نا گوں پر دوں کے اندر پانی کی اس بوند کی پرورش کرتا اور ایک معین مدت کے بعد اس کو ظہور میں لاتا اور پھر اس کو ایک مرد یا عورت کی حیثیت سے پروان چڑھاتا ہے۔ جب یہ سارے کام خدا ہی کے اختیار میں ہیں تو اولاد کے لئے درخواست کیوں اور سے کیوں کی جائے۔ (وان علیہ النشاۃ الاخری) یعنی جب خدا ہی سب کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کرتا ہے تو اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کیوں دشوار ہوجائے گا ؟ اس کا ممکن ہونا بھی واضح ہے اور خدا کے عدل اور اس کی رحمت کے ظہور کے لیے اس کی ضرورت بھی واضح ہے۔ تو جب یہ دونوں باتیں واضح ہیں تو اللہ تعالیٰ کی حکمت واجب کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے جس میں سب کو اٹھا کھڑا کرے۔ ان کی نیکی اور بدی کو جانچے اور ان کے اعمال کے اعتبار سے ان کو جزاء و سزا دے۔ یہ ساری باتیں معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کے اس اعلان برأت میں بھی موجود ہیں جو انہوں نے اپنی قوم سے علیحدگی کے وقت کیا ہے۔ سورة شعراء میں یہ یوں نقل ہوا ہے۔
(الشعراء : 78۔ 82)۔۔۔۔۔ (جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہ میری رہنمائی فرماتا ہے اور وہ کہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفابخشتا ہے۔ جو مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا اور وہ کہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ جزاء کے دن میری خطائیں بخشے گا۔)
Ayahs 53:48–49(وانہ ھو اغنی واتنی وانہ ھو رب الشعری) (48، 49)
(بخیل مالداروں کو تنبیہ)۔ یعنی وہی ہے جو آدمی کے فقر کو غنا سے بدل دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی ضرورت سے اتنا زیادہ دے دیتا ہے کہ وہ اس کو جمع کر کے مال دار آدمی بن جاتا ہے۔ اتنی، تنیۃ سے ہے جو جمع کیے ہوئے مال کے لیے آتا ہے۔ گویا اغنی بہا ان لوگوں کے لیے استعمالہوا جو فقر کے دائرہ سے نکل چکے ہیں اور اقنی ان کے لیے استعمال ہوا ہے جو صرف فقر کے دائرہ سے نکل ہی نہیں چکے ہیں بلکہ مالداروں کے زمرے میں ہیں۔ اوپر آیات 33، 34 میں ان مالداروں کا کردار بیان ہوچکا ہے جو خدا کی راہ میں دیتے دلاتے تو کچھ بھی نہیں لیکن جنت کے مراتب عالیہ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ انہی کو تنبیہ ہے کہ جو مال و ثروت ان کو حاصل ہے یہ خدا کی دین ہے۔ اس میں شعری کو کوئی دخل نہیں ہے، جیسا کہ انہوں نے گمان کر رکھا ہے شعری کا رب بھی اللہ تعالیٰ سے ہے۔ (شعری)۔ شعری ایک ستارے کا نام ہے جو موسم بہار میں طلوع ہوتا ہے، مشرکین عرب اس کو بہت مبارک سمجھتے تھے اور بہار کی تمام شادابیاں اور تمام تجارتی سرگرمیاں اسی سے منسوب کرتے تھے۔ ایک جاہلی شاعر اپنے ممدوح کی تعریف میں کہتا ہے :
(شامس فی القرحتی ادا ما۔۔ ذکت الشعری فبر دو ظل)۔۔۔ (وہ سردیوں کی ٹھنڈ میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والا ہے اور جب شعریٰ طلوع ہوتا ہے (یعنی موسم بہار میں) تو وہ لوگوں کے لیے ٹھنڈک اور سایہ بن جاتا ہے) یہاں اس بحث پر نظر رہے جو ابتدائے سورة میں والنجم اذا ھری کے تحت گزر چکی ہے کہ یہ ستارے جن کو نادانوں نے اپنی قسمتوں کا مالک سمجھ رکھا ہے، اپنے سجود و ہبود سے خود شہات دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا رب ہے۔ یہ امر ضروری نہیں ہے کہ یہ ساری باتیں بعینہٖ موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کے صحیفوں کے حوالوں ہی پر مبنی ہوں بلکہ ان کی نوعیت توسیع کلام ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک قول کا حوالہ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ایسے اضافے بھی کردیئے جاتے ہیں جو اگرچہ نفطاً تو اس قول کا جزو نہیں ہوتے لیکن معناً اسی پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس سے بات کی پوری وضاحت بھی ہوجاتی ہے اور کلام مطابق حال بھی ہوجاتا ہے۔ میرے نزدیک یہی صورت یہاں بھی ہے۔ آیت 42 سے آگے کی آیات توسیع کلام کی حیثیت رکھتی ہیں جس سے کلام قریش کے لیے گویا خود ان کی حکایت بن گیا ہے۔
Ayahs 53:50–52(وانہ اھلک عاد الاولی وثمود انما النقی وتوم نوح من قبل انھم گانو ھم اظلم وطغی) (50۔ 52)
(قریش کو تنبیہ تاریخ کے حوالے سے)۔ یہ بھی توسیع کلام ہے، تاریخی حوالوں سے قریش کو تنبیہ کیا گیا ہے کہ جس طرح آج تمہیں انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تم سے پہلے اس ملک کی قوموں میں سے عاد اور ثمود کو بھی ان کے رسولوں نے انداز کیا اور ان سے پہلے قوم نوح کو بھی، لیکن ان قوموں نے خدا کے انداز کی کوئی پروا نہ کی بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کردیا اور اس طرح ہلاک کیا کہ ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی انجام تمہارا بھی ہونا ہے اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی۔ خدا کا قانون سب کے لیے یکساں ہے اور تمہاری اپنی تاریخ اس کی گواہ ہے۔
عاد کو یہاں عادا اولیٰ سے تعبیر کیا ہے اس کی وجہ یہ یہ کہ ثمود انہی کے بقایا میں سے تھے اور وہ عاد ثانی سے مشہور تھے۔ (انھم گانو اھم اظلم اطغی) کا تعلق صرف قوم نوح ہی سے نہیں ہے بلکہ عاد اور ثمود سے بھی ہے، یعنی ان سب پر جو تباہی آئی یہ قدرت نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اور نہایت سرکش تھے۔ مطلب یہ ہے کہ قوموں پر جو تباہی آتی ہے اس کے اصل اسباب خارج میں نہیں ہوتے بلکہ وہ ان قوموں کے اندر ہی سے ابھرتے ہیں جو کبھی زلزلہ، سیلاب اور طوفان کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں کبھی کسی دشمن کے حملہ و ہجوم کی صورت میں۔
Ayah 53:53(والموتفکۃ اھوی نغشھا ما غشی) (53، 54)
یہ قوم لوط کی طرف اشارہ ہے۔ موتفکۃ کی تحقیق لسان العرب میں یہ بیان ہوئی ہے۔ ’ موتفکات ‘ سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو زمین کو بالکل تلپٹ کردیتی ہیں جس طرح جو تنے والا کھیت کی زمین کو تلپٹ کردیتا ہے۔ جب کوئی بڑا سیلاب آتا ہے اور وہ زمین پر مٹی اور ریت کی نئی ترجما دیتا ہے تو اس کو بھی (موتفکۃ) کہتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جو تند طوفانی ہوا زمین کو ریت اور کنکر سے ڈھانک دیتی ہے وہ بھی (موتفکۃ) ہے۔
قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے غبار انگریز ہوا بھیجی جو تند ہو کر بالآخر حاصب یعنی کنکر پتھر برسانے والی طوفانی ہوا بن گئی۔ اس سے اول تو ان کے اوپر کنکروں پتھروں کی بارش ہوئی پھر اس نے اس قدرت شدت اختیار کرلی کہ اس کے زور سے ان کے مکانات بھی الٹ گئے۔ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے (نمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا) (العنکبوت 29۔ 4) (ان میں سے بعض قوموں پر ہم نے کنکر برسا دینے والی آندھی بھیجی ہے) نیز فرمایا (جعلنا عالیھا سافلھا وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل) (الحجر : 15 : 47) (پس ہم نے اس بستی کو تلپٹ کردیا اور ان کے اوپر سنگ گل کی بارش کی)۔
(فغشھا ما غشی)۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرچکے ہیں یہ کسی ایسی صورت حال کی تعبیر کے لیے آتا ہے جس کی تعبیر سے الفاظ قاصر ہوں، یعنی ان کو ایسی چیز نے ڈھانک دیا جو الفاظ کی گرفت سے باہر ہے۔
Ayahs 53:54–55(فبای الا ربک تتماوی) (55) (لسان العرب، جلد 1، صفحہ 291)
(قریش کو میں حیث الجماعت ملامت)۔ یہ خطاب قریش سے ہے۔ ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن مخاطب پوری جماعت ہے۔ جب جماعت کو واحد کے صیغہ یا ضمیر سے خطاب کرتے ہوئے تو مقصود جماعت کے ایک ایک فرد کو متنبہ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہی صورت ہے منکرین کو فرداً فرداً خطاب کر کے ملامت فرمائی ہے کہ جزاء و سزا کے یہ سارے دلائل جو عقل سے، نقل سے، موسیٰ ؑ و ابراہیم ؑ کے صحیفوں اور قوموں کی تاریخ سے بیان ہوئے ہیں، تمہارے سامنے ہیں تو بتائو اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے اور ان کے باب میں جھگڑتے رہو گے۔
(الاء، الی) کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہمارے مفسرین و مترجمین نے عام طور پر نعمت کے لیے ہیں لیکن یہ اس الفاظ کا ادھورا مفہوم ہے۔ اس کے اصل معنی کرشمے، نشانیاں، عجائب قدرت، کارنامے، نوادر اور آثار حکمت کے ہیں۔ نعمتیں بھی چونکہ انہی کے تحت ہیں اس وجہ سے وہ بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں، لیکن ہر جگہ اس کا ترجمہ نعمت صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نعمت کی طرح اللہ تعالیٰ کی نعمت کی نشانیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ لفظ سورة رحمان میں بار بار آیا ہے اور اس کے سارے پہلو اس میں واضح ہوگئے ہیں۔ وہاں ہم اس کی وضاحت اس کے مواقع استعمال اور کلام عرب کی روشنی میں کریں گے۔ استاد امام حمید الدین فراہی ؒ نے اپنی کتاب مفردات القرآن میں اس پر نہایت محققاز بحث کی ہے۔
Ayah 53:566۔ آگے آیات 56۔ 62 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خاتمہ میں قرآن کے معروف طریقہ کے مطابق اس مضمون کی پھر یاددہانی فرما دی گئی ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ یاد ہوگا کہ سورة کا آغاز اس مضمون سے ہوا ہے کہ اس قرآن کو کاہنوں اور نجومیوں کے کلام کی قسم کی کوئی چیز خیال کر کے اسکے انداز کو ٹالنے کی کوشش نہ کرو، بلکہ یہ وحی الٰہی اور کلام ربانی ہے۔ اگلے زمانوں میں جس طرح نذیر آ چکے ہیں انہی کے زمرے کا نذیر یہ بھی ہے۔ یہ جس چیز سے تمہیں ڈرا رہا ہے اس کو دور نہ سمجھو، وہ آئی کھڑی ہے اور جب آجائے گی تو اللہ کے سوا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں بنے گا۔ اس کلام کا مذاق نہ اڑائو۔ یہ ہنسی مسخری کی چیز نہیں، رونے کی چیز ہے۔ ہوش میں آئو۔ اللہ ہی کو سجدہ اور اسی کی بندگی کرو۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
7۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(ابتداء کے مضمون کی)۔ (ھذا نذیر من النذر الاولی)۔ (56)۔ ھذا سے اشارہ قرآن مجید کی طرف ہے چونکہ بحث کا آغاز قرآن ہی سے ہوا تھا اس وجہ سے مشار الیہ کے ذکر کے بغیر بےتکلف آخر میں اس کی طرف اشارہ کردیا جس سے تمہید اور خاتمہ کا ربط بالکل واضح ہوگیا۔ اگر کوئی اس سے نبی ﷺ کو مراد لے تو بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوگا اس لیے کہ پیغمبر اور اس کی دعوت دو الگ الگ چیزیں ہوتیں۔ قرآن مجید میں بعض جگہ (ذکر رسولا) کے الفاظ آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ذکر سے مراد قرآن ہے اور رسول سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ لیکن اسلوب بیان ایسا اختیار فرمایا گیا ہے کہ نبی اور قرآن دونوں ایک ہی چیز کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔ (نذر) کی تحقیق اس کی ممل میں گزر چکی ہے۔ یہاں یہ نذیر کی جمع ہے۔ اس سے مراد پچھلے انبیاء اور پچھلے صحائف سب ہیں اور مقصود کلام تنبیہ ہے کہ اس کلام کو ہنسی مسخری کی چیز نہ سمجھو۔ یہ اسی طرح کا انداز ہے جس طرح کا انداز پچھلی قوموں کو کیا گیا۔ اگر تم نے اس کا مذاق اڑایا تو یاد رکھو کہ اس کا انجام تمہارے آگے بھی اسی شکل میں آئے گا جس شکل میں پچھلی قوموں کے سامنے آچکا ہے۔
Ayahs 53:57–58(از فت الازفۃ لیس لھا من دون اللہ کاشفۃ (57، 58)
(ایک حقیقت نفس الاری کا بیان)۔ ازفۃ۔ کے معنی ہیں قریب آنے والی، مراد اس سے عذاب کی وہ گھڑی ہے جس سے قرآن لوگوں کو ڈرا رہا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس عذاب سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے اس کو بہت دور نہ سمجھو۔ اب وہ تمہارے سروں پر منڈلا ہی رہا ہے۔ ہم اس سنت الٰہی کی طرف بار بار اشارہ کرچکے ہیں کہ جب کسی قوم کے انداز کے لیے اللہ تعالیٰ کا رسول آجاتا ہے تو پھر اس کو اتنی مہلت ملتی ہے جتنی اتمام حجت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اس مہلت کے گزرتے ہی وہ قوم تباہ کردی جاتی ہے اگر رسول کی تکذیب پر وہ اڑی جاتی ہے۔ یہ عذاب اس قوم کے لیے قیامت کے عذاب کا دیباچہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ اسلوب بیان رسول کی زبان سے ایک حقیقت نفس الامری کا بیان ہوتا ہے۔ اس میں ذرا بھی مبالغہ کا شائبہ نہیں ہوتا۔ (لیس لھا من دون اللہ گا شفۃ) یعنی اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ یہ گھڑی آئی تو تمہاری دیویاں لات، منات اور عزیٰ اور تمہارے دوسرے دیوی دیوتا تمہارے کچھ کام آنے والے بنیں گے اور اس کی پکڑ سے تمہیں بچا لیں گے۔ یاد رکھو کہ اللہ کے سوا اس کو دور کرنے والا کوئی بھی نہیں بن سکے گا۔
Ayahs 53:59–60(افمن ھذا الحدیث تعجیون وتضحکون ولا تبکون) (59، 60)
ان کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ جو کتاب تمہیں اتنے بڑے عذاب کے قرب کی خبر دے رہی ہے تم اس کے انداز پر تعجب کر رہے ہو کہ بھلا تم پر عذاب کدھر سے اور کیوں آجائے گا ! آگاہ ہو جائو کہ یہ چیز ہنسنے اور مذاق اڑانے کی نہیں بلکہ رونے اور سر پیٹنے کی ہے لیکن تم رونے کی جگہ اس پر ہنس رہے ہو !
Ayah 53:61(وانتم سمدون) (61) سمد اور سمود کے معنی مدہوش ہونے کے ہیں، یعنی تو تمہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہی ہے لیکن تم غفلت کے بستروں پر پڑے سو رہے ہو۔
Ayah 53:62(فاسجدو اللہ واعبدوا (62) یعنی خیریت چاہتے ہو تو جاگو اور دوسرے دیوانوں دیوتائوں کو چھوڑ کر اپنے رب ہی کو سجدہ اور اسی کی بندگی کرو۔ اس کے سوا کوئی اور اس آفت سے نجات دینے والا نہیں بنے گا۔ اس سورة کا آغاز ستاروں کے ہبوط و سجود سے ہوا تھا اور اس کا اختتام اللہ ہی کے لیے سجدہ اور اس کی عبادت کی دعوت پر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی (فالحمدللہ علی ذلک)۔ رحمان آباد۔ 23 جولائی 1977 ء۔ 6 شعبان 1397 ھ