Ayah 52:11۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
والطور (1) ”و“ یہاں قسم کے لیے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں تفصیل سے ہوچکی ہے۔ ا ؎ کہ قرآن میں جو قسمیں کھائی گئی ہیں بیشتر اس دعوے کی شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں جو اس قسم کے بعد بطور مقسم علیہ مذکور ہوا ہے۔ یہاں مقسم علیہ، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا۔ (ان عذاب ربک لواقع) (بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کے رہے گا) اس وجہ سے طور کی قسم لازماً اس دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہے، چناچہ قسم کے اسی مفہوم کو پیش نظر رکھ کر ہم نے اس کا ترجمہ ”شاہدے طور“ کیا ہے اور یہ ترجمہ ہمارے نزدیک زیادہ معنی خیز ہے۔ طور سے مراد ہی جبل طور ہے جس کا ذکر مختلف پہلوئوں سے قرآن مجید میں بار بار ہوا ہے۔ اسی طور کی ایک مقدس وادی طویٰ ، میں حضرت موسیٰ ؑ کو مدین سے واپس ہوتے ہوئے، پہلی بار خدا کی تجلی کا مشاہدہ ہوا۔ یہیں وہ شرف رسالت سے مشرف ہوئے اور حکم ہوا کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس متدربن کر جائیں اور اس کو آگاہ کردیں کہ اگر وہ اپنی سر کشی سے باز نہ آیا تو اپنی قوم سمیت اللہ کے عذاب کی زد میں آجائے گا۔ پھر فرعون کی ہلاکت کے بعد اسی طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تورات دینے کے لیے بلایا۔ حضرت موسیٰ ؑ کی غیبت کے دوران میں جب بنی اسرائیل گو سالہ پرستی کے فتنہ میں مبتلا ہوئے تو اسی طور کے دامن میں اپنی قوم کے سرداروں کو لے کر حضرت موسیٰ ؑ اجتماعی توبہ کے لیے حاضر ہوئے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سارے طور کو ہلا دیا اور بنی اسرائیل کو متنبہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب تورات دے کر تم سے جو عہد لے رہا ہے، اگر اس عہد پر تم استوار نہ رہے تو یاد رکھو کہ اس کی قدرت یہ بھی ہے کہ اسی پہاڑ سے تمہیں کچل کے رکھ دے گا۔
اپنی ان گوناگوں خصوصیات کے سبب سے جبل طور اس دعوے کی صداقت و شہادت کا ایک عظیم تاریخی نشان ہے جو اس قسم کے بعد مذکورہوا ہے، چناچہ اسی خصوص کی بناء پر اس کی قسم سورة تین میں بھی کھائی گئی ہے اور وہاں بھی، جیسا کہ سورة تین کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم واضح کردیں گے۔ 7 اسی جزاء و سزا ہی کے پہلو سے اس کی قسم کھائی گئی ہے۔ (ایک غلط فہمی)۔ بعض لوگوں نے لفظ طور کو یہاں عام پہاڑ کے معنی میں لیا ہے، لیکن یہ قول مختلف وجوہ سے کمزور ہے۔ اول تو قرآن کی تاویل معروف معنی کے لحاظ سے کرنی چاہئے۔ لفظ طور عبرانی یا سریانی میں پہاڑ کے معنی میں ممکن ہے آتا ہو لیکن عربی میں یہ اس معنی میں معروف نہیں۔ قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے اور ہر جگہ علم ہی کی حیثیت سے آیا ہے۔ دوسرے یہ کہ پہاڑ کے معنی لینے کی صورت میں مقسم علیہ کے ساتھ اس کی مطابقت باقی نہیں رہتی ورآنما لی کہ یہ چیز ضروری ہے ورنہ قسم بےمحل ہوجائے گی۔
Ayah 52:2کتاب سطور، سے مراد تورات ہے) وکتب مسطور (2) کتب مسطور سے مراد یہاں تورات ہے۔ اس کا ایک واضح قرینہ تو یہ ہے کہ اس کا عطف طور پر ہے اور یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ملعد ہی پر عطاء فرمائی۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ اس کی صفت (فی رق منشور) آتی ہے۔ (رق) باریک کھال کو کہتے ہیں جو زمانہ قدیم میں لکھنے کے مصرف میں آتی تھی اور تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات شروع شروع میں صاف کی ہوئی باریک کھالوں ہی پر لکھی جاتی جو طومار کی شکل میں لپیٹ کر رکھی جاتیں اور تلاوت کے وقت ان کو پھیلا لیا جاتا۔ ان قرآئن کی موجودگی میں تورات کے سوا کسی اور کتاب کو مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے اس سے دفتر عمال کو مراد لیا ہے، لیکن یہ اس کا محل نہیں ہے۔ اس کی شہادت اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں موثر ہو سکتی ہے۔
مقسم علیہ کے ساتھ بھی اس کا تعلق بالکل واضح ہے۔ جس طرح طور اللہ تعالیٰ کے قانون مجازات کا ایک تاریخی نشان ہے۔ اسی طرح تورات بھی ایک عظیم تحریری ریکارڈ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا قانون مجازات بھی نوشتہ ہے اور اس قانون کے تحت اس نے دنیا میں قوموں کے ساتھ جو معاملات کیے ہیں ان کی تاریخ بھی محفوظ ہے۔ اس تاریخ کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ مکافات عمل کو قانون حضرت آدم ؑ کے وقت سے برابر جاری ہے اور اس کا یہ تسلسل اس امر کی دلیل ہے کہ یہ برابر جاری رہے گا، یہاں تک کہ ایک ایسا دن بھی آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ کے عدل کامل کا ظہور ہوگا۔ اس دن جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی وہ اس برائی کی سزا بھگتے گا اور جس نے رائی کے برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اس کا صلہ پائے گا۔
لفظ کتاب کی تنکیر اس کی شان کے اظہار کے لیے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن سے پہلے یہی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہدایت اور آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے لیے اتاری اور جس کے بنیادی احکام تحریری شکل میں حضرت موسیٰ ؑ کو عنایت فرمائے۔ اس سے پہلے حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے جو تعلیم دی وہ تمام تر زبانی دی۔ ان کی تعلیمات کو تحریر کی شکل میں لانے کا آغاز اسی کتاب سے ہوا اس وجہ سے اس کا ذکر خاص اہمیت کے ساتھ ہوا۔ اس تعلیم بالقلم سے خلق پر اتمام حجت کے جو پہلو ظہور میں آئے ان پر انشاء اللہ سورة ٔ رحمن اور سورة علق کی تفسیر میں ہم روشنی ڈالیں گے۔
Ayah 52:3فی رق منشور (3)۔۔۔ لفظ رق کی تحقیق اوپر بیان ہوچکی ہے۔ اس کتاب کے پھیلے ہوئے اوراق میں ہونے کا حوالہ یہاں خلق پر اتمام حجت کے پہلو سے ہے، یعنی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ ایک آشکر حقیقت ہے جو بالکل کھلے اور پھیلے ہوئے اوراق میں بیان ہوئی ہے، جو شخص چاہے، اس کو پڑھ سکتا ہے اور اگر پڑھ نہیں سکتا تو اس کو پڑھوا کر سن سکتا ہے۔ بلکہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کتاب کے حاملین سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کو بتائیں اور سنائیں کہ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل عرب دینی معاملات میں اہل کتاب کی برتری تسلیم کرتے رہے ہیں، چناچہ جگہ جگہ قرآن نے ان کو توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لیں، پھر یہ بات بھی ہے کہ تورات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی تاریخ بھی بیان ہوئی ہے اور اہل عرب اس بات کے مدعی تھے کہ وہ جس دین پر ہیں وہ ان کو اپنے انہی اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ گویا ان کے لیے یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ اس کتاب سے معلوم کرسکتے ہیں کہ ان کے اجداد نے ان کو جزاء و سزا سے ڈرایا ہے یا نہیں۔
(وقت کے یہود پر ایک لطف تعریفیں) لفظ منشور میں وقت کے یہود پر نہایت لطیف تعریفیں بھی ہے۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ یہود اپنے صحیفوں کی بہت سی باتیں چھپاتے ہیں۔ کتمان حق کی یہ بیماری یہود کے اندران کے دور زوال میں پیدا ہوئی اور اس کے پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ ان پشین گوئیوں سے واقف ہوں جو تورات کے صحیفوں میں ہی آخر الزمان ﷺ سے متعلق دارد ہیں اور جن میں ان کو یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے اس نبی کی تکذیب کی تو وہ خدا کے مغضوب اور امامت سے محروم ہوجائیں گے۔ اس لفظ سے یہود کو تورات کی اصل نوعیت کی یادددہانی فرمائی گئی کہ یہ پھیلے ہوئے، صاف و شفاف اوراق میں تھی کہ لوگ اس کو پڑھیں اور سمجھیں اور اس کے اوراق ہر وقت لوگوں کے سامنے کھلے رہیں، لیکن وہ اپنی بد بختی سے ان کو چھپاتے ہیں۔ یہی حقیقت حضرت مسیح نے یہود کو خطاب کر کے یوں واضح فرمائی ہے کہ تم کو چراغ دیا گیا تھا کہ گھر میں اس کو بلند جگہ پر رکھو کہ سارے گھر میں روشنی پھیلے، لیکن تم نے اس کو پیمانے کے نیچے ڈھانک کر رکھا ہے۔
Ayah 52:4والبیت المعمور (4) (بیت معمور سے مراد) بیت معمور سے عام طور پر مفسرین نے جنت کے اندر ایک گھر کو مراد لیا ہے جو فرشتوں کے لیے آسمان میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو زمین میں انسانوں کے لیے بیت اللہ الحرام کی ہے۔ لیکن یہ قول ہمارے نزدیک، یہاں غیر متعلق ہے۔ اس طرح کا کوئی گھر جنت میں ہے تو اس کی شہادت اس دعوے کے حق میں کیا وزن رکھتی ہے جو اس قسم کے بعد پیش کیا گیا ہے ؟ ہمارے مفسرین کو چونکہ یہ غلط فہمی ہے کہ قسم جس چیز کی کھائی جائے وہ کوئی مقدس چیز ہونی چاہئے، اس وجہ سے وہ صرف مقسم بہ کے تقدس کو دیکھتے ہیں حالانکہ اصل دیکھنے کی چیز مقسم بہ کا تقدس نہیں بلکہ پیش کردہ دعوے پر اس کی شہادت کا پہلو ہے۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو دعوے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔
بعض لوگوں نے اس سے بیت اللہ کو مراد لیا ہے۔ یہ قول اس پہلو سے تو وزن دار ہے کہ بلدر امین کی قسم رہ تین میں جزا اور سزا کے حق ہونے پر کھائی گئی ہے۔ بیت اللہ چونکہ اسی بلدامین میں واقع ہے اس وجہ سے اس کی شہادت بھی اپنے اندر ایک معنویت رکھتی ہے لیکن سیاق وسباق اس قول کے خلاف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بعد سقف مرفوع، کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سقف مرفوع سے بیت اللہ کی چھت ظاہر ہے کہ مراد نہیں ہو سکتی۔ اس سے آسمان ہی مراد ہوسکتا ہے اور مفسرین نے آسمان ہی کو مراد لیا بھی ہے۔ اگر اس سے آسمان ہی مراد ہے تو بیت اللہ کی قسم کے بعد آسمان کی قسم اور اس کے بعد دریا کی قسم یہ کچھ بےجوڑ سی قسمیں ہوجاتی ہیں۔ ان کے اندر وہ ہم رنگی و ہم آہنگی باقی نہیں رہتی جو طور اور کتاب مسطور والی قسم میں پائی جاتی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ بیت معمور سے مراد یہ زمین ہے جس پر آسمان کی چھت پھیلی ہوئی ہے۔ اس خیال کی تائید میں کئی باتیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ زمین کے لیے بیت کا استعارہ نہایت موزوں ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ اس کو مہار اور قدار وغیرہ الفاظ میں تعبیر فرمایا ہے نیز زمین کو فرش اور آسمان کو اس کی چھت سے مثال دے کر اس کے گھر ہونے کو نہایت خوبصورت طریقہ پر ممثل بھی کردیا ہے۔ دوسری یہ کہ اس کے بعد آسمان کا ذکر اس بات کا نہایت واضح قرینہ ہے کہ اس سے زمین ہی مراد لی جائے۔ قرآن میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے زمین اور آسمان دونوں کا ذکر ساتھ ہوا ہے۔ تیسری یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ اس حقیقت کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ زمین میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی پرورش کے لیے جو گونا گوں اسباب و وسائل مہیا فرمائے ہیں وہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہیں کہ انسان اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں ہے بلکہ وہ اپنے رب کے آگے جواب دہ ہے۔ لفظ معمور یہاں زمین کے انہی اسباب و وسائل اور اس کے لازمی نتیجہ یعنی مسئولیت اور جواب دہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
چوتھی یہ کہ سابق سورة الذریت میں فرمایا ہے کہ وفی الارض ایت للموقنین (20) (اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے) نیز فرمایا ہے کہ (22) (اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے) ان آیتوں کی تفسیر کرتے ہوئے ہم زمین و آسمان کی ان نشانیوں کی طرف اشارہ کرچکے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون مجازات اور اس کے عذاب پر گواہ ہیں۔ بعینہٖ اسی چیز پر زمین و آسمان کی گواہی یہاں بھی پیش کی گئی ہے، صرف اسلوب ِ بیان کا فرق ہے۔ ان مختلف وجوہ سے ہمارے نزدیک اس سے مراد زمین ہے اور لفظ معمور سے اس کا موصوف ہونا خدا کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ان شانوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس سے قرآن نے جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کے عدل اور جزاء و سزا پر استدلال فرمایا ہے اور جس کی وضاحت اس کتاب میں ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
Ayah 52:5(والسقف المرفوع) (5) (آسمان کی شہادت) زمین کے بعد آسمان کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ قرآن نے اپنے دعوی کی تائید میں بالعموم زمین کی نشانیوں کے ساتھ آسمان کی نشانیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ سورة ٔ ذرایت کی آیت (۔۔۔۔ 22) (اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے) نیز اس میں۔۔۔۔۔ (7) (دھاریوں والے آسمان کی قسم) بھی ہے۔ اس کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ اس سے معلوم ہوجائے گا کہ معتوب قوموں کی تباہی میں آسمان کے برابر ہوا کے تصرفات کو کتنا دخل ہو رہا ہے۔ آسمان کا ذکر قرآن میں موقع و محل کی رعایت سے مختلف صفات کے ساتھ ہوا ہے۔ یہاں اس کو سقف مرفوع سے تعبیر فرمایا ہے۔ لفظ سقف اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، عنایت اور رحمت پر دلیل ہے کہ یہ محض اس کی کرم گستری کا کرشمہ ہے کہ اس نے یہ عظیم شامیانہ ہمارے سروں پر تان رکھا ہے اور لفظ مرفوع اس کی قدرت عظمت اور کبریائی کو ظاہر کر رہا ہے کہ جو ذات اس عظیم اور ناپیدا کنار چھت کے بلند کردینے پر قادر ہے کون سا کام ہے جو اس کے دائرہ قدرت سے باہر ہوسکتا ہے ! اللہ تعالیٰ کی صفات کے یہ دونوں پہلو (یعنی اس کی عنایت اور قدرت) جن مختلف اعتبارات سے آخرت اور جزاء و سزا پر دلیل ہے ان کی تفصیل اس کتاب میں ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔
Ayah 52:6والبحر المسجور (6) سجر کے معنی بھرنے کے ہیں۔ سجر الرجل التنور تنور کو ایندھن سے بھر دیا۔ سجر الماء النھر پانی نے نہر کو لبریز کردیا۔
(سمندر کی شہادت)۔۔ زمین اور آسمان کی شہادت کے بعد یہ زمین کی ایک سب سے بڑی نشانی سمندر کی قسم کھائی۔ یہ امر یہاں ملحوظ ہے کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی زمین اور آسمان کی نشانیوں کا حوالہ دینے کے بعد سمندر کی نشانیوں کا ذکر آیا ہے، ملاحظہ ہوں سورة رحمن کی آیت 10۔ 24 ان آیات پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں میں سے سمندر اپنے اندر خدا کی توحید، اس کی قدرت، اس کی ربوبیت اور اس کی جزاء و سزا کے اتنے شواہد رکھتا ہے کہ انسان ان کو شمار نہیں کرسکتا۔ ان شواہد کی تفصیل اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں۔ ان بحثوں کو ان کے محل میں دیکھے۔ بعض اہم امور سورة رحمن کی تفسیر میں بھی انشاء اللہ زیر بحث آئیں گے۔ یہاں سورة کے عمود اور مقسم علیہ کے تعلق سے اتنی بات یاد رکھیے کہ ان قسموں کے بعد جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے اس کی تاریخی شہادت قوم نوح کے واقعہ میں بھی موجود ہے اور قوم فرعون کے واقعہ میں بھی یہ دونوں قومیں سمندر ہی کے عذاب میں گرفتار ہوئیں جس کی تفصیلات تورات میں بھی موجود ہیں اور قرآن میں بھی۔۔۔۔۔
Ayahs 52:7–8(7۔ 8) (اصل دعویٰ جو سورة کا عمود ہے)۔۔۔ یہ ہے وہ اصل دعویٰ جو اوپر کی قسموں کے بعد پیش کیا گیا ہے اور یہی اس سورة کا عمود بھی ہے۔ یہی بات معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سابق سورة میں ہوائوں کی قسم کے بعد یوں ارشاد ہوئی ہے۔۔۔۔۔ (الذریت 5۔ 6) (بیشک جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ سچی ہے اور بیشک جزا اور سزا ہو کے رہے گی) بس اتنا فرق ہے کہ اس میں عذاب کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ ہم سابق سورة میں (انما توعدون لصادق) کی شرح کرتے ہوئے اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سے مراد در حقیقت وہ عذاب ہے جس سے اللہ کے رسولوں نے دنیا اور آخرت میں ڈرایا ہے۔ اس سورة میں گویا وہی بات واضح فرما دی گئی ہے جو سابق سورة میں مضمر تھی۔ اجمال کے بعد تفصیل اور اضمار کے بعد توضیح قرآن مجید کا معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
اوپر قسموں کی وضاحت کرتے ہوئے ہم ان شواہد کی طرف اشارہ کرچکے ہیں جو اس دعوے پر دلیل ہیں۔ ان کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہی کا حوالہ دے کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم قریش کو جس عذاب سے ڈرا رہے ہو اور جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہ واقع ہو کے رہے گا، کوئی اس کو دفع کرنے والا نہ بن سکے گا۔ یعنی نہ تو ان کی اپنی قوت و جمعیت اس کے مقابل میں کچھ کام آئے گی اور نہ ان کے مزعور شرکاء و شفعاء ان کو اس سے چھڑا سکیں گے نہ دنیا میں اس سے کوئی بچا سکے گا اور نہ آخرت میں کوئی سہارا دے سکے گا۔ طور پر موسیٰ ؑ کو جو خبر دی گئی، تورات کے صحیفوں میں جو ریکارڈمرقوم ہے، یہ زمین جن آثار و شواہد سے معمور ہے، یہ سقف نیلگوں جن عجائب تصرفات قدرت کی گواہی دے رہی ہے اور یہ سمندر جن آیات الٰہی کے امین ہیں ان کو دیکھو اور ان پر غور کرو، وہ اس وعید کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی اور نشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ ان نشانیوں سے جن لوگوں کی آنکھیں نہیں کھلیں گی وہ اگر آسمان کا کوئی ٹکڑا اپنے اوپر گرتا ہوا بھی دیکھیں گے تو اس کو بھی عذاب کے بجائے ابرِ باراں سمجھ کر خوشی سے ناچیں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو تباہ کر کے رکھ دے گا لیکن وہ ایمان نہیں لائیں گے۔۔۔۔۔۔
Ayahs 52:9–12(9۔ 12)۔۔ (یوم عذاب کی تصویر)۔۔ یہ اس عذاب کی تصویر ہے کہ اس دنیا میں یہ آسمان جو نہایت ہی محکم اور اپنے مقام پر ٹکا ہوا نظر آتا ہے۔ ڈانواں ڈول ہوجائے گا۔ مور کے معنی مضطرب اور متردو ہو کر ادھر ادھر حرکت کرنے کے ہیں، یعنی اس کا کوئی ٹکڑا کسی سمت کو جاتا ہوا نظر آئے گا، کوئی کسی جانب کو، اس طرح یہ پہاڑ جو اپنی جگہ گڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اکھڑ کر بالکل بگ ٹٹ چلنے لگیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب آسمان اور پہاڑوں کا یہ حال ہوگا تو انسانوں پر کیا گزرے گی ؟ اس دن کسی کی قوت و جمعیت اور کسی کے قلعے اور مورچے یا کام آنے والے بن سکیں گے ! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ جب قریش کے سرکشوں کو قیامت کے دن کسی ہلچل کی خبر دی جاتی تو وہ بانداز ستہزاء آنحضرت ﷺ سے سوال کرتے کہ اس دن ان پہاڑوں کا کیا بنے گا، کیا یہ بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے ! قرآن نے دوسرے مقام میں انہی لوگوں کے جواب میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ میرا رب ان کو بھی ریزہ ریزہ کر دے گا۔ (فویل یومیذ للمکذبین) فرمایا کہ اس دن ان لوگوں کے لیے ہلاکی ہی ہلاکی ہے جو اس کو آج جھٹلا رہے ہیں (الذین ھم فی خوض یلعبون) یہ انہی جھٹلانے والوں کی صفت ہے جس سے کلام بالکل مطابق حال ہوگیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی کہ اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو مختلف قسم کی سخن سازیوں سے آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے اور آپ کے انداز کو ہوا میں اڑا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان سخن سازیوں کی تفصیل اسی سورة میں آگے آیات 29۔ 46 میں آئے گی۔۔۔
(مخالفین کی خاک باری)۔۔ خوض کے معنی کسی چیز کے اندر گھسنے کے ہیں۔ خاص الماء وہ پانی کے اندر گھس گیا۔ اسی سے خاص القوم فی الحدیث کا محاورہ نکلا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ بات سے بات پیدا کرتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلے۔ عام طور پر یہ محاورہ کسی باطل کی حمایت اور حق کی مخالفت میں سخن سازی اور دلیل بازی کے لیے آتا ہے۔ قرآن میں یہ اسی معنی میں جگہ جگہ آیا ہے۔ مثلاً (۔۔۔ التوبۃ، 9) (اور تم نے بھی اسی طرح کی دلیل بازیاں کیں جس طرح کی دلیل بازیاں انہوں نے کیں)۔۔۔۔۔ (۔۔ الزخرف : 83) (پس ان کو چھوڑو وہ دلیل بازیاں اور سخن سازیاں کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دو چار ہوں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔) کسی بات کو حق سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت میں دلیلیں گھڑنے کی کوشش کرنا اپنی اور اپنے پیروئوں کی عقل کے ساتھ ایک قسم کی دل لگی ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کو لعب سے تعبیر فرمایا ہے۔ خاک بازی کا یہ کھیل یوں تو بہر حال میں نہایت خطرناک ہے لیکن اس صورت میں آخری حد تک خطرناک ہوجاتا ہے جب اس کے نتیجے میں ایک ابدی خسران سے سابقہ پیش آنے والا ہو۔ اس خوض کی پوری تفصیل آگے آرہی ہے۔ اس سے اشارہ مخالفین کی اس طرح کی باتوں کی طرف سے جو وہ اپنے ضمیر کے خلاف محض اس لیے کہتے کہ کسی طرح اس اثر کو مٹائیں جو قرآن کی دعوت اور آنحضرت ﷺ کے کلام سے لوگوں کے دلوں پر پڑ رہا تھا۔ مثلاً یہ کوئی آپ کو کو ہن کہتا، کوئی شاعر، کوئی آپ کو مفتری قرار دیتا اور کوئی شیخی باز، اسی طرح بعض یہ دعویٰ بھی کرتے کہ جس طرح کا کلام یہ پیش کر رہے ہیں اس طرح کا کلام ہم بھی پیش کرسکتے ہیں۔ غرض آپ کو زچ کرنے کے لیے جس کو جو بات بھی سو جھ پاتی وہ بےدھڑک کہہ گزرتا۔ حق کی مخالفت میں یہ نکتہ آفرینیاں ان کے لیے محض دل لگی تھی۔ یہ سوچنے کی توفیق کسی کو نہ ہوتی کہ اس دل لگی سے اپنے اور اپنی قوم کے لیے وہ ابدی جہنم کا سامان کر رہے ہیں۔
Ayahs 52:13–14۔۔۔۔ (13۔۔۔۔ 14) (آخرت کا مذاق اڑانے والوں کا انجام)۔۔۔ اس دن ان دل لگی بازوں پر جو آفتیں نازل ہوں گی۔ یہ ان کی تفصیل ہے۔ دع کے معنی پوری شدت و نفرت کے ساتھ دھکا دینے کے ہیں اور اس کے بعد دعا اس کی مزید تاکید کے لیے ہے، یعنی آج یہ دل لگی میں مصروف ہیں لیکن اس دن یہ جہنم کی طرف دھکے دے دے کر ہانکے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا کہ یہ ہے وہ دوزخ جس کا دنیا میں تم مذاق اڑاتے اور جس کو جھٹلاتے تھے
Ayah 52:15۔۔۔ (15) یعنی دنیا میں جب اللہ کا رسول تم کو اس سے ڈرا رہا تھا تو تم اپنے آپ کو اور اپنے عوام کو اس سے نچنت رکھنے کے لیے قرآن کے انداز کو الفاظ کی جادوگری قرار دیتے تھے۔ اب بتائو یہ الفاظ کی جادوگری ہے یا ایک حقیقت ہے لیکن جس طرح تم دنیا میں اس سے اندھے بنے رہے اسی طرح اب بھی تمہیں یہ دکھائی نہیں دے رہی ہے
Ayah 52:16۔۔۔۔ (16) حکم ہوا گا کہ جائو اس میں پڑو، تمہارے لیے اب کوئی مفر نہیں۔ خواہ صبر کرو یا رئو و چلائو، دونوں تمہارے لیے یکساں ہے، نہ صبر کی داد طنی ہے اور نہ آہ و فریاد کی شنوائی ہوئی ہے۔ (انما تجزون ما کنتم تعملون) یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے تمہارے اپنے ہی اعمال ہیں۔ اگر تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہوتی اور تم فریاد کرتے تو شنوائی اور فریاد رسی کی توقع کرسکتے تھے لیکن جب تمہاری اپنی ہی کمائی تمہارے سامنے آرہی ہے تو فریاد کس کے خلاف کرو گے اور شنوائی کی توقع کس سے کرو گے ! (انما تجزون ما کنتم تعملون) سے مراد یہ نہیں ہے کہ بعینہٖ وہ اعمال ان کے سامنے آئیں گے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے بلکہ مراد ان اعمال کی حقیقتیں ہیں۔ دنیا میں انسان جو عمل بھی کرتا ہے، خواہ نیکی کا عملی ہو یابدی کا، وہ اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک خاص شکل اختیار کرتا ہے اور اسی شکل میں وہ عمل کرنے والے کے سامنے آئے گا، اگرچہ اس کی شکل اس سے مختلف ہوگی جس شکل میں وہ اس دنیا میں انجام پایا لیکن چونکہ وہ اسی کی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہوگا اس وجہ سے فرمایا کہ تم وہی بدلے میں پارب ہو جو تم دنیا میں کر کے آئے ہو
Ayah 52:17۔۔۔۔ (17) مکذبین کے انجام کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے ان کے مقابل میں متقین کا صلہ و انعام بھی بیان فرما دیا۔ تقابل کا اصول دلیل ہے کہ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے پیغمبر کے اندر کا مذاق اڑانے کی جگہ اس کی باتیں گوش دل سے سنیں، ان پر غور کیا اور ان کو حرز جاں بنایا۔ فرمایا یہ لوگ بیشک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے
Ayah 52:18۔۔۔۔۔۔ (18) یہ ان باغوں اور نعمتوں سے ان کو بہرہ مند اور محظوظ ہونے کی تفصیل آرہی ہے۔ فرمایا کہ ان کے رب نے ان کو جو کچھ بخش رکھا ہوگا اس سے وہ پوری آزادی کے ساتھ محظوظ ہو رہے ہوں گے (بما اتھم ربھم) میں جو ابہام ہے وہ تفخیم شان پر دلیل ہے کہ آج کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ ان کا رب ان کو کیا کچھ بخش دے گا۔ ان کی حقیقت اس دن کھلے گی جس دن یہ عطا ہوں گی اور انہیں پر کھلیں گی جن کو عطا ہوں گی۔ (ووقھم ربھم عذاب الجحیم) کا عطف میرے نزدیک میرے نزدیک (بما اتھم ربھم) پر ہے۔ یعنی وہ اپنے رب کی بخشی ہوئی بےپایاں نعمتوں سے محظوظ اور خاص طور پر اس کے اس فضل پر خوش ہو رہے ہوں گے کہ اس نے ان کو اپنی توفیق بخشی سے دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا (لفظ فکھین) میں مسرت و ممنونیت کا مضمون خود مضمر ہے اس وجہ سے اس مفہوم کے لیے کوئی الگ لفظ لانے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جس دوزخ کو اس کے مذبین آج اپنے مذاق کا موضع بنائے ہوئے ہیں اہل جنت قیامت کے دن اس سے نجات پانے کو اپنے رب کا سب سے بڑا فضل و احسان سمجھیں گے اور اس پر ان کارواں رواں شکر گزار ہو رہا ہوگا۔ یہ مضمون آگے اسی سورة میں یوں آیا ہے (قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین۔ فمن اللہ علینا ورتنا عذاب السموم (26۔ 27) (وہ کہیں گے ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں بڑے چوکنے رہے ہیں تو اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہم کو عذاب سموم سے محفوظ رکھا۔
Ayah 52:19(کلوا واشربو ھنیا بما کنتم تعملون (19) یعنی ان لوگوں کو رب کریم کی طرف سے بشارت دی جائیگی کہ اب اپنے اعمال کے صلے میں بےغل و غش کھائو پیو۔ نہ اس سے کوئی ضرر لا حق ہوگا، نہ اس میں کمی واقع ہوگی اور نہ اس کے لیے تمہیں دکھ جھیلنا پڑے گا۔ ھنیی نعمیل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کے معنی ہیں راس آنے والی چیز۔ یہاں یہ درحقیقت مصدر مخدوف کی صفت واقع ہے۔ پورا جملہ یوں ہے (کلوا واشربوا اکلا شربا ھنیا) بعض لوگوں نے اس کو حال کے مفہوم میں لیا ہے لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔
Ayah 52:20(متکین علی سرر مصفوفۃ وزوجنھم بحورعین (20) متکین دراصل فکھین کی وضاحت اور بیچ کا جملہ کلوا واشربو۔۔۔ الایۃ بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں سے محظوظ ہو رہے ہوں گے صف بہ صف تختوں پر بیٹھے ہوئے۔ صف صف ہونا ان کی نشست گاہوں کے کمال درجہ آراستہ ہونے کی بھی تعبیر ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ ان میں باہم کامل محبت اور بےتکلیفی ہوگی اس وجہ سے دور دور ہو کر بیٹھیں گے۔ بعض جگہ یہ مفہوم متقبلین کے لفظ سے بھی ادا کیا گیا ہے۔ (وزوجنھم بحورعین) انسان کا کوئی لطف و سرور بھی بیوی بچوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جنت میں یہ نعمت بھی اہل ایمال کے لیے مہیا فرمائے گا۔ اس کی تعبیر کے لیے الفاظ وہ استعمال فرمائے ہیں جن سے ہم اس کافی الجملہ تصور کرسکیں۔ رہی اس کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ یہ آخرت ہی میں واضح ہوگی۔
Ayah 52:21(والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنابھم ذریتھم وما التتھم من عملھم من شئی کلی امری بما کسب رہین (21)
(اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ایک بشارت)۔۔ جنت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے جو اہتمام فرمائے گا اسی سلسلہ میں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ ان کی اولاد میں سے جس نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہوگی اللہ تعالیٰ ان کو بھی ان کے ساتھ ملا دے گا اگرچہ وہ ایمان و عمل کے اعتبار سے ان کے درجے کے مستحق نہ ہوں۔ اس یکجائی کے لیے ضابطہ یہ بیان فرمایا کہ (وما التنھم من عملھم من شئی) اولاد کے ایمان کے کسر کا جبران کے والدین کے عمل میں کمی کر کے نہیں کیا جائیگا۔ وہ اپنے اسی مرتبہ پر سرفراز رہیں گے جس کے وہ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے مستحق قرار پائے ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے ان کی اولاد کے درجے کو اونچا کر دے گا۔ (واتبعتھم ذریتھم بایمان) میں لفظ ایمان کی قید سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ رعایت صرف اسی اولاد کے لیے خاص ہے جس نے ایمان کے ساتھ اپنے بزرگ کی اتباع کی ہو، اگر وہ ایمان سے محروم ہو تو اس رعایت کی مستحق نہیں ہوگی اگرچہ وہ ان کے اتباع کی کتنی ہی بلند آہنگی کے ساتھ مدعی ہو۔ لفظ ایمان کی تنکیر سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کے مدارج ہیں۔ اگر اولاد کو ایمان کا وہ ادنیٰ درجہ بھی حاصل ہوا جو اس کو جنت کے کی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا بھی مستحق ٹھہراتا ہے تو وہ اس رعایت کی مستحق قرار پائے گی۔
(نجات سے متعلق اصل ضابطہ) (کل امری بما کسب رہین) یہ نجات سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اصل ضابطہ بیان فرما دیا ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے عوض گرد ہے۔ عمل ہی چھڑائے گا، عمل ہی ہلاک کرے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ ایمان و عمل کے بغیر محض نیکوں سے ظاہری نسبت رکھنے کے سبب سے کوئی جنت میں ان کے پاس پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل انہی پر فرمائے گا جو اپنے ایمان و عمل سے اس کا استحقاق پیدا کریں گے۔ اس میں یہود اور مشرکین عرب دونوں کو تنبیہ ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے دین کو تو بالکل مسخ کر کے رکھ دیا لیکن محض ان سے نسبی رکشتہ کے بل پر جنت کے اعلیٰ مقامات پانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ جب نجات کے باب میں اصل ضابطہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے عوض میں گرد ہے تو اولاد کا اپنے سے برتر درجے کے بزرگوں کی صفت میں جا پہنچنا کس بنیاد پر ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعلق رکھنے والا ہے جو اس نے اپنے باایمان بندوں کے لیے خاص رکھا ہے۔ اس سے اس ضابطہ کی نفی نہیں ہوتی جو (امری بما کسب رہین) کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ نجات تو بیشک کسی کو ایمان و عمل کے بغیر حاصل ہونے والی نہیں ہے لیکن اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کے مراتب و مدارج میں اپنے فضل سے اضافہ بھی نہیں فرمائے گا۔ ان دونوں چیزوں کے دائرے الگ الگ ہیں۔ ان میں باہمدگر کوئی تناقض نہیں ہے۔
(ایک اور استنباط)۔۔ اس آیت سے یہ بات بھی مستنبط ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح والدین کی خوشی کی تکمیل کے لیے ان کی اولاد کو ان کے ساتھ جمع کر دے گا اگرچہ اولاد اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے ان کے مرتبہ کی سزا اور نہ ہو۔ اسی طرح بلند مرتبہ اولاد کی مسرت کی تکمیل کے لیے ان کے ساتھ ان کے باایمان والدین کو بھی جمع کردے گا اگرچہ والدین اپنے ایمان و عمل کے لحاظ سے ان کے درجے کے حق دار نہ ہوں۔ اس استنباط کی دلیل یہ ہے کہ جو تعلق خاطر والدین اور ان کی اولاد کے درمیان پایا جاتا ہے وہی تعلق خاطر اس دوسری صورت میں بھی موجود ہے۔
(اس بشارت کا موقع و محل)۔۔۔ یہاں اس بشارت کا موقع و محل بھی قابل توجہ ہے۔ اگر کسی شخص کے اندر سچا ایمان ہے تو وہ اپنی اولاد سے متعلق سب سے زیادہ فکر مند اس بات کے لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت کے ہول اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ یہ ارمان کہ اولاد کو دنیوی کامیابیاں حاصل ہوں گی اگر ہوتا بھی ہے تو اس کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے، چناچہ حضرات انبیاء اور صالحین نے اپنی اولاد کے لیے جو دعائیں فرمائی ہیں ان میں آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھا ہے بلکہ اس چیز کو اصل کی حیثیت دی ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا تھا جو اس دور میں نبی ﷺ کی دعوت سے مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان کے قلوب جب نور ِ ایمان سے منور ہوئے تو ان کو سب سے زیادہ تشویش اپنی اولاد کے دنیوی مستقبل سے متعلق نہیں بلکہ اس کے اخروی انجام سے متعلق ہوئی۔ ان کی اس تشویش کا اظہار آگے اسی سورة کی آیت 26 (انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین) (بیشک ہم اس سے پہلے اپنے اہل و عیال کے اندر چوکنے اور خبر دار رہے ہیں) سے ہوتا ہے۔ اس آیت کے تحت ہم انشاء اللہ واضح کریں گے کہ اس میں جس ڈریا تشویش کا حوالہ ہے اس سے مراد ان کا یہ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس گلے کا چرواہا بنایا ہے اس کی کوئی بھیڑ بھیڑیے کا لقمہ نہ بنے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکال کر صراط مستقیم کی ہدایت بخشی ہے اسی طرح ان کی اولاد کو بھی ایمان کی توفیق نصیب ہوتا کہ ان کو جہنم کے ہول سے دو چار نہ ہونا پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انہی باایمان بندوں کی تسلی کے لیے یہ بشارت دی کہ اگرچہ یہ ضابطہ تو بالکل اٹل ہے کہ کسی شخص کو نجات ایمان و عمل کے بدوں حاصل نہیں ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں پر یہ فضل ضرور فرمائے گا کہ اگر ان کی اولاد نے ان کی پیروی کی تو ایمان کے اعتبار سے اس کا درجہ فروتر ہو لیکن اللہ تعالیٰ اولاد کو ان کے ساتھ جمع کر دے گا اور اس یکجائی کے لیے ان کے درجے کو نیچا نہیں کرے گا بلکہ اولاد کے درجے کو اونچا کر دے گا۔
(اولاد کی اصلاح کے لیے فکر مند رہنے کی تعلیم)۔۔ یہ اس بات کی تعلیم ہے کہ ہر شخص اپنی اولاد اور اپنے متعلقین کو ایمان کی راہ دکھانے کی کوشش، جس حد تک اس کے امکان میں ہو، ضرور کرے۔ ایمان کے بغیر کسی شخص کو بھی نجات حاصل نہیں ہوگی اگرچہ وہ کسی نبی اور رسول کی اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کسی کی اولاد نے اگر ایمان کی راہ اختیار کرلی تو گو اس کا ایمان ادنیٰ درجے کا ہی ہو لیکن اس کو اپنے رفیع المنزلت بزرگوں کی معیت جنت میں ضرور حاصل ہوجائے گی۔
Ayah 52:22(رامدد نھم لفاکھۃ ولحم مما یشتھون (22) یعنی جس طرح ہم ان کی اولاد کو یکجا کردیں گے، اسی طرح ان کے لیے مطلوبہ ہوا کہ اور ان کے مرغوب گوشت میں بھی اضافہ کردیں گے (لفظامددنا) اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تعداد کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے رزق و فضل میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ (فانۃ اور نحم کے دونوں لفظوں کے اندر تمام غذائی نعمتیں جمع ہوگئی ہیں خواہ وہ لفکات کی نوعیت کی ہوں یا غذا کی۔
Ayah 52:23(یتنازعون فیھا کا سا لا لغو فیھا ولا تاتیھم) (23)
(جنت کا لطف و سرور)۔ یہ اس لطف و سرور کا بیان ہے جس سے وہ جنت میں بہرہ مند ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان جام شراب کے تبادلے ہو رہے ہیں۔ (تنارعوا الک اس) کے معنی ہیں (تعاطر) یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف شراب کے جام بڑھائیں گے، چھین جھپٹ اس لفظ کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ لفظ کاس ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لیے آتا ہے۔ (لا لغز فیھا ولا تاتیھم) یعنی یہ شراب ان برے اثرات سے بالکل پاک ہوگی جو دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہے۔ اس شراب سے آدمی نہ تو کسی لغو گوئی میں مبتلا ہوگا اور نہ کسی پر گناہ کی تہمت لگائے گا۔ (اثمہ تاثیما) کے معنی ہیں اس نے اس کو گناہ کی تہمت لگائی۔ اس دنیا کی شراب کے مفاسد میں سے یہ بھی ہے کہ اس بد مستی میں آدمی اپنے حریفوں اور ان کی بہوئوں بیٹیوں پر ہر قسم کی تہمتیں جڑ دیتا ہے جس سے زمانہ جاہلیت میں بڑے بڑے خاندانی ختنے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ قرآن نے دوسرے مقام میں اسی فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس کے ذریعہ سے شیطان تمہارے درمیان عداوت اور بغض کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس جنت کی شراب اہل جنت کے درمیان الفت و محبت کی عطر بیزی کرے گی، چناچہ سورة واقعہ میں فرمایا ہے (لا یسمعون فیھا لغوا ولا تاتیما الا قیلا سلاما سلاما (25۔ 26) (اس میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے، صرف سلام اور جواب سلام کا چرکا ہوگا)
Ayah 52:24(ویطوف علیھم غلمان لھم کا نھم لولو مکنون (24) یعنی ان کی خدمت اور ان کی فرمائشوں کی تعمیل کے لیے ہر وقت ایسے چھو کرے ان کے سامنے حاضر رہیں گے جو اپنی پاکیزگی اور اپنے حسن و جمال کے اعتبار سے معلوم ہوگا کہ موتی ہیں جو صدف میں محفوظ رہے ہیں اور ان کی خدمت ہی کے لیے ان سے نکلے ہیں۔ اہل عرب کسی چیز کی غایت درجہ نفاست و نزاکت کی تعبیر کے لیے (لولو مکنون) کی تشبیہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کے انداز بیان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان چھو کروں کو خاص اس مقصد کے لیے پیدا کرے گا۔ بعض لوگوں کی رائے اس کے خلاف بھی ہے لیکن ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے اس وجہ سے اس پر تنقید کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 52:25(واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون (25)
(اہل جنت کا ایک دوسرے سے دریافت حال)۔ جنت میں مجتمع ہوجانے کے بعد، جس طرح ایک دراز اور کٹھن سفر کے مسافر منزل پر پہنچ کر ایک دوسرے سے دریافت حال کرتے ہیں اسی طرح اہل جنت تڑپ کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور پوچھیں گے کہ کہیے کیسے گزری، راہ میں کیسی گھاٹیوں سے گزرنا پڑا، منزل تک کس طرح پہنچتا ہوا اور یہ اہل و عال کی یکجائی کسے نصیب ہوئی۔
Ayah 52:26(قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین (26) جواب دینے والے جواب دیں گے کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں۔ اپنی عاقبت کے ساتھ برابر ان کی عاقبت کی بھی ہمیں فکر رہی ہے۔ ہم اس غرور میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے کہ ہمارا بڑا خاندان اور بڑا کنبہ و قبیلہ ہے اور اس دنیا میں ہمیں جو کچھ حاصل ہے یہ ہمارا پیدائشی اور خاندانی حق ہے، اس کو کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا۔ ہم نے آخرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور اپنے رب سے برابر یہ دعا کی کہ قیامت کے دن وہ ہمیں صالحین کے سربراہ کی حیثیت سے اٹھائے۔ فتاق کے پیشوا کی حیثیت سے نہ اٹھائے، ہم نے اپنی اولاد کو ہمیشہ نماز، زکوٰۃ اور خدا سے ڈرتے رہنے کی تاکید اور دین حق پر جینے اور اسی پر مرنے کی وصیت کی۔
Ayah 52:27(فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم) (27) ہمارے اس خوف و اندیشہ کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہم کو اور ہماری اولاد کو اس بہشت میں یکجا کردیا اور آتش دوزخ کی ہوائے گرم سے اس نے ہمیں محفوظ رکھا۔ سموم ہوائے گرم اور آگ کی آنچ کو کہتے ہیں۔ یہ اسلوب بیان اللہ تعالیٰ کی غایت درجہ لطف و احسان کی تعبیر کے لیے وہ اختیار فرمائیں گے۔ مطلب یہ کہ دوزخ اور آتش دوزخ تو درکنار اللہ تعالیٰ نے اس کی ہوائے گرم سے بھی ہمیں محفوظ رکھا۔
Ayah 52:28(انا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو لبرالرحیم (28)
(انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید کی ہے) اس جملہ کا تعلق اوپر والے جملہ (انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین) سے ہے، یعنی ایک تو یہ کہ ہم اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں، دوسرے یہ کہ ہم خوف اور طمع، امیدوارہر حال میں خدا ہی کو پکارنے والے رہے ہیں۔ اس کے سوا کسی اور کی کبھی ہم نے نہ دہائی دی اور نہ کسی کو اس کا شریک و مبہم جانا۔ اس جملہ کو اصلاً آنا تو اوپر والے جملہ ہی کے ساتھ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی مہارت ظاہر کرنے کے لیے (فمن اللہ علینا) الایۃ کو اس پر مقدم کردیا اور اس کو موخر کردیا۔ اس تاخیر میں یہ بلاغت ہے کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ ٔ توحید کو حاصل ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا مستحق ٹھہرا اور جس نے اس میں خرابی پیدا کی اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس عقیدہ میں مستحکم رہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان فرمایا۔
(انہ ھو البرالرحیم) یہ فقرہ غایت درجہ ممنونیت کے اظہار کے طور پر وہ فرمائیں گے کہ وہ بڑا ہی باوفا اور بڑا ہی مہربان ہے کہ اس نے نہ صرف وہ تمام وعدے پورے کیے جو اپنے بندوں سے کیے، بلکہ ان کو اپنے کرم مزید سے بھی نوازا۔ لفظ بر کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے۔ جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر آتا ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں سے جو وعدے کیے ہیں وہ سب کو پورا کرنے والا ہے۔ صدق اور وفا اس لفظ کی اصل روح ہے۔ اس کے ساتھ رحیم کا اضافہ اس حقیقت کو ظاہر کررہا ہے کہ وہ صرف وعدے ہی پورے کرنے والا نہیں، بلکہ بندوں کو کوتاہیوں سے در گزر کر کے ان کو اپنے مزیدافضال سے نوازنے والا بھی ہے۔
Ayah 52:292۔ آگے آیات 29۔ 49 کا مضمون
آگے کی آیات میں نبی ﷺ کی حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی یا وہ گوئیوں کی پروا کیے بغیر اسی قرآن کے ذریعے سے تذکیر کرتے رہو۔ جو لوگ تمہاری تکذیب پر اڑے رہیں گے وہ خود اپنی شامت بلائیں گے۔ اسی ذیل میں مخالفین کی ان باتوں کے سکت جواب بھی دیئے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں وہ کہتے تھے اور جن کی طرف اوپر لفظ خوض سے ارشاد فرمایا ہے۔ ان کی اس ساری سخن سازی کو قرآن نے محض ایک چال قرار دیا ہے اور یہ اطمینان دلایا ہے کہ اس چال سے وہ دعوت حق کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے بلکہ یہ انہی کے خلاف پڑے گی۔ آخر میں آپ کو تسلی دی ہے کہ ان کو کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی قائل کرنے والا نہیں بنے گا، یہ اسی دن قائل ہوں گے جس دن قیامت ان کے سر آ کھڑی ہوگی اور ہر پہلو سے ان کی بےبسی ان پر واضح ہو جائیگی تو تم صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور اس صبر کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ اپنے رب کی تسبیح کا اہتمام کرو۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(نذکر فما انت بنعمت ربک بکا ھن ولا مجنون (29)۔ (آنحضرت کو تسلی) و کے ذریعہ سے عطف دلیل ہے کہ یہ بات جو فرمائی جا رہی ہے متفرع ہے انہی باتوں پر جو اوپر گزر چکی ہیں۔ اوپر آپ نے دیکھا کہ قرآن کے انداز عذاب کی صداقت ثابت فرمائی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ آنحضرت ﷺ کو باندازِ تسلی خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ تم جو یاددہانی کر رہے ہو وہ کرتے رہو۔ مخالفین کے طعنوں اور کچوکوں کی پروا نہ کرو، اگر یہ تمہیں کاہن یا خطبی کہتے ہیں تو انہیں بکواس کرنے دو۔ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کوئی کاہن ہو نہ کوئی دیوانے۔ (بنعمت ربک) کے الفاظ یہاں دلیل کے محل میں ہیں، یعنی تم پر تمہارے رب کا جو فضل و انعام ہے وہ ایسی چیز نہیں ہے کہ آنکھیں اور عقل رکھنے والوں سے وہ مخفی رہ سکے، تمہاری زبان فیض ترجمان سے اللہ تعالیٰ نے جو چشمہ حکمت و معرفت جاری کر رکھا ہے اس کو کاہنوں کی خرافات سے کیا تعلق ! تم جس کردار کے حامل ہو، کس کاہن کے اندر اس کا کوئی ادنیٰ پر تو بھی پایا گیا ہے ؟ تم راست بازی اور حق گوئی کے مظہرو کامل ہو، اور کاہن دروغ گو اور لپایئے ہوتے ہیں۔ تم روح القدس سے فیض پاتے ہو اور کاہن شیاطین سے الہام حاصل کرنے کے لیے کان لگاتے ہیں اور اس میں بھی وہ بالکل جھوٹی نمائش کرتے ہیں۔ اس طرح تم کو جو دیوانہ کہتے ہیں وہ خود دیوانے ہیں۔ آخر تم سے بڑا فرزانہ، ذی ہوش، دانش مند اور حکیم انہوں نے کس کو پایا ہے۔ آنحضرت ﷺ پر مخالفین کا یہ اتہام ان کے اپنے پیغمبر کے بالکل خلاف تھا اس وجہ سے اس کی تردید میں زیادہ دلیلیں دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کی لغویت خود اتہام لگانے والوں پر واضح تھی۔ وہ محض عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے اس طرح کی باتیں کہتے تھے۔ سورة شعراء کی تفسیر میں ہم نے اس کے تمام ضروری پہلو واضح کردیتے ہیں۔ ایک نظر اس پر ڈال لیجئے۔
Ayahs 52:30–31(امر یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ قل تربصو فانی معکم من المتربصین) (30، 31)۔
(مخالفین کے ایک الزام کا جواب)۔ یہ ان کے دوسرے الزام کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ لوگ تمہیں شاعر کہتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس طرح دوسرے بہت سے شاعر اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے اسی طرح گردش روز گار ایک دن تمہیں بھی فنا کر دے گی۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس انتظار میں ہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انتظار کرو، میں بھی انتظار میں ہوں کہ میں جو وعید تم کو سنا رہا ہوں وہ پوری ہوتی ہے یا تم جو خواب دیکھ رہے ہو وہ سچا ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مخالفین آپ کو جو شاعر کہتے تھے تو اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، یہ نہیں تھی کہ وہ فی الواقع آپ کو کوئی شاعر سمجھتے تھے، بلکہ اس الزام سے وہ اس اثر کو مٹانا چاہتے تھے جو قرآن کے زور بیان اور اس کی بلاغت و جرالت سے لوگوں کے دلوں پر پڑتا تھا اور جس کے سبب سے اس کے کلام الٰہی ہونے کی ہیبت لوگوں پر بیٹھتی جا رہی تھی۔ وہ اپنے پیروئوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ قرآن میں جو زور ہے یہ اسی طرح کا ہے جس طرح کا زور ہمارے بعض بڑے شاعروں کے کلام میں ہے اس وجہ سے اس کو وحی والہام کا درجہ دے کر نہ تو کسی عذاب کے اندیشہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے اور نہ اپنے دین آبائی سے مایوس ہونے کی۔ جس طرح ہمارے شاعروں کے کلام کی ان کے دور میں بڑی دھوم رہی ہے، لیکن پھر نہ وہ باقی رہے اور نہ ان کی شاعری، اسی طرح چند دن اس شخص کی فصاحت و بلاغت کا تماشا بھی دیکھ لو، بالآخر اس کو بھی گردش روزگار مٹا کے رکھ دے گی۔
(قل تر بصوا فانی معکم من المتربصین) فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس انتظار میں ہیں تو ان کو بتا دو کہ تم لوگ بھی انتظار کرو، میں بھی انتظار کر رہا ہو کہ تمہاری یہ طمع خام پوری ہوتی ہے یا میرے رب نے تم کو جس چیز سے ڈرایا ہے وہ ظاہر ہو کے رہتی ہے۔ المنون کے معنی الدھر یعنی زمانہ کے ہیں۔ محاورہ ہے۔ دارعلیھم المنون وہ گرش روزگار کی نذر ہوگئے۔ ریب المنون کے معنی ہیں حوادث روزگار۔ مخالفین کے اس الزام کی مفصل تردید قرآن نے سورة شعراء میں کی ہے۔ وہاں چند نہایت واضح کسوٹیاں بھی قرآن نے لوگوں کے سامنے رکھ دی ہیں جن پر ہر عاقل پرکھ کر فیصلہ کرسکتا ہے قرآن اور اس کے حامل کو شعر اور شاعری سے دور یا قریب کا کوئی واسطہ ہے یا نہیں۔ ہم نے بھی اس کے ہر پہلو پر وہاں تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
Ayah 52:32(امرتا مرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاعون) (32)
(مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب ان کی سرکشی ہے) یعنی معاملہ دو شکلوں سے خالی نہیں یا فی الواقع ان کی عقلیں ہی کچھ ان کو سمجھا رہی ہیں کہ تم اللہ کے رسول نہیں بلکہ ایک کاہن، مجنوں اور شاعر ہو یا یہ بات ہے کہ یہ لوگ اپنی سر کشی کے باعث تمہاری بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اس وجہ سے تکذیب کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی بات کا امکان تو بہت بعید ہے۔ آخر کوئی عاقل تمہارے جیسے صداقت شعار، راست باز، قل، فرزانہ، متین، زرین، مومن، مسلم، حنیف اور حکیم کو کاہن، مجنوں اور شاعر کس طرح قرار دے سکتا ہے ! اگر کوئی یہ جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عقل سے بالکل عاری ہے۔ اب صرف دوسرا مکان باقی رہ جاتا ہے کہ یہ لوگ نہایت سر کش ہیں اور اس سر کشی ہی کے سبب سے یہ سخن سازیاں کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ سر کشی ہی ان سے یہ باتیں کہلورہی ہے۔ عقل کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔
Ayahs 52:33–34(امر یقولون نقولہ بل لا یومنون فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانو صدقین) (33، 34)
(ایک اور الزام کا جواب)۔۔ یہ ان کے ایک اور الزام کا حوالہ اور اس کا جواب ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو گھڑا تو انہوں نے خود ہے لیکن اپنی نبوت کی دھونس جمانے کے لیے دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ سے ان پر اتارا ہے۔ تقول کے معنی کسی پر جھوٹا بہتان لگانے کے ہیں، یہی مضمون دوسرے مقامات میں (بد فترہ) سے ادا کیا گیا ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ کتاب ہے تو ان کی اپنی طبع زاد لیکن عوام فریبی کے لیے جھوٹ موٹ یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ (بل لا یومنون) یہ اصل حقیقت کا اظہار ہے کہ ان کا یہ الزام بھی ان کے اپنے ضمیر کے بالکل خلاف ہے۔ ان کو پورا یقین ہے کہ یہ کتاب تمہاری تصنیف نہیں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کا کلام نہ تم پیش کرسکتے ہو، نہ کوئی دوسرا پیش کرسکتا ہے لیکن آپ پر ایمان نہیں لانا چاہتے اس وجہ سے یہ اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ سخن سازی کر رہے ہیں، یہاں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے معنی میں ہے، اس کی مثالیں اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہیں۔ (فلیا توا بحدیث) الایۃ۔۔ یہ ان کے الزام کے جواب میں ان کو چیلنج ہے کہ اگر فی الواقع وہ اس کو پیغمبر کی اپنی تصنیف گمان کرتے ہیں تو وہ اپنے خطیبوں اور شاعروں کے کلام میں سے کوئی چیز اس کے مانند پیش کریں، خواہ وہ ان کے پرانے ذخائر میں سے ہو یا اب وہ خود سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی چیز اس کے جواب میں پیش کریں، اگر وہ ایسا نہ کرسکیں (اور ہرگز نہیں کرسکتے) تو پھر راستبازی کا تقاضا یہ ہے کہ اس الزام کو واپس لیں اور پیغمبر ﷺ کو صادق و امین مان کر اس پر ایمان لائیں۔ یہ بات یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن نے یہ بات فرمائی تو ہے قریش کے جواب میں اور انہی کے جواب میں یہ فرمانے کی تھی بھی لیکن یہ چیلنج آج بھی علی حالیہ قائم ہے۔ قرآن کے منکرین نہ تو اسے قدیم ادبی و مذہبی ذخیرہ میں سے اس کے مانند کوئی چیز پیش کرسکے، نہ خود ہی کوئی چیز ایجاد کرسکے اور نہ بعد کی پوری تاریخ میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی جس کو اس چیلنج کا جواب قرار دیا جاسکے۔ دنیا کی غیر عرب قوموں کے لیے یہ چیلنج براہ راست نہیں ہے تاہم وہ بھی طبع آزمائی کر کے دیکھ سکتی ہیں کہ وہ کوئی چیز اس کے پائے کی لا سکتی ہیں یا نہیں۔ پھر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ قرآن کی یہ تحدی کسی ایک ہی پہلو سے نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ایک صحیفہ ٔ ہدایت ہونے کے پہلو سے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی قوم یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ اس کے شاعر کے پایہ کا کوئی شاعر یا اس کے خطیب کے درجے کا کوئی خطیب دنیا میں نہیں ہے لیکن اول تو یہ دعویٰ ہی محل نظر سے ہے، دوسری قوم اس کے جواب میں اپنے خطیب یا شاعرکے حق میں یہی دعویٰ کرسکتی ہے لیکن کسی کا یہ دعویٰ تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ زیادہ سے زیادہ کسی ایک منبر میں برتری کا دعویٰ ہوگا جس کو کوئی شخص نہ اپنے نبی ہونے کے ثبوت میں پیش کرسکتا اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد پر اس کو نبی یا رسول مان سکتا۔
Ayahs 52:35–36(امر خلقوا من غیر شی ام ھم الخلقون ام خلقوا السموات والارض بل لا یوقنون (35۔ 36)
(معترنین سے چند سوالات)۔ مکذبین کے اعتراضات و اتہامات کے جواب دینے کے بعد اب یہ ان سے چند سوالات کیے گئے ہیں۔ کہ اگر وہ عذاب اور آخرت کے منکر ہیں تو یہ بتائیں کہ کیا وہ بغیر خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا خود ہی اپنے خالق ہیں ؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ یہ امر واضح رہے کہ مشرکین عرب اپنا اور تمام آسمان و زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ وہ اپنے مزعومہ شرکاء میں سے کسی کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے۔ یہ سوال قرآن نے ان کے سامنے رکھ کے گویا ان سے یہ پوچھا ہے کہ جب وہ اپنا اور آسمان و زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں تو اس کے عذاب اور اس کے روز جزاء و سزا کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہیں ؟ کیا ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ ان کو پیدا کر کے اب دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوگیا ؟ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ ایک کھلی ہوئی حماقت ہے، جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہوا وہ دوسری بار پیدا کرنے پر بدرجہ ادنیٰ قادر ہوگا۔ اسی طرح وہ یہ بھی سوچیں کہ جب وہ خود اپنے خالق نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کو پیدا کیا اور ان کی معاش و معیشت کا سامان کیا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ان کو یونہی چھوڑے رکھے اور کسی دن ان سے یہ نہ پوچھے کہ اس نے ان کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا تھا اس کو انہوں نے پورا کیا یا نہیں ؟ علیٰ ہذا القیاس وہ یہ بھی سوچیں کہ جس زمین پر اور جس آسمان کے نیچے وہ رہتے ہیں اور جن کو گونا گوں نعمتوں سے وہ متمتع ہوتے ہیں، در آنحالیکہ یہ زمین ان کی پیدا کی ہوئی ہے نہ آسمان اور نہ ان کے درمیان کی نعمتیں تو کیا جس نے ان کو پیدا کیا ہے اس کا کوئی حق ان پر قائم نہیں ہوتا اور اس کے بنائے ہوئے اس گھر میں اپنے رویے سے متعلق وہ اس کے آگے جوابدہ نہیں ہونگے ؟ اسی طرح وہ یہ بھی سوچیں کہ جب نہ زمین ان کی پیدا کی ہوئی ہے نہ آسمان تو آخر کس ہوتے پر آسمان و زمین کے خالق سے اپنے کو وہ بےخوف و مامون سمجھتے ہیں۔ وہ جب چاہے زمین کو ذرا سا ہلا دے اور یہ بالکل بےنام و نشان ہو کے رہ جائیں، اس طرح جب چاہے آسمان سے طوفان بھیج دے، اولے برسا دے، پتھرائو کر دے اور چشم زدن میں ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔
(اصل علت انکار)۔۔ (بل لا یوقنون)۔۔ یہ ان کے اعراض و افکار کی اصل علت سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ ان تمام اصولی باتوں کو تو مانتے ہیں جو آخرت اور جزاء و سزا کو لازم ٹھہراتی ہیں، ان میں سے کسی بات کے انکار کی وہ جرأت نہیں کرسکتے لیکن اس بات پر وہ یقین نہیں رکھتے کہ فی الواقع وہ عذاب کے مستحق ہیں اور اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ایک دن وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجائیں گے۔ یہاں یوقنون کا مفعول بالاخرۃ، یا بعذاب بر بنائے قرینہ محذوف ہے۔
ہم یہ حقیقت جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ مشرکین قریش قیامت کے صریح منکر نہیں تھے اس کو وہ ایک نہایت مستبعد چیز سمجھتے تھے، ان کا خیال یہ تھا کہ قیامت اور عذاب وثواب کا قصہ اول تو محض ایک وہم ہے، ثانیاً اس کی کچھ حقیقت ہے بھی تو یہ اتنی دور کی چیز ہے کہ اس کے لیے ابھی سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ثالثا ًاس کا مرحلہ بالفرض آیا بھی تو ہمارا معاملہ ہمارے دیوتائوں سے متعلق ہوگا، وہ اپنی سفارش سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا ہی لیں گے۔ اسی طرح وہ اس عذاب پر بھی یقین نہیں رکھتے تھے جس سے قرآن ان کو بصورت تکذیب اس دنیا میں آگاہ کر رہا تھا۔ وہ اپنی موجودہ خوشحالی کو اپنے عقیدہ و عمل کی صحت کی دلیل بنائے بیٹھے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ اگر فی الواقع وہ خدا کے غضب کے سزا وار ہوتے۔ جیسا کہ پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھ کہتے ہیں، تو ان کا حال دنیوی رفاہیت کے اعتبار سے پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے بہتر کیوں ہوتا ؟ پھر تو صورت ِ حال اس کے بالکل برعکس ہونی تھی۔
ان کی اس ذہنی حالت پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اصلاً یہ عدم یقین ہی کی صورت ہے۔ اصل حقیقت سے تو ان کے لیے فرار کی گنجائش تھی نہیں۔ اس کے تمام مقدمات ثابت اور معلوم تھے۔ نفس، آفاق، تاریخ اور فلسفہ تاریخ کے تمام شواہد اس کے حق میں موجود تھے اور قرآن نے وہ سب ان کے سامنے رکھ بھی دیئے تھے لیکن چونکہ اس کو تسلیم کرنا ان کی خواہش کے خلاف تھا اس وجہ سے وہ جان کر انجان بنتے تھے، یہ یقین نہیں رکھتے تھے کہ فی الواقع یہ چیز ایک دن پیش آکے رہے گی۔ مزید غور کیجئے تو یہ حقیقت بھی آپ کے سامنے آئے گی کہ عدم یقین کی اس بیماری میں جس طرح قریش مبتلا تھے اسی طرح اس زمانے کے بہت سے مسلمان بھی مبتلا ہیں، ان کو قیامت اور جزاء و سزا سے انکار تو نہیں ہے لیکن ان کی زندگی شاہد ہے کہ ان کو اس کا یقین نہیں ہے اور ان کے اس عدم یقین کے اسباب کا تجزیہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ بھی اسی طرح کی کسی نہ کسی غلط فہمی کے شکار ہیں جس طرح کی غلط فہمیوں میں مشرکین مبتلا تھے۔