52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا انہی کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا وہ ان پر داروغہ مقرر ہیں !

(ام عند ھم خزائن ربک ام ھم المصیطرون) (37) (ایک اور سوال)۔۔۔۔۔ جس طرح کے سوال اوپر کی دو آیتوں میں کیے ہیں اسی طرح کا سوال یہ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے یا آسمان و زمین کے خالق نہیں تو کیا تیرے رب کے خزانوں کے مالک یا ان پر داروغہ ہیں کہ وہ خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں ! یعنی جس طرح کہ آسمان و زمین کے خالق ہونے کے مدعی نہیں ہو سکتے اسی طرح اس بات کے بھی مدعی نہیں ہو سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رزق و فضل کے خزانے ان کے حوالے کردیئے ہیں یا ان کی تقسیم پر ان کو مامور کردیا ہے کہ جس کو چاہیں دیں، جس کو چاہیں نہ دیں، پھر ان کو یہ عرہ کیوں ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں نہیں آسکتے یا جس عیش میں وہ ہیں اسی میں رہیں گے۔ نہ اس دنیا میں وہ اس سے محروم ہو سکتے ہیں اور نہ آخرت میں (اگر وہ ہوئی) اس سے ان کو کوئی محروم کرسکتا ؟ قرآن نے جگہ جگہ قریش اور ان سے پہلے کی قوموں کے مترفین کے اس زعم کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی رفاہیت کو اپنا پیدائشی حق سمجھا اس وجہ سے پیغمبر کے انداز کو خاطر میں نہ لائے، یہ ان کے اسی خناس پر ضرب لگائی ہے کہ جب نہ وہ خدا کے خزانوں کے مالک نہ ان کی تقسیم پر مامور تو اس خبط میں مبتلا ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ جب چاہے چشم زدن میں ان کے سارے عیش کو خاک میں ملا دے سکتا ہے اور اپنی نعمتوں سے ان کو بہرہ مند کرسکتا ہے جن کو یہ کسی نعمت کا حق دار نہیں سمجھتے۔ قرآن نے یہی بات، معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، قریش کے ان مغروروں کو بھی خطاب کر کے فرمائی ہے جو کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنے والا ہوتا تو مکہ یا طائف کے کسی رئیس کو رسول بناتا، محمد ﷺ جیسے غریب و نادار کو کیوں رسول بناتا ؟ اسی طرح اگر یہ دین، جس کی یہ دعوت دے رہے ہیں، کوئی خدائی دین ہوتا تو اس کے حامل بننے کے لیے اللہ تعالیٰ ہم کو چنتا نہ کہ اس کے حامل وہ نادار قلاش ور غلام بنتے جن کو اس دنیا کی کوئی نعمت و عزت بھی حاصل نہیں ہوئی۔ اس آیت میں ان مغروروں نے غرور پر بھی ایک کاری ضرب لگا دی گئی ہے۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے ،

(امر لھم سلم یستمعون فیہ فلیات مستمعھم بسلطن مبین) (38) (کفار کے بےبنیاد اوہام)۔۔۔ یعنی اگر ان کے زعم یہ ہے کہ وہ اسی طرح دنیا میں بھی عیش کریں گے اور آخرت ہوئی تو وہاں بھی سب پر بالا رہیں گے تو اس زعم کی بنیاد کیا ہے ؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کو آسمان میں لگا کر اپنے حق میں اللہ کے فیصلے سن لیا کرتے ہیں ؟ کیا ان پر کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جس میں ان کی پسند کی سب باتیں لکھی ہوئی ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی برأت نامہ لکھ کر پکڑا دیا ہے کہ تم جو چاہے ادھم مچاتے پھرو، ہم دنیا میں تم کو کچھ کہیں گے نہ آخرت میں تم سے کوئی باز پرس ہونی ہے ؟ اگر اس طرح کی کوئی خبر ان کے کسی آسمانی مخبر نے ان کو پہنچائی ہے تو وہ اس کے حق میں کوئی واضح دلیل پیش کریں۔ یہاں یہ بات اجمال کے ساتھ فرمائی گئی ہے۔ سورة قلم میں یہ پوری وضاحت کے ساتھ آئی ہے ہم نے آیت کی تفسیر سورة قلم کی روشنی ہی میں کی ہے اس وجہ سے متعلق آیات نقل کیے دیتے ہیں تاکہ کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ ہم نے تاویل میں تکلف سے کام لیا ہے، وہاں فرمایا ہے۔ (ام لکم کتب فیہ تدرسون ان لکم فیہ لما تخیرون ام لکم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیمۃ ان لکم لما تعکمون سلھم ایھم بذلک زعیم (القلم : 37، 40) (کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں وہی باتیں مرقوم ہیں جو تم چاہتے ہو کیا ہم نے تم سے قیامت تک کے لیے کچھ عہد کر رکھے ہیں کہ تم جو گہو گے وہی تمہیں ملے گا ! ان سے پوچھو کہ کون ان چیزوں کا ضامن بنتا ہے !) زیر بحث آیت میں زبان کے معروف قاعدے کے مطابق کچھ مخدوفات ہیں ان کو کھول دیجئے تو پوری بات یوں ہوگی۔ (ام لھم سلم منصوب الی السماء یسمعون صاعدین فیہ) جس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ انسان اپنی رہنمائی کے لیے آسمانی وحی کا محتاج ہے۔ اب یا تو ہر شخص اس بات کا ثبوت بہم پنچائے کہ اس کے پاس آسمانی ہدایت معلوم کرنے کے ذرائع و وسائل موجود ہیں اور اگر ہر شخص اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا اور ظاہر ہے کہ تمہیں کرسکتا تو اس پر اجب ہے کہ وہ ان لوگوں کی رہنمائی پر بھروسہ کرے جو ان وسائل سے بہرہ مند ہیں
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اس کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے

(ام لہ البنت ولکھ لبنون (9) (شرکاء و شفعا کا غرہ بالکل باطل ہے) یعنی مذکورہ باتوں میں سے اگر کوئی بات نہیں ہے تو کیا تمہارا غرہ اپنے شرکاء و شفعا کے بل پرے کہ وہ دنیا میں بھی تمہارے محافظ ہیں اور آخرت میں بھی وہ شفیع و مددگار ہوں گے۔ اگر یہ بات ہے تو اس زعم کا بھونڈا پن واضح کردینے کے لیے تنہا ہی بات کافی ہے کہ تم نے خدا کے لیے تو لڑکیاں فرض کررکھی ہیں، ورآنحالی کہ اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہو، لڑکیوں سے نفرت کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس سوال پر غور کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی کہ خدا کا کوئی شریک و کفو ہوسکتا ہے یا نہیں تو کم از کم یہ احساس تو انسانی فطرت کا بالکل بد یہی تقاضا تھا کہ خدا کے لیے اس چیز کو پسند نہ کرتے جسے اپنے لیے پسند نہیں کرتے، لیکن تم نے دہری حماقت کی۔ ایک تو بےدلیل خدا کے شریک ٹھہرائے، پھر شریک بھی بنایا تو ایسی چیزوں کو جن کو اپنا شریک بنانا تمہیں گوارا نہیں ہے۔ (مشرکین میں بلند رتبہ دیویوں)۔۔۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ مشرکین عرب کے ہاں سب سے اونچا درجہ تین دیویوں کا تھا جن کے متعلق ان کا گمان تھا کہ یہ خدا کی چہیتی بیٹیاں ہیں اور اپنے باپ سے جو چاہیں منوا سکتی ہیں، ان کا ذکر تفصیل سے آگے والی سورة میں یوں آیا ہے۔ (افرءیتکم اللت والحزی ومنوۃ الثامتۃ الاخری انکم الذکر ولہ الانثی تلک اذا قسمۃ ضیزی ان ھی الا اسما سمیتو انتم واباو کم ما انزل اللہ بھا من سلطن) (النجم : 19، 23) (ذرا غور تو کرو لات اور عزی اور ذات پر جو تین کی تیسری اور دوجے میں دوسری ہے کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اس کے لیے بیٹیاں ہیں، پھر تو یہ بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی ! یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری)
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا تم ان سے کسی عوض کے طالب ہو کہ وہ اس تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں !

(ام تسلھم اجوا فھم من مغرم متقلون (40)۔ (مخالفین کی حق بیزاری پر تعجب) یہ ان لوگوں کی حق بیزاری پر اظہار تعجب ہے کہ آخر یہ تمہاری بات سنتے کیوں نہیں ؟ اپنی بات سنانے پر تم ان سے کسی تنخواہ یا معاوضہ کے طالب تو ہو نہیں کہ اس کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہوں یا تم تو اپنے رب کی نعمت مفت بانٹ رہے ہو تو ان کو کیا حرج ہوتا ہے کہ وہ اس کے سننے کے بھی روادار نہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ جہل کے مقابل میں علم بہر حال ایک محبوب و مطلوب شے ہے، کوئی سلیم الفطرت نہ یہ گوارا کرتا اور نہ اسے گوارا کرنا چاہیے کہ اس کے سامنے اس چیز کا علم پیش کیا جائے جس سے وہ بیخبر ہے اور وہ اس کے سننے کا بھی روادار نہ ہو۔ ایسے شخص کی مثال اس اندھے کی ہے جو ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن کوئی اس کو راستہ پر لانا چاہتا ہے تو اس کے ہاتھ وہ جھٹک دیتا ہے۔ اہل عرب امی، یعنی دین و شریعت سے بیخبر تھے۔ ان کی اس بیخبر ی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ کی ہدایت معلوم کرنے کے طالب بنتے بالخصوص جب کہ ان کے ہاں حضرت اسماعیل ؑ کے زمانے سے یہ روایت بھی چلی آرہی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اندر سے ایک رسول اٹھائے گا، جو لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے گا اور جس سے دنیا کی تمام قومیں ہدایت پائیں گی۔ ان پر واجب تھا کہ جب انہی کے اندر کے ایک بہترین شخص نے ان کو اللہ کے راستہ کی دعوت دی تو وہ اس کی بات سنتے اور سنجیدگی سے اس پر غور کرتے لیکن توقع کے خلاف انہوں نے اس کے بالکل خلاف روش اختیار کی۔ ان کی اسی حالت پر قرآن نے اس آیت میں تعجب کا اظہار فرمایا ہے۔
Ayah 52:41

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس علم غیب ہے۔ پس وہ خود ہی لکھ لیتے ہیں۔

(ام عندھم الغیب فیھم یکتبون) (41) یعنی تم سے اور تمہاری پیش کردہ ہدایت سے یہ اس قدر بیزار ہیں تو کیا ان کے پاس غیب کے خون جان لینے کا کوئی ذریعہ موجود ہے جس سے وہ تمام ضروری باتیں معلوم کر کے لکھ لیتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس طرح کا کوئی ذریعہ ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ ایسی حالت میں حق تو یہ تھا کہ وہ تمہاری پکار پر لپکنے کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے ان کو اس کے احکام اور اس کی مرضیات سے آگاہ کرنے کے لیے اٹھے ہو۔ لیکن وہ تم سے تو بیزار ہیں۔ خود اپنے جی سے انہوں نے شریعت گھڑ رکھی ہے جو ہے تو ان کی من مانی خواہشات اور ان کے اوہام کا مجموعہ لیکن اس کو انہوں نے اللہ کا اتارا ہوا دین سمجھ رکھا ہے۔ ان کی اسی طرح کی خواہشات و بدعات کی طرف سورة نجم آیت 35 میں یوں ارشاد فرمایا ہے (اعندہ علم الغیب فھو یری) (کیا اس کے پاس علم غیب ہے، پس وہ دیکھ رہا ہے) اس آیت میں اشارہ ان لوگوں کی طرف سے جو باعتبار ایمان و عمل تو بالکل صفر تھے لیکن ان کا زعم یہ تھا کہ وہ بزرگوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے بڑے درجے ملیں گے۔ اپنے اس پندار کے سبب سے وہ پیغمبر ﷺ کے انداز کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ ہمیں عذاب سے ڈراتے ہیں حالانکہ بہت جلد گردش روزگار خود انہیں ختم کردینے والی ہے اور ہم اس کے منتظر ہی ہیں۔
Ayah 52:42

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا وہ کوئی چال چلنی چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ جنہوں نے کفر کیا وہی اس چال میں گرفتار ہوں گے

(ام یریدون کیدا فالذین کفروا ھم المیکدون (42)۔ (اصل حقیقت کی پردہ کشائی)۔ یہ سوال ہی کے پیرا یہ میں اصل حقیقت سے پردہ اٹھادیا ہے کہ یہ ساری دلیل بازیاں اور سخن سازیاں تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کی دعوت کے فروغ میں ان کو اپنی سیادت کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ اس کو بچانے کے لیے یہ ساری باتیں وہ اپنے ضمیر کے بالکل خلاف، گھڑتے اور پھیلاتے ہیں تاکہ ان کے عوام اس دعوت سے متاثر ہو کر ان کے ہاتھوں سے نکل نہ جائیں۔ فرمایا کہ کیا یہ کوئی چال چلنی چاہتے ہیں ! اگر یہ بات ہے تو یاد رکھیں کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ خود اپنے دام میں گرفتار ہیں۔ (حق کے خلاف سازی کرنے والے خود اپنے دام میں گرفتار ہوتے ہیں)۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ رہنے اور لوگوں کو اس سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنے ضمیر کے بالکل خلاف اس طرح کی چالیں چلتے ہیں وہ حق کی دعوت دینے والوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑتے بلکہ خود اپنے ہی کو تباہی کے کھڈ میں گراتے ہیں۔ نجات و فلاح کا راستہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے بتایا ہے۔ کوئی شخص اس سے ہٹ کر دوسری راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی ضلالت کو ہدایت ثابت کرنے کے لیے صحیح راہ بتانے والوں پر کتنی ہی تہمتیں تراشے اور کج روی کی حمایت میں کتنی ہی دلیلیں گھڑے لیکن جب انجام اس کے سامنے آئے گا تب اس پر واضح ہوجائے گا کہ وہ خود اپنے ہی دام میں اسیر ہو کر اس منزل تک پہنچا ہے۔
Ayah 52:43

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی معبود بھی ان کے لیے ہے ؟ اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک گردانتے۔

(ام لھم الہ غیر اللہ سبحن اللہ عما یشرکون) (43) (خدا کے ساتھ شرک کا کوئی جوڑ نہیں) یعنی بالآخر تو سب کو اللہ ہی کے آگے حاضر ہونا اور اسی کے حضور جواب دہی کرنی ہے تو جو چالیں اس کے خلاف چلیں گی ان کے انجام سے ان کو کون بچائے گا ! کیا ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ کے سوا ان کے کچھ اور معبود بھی ہیں جو ان کی مدد کریں گے تو یاد رکھیں کہ اللہ جل شانہٗ ان چیزوں سے پاک اور ارفع ہے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ (سبحن اللہ عما یشرکون) میں دلیل کا جو پہلو ہے اس کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی صفت منسوب نہیں کی جاسکتی جو اس کی علم صفات کے منافی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات خود بیان فرما دی ہیں جن کو مشرکین عرب بھی مانتے تھے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنی خواہشوں اور بدعات کو دین بنانے کے لیے اس کے ساتھ شرک کا جوڑ بھی لگا رکھا تھا حالانکہ اس جوڑ سے خدا کی تمام بنیادی صفات کی نفی ہوجاتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف ان الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ ان کی ان مشرکانہ نسبتوں سے بالکل پاک ہے۔ ان خرافات کا اس کی کی عظیم اور رفیع الشان ذات سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔
Ayah 52:44

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اور اگر یہ آسمان سے کوئی ٹکڑا بھی گرتا ہوا دیکھیں گے تو کہیں گے یہ توتہہ پہ تہہ بادل ہے

(وان یروکسفا من السماء ساقطا یقولو اسحاب مرکوم) (44) (چال چلنے والوں کو قائل کرنا کسی کے بس میں نہیں)۔۔۔ یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جب ان کی ساری سخن سازیاں محض چال اور فریب کی نوعیت کی ہیں تو ان کو مطمئن کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ ان کو دلیلوں سے قائل کرنا تو در کنار اگر یہ اس عذاب کو بھی آسمان سے نازل ہوتا دیکھ لیں جس سے تم ان کو آگاہ کر رہے ہو تو اس کو بھی یہ تہ بہ تہ بادل کہیں گے اور اپنے کو مطمئن کرلیں گے کہ یہ ابر کرم بن کر ان کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرنے والا ہے۔ اس فقرے میں ثمود کے تاریخی واقعہ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ ان کو جس عذاب سے ڈرایا گیا تھا جب وہ ان کے سروں پر آ دھمکا تب بھی انہوں نے اس کا یقین نہیں کیا بلکہ یہ کہہ کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیا کہ (ھذا عارض ممطموفا) (الاحقاف : 24) (یہ تو ہمیں سیراب کرنے والا بادل ہے) مطلب یہ ہے کہ اسی طرح یہ لوگ عذاب کو دیکھ کر بھی ماننے والے نہیں ہیں۔ یہ اسی وقت مانیں گے جب عذاب ان کو پامال کر دے گا، لیکن اس وقت ماننا اور یہ نہ ماننا دونوں یکساں ہوگا۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ کسی کو قائل کرنے کی توقع اسی حد تک کی جاسکتی ہے جب تک گمان ہو کہ اس کے ذہن میں فی الواقع کچھ شہادت و اعتراضات ہیں جو اس کے لیے قبول حق میں حجاب بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت تک ایک داعی کا فرض ہے کہ اس کے شہادت دور اور اس کے اعتراضات رفع کرنے کی کوشش کرے لیکن جب یہ بات بالکل واضح ہو کر سامنے آجائے کہ اس کی ساری دیل بازی محض ایک چال (کید) اور مکر ہے جس کے پردے میں چھپ کر وہ حقیقت سے فرار اختیار کرنا چاہتا ہے تو پھر اس پر وقت ضائع کرنا بالکل بےسود ہے، پھر اس کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے کرنا چاہیے۔
Ayahs 52:45–46

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

تو ان کو چھوڑو، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے دو چار ہوں جس دن دن ان کے ہوش جاتے رہیں گے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس دن نہ ان کی چال ان کے کچھ کام آئے گی اور نہ ان کی کوئی مدد ہی ہوگی۔

(نذرھم حتی یلقوا یرمھم الذی یصعقون یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیا ولا ھم ینصرون) (45، 46) مطلب یہ ہے کہ جب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ لوگ چال چل رہے ہیں تو اب ان کے درپے ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اب ان کو اس دن کے حوالے کرو جس دن صور اسرافیل سے ان پر غشی طاری ہوجائے گی۔ یہ اشارہ اس دن کی طرف ہے جسکے ہول کی تصویر سورة حج میں بدیں الفاظ میں کھینچی گئی ہے (وتری الناس سکری وما ھم یسکری ولکن عذاب اللہ شدید) (2) (اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے اور یہ مد ہوشی شراب کی نہیں ہوگی اور بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا)۔ (یوم لا یغنی عنھم کیدھم) الایۃ۔۔ فرمایا کہ اس دن نہ ان کی یہ چالیں کچھ کام آئیں گی نہ ان کے اعوان و انصار ان کی کچھ مدد کرسکیں گے اور نہ ان کے مزعومہ شرکاء و شفعا رہی سے ان کو کچھ سہارا حاصل ہو سکے گا بلکہ ہر ایک کو سابقہ صرف اللہ رب العزت سے پیش آئے گا اور وہ سب کا کیا دھرا ان کے سامنے رکھ دے گا۔
Ayah 52:47

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور ان ظالموں کے لیے اس کے سوا بھی عذاب ہے لیکن ان کی اکثریت اس کو نہیں جانتی۔

(وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک ولکن اکثرھم لا یعلمون) (47) (اس عذاب کی طرف اشارہ مکذبین رسول پر دنیا میں آتا ہے)۔۔ یعنی آخرت کا عذاب تو ہے ہی، ان ظالموں کے لیے ایک عذاب اس سے پہلے بھی ہے لیکن ان کی اکثریت اس سے بیخبر ہے۔ یہ اشارہ اسی عذاب کی طرف ہے جو سنت الٰہی کے مطابق ان لوگوں پر ہمیشہ آیا ہے جنہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور اس پر اڑے رہ گئے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں، یہ عذاب قریش کے مکذبین پر بھی آیا اور وہ سب نبی ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ذلیل و پا مال ہوگئے۔
Ayahs 52:48–49

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اور تم صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ بیشک تم ہماری آنکھوں میں ہو۔ اور اپنے رب کی تسبیح کرو، اس کی حمد کے ساتھ، جس وقت تم اٹھتے ہو۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور شب میں بھی اس کی تسبیح کرو اور ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے وقت بھی۔

(واصبر لحکم ربک فانک باعیننا وسبح بحمد ربک حین لقوم ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم) (48، 49) (نبی ﷺ کو صبر اور انتظار کی ہدایت)۔۔ یہ نہایت دلنواز پیرایہ میں نبی ﷺ کو صبر و انتظار کی ہدایت اور ساتھ ہی اس صبر کے حصول کے تدبیر تلقین فرمائی گئی ہے۔ (واصبر لحکم ربک) صبر کے بعد ل کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ لفظ صبر یہاں انتظار کے مفہوم پر متضمن ہے، یعنی پوری استقامت کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ حکم سے مراد ان باتوں کے ظہور کا حکم ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ (فانک باعیننا) یہ نہایت ہی دل نواز فقرہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ہر وقت ہماری آنکھوں یعنی ہماری حفاظت میں ہو، یہ کتنی ہی چالیں چلیں لیکن مجال ہے جو تمہیں کوئی گزند پہنچا سکیں۔ (حصول سیر کی تدبیر)۔۔ (وسبح بحمد ربک حین تقوم) یہ اس صبر کے حصول کی تدبیر ارشاد ہوئی ہے کہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ نماز بالخصوص تہجد کی نماز کا اہتمام کرو۔ (حین تقوم) کی تفسیر وضاحت سے ہم سورة شعراء کی آیات 217۔ 218 (و توکل علی العزیز الرحیم، الذی یربک حین تقوم) (اور خدائے عزیز و رحیم پر بھروسہ رکھو جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم اٹھتے ہو) کے تحت کرچکے ہیں، اسی طرح تسبیح کے ساتھ حمد کی قید کی وضاحت بھی اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ (ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم) یہ ٹکڑا معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ سورة ق آیات 29، 40 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر وہاں دیکھ لیجئے۔ یہاں ساری بحث دہرانے میں طوالت ہوگی۔ ق کی آیات ہم نقل کیے دیتے ہیں۔ (فاصبر علی ما یقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب ومن الیل فسبحہ وادبار السجود) بفضل ایزدمی ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی ذلک) رحمان آباد۔ 15 مئی 1977؁ء 16 جمادی الاول 1397؁ھ