51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة ، سابق سورة ق … کی مثنیٰ ہے۔ سورة ق کی تفسیر میں آپ نے دیکھا کہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قرآن کے اس دعوے کو بعید از امکان قرار دیتے تھے کہ لوگ مرنے کے بعد از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس سورة میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر قرآن کے انداز عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے اور جزاء و سزا کو بھی۔ سورة کا عمود اس کی تمہید ہی میں ان الفاظ سے واضح فرما دیا گیا ہے۔ انما توعدون لصادق وان الدین لواقع (بےشک جو وعید تم کو سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچی ہے اور جزاء و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔ ) خطاب قریش کے مکذبین ہی سے ہے اور استدلال کی بنیاد تمام تر آفاق وانفس کے دلائل پر ہے۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سورة میں بھی اسی طرح تسلی دی گی ہے جس طرح سابق سورة میں دی گئی ہے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (14-1) ہوائوں کے عجائب تصرفات اور سرما کے دھاریوں والے بادلوں کے حوالہ سے ان غفلت کے ماتوں کو انذار جو قرآن کی وعید عذاب اور اس کے وعدہ جزاء و سزا کا مذاق اڑاتے اور بانداز استہزاء مطالبہ کر رہے تھے کہ جس جزاء و سزا کے دن سے ڈرایا جا رہا ہے وہ کہاں ہے، اس کو لایا کیوں نہیں جاتا ! ا نلوگوں کو تنبیہ کہ پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے وہ بھی ای کیح قیقت ہے۔ اور جس روز جزاء و سزا سے آگاہ کیا جا رہا ہے وہ بھی ایک امر واقعی ہے۔ ان میں شک وہی لوگ کر رہے ہیں جن کی عقلیں الٹ گئی ہیں۔ اس دن کے لئے جلدی مچانے والے عنقریب اس کا مزا چکھیں گے۔ اس دن ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ ددن جس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے ! ( 19-15) ان خدا ترسوں کے صلہ کا بیان جو غفلت کی سرمستویں میں کھوئے رہنے کے بجائے نماز استغفار اور انفاق کے ذریعہ سے اس دن کے لئے برابر تیاریوں میں سرگرم رہے۔ (23-20) جزاء و سزا کی جو نشانیاں زمین و آسمان اور آفاق وانفس میں موجود ہیں ان کی طرف اشارہ اور آخر میں اصل دعوے کا بقیہ قسم اعادہ کہ جس طرح لوگوں کے لئے ایک لفظ کا بول دینا نہایت آسان ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لئے اس دنیا کو اس کے فنا ہوجانے کے بعد از سر نو زندہ کردینا نہایت آسان ہے۔ (37-24) ٖ ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور قوم لوط کے واقعہ کی طرف اشارہ کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ایک ذی علم فرزند کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لئے عذاب کا تازیانہ لے کر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فنا کردیا جنہوں نے حضرت لوط کی تکذیب کی اور ان لوگوں کو نجات بخشی جو ان پر ایمان لائے۔ یہ اس بات کی تاریخی شہادت ہے کہ اس کائنات کا خالق جزا اور سزا دینے والا ہے اور اس کے اس قانون مکافات کی ایک نشانی قوم لوط کی سر زمین میں موجود ہے جس سے وہ لوگ عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو خدا سے ڈرنے والے ہیں۔ (46-38) فرعون، عادہ ثمور اور قوم نوح کے واقعات کی طرف ایک اجمالی اشارہ کہ ان قوموں نے بھی مکافات عمل کے قانون سے بےپروا ہو کر زندگی گزاری اور اپنے رسولوں کے انذار کی کوئی پروا نہ کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت قاہرہ سے سب کو تباہ کردیا۔ اس کے لئے اس کو کوئی اہتمام نہیں کرنا پڑا بلکہ اس کی ہوائوں اور اس کے بادلوں نے ہی ان سب کا ستھرائو کر کے رکھ دیا۔ (60-47) خاتمہ سورة جس میں پوری سورة کا مضمون سمیٹ دیا گیا ہے کہ جو اللہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور جس نے ہر چیز جوڑے جوڑے پیدا کی ہے اس کے لئے دنیا کو از سر نو پیدا کردینا ذرا بھی مشکل نہیں ہوگا۔ جزاء و سزا شدنی ہے اور سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہونی ہے تو خدا ہی کی طرف بھاگو۔ اس کے سوا کسی اور سے لو نہ لگائو۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسللی دی گئی ہے کہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے سب ہی کے ساتھ ان کی قوموں نے یہی سلوک کیا جو تمہاری قوم تمہارے ساتھ کر رہی ہے۔ تو ان سرکشوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ صرف ان لوگوں کو یاد دہانی کرو جو یاد دہانی سے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ یہ اطمینان رکھو کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی بندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ نہ دوسروں کی رزق رسانی کی ذمہ داری ان پر ڈالی ہے اور نہ میں اس بات کا حاجتمند ہوں کہ لوگ مجھے کھلائیں۔ میں خود سب کا روزی رساں اور بڑی قوت و طاقت رکھنے والا ہوں۔ میرے جو بندے میری بندگی کا حق ادا کرنے کے لئے سب سے بےنیاز ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے ان کی کفالت اور نصرت کے لئے میں کافی ہوں۔ دوسرے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ رہے یہ ظالم لوگ تو اس دنیا میں سے ان کا جو حصہ مقدر ہے وہ پائیں گے۔ ان کے جلدی مچانے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان کو اس مہلت سے محروم نہیں کرے گا جو اتمام حجت کے لئے ضروری ہے، لیکن بالآخر ان کو اسی دن سے سابقہ پیش آنا ہے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔

Ayahs 51:1–4

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

شاہد میں تند ہوائیں جو اڑاتی ہیں غبار ،

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پھر اٹھالیتی ہیں بوجھ۔

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پھر چلنے لگیت ہیں آہستہ۔

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر الگ الگ کرتی ہیں معاملہ۔

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات ا کی وضاحت والذریت ذروا، فالحملت وقراہ فالجریت یسوآء فالمقسمت امراً (4-1) جو اقسم کے لئے ہے اور قسم شہادت کے لئے والذریت میں ’ و ‘ قسم کے لئے ہے اور اس بات کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح اشیاء کی جو س میں کھائی گئی ہیں اس کا مقصود ان اشیاء کی تعظیم نہیں، بلکہ ان کو اس دعوت پر شہادت کے لئے پیش کرنا ہے جو قسم کے بعد مذکور ہوتا ہے یا سیاق کلام سے سمجھا جاتا ہے، چناچہ یہ قسم بھی شہادت ہی کے لئے ہے۔ اس کا ترجمہ اگر شہادت کے لفظ سے کیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ زیادہ معنی خیز ہوگا۔ ذاریت ذاریات غبار اڑانے والی ہوائوں کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ہوائوں کی صفت کے طور پر آتا ہے۔ لیکن یہ اپنے موصوف کے لئے اس طرح معروف ہوچکا ہے کہ اس کے قائم مقام کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ ذاریات کے بعد لفظ ذروا، کے اضافے سے معنی میں اسی طرح کا اضافہ ہوگیا ہے جس طرح ضرب ضرباً کے اندر تاکید فعل کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ اس طرح کی تاکیدات کا مفہوم اردو ترجمے میں منتقل کرا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اگر ہوائوں کے ساتھ تند کا اضافہ کردیا جائے تو ہمارا خیال ہے کہ یہ مفہوم ادا ہوجائے گا۔ کے ساتھ عطف کے فوائد فالحملت وقراً جب صفات کا عطفکے ساتھ ہو تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ ان کے اندر ترتیب ہے۔ دوسری اس بات پر کہ یہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف کی ہیں۔ عربیت کے اس قاعدے کی رو سے یہاں جو تین صفتیںکے ساتھ بیان ہوئی ہیں وہ لازماً ہوائوں ہی کی ہوں گی۔ جن لوگوں نے ان کو الگ الگ چیزوں کی صفت مانا ہے ان کی رائے عربیت کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے نظائر کے بھی۔ سورة عادیات میں ہے۔ والعدیت ضبحاہ فالموریت قدحا فالمغیرت صبحا فاثرن بہ نفقاً فوسطن بہ جمعاً (5-1) گواہی دیتے ہیں وہ جو ہانپتے دوڑتے ہی، پھر ٹھوکروں سے چنگاریاں نکالتے ہیں، پھر صبح کو دھاوا کرتے ہیں، پھر غبار اٹھاتے ہیں، پھر غول کے اندر گھس جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام صفتیں الگ الگ چیزوں کی نہیں ہیں، بلکہ گھوڑوں ہی کی ہیں اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کے بیان میں ترتیب بھی محلوظ ہے۔ کلام عرب میں بھی اس اسلوب کی مثالیں بہت ہیں۔ ہم صرف ابن زیابہ کا ایک مشہور شعر نقل کرتے ہیں۔ یالھف زیابۃ للحارث الصابح، فانعانم، فالائب (زیابہ کی طرف سے افسوس ہے ححارث پر جس نے غارت گری کی، لوٹا اور چل دیا) وقر وقر کے معنی بوجھ اور بار کے ہیں۔ یوں تو اس سے ہر وہ بوجھ اور بار مراد ہوسکتا ہے جس کو ہوائیں اٹھاتی ہیں۔ مثلاً غبار اور کنکر وغیرہ لیکن اس کا معروف استعمال بادلوں کے لئے ہے۔ مثلاً وھو الذین یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ ط حتی اذا اقلت سحاباً ثقالاً سقنہ لبلہ میت فانزلنا بہ المآء (الاعراف :57) اور وہی جو بھیجتا ہے ہوائوں کو خوش خبری بنا کر اپنے باران رحمت سے پہلے۔ یہاں تک کہ جب وہ بوجھ ہادلوں کو اٹھا لیتی ہیں ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی مردہ زمین کی طرف اور وہاں بارش برسا دیتے ہیں۔ جاریات کا مفہوم اور ایک غلط فہمی کا ازالہ فالجدیت یسراً یہ صفت بھی ہائوں ہی کی ہے جن لوگوں نے اس سے کشتیاں مراد لی ہیں ان کی رائے اس قاعدے کے خلاف ہے جس کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے یسر کے معنی آہستہ اور نرم کے ہیں۔ عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادلوں کو ہانک ہانک کر لاتی اور جس علاقہ کو سیراب کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، اس پر ان کو تہ بہ تہ جما دیتی ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار نرم ہوجاتی ہے اور مینہ برسنا شروع ہوجاتا ہے۔ تقسیم امر کا مفہوم فالمقسمت امرا قستم الامر کے معنی ہوں گے کہ جس کے لئے جو بات طے تھی یا جو امر مقدر تھا وہ اس کو پہنچا دیا۔ یعنی یہ ہوائیں بادلوں کو لاد کر لانے کے بعد اپنے رب کے حکم کے مطابق تقسیم امر کرتی ہیں۔ یعنی جس علاقہ کے لئے جتنا پانی برسانے کا حکم ہوتا ہے اتنا برسا دیتی ہیں۔ بعض کو جل تھل کردیتی ہیں۔ بعض کو نیم تشنہ اور بعض کو خشک چھوڑ جاتی ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے دیتا ہے تو بعض علاقوں پر وہ طوفان و سیلاب بن کر نازل ہوتی ہیں اور پورے علاقے کا علاقہ ان کی زد میں آ کر تباہ ہوجاتا ہے۔ ہوائوں کے تصرفات اور ان کے فرق و امتیاز کی نیزنگیاں نہایت حیرت انگیز ہیں۔ ایک قوم کے ساتھ ان کا معاملہ کچھ ہوتا ہے، دوسری قوم کے ساتھ کچھ کسی قوم کے لئے یہ ابر رحمت کی بشارت بن کر ظاہر ہوتی ہیں، کسی قوم کے لئے طوفان عذاب بن کر آگے، انشاء اللہ اس کی تفصیل آئے گی۔
Ayahs 51:5–6

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

کہ جس عذاب کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ سچ ہے

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور جزاء و سزا بیشک واقع ہو کے رہے گی۔

انما توعدون لصادق، وان الدین لواقع (6-5) قسم کا مقسم علیہ یہ اوپر کی قسم کا مقسم علیہ ہے۔ یعنی ہوائوں کے یہ عجائب تصرفات، جن کا تم برابر مشاہدہ کرتے رہتے ہو، اس بات پر شاہد ہیں کہ جس چیز کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے اور جزاء و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی۔ توعدون، کا مفہوم انما تعدون استاذ امام فراہی کے نزیک توعدون، وعد سے ہے جس کے تحت وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا نبیوں کی زبنی وعدہ کیا گیا ہے، یعنی حشر نشر، جزا سزا اور رحمت و نقمت وغیرہ وہ ان الدین لواقع کو اسی پر عطف خاص علی العام کی حیثیت دیتے ہیں۔ لیکن میرا رجحان اس طرف ہے کہ توعدون وعید سے ہے اور یہاں اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازماً اس کے مکذبین پر نازل ہوتا ہے۔ گویا ہوائوں کے عجائب تصرفات کی قسم یہاں میرے نزدیک دو چیزوں پر کھائی گی ہے۔ ایک اس بات پر کہ قریش کو جس عذاب کی بصورت تکذیب دھمکی دی جا رہی ہے اور جس کو وہ محض ایک دھونس گمان کر رہے ہیں وہ دھونس نہیں ہے بلکہ بالکل سچی دھمکی ہے اور اس طرح وہ جزا و سزا بھی ایک امر شدنی ہے جس کو بہت بعید از امکان سمجھ رہے ہیں۔ میرے اس رجحان کے حق میں کئی باتیں جاتی ہیں، لیکن ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف تین باتوں کی طرف اشارہ کافی ہے۔ ایک یہ کہ اس طرح مقسم علیہ کے دونوں اجزاء کا محل بالکل بےتکلف الگ الگ معین ہوجاتا ہے۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا۔ ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں ان پر نازل ہوا اگر وہ اپنی تکذیب پر اڑی رہ گئیں، دوسرے اس عذاب سے جس سے لازماً ان کو آخرت میں سابقہ پیش ائٓے گا اگر ان کا خاتمہ کفر ہی پر ہوا۔ ان دونوں عذابوں کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے اور ہم اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت مقتضی ہے کہ یہاں ان دونوں عذابوں کا ذکر ہو جب کہ قسم ان دونوں پر شاہد ہے۔ اس کی وضاحت آگے آئے گی۔ تیسری یہ کہ آگے رسولوں کی تکذیب کرنے والی بعض قوموں کا حوالہ قرآن نے اسی وعید کی تصدیق کے طور پر دیا ہے۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ ان کی تباہی میں ہوائوں کے تصرفات کو قرآن نے خاص طور پر نمایاں فرمایا ہے۔ زبان کا ایک نکتہ یہاں یہ نکتہ بھی محلوظ رہے کہ عذاب دنیا کی وعید کا ذکر تو فعل سے کیا ہے اور آخرت کی جز اور سزا کا ذکر اسم دنی سے کیا ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ اس دنیا میں قوموں پر جو عذاب آتا ہے وہ ایک امر حارث اور مشروط بشرائط و حالات ہوتا ہے۔ لیکن جزاء و سزا کا قانون اس دنیا کی خلقت کی غایت اور اس کا الزمی نتیجہ ہے اس وجہ سے پہلے کو فعل سے تعبیر فرمایا اور دوسرے کو اسم سے
Ayah 51:7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

شاہد ہے دھاریوں والا آسمان !

والسمآء ذات الحبک (7) ذات الحبک کی تحقیق مسماء سے آسمان کو بھی مراد لے سکتے ہیں اور بادلوں کو بھی۔ یہ دونوں معنوں کے لئے قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن آسمان کو مراد لیں گے تو یہاں لازماً ذلک الحبک کی صفت کے ساتھ ہی مراد لیں گے تو یہاں لازماً ذات الحبک کی صفت کے ساتھ ہی مراد لیں گے۔ اس وجہ سے اصل تحقیق طلب چیز یہ صفت ہی ہے۔ اساتذ امام رمتہ اللہ علیہ نے تفسیر سورة ذاریات میں اس لفظ کی تحقیق کلام عرب کے شواہد کی روشنی میں بیان فرمائی ہے۔ ہم اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں یہاں درج کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں۔ حبک کے معنی بادنھنے اور گرہ لگانے کے ہیں۔ یہیں سے یہ اس مضبوطی و استواری کے لئے استعمال ہوا جو کسی چیز کی بناوٹ میں پیدا کی جائے۔ اس سے حباک ہے جس کی جمع حبک آتی ہے۔ حبک ان دھاریوں، شکنوں اور لہروں کو کہتے ہیں جو کسی گف اور مضبوط بناوٹ کے کپڑے میں نمایاں کی گئی ہوں … فرار کی تحقیق یہ ہے کہ حبک سے مراد وہ لہریں اور شکنیں ہیں جو ریت یا مساکن پانی میں، جب کہ اس پر ہوا چل گئی ہو، پیدا ہوجاتی ہیں۔ یہیں سے یہ بادلوں کی تعریف میں استعمال ہونے لگا کیونکہ بادلوں کے ٹکڑے بھی آسمان میں تہ بہ تہ موجوں اور توبہ تو روئی کے گالوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ امر برالقیس فلک بوس محلوں کی تعریف کرتے ہوئے، جن پر بادل چھائے ہوئے ہیں، کہتا ہے۔ مکلۃ حمراء ذات اسرۃ لھا حبک کا نھا من وصائل (ان محلوں پر سرخ دھاریوں والے بادل چھائے ہوئے ہیں گویا کہ دھاریوں والی چادریں ہیں) یہ موسم سرما کے بادلوں کی تعریف ہے اور یہ ان کے رنگ اور ان کی تہوں کی نہایت صحیح تصویر ہے … جن لوگوں نے ذات الحبک سے چوخ مکوکب مراد لیا ہے، خواہ اس کی مضبوطی و استواری کے پہلو سے یا اس وجہ سے کہ اس میں تارے ٹنگے ہوئے ہیں، ہمارے نزدیک ان کی رائے صحیح نہیں ہے۔ …یہ لفظ دھاریوں، شکنوں، لہروں اور خطوط کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔“ مولانا فراہمی ؒ کی اس تحقیق کی روشنی میں یہ قسم سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کی ہے جو شمال کی باد تند کے ساتھ نمایاں ہوتے اور جن کو پچھلی معذب قوموں کی تباہی ہیں، جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی، بڑا دخل رہا ہے۔ گویا ہوائوں کی قسم کے بعد یہ بادلوں کی قسم اس قسم کی تکمیل ہے اس لئے کہ ہوائوں اور بادلوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ اس قسم کے اضافے سے ہوائوں کی ہلاکت انگیزی کے پہلو کی طرف خاص طور پر اشارہ مقصود ہے۔
Ayah 51:8

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

بیشک تم ایک اختلاف میں پڑے ہوئے ہو۔

انکم لفی قول مختلف (8) مخالفین کو ملامت شاہد ہے کہ یہ ٹکڑا جو اب قسم نہیں ہے بلکہ مخالفین کے رویہ پر ان کو ملامت ہے۔ جو اب قسم اوپر گزر چکا ہے اور یہ دوسری قسم اوپر والی قسم ہی کی تکمیل ہے اس وجہ سے اس کے بعد جواب قسم کے اعادے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اس کی جگہ مکذبین کو سرزنش کردی گئی کہ تم لوگ ایک صریح قسم کے اختلاف اور تناقض فکر میں مبتلا ہو ورنہ ان شہادتوں کے ہوتے نہ وعید عذاب کو جھٹلانے کی گنجائش ہے، نہ وعدہ جزا و سزا میں شک کرنے کی قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ وضاحت قرینہ کی بنا پر جواب قسم حذف کر کے اس کی جگہ کوئی سرزنش و ملامت کا جملہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورة ق میں گزر چکی ہے۔ ق والقران المجید، بل عجیوآ ان جآء ھم منذرمنھم نفسال الکفرون ھذا شیء عجیب (ق 2-1) یہ ق ہے۔ قرآن بزرگ و برتر کی قسم (یہ کلام الٰہی ہے) بلکہ ان کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس ایک آگاہ کرنے والا انہی میں سے آیا تو کافروں نے کہا یہ تو عجیب بات ہے ! اس آیت میں دیکھ لیجیے جواب قسم مذکور نہیں ہے بلکہ اس کی جگہ مخالفین کو ان کی صریح دھاندلی پر ملامت کردی گئی ہے۔ یہی اسلوب سورة بروج میں بھی اختیار فرمایا گیا ہے۔ والسمآء ذات البروح والیوم الموعود و شاھد ومشھودہ قتل اصحب الاخدود (البروح 4-1) قسم ہے برجوں والے آسمان کی اور وعدہ کئے ہوئے دن کی اور شاہد و مشہور کی ! ناس ہوں آگ کی گھاٹی والے ! مخالفین کا تضاد فکر لول مختلف، قیامت اور جزاء و سزا کے باب میں ان کے تضاد فکر اور تضاد قول کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین عرب کے بارے میں ہم جگہ جگہ یہ لکھ چکے ہیں کہ ان میں سب قیامت کے کھلے منکر ہی نہیں تھے بلکہ انکار کرنے والوں کے ساتھ ان کے اندر ایک گروہ مذبذبین کا بھی تھا جو صریح طور پر انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو ایک مستبعد بات سمجھتے تھے۔ اسی طرح ان کے اندر ایک بہت بڑا گروہ ان لوگوں کا بھی تھا جو قیامت کو بعید از امکان تو نہیں سمجھتے تھے لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ قیامت کے دن ان کا معاملہ ان کے شرکاء و شفعاء سے متعلق ہوگا، وہ اپنے پجاریوں کو اپنی شفاعت سے بچا لیں گے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے لئے وہ تمام صفتیں تسلیم کرتے تھے جو اس کی بدیہی اور لازمی صفات ہیں اور جو جزاء و سزا کو لازم کرتی ہیں دوسری طرف ان کے بدیہی نتائج ولوازم کے بارے میں یا تو مبتلائے شک تھے یا ان کا انکار کرتے تھے۔ ان کی اسی ذہنی الجھن کی طرف یہاں اشارہ فرمایا گیا ہے۔ مقصود ان کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ قرآن ان کو جس بات سے آگاہ کر رہا ہے وہ تو اس کائنات کی ایک بدیہی حقیقت ہے بشرطیکہ یہ لوگ اپنے ذہن کو سیدھی راہ پر سوچنے دیں، اس میں غیر فطری اڑنگے نہ ڈالیں۔ پچھلی سورة میں فھم فی امر مریح کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ ہمارے نزدک دونوں جگہ ایک ہی حقیقت واضح فرمائی گی ہے۔
Ayah 51:9

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے وہی روگردانی کرتے ہیں جن کی عقل الٹ دی گئی ہو۔

یوفک عنہ من افک (9) یہ جملہ قول مختلف کی صفت نہیں بلکہ ایک مستقل جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے ذہن کو تناقص سے پاک کر کے سوچیں تو جزا و سزا کا معاملہ بالکل بدیہی حقیقت ہے لیکن جن لوگوں کی عقل الٹ دی جاتی ہے وہ اس سے برگشتہ کردیئے جاتے ہیں۔ افک کے معنی الٹ دینے کے ہیں اور مافوک اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل الٹ دی گئی ہو۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو فلما زاغوآ ازاغ اللہ قلوبھم (الصف : 5) اور اس مضمون کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہے، یعنی ان لوگوں نے اپنی عقل صحیح طور پر استعمال نہیں کی اس وجہ سے قانون الٰہی کے مطابق ان کی عقل الٹ دی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کو وہ چیز بھی نظر نہیں آرہی ہے جس کی شہادت اس کائنات کے ہر گوشے سے مل رہی ہے۔
Ayahs 51:10–11

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

اٹکل کے تیر تکے چلاین والے ہلاک ہوں !

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، بالکل بیخبر ،

قتل الخرصون، الذین ھم فی غمرۃ ساھون (11-10) گمان کا سہارا لینے والوں کی تباہی یہ جملہ بھی امت و سرزنش کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اٹکل کے تیر تکے چلانے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنی عقل سے کام لینا چھوڑ دیا ہے اس وجہ سے آفاق وانفس اور ارض و سماء کی وہ تمام دلیلیں جن کی طرف قرآن ان کو توجہ دلا رہا ہے، ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ بصیرت سے محروم ہونے کے باعث اب ان کا تمام اعتماد و قیاس و گمان پر رہ گیا ہے۔ اسی قیاس و گمان کے بل پر وہ اس واضح سے واضح حق کو بھی جھٹلانے پر کمر بستہ ہیں جو ان کی خواہشوں کے خلاف ہے حالانکہ گمان کسی درجے میں بھی انکے لئے حق کا بدل نہیں بن سکے گا بلکہ ایک دن ان پر واضح ہوجائے گا کہ حق کے انکار کے لئے انہوں نے وہم و گمان کا جو سہارا لیا یہی ان کی تباہی کا اصل سبب بنا۔ جو امور جتنے ہی اہم ہیں ان کے لئے اتنا ہی اہتمام ہے خرص کے معنی اندازہ اور تخمینہ کرنے کے ہیں خرص النخل و الکرم کے معنی ہیں کھجور کے درخت یا انگور کی بیل کے پھلوں کا اندازہ کیا۔ خرص فی الحدیث، کے معنی ہوں گے کہ ایک امر پر غور کئے بغیر، اس کے بارے میں ایک اٹل پچو بات اڑا دی۔ انسان کی زندگی سے متعلق جو امور جتنے ہی اہم اور دور رس نتائج کے حامل ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے اتنا ہی زیادہ اہتمام فرمایا ہے۔ اٹکل اور اندازوں پر وہی امور اس نے چھوڑے ہیں جن کی انجام کار کے پہلو سے کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ جن امور کی خاص اہمیت ہے جو دور رس نتائج کے حامل ہیں اور جن پر انسان کی صلاح و فلاح کا انحصار ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے قیاس و گمان پر نہیں چھوڑا ہے بلکہ ان میں ہر پہلو سے اس نے حجت تمام کردی ہے تاکہ انسان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ ان امور میں اٹکل کے گھوڑے دوڑانا بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک شخص اندھیری رات میں اللہ کی بخشی ہوئی روشنی کو گل اور اپنی آنکھیں بند کر کے محض اٹل سے راستہ معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ انسان کے لئے اس کی عاقبت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے کسی پہلو کو بھی مبہم نہیں چھوڑا ہے بلکہ ہر جہت سے صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما دی ہے تاکہ گمراہی کا اندیشہ نہ رہے۔ آسمان و زمین میں اس نے قدم قدم پر نشانات راہ گاڑ دیئے ہیں جو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ آنکھیں دے دی ہیں جو ان نشانات کو دیکھ سکتی ہیں اگر انسان آنکھیں کھلی رکھے۔ عق بخشی ہے جو ان اشاروں کو سمجھتی ہے یا سمجھ سکتی ہے بشرطیکہ انسان اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھائے۔ علاوہ ازیں انسان کی فطرت میں وہ تمام داعیات و محرکات ودیعت فرما دیئے ہیں جو صحیح سمت میں قدم بڑھانے، خطرات کا مقابلہ کرنے اور انسان کو برابر بیدار رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ پھر مزید اور سب سے اعلیٰ و اشرف انتظام یہ فرمایا کہ اپنے نبیوں، رسولوں اور اپنی اتاری ہوئی کاتبوں کے ذریعہ سے اچھی طرح واضح فرما دیا کہ زندگی کی صحیح شاہراہ کیا ہے اور اس راہ کے لئے کیا زاد و راحلہ مطلوب ہے۔ اتنے گوناگوں اہتمام کے بعد بھی اگر انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے محض اپنی اٹکل سے اپنے لئے کوئی اور راہ ڈھونڈنے کے در پے ہو تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اسے روشنی سے نفرت ہے، وہ تاریکی ہی میں بھٹکنا چاہتا ہے۔ اٹل کی پیروی کا سبب الذین ھم فی غمرۃ ساھون، یہ ان اٹکل کے تیر تکے چلانے والوں کی صفت بیان ہوئی ہے جس سے اس بات کی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے خدا کی روشنی چھوڑ کر اپنا رہنما اٹکل کو کیوں بنایا ہیچ فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خواہشات نفس کے اندھیرے میں گھرے ہوئے ہیں اور ان پر ایسی غفلت طاری ہے کہ اس کا تسلسل کبھی ٹوٹتا ہی نہیں کہ اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔ غمرۃ سے مراد خواہشات نفس اور مطامع دنیا کی تاریکی ہے۔ ساھون خبر کے بعد دوسری خبر ہے جس سے ان کی غفلت کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چیز ان پر اس طرح مسلط ہے کہ وہ اس سے باہر نکلنے کا کبھی نام ہی نہیں لیتے۔ اگر کبھی کوئی ان کو جگانے اور حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ چیز ان کے دلوں پر شاق گزرتی ہے اور وہ اپنے کو مطمئن رکھنے کے لئے جو غلط سے غلط سہارا بھی مل جاتا ہے اس پر تکیہ کرلیتے ہیں۔
Ayah 51:12

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں جزا و سزا کا دن کب آئے گا !

یسئلون ایان یوم الدین 12 منکرین جزا کا معارضہ یعنی وہ جزا و سزا سے آگاہ کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لئے یہ سوال کرتے ہیں کہ جس یوم الجزاء سے ڈرا رہے ہو کہاں ہے ؟ اس کا ظہور کب ہوگا ! اس سوال کے اندر انکار، استہزاء اور جلد بازی تینوں ہی باتیں موجود ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر فی الواقع اس طرح کا کوئی دن آنے والا ہے تو وہ آتا کیوں نہیں ! اس کے ڈرائونے سنتے سنتے تو ہمارے کان پک گئے لیکن اس کو نہ آنا تا نہ آیا۔ یہ محض ایک ہوا ہے جس سے تم ہمیں مرعوب کرنا چاہتے ہو۔ اگر اس کی کوئی حقیقت ہے تو اس کو لائو۔ اس کو دیکھے بغیر ہم تمہاری ان خیالی باتوں سے مرعوب ہونے والے نہیں ہیں ! یہ سوال نقل کرنے سے قرآن کا مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اس قماش کے لوگ حقائق سے گریز اختیار کرنے کے لئے اسی طرح کے بہانوں کی آڑ میں چھپتے ہیں حالانکہ انہیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ اگر یوم الجزاء کا آنا آفاق وانفس کے دلائل سے ثابت ہے اور اس کا ظہور اس کائنات کے خالق کی صفات کا لازمی تقاضا ہے تو اس دلیل سے اس کو نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ اس سے ڈرانے والے اس کو دکھا نہیں سکتے یا اس کا وقت نہیں بتا سکتے۔ اس قسم کا معارضہ ایک حقیقت کو طن وتخمین سے جھٹلانے کے ہم معنی ہے اس وجہ سے قرآن نے ان لوگوں کے لئے خرصون کا لفظ اسعتمال فرمایا۔
Ayah 51:13

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں گے !

یوم ھم علی النار یفتنون 13 جواب منکرین کی ذہنیت کے مطابق یہ سوال تحقیق کے لئے نہیں بلکہ جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انکار اور استہزاء کے لئے تھا، اس وجہ سے قرآن نے جواب ان کی ذہنیت کو پیش نظر رکھ کردیا۔ یہ امر واضح رہے کہ جو لوگ اس طرح کے سوال کرتے تھے وہ اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ اس کے ظہور کا وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کسی کو اس کا علم نہیں ہے اور اس کا علم نہ ہونے سے اصل حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے وقت اور دن سے تعرض کرنے کے بجائے اس صورت حال کی تصویر ان کے سامنے رکھ دی جس سے اس دن سابقہ پیش آئے گا کہ یہ جزا کا دن اس وقت ظہور میں آئے گا جب یہ آگ پر تیائے جائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو اڑالیں لیکن یاد رکھیں کہ اس دن ان کا یہ حشر ہوتا ہے۔ لفظ فتن کی تحقیق اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہ لفظ جلانے اور تپانے کے معنی میں بھی آتا ہے اور کسی کو امتحان میں ڈال کر جانچنے اور پرکھنے کے معنی میں بھی۔ یہاں یفتنوکن سے دو معنوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ ایک تو جلانے اور تپانے کے معنی کی طرف، دور سے اس حقیقت کی طرف کہ جس آگ پر یہ لوگ تپائے جائیں گے یہ ان شہوات و زخارف کی آگ ہوگی جن سے وہ دنیا میں آزمائے گئے اور جن کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ جزا کے دن سے بےپروا ہوئے۔ آگے اس کی وضاحت آرہی ہے۔
Ayah 51:14

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

چکھو مزا اپنے فتنہ کا، یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے !

ذوقوا فتنکو ھذا الذی کنتم بہ تسلعجلون 14 لفظ فتنۃ یہاں میرے نزدک اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے یعنی دنیا کی وہ چیزیں جو تمہیں فتنہ میں ڈالنے والی بنیں اور جن کے عشق میں مبتلا ہو کر تم آخرت سے برگشتہ ہوئے، اپنی اصی شکل و صورت میں وہ تمہارے سامنے نمایاں ہوگئیں، اب ان کا مزا چکھو۔ یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم جلدی مچائے ہوئے تھے۔ 2۔ ابرو ہوا کے تصرفات میں جزا اور سزا کی شہادت کے پہلو یہاں تھوڑی دیر توقف کر کے اوپر کی قسموں اور ان کے مقسم علیہ کے باہمی تعلق پر مزید غور کر لیجیے تاکہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے کہ یہ قسمیں درحقیقت اپنے مقسم علیہ پر دلیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سورة کی تمہید میں دو چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے اور ان قسموں کے بعد دو دعوے رکھے گئے ہیں قسم ہوائوں کے عجائب تصرفات اور دھاریوں والے بادلوں کی کھائی گئی ہے اور دعویٰ ایک تو یہ کیا گیا ہے کہ جس عذاب کا تم کو ڈراوا دیا جا رہا ہے اس کو جھوٹ نہ سمجھو بلکہ یہ بالکل بیچ ہے۔ دوسرا یہ کہ جس روز جزاء و سزا سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس کو بعید از امکان نہ خیال کرو بلکہ وہ پیش آ کے رہے گا۔ اب دعوے اور دلیل میں مطابقت کے پہلوئوں پر غور کیجیے۔ پہلا دعویٰ یہ ہے کہ انما توعدون لصادق (بےشک جس عذاب کی تم کو وعید سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچ ہے) اس ٹکڑے کی شرح کرتے ہوئے ہم واضح کرچکے ہیں کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جس سے ہر رسول نے اپنی قوم کو ڈرایا کہ اگر اس نے اپنی تکذیب کی روش نہ بدلی تو وہ لازماً عذاب الٰہی کی گرفت میں آجائے گی۔ اس دعوے پر ابرو ہوا کے تصرفات میں شہادت کا پہلو یہ ہے کہ کوئی قوم، خواہ کتنے ہی وسائل و ذرائع اور کتنی ہی قوت و جمعیت کی مالک ہو، وہ اپنے آپ کو خدا کی گرفت سے باہر نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تباہ کرنا چاتہا ہے تو اس کے لئے اسے کوئی بڑی مورچہ بندی نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنی ہوائوں اور اپنے بادلوں ہی کے ذریعہ سے جب چاہے اس کو فنا کر دے سکتا ہے۔ یہ جس طرح انسان کے وجود و بقا کے لئے ناگزیر ہیں اسی طرح اسی کو فنا کردینے کے بھی بےپناہ ہیں۔ آگے ت اریخ کی روشنی میں اس دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اسی سوروہ میں قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کی مثالیں پیش کی ہیں جن میں دکھایا ہے کہ ان قوموں کو بھی اپنی قوت و شوکت پر بڑا ناز تھا۔ اس غرور میں انہوں نے اللہ کے رسولوں کی وعید کا مذاق اڑایا اور مطالبہ کیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لائو، ہم اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔ بالآخر وہ عذاب ان پر آدھمکا اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی اہتمام نہیں کرنا پڑا۔ وہی ہوا جو زندگی کے لئے ناگزیر ہے ان کے لئے طوفان قیامت بن گئی اور وہی ابر جس کو دیکھ کر وہ خوشی سے ناچنے لگے کہ ھذا عارض ممطرنا (الاحقاف : 24) (یہ ہم کو سیراب کردینے والا بادل ہے) ان کے لئے قہر الٰہی بن گیا۔ یہاں اس اشارے پر قناعت فرمایئے۔ آگے ان قوموں کی تباہی کی تفصیلات آرہی ہیں۔ وہاں قرآن نے دکھایا ہے کہ دنیا کی یہ عظیم قومیں اسی غرور میں مبتلا ہوئیں جس میں قریش مبتلا ہیں بالآخر ان کو اللہ تعالیٰ کی ہوائوں اور اس کے بادلوں ہی نے چشم زدن میں خس و خاشاک بنا کر اڑا دیا اور وہ ان کے مقابل میں ایک ملحہ کے لئے بھی نہ ٹک سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہ لشکر آج بھی موجود اور اس کے حکم کے منتظر ہیں۔ تاریخ ان کے کارناموں پر شاہد ہے ! اسی طرح دوسرے دعوے یعنی جزا اور سزا کے حق ہونے پر بھی یہ متعدد پہلوئوں سے شاہد ہیں۔ ہوا اور بادلوں کے باہمی تفاعل سے اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، رحمت اور ربوبیت کی وجو شانیں ظاہر ہوتی ہیں ان سے قرآن نے جگہ جگہ متعد بنیادی حقائق پر استدلال کیا ہے۔ ان کے اندر کوئی ایک نشانی نہیں ہے بلکہ گوناگوں نشانیاں موجود ہیں بشرطیکہ انسان ان پر غور کرے۔ اس باب میں ایک جامع آیت یہ ہے۔ فرمایا ہے۔ ان فی خلق السموت والارض واختلاف الیل والھار وا لفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس وما انزل اللہ من السمآء من مآء فاحیا بہ الارض بعد مر تھا وبث فیھا من کل دآبۃ وتصریف الریح والسحاب المسخر بین السمآء والارض لایت تقوم یعق لون (البقرۃ 164:) بے شک آسمانوں اور زمین کی خلفت، رات اور دن کی گردش اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں لوگوں کے نفع کی چیزیں لے کر چلتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا پس اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کردیا اور اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلائے اور ہوائوں کی گردش میں اور ابدلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان مخسر ہیں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو قعل سے کام لینے والے ہیں۔ اس آیت میں ہوائوں اور بادلوں کے تصرفات کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے اور آخر میں فرمایا ہے کہ ان کے اندر غور کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ یہ نشانیاں توحید، معاد، رسالت ہر چیز پر ہیں جن کی وضاحت ان کے محل میں ہوچکی ہے۔ یہاں ہم صرف ان نشانیوں کا بالا جمال حوالہ دیں گے جن کا تعلق مقسم علیہ یعنی جزا و سزا سے ہے۔ جزاء سزا سے متعلق ایک بہت بڑا شبہ منکروں نے یہ پیش کیا کہ مرجانے اور سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا بعید از قیاس ہے۔ یہ شبہ پچھلی سورة میں تفصیل سے زیر بحث آچکا ہے۔ اس شب ہے کی تردید میں قرآن نے جو دلیلیں پیش کی ہیں ان میں ایک نمایاں دلیل، جس کا ذکر گونا گوں اسلوبوں سے بار بار ہوا ہے، ابرو ہوا کے تصرفات ہی سے تعلق رکھنے والی ہے۔ معاد کو مستبعد سمجھنے والوں کو جگہ جگہ یہ جواب دیا گیا ہے کہ تم آئے دن اس دنیا میں قارت کا یہ کرشمہ دیکھتے ہو کہ زمین بالکل چٹیل اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے اور اس کے کسی گوشے میں بھی زندگی اور روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا کہ دفعتہً کسی گوشے سے ہوا اٹھتی ہے، وہ بادلوں کو ہانک کر لاتی ہے، ان کو ایک خاص علاقے کے افق پر تہ بہ تہ جماتی ہے۔ پھر بادلوں سے مینہ برسنے لگتا ہے اور دیکھتے دیکھتے تمام علاقہ جل تھل ہوجاتا ہے اور چند دن بھی گزرنے نہیں پاتے کہ وہی رقبہ جو بالکل مردہ تھا زندگی سے معمور ہو کر لہلہانے لگتا ہے۔ جس قدرت کی یہ شانیں آئے دن دیکھتے ہو تمہارے مرکھپ جانے کے بعد اگر وہ تمہیں زندہ کرنا چاہے گی تو یہ کام اس کے لئے کیوں ناممکن ہوجائے گا ! اسی طرح ابرو ہوا کے تصرفات سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنی ربوبیت کا جو اہتمام فرمایا ہے اس سے بھی جگہ جگہ جزاء و سزا کے لازم ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔ اس کی تقریر بالا جمال یوں ہے کہ دیکھتے ہو کہ آسمان بھی بند ہوتا ہے اور زمین بھی بند ہوتی ہے۔ نہ آسمان پانی برساتا اور نہ زمین کوئی چیز اگاتی ہے اللہ تعالیٰ کسی جانب سے سازگار ہوائیں چلاتا ہے جو بوجھل بادلوں کو لاد کر لاتی ہیں اور زمین کو سیراب کردیتی ہیں جس سے زمین اپنے خزانے اگلنا شروع کردیتی ہے۔ تمہارے باغ لہلہا اٹھتے ہیں، تمہارے کھیت شاداب ہوجاتے ہیں، تمہارے میدان سبزہ سے بھر جاتے ہیں، جن سے تم بھی بہرہ مند ہتے ہو اور تمہایر جانور بھی غور کرو کہ جس خدا نے تمہاری پرورش کا یہ اہتمام فرمایا ہے کہ اپنے آسمان و زمین اور اپنے ابرد ہوا سب کو تمہاری خدمت میں مصروف کر رکھا ہے کیا وہ تم کو اپنے باغوں اور چمنوں میں عیش کرنے کے لئے اسی طرح چھوڑے رکھے گا، کوئی ایسا دن نہیں لائے گا جس میں وہ دیکھے کہ کس نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور شکر گزاری کی زندگی بسر کی اور سک نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اسی کے خلاف بغاوت کے لئے استعمال کیا ! ہر نعمت کا یہ حق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے اور ہر نعمت کے ساتھ مسئولیت کا شعور اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرمایا ہے۔ اس شعور سے عاری صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فطرت کو بالکل مسخ کرلیتے ہیں۔ اسی طرح ابرو ہوا کے تصرفات سے اللہ تعالیٰ نے اپنے اقنون مکافات پر بھی شہادت پیش کی ہے کہ انہی ہوائوں اور بادلوں کو دیکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کے لئے رحمت بنا دیتا ہے اور دوسری قوم کے لئے عذاب۔ انہی ہوائوں کے تصرف سے اس نے حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو جات بخشی اور ان یہ کی گردش سے رفعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس خلق کا خالق دیان ہے۔ وہ نیکیوں اور بدوں کیساتھ ایک ہی معاملہ نہیں کرے گا بلکہ ہر ایک کیساتھ اپنے عدل اور اپنی رحمت کے تقاضوں کے مطابق معاملہ کرے گا اوپر ہوائوں کی یہ صفت گویا ان کے خالق کی صفت عدل کا مظہر ہے جس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ ایک دن ایسا لازماً آئے گا جس میں اللہ تعالیٰ تقسیم امر فرمائے گا جو نجات و رحمت کے حقدار ہوں گے ان کو رحمت و مغفرت سے نوازے گا اور جو عذاب و عقاب کے سزا وار ہوں گے ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔
Ayah 51:15

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک پرہیز گار باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

3۔ آگے آیات 19-15 کا مضمون اوپر ان لوگوں کا ذکر گزرا ہے جو جزا و سزا سے بالکل نچنت لا ابا لیانہ زندگی گزارتے رہے اگر کسی نے اس خواب غفلت سے ان کو بیدار کرنے کی کوشش کی تو اس کا منہ انہوں نے اسی جواب سے بند کرنے کی کوشش کی کہ جزاء و سزا کا کوئی دن ہے تو وہ کہاں ہے ؟ اس کو لائو اور دکھائو۔ اب ان کے مقابل میں ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو اس دن کو ایک حقیقت سمجھ کر برابر اس سے رتے اور اس کے لئے تیاریوں میں مصروف رہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 4 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ان المتقین فی جنت وعیون 15 تقویٰ کی روح متقین ایک جامع صفت ہے جو قرآن میں ان لوگوں کے لئے استعمال ہوئی ہے جو خدا کے مقرر کردہ حدود و یوم کے اندر زندگی گزارنے والے ہیں۔ یہاں بھی اصلاً مراد وہی ہیں لیکن اوپر کی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جو آخرت اور جزاء و سزا سے نچنت لا ابالیانہ زندگی گزارتے ہیں اس وجہ سے یہاں، تقابل کے اصول پر، اس صفت کے اندر جزاء و سزا کے اندیشہ کا پہلو نمایاں ہے یعنی اس سے خاص طور پر وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے زندگی میں جو قدم بھی اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک دن ہر قول و فعل کا حساب دیتا اور حدود الٰہی سے ہر تجاوز کی سزا بھگتنی ہے۔ درحقیقت جزاء و سزا کا یہی اندیشہ تقویٰ کی اصل روح ہے۔ جس تقویٰ کے اندر یہ روح نہ ہو وہ محض نمائشی اور کاروباری تقویٰ ہے جس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کی نسبت فرمایا کہ بیشک یہ لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اوپر لا ابالینہ زندگی گزارنے والوں کا انجام یہ باین ہوا کہ وہ جن زخارف پر ریجھ کر آخرت سے بےپروا ہوئے انہی کی آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اب ان زخارف کا مزہ چکھو۔ اس کے برعکس ان لوگوں نے چونکہ آخرت کے مقابل میں دنیا کے اخارف کو کوئی وقعت نہیں دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو باغوں اور چشموں میں اتارے گا۔ جنت اور عیون دونوں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ آخرت کی نعمتوں کی جامع تعبیر ہیں۔ فی یہاں اس بات پر دلیل ہے کہ یہ لوگ جنت کی نعمتوں میں بالکل گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لئے ہر طرف نعمت ہی نعمت ہوگی۔
Ayah 51:16

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

پا رہے ہیں گے جو کچھ ان کے رب نے ان کو بخشا۔ بیشک وہ اس سے پہلے خوب کاروں میں تھے۔

اخذین ماتھم ربھم ط انھم کانوا قبل ذلک محسنین 16 جنہوں نے دنیا میں خدا کی پابندیوں کا احترام کا یا ان کے لئے آخرت میں آزادی یہ ان نعمتوں سے ان کے آزادانہ متمتع ہونے کی تصویر ہے۔ اخذین حال واقع ہے اس وجہ سے میرے نزدیک یہ صورتحال کی تصویر کا فائدہ دے رہا ہے یعنی وہ دمبدم وہ کچھ پا رہے ہوں گے جو ان کے رب نے ان کو عطا فرمای۔ ما اتھم ربھم میں صیغہ ماضی اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جہاں تک دیئے جانے کا تعلق ہے اس کا فیصلہ اور وعدہ تو ان کے رب نے پہلے ہی سے کر رکھا ہے، اس بات میں ان کو کسی نئے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ اب صرف ان نعمتوں سے متمع و محظوظ ہونے کا دور ہوگا۔ وہ جس چیز کے خواہشمند ہوں گے اپنے رب کے بخشے ہوئے غیر فاننی ذخائر میں سے لیں گے اور جتنا چاہیں گے اور جب چاہیں گے لیں گے۔ ان کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ انہوں نے دنیا میں اپنے رب کی عائد کردہ پابندیوں کا احترام کیا۔ اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ ان کو تمام نعمتیں بخش کر آزاد چھوڑ دے گا کہ اب ان سے جس طرح چاہو متمتع ہو، تم پر کوئی پابندی باقی نہیں رہی۔ تقویٰ کے اندر احسان کی روح انھم کانوا قبل ذلک محسنین یہ ان کے اپور اس بےپایاں انعام کی علت بیان ہوئی ہے کہ یہ لوگ اس سے پہلے دنیا کی زندگی میں محسنین میں رہے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان پر انعام فرمائے گا محسنین کا ترجمہ ہم نے اس کتاب میں جگہ جگہ خوب کار کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے رب کے ہر حکم کی تعمیل اس طرح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح اس کے کرنے کا حق ہے۔ یہ صفت صرف ان لوگوں کے اندر پیدا ہوتی ہے جن کے اندر جزاء و سزا کا عقیدہ راسخ ہو۔ یہ عقیدہ جن کے اندر راسخ ہوتا ہے وہ ہر کام اس طرح کرتے ہیں گویا وہ خدا کو دیکھ رہے ہی، اس لئے کہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر وہ خدا کو نہیں دیکھ رہے ہیں تو خدا تو بہر حال ان کو دیکھ رہا ہے۔ متقین کے لئے محسنین کا لفظ اسعتمال کر کے ان کے باطن پر روشنی ڈلای گئی ہے کہ یہ لوگ چونکہ جزاء و سزا پر یقین رکھنے والے تھے اس وج سے ان کا تقویٰ محض ظاہر دارانہ تقویٰ نہیں تھا بلکہ اس کے اندر احسان کی روح تھی۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہی تقویٰ اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و قیمت رکھتا ہے اور جزاء و سزا کے راسخ اعتقاد سے پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 51:17

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ راتوں میں کم ہی سوتے تھے

کانوا قلیلاً من الیل مایھجعون (17) تقویٰ اور احسان کی بعض علامات یہ ان کے تقویٰ اور احسان کی علامات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ راتوں کو کم سوتے تھے۔ یعنی وہ بےفکروں اور لا ابالیوں کی طرح اپنی راتیں عیش کے بستروں میں نہیں بلکہ روز حساب کی تیاریوں میں گزارت ی تھے، ان کی راتوں کا زیاہ حصہ خدا کے آگے سجود و قیام اور ذکر و فکر میں بسر ہوتا۔ یہ کفر آخرت کا ایک لازمی اثر بیان ہوا ہے۔ جن کو آخرت کی فکر ہوتی ہے وہ گھوڑے بیچ کر نہیں سوتے۔ ان کو یہ انیدشہ دامن گیر رہتا ہے کہ ممن ہے یہ زندگی کی آخری رات ہو اس وجہ سے ان کی نیند کھٹکے کی نیند ہوتی ہے۔ وہ راتوں میں اٹھ اٹھ کر اپنے رب کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اسی طرح کے لوگوں کا حال دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ تتجانی جنوبھم عن المفاجع یدعون ربھم خوفا وطمعاً وما رزقنھم ینفقون (السجدۃ :16) (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں۔ وہ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں، بیم وامید کے ساتھ، اور جو روزی ہم نے ان کو بخشی ہے اس میں سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔) اس جملہ کی تالیف کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں، لیکن مطلب ہر شکل میں ایک ہی ہوگا۔ ایک شکل یہ ہو سکتی ہے کہ انھم کا نوا قلیلاً ھجوعھم (ان کا شب میں سونا تھوڑا تھا) دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ کانوا یھجعون قلیلاً من الیل (رات میں وہ تھوڑا سوتے تھے) الغرض نحوی تالیف کی صورتیں تو مختلف ہو سکتی ہیں لیکن مفہوم میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم اس سے مختلف لیا ہے، لیکن ان کی رائے عربیت کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے نظائر کے بھی اس وجہ سے اس سے تعرض کی ضرورت نہیں ہے۔ ہجوع، کے معنی سونے کے ہیں اور اس آیت سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اہل تقویٰ اور اہل احسان کی یہ خاص علامت ہے کہ وہ رات میں کم سوتے ہیں، زیادہ حصہ اس کا وہ اللہ تعالیٰ کی یاد ذکر و فکر اور توبہ و استغفار میں گزارتے ہیں۔ یہی بات قرآن کے نظائر سے بھی نکلتی ہے، مثلاً یا یھا المزمل تم الیل الا قلیلاً (الزمل :2-1) (اے چادر میں لیٹنے والے، رات میں قیام کر، بجز تھوڑے حصہ کے) اس کے بعد مقدار کی وضاحت بھی فرما دی ہے۔ نصفہ اوانقص منہ قلیلاً اوزدعلیہ (الزمل :4-3) (آدھی رات قیام کر یا اس سے کچھ کم کر دے یا اس سپر کچھ اضافہ کرلے) اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ شب بیداری ان اہل تقویٰ کی خاص عالمات میں سے ہے۔ جو مرتبہ احسان پر فائز ہیں اور یہیں سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ اس مرتبہ کے حصول کی تمنا رکھتے ہیں ان کے لئے بھی اس کا اہتمام لازمی ہے۔ رہے ہما شما جو ان عقبات کو عبور کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو ان کے لئے بعض رخصتیں ہیں جن کی وضاحت انشاء اللہ سورة مزمل کی تفسیر میں آئے گی۔
Ayah 51:18

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور صبح کے وقتوں میں مغفرت مانگتے تھے

وبالا سحارھم یستغفرون 18 پو پھٹنے سے کچھ پہلے کا وقت سحر کا وقت ہے۔ یہ ان کی تمام شب خیزی اور تمام رکوع و سجود کی غایت بیان ہوئی ہے۔ یعنی آخری کام ان کا یہ ہوتا ہے کہ سحر کے وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں کہ رب کریم جزاء و سزا کے دن ان کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان کو اپنے دامن عفو و کرم میں جگہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ نہ تو اس بات کے موتقع ہوتے کہ اس شب بیداری اور رکوع و سجود کے صلہ میں ان کو حضور و شہود کا کوئی بڑا مقام حاصل ہوگا اور نہ وہ اس طرح کی کسی چیز کے طلبگار ہی بنتے بلکہ ان کی طلب صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے چناچہ ان کی شب کی تمام عبادت و ریاضت کا اختتام استغفار پر ہوتا ہے۔ اسلام میں عبادت و ریاضت کا اصل مقصد اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اسلام میں عبادت و ریاضت کا مقصود دوسرے مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب میں عبادت و ریاضت کا اصل مقصود کشف، مشاہدہ، تجلی ذات، ذات خداوندی میں انضمام اور اس قبیل کی دوسری چیزیں ہیں۔ جوگی، سنیاسی اور راہب جو ریاضتیں کرتے ہیں ان سے ان کے پیش نظر یہی چیزیں ہوتی ہیں، لیکن اسلام میں ریاضت و عبادت کا اصل مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کی طلب ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسری چیز اگر عبادت کے مقصد کی حیثیت حاصل کرنے تو اسلام میں اس عبادت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہندوئوں کے فلسفہ سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں صوفیوں کے ایک بقہ نے بھی عبادت و ریاضت کا مطمع نظر انہی چیزوں کو بنا لیا ہے جن کا ذکر اوپر ہوا اس وجہ سے ان کے تزکیہ نفس کی ساری جدوجہد نے ایک بالکل ہی مختلف راہ اختیار کرلی۔ یہاں اس مسئلہ پر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم نے اپنی کتاب تزکیہ نفس میں اس کے بعض پہلو واضح کئے ہیں۔ استغفار کے لئے سازگار ساعت آخر شب اور سحر کا قوت ہے۔ اس وقت جیسا کہ مشہور حدیث قدسی سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت استغفار کرنے والوں کے انتظار میں ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت سے فائدہ اٹھانے کا حوصلہ صرف طالب صادق ہی کرسکتے ہیں۔ ہر بوالہوس یہ حوصلہ نہیں کرسکتا کہ رات رکوع و سجود میں گزارے۔ پھر صبح کو مغفرت کا سائل بن کر اپنے رب کے دروازے پر حاضر ہو۔ اللہ کے جو بندے یہ حوصلہ دکھاتے ہیں ان کا یہ حوصلہ ہی ان کے اخلاص کا ضامن ہوتا ہے، اس وجہ سے اللہ کی رحمت ان کی طرف ضرور متوجہ ہوتی ہے۔ اصل جالب رحمت تو بندے کا خلوص ہے۔ جب یہ چیز موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کے پاس فضل و رحمت کی کیا کمی ہے !
Ayah 51:19

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق تھا

وفی اموالھم حق للسآئل و المحروم 19 محسنین خدا کے حقوق کی طرح بندوں کے حقوق بھی پہچانتے ہیں یعنی یہ محسنسنی جس طرح خدا کا حق پہچاننے والے تھے اسی طرح اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے تھے۔ وہ اپنے مالوں میں صرف اپنے نفس ہی کا حق نہیں۔ بلکہ سائلوں اور محروموں کا حق بھی سمجھتے تھے اور اس کو اسی طرح ادا کرتے تھے جس طرح اہل حق کے حقوق ادا کئے جاتے ہیں یعنی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں تھے کہ ان کے پاس جو مال ہے وہ تنہا انہی کا ہے بلکہ وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے کہ خدا نے اگر ان کی ناگزیر ضروریات سے ان کو زیادہ دیا ہے تو یہ دوسروں کا حق ہے جو ان کی امانت میں دیا گیا ہے۔ اس امانت کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے مستحقین کو ادا کی جائے۔ اگر یہ امانت ادا نہ کی گئی تو یہ خیانت ہوگی اور ہر خیانت کی خدا کے ہاں پرسش ہونی ہے۔ محروم سے کون مراد ہیں ؟ خاص طور پر شامل ہیں جو پہلے صاحب مال رہے ہوں بعد میں کسی افتاد نے ان کو محروم بنا دیا ہو۔ اس طرح کے لوگوں کے لئے قرآن میں لفظ غارمین استعمال ہوا ہے اور ان کو صدقات کے مستحقین میں شامل کیا گیا یہع۔ محرومین میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو احتاج کے باوجود سوال کرنے کا ننگ گوارا نہیں کرتے۔ خاص طور پر جو لوگ کبھی صاحب مال رہ چکے ہوں ان کو اپنی خود داری بہت عزیز ہوتی ہے یہاں یہ لفظ چونکہ سائل کے مقابل میں استعمال ہوا ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ محتاج ہیں جو سوال نہیں کرتے۔ اس طرح کے خود داروں کی خود داری کی لاج رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اس طرح کے محتاجوں کی مدد کے لئے مال رکھنے والوں کو خود ان کے پاس پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ مال داروں کے دروازوں پر اسئل بن کر حاضر ہوں گے۔ سورة بقرہ میں اس طرح کے خود داروں کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے۔ للفقرآء الذین احصروافی سبیل اللہ لایستیعون ضرباط فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف تعرفھم بسیاھم لا یسئلون الناس الحافاً ط (البقرہ :273) یہ صدقات ان محتاجوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں مصروف ہیں، تلاش معاش کی جدوجہد میں زمین میں نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔ ان کے حال سے ناواقف ان کی خود داری کے سبب سے ان کو غنی سمجھتے ہیں تم ان کو چہیر بشرے سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔
Ayah 51:20

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لئے

5۔ آگے آیات 23-20 کا مضمون آگے کی آیات میں سورة کے اصل عمود یعنی جزاء و سزا کے مضمون کو از سر نو لیا ہے اوپر صرف ابرو ہوا کے تصرفات سے استدلال تھا آگے آفاق وانفس کے ان تمام دلائل کی طرف آنکھیں کھولیں اور ان سے جو نتائج سامنے آتے ہیں ان پر یقین کریں۔ فرمایا۔ 6 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وفی الارض ایت للموقنین (20) آسمان و زمین اور انسان کے اندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ اوپر جزا و سزا کی جو نشانیاں مذکور ہوئی ہیں اس آیت کا عطف انہی پر ہے۔ ابرو ہوا کی نشانیوں کا تعلق زمین و آسمان کے درمیان کی نشانیوں سے ہے۔ اب آگے آسمان و زمین اور خود انسان کے اندر کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی اور اقرب فالا قرب کے اصول پر سب سے پہلے زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ فرمایا، اس کے بعد انفس کی نشانیوں کی طرف، پھر آسمان کی نشانیوں کی طرف یوں تو ان چیزوں سے قرآن نے اپنی دعوت کے تمام بنیادی حقائق … توحید، معاد، رسالت … پر استدلا کیا ہے جس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے لیکن یہاں سورة کے عمود کے تقاضے سے صرف معاد اور جزاء و سزا کی نشانیوں ہی کی طرف اشارہ ہے اس وجہ سے ہم بھی اپنی بحث صرف جزاء و سزا کے دلائل ہی تک محدود رکھیں گے، اور جس طرح قرآن نے اشارے پر اکتفا کیا ہے اسی طرح ہم بھی اشارات ہی پر اکتفا کریں گے اس لئے کہ یہ تمام بحثیں پچھلی سورتوں میں پوری تفصیل سے گزر چکی ہیں۔ سب سے پہلے سورة نبا کی مندرجہ ذیل آیات پر ایک نظر ڈال لیجیے جن میں قرآن نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی مختلف چیزوں سے معاد اور جزاء و سزا پر استدلال فرمایا ہے۔ ارشاد ہے۔ الم نجعل الارض مداً و الجبال اوتاداً وخلقنکم ازواجاہ وجعلنا نومکم سباتاً وجعلنا الیل لباساً وجعلنا النھار معاشاً وتبینا نوتکم سبعاً شدادۃ وجعلنا سراجاً وھاجاً وانزلتنا من المعصرت مآء ثجا جاہ لنخرج بہ حیاونباتاً وجنت الفاقاً ان یوم الفصل کان میقاتاً (النبا :17-6) کیا ہم نے زمین کو ایک گہوارہ نہیں بنایا ؟ اور اس میں پہاڑوں کی میچیں نہیں گاڑیں ؟ اور تم کو جوڑے جوڑے نہیں پیدا کیا ؟ اور تمہاری نیند کو وافع کلفت نہیں بنایا ؟ اور رات کو پردہ پوش نہیں بنایا ؟ اور دن کو معاش کا وقت نہیں ٹھہرایا ؟ اور تمہارے اوپر سات محکم آسمان نہیں بنائے اور اس میں ایک روشن چراغ نہیں رکھا ؟ اور بدلویں سے دھڑ دھڑتا پانی نہیں برسایا تاکہ اس سے غلے اور نباتات اور گھنے باغ اگائیں ؟ بیشک فیصلہ کا دن مقرر ہے ! ! ان آیات میں اپنی قدرت، رحمت اور ربوبیت کے ان گوناگوں آثار سے، جو آسمان، زمین اور ان کے درمیان موجود ہیں اور جن کا مشاہدہ ہر شخص بادنیٰ توجہ کرسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت ثابت کی ہے کہ یہ کارخانہ بےمقصد اور عبث نہیں ہوسکتا اس وجہ سے لازم ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں اس کا خالق نیکوں اور بدوں کے درمیان فیصلہ فرمائے۔ اس دلیل کے ہر پہلو کی وضاحت اس سورتوں کی تفسیر میں ہوچکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم مختصر الفاظ میں زمین کی چند نشانیں کی طرف، جو جزاء و سزا پر دلیل ہیں، اشارہ کریں گے۔ زمین کی بعض نشانیاں جو جزاء و سزا پر دلیل ہیں …امکان معاد پر قرآن نے زمین کے آثار سے یوں دلیل قائم کی ہے کہ دیکھتے ہو کہ زمین بالکل مردہ اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی زندگی و روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی گھٹا بھیجتا ہے اور بارش کا ایک ہی چھینٹا اس کو زندگی اور شادابی سے معمور کردیتا ہے غور کرو جو خدا اپنی قدرت کی یہ شان برابر ردکھا رہا ہے وہ لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کرنا چاہے گا تو کیا نہیں کرسکے گا۔ …اس زمین میں رب کریم نے اپنے بندوں کی پرورش کے لئے جو گوناگوں اہتمام کر رکھے ہیں ان کا حوالہ دے کر یہ سوال کیا ہے کہ کیا جس رب کریم نے تمہاری پرورش کے لئے یہ سامان کر رکھا ہے وہ تمہیں اس زمین میں یوں ہی مطلق العنان چھوڑے رکھے گا اور کوئی ایسا دن نہیں لائے گا جس میں وہ ان لوگوں سے باز پرس کرے جنہوں نے اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اسی کے خلاف بغاوت کا ذریعہ بنایا ہوا اور ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا ہو ! کیا تم ایسے حکیم و کریم پروردگار کے متعلق یہ گمان رکھتے ہو کہ وہ کوئی کھلنڈرا ہے جس کی نگاہوں میں نیکی و بدی یکساں ہے اور کیا تم اس فریب نفس میں مبتلا ہو کہ تمہارے رب کی یہ بےپایاں نعمتیں تم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتیں ! …اس زمین میں قوموں کی تباہی کے جو آثار ہیں قرآن نے ان کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور واضح فرمایا ہے کہ یہ قومیں اپنے طغیان و تمرد کے باعث اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئیں۔ ان کی تباہی کے بعد ان کے آثار اس نے اس لئے محفوظ رکھے ہیں کہ ان کے بعد آنے والی قومیں ان سے سبق حاصل کریں کہ اس کائنات کا خالق اس دنیا کے خیر اور شر سے بےتعلق نہیں ہے بلکہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ چناچہ جب کسی قوم کا طغیان حد سے متجاوز ہوجاتا ہے تو وہ لازماً اس کے قانون مکافات سے دوچار ہوتی ہے۔ قوموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ ایک ایسا دن بھی وہ لائے گا جس میں اس کا ہمہ گیر عدل ظاہر ہوگا۔ ہر شریر اپنی شرارت کی سزا بھگتے گا اور ہر نیکو کار اپنی نیکی کا بھرپور صلہ پائے گا۔ یہ زمین کے چند نہایت واضح آثار کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے جو جزاء و سزا پر دلیل ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی گوناگوں نشانیاں ہیں جن کی طرف قرآن نے توجہ دلائی اور ہم نے اس کتاب میں ان کی وضاحت کی ہے۔ یہاں ان کے اعادے میں طوالت ہوگی۔ حقائق کو ماننے کا حوصلہ نہ ہو تو دلائل کام نہیں دیتے للمومقنین یعنی زمین میں نشانیوں کی تو کمی نہیں ہے۔ قدم قدم پر نشانیاں موجود ہیں۔ بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں، غور کرنے والی عقلیں اور غور و فکر کے نتائج پر یقین کرنے والے دل ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک حقیقت کو قبول کرنے کے لئے مجرد بہ چیز کافی نہیں ہے کہ اس کے دلائل موجود ہیں بلکہ اس کے لئے یہ چیز بھی ضروری ہے کہ مخاطب کے اندر دلائل پر غور کرنے اور ان کے بدیہی نتائج کو تسلیم کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر آدمی کے اندر یہ ارادہ نہ ہو تو وہ واضح سے واضح حقیقت کو جھٹلا دینے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر ہی لیتا ہے۔ اس دنیا میں حقائق کی تکذیب صرف اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ ان کے حق میں دلائل نہیں ت ہے یا ان کو پیش کرنے والے موجود نہیں تھے بلکہ اکثر و بیشتر نہ ماننے کی خواہش ان کی تکذیب کی محرک ہوئی ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔
Ayah 51:21

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

اور خود تمہارے اندر بھی، کیا تم دیکھتے نہیں ؟

وفی انفسکم افلاتصرون 21 انفس کے بعض دلائل کی طرف اشارہ یہ روز جزاء و سزا پر انفس کے دلائل کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن نے جس طرح آفاق سے اپنی دعوت کے تمام بنیادی اجزاء پر استدلال کیا ہے۔ اسی طرح انفس سے بھی تمام اصولی مطالب پر دلیل قائم کی ہے جن کی وضاحت اس کتاب میں ان کے محل میں ہم کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں ہم بالا جمال صرف جزاء و سزا سے متعلق چند باتوں کی طرف اشارہ کریں گے۔ …قرآن نے جگہ جگہ انسان کی غفلت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو خدا حقیر پانی کی ایک بوند کو مختلف اطوار و مراحل سے گزار کر، ایک بھلا چنگ انسان بنا کھڑا کرتا ہے اور اس کو گوناگوں ظاہری و باطنی صلاحیتوں سے آراستہ کردیتا ہے کہ اس کے لئے ناممکن خیال کرتے ہو کہ تمہارے مرکھپ جانے کے بعد تم کو از سر نو زندہ کر کے اٹھائے اور تمہارے تمام اعمال و اقوال کا حساب کرے ! جب پہلی بار تمہار اپیدا کیا جانا اس کے لئے ناممکن نہیں ہوا تو دوبارہ یہی کام اس کے لئے کیوں ناممکن ہوجائے گا ؟ اسی ضمن میں جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ ہر آدمی ہر روز اپنے اندر زندگی، موت، برزخ اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے مشاہدات کو یوں ہی نہ گزر جانے دے بلکہ ان پر غور کرنے کی عادت بھی ڈالے۔ انسان کے مرتبہ خلافت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ خدا کے آگے اس کی پیشی ہو …انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل، ادراک اور علم کی جن صلاحیتوں سے آراستہ فرمایا ہے جن فطری قوتوں اور قابلیتوں سے اس کو مسلح کا ی ہے، ان کی روشنی میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ انسان زمین کے دوسرے جانداروں کی طرح اس زمین ہی کی مخلوق نہیں ہے بلکہ اس کا متربہ بہت بلند ہے یہ خدا کی طرف سے ایک خاص دائرہ میں اتخیار و ارادہ کی امانت کا حامل ہو کر آیا ہے جس کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی خلافت کے مرتبہ بلند پر سرفراز فرمایا ہے۔ اس امانت و خلافت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ ایک دن وہ اپنے رب کے آگے پیش ہوتا کہ جس نے اس امانت و خلافت کا حق ادا کیا ہو وہ اس کا ابدی انعام حال کرے اور جس نے اس امانت میں خیانت اور خلافت پا کر بغاوت کا ارتکاب کیا ہو وہ اس کی ابدی سزا بھگتے گویا جزاء و سزا نسان کے مرتبہ خلافت پر سرفرازی کا ایک لازمی اور بدیہی تقاضا ہے۔ یہ دلیل قرآن میں بھی بیان ہوئی ہے اور سیدنا مسیح ؑ نے بھی اس کو نہایت خوبصورت تمثیلوں سے واضح فرمایا ہے۔ انسان کے اندر نفس لوامہ کا وجود قیامت کے وجود کی دلیل ہے …تیسری اہم حقیقت جو سورة قیامہ میں خاص اہتمام کے ساتھ واضح فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک نفس لوامہ ودیعت فرمایا ہے جو اس کو جب وہ کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے، ملامت کرتا ہے اسی نفس لوامہ کی قسم کھا کر جزاء و سزا کے حق ہونے پر اس کو شہادت میں پیش کیا ہے کہ اگر انسان کو وجود میں لانے والا نیکی پر انعام اور بدی پر سزا دینے والا نہ ہوتا تو انسان کے اندر وہ اس نفس لوامہ کو کیوں ودیعت فرماتا جو اس کو ہمیشہ ایک خلش میں مبتلا رکھے ؟ اس کا ودیعت کیا جانا تو اس بات کی نہایت واضح شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اس مجموعی کائنات کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو روز قیامت مقرر کر رکھا ہے اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہر انسان کے سینے میں رکھ دے جو اس کو برابر اس حقیقت کی یاد دہائی کرتا رہے کہ جس خدا نے اس کو وجود بخشا ہے وہ اس کی نیکی اور بدی سے بےتعلق نہیں ہے بلکہ وہ جزاء و سزا دینے والا ہے۔ گویا یہ انسان کے اندر ایک چھوٹی سی عدالت اس عدالت کبریٰ کی یاد ددہانی کے لئے ہے جو قیامت کے دن قائمہو گی۔ اسی بناء پر انسان کو عالم اصغر کہا گا ہے اس لئے کہ اس پورے عالم کا ایک عکس اس کے آئینہ میں موجود ہے۔ سورة قیامہ میں فرمایا گیا ہے کہ جزاء و سزا کی شہادت ہر آدمی خود اپنے اندر پا رہا ہے اگرچہ وہ اس کی تکذیب کے لئے کتنے ہی بہانے پیدا کرے، بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ولوالقی معاذ یرہ (القیامۃ : 15-14) اسی طرح اس سورة میں یہ بات بھی فرمائی گئی ہے کہ جو شخص کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے وہ درحقیقت خدا کی عدالت کے سامنے جرم کرتا ہے، بل یرید الانسان لیفجرا مامہ (القیامۃ : 5) (بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اس کے سامنے شرارت کرے) اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا کہ خدا کی ایک چھوٹی سی عدالت اس کے ضمیر کے اندر ہی موجود ہے اس وجہ سے جو شخص بھی کوئی جرم کرتا ہے وہ درحقیقت اسی عدالت کے سامنے کرتا ہے اور یہ اس کی ایک کھلی ہوئی جسارت ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ نفس لو امہ، انسان کو متنبہ کرنے کا فرض اس وقت تک برابر انجام دیتا رہتا ہے جب تک انسان اس کی مسلسل خلاف ورزی سے اس کو بالکل مردہ نہ بنا دے اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کے محل میں ہم کرچکے ہیں۔ افلا تبصرون انسان کا نفس چونکہ اس سے سب سے زیادہ قریب ہے اس وجہ سے فرمایا کہ کیا اتنی قریب کی نشانیاں بھی تم کو نظر نہیں آرہی ہیں ! یعنی اگر زمین کے اطراف و اکناف تمہارے احاطے سے باہر ہیں، اگر آسمان تمہاری دسترس سے بعید ہے تو کیا تمہارا نفس بھی تم سے دور ہے کہ تم اس کے اندر جھانک کر ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے !