50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ گروپ پر ایک اجمالی نظر سورة ق سے سورتو کا چھٹا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں کل سترہ سورتیں ہیں۔ جن میں سے سات سورتیں … ق ذریات، طور، قمر، رحمان اور واقعہ … بالترتیب مکی ہیں۔ صرف سورة رحمان کو بعض مصاحف میں مدنی ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کی تفسیر سے واضح ہوجائے گا کہ یہ رائے بالکل بےبنیاد ہے۔ پوری سورة کا مدنی ہونا تو درکنار اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔ سورة واقعہ کے بعد دس سورتیں … حدید، مجادلہ، حشر، ممتحنہ، صف، جمعہ، منافقون، تغابن، طلاق اور تحریم … مدنی ہیں۔ اس گروپ کا جامع عمود بعث اور حشر و نشر ہے۔ اس کی تمام مکی سورتوں میں یہ مضمون ابھرا ہوا نظر آئے گا۔ اگرچہ قرآن کے بنیادی مطالب، دوسرے گروپوں کی طرح، اس میں بھی زیر بحث آئے ہیں لیکن وہ اسی جامع عمود کے تحت آئے ہیں۔ علی ہذا القیاس جو مدنی سورتیں اس میں شامل ہیں وہ بھی اسی اصل کے تحت ہیں۔ بعث اور حشر و نشر پر ایمان کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت ہے۔ مدنی سورتوں میں اسی تسلیم و اطاعت کے وہ مقتضیات بیان ہوئے ہیں جن کے بیان کے لئے زمانہ نزول کے حالات داعی ہوئے ہیں۔ مکی سورتوں میں تمام رد وقدح کفار قریش کے عقائد و مزعومات پر ہے اور وہی ان میں اصلاً مخاطب بھی ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے اگر خطاب ہے تو بطور التفات و تسلی ہے۔ مدنی سورتوں میں خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کی کمزوریاں زیر بحث آئی ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے ابھی اچھی طرح آشنا نہیں ہوئے تھے۔ انہی کے ضمن میں اہل کتاب بھی زیر بحث آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس دور میں اہل کتاب بھی قریش کی حمایت اور اسلام کی مخالفت کے لئے میدان میں اتر آئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر منافقین کا گروہ جو گھس آیا تھا وہ بیشتر انہی اہل کتاب کے زیر اثر تھا۔ اس گروپ کی پہلی سورة … ق … ہے۔ اب اللہ کا نام لے کر ہم اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔ ب ۔ سورة کا عمود اس سورة کا عمود بعث یعنی زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ قرآن نے جب لوگوں کو آگاہ کیا کہ مرنے کے بعد لوگ از سر نو زندہ کئے جائیں گے اور اپنے رب کے آگے اپنے اعمال و اقوال کی جوابدہی کے لئے پیش ہوں گے تو یہ چیز قریش کے لیڈروں پر بہت شاق گزری کہ انہی کے اندر کا ایک شخص مدعی نبوت بن کر انکو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد لوگ پھر زندہ کئے جائیں گے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد لوگ از سر نو زندہ ہوں ! اس سورة میں لوگوں کے اسی استبصاد کو موضوع بحث بنا کر ان کے شبہات کے جواب دیئے گئے ہیں۔ ج۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب کی ترتیب اس طرح ہے۔ (5-1) قرآن کی عظمت و رفعت شاہد ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو لوگ اس کو شاعری یا کہانت کے قسم کی کوئی چیز سمجھتے ہیں، یہ انکار قیامت کے لئے انہوں نے ایک بہانہ تلاش کیا ہے۔ ان کو تعجب اس بات پر ہے کہ انہی کے اندر سے ایک شخص اٹھ کر انہیں ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد جب وہ سڑ گل کر مٹی ہوجائیں گے تو از سر نو زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بات ان کے نزدیک بہت مستبعد ہے۔ وہ قرآن کو استکبار کی بنا پر ماننا نہیں چاہتے، اس وجہ سے اس کو کہانت اور شاعری قرار دیتے ہیں۔ یہ کہانت و شاعری نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس کو جھٹلا کر وہ ایک شدید قسم کی ذہنی الجھن اور ایک کھلے ہوئے تناقض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مرنے کے بعد زمین ان کے جن اجزاء کو تحلیل کرتی ہے اللہ نے ان کو بھی جان رکھا ہے اور لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے اس کے پاس ایک رجسٹر بھی ہے۔ (11-6) آسمان و زمین کی ان نشانیوں کی طرف اشارہ جو خدا کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی شہادت دے رہی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین میں اسی لئے ودیعت فرمائی ہیں کہ جن کے اندر خشیت وانابت ہو وہ ان سے یاد دہانی و رہنمائی حاصل کریں۔ یہ نشانیاں منے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی ثابت کر رہی ہیں اور ان سے جزاء و سزا اور توحید کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے۔ بشرطیکہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ (14-12) کفار قریش کو تہدید کہ استکبار میں مبتلا ہو کر ایک واضح حق کی تکذیب نہ کرو تم سے پہلے جن قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی ان پر اللہ کی وعید پوری ہو کے رہی۔ اگر انہی کی چال تم چلو گے تو کوئی وجہ نہیں کہ تمہارا انجام ان سے مختلف ہو۔ (18-15) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے اور حساب کتاب پر اللہ تعالیٰ کی صفت خلق اور صفت علم سے استدلال اور لوگوں کے افعال و اقوال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے اس نے جو اہتمام کر رکھا ہے اس کی طرف اشارہ (35-19) قیامت کی تصویر، مکذبین کو جن حالات سے سابقہ پیش آئے گا ان کی تفصیل قیامت پر ایمان رکھنے والوں کو اس روز جو سرفرازی حاصل ہوگی اس کا بیان۔ (37-36) قریش کو تنبیہ و تہدید کہ اپنی قوت و شوکت پر زیادہ نہ اترائو اور اس گھمنڈ میں نہ رہو کہ ان پر زوال نہیں آسکتا۔ تم سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جو تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ اللہ نے ان کو عین ان کے دور عروج میں پکڑا اور اس طرح پکڑا کہ خدا کی زمین، اپنی وسعتوں کے باوجود ان کے لئے تنگ ہوگئی۔ ان سرگزشتوں میں ان لوگوں کے لئے بڑا سامان عبرت ہے جن کے پاس عبرت پذیر دل اور سننے والے کان ہیں۔ (45-38) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر و استقامت کی تلقین۔ حصول صبر کے لئے اہتمام نماز کی تاکید، مخالفین کے معاملے کو اس دن پر محمول کرنے کی ہدایت جس کا ظہور لازمی ہے۔ اس امر کی وضاحت کہ آپ کی ذمہ داری انذار تک محدود ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بس اسی قرآن کے ذریعہ سے ان لوگوں کو آگاہ کردیجیے جو اللہ کی وعید سے ڈرنے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے تو اس کے نتائج سے خود دوچار ہوں گے۔

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

یہ سورة ق ہے قسم ہے باعظمت قرآن کی !

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ق القرآن المجید -1 قرآن اپنی حقانیت پر خود گواہ ہے۔ ق اس سورة کا نام ہے۔ مبتداء جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، یہاں بھی محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ سورة ق ہے۔ مجید کے معنی بزرگ، برتر اور باعظمت کے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے طور پر بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے اسی طرح اس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اس کی عظمت و شوکت سے متاثر و مرعوب نہ ہو۔ اگر کوئی اس کی عظمت و جلالت سے متاثر ہو تو وہ یا تو نہایت ہی بلید ہے یا اس کا دل بالکل سیاہ ہوچکا ہے۔ آدمی تو درکنار اگر یہ قرآن پہاڑوں پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پاش پاش ہوجاتے۔ والقرآن المجید، جملہ قسمیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اس باعظمت و برتر کتاب کی قسم کھائی ہے اور قسم سے متعلق ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ قرآن میں اس طرح کی تمام قسمیں بطور شہادت ہیں۔ یعنی قسم مقسم علیہ پر دلیل کی حیثیت سے کھائی جاتی ہے۔ یہ قسم بھی مقسم علیہ پر دلیل ہے، اگرچہ وہ محذوف ہے۔ مقسم علیہ ان مواقع میں حذف کردیا جاتا ہے جہاں کلام کا سیاق وسباق اس کو واضح کردینے کے لئے کافی ہو۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال سورة ص میں موجود ہے۔ فرمایا ہے : ص والقرآن ذی الذکرہ بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق (2-1) (اس کی وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد پنجم، صفحات 510-509) تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں قرآن کی عظمت و جلالت کی قسم ان لوگوں کی تردید میں کھائی گئی ہے جو اس کو شاعری، کہانت، سحر یا القائے شیطانی کے قسم کی چیز قرار دیتے تھے۔ قرآن کی عظمت، شہادت میں پیش کر کے، ان کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ یہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اپنے وجود سے شاہد ہے کہ اس کا منبع یہ سفلی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے جس کا ذریعہ جبرئیل امین ہیں اور جس کا منبع لوح محفوظ ہے۔ بعینیہ اسی قسم کے سیاق وسباق کے ساتھ سورة بروج میں فرمایا ہے۔ بل ھو قرآن مجید، فی لوح محفوظ (22-21) بلکہ یہ باعظمت قرآن ہے اور اس کا منبع لوح محفوظ میں ہے۔ یہی بات سورة تکریر میں یوں فرمائی گئی ہے۔ انہ لقول رسول کریم، ذی قوۃ عند ذی العرش مکین، مطای ثم امین ط وما صاحبکم بمجنون، ولقد راہ بالافق المسین، وما ھو علی الغیب بضنین، وما ھو بقول شیطن رجیم، فاین تذھبون ان ھو الا ذکر للعلمین (27-19) یہ ایک باعزت رسول کا اتارا ہوا کلام ہے وہ قوت والا اور عرش کے مالک کے نزدیک با رسوخ ہے۔ وہ مطاع اور مزید برآں اماندتار ہے اور تمہارا ساتھی کوئی دیوانہ نہیں ہے اور اس نے اس کو بالکل کھلے افق میں دیکھنا ہے۔ اور وہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے اور یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے، تو کہاں بھٹکے جاتے ہو ! یہ تو دنیا والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ قرآن کی عظمت کے اسی پہلو کی طرف لایتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ (حم السجدہ :42) (باطل نہ) اس کے آگے سے اس میں آسکتا اور نہ اس کے پیچھے سے) اور لایمسہ الا المطھرون (الواقعۃ :79) (اور اس کو صرف پاکیزہ ہی لوگ چھوتے ہیں) اور اس مضمون کی دوسری آیتیں بھی اشارہ کر رہی ہیں۔ سورة شعراء کے آخر میں قرآن کو کہانت اور شاعری کی تہمت سے بری کرنے کے جو دلائل بیان ہوئے ہیں ان کی وضاحت سورة کی تفسیر میں ہوچکی ہے، خاص طور پر وما تنزلت بہ الشطین، وما ینبغی لھم وما یستطیعون، (الشعرآء، 211-21) کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے انذار قیامت کو یہ بہانہ بنا کر نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہے ان کی تردید کے لئے قرآن کی معجزانہ بلاغت اور اس کی لاہوتی حکمت ہی کافی ہے۔ نادان ہیں وہ جو اس کو کسی جن یا شیطان کا کلام سمجھتے ہیں۔ یہ جن یا شیطان کا کلام نہیں بلکہ خدائے عزیو حکیم کا اتارا ہوا کلام ہے۔ جو ہر جام جم از کان جہان دگراست
Ayahs 50:2–3

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی کے اندر سے ایک آگاہ کرنے والا آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک نہایت عجیب بات ہے ،

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو دوبارہ لوٹائے جائیں گے ! یہ لوٹایا جانا تو بہت بعید ہے

بل عجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم فقال الکفرون ھذا شیء عجیب ءاذا متنا وکنا تراباً ، ذلک رجع بعید (3-2) مخالفین کی مخالفت کی اصل ملت یہاں بل اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن نے اس اعتراض کو محض حقیقت سے فرار کے لئے ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ اس بل کے مضمران کھولیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ جو لوگ قرآن کو جنات و شیاطین کا القاء قرار دیتے ہیں ان کی تردید کے لئے قرآن کی عظمت و جلالت ہی کافی ہے۔ ان کے محرار کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جو وہ ظاہر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کو اس بات پر تعجب ہے کہ ایک شخص انہی کے اندر سے ان کے لئے منذر بن کر اٹھا جو ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اپنے اندر ہی کے ایک آدمی کو خدا کا رسول تسلیم کرلینا چونکہ ان کے دلوں پر بہت شاق ہے، اس وجہ سے اس کی تکذیب میں انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مر کر، سڑک گل جانے کے بعد لوگ اٹھائے جائیں گے ! یہ اٹھایا جانا بہت بعید از عقل ہے ! اس آیت پر اچھی طرح غور کیجیے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ قرآن کے نزدیک ان کے اس فرار کی اصل علت ان کا استکبار ہے۔ وہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو رسول ماننے کے لئے تیار نہیں، اس وجہ سے وہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے بھی منکر ہیں اور قیامت کو بھی ایک بعید از قیاس چیز قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ استکبار میں مبتلا نہ ہوتے تو وہ اتنے بلید نہیں ہیں کہ اللہ کے کلام اور کاہنوں کی خرافات میں امتیاز نہ کرسکیں اور قیامت کے اثبات کے جو دلائل قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے ان کو سمجھنے سے قاصر رہ جائیں۔ اس استکبار کی تفصیل پیچھے کی سورتوں میں گزر چکی ہے کہ یہ لوگ اول تو اپنی ہدایت کے لئے کسی رسول کی ہدایت کے قائل ہیں ہیں اور اگر کسی درجے میں قائل ہیں بھی تو ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا یا مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان سرداروں کے ہوتے یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو رسول بنا دے جو ایک بالکل غریب آدمی ہے۔ ان اعتراضوں کے جواب یچھے کی سورتوں، بالخصوص چوتھے گروپ میں جس کا جامع عمود اثبات رسالت ہے اور جو الفرقان سے شروع ہوتا ہے، تفصیل سے دیئے جا چکے ہیں۔ یہاں گروپ کے مضمون کے تقاضے سے ان کے ان شبہات سے تعرض کیا ہے جو وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے امکان پر وارد کرتے تھے اور جن کو قرآن اور رسول کی مخالفت کے لئے، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، انہوں نے بہانہ بنا رکھا تھا۔
Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم نے جان رکھا ہے جو کچھ زمین ان کے اندر سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک محفوظ رکھنے والی کتاب بھی ہے۔

قد علمنا ماتنقص الارض منھم وعندنا کتب حفیظ 4 مخالفین کے شبہات کا جواب فرمایا کہ دوبارہ زندہ کیا جانا اس وجہ سے ان کو بعید از امکان معلوم ہو رہا ہے کہ جسموں کے سڑ گل کر خاک میں مل جانے کے بعد ان کے اجزاء کو زمین کی تہوں سے فراہم کرنا۔ ان کے خیال میں، ناممکن ہے۔ یہ مغالطہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کو اپنے علم پر قیاس کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ جسم انسانی کے جن جزاء کو زمین تحلیل کرتی ہے، وہ ان سب کو جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ جس نے ہر چیز کو خلق کیا ہے اور جس کے حکم ہی سے ہر چیز پر موت طاری ہوتی ہے، اس سے کوئی چیز کس طرح مخفی رہ سکتی ہے ! الایعلم من خلق (الملک 14) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ؟) اور جب وہ جانتا ہے تو جب وہ چاہے گا ان تمام اجزاء کو فراہم کر کے ہر ایک کے جسم کو از سر نو مشکل کر دے گا۔ اس کام میں اس کو ذرا بھی دشواری نہیں پیش آئے گی۔ جس نے ہر چیز کو عدم محض سے وجود بخشا اور اس کو اس میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، مآخر دوبارہ اس کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کردینے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی ؟ وعندنا کتب حفیظ، یعنی اپنے ذاتی علم کے سوا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ساراریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے ایک دفتر بھی قائم کر رکھا ہے جس میں یہ بھی درج ہے کہ کون شخص زمین کی کس پہنائی میں دفن ہے اور اس کے جسم کے اجزاء کہاں کہاں ہیں اور ہر شخص کے تمام اقوال و افعال بھی اس میں درج ہیں۔ نادانوں کو یا مت کے باب میں جس طرح یہ شبہ پیش آتا ہے کہ سڑ گل کر مٹی میں مل جانے کے بعد جسم انسانی کے اجزاء کو فراہم کرنا اور ان کو از سر نو جس مکی شکل میں مشکل کرنا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی پیش آتا ہے کہ ہر شخص کے ہر قول و فعل کا ریکارڈ کون محفوظ رکھ سکتا ہے کہ ایک دن وہ سب کا حساب کرنے اور سب کو سزا اور جزا دنیے بیٹھے ؟ اس ٹکڑے نے اس شب ہے کو بھی صاف کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے متام اقوال و اعمال کا ریکارڈ بھی ایک دفتر میں محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کا معاملہ زمانہ جاہلی کے عربوں کے لئے تو اچنبھے کا ہوسکتا تھا لیکن اس زمانے میں سائنس نے جو انشکفات کئے ہیں ان کو جانے کے بعد، اگر کوئی شخص قرآن کے اس دعوے میں شک کرے تو ایسے ہٹ دھرموں کو کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی قائل نہیں کرسکتی۔ یہ لوگ اس وقت مانیں گے جب ان کے ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے پکڑا دیئے جائیں گے، لیکن اس وقت کا ماننا بالکل بےسود ہوگا۔
Ayah 50:5

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا ہے جب کہ وہ ان کے پاس آچکا ہے۔ پس وہ ایک صریح تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔

بل کذبوا بالحق لما جآء ھم فھم فی امر مریج 5 لفظ ’ حق ‘ اسی سورة کی آیت 19 اور آیت 42 میں قیامت کے لئے آیا ہے لیکن یہاں لما جآء ھم کا قرینہ پتہ دے رہا ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے جو قیامت یس لوگوں کو آگاہ کر رہا تھا لیکن لوگ اس کی تکذیب کر رہے تھے اور اس کی تکذیب کے لئے بہانہ کے طور پر قیامت کے خلاف وہ شبہات پیش کر رہے تھے جو اوپر بیان ہوئے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے ان شبہات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا قیامت فی الواقع ایک بہت بعید از امکان چیز ہے اور یہ اس کا انکار جو کر رہے ہیں تو اس کے لئے معقول وجوہ ان کے پاس ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ایک بالکل بدیہی حق کی تکذیب کی ہے اور وہ بھی اس وقت جب وہ ان کے سامنے بالکل واضح طور پر آگیا۔ لما جآء ھم سے یہ بات نکلتی ہے کہ قرآن مجید جس قیامت کی خبر دے رہا ہے وہ حق تو پہلے بھی تھی لیکن اب تک یہ لوگ اس کے باب میں اگر گرفتار شبہات رہے تو ان کے پاس کچھ عذر بھی تھا کہ یہ قرآن و کتاب سے نا آشنا امی تھے لیکن اب وہ کیا عذر کرسکتے ہیں جبکہ وہ ایک ایسے حق کا انکار کر رہے ہیں جو نصف النہار کے سورج کی طرح ان کے سروں پر چمک رہا ہے ! مکذین قیامت کا تضاد فکر فھم فی امر مریج، امر مریج، کی تشریح اہل لغنت، امر مختلط یا امر ملبتس، کے الفاظ سے کرتے ہیں، یعنی ایک ایسی صورت حال جس میں نہایت واضح قسم کا تناقض و تضاد ہو، مرج کے معنی خلط یعنی گڈ مڈ کردینے کے ہیں۔ سورة رحمان میں ہے۔ مرج البحرین یلتضین 19 (اس نے کھاری اور شیریں دونوں قسم کے دریا چھوڑے جو آپس میں ٹکراتے ہیں) قرآن کی تکذیب کر کے مکذبین جس صورتحال سے دوچار ہوئے یہ اس کی ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے کہ یہ لوگ ایک صریح قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہو کے رہ گئے تھے۔ ایک طرف یہ خدا اور اس کی ان تمام صفات کا اقرار کرتے ہیں جو قیامت کو لازم کرتی ہیں، دوسری طرف قیامت کا انکار کرتے ہیں جو اس اقرار کا بالکل بدیہی تقاضا ہے۔ اس طرح وہ ایک ایسی ذہن الجھن میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ ان کو سمجھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس الجھن سے نجات کی واحد راہ وہی ہے جو قرآن ان کو تبا رہا ہے، لیکن اس کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں حالانکہ حق کی تکذیب کا لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آدمی اپنی تکذیب کو جائز ثابت کرنے کے لئے جتنی دلیلیں ایجاد کرتا ہے وہ سب اس کے موقف کے بودے پن کو عریاں کرتی ہیں۔ قرآن نے ان کے اسی تضاد فکر کی طرف سورة ذاریات ہیں، جو اس کی قوام سورة ہے انکم لفی قسول مختلف (8) (بےشک تم لوگ ایک شدید قسم کے تناقض میں گرفتار ہو) کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت سورة نمل کی آیت 66 بل ادرک علمھم فی الاخرۃ …الایۃ کے تحت ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لجییی۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ انسان کی گمرایہ میں سب سے زیادہ دخل اس کے اسی تضاد فکر کو ہے یا تو وہ اپنی سہل انگاری کے سبب سے رطب دیا بس ہر قسم کے نظریات اپنے ذہن میں جمع کرلیتا ہے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں صحیح نظریات و عقائد کے ساتھ باطل نظریات بھی جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کی زندگی مجموعہ اضداد بن جاتی ہے۔ اگر انسان اپنے افکار کا برابر جائزہ لیتا ہے، تنقید کی صلاحیت مردہ نہ ہونے دے، اور خواہشات نفس کی پیروی میں حق کے ساتھ باطل کا جوڑ ملانے کی کوشش نہ کیر تو وہ شیطان کے اس فتنہ سے محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔
Ayahs 50:6–8

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے اور آسمان کو نہیں دیکھا، کس طرح ہم نے اس کو بنایا اور اس کو سنوارا اور کہیں اس میں کوئی رخنہ نہیں !

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں ہر قسم کی خوش منظر چیزیں اگائیں ،

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

ہر متوجہ ہونے والے بندے کی بصیرت اور یاد دہانی کے لئے !

افلم ینظروا الی السمآء فوقھم کیف بنیاھا وزینھا وما لھا من فروج، والارض مددنھا مالقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج، تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (8-6) اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی طرف اشارہ یہ اللہ تعالیٰ نے مکذبین قیامت کو اپنی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی ان بدیہی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اوپر اور نیچے ہر جگہ نظر آتی ہیں اور ہر اس شخص کے اندر بصیرت اور یاد دہانی پیدا کرنے کے لئے کافی ہیں جس کے سینہ میں اثر پذیر اور متوجہ ہونے والا دل ہو۔ سب سے پہلے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں اٹھائی کہ دیکھتے کہ کس طرح ہم نے اس کو بلند کیا، اس کو ستاروں سے سجایا اور ہماری قدرت و حکمت کا اعجاز ہے کہ ایسین اپیدار کنار چھت میں کہیں کسی رخنہ کی نشان دہی وہ نہیں کرسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ جس کی قدرت و حکمت کا یہ کرشمہ وہ اپنے سروں پر دیکھتے ہیں، کیا اس کے لئے ان کے مرن کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کردینا مشکل ہوجائیگا ؟ اس کے بعد قدرت و حکمت کے ساتھ اپنی ربوبیت اور پرورش کے اہتمام کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہ اپنے نیچے دیکھیں کہ کس طرح ہم نے زمین کو ان کے قدموں کے نیچے بچھایا ہے اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اس کے اندر پہاڑوں کی میخیں گاڑ دی ہیں اور اس میں طرح طرح کی چیزیں اگا رکھی ہیں جو ان کی غذا کے کام آتی ہیں اور جن کی خوش منظری ان کی باصرہ نوازی بھی کرتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت و حکمت اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں وہ دیکھ رہے ہیں کیا اس کے لئے دشوار ہے کہ وہ ان کے مرجانے کے بعد ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرے ؟ کیا جس پروردگار نے ان کی پرورش کا یہ اہتمام کر رکھا ہے وہ ان کو اس طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ کھائیں پئیں، عیش کریں، ان سے کبھی اس باب میں کوئی پرسش نہیں ہوگی۔ یہ دنیا اپنے وجود میں ایک درس گاہ معرفت ہے۔ تبصرۃ و ذکری لکل عبد منیب یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے اندر اپنی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی یہ شانیں اس لئے نمایاں فرمائی ہیں کہ جو لوگ توجہ کرنے والے ہیں، ان کے اندر یہ بصیرت اور یاد دہانی پیدا کریں۔ تبصرۃ سے مراد آنکھوں کے اندر بصیرت پیدا کرنا ہے کہ وہ ظاہر سے گذر کر اس حقیقت تک پہنچ سکیں جس کی طرف ظاہر رہنمائی کر رہا ہے۔ اور ذکری سے مراد غفلت کے حجاب کو دور کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے چپہ چپہ کو ایسے عجائب اور کرشموں سے بھر دیا ہے جو آنکھوں کے پردے اٹھانے اور دلوں کے جھنجھوڑنے اور جگانے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن یہ کرشمے ان پر کار گر ہوتے ہیں جن کے اندر اثر پذیری کی حس موجود ہو۔ جو لوگ اپنی محسوس پرستی کی وجہ سے اپنی یہ حس لطف مردہ کرچکے ہوں ان کے لئے یہ ساری کائنات ایک عالم ظلمات ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف اس کتاب میں جگہ جگہ، ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ دنیا اپنے بقا کے لئے ان تمام رنگا رنگیوں اور گل کاریوں کی محتاج نہیں تھی جو اس کے ہر گوشے میں نمایاں ہیں، لیکن قدرت نے اس فیاضی کے ساتھ اس کے اندر اپنی شانیں جو دکھائی ہیں تو اسی لئے دکھائی ہیں کہ انسان کی وہ حس لطیف جو قدرت، حکمت، حسن اور فی و کرم سے اثر پذیر اور بیدار ہوتی ہے وہ بیدار ہوا اور اس چمن کے ایک ایک پتہ پر جو درس حکمت ثبت ہیں وہ ان کو سیکھے اور سمجھے، لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ خالق نے ہر انسان کے اندر توجہ اور انابت کی جو صلاحیت و دیعت فرمائی ہے وہ اس کو بروئے کار لائے۔ اگر کوئی شخص اپنی اس صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے بلید و بےحس جانوروں کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اس نے انسان کو ذی ارادہ ہستی جو بنایا ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو شعور اس کو عطا ہوا ہے اس کی قدر کرے اور اس کی رہنمائی میں آگے کے لئے قدم اٹھائے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو خدا کی طرف سیم زید روشنی عطا ہوتی ہے ورنہ جو کچھ اس کو عطا ہوتا ہے وہ بھی اس کی ناقدری کی پاداش میں سلب ہوجاتا ہے۔ ان آیتوں میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔ اطمینان قلب اور شرح صدر کے لئے بعض حوالے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔ سورة نبی اسرائیل میں، ان لوگوں کو خطاب کر کے، جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو مستبعد خیال کرتے تھے، فرمایا ہے۔ اولم یروآ ان اللہ الذی خلق السموات والارض قادر علی ان یخل مثلھم (بنی اسرآئیل :99) کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر رہنے کہ وہ ان کی طرح پھر پیدا کر دے۔ منکرین قیامت کے اسی شبہ کا جواب سورة نازعات میں ان الفاظ میں دیا ہے۔ ء انتم اشد خلقاً امر السمآء بنھا رفع سمکھا فسرلھا، واعظ لیلھا واخرچ ضعھاہ والارض بعد ذلک وحھاہ اخرج منھامآء ھاومرعھاہ والجبال ارسھا منتاعاً لکم ولانعامکم ط (السنوعت 33-27) کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ کٹھن ہے یا آسمان کا ڈ اس کو بنایا، اس کے گنبد کو بلند کیا، پھر اس کو اچھی طرح ہموار کیا اور اس کی رات کو ڈھانک دیا اور اس کے دن کو بےنقاب کیا اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ اس سے اس کا پانی اور چارہ برآمد کیا اور پہاڑوں کو لنگر انداز کیا۔ تمہارے اور تمہارے چوپایوں کو برتنے کے لئے۔ ان آیات پر تدبر کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں قدرت، عظمت، حکمت اور ربوبیت کے وہ سارے پہلو، کچھ مزید وسعت کے ساتھ سمٹ آئے ہیں جن سے سورة ق کی زیر بحث آیات میں قیامت کے وقوع، اس کی ضرورت اور اس کے مقتضائے صفات الٰہی ہونے پر استدلال فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 50:9–11

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا جس سے ہم نے باغ بھی اگائے اور کاٹی جانے والی فصلیں بھی۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوروں کے بلند وبالا درخت بھی جن میں تہ بہ تہ خوشے لگتے ہیں ،

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

بندوں کی روزی کے لئے اور ہم نے اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا۔ اس طرح مرنے کے بعد زمین سے نکلنا بھی ہو گا

ونزلنا من السمآء مآء مبرکا فانبتنا بہ جنت وحب المحصید، والنحل بسقت لھا طلع نضید، رزقا للعباد و احیینا بہ بلدۃ میتا ط کذلک الخروج (11-9) آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ ایک اور پہلو سے یہ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک اور زاویہ سے توجہ دلائی جس سے آسمان و زمین کے درمیان توافق کے پہلو سے توحید کی شہادت بھی ملتی ہے۔ ان کے اندر ربوبیت کے جو اسباب ودیعت ہیں ان سے جزاء و سزا کا لزوم بھی سامنے آتا ہے اور بارش سے مردہ زمین کے اندر جو حیات تازہ نمودار ہوتی ہے اس سے حیات بعد الممات کے وقوع کا بھی مشاہدہ ہر شخص کو ہوتا ہے۔ مآء قلبارک سے مراد وہ بارش ہے جو باعث زرخیزی و شادابی ہو۔ بعض مرتبہ ایسی بارش بھی ہوتی ہے جو زریخیز کے بجائے تباہی کا باعث بن جاتی ہے اور وہ قوموں کے لئے عذاب کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہاں مبارک کی فت اسی شبہ کے ازالہ کے لئے ہے۔ حب الحمید سے وہ اجناس مراد ہیں جن کا ورو عمل میں آتا ہے اور جو ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ مثلاً گندم اور جو وغیرہ باغوں کے ساتھ حب الحصید کے ذکر سے مقصود اس اہتمام ربوبیت کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے رب نے اپنے بندوں کے لئے فرمایا ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے باغوں میں تازہ اور لذیذ پھل بھی پیدا کئے اور کھیتوں میں غذائی اجناس بھی اگائیں جو پکنے پر کاٹ کر ذخیرہ کرلی جاتی اور برابر کام آتی ہیں۔ والنحل بسقت لھا طلع لصید، بظاہر جناب کے بعد نخل کے ذکر کی ضروتر نہیں تھی، لیکن یہ عام کے بعد خاص کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب کا خاص میوہ یہی تھا جو ان کے لئے بہترین پھل بھی تھا اور بڑی حد تک ان کی غذائی ضرورت بھی پوری کرتا تھا اس کی دراز قامتی اور اس کے تہ بہ تہ خوشوں کی طرف اشارہ مخاطب کے اندر مشاہدہ کائنات کی حس اور شکر گزاری کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ہے کہ وہ قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھے اور ان سے وہ اثر لے جو ایک حساس اور بیدار دل کو لینا چائے۔ رزقا للعباد یعنی تہ بہ تہ خوشے خود اپنی صورت سے گواہی دے رہے ہیں کہ خالق نے ان پر اپنی قدرت، حکمت اور صناعی اس فیاضی کے ساتھ اس لئے صرف فرمائی ہے کہ اس کے بندے ان سے بہرہ مند ہوں، ان کے اندر اس کی حکمت و ربوبیت کی شانوں کا مشاہدہ کریں اور ان نعمتوں کا حق پہچانیں کہ ایک دن لازمًا ان کی بابت اس سے پرستش ہونی ہے۔ واحیینا بہ بلدۃ میتا کذلک الخروج یہ وہ اصل مدعا ہے جس کو اس سورة کے عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ فرمایا کہ جس بارش کی یہ برکتیں دیکھتے ہو اسی بارش کا یہ کرشمہ بھی ہے کہ زمین جو بالکل مردہ اور بےآب وگیاہ ہوتی ہے، اس کے کسی گوشے میں بھی کسی سبزہ یا روئیدگی کا کوئی نشان نہیں ہوتا، بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے چپہ چپہ سے ایک حیات تازہ نمودار ہوجاتی ہے اسی پر قیاس کرو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو بھی، جس سے تم کو آگاہ کیا جا رہا ہے، لیکن تم اس کو ناممکن خیال کر رہے ہو۔
Ayahs 50:12–14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود ،

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

عاد، فرعون اور لوط کے بھائیوں

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور اصحب الایکہ اور قوم تبع نے بھی جھٹلایا۔ ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہماری وعیدان پر واقع ہو کر رہی۔

کذبت قبلھم قوم نوج و اصحب الرس وثمود، وعاد فرعون واخوان لوط، واصحب الایکۃ وقوم تبع کل کذب الرسل فحق وعید (14-12) قریش کو تہدید یہ قرش کو تہدید ہے کہ ان سے پہلے قوم نوح، اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون، قوم لوط، اصحاب الایکہ اور قوم تبع نے بھی اسی طرح تکذیب کی جب کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان پر اچھی طرح حق کو واضح کردیا۔ بالآخر اس تکذیب کے جس انجام سے ان کو آگاہ کیا گیا تھا وہ ان کے سامنے ظاہر ہو کر رہا۔ اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اس تکذیب پر اڑے رہ گئے تو جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ لازماً آ کے رہے گا اور آسمان و زمین کی کوئی طاقت ان کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے ذریعہ سے اتمام حجت کے بعد لازماً ظہور میں آتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔ اس تہدید کی طرف اشارہ اوپر آیت 5 میں بھی ہوچکا ہے لیکن وہاں اس اشارے کے بعد کلام کو رخ دلائل معاد کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ دلائل کے بعد اس اشارے کی وضاحت فرما دی کہ اس جسار کے ساتھ یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں تو اپنی ان پیش رو قوموں کے انجام کو سامنے رکھیں جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کیفر کردار کو پہنچ چکی ہیں۔ اصحاب الرس یہاں جن قوموں کا ذکر آیا ہے ان سب کا حوالہ مختلف پہلوئوں سے پچھل سورتوں میں بھی گزر چکا ہے اور ہم بقدر ضرورت ان کی تاریخی حیثیت کیوضاحت کرچکے ہیں۔ اصحاب الرس کا ذکر سورة فرقان کی آیت 38 میں آیا ہے۔ اس کے تحت ہم ان کے بارے میں مفسرین کے اقوال کے حوالے بھی دے چکے ہیں اور اپنی رائے بھی ظاہر کرچکے ہی۔ اگرچہ قوموں کے ذکر میں ترتیب یہاں تاریخی نہیں ہے لیکن قوم نوح کے بعد معاً اصحاب الرس کا ذکر اس بات کا قرینہ ضرور ہے کہ ان کا تعلق قدیم اقوام بائدہ سے ہے جن میں اکثر کی تاریخ بالکل ناپید ہوچکی ہے۔ کل کذب الرسل کے الفاظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان کی طرف ایک رسول کی بعثت ہوئی جس کی انہوں نے تکذیب کی اور اس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا جس نے ان کو فنا کردیا۔ تفسیر کی کتابوں میں ایک روایت ہ بھی نقل ہوئی ہے کہ اس قوم نے اپنے رسول کو کفن میں دفن کردیا تھا۔ رس کنوئیں کو کہتے ہیں اس وجہ سے ان کا نام اصحاب الرس ہوا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ رسولوں میں سے کسی کا اس کی قوم کے ہاتھوں قتل ہونا ثابت نہیں ہے۔ رس کے معنی کنوئیں کے ہوں بھی تو اس کی طرف نسبت کے لئے اس واقعہ کی صحت ضروری نہیں ہے۔ فرعون کے ساتھ اس کی قوم کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اصل مجرم کی حیثیت درحقیقت فرعون ہی کو حاصل تھی۔ اس نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ سورة طہ میں ہے و اضل فرعون قومہ وما ھدی 79 (اور فرعون نے اپنی قوم کو گماہ کیا اور اس نے ان کو ٹھیک راہ نہ دکھائی) یہی بات دور سے الفاظ میں یوں ارشاد ہوئی ہے۔ اذھب الی فرعون انہ طغنی (24) (فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے)
Ayah 50:15

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے ! بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کئے جانے کے باب میں مبتلائے شک ہیں

قوم تبع کا ذکر سورة خان کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ افعیینا بالخلق الاول ط بل ھم فی لبس من خلق جدید 15 نقاش نقش ثانی بہتر کشد زاول اوپر کی آیات 11-6 میں آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اہتمام کے ساتھ اپنی اس قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشے سے نمایاں ہے اور مقصود اس سے جیسا کہ ہم نے اوپر شا ارہ کیا، ان لوگوں کو قائل کرنا تھا جو مرنے کے بعد از سر نو اٹھا کھڑے کئے جانے کو بعید از امکان تصور کرتے تھے۔ یہ انہی لوگوں کے سامنے سوال رکھا ہے کہ یہ لوگ ہمارے آسمانوں اور ہماری زمین کو دیکھ کر بتائیں کہ کیا پہلی بار ہم ان کو بنانے سے عاجز رہے۔ اعیی بالامر کے معنی کی وضاحت اہل لغت نے اذا لم یھتذنوجہ عملہ کے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی کوئی شخص ایک کام کرنے سے عاجز رہ جائے۔ اس کی مسجھ میں نہ آئے کہ یہ کس طرح انجام دیا جائے۔ بل ھم فی لبیس من خلق جدید یعنی یہ لوگ یہ کہنے کی جرأت تو نہیں کرسکتے کہ ہم پہلی بار آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے قاصر رہے۔ ان کو اعتراف ہے کہ آسمان اور زمین کے خالق ہم ہی ہیں۔ البتہ ان کو اس باب میں تردد رہے کہ از سر نو ہم ان کو نہیں پیدا کرسکیں گے ! میرے نزدیک اس جملہ کا انداز طنزیہ ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ پہلی بار پیدا کرنے میں ہم کو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی تو دوبارہ کیوں رکاوٹ پیش آئے گی ! ان لال بچھکڑوں سے کوئی پوچھے کہ کس چیز کو پہ بار بنانا مشکل ہوتا ہے یا دوسری بار اگر ایک نقاش نقش ثانی نقش اول کے مقابل میں زیادہ بہتر کھینچ سکتا ہے تو ہم دنیا کو از سر نو زیادہ آسانی سے کیوں نہیں پیدا کرسکتے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں اس کے دل میں جو وسوسے گزرتے ہیں اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔

2 آگے آیات 35-16 کا مضمون آگے کی آیات میں پہلے اس اہتمام کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اس کے بعد قیامت کے ظہور اور مجرمین کے حاضر کئے جانے کی تصویر کھینچی ہے۔ اس کے بعد مجرمین کے جہنم میں ڈالے جاین اور ان کے باہمی لعن طعن کا بیان ہے۔ پھر اس فضل و انعام کی تفصیل ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں پر فرمائے گا۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد خلقنا الانسان و نعلم ماتوسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید 16 اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو محیط ہے قیامت کے باب میں جہاں نادانوں کو یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ انسان کے مرکھپ جانے اور زمین میں رل مل جانے کے بعد اس کے تمام اجزائے جسم کو فراہم کرنا اور از سر نو زندہ کر کے کھڑا کردینا بھلا کس کے بس میں ہے اسی طرح یہ شبہ بھی بہتوں کو لاحق ہوتا ہے کہ ایک ایک شخص کے خلوت و جلوت کے تمام اقوال و افعال کا ریکارڈ کون رکھ سکتا ہے کہ ایک دن سب کا حساب کرنے بیٹھے اور ہر ایک کو جزاء و سزا دے۔ یہ دونوں شبہات بالکل قوام ہیں۔ اس وجہ سے اوپر آیت 4 میں اجمالی طور پر دونوں کا جواب دیا ہے۔ پھ رتفصیل کے ساتھ پہلے شبہ کی تردید فرمائی ہے۔ اب یہ دوسرے شب ہے سے تعرض فرمایا ہے اور دلائل سے اس کا جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ انسان کو ہم نے پیدا کیا ہے اور اس کے اقوال و اعمال تو درکنار اس کے دل میں جو وسوسے خطور کرتے ہیں ہم ان کو بھی جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خالق ہے، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے جوڑ جوڑ، بند بند کو استوار کیا ہے تو لازم ہے کہ وہ اس کے تمام پرزوں کے در و بست اور ان کے عمل سے اچھی طرح آگاہ ہو۔ اسی حقیت کی طرف دوسرے الفاظ میں یوں توجہ دلائی ہے۔ الا یعلم من خلق (الملک : 14) (کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا۔) اگر خالق اپنی ملوق کی تمام جزئیات سے باخبر نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت اور اس کے بقاء کا اتنظام کس طرح کرے گا ؟ ونعن اقرب الیہ من حبل الورید ورید رگ جاں کو کہتے ہیں۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف محاورہ ہے جو غایت درجہ قرب کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ فرمایا کہ کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اگر وہ ہم کو نہیں دیکھ رہا ہے تو ہم اس سے دور ہیں۔ ہم ہر شخص کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔ ہمارا علم اور ہماری قدرت ہر شخص کا ہر پہلو سے احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کا تمام ظاہر و باطن ہر لمحہ ہماری نگاہوں میں ہے۔
Ayahs 50:17–18

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

دھیان رکھو جب کہ دو اخذ کرنے والے اخذ کرتے رہیت ہیں، ایک دائیں بیٹھا اور دوسرا بائیں بیٹھا۔

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا ہے مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران موجود ہوتا ہے۔

اذیتلقی الستلقٰین عن الیمین وعن الشمال قیعد، مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید (18-17) لوگوں کے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھنے کے لئے مزید اہتمام عن الیمین وعن الشمال تعید میں تالف کلام یوں ہے، عن الیمین قعیلا وعن الشمال قعید (ایک داہنے بیٹھا ہوا، دوسرا بائیں بیٹھا ہوا) عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق بتقاضیء ایجاز ایک جگہ لفظ قعید، محذوف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہ اس مزید اہتمام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اقوال و اعمال کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کے لئے کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اول تو بذات خود ہر شخص کے وساوس و خطرات قلب تک سے اچھی طرح باخبر ہے، مزید برآں اس نے اتمام حجت کے لئے یہ اہتمام بھی کیا ہے کہ ہر شخص پر دو دو فرشتے مامور کر رکھے ہیں جنمیں سے ایک اس کے رہنے بیٹھا ہوتا ہے، دوسرا بائیں جونہی وہ کوئی لفظ بولتا ہے اپنے پاس ایک مستعد نگر ان اس کو نوٹ کرنے کے لئے حاضر پاتا ہے۔ یہاں اعمال کے نوٹ کئے جانے کا ذکر اگرچہ لفظوں میں نہیں ہے لیکن وہ علی اسبیل التغلیب اس میں داخل سمجھے جائیں گے، اس لئے کہ جب زبان سے نکلے ہوئے یہ لف کے نوٹ کئے جانے کے لئے یہ اہتمام ہے تو ہاتھ پائوں سے انجام دیئے ہوئے اعمال کے نوٹ کئے جانے کا اہتمام تو بدرجہ اولیٰ ہونا چاہئے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں فرشتوں میں تقسیم کار ہے۔ جو فرشتہ دائیں جانب مامور ہوتا ہے وہ نیک اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برے اعمال و اقوال کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ شہادت کے معاملے میں چونکہ دو گواہوں کی گواہی دین میں معتبر مانی گئی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی دو دو فرشتے مامور فرمائے۔ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ آدمی کے وساوس و خطرات قلب ان فرشتوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور یہ اس کستاری ہے کہ اس نے بندوں کے دلوں کے بھیدوں کا علم اپنے ہی تک محدود رکھا ہے۔ اتمام حجت کے لئے ایک اور اہتمام اس اہتمام کے علاوہ ایک اور اہتمام بھی اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کا کررکھا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی کے ہاتھ پائوں اور کان آنکھ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے تمام اقوال و اعمال کی گواہی دیں گے ہم جو کچھ زبان سے بولتے ہیں اس کا سارا ریکارڈ ہمارے کان محفوظ کر رہے ہیں اور جو کچھ دیکھتے ہیں اس کی پوری فلم ہماری آنکھوں کی تحویل میں ہے۔ یہی حال ہمارے دوسرے اعضاء جو ارح کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کہتے یا کرتے ہیں سب خدا کے مامور کئے ہوئے پاسبانوں کے سامنے اور اسی کے بخشے ہوئے اعضاء وجوارح کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ پھر یہ خیال کرنا کتنی بڑی حماقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایک ایک قول و فعل کو کس طرح جان سکتا ہے کہ ان کا حساب کرنے بیٹھے گا ! اذیتلقی المتلقین میں ربیت کے معروف قاعدے کے مطابق اذ سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یہاں چونکہ غافلوں کو ایک حقیقت نفس الامری کی یاد دہانی کی جا رہی ہے اس وجہ سے کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے گا جس سے مخاطب کو تنبہ ہو۔ یعنی دھیان رکھو، خیال رکھو میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔ صاحب کشاف نے ایک دوسری شکل اختیار کی ہے لیکن مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔
Ayah 50:19

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی غشی شدنی کے ساتھ آپہنچی ! یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا رہا تھا !

قیامت ایک شدنی ہے وجآءت سکرۃ الموت بالحق ط ذلک ماکنت منہ تحید 19 حق سے مراد ہی قیامت ہے جس کی قرآن خبر دے رہا تھا اور جس کی تکذیب کا ذکر اوپر آیت 5 میں گزر چکا ہے چونکہ وہ ایک شدنی اور ایک اٹل حقیقت ہے، اس وجہ سے اس کو حق سے تعبیر فرمایا ہے۔ مضای کا صیغہ اس کی قطعیت کے اظہار کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو بہت دور نہ خیال کرو بلکہ ایک آئی ہوئی چیز سمجھو۔ جتنے دن زندگی کے باقی ہیں بس اتنی ہی دیر قیامت کے آنے میں ہے۔ جونہی موت کی بےہوشی طاری ہوئی قیامت گویا اس کے ساتھ ہی لگی کھڑی ہے۔ اس وقت صورت حال خود تمہیں بتا دے گی کہ جس چیز سے تم کتراتے رہے تھے بالآخر وہ آہی گی۔ قیامت ہر آدمی کی موت کے ساتھ لگی ہوئی ہے قیامت کی یہی حقیقت احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے۔ من مات فقد قامت قیامت ہ (جو مرا اس کی قیامت آگئی) اس کی وجہ یہ ہے کہ موت کے بعد برزخ کی جو زندگی ہے وہ درحقیقت قیامت ہی کا دیباچہ ہے۔ موت کے ساتھ ہی عالم آخرت کے احوال کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اہل ایمان کو ایمان کی حقانیت اور اس کے اچھے انجام کی ہشادت مل جاتی ہے اور کفار کے سامنے اس انجام کے ظہور کا آغاز ہوجاتا ہے جس کی وہ دنیا کی زندگی میں تکذیب کرتے رہے تھے اس کے بعد کسی شک کی گنجائش کسی کے لئے بھی باقی نہیں رہ جاتی۔ قیامت کے باب میں اس کے منکروں کے ذہن کی صحیح تعبیر ذلک ماکنت منہ تحمید یہ بات زبان حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے اور قولاً بھی ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس وقت تم دیکھ لوگ گے کہ جس چیز سے تم کرتا تے رہے وہ بالآخر سر پر آہی دھمکی۔ حاد یعید کا صحیح مفہوم راستہ سے کرتا کر چلنا ہے۔ یہ ٹھیک ٹھیک تعبیر ہے قیامت کے باب میں ان لوگوں کے رویے کی جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ قیامت سے بےپروا ہو کر زندگی گزار تے ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ قیامت کے دلائل ان سے مخفی ہیں، اس کے آثار تو ہر قدم پر موجود ہیں لیکن جو لوگ سیدھی راہ نہیں اختیار کرنی چاہتے وہ ان سے کترا کر چلتے ہیں، لیکن اس وقت یہ کیا کریں گے جب وہ انکے سامنے آن کھڑی ہوگی۔
Ayah 50:20

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے۔ وہ ہماری وعید کے ظہور کا دن ہو گا

ونفح فی الصور ذلک یوم الوعید 20 یعنی اس کے بعد بس نفخ صور ہی کا مرحلہ ہے۔ صور پھونکا جائے گا اور وہ دن ظاہر ہوجائے گا جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے اور تم اس کی تکذیب کئے جا رہے ہو۔ اس کو بھی اس کی قطعیت کے اظہار کے لئے ماضی کے صیغہ سے ادا کیا ہے تاکہ نگاہوں کے سامنے مصور ہوجائے۔ مطل بیہ ہے کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ زندگی، پھر موت، پھر برزخ پھر حشر و نشر بہت دور کی بات ہے جب صور پھونکا جائے گا تو ایسا محسوس کرو گے کہ جس مدت کو تم بہت دراز سمجھتے تھے وہ پلک جھپکتے
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور یہ جان اس طرح حاضر ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہو گا

وجآءت کل نفس معھا سائق وشھید (21) یہ نفح صور کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اس دن ہر جان اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے اس طرح حاضر کی جائے گی کہ ایک فرشتہ اس کے پیچھے سے اس کو ہانکنے کے لئے مامور ہوگا اور دوسرا اس کے قوال و اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی کے لئے یہی مفہوم آیت سے متبادر بھی ہوتا ہے اور یہی سلف سے منقول بھی ہے۔ عض لوگوں نے سائق اور شھید دونوں سے ایک ہی فرشتہ مراد لیا ہے کہ وہی ہانک کر لائے گا بھی اور وہی گواہی بھی دے گا۔ بعض لوگوں نے سائق سر فرشتہ کو مراد لیا ہے لیکن شھید سے آدمی اور اس کے عمل کو یہ دونوں قول ہمارے نزدیک کمزور ہیں۔ پہلا عربیت کے پہلو سے کمزور ہے اور دوسرے میں صریح تکلف ہے جس سے آیت کے الفاظ اباء کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے انہی دونوں فرشتوں کو مراد لیا ہے جن کا ذکر اوپر آیت 17 میں گزرا ہے لیکن یہ بات بھی کمز ور معلوم ہوتی ہے۔ یہ دونوں فرشتے، آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ آدمی کے اقوال و اعمال لکھنے پر مامور ہوتے ہیں۔ اگر انہی کو خدا کی عدالت میں پیش کرنے کے لئے آدمی کو حاضر کرنا بھی ہے تو دونوں کی ایک ہی حیثیت ہونی چاہئے۔ یعنی دونوں گواہ کی حیثیت سے پیش ہوں۔ اس بات کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ جب دونوں مامور ایک ہی حیثیت سے تھے تو ایک کی حیثیت تبدیل کیوں ہوجائے گی ؟ بہرحال ان میں سے کوئی قول بھی ضعف سے خالی نہیں ہے۔ آیت کے الفاظ سے جو بات نکلتی ہے وہ وہی ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا کہ نفخ صور کے بعد ہر شخص کی پیشی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اس طرح ہونی ہے کہ ایک فرشتہ اس کے پیچھے پیچھے اس کو ہانکنے کے لئے ہوگا اور دوسرا اس کے آگے آگے تمام اقوال و اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ گواہی کے لئے۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

اور ایک گواہ تو اس سے غفلت میں پڑا رہا تو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ ہٹا دیا تو آج تو تیری نظر بہت تیز ہے !

لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطآءک فبصرک الیوم حدید (22) پیشی کے وقت ایک تنبیہ اس وقت اس کو اللہ تعالیٰ متنبہ فرمائے گا کہ اس دن سے تم غفلت میں پڑے رہے تو آج ہم نے تمہاری آنکھوں کے آگے سے پردہ ہٹا دیا۔ فبصرک الیوء حدید یہ فقرہ اس کی تفضیح کے لئے طنز کے انداز میں ہوگا کہ آج تو تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں ! جس چیز کا امکان تمہیں کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہا تھا آج اس کا ہر گوشہ کس طرح تمہارے آگے بےنقاب ہوگیا ہے ؟ یہ آیت اس آیت کے معارض نہیں ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ آیات الٰہی کے انکار کرنے والے قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے ان دونوں مکا موقع و محل ہم واضح کرچکے ہیں۔
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور اس کا ساتھی کہے گا، یہ جو میری تحویل میں تھا، حاضر ہے۔

وقال قرینہ ھذا مالدی عتید 23 جرم کی پیشی عدالت میں قرینہ دلیل ہے کہ قرین سے مراد انہی دو میں سے کوئی ایک ہے جو سآئق اور شھید کی حیثی سے اس کو لے کر عدالت الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ بعض لوگوں نے اس سے اس شیطان کو مراد لیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے والے پر مسلط کردیا جاتا ہے، لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ یہ شیطان نہ تو کسی کے بارے میں یہ کہہ سکنے کے پوزیشن میں ہوگا کہ یہ شخص جو میری تحویل میں تھا حاضر ہے اور نہ وہ اس دن کسی کو بہکانے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے گا۔ آگے اس کا وقل آ رہا ہے کہ جب اس کے جال میں پھنسے ہوئے لوگ اپنی گمراہی کی ذمہ داری اس پر ڈالنی چ ہیں گے تو وہ صاف اعلان برأت کرے گا ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید (ق، 27) (اے ہمارے رب ! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود نہایت دور کی گمرایہ میں پڑا ہوا تھا) اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے انہی دو میں سے کوئی ایک مراد ہے۔ یہ سوال کہ ان میں سے کون مراد ہے تو اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ اس سے شہید بھی مردا ہوسکتا ہے اور سائق بھی اس لئے کہ یہ بات دونوں ہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ جو میری تحویل میں تھا، حاضر ہے۔ چناچہ اصحاب تاویل نے اس میں اختلاف کیا بھی ہے۔ میرا رجحان اس طرف ہے کہ یہ بات سآئق کہے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ مجرم اصلاً چارج میں اسی کے ہوگا اور اسی پر یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس کو عدالت میں پیش کرے۔ چناچہ جب وہ اس کو عدالت میں حاضر کر دے گا تو ایک فرض شناس سپاہی کی طرح اپنے فرض سے سبک دوشی کا اظہار ان ال فاظ میں کرے گا کہ ھذا مالدی عتید (یہ جو میری تحویل میں ہے، حضور کے سامنے حاضر ہے !)
Ayah 50:24

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

تم جھونک دو ، جہنم میں ہر ناشکرے، معاند ،

القیافی جھنم کل کفار عنید 24 ایک سوال اور اس کا جواب القیامثنیٰ کا صیغہ ہے اس وجہ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حکم کن دو فرشتوں کو دیا جائے گا۔ عام طور پر ارباب تاویل نے اس کا مخاطب انہی دو فرشتوں کو قرار دیا ہے جن کا ذکر اوپر سائق اور شہید کے الفاظ سے زگر چکا ہے۔ انہی کو حکم ہوگا کہ ہر ناشکرے معاند کو جہنم میں پھونک دو۔ اس تاویل میں بظاہر کوئی ضعف نظر نہیں آتا۔ ان دونوں کو یہ حکم دینے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہی اس کو جہنم میں ڈالیں بھی۔ یہ محض حکم کا بیان ہے اس کی عتمیل میں وہ مجرم کو جہنم میں جھونکنے والے فرشتوں کے حوالہ کردیں گے اور وہ اس کو جہنم کے اس طبقے میں، جو اس درجے کے مجرمین کے لئے خاص ہوگا، ڈال دیں گے۔ اس مثنیٰ سے متعلق زمخرشی نے ایک قول مشہور ادیب مبرد کا بھی نقل کیا ہے کہ فصحانے عرب مثنیٰ کا صیغہ بعض اوقات مجرد تکرار فعل کے مفہوم کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً امراء القیس کے قصیدے کا مطلع ہے۔ قفا نبک من ذکری حبیب و منزل اس کا ترجمہ عام طور پر تو لوگ یوں کرتے ہیں کہ ”میرے دونوں ساتھیو، ٹھہرو ذرا جاناں اور منزل جاناں کی یاد میں دو آنسو بہا لیں۔ ‘ مبرد کے اس قول کی روشنی میں قفا کے معنی صرف ٹھہرو، ٹھہرو کے ہوں گے۔ دو مخاطب فرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح القیا کا مفہوم آیت میں اس کے نزدیک ڈال دو ، ڈال دو ، ہوگا۔ مقصود اس سے اظہار غضب اور تاکید حکم ہے، اس سے بحث نہیں کہ یہ حکم دو فرشتوں کردیا جائے گا یاد و سے زیادہ فرشتوں کو یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہی بات سورة حآقہ میں جمع کے صیغے سے بھی فرمائی گئی ہے : حذوہ فغلوہ ثم الجحیم صلوہ ثم فی سلسلہ ذرعھا سبعون ذراعاً فاسلکوہ (32-30) (اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو، پھر اس کو دوزخ میں دخل کرو، پھر ایک ایسی زنجیریں میں جس کی پیھائش ستر گز ہے، اس کو جکڑ دو) میں نے اس قول کا حوالہ صرف غور و تحقیق کے مقصد سے دیا ہے۔ مجھے اس پر پورا جزم نہیں ہے۔ البتہ مزید تحقیق سے اس کے حق میں اطمینان بخش شواہد فراہم ہوجائیں تو اس سے بعض مشکلات کے حل میں مدد ملے گی۔ جہا تک احوال آخرت کا تعلق ہے ان کے باب میں سلامتی کی راہ میرے نزدیک یہ ہے کہ الفاظ قرآن سے جو مفہوم متب اور ہو آدمی اس پر ایمان رکھے۔ زیادہ کھوج کرید میں نہ پڑے کل کفار عنید، کفار کے معنی ناشکرے اور منکر حق کے ہیں اور عنید کے معنی معاند کے، لفظ کفر اصلاً خدا کی ناشکری اور اس کے حقوق کے انکار کے لئے آتا ہے۔ دا کے حقوق میں کسی سلیم الفطرت کے لئے کسی بحث و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس وجہ سے ان کا منکر صرف کافر ہے نہیں بلکہ کفار ہے اور اس کی اس کفاری پر مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب وہ ان حقوق کا معافد و مخالف بن کر اٹھ کھڑا ہو کہ دوسرے بھی ان کے ادا کرنے والے نہ بن سکیں۔
Ayahs 50:25–26

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

خیر سے روکنے والے، حدود کو توڑنے والے، مبتلائے شک کو

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہرائے تو ڈال دو اس کو سخت عذاب میں

مناع اللخیر معتد مریب الذی جعل مع اللہ الھا اخرفا لقیہ فی العذاب الشدید 26-25) خدا کے حقوق کے منر لازماً بندوں کے حقوق کے بھی منکر ہوں گے جو خدا کے حقوق کے منکر و معاند ہوں گے لازماً وہ اس کے بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی نہایت بخیل و ممسک اور دوسروں کو ان سے روکنے والے ہوں گے اور ساتھ ہی وہ معتدی یعنی حدود سے تجاوز کرنے والے حقوق کو غصب کرنے والے بھی ہوں گے۔ لفظ خیر یوں تو تمام نیکیوں اور بھلائیوں کے لئے عام ہے لیکن انفاق کی نیکی کے لئے یہ معروف ہے جس کا تعلق بندوں سے ہے۔ لفظ مناع میں رکنے اور روکنے دونوں کا مفہوم موجود ہے۔ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ صرف خود ہی بخیل بننے پر قانع نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو بھی بخیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی بخیل کا راز فاش نہ ہو۔ مزید برآں اس طرح کے لوگ معتدی بھی ہوتے ہیں یہ صرف اتنے پر صبر نہیں کرتے کہ دوسروں کے جو حقوق ان کے ذمہ ہیں ان کو دبائے بیٹھے رہیں بلکہ تعدی کر کے یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسروں کے پاس جو کچھ ہے وہ بھی ان کے پاس نہ رہنے پائے بلکہ اس کے مالک بھی یہی بن بیٹھیں۔ مریب کے معنی مبتلائے شک کے ہیں۔ یوں تو یہ لفظ عام ہے۔ توحید یا آخرت جس باب میں بھی شک ہو وہ اس کے مفہوم میں داخل ہے لیکن قرآن میں اس کا معروف اس استعمال اس شی کے لئے ہوا ہے جو قیامت کے بارے میں ہو، جو اس سورة میں موضوع بحث ہے، یہاں اس صفت کا ذکر ان تمام صفات کی اصل کی حیثیت سے ہوا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ قیامت کے باب میں شک ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو ناشکرا، معاند، بخیل اور تعدی کرنے والا بناتا ہے۔ چناچہ ان تمام بیماریوں کے ذکر کے بعد اس اصل بیماری کا پتہ بھی دے دیا جس سے یہ تمام بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ الذی جعل مع اللہ الھا اخر یہ آخر میں اسلوب بدل کر، خاص اہتمام کے ساتھ، شرک کا ذکر فرمایا، شرک تمام دین و اخلاق کا ہادم اور تمام فساد فی الارض کی جڑ ہے۔ شرک کے ساتھ قیامت کو کوئی مانے بھی تو یہ ماننا بالکل بےاثر ہو کے رہ جاتا ہے اگر آدمی اس وہم میں مبتلا ہو کہ فلاں خدا کا شریک یا اس کا ایسا چہیتا ہے کہ وہ جو بات چاہے خدا سے منوا سکتا ہے تو پھر اس کے لئے قیامت کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوا۔ وہ اپنے زعم میں اس کو راضی رکھ کے جو چاہے کرسکتا ہے اس کا ہاتھ پکڑنے والا کون بن سکتا ہے ! یہاں عربیت کے اس اسلوب پر بھی نظر رہے جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جب صفات کا ذکر حرف عطف کے بغیر ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ یہ تمام صفات موصوف میں بیک وقت موجود ہیں۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی نگاہ میں رہے کہ یہاں صفات کے بیان میں ترتیب فروع سے اصول کی طرف ہے۔ ناشکری اور بخل سے آغاز کیا ہے، انکار قیامت اور شرک پو ختم کیا ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ آدمی اگر قیامت کے باب میں مشتبہ اور شرک میں بتلا ہو تو اس کا کردار وہ بنتا ہے جو ان آیات میں بیان ہوا۔ فالقیہ فی العذاب الشدید یہ اسی اوپروالے القیا کی تاکید ہے۔ اوپر فرمایا کہ اس کہ جہنم میں جھونک دو۔ پھر اس کی صفات کا حوالہ دینے کے بعد مزید شدت و تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اس کو جہنم کے عذاب شدید میں جھونک دو جھنم کے متعلق یہ واضحت اس کے محل میں ہوچکی ہے کہ اس کے سات دروازے اور متعدد طبقات ہوں گے۔ مذکورہ صفات و کردار کے لوگوں کے لئے اس کے عذاب شدید میں داخل کرنے کا حکم ہوگا۔
Ayahs 50:27–28

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

اس کا ساتھی شیطان کہے گا، اے ہمارے رب میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود نہایت دور کی گمراہی میں پڑا رہا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

ارشاد ہوگا، اب میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں نے پہلے ہی تمہیں اپنی وعید سے آگاہ کردیا تھا۔

قال قرینہ ربنا مآ اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعیدہ قال لا تخمتصموا لدی وقد قدمت الیکم بالوعید (28-27) یہ جہنم کے باڑے میں، داخل ہونے کے بعد کا ماجرا بیان ہو رہا ہے کہ اس میں داخل ہونے کے بعد ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام اس شیطان پر تھونپا چاہے گا جو سنت الٰہی کے مطابق ان لوگوں پر مسلط کردیا جاتا ہے جو اللہ کی یاد سے غافل رہتے ہیں شیطان جب دیکھے گا کہ اس کو مجرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ آگے بڑھ کر اپنی صفائی پیش کرے گا کہ ربنا ما اطغیتہ ولکن کان فی ضلل بعید (اے ہمارے رب، میں نے اس کو طغاین میں نہیں مبتلا کیا بلکہ وہ خود ہی گمراہی میں اتنی دور نکل گیا تھا کہ وہاں سے اس کے لئے بازگشت کا امکان باقی نہیں رہا) شیطان کے قول ما اطغیتہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ گمراہی کی دعوت دینے سے انکار کرے گا۔ قرآن میں تصریح ہے کہ وہ یہ اعتراف کرے گا کہ اس نے مگر ایہ کی دعوت ضروری لیکن اس دعوت کو قبول کرنے والا یہ خود بناء اس پر اس کو اس نے مجبور نہیں کیا۔ دوسرے مقام پر اس کی وضاحت یوں ہوئی ہے۔ وقال الشیطن لما قضی الامران اللو وعدکم وعدا لحق ووعد تکم فاخلتکم وما کان لی علیکم من سلطن الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلوموا فی ولوموا انفسکم، مآ انا بمصرخکم ومآ انتم بمصر خی (ابراہیم :22) اور جب معاملہ کا فیصلہ ہوجائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچی بات کہی تھی وہ اس نے پوری کردی اور میں فے تم سے جھوٹے وعدے کئے تھے ہو میں نے خلاف ورزی کی اور مجھ کو تمہارے اوپر کوئی اختیار تو حاصل تھا نہیں۔ بس اتنی بات ہے کہ میں نے تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے ہی کو ملامت کرو۔ اب تو نہ میں تمہارا فریاد درس بن سکتا اور نہ تم میرے فریاد رس بن سکتے۔ ولکن کان فی ضلاع بعید میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گمراہی میں اتنی دور نکل جا چکا تھا کہ اس کے لئے حق کی طرف بازگشت کا کوئی امکان ہی بای نہیں رہ گیا تھا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جو لوگ نیکی کی راہ سے اپنے آپ کو بہت دور کرلیتے ہیں وہ بالآخر توفیق ہدایت سے محروم ہو کر شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ گویا شیطان نے اس بات کی دلی بیان کی ہے کہ یہ شخص اگر اس کے ہتھے چڑھا تو اس وجہ سے کہ اپنی ضلالت پسندی کے سبب سے یہ سنت الٰہی کے مطابق اس کا مستحق بن چکا تھا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جس طرح شیطان قیامت کے روز اپنے پیروئوں سے اظہار برأت کرے گا اسی طرح وہ لیڈر بھی ان لوگوں کی گمراہی کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کریں گے جو ان کی پیروی میں گمراہ ہوئے ہوں گے۔ یہ بات قرآن میں بار بار بیان ہئی ہے۔ ہم سورة ابراہیم نے ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ وبرزو للہ جمیعاً فقال الضعفوآء للذین استکبروآء انا کنالکم تبعا فھل افتم مغنون عنا من عذاب اللہ من شیء قالوا لودھنا اللہ تھدینکم ط سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا من محیص (ابراہیم 21) اور سب کے سب اللہ کے آگے پیش ہوں گے تو کمزور لوگ ان لوگوں سے جو بڑے بنے رہے، کہیں گے کہ ہم تو آپ لوگوں کے پیرو بنے رہے تو کیا آپ لوگ اللہ کے عذاب میں سے بھی کچھ حصہ بٹانے والے بنیں گے ؟ وہ جواب دیں گے کہ اگر اللہ نے ہمیں ہدایت بخشی ہوتی تو ہم تمہیں بھی صحیح راہ بتاتے۔ اب تو یکساں ہے، خواہ ہم روئیں پیٹیں یا صبر کریں، ہمارے لئے اب کوئی مفر نہیں ! قال لاتختصموا الدی وقد قدمت الیکم بالوعید اس تو تکار پر اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ فرمائے گا کہ اب میرے سامنے تمہارا یہ جھگڑا بالکل بےسود ہے۔ یہ الزام بازی کسی کو بھی اس کی گمرایہ کی ذمہ داری سے بری قرار دینے والی نہیں بن سکتی۔ میں نے اپنی وعید سے ہر ایک کو پہلے سے آگاہ کردیا تھا اس وجہ سے حجت تمام ہوچکی ہے اور کسی کے لئے بھی کسی عذر کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ وعید سے اشارہ اس وعید کی طرف ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت آگاہ فرما دیا تھا جب ابلیس نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کیا تھا کہ اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں اولاد آدم کی اکثریت کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جا، جس کو تو گمراہ کرسکے، گمراہ کرے لے میں بھی آگاہ کرتا ہوں کہ جو بھی تیری پیروی کریں گے، خواہ جنات ہوں یا انسان، میں ان سب کو ت یرے سمیت جہنم میں بھر دوں گا۔ اس وعید کے بعد اللہ تعالیٰ نے برابر اپنے نبی اور رسول بھیجے جو وقفہ وقفہ کے ساتھ آ کر، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے بھی آگاہ کرتے رہے اور شیطان اور اس کی ذریات کی پیروی کے انجام سے بھی جو گمراہی میں مبتلا ہوئے ظاہر ہے کہ ان کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد وہ جن نتائج سے دوچار ہوں گے ان میں انہوں نے جان بوجھ کر گویا خود چھلانگ لگای ہے۔