50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے اں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں

مایبدل القول لدی وما انا بظلام للعبید 29 یہ اسی بات کی مزید وضاحت اور تاکید ہے۔ فرمایا کہ جس بات سے میں پہلے سے آگاہ کرچکا ہوں، اب تمہارے ایک دوسرے پر الزام دھرنے یارو نے دھونے سے وہ بدلی نہیں جاسکتی۔ اللہ کے وعدے اور اس کی وعیدیں بالکل قطعی اور اٹل ہیں۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آ رہا ہے تمہارے اپنے ہی اعمال کا ثمرہ ہے اس وجہ سے اب اس کو بھگتو میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ عربیت کے ایک اسلوب کی وضاحت وما انا بظلام تلعبید، میں عربیت کا جو اسلوب ہے اس کی واضحت ایک سے زیادہ مقامات میں ہم کرچکے ہیں کہ جب مبالغہ پر نفی آتی ہے تو اس سے مقوصد مبالغہ فی النفی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ میں بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ ہمارے مفسرین اور مترجمین عام طور پر اس اسلوب سے چونکہ ناواقف ہیں اس وجہ سے وہ اس کو لیس بظالم کے معنی میں لیتے ہیں اور مترجمعین اپنے ترجموں میں انہی کی یروی کرتے ہیں حالانکہ یہ الفاظ قرآن سے صریح بسے پروائی ہے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اگر مقصود یہی کہنا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظالم نہیں ہے تو زبان کا سادہ اسلوب چھوڑ کر اس مطلب کے ادا کرنے کے لئے لیس بظلام کا اسلوب کیوں اختیار کیا جاتا ؟ قرآن میں یہ لفظ اور یہ اسلوب کا ایک خاص مقام ہے جس کو اچھی طرح سمجھے بغیر آیت کی صحیح تاویل ممکن نہیں ہے۔ کلام عرب میں اسلوب کی مثالیں موجود ہیں۔ شعرائے جاہلیت میں سے امرائو القیس نے اپنے اعشار میں المرلیس بقتال اور المر لیس بفعال کی ترکیبیں استعمال کی ہیں۔ اس کے حریف نے اس کو جنگ اور قتل کی دھمکی دی تھی تو اس نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ مجھے قتل کی دھمکی دیتا ہے حالانکہ اس بزدل میں قتل و قتال کا ذرا بھی داعیہ نہیں ہے۔ لیس بفعال اس کے اندر کچھ بھی کرسکنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ بعض دوسرے شعراء نے بھی مجے یاد پڑتا ہے کہ اس نوع کی ترکیبیں اسعتمال کی ہیں لیکن افسوس ہے کہ دم تحریر میرے پاس دوا دین نہیں ہیں۔ تاہم میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کی صحت پر مجھے پورا اطمینان ہے۔ قرآن میں یہی بات دوسرے اسلوب میں بھی فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة نساء میں ہے۔ ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ (40) سورة یونس میں ہے۔ اللہ ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا ان اللہ لایظلم الناس شیئاً 44 اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کسی شخص کو یہ شبہ ہو کہ مبالغہ فی النفی کا جو ضابطہ ہم نے بیان کیا ہے وہ کوئی قاعدہ کل یہ نہیں ہے تو اس سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ہماری تاویل کی صحت کے لئے یہ بات کافی ہے کہ یہ قاعدہ عربی میں ایک جزئ بے کی حیثیت ہی سے سہی، موجود ہے۔ جب یہ قاعدہ موجود ہے تو قرآن کی تاویل میں تمام ارفن کے نزدیک یہ اصول مسلم ہے کہ کسی آیت میں دو تاویلوں کا امکان ہو تو اس تاویل کو ترجیح دی جائے گی جو احسن اور بظاہر قرآن کے مطابق ہو۔ یہاں ہماری تاویل کے حق میں کئی باتیں موجود ہیں۔ …یہ عربیت کے اسلوب کے مطابق ہے۔ …یہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے شایان شان ہے اس لئے کہ وہ بہرحال ہر شائبہ ظلم سے پاک ہے۔ وہ نہ نیکوں پر کوئی ظلم کیر گا نہ بدوں پر۔ …قرآن کے نظائر و شواہد سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ ہمارے مفسرین میں سے صرف صاحب کشاف نے اس آیت کے اشکال سے تعرض کیا ہے، لیکن انہوں نے جس طرح اس کو حل کرنے کی کوشش کی ہے اس سے ان کے مسلک اعتزال کی تائید تو نکل آتی ہے لیکن ساتھ ہی بعض دوسرے سوالات پیدا ہوجاتے ہیں جن سے انہوں نے تعرض نہیں کیا۔ ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر اپنے اطاعت گزار بندوں پر ظلم کرے تو یہ بڑا ظلم ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا ظالم نہیں ہے۔ صاحب کشاف کی اس تاویل پر یوں تو بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں لیکن ہم نخیال اختصار صرف دو باتوں کا ذکر کریں گے۔ ایک یہ کہ آیت میں اطاعت گزاروں یا نافرمانوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ عبید (بندوں) کا لفظ ہے جو تمام بندوں کو عام ہے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔ ہر ایک سے متعلق یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر کوئی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ تجدیدی و تخصیص بالکل بےدلیل بلکہ قرآن کے الفاظ کے خلاف ہے۔ دوسری یہ کہ آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمائی ہی ہے ان لوگوں کو مخاطب کر کے جو جہنم کے مستحق تھے۔ ان کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے کہ تمہایر ساتھ وہی معاملہ ہوا ہے جس کے تم سزا وار تھے۔ اللہ اپنے بندوں پر ذررا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ کشاف کی اسی تاویل کو اس دور کے بعض لوگوں نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق ہے، وہ خالق ہو کر اگر اپنی مخلوق پر ظلم کیر تو یہ بہت بڑا ظلم ہوجائے گا درآنحالیکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہے کہ وہ بہت بڑا ظالم بن جائے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ظلام ہونے کی نفی فرمائی۔ یہ بات کہنے والوں کو شاید علم نہیں ہے کہ ہمارے متکلمین کے سواد اعظم نے تو اسی دلیل کی بنا پر کہ خدا خالق ہے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ خدا کے کسی فعل پر ظلم و جور کا حکم لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ وہ اگر نیکوں کو جہنم میں ڈال دے تو یہ بھی عدل ہے اور اگر نافرمانوں کو جنت بخش دے تو یہ بھی عدل ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ پرانے متکلمین کی یہ بات غلط ہونے کے باوجود اتنی غلط نہیں ہے کتنی غلط اس دور کے نئے متکلیمن کی بات ہے۔ دوسرے ان حضرات نے اس پہلو پر بھی غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے ظلم و جور کی جو نفی کی ہے تو اپنی صفات عدل رحمت اور حکمت کی بنا پر کی ہے۔ اس بنیاد پر کہیں اس کی نفی نہیں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اس وجہ سے وہ بڑا ظالم نہیں بن سکتا۔ مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ان حضرات کی نگاہوں سے اوچھل رہ گیا وہ یہ کہ اگر یہ فلسفہ صحیح مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ غیر خالق کی طرف سے مخلوقات الٰہی پر ظلم ہو تو خواہ وہ کتنا ہی بڑا ظلم ہو لیکن وہ ظلال نہیں ہوں گے۔ یہاں تک کہ فرعون و ہامان اور نمرود و شداد بھی ان کے نزدیک بڑے ظالم نہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ خالق نہیں تھے اور بڑا ظلم صرف وہی ہوتا ہے جو خالق سے صادرف ہو معلوم نہیں یہ علم ککلام ان حضرات نے کس مکتب میں پڑھا ہے جو کہ خالق و رازق ہے وہ اگر ظلم کرے تو وہ ظلام ہوجائے اور جو نہ خالق ہیں نہ رازق وہ اگر ظلم ڈھائیں تو صرف ظالم رہیں۔ بہرحال یہ ساری موشگافیاں، خواہ قدیم متکلمین و مفسرین کی ہوں یا نئے مترجموں و مفسروں کی عربی زبان کے اس اسلوب سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں جس کی ہم نے اوپر واضحت کی ہے۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گی ! اور وہ جواب دے گی ابھی اور بھی ہیں !

یوم نقول لجھنم ھل امتلئت وتقول ھل من مزید 30 اللہ تعالیٰ کی بےنیازی فرمایا کہ اس دن کو اچھی طرح یاد رکھو جس دن ہم دوزخ سے سوال کریں گے کہ تو اچھی طرح بھر گئی یا نہیں ! وہ جواب دے گی ابھی اور بھی ہیں ! یہ سوال و جواب صورتحال کی تعبیر بھی ہوسکتا ہے اور بیان واقعہ بھی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بنائی ہیں وہ سب اس کے سوالوں کو سمجھتی بھی ہیں اور ان کے جواب بھی دیتی ہیں۔ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے صامت چیزوں کو بھی ناطق بنا دے۔ قرآن میں ہے کہ جب مجرموں کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے تو وہ حیران ہو کر ان سے پوچھیں گے کہ ت نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گے انطقنا اللہ الذی انطق کل شیء رحم السجدہۃ 21:) میں اسی خدا نے ناحق بنا دیا جس نے ہر چیز کو ناطق بنایا۔) یہ سوالو جواب اللہ تعالیٰ کی بےنیازی اور اس کے بےپایاں غضب کی تصویر ہے کہ دوزخیوں کو دوزخ میں بھرتے ہوئے ذرا ھی اس کو تردد لاحق نہیں ہوگا بلکہ وہ پوری بےنیازی سے سب کو جہنم میں پھنکوا دے گا اور پھر جہنم سے پوچھے گا کہ کیوں تبراہٹ اچھی طرح بھر گیا یا نہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غطل فہمی میں نہ رہے کہ اتنی بیشمار خلقت کو جہنم میں جھونکنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو کچھ تاسف ہوگا کہ اپنی پیدا کی ہوئی اتنی مخلوق کو میں نے آگ میں جھونک دیا بلکہ اس کے جوش غضب کا یہ حال ہوگا کہ اور بھی ہوں تو ان کو بھی وہ جہنم کا ایندھن بنا دے۔ وتقول ھل من مزید جہنم کے اس جواب کے دو پہلو ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جس جوش غضب کے ساتھ یہ سوال فرمائے گا اسی جوش کے ساتھ وہ بھی جواب دے گا کہ اور بھی ہوں تو میرے اندر بڑی سمائی ہے، ان کو بھی لائیے، دوسرا یہ کہ دوزخیوں کی اس کثرت کو دیکھ کر اس کا حوصلہ جواب دے گا جائے گا اور وہ بےحوصلہ ہو کر جواب دے گی کہ کیا اور بھی ہیں ! اگرچہ آیت کے الفاظ سے یہ دونوں مفہور نکل سکتے ہیں لیکن میں پہلے کو ترجیح دیتا ہوں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ مفہوم لینے میں دوزخیوں پر اللہ تعالیٰ کے جوش غضب اور جہنم کے جوش غضب میں پوری مطابقت ہوجاتی ہے اور یہی بات دوزخ کے لئے موزوں ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل پورے جوش و ولولہ کے ساتھ کرے دوسری یہ کہ قرآن میں جگہ جگہ دوزخ کی وسعت کا بیان اس انداز سے ہوا ہے کہ معلوم ہوتا ہے ان لوگوں کو متنبہ کیا جارہا ہے جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ بھلا اتنی مخلوق کو بھرن یکے لئے اتنی وسیع دوزخ کہاں سے لائی جائے گی۔ آیت لھا سبغۃ ابواب … الایۃ (الحجر :44) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے 1 تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض ماقمات میں دوزخ کی تصویر اس طرح کھینچی گئی ہے کہ جب دوزخی اس میں جھونکے جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ جوش غضب سے پھٹی پڑ رہی ہے۔ اذا القوا فیھا سمعوال ھا شھیقا و ھی تفورہ لکاد تمیز من الغیظ (الملک :8-7) یہی مضمون سورة ہود کی آیت 106 میں بھی ہے۔
Ayah 50:31

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی، درآنحالیکہ دور نہ ہوگی۔

وازنفعت الجنۃ للمتقین غیر بعید 31 متقیوں کی عزت وافزائی دوزخیوں کے بعد اب یہ متقیوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ان کی تشریف و تکریم اس طرح ہوگی کہ جنت، ایک پیشکش کی طرح، ان کے قریب لائی جائے گی، اس تک پہنچنے کے لئے انہیں کوئی زحمت سفر نہیں اٹھانا پڑے گی درآنحالیکہ وہ کچھ دور نہیں ہوگی غیر بعید میرے نزدیک جنت سے حال واقع ہے۔ اس حال کے لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریب لانے کے الفاظ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وہ بہت دور سے قریب لائی جائے گی جس میں کچھ وقفہ صرف ہوگا۔ بلکہ وہ بالکل قریب ہی ہوگی لیکن اہل جنت کی عزت افزائی کے لئے مزید قریب لائی جائے گی۔ لفظ بعید، اگرچہ مذکر ہے لیکن اس کا مئونث سے حال پڑنا عربیت کے خلاف نہیں ہے۔ زمخرشی نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور مجھے اس کی رائے سے اتفاق ہے۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حدود الٰہی کی حفاظت کرنے والے کے لئے

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (32) ۃ ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات :607-606 یعنی جنت کو قریب لا کر ان الفاظ کے ساتھ اہل جنت کو اس میں داخل ہونے کا پروانہ دیا جائے گا کہ یہ ہے وہ صلہ جس کا آپ لوگوں سے دنیا میں نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔ اب اس وعدے کا ایفاء ہو رہا ہے۔ مضارع سے پہلے عربیت کے قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے، یعنی ماکنتم توعدون ھذا سے اشارہ اسی جنت کی طرف ہے لیکن یہاں عربیت کے قاعدہ کے مطابق اس سے علی سبیل التاویل صلہ اور انعام مراد ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ لکل اواب حفیظ یہ اہل جنت کے اس کردار کا بیان ہے جس کی بنا پر وہ جنت کے حق دار ٹھہرائے گئے اوپر اہل دوزخ کا کردار آیات 27-5 میں بیان ہوچکا ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے اب یہ اس کے مقابل میں مستعقین جنت کا کردار بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنے رب کی طرف برابر رجوع رکھنے والے، اس کے حدود وقیوم کی حفاظت کرنے والے تھے۔ ان دونوں صفتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے ایک کا تعلق دل سے ہے اور دوسری کا تعلق عمل سے۔ اگر آدمی کا دل زندہ و بیدار ہو تو زندگی کے تمام ہنگاموں کے اندر اس کا دل برابر اپنے رب کی طرف رجوع رہتا ہے کسی وقت بھی اس پر ایسی غفلت یا سرکشی کی حالت طاری نہیں ہوتی کہ اسے خدا کے حدود و محارم کا بھی کچھ ہوش نہ رہے اور وہ ان کو توڑ تاڑ کے رکھ دے۔ نفس کسی کسی اکساہٹ کے باعث اگر اس سے کبھی تجاوز صادر ہوجاتا ہے تو اس کا دل فوراً متنبہ ہوتا ہے اور وہ توبہ و استغفار کے ذریعے سے پھر اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتا ہے۔ ان دو لفظوں کے اندر ایک صحیح مومن کا باطن و ظاہر دونوں بیان ہوگیا ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ ایک باوفا مومن ہونے کے لئے ترک دنیا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس کار زار حیات میں رہتے ہوئے اپنے اواب و حفیظ ہونے کو ثابت کرے۔ یہ امر بھ یادر کھیے کہ اسلام میں ہر شخص کے لئے شب و روز میں پانچ مرتبہ مسجد کی حاضری اسی اوابیت کو زندہ رکھنے کے لئے ہے۔ اس طرح گویا مومن اپنے مرکز ثقل سے وابستہ رہتا ہے اور شیطان اس پر کبھی اتن اقابو نہیں پاتا کہ اس کو فواحش و منکرات میں مبتلا کر دے۔ ان الصلوۃ تنھی عن العشآء و المنکر (العنکبوت 45)
Ayah 50:33

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو خدائے رحمان سے ڈرا غیب ہیں اور حاض رہوا متوجہ رہنے والے دل کے ساتھ

من خشی الرحمٰن بالغیب وجآء بقلب منیب (33) اوپر مستحقین دوزخ کے بارے میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے کہ وہ درباب قیامت مبتلائے شک رہے اور اللہ کے مقابل میں انہوں نے دوسرے سہارے بنا لئے۔ وہاں ہم نے بیان کیا ہے کہ یہی دونوں چیزیں درحقیقت ام الامراض کی حیثیت رکھتی ہیں یہاں اس کے مقابل میں اہل جنت کے باب میں فرمایا کہ یہ اس قسم کے کسی وہم میں نہیں مبلا ہوئے بلکہ غیب میں رہتے، خدائے رحمان سے ڈرتے رہے اور چونکہ انہوں نے خدا کے سوا کوئی اور سہارا تلاش نہیں کیا اس وجہ سے اپنے رب کے حضور میں ایک ایسے دل کے ساتھ حاضر ہوئے جس کی ساری توجہ اپنے رب ہی کی طرف رہی اس لئے کہ ان کی ساری ساری امیدیں اسی سے وابستہ تھیں، کسی اور سے انہوں نے کو نہیں لگائی۔ دین کی ایک عظیم حکمت من خشی الرحمٰن میں خدا کی صفت رحمن کا حوالہ دین کی ایک عظیم حکمت کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ بالآخر ایک ایسا دن بھی لائے لائے جس میں ان لوگوں کو جزا دے جنہوں نے اس دنیا میں ایک اواب اور حفیظ، کی زندگی گزاری اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے کفار اور عثید، بن کر اس میں دھاندلی مچائی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نعوذ باللہ نیکی اور بدی، ظلم اور عدل دونوں اس کی نگاہوں میں یکساں ہیں۔ درآنحالیکہ یہ بات اس کی رحمانیت و رحیمیت کے بالکل منافی ہے۔ چناچہ دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا یہ لازمی تقاضا بیان فرمایا ہے کہ وہ قیامت کا دن ضرور لائے گا۔ کتب علی نفسہ الرحمۃ ط لیجمعنمکم الی یوم القیمۃ (الانعام :12) (اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے کہ وہ تم کو ضرور قیامت کے دن کے لئے جمع کر کے رہے گا) اہل ایمان چونکہ اپنے رب کی اس صفت اور اس کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھتے رہے اس وجہ سے انہوں نے قیامت کو اٹل حقیقت سمجھا اور اس کے لئے برابر بیدار رہے۔ بالغیب میں ب ظرفیہ ہے۔ منکرین قیادت کے باب میں تو اوپر ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن ان کے سامنے جب حقائق آشکارا ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطآءک فبصرک الیوم حدید“ (ق :22) (تم اس دن سے غفلت میں رہے تو ہم نے تمہاری نگاہوں کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا تو آج تو تمہاری نگاہیں بہت تیز ہیں اس کے برعکس ان اہل ایمان کا حال یہ رہا کہ اسی دنیا میں رہتے اور آخرت کے حقائق کا آنکھوں سے مشاہدہ کئے بغیر مجرو آفاق وانفس کے دلائل اور نبیوں کی تعلیم کی بنا پر وہ آخرت کو مانتے اور اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ قلب منیب، سے مراد وہ دل ہے جو رنج و راحت اور امید ہر حال میں اپنے رب ہی کی طرف متوجہ رہا۔ کسی حال میں بھی اپنے رب سے منہ موڑ کر کسی اور سے اس نے لو نہیں لگائی۔
Ayah 50:34

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

داخل ہو جائو اس جنت میں سلامتی کے ساتھ ! یہ ہمیشگی کا دن ہے

ادخلوھا بسلم ذلک یوم الخلود (34) ابدی بادشاہی یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو۔ اب نہ اس میں تمہارے لئے ماضی کا کوئی پچھتاوا ہوگا نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ، ابدی بادشاہی کا جو وعدہ تم سے کیا گیا تھا اس کے دیئے جانے کا وقت آگای۔ یہ بادشاہی تم سے کبھی چھینی نہیں جائے گی اور نہ کبھی اس میں کوئی دخنہ پیدا ہوگا۔ سورة حجر کی آیت 46 میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ ادخلوھا بسلم امنین راس میں داخل ہو جائو، کامل سلامتی کے ساتھ، ہر اندیشہ سے نچنت ہو کر) قرآن میں اس بات کا ذکر بھی جگہ جگہ آیا ہے کہ فرشتے سلام کے ساتھ اہل جنت کا خیر مقدم کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سلام و پیام کا ذکر بھی آیا ہے، لیکن ان کا محل اور ہے۔ یہاں مدعا ہی ہے جس کی تائید سورة حجر کی آیت سے ہورہی ہے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کو ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔

لھم مایشآء ون فیھا ولدینا مزید 35 اس میں ان کو وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس مزید بھی ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جو وہ چاہیں گے وہ تو ان کو ملے گا ہی لیکن ہمارے پاس ایسی نعمتیں بھی ہوں گی جن کا ان کو کوئی تصور بھی نہیں ہوگا کہ وہ ان کے ارمان کرسکیں لیکن ہم ان کے چاہے بغیر ہی وہ نعمتیں بھی ان کو دیں گے۔ اسی حقیقت کی طرف دوسرے الفاظ میں یوں بھی اشارہ فرما گیا گیا ہے : فلا تعلم نفس مآ اخفی لھم من قوۃ اعین (السجدۃ :17) (پس کوئی بھی نہیں جانتا ہے اس کے لئے آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔)
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور کتنی ہی قومیں ہم نے ہلاک کر چھوڑیں ان سے پہلے جو قوت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں تو جس کا دھر سینگ سمایا ادھر کو، ملکوں میں، چل کھڑا ہوا کہ ہے کوئی پناہ کی جگہ !

-4 آگے آیات 45-36 کا مضمون آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ پہلے قریش کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ اپنی موجودہ قوت و صولت کے غرے میں خدا سے لڑنے کی جسارت نہ کرو تم سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جو قوت و صولت میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوئی ہیں لیکن جب خد نے ان کو پکڑا تو وہ اپنے کو بچا نہ سکیں۔ اگر تمہارے پاس سمجھنے والے دل اور سننے والے کان ہیں تو ان کی سرگزشتوں میں تمہارے لئے بڑا دسر عبرت ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی گی ہے کہ یہ مخالفین جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ یا مت شدنی ہے۔ ہم آسمان و زمین کو پیدا کر کے تھک نہیں گئے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ نہ زندہ کرسکیں گے۔ پس کان لگائے ہی رکھو۔ وہ دن آ ہی رہا ہے جب خدا کا منادی پکارے گا اور سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ پس صبر کرو اور نماز کا اہتمام رکھو۔ تمہاری ذمہ داری ولگوں کو مومن بنا دینا نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس قرآن کے ذریعہ سے ان لوگوں کو ہماری وعید سے آگاہ کردینا ہے جو آگاہ ہونا چاہیں … آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت وکم اھلکنا من قرن ھم اشد منھم بطشا فنقبوا فی البلاد ط ھل من محیض 36 قریش کو تنبیہ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ ان کو بڑی قوت و شوکت حاصل ہے، اپنی جگہ سے ہلائے نہیں جاسکتے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزری ہیں جو قوت و عظمت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔ ان میں سے اگر کچھ ہلاک ہونے سے بچ بھی رہے تو وہ مختلف ملکوں میں، جدھر جس کا سینگ سمایا، وہ ادھر کو کسی جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے۔ نب فی الارض کے معنی ہیں سارفیھا طلب للمھرب، (اور وہ زمین میں کسی جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑا ہوا) ھل من معیص ان کے چل کھڑے ہونے کے متحرک کا بیان ہے کہ سر چھپانے کی جگہ کی تلاش میں جدھر کو جس کا منہ اٹھا وہ ادھر ہی کو چل کھڑا ہوا۔ جب کسی قوم پر تباہی آتی ہے تو اس کا حال یہی ہوتا ہے۔ قوم کے کارفرما عناصر، جو سارے فساد کے ذمہ دار ہوتے ہیں، وہ تو تباہ ہوجاتے ہیں، عوام میں سے جو بچ رہتے ہیں وہ قومی جمعیت کے پارہ پارہ ہوجانے کے بعد پراگندہ ہو کر جس کو جہاں پناہ ملنے کی توقع ہوتی ہے وہ اسی طرف کا رخ کرلیتا ہے۔ قوموں کی تباہی کی مختلف صورتیں قرآن میں جن قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں ان میں سیبعض تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کی پوری عذاب الٰہی سے تباہ ہوگئیں، مثلاً قوم نوح، عاد اور ثمود وغیرہ، بعض قوموں کا حال یہ ہوا کہ ان کے مترفین و متکبرین تو تباہ ہوگئے، رہے ان کے اتباع و عوام تو وہ ادھر ادھر پراگندہ ہوگئے۔ فرعون اور اس کی قوم کی تباہی کی صورت یہی ہوئی۔ وہ خود تو اپنے اعیان اور پوری فوج سمیت دریا میں غرق کردیا گیا۔ باقی جو پیچھے رہئے تھے وہ حکومت کی تباہی اور اپنے حریفوں کے ڈر سے پناہ کی تلاش میں تتر بتر ہوگئے۔ اسی سے ملتے جلتے حالات ملک سبا میں پیش آئے۔ بیشمار افراد تو اس سیلاب ہی کی تدر ہوگئے جو ان پر آیا۔ جو بچ رہے وہ علاقہ کے بنجر اور معاشی حالت بالکل ابتر ہوجانے کے باعث مجبور ہوئے کہ پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں کا رخ کریں۔ یہود پر جو تباہیاں آئیں ان کی نوعیت بھی یہی تھی۔ جو قتل و نہب سے بچ وہ دنیا کے کونے کونے سے میں آوارہ ہو کر پھرے خود ہماری تاریخ میں بھی اس کی نہایت عبرت انگیز مثالیں موجود ہیں۔ بغداد پر، قرطبہ پر، دلی پر جو تباہیاں آئیں کیا ان کے احوال تاریخ میں مذکور نہیں ہیں ؟ ان کو پڑھیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت میں صرف قریش ہی کو تنبیہ نہیں ہے بلکہ خود ہمارے لئے بھی اس میں بڑا درس ہے بشرطیکہ ہم اس سے سبق حاصل کریں ! ایک غلط فہمی کا ازالہ بعض لوگوں نے نقبوا فی البارد کے یہ معنی لئے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور عروج میں اپنی فاتحانہ ترک تازیوں سے دنیا کا کونا کونا چھان مارا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ لفظ تنقیب، عربی میں فاتحانہ جو لانیوں کے لئے نہیں آتا بلکہ ڈر اور خوف سے، جائے پناہ کی تلاش میں، زمین میں نقب لگانے کے لئے آتا ہے۔ اہل لغت نے اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ اوپر ہم اس کا حوالہ دے چکے ہیں۔ کلام عرب کے شواہد سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے اور بعد کا ٹکڑا ھل من محیص نہایت واضح طور پر اس معنی کے حق میں ہے۔ ورنہ یہ جملہ بالکل بےمحل ہو کر رہ جائے گا۔
Ayah 50:37

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی یاددہانی ہے جن کے پاس دل ہو یا وہ بات سننے کے لئے کان لگائیں، متوجہ ہو کر

ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب اوالقی السمع وھو شھید 37 قریش کو تنبیہ اور آنحضرت کو تسلی ذلک کا اشارہ انہی قوموں کی سرگزشت کی طرف ہے جن کا بالاجمال اوپر کی آیت میں حوالہ دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ان قوموں کی سرگزشت میں کافی سامان عبرت موجود ہے بشرطیکہ عبرت حاصل کرنے والے دل اور بات کو توجہ کے ساتھ سننے والے کان ہوں۔ لفظ قلب اپنے حقیقی یعنی دل زندہ کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلب کو احساس کرنے عبرت حاصل کرنے اور سوچنے سمجھنے کے لئے بنایا ہے۔ جب تک آدمی کا دل یہ کام کرتا ہے اس وقت تک اس کا دل زندہ ہے اور جب تک دل زندہ ہے اس وقت تک آدمی بھی زندہ ہے۔ اس لئے کہ آدمی کی حقیقی زندگی اس کے دل کی زندگی ہی سے ہے۔ اگر دل یہ خصوصیات کھو بیٹھا تو پھر آدمی بھی مردہ ہے اگرچہ اس کی رگوں میں کتنا ہی خون دوڑتا پھرتا ہو۔ اوالقی السمع وھو شھید یعنی اگر دل پوری طرح بیدار نہ ہو تو کم از کم اتنی بات تو انسان کے اندر ہو کہ کوئی معقول آدمی اس کو کوئی بات سنائے تو وہ اس کو توجہ سے سنے۔ یہ تو جہ بھی انسان کے لئے بڑی خیر و برکت کا باعث ہے۔ اس سے بھی بسا اقوات دل کی غفلت دور اور اس کی عبرت پذیری کی صلاحیت زندہ ہوجاتی ہے۔ لیکن جو شخص ایسا بدقسمت ہو کہ نہ اس کا دل ہی بیدار ہوا ورنہ وہ کسی معقول آدمی کی بات سننے ہی کے لئے اپنے کان کھولنے پر آمادہ ہو تو ایسے آدمی کے اندر کوئی معقول بات کدھر سے راہ پائے گی ؟ اگر سیاق کلام یہاں قیرش کو تنبیہ و ملامت کا ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کے لئے تسکین و تسلی بھی ہے کہ تم جو قرآن سنا رہے ہو اگر قریش کے لیڈروں کے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہا ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نہ تو ان کے دلوں کے اندر اثر پذیری کی صلاحیت ہی ہے اور نہ یہ کان کھول کر تمہاری بات توجہ سے سننے ہی کے لئے تیار ہیں تو آخر تم اپنی بات کس طرح ان کے دلوں میں اتار سکتے ہو ؟
Ayah 50:38

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کو، چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی

ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام وما مسنا من لغوب، صابر علی مایقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب، ومن الیل فسبحہ و ادبار السجود 40-38 نبی ﷺ کو صبر کی تلقین اب کلام کا رخ واضح طور پر نبی ﷺ کے لئے تسکین و تسلی اور تلقین صبر کے مضمون کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس کی تمہید اس طرح اٹھائی ہے کہ ہم آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں تھک نہیں گئے ہیں کہ ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز رہ جائیں گے۔ اطمینان رکھو کہ جس دن سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ آ کے رہے گا۔ ان کی باتوں پر صبر کرو اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیاہ نماز کا اہتمام رکھو۔ فی متتہ ایام کا مطلب ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام آسمان و زمین کے چھ دنوں میں پیدا کئے جانے کا ذکر پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ایام سے یہاں مراد خدائی ایام ہیں اس وجہ سے یہ ادوار کے مفہوم میں ہیں۔ یہ بات بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی خلقت کا ذکر چھ دنوں کی قید کے ساتھ ہوتا ہے تو اس سے مقصود اس اہتمام کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے جو اس کائنات کی تخلیق میں ملحوظ ہے اور جو اس بات پر دلیل ہے کہ یہ دنیا تو کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آئی ہے نہ یہ کسی کھلنڈ رے کا کھیل تماشا ہے بلکہ یہ ایک بامقصد کارخانہ ہے اور اس کے بامقصد ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں اس کی غایت واضح ہو۔ وما مسنا من لغوب یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا ہو کہ چھ دن مسلسل کام کرنے کی وج ہ سے ہم کو تکان لاحق ہوگئی ہے اور اب دوبارہ اس دنیا کو پیدا کرنے کا حوصلہ ہم نہ کرسکیں گے۔ ہم جس طرح پہلے تازہ دم تھے اسی طرح اب بھی تازہ دم ہیں اور جس طرح پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز نہیں رہے اسی طرح دوبارہ پیدا کرنے سے بھی عاجز نہیں رہیں گے۔ اس فقرے کا انداز کچھ طنزیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی از سر نو خلقت کو بعید از امکان سمجھ رہے ہیں وہ اطمینان رکھیں کہ ہمارا دم خم اسی طرح قائم ہے جس طرح پہلے تھا۔ اسمیں سر مو فرق نہیں آیا ہے۔ اس میں ضمناً یہود کے اس خیال پر بھی تعریض ہے جو تورات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہو، اس کی حمد کے ساتھ، سورج کے طلوع او اس کے غروب سے پہلے

فاصبر علی مایقولون یہ نبی ﷺ کو تلقین صبر ہے کہ یہ جو کچھ تمہاری تکذیب میں کر رہے ہیں اس پر صبر کرو۔ مایقولون سے اشارہ مکذبین کی اسی طرح کی باتوں کی طرف ہے جس کی ایک مثال آیات 3-2 میں گزر چکی ہے۔ فقال الکفرون ھذا شیء عجیبۃ واذا متنا وکنا تراباً ذلک وجع بعید (3-2) (تو کافروں نے کہا یہ تو نہایت عجیب تا ہے ! کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گییہ لوٹایا جانا تو نہایت مستبعد ہے ! !) مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا جو اللہ نے اس اہتمام سے پیدا کی ہے وہ لازماً اپنی غایت کو پہنچ کر رہے گا۔ ہم اس کو پیدا کر کے تھک نہیں گئے ہیں کہ اس کو دوبارہ نہ پیدا کرسکیں لیکن جو لوگ دل کے اندھے ہیں وہ اس حقیقت کو اسی وقت تسلیم کریں گے جب سب کچھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اس طرح کے لوگوں کی مخالفت پر تمہیں بہرحال صبر کرنا ہے تو صبر کرو تاآنکہ ان کے سامنے حقیقت اس طرح ظاہر ہوجائے کہ انکار کی گوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ حصول صبر کی تدبیر وسبح بحمدربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب یہ صبر حاصل کرنے کی تدبیر بتائی ہے کہ اس کے لئے زیادہ سے زیادہ نماز کا اہتمام رکھو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرے تعلق کے بغیر وہ صبر پیدا نہیں ہوسکتا جو مخالفوں کی مخالفت کے علی الرغم آدمی کے قدم جادہ حق پر استوار رکھ سکے۔ اسی حقیقت کی طرف دوسری جگہ لوں اشارہ فرمایا ہے کہ وما صبرک الاب اللہ، (النحل :127) (اور تم صبر نہیں کرسکتے مگر اللہ کی استعانت سے) اللہ تعالیٰ سے استعانت کا واحدذریعہ نماز ہے اس وجہ سے نبی ﷺ کو مخالفوں کے مقابل میں جہاں جہاں صبر کی ہدایت فرمائی گئی ہے وہاں نماز کے اہتمام کی تاکید ضرور فرمائی گئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی جگہ جگہ گزر چکی ہیں اور آگے کی سورتوں میں بھی نہایت واضح اور موثر مثالیں آئیں گی۔ سبح بحمد ربک یہ نماز کی تعبیر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے پہلو سے ہے۔ یہ ذکر دو عنصروں سے مرکب ہے۔ ایک تسبیح، دوسرا حمد، تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے پاک وم نزہ قرار دنیا جو اس کی شان کے منفای ہیں۔ حمد میں اثبات کا پہلو نمایاں ہے یعنی اس کو ان صفات سے متصف قرار دینا جو اس کے شایان شان ہیں۔ یہ نفی اور یہ اثبات دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے صحیح توصر کو دل میں راسخ کرتے ہیں اور اسی رسوخ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق قائم ہوتا ہے جو تمام صبر و توکل کی بنیاد ہے۔ اگر انکے اندر کسی ہپول سے کوئی ضعف یا عدم تواز نپیدا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے متعلق آدمی کا تصور غلط ہوجاتا ہے اور یہ غلطی اس کے سارے نظام فکر و عمل کو بالکل درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔ اوقات نماز اور ان کی حکمت قبل طلوع الشمس و قبل الغروب، ومن الیل فسبحہ وادبار السجود یہ ان خاص خاص اوقات کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح خاص اہتمام سے مطلوب ہے۔ یوں تو اللہ کی یاد ہر وقت زندگی بخش ہے، اس کی یاد ہی سے دل زندہ اور اضحا و مطمئن رہتا ہے لیکن اس دنیا کے دوسرے کاموں میں جس طرح اوقات اور فصلوں و موسموں کا اعتبار ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی عبادات میں بھی اوقات و ساعات کا لحاظ ہے۔ نمازوں کے لئے جو اوقات خاص کئے گئے ہیں ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شب و روز کے چوبیس گھنٹوں کے اندر جو اقوات اس کائنات میں کسی بڑے تغیر کی علامت ہیں، جو عالم کے مصرف حقیقی کی عظمت وقدرت کی یاد دہانی کرنے والے ہیں اور جن میں اس کائنات کی دوسری نمایاں چیزیں بھی اپنے خالق کے آگے سرفگندہ ہوتی ہیں، وہی اوقات ہماری نمازوں کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اور خاص اخلاص وقت فجر کا ہے۔ جب رات اپنی بساط لپیٹتی ہے۔ ستارے اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور نئے دن کی سحر طلوع ہوتی ہے اور پھر اس کے ٹھیک مقابل میں عصر کا وقت ہے جب دن کی سرگرمیاں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوتی ہیں اور سورج اپنے رب کیی آگے سربسجود ہوجانے کے لئے اپنا سر جھکا دیتا ہے۔ چناچہ آیت میں پہلے انہی دونوں وقتوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ قبل طلوع الشمس سے فجر کا وقت مراد ہے اور قبل الغروب سے عصر کی طرف اشارہ ہے۔ ان دونوں نمازوں کی ہمارے دین میں جو اہمیت ہے وہ قرآن اور حدیث دونوں میں واضح فرمائی گی ہے۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات میں بھی اس کی تسبیح کرو اور ستاروں کے ڈھلنے کے بعد

شب کی نمازیں ومن الیل فسبحہ دن کی دو اہم نمازوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح شب میں حصہ میں تہجد۔ تہجد اگرچہ فرائض میں داخل نہیں ہے لیکن تربیت صبر کے پہلو سے سب سے زیادہ اہمیت اسی نماز کو حاصل ہے۔ اس کی وضاحت مختلف مقامات میں ہوچکی ہے اور سورة مزمل کی تفسیر میں، ان شاء اللہ، اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ ادباء السجود، کا صحیح مطلب ودبار السجود ادبار جمع ہے دبر کی جس کے معنی پیچھے کے ہیں۔ عام طور پر لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ سجدوں کے بعد بھی اس کی تسبیح کرو۔ لیکن میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہاں سجود و مصدری معنی میں ہے اور اس سے مراد آفتاب کا سجود ہے جس کے طلوع و غروب کے قبل کی نمازوں کا ذکر اوپر والے ٹکڑے میں ہو چک ہے۔ یعنی جس طرح سورج کے طلوع و غروب سے پہلے نماز کے اوقات ہیں اسی طرح سورج کے سجود کے بعد بھی تسبیح کے اوقات ہیں، چونکہ سورج کا ذکر پہلے ہوچکا تھا اس وجہ سے دوبارہ اس کی تصریح کی ضرورت نہیں ہوئی۔ لفظ ادبار کا قرینہ اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کافی تھا کہ یہاں اسی کے سجود کے بعد کی نماز کا ذکر ہے جس کے طلوع و غروب سے پہلے کی نمازوں کا ذکر پہلے ہوا ہے۔ اگر دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں و من الیل فسبحہ کے الفاظ نہ آگئے ہوتے تو بات کے سمجھنے میں کوئی زحمت پیش نہ آتی۔ اس صورت میں تالیف کلام یوں ہوتی کہ سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے اور اس کے سجود کے بعد کے اوقات میں تسبیح کرو۔ اس تالیف میں ہر شخص کا ذہن آسانی سے اس طرف منتقل ہوجاتا کہ سجود سے مراد سجود شمس ہے لیکن تالیف کلام یوں ہوتی تو اس سے حکمت دین کا ایک اہم نکتہ واضح نہ ہو سکتا جو اس آیت میں واضح فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ اس میں نمازوں کی ترتیب دین میں ان کی اہمیت و عظمت کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے۔ یہ ترتیب مقتضی ہوئی کہ سب سے پہلے فجر کا ذکر آئے، اس کے بعد عصر کا، چناچہ قبل طلوع الشمس و قبل الغروب کے الفاظ سے ان دونوں کا ذکر ہوا اور ہم ذکر کر آئے ہیں کہ قرآن و حدیث دونوں میں ان نمازوں کی اہمیت پر خاص زور دیا یا ہے۔ اس کے بعد ومن الیل فسبحہ سے عشاء اور تہجد کی نمازوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو شب کی نمازوں میں وہی اہمیت رکھتی ہیں جو دن کی نمازوں میں فجر اور عصر کی نمازوں کو حاصل ہے۔ اس کے بعد ادبارا السجود کے ا لفاظ سے ظہر اور مغرب کی نمازوں کی طرف اشارہ ہے جو دلوک الشمس اور سجود شمس کے اوقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 78 اقم الصلوۃ لدلوک الشمس کے تحت ہم سورج کے دلوک کے مختلف مراحل کی وضاحت کرچکے ہیں یہاں لفظ سجود ہے اور اس کے بھی مختلف درجے ہیں۔ سورج اور دوسرے کو اکب کے لئے جب یہ لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے ان کے زوال اور غروب کے تمام مراحل مراد ہوتے ہیں۔ یہاں بھی یہ سارے ہی مراحل ہو سکتے ہیں۔ یعنی جب وہ سمت راس سے جھکتا ہے، جب وہ مرای العین سے نیچے آتا ہے، پھر جب وہ افق سے غائب ہوتا ہے۔ ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں انہی تین اوقات میں ہیں۔ یہاں عصر کی نماز کا ذکر، اس حکمت کے تحت، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، خاص اہمتمام کے ساتھ اوپر قبل الغروب کے الفاظ سے ہوچکا ہے اس وجہ سے دو نمازیں باقی رہ گئیں۔ ایک ظہر جو سورج کے سجود کے پہلے مرحلے کے بعد ہے اور دوسری مغرب جو اس کے سجود کے آخری مرحلے کے بعد ہے۔ گویا اس آیت میں ان تمام اوقات کی طرف اشارہ ہے جن میں ہماری پانچویں نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔ نبی ﷺ نے اپنی تعلیم سے انہی اقوات کی ضابطہ بندی فرما دی۔ یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہم ہر جگہ اس کیوضاحت کرتے آ رہے ہیں، یہاں نظائر نقل کرنے میں طوالت ہوگی۔ قارئین کے اطمینان کے لئے صرف ایک آیت سورة طلہ کی ہم نقل کرتے ہیں جس میں یہ سارا مضمون نہایت واضح الفاظ میں آگیا ہے۔ فرمایا ہے۔ فاصبر علی مایقولون وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا ومن انآی الیل فسبح و اطراف النھار (30) پس جو کچھ یہ کہت یہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی تسبیح کرتے رہو اس کی حمد کے ساتھ، سورج کے طلوع سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے اطراف میں۔ اطراف النھار کے الفاظ کے مضمرات کی واضحت سورة طلہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ 2 اطراف النھار کے الفاظ کے مضمرات کیو احضت سورة طہ کی تفسیر میں ہوچکی ہے تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔ 2
Ayah 50:41

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور کان لگائے رکھو جس دن منادی بہت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔

واستمع یوم ینا دالمناد من مکان قریب 41 قیامت کے منادی کی صدا کے لئے ہر لمحہ کان لگائے رکھو استمعاع کے معنی توجہ سے کان لگائے رکھنے کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اس دن کو جھٹلاتے 1 ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد سوم، صفحات 774-773 -2 ملاحظہ ہو تدبر قرآن، جلد چہارم صفحات 245-244 ہیں تو جھٹلانے دو تم ان کی باتوں کی پروا نہ کرو۔ بلکہ اس منادی کی آواز سننے کے لئے برابر کان لگائیر کھو جو نہایت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔ اس منادی سے مراد وہی نفخ صور کا منادی ہے جس کا ذکر اوپر ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید کے الفاظ سے ہوچکا ہے۔ من مکان قریب سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آج تو ان غافلوں کو یہ باتیں بہت دور کی اور نہایت ہی بعید از قیاس معلوم ہوتی ہیں لیکن اس دن ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ گویا اس کے کانوں ہی میں پکارا جا رہا ہے۔ یہ اسلوب کلام بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح سورة دخان میں فار تقب یوم تاتی السمآء 10 ہے۔ اس سے مقصود ایک تو واقعہ کی قطعیت اور اس کی ہولناکی کا اظہار ہے۔ دور سے اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے کہ اس کے ظہور کا وقت آیا ہی سمجھو، معلوم نہیں کب منادی پکار دے۔ آیت میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور یہ خطاب نہایت بلیغ ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر یہ بلید لوگ اس عظیم ساعت سے نچنت ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو تم ہر لمحہ اس کے ظہور کے انتظار ہی میں رہو۔ قیامت کے معاملے میں ایک عاقل کو جس طرح چوکنا رہنا چاہئے یہ آیت اس کی صحیح تصویر ہے۔ اوپر آیت 19 میں یہ مضمون بیان ہوچکا ہے کہ اس کو ہر شخص اپنے سر پر کھڑی ہی سمجھے۔ یہ ہر آدمی کی موت کے ساتھ ہی لگی ہوتی ہے اور موت نہ معلوم کس گھڑی آدھمکے نادان ہیں وہ لوگ جو اس کے بہت بعد سمجھتے ہیں۔
Ayah 50:42

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس دن یہ سنیں گے چیخ کو شدنی کے ساتھ وہ دن نکل کھڑے ہونے کا ہوگا۔

یوم بسمعون الصیحۃ بالحق ذلک یوم الخروج 42 یہ یوم اوپر والے یوم سے بدل ہے اور صیعۃ سے مراد نفخ صور کا صحیحہ ہے۔ حق سے مراد، جیسا کہ آیت 19 میں وضاحت ہوچکی ہے۔ قیامت ہے۔ اس لفظ سے اس کی تعبیر اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک اٹل حقیقت اور شدنی ہے۔ فرمایا کہ اس دن کی صدائے صور کے لئے بربار کان لگائے رکھو جس دن یہ تکذیب کرنے والے اس کی چیخ، اس شدنی کے ظہور کی منادی کی حیثیت سے سنیں گے۔ وہ دن ان کے قبروں سے نکلنے کا ہوگا۔
Ayah 50:43

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

بیشک ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہوگا۔

انا نحن نحی ونمیت و الینا المصیر 43 یہ اس خروج کی دلیل بیان فرما دی کہ ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا، تو ہمارے لئے ان کو دوبارہ زندہ کردینا کیوں مشکل ہوجائے گا ؟ یہ دلیل اوپر وضاحت سے بیان ہوچکی یہ۔ والینا المصیر یہ اسی اوپر والی آیت کا ایک اور واضح نتیجہ سامنے رکھ دیا کہ جب ہم ہی زندگی بخشنے والے اور ہم ہی موت دینے والے ہوئے تو اس سے نہ صرف یہ بات لازم آئی کہ ہم دوبارہ زندہ کردینے پر بھی قادر ہیں بلکہ یہ بات بھی لازم آئی کہ سب کی واپسی بھی ہماری ہی طرف ہوگی۔ اگر کوئی اس مغالطہ میں مبتلا ہے کہ قیامت ہوئی تو رسا کے مزعومہ شرکاء و شفعاء اس کے کام آنے والے بنیں گے تو یہم غالطہ وہ اپنے ذہن سے نکال دے جن کو زندگی کے معاملے میں کوئی دخل نہیں، جو موت کے معاملے میں کوئی اختیار نہیں رکھتے وہ آخرت میں ملجا و ماویٰ کس طرح بن جائیں گے !
Ayah 50:44

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

اس دن زمین ان کے اوپر سے کھل جائے گی اور وہ تیزی سے نکلتے ہوں گے۔ یہ اکٹھا کرلینا ہمارے لئے نہایت آسان ہے۔

یوم تشقق الارض عنھم سرعاً ط ذلک حشر علینا یسیر 44 قیامت کے دن قبروں سے نکلنے کی تصویر یہ اس دن لوگوں کے قبروں سے نکلنے کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ نفخ صور کے بعد زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی اور وہ اس سے نہایت تیزی سے نکلتے ہوئے ہوں گے۔ سراعاً ، ضمیر مجور سے حال پڑا ہوا ہے۔ اس تیزی سے نکلنے کی تصویر قرآن کے دوسرے مقامات میں اس طرح کھینچی گئی ہے کہ جس طرح پتنگے اور ٹڈیاں نکلتی ہیں اسی طرح لوگ قبروں سے نکلیں گے۔ ذلک حشر علینا یسیر، یعنی کوئی اس مغالطے میں نہ رہے کہ لوگوں کو زمین سے برآمد کرنے کے لئے کوئی بڑا اہتمام کرنا پڑے گا جو ہم نہیں کر پائیں گے یا اس میں بڑا وقت صرف ہوگا۔ یہ سارا کام چشم زدن میں چٹکی بجاتے ہوگا۔ یہ ہمارے لئے نہایت آسان ہے۔
Ayah 50:45

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اور تم ان پر کوئی داروغہ مقرر نہیں ہو۔ پس اس قرآن کے ذریعے سے ان لوگوں کو یاد دہانی کر دو جو میرے وعید سے ڈرتے ہوں

نحن اعلم بما یقولون ومآ انت علیھم بجار فذکریا لقرانن یخاف وعید 45 اوپر آیت 39 میں فرمایا تھا واصبر علی مایقولون پس جو کچھ یہ کہتے ہیں اس کو ہم خوب جانت یہیں مطلب یہ ہے کہ جب ہم خوب جانت یہیں تو تم کیوں غم کرو۔ معاملہ ہمارے اوپر چھوڑ۔ ہم اس کا مداوا کریں گے۔ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو۔ وما انت علیھم بجبار اور یہ بات بھی اید رکھو کہ تم ان کو مومن بنا دینے کے کام پر مامور کر کے نہیں بھیجے گئے ہو کہ یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش تم سے ہو۔ تمہارا کام صرف لوگوں کو یاد دہانی کرنا ہے، وہ تم کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کا انجام یہ خود بھگتیں گے۔ جس مضمون کے سورة کا آغاز ہوا اسی پر خاتمہ فذکر بالقران من یخاف وعید۔ یہ اسی بات پر سورة ختم فرمائی ہے جس سے اس کا آغاز فرمایا تھا۔ قرآن ہی کے ذکر سے یہ شروع ہوئی تھی اسی کی یاد دہانی آخر میں فرما دی کہ تمہاری ذمہ داری صرف تذکیر ہے اور تذکیر کے لئے یہ قرآن کافی ہے تو اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو یاد دہانی کرد و جو میری وعید سے ڈرنا چاہتے ہیں۔ جو نہیں ڈرنا چاہتے اور تمہاری تصدیق کے لئے تم سے کسی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں انکو ان کی تقدیر کے حوالے کر دو۔ وہ اس کا انجام دیکھ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سورة کی تفسیر ان سطور پر متام ہوئی۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین رحمان آباد 18 جنوری 1977 ء، 27 محرم الحرام 1397 ھ