49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

ا ۔ سورة کا عمود اور سابق سورة سے تعلق یہ سورة سابق سورة … الفتح … کا ضمیمہ و تتمہ ہے۔ سورة فتح کی آخری آیت میں، تورات کے حوالہ سے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) کی یہ صفت جو وارد ہوئی ہے کہ محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم (محمد اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ہیں کفار کے لئے سخت اور باہمدگر نہایت مہربان ہوں گے) یہ پوری سورة اسی ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس کی وضاحت سورة فتح کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ اس کی یہ اہمیت مقتضی ہوئی کہ اس کے وہ مضمرات یہاں وضاحت سے بیان کردیئے جائیں جن کا بیان کیا جانا اس وقت مسلمانوں کے معاشرے کی اصلاح کے لئے نہایت ضروری تھا۔ یہ بات اپنے محل میں بیان ہوچکی ہے کہ قرآن میں احکام و ہدایات کا نزول حالات کے تقاضوں کے تحت ہوا ہے تاکہ لوگوں پر ان کی صحیح قدر و قیمت واضح ہو سکے۔ چناچہ یہ سورة بھی ایسے حالات میں نازل ہوئی ہے جب نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ نہ تو رسول کے اصلی مرتبہ و مقام ہی سے اچھی طرح واقف ہیں اور نہ اسلامی معاشرہ کے اندر اپنی ذمہ داریوں ہی سے چناچہ اس ضمیمہ میں ضروری ہدایات دے دی گئیں جو اس وقت کے حالات کے اندر ضروری تھیں۔ ان احکامات و ہدایات کا تعلق تمام تر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے باہمی حقوق ہی سے ہے۔ کفار کا معاملہ اس میں زیر بحث نہیں آیا۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کو جو رویہ اختیار کرنا چاہئے اس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہوچکی ہے۔ سورة کے تیسرے گروپ میں جس نوعیت کا تعلق سورة نور کا سورة مومنوں کے ساتھ ہے اسی نوعیت کا تعلق اس سورة کا سورة فتح کے ساتھ ہے۔ دونوں کا مزاج باہمدگر بالکل ملتا جلتا ہوا ہے۔ ب ۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (5-1) مسلمانوں کو یہ تنبیہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہیں۔ کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے کو رسول کی رائے یا آپ کے حکم پر مقدم کرنے کی کوشش کرے گیا گفتگو میں اپنی آواز کو آپ کی آواز پر بلند کرے یا آپ کو اس طرح پکارے جس طرح اپنے کسی مساوی درجہ کے آدمی کو پکارتا ہے۔ تقویٰ کی افزائش اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے دلوں کے اندر کرتا ہے جو اس کے رسول کے ادب و احترام کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے رسول اور اسلام کا محسن سمجھتے ہیں اور رسول کے سامنے خطاب و کلام میں اپنے تفوق کا اظہار کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہئے کہ اس طرح کی حرکت سے غیر شعوری طور پر وہ اپنے اعمال ہی نہ گنوا بیٹھیں۔ (10-6) مسلمانوں کا معاملہ مسلمانوں کے ساتھ اخوت کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ پارٹی اور گروہ کی عصیبت کی بنیاد پر یہ جائز نہیں ہے کہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے مسلمان مسلمانوں کسی کسی جماعت کے خلاف اقدام کر ڈالیں، جس پر بالاخر انہیں پچھتانا پڑے۔ تمام اہم معاملات میں رسول کی صوابدید اور اس کی ہدایت پر عمل کرنا چاہئے۔ کسی پارٹی کو رسول کی حمایت اپنے حق میں حاصل کرنے کے لئے اس پر غلط قسم کا دبائو ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ یہ چیز اس فضل و انعام کی ناقدری ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی شکل میں اہل ایمان کو نوازا ہے۔ ایمان کا مزا چکھ لینے کے بعد کوئی ایسی بات کرنا جو اس کے منافی ہے کفر و عصیان کی طرف رجعت ہے جس سے لوگوں کو بچانے ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایمان کو دلوں میں رچانے اور کفر کو مبغوض بنانے کے لئے سارے جتن کئے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ گروہی رجحانتا کی بنا پر ان میں سے کسی گروہ اس حق کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہو تو اس کو بزور اس کے آگے جھکنے پر مجبور کرا چاہئے۔ (13-11) ان باتوں سے بچنے کی ہدایت پر جو دلوں میں نفرت کی تخم ریزی اور معاشرے میں فساد کی آگ بھڑکانے والی ہیں۔ کسی کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ دوسرے کی تحقیر کرے یا اس کا مذاق اڑائے یا اس کو عیب لگائے یا اس پر پھبتیاں چست کرے یا اس کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرے یا اس کی غیبت کرے یا اس کے عیوب کی ٹوہ میں لگے۔ حسب و نسب اور خاندان و قبیلہ کا غرور جاہلیت کی یادگار رہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک ہی آدم و حوا سے پیدا کیا ہے۔ خاندانوں اور قبیلوں کی تقسیم محض تعارف کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے نہ کہ نسب اور خاندان (18-14) خاتمہ سورة جس میں اس بات کی مزید وضاحت کردی گئی ہے جو سورة کی تمہید میں اشارات کی شکل میں فرمائی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابتدائی آیات میں جن لوگوں کا رویہ زیر بحث آیا ہے یہ اطراف مدنیہ کے وہ اہل بدو تھے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہو کر اسلام میں داخل تو ہوگئے تھے لیکن ایمان کے دلوں میں اچھی طرح اترا نہیں تھا اس وجہ سے وہ اس پندار میں مبتلا تھے کہ اسلام لا کر انہوں نے اسلام اور پیغمبر پر ایک احسان کیا ہے۔ ان کے اس پندار کا اظہار بعض اوقات اس طرح کی حرکتوں سے ہوجاتا تھا جن سے ابتدائیآیات میں مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔ اب یہ آخر میں ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ ان کو بتا دو کہ وہ اپنے ایمان و اسلام کا احسان نہ جتائیں۔ اللہ ان کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح واقف ہے۔ انہوں نے اطاعت تو ضرور کرلی ہے لیکن ابھی ایمان نے ان کے اندر جڑ نہیں پکڑی ہے۔ یہ ان کا احسان نہیں ہے کہ وہ پیغمبر پر ایمان لائے بلکہ یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی توفیق بخشی۔ اگر وہ اس کا حق ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا بھرپور صلہ پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ اور رسول کے سامنے اپنی رائے مقدم نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت یا یھا الذین امنوا لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم 1 وہ حالات جن میں یہ سورة نازل ہوئی خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن جن لوگوں کا رویہ اس سورة میں زیر حبث آیا ہے وہ جیسا کہ آگے کی آیات سے بالتدریج واضح ہوتا جائے گا، اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے وہ لوگ ہیں جو اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں شامل تو ہوگئے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح رچا بسا نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے اول تو یہ تھی کہ یہ لوگ اسلام کو سمجھ کر نہیں بلکہ اس سے مرعوب ہو کر اس میں داخل ہوئے۔ ثانیاً مرکز سے بےتعلق رہنے کے سبب سے ان کی تربیت بھی اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ ان کے اندر ایک غلط قسم کا پندرا بھی تھا کہ انہوں نے کسی جنگ کے بغیر نبی ﷺ کی اطاعت کرلی جو آپ پر ان کا ایک احسان ہے۔ اس پندار کا اثر یہ تھا کہ ان کے سردار جب مدینہ آتے تو آنحضرت ﷺ سے اس انداز سے بات کرتے گویا وہ اسلام کے بڑے مربی و محسن ہیں۔ بغیر اس کے کہ نبی ﷺ کسی معاملے میں ان کی رائے دریافتک ریں آگے بڑھ بڑھ کر اپنی رائیں پیش کرتے اور مشورے دینے کی کوشش کرتے بات کرتے ہوئے حضور کی آواز پر اپنی آواز، تفوق کے اظہار کے لئے بلند رکھتے جب کبھی آتے تو ان کی خواہش یہ ہوتی کہ حضور بلاتاخیر سارے کام چھوڑ کر ان سے ملاقات کریں اور اگر ذرا تاخیر ہوجاتی تو بےدرنگ آپ کو ججروں کے باہر سے، اس طرح آواز دینا شروع کردیتے جس طرح ایک عام آدمی کو آواز دی جاتی ہے۔ آپس میں ان کے درمیان جو جاہلی رقابتیں زمانہ جاہلیت سے چلی آرہی تھیں، ان میں ہر ایک آنحضرت ﷺ کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتا اور اس غرض کے لئے وہ اپنے حریفوں سے متعلق بعض اوقات ایسی خبریں بھی آنحضرت ﷺ کو پہنچاتے جو غلط فہمی پیدا کرنے والی ہوتیں۔ ان کی بنا پر مدینہ کے مسلمان اگر کوئی اقدام کو گزرتے تو یہ چیز مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کے لئے نہایت مضر ہوتی۔ یہ حالات تھے جن میں یہ سورة نازل ہوئی۔ اس میں رویہ تو زیر بحث، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک مخصوص گروہ ہی کا ہے لیکن قرآن نے خطاب عام ہی رکھا ہے تاکہ اس کا زیادہ فضیحتابھی نہ ہو اور وہ رخنے بند بھی ہوجائیں جن سے شیطان کو معاشرہ کے اندر فتنہ انگیزی کی راہ مل سکتی ہے۔۔ ممانعت رسول کے سامنے رائے پیش کرنے نہیں بلکہ رائے پیش کرنے میں پہل کرنے کی ہے یہ امر و اضح رہے کہ یہاں ممانعت اللہ کے رسول کے سامنے اپنی رائے پیش کرنے میں پہل کرنے یا اپنی رائے کو اللہ اور رسول کے حکم پر مقدم کرنے کی ہے نہ کہ رسول کے سامنے مجرد اپنی کوئی رائے پیش کرنے کی۔ نبی ﷺ امور مصلحت میں صحابہ سے ان کی رائیں معلوم بھی فرماتے اور صحابہ اپنی رائے پیش بھی کرتے۔ اسی طرح صحابہ بعض اوقات عام امور مصلحت میں نبی ﷺ کے سامنے یہ بھی عرض کرتے کہ اگر حضور ﷺ کا فلاں اقدام وحی الٰہی پر مبنی نہ ہو تو اس کی جگہ فلاں تدبیر زیادہ قرین مصلحت رہے گی اور حضور ﷺ بعض اوقات ان کی رائیں قبول بھی فرما لیتے۔ اس آیت میں اس طرح کی باتوں کی نہی نہیں ہے۔ حضور نے خود اپنے طرز عمل سے اس کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور سب سے زیادہ لوگوں سے مشورہ لینے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی، جیسا کہ آیت وشاورھم فی الامر آل عمران 159) سے واضح ہے، آپ کو لوگوں سے مشورہ کرتے رہنے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔ یہاں ممانعت اسی بات کی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر شا ارہ کیا کہ کوئی شخص اللہ کے رسول کو ایک عام آدمی یا مجرد ایک لیڈر سمجھ کر اور اپنے آپ کو ان سے زیادہ مدبر خیال کر کے، بغیر اس کے کہ حضور ﷺ اس سے کسی معاملہ میں اس کی رائے دریافتک ریں، حضور کو اپنی رائے سے متاثر کرنے اور اپنی رائے کو حضور کی بات پر مقدم کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اس کا رویہ دلیل ہے کہ وہ رسول کے اصلی مرتبہ و مقام سیب الکل بیخبر ہے۔ اللہ کا رسول اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا یا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کرتا یا کہتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنے کی جسارت کرتا ہے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ اپنی رائے کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر مقدم کرنا چاہتا ہے درآنحالیکہ یہ چیز اس کے تمام ایمان و عمل کو ڈھا دینے والی ہے اگر چ ہ اس کو اس کا شعور نہ ہ۔ اللہ اور رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے بین ید اللہ ورسولہ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ و رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے۔ اللہ کا رسول اللہ کا سفیر و نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کو بن پوچھے مشورہ دینا خود اللہ تعالیٰ کو مشورہ دینا ہے، اس کی بات پر ابنی بات کو مقدم کرنا اللہ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنے کو مدبر سمجھنا خود خدائے علیم و حکیم سے بڑھ کر اپنے مدبر و حکیم سمجھنا ہے۔ یہ آدمی کے اس رویہ کے لازمی نتائج ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کی بلاوت کے سبب سے ان نتائج کا احساس نہ ہو لیکن ان کے لازمی نتائج ہونے سے انکار نامکن ہے۔ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم یہ ان لوگوں کو تنبیہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اللہ اور رسول سے زیادہ دانشمند اور مدبر ہونے کے خبط میں مبتلا نہ ہو۔ اللہ سمیع وعلیم ہے وہ تمہاری ساری باتوں کو سن بھی رہا ہے اور ان کے پیچھے جو محرکات کام کر رہے ہیں ان سے بھی اچھی طرقف واقف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو اس کا مکافات عمل کا قانون لازماً ظہور میں آئے گا۔ اس قانون کا ذکر آگے والی آیت میں آ رہا ہے۔ موجودہ زمانے کے مدعیان اصلاح کی کج فہمی اس آیت میں ہمارے زمانے کے ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اسلام کی خدمت کے دعوے کے ساتھ اس کے اقدار کو مسخ اور اس کے قوانین کی تحریف کر رہے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اللہ اور رسول نے جس شکل میں اسلام دیا ہے اس شکل میں وہ اس دور میں نہیں چل سکتا۔ ضروری ہے کہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق اس کی اصلاح کی جائے۔ چناچہ وہ شریعت کے احکام میں اپنی رائے کے مطابق ترمیم کر رہے ہیں۔ بس یہ فرق ہے کہ آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پہلے ہی سے سبقت کر کے چاہتے تھے کہ اللہ و رسول کے آگے اپنے مشورے پیش کردیں، اس زمانے کے مدعیان اسلام کو یہ موقع نہ مل سکا اس وجہ سے وہ اب ان غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک اللہ و رسول سے العیاذ باللہ، دین کے معاملے میں ہوگئی ہیں۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو ! تم اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ مبادا تمہارے اعمال ڈھے جائیں اور تم کو احساس بھی نہ ہو۔

یایھا الذین امنوا لافوعوآ اصواتکم فوق صوت النیتی ولاتجھروا لہ بالقول کھجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون 2 جن کے اندر پندار ہوا اس کا اثر ان کے انداز کلام سے نمایاں ہوتا ہے یہ اسی اوپر والی بات کے ایک دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے جن لوگوں کے اندر یہ خناس سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول کو مشورہ دینے کے پوزیشن میں ہیں یا جن کو یہ زعم ہو کہ ان کا سالم قبول کرلینا اسلام اور پیغمبرک پر ایک احسان ہے۔ ان کا طرز خطاب اور انداز کلام رسول کے آگے متواضعانہ و نیاز مندانہ نہیں ہوسکتا تھا۔ بلکہ ان کے اس پندار کا اثر ان کی گفتگو سے نمایاں ہونا ایک امر فطری تھا۔ چناچہ یہ لوگ جب نبی ﷺ سے گفتگو کرتے تو ان کے انداز کلام سے یہ واضح ہوتا کہ یہ اللہ کے رسول سے کچھ سیکھنے نہیں بلکہ ان کو کچھ سکھانے اور بتانے آئے ہیں۔ چناچہ جس طرح یہ اپنی رائیں پیش کرنے میں سبقت کرتے اسی طرح ان کی کوشش یہ بھی ہوتی کہ ان کی آواز نبی ﷺ کی آواز پر بلند وبالا رہے اور اگر آپ کو مخاطب کرتے تو ادب سے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے ای محمد کہہ کر خطاب کرتے جس طرح اپنے برابر کے ایک عام آدمی کو خطاب کیا جاتا ہے۔ یہاں ان کو اس غیر مہذب طریقہ کلام و خطاب سے روکا گیا ہے کیونکہ یہ چیز غمازی کر رہی تھی کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ رسول کا اصل مرتبہ و مقام نہیں پہچانا ہے بلکہ ان کے اندر اپنی برتری کا وہ زغم بھی چھپا ہوا ہے جو بالآخر قرآن کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دینے والا ہے۔ ان تحبط اعمالکم میں ان سے پہلے، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کر اھت یا مخافۃ یا انکے ہم معنی کوئی نفط محذوف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس بےادبی سے تمہیں اس لیء روکا جا رہا ہے کہ مبادا تمہاری یہ حرکت اس بات کا سبب بن جائے کہ عند اللہ تمہارے سارے اعمال ڈھے جائیں۔ وانتم لاتشعرون یعنی تم تو اس پندار میں مبتلا رہو گے کہ تم نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے اور نبی کو اپنی رایوں سے مستفید کرنے کے لئے تمہاری بےچینی بھی خدمت دین ہی کے عشق میں ہے لیکن ادھر تمہارے وہ سارے اعمال ڈھے جائیں گے جو اپنے زعم میں تم نے دین کی خاطر انجام دیئے اور تمہیں اس بات کا شعور بھی نہ ہوگا۔ ایک نہایت اہم حقیقت اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایک شخص بہت سے کام اپنی دانست میں دین کے کام سمجھ کر دین ہی کی خدمت کے لئے کرتا ہے لیکن اس کے اندر اگر یہ پندار سمایا ہوا ہو کہ وہ اللہ و رسول پر یا اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے اور اس زعم میں نہ وہ اللہ تعالیٰ کی صحیح عظمت کو ملحوظ رکھے نہ اس کے رسول کے اصلی مرتبہ و مقام کا احترام کرے تو اس کے سارے اعمال اکارت ہو کے رہ جائیں گے اور اس کو اپنی اس لئے شعوری کا پتہ آخرت میں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لئے کسی کا محتاج نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ و رسول کا محسن سمجھ بیٹھے۔ اس کے ہاں قبولیت کا شرف صرف انہی لوگوں کے اعمال کو حاصل ہوگا جو اس کے دین کی خدمت صرف اس کی رضا کے لئے ٹھیک ٹھیک اس کے مقرر کردہ شرائط کے مطابق، انجام دیں گے اور ساتھ ہی دل سے اس حقیقت کے معترف رہیں گے کہ یہ خدمت انجام دے کر انہوں نے اللہ و رسول پر کوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ یہ اللہ کا فضل و احسان خود ان کے اوپر ہوا ہے کہ اس نے انکو اپنے دین کی کسی خدمت کی توفیق بخشی۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

یاد رکھو کہ جو لوگ نبی کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کی افزائش کے لئے متنخب کیا ہے ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔

ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ اولٓئک الذین امتحن اللہ قلوبھم اللتقویٰ ط لھم مغفرۃ واجر عظیم 3 رسول کے معاملے میں صحی ادب کی تعلیم یہ اس صحیح ادب کی تعلیم ہے جو رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں ہر صاحب ایمان کو اتخیار کرنا لازم ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی افزائش کے لئے متنخب فرمایا ہے۔ لفظ امتحن یہاں اصطفی یا اس کے ہم معنی کسی لفظ پر متضمن ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر دلتقویٰ کی تخم ریزی اور اس کی افزائش کے لئے موزوں نہیں ہوتا بلکہ اس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ امتحان کر کے دلوں کا انتخبا کرتا ہے اور اس انتخاب میں اصل چیز جو ترجیح دینے والی بنتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ و روسل کے لئے انقیاد و اطاعت کا سچا جذبہ اور ان کے آگے فروتنی کا صحیح شعور ہے یا نہیں۔ یہ چیز جس کے اندر جتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اس کو اتنی ہی زیادہ تقویٰ کی نعمت عطا ہوتی ہے اور جو لوگ جس درجے میں اس شعور سے عاری ہوتے ہیں وہ اتنے ہی تقویٰ سے بعید ہوتے ہیں۔ آواز بلند کرنے کا ذکر، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، انسان کے باطن کے ایک مخبر کی حیثیت سے ہوا ہے۔ جو شخص کسی کی آواز پر اپنی آواز بلند رکھنے کی کوشش کرتا ہے اس کا یہ عمل شہادت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے اونچا خیال کرتا ہے۔ یہ چیز اکتساب فیض کی راہ بالکل بند کردیتی ہے۔ اگر استاد کے آگے کسی شاگرد کا یہ طرز عمل ہو تو وہ اس کے فیض سے محروم رہتا ہے۔ اسی طرح الگر اللہ کے رسول کے آگے کسی نے یہ روش اختیار کی تو وہ صرف رسول ہی کے فیض سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بھی محروم ہوجائے گا اس لئے کہ رسول، اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ کتاب و سنت کے فیوض سے بہرہ مند ہونے کے لئے صحیح رویہ یہی درجہ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو تقویٰ کے لئے منتخب فرماتا ہے جو اس کی کتاب اور رسول کی سنت کے سامنے فروتنی کی یہ روش اختیار کرتے ہیں جس کی ہدایت رسول کے معاملے میں ہوئی ہے۔ جس شخص کے اندر اللہ و رسول کی ہر بات کے آگے سر جھکا دینے کا سچا جذبہ ہے اللہ تعالیٰ اسکے لئے تقویٰ کی راہیں کھولتا ہے اور ہر قدم پر غیب سے اس کی رہنمائی ہوتی ہے اور اگر کوئی شخص اس خبط میں مبتلا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی اصلاح کرنے کی پوزیشن میں ہے تو اس کا یہ پندار اس کے سارے عمل کو غارت اور اس کی آخرت کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ لھم مغفرۃ و اجر عظیم اوپر والی آیت میں نبی ﷺ کی آواز پر آواز بلند کرنے کا انجام یہ بتایا ہے کہ یہ روش اعمال کو برباد کر دنیے والی روش ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنی آواز رسول کے آگے پست رکھیں گے۔ فرمایا کہ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ یعنی ان کی لغزشیں اور کو تاہیاں اللہ تعالیٰ بخش دے گا اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے آگے فروتنی کی روش اختیار کی۔ کسی گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو اس سے بڑا سمجھنے کی جسارت نہیں کی۔ ان کی اس فروتنی کا انعام ان کو یہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کی افزائش کے لئے متنخب فرمایا جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا ہے۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ رکھنے والے نہیں ہیں۔

ان الذین ینادونک من ورآء الحجرات اکثرھم لایعقلون 4 کم عقلوں کے ایک ناشائستہ طریقہ پر ان کو تنبیہ یہ لوگ جس طرح مجلس میں نبی ﷺ سے بات کرنے میں غیر مہذب تھے اسی طرح یہ حرکت بھی وہ کرتے کہ جب دیکھتے کہ نبی ﷺ مجلس میں موجود نہیں ہیں تو آتے ہی ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر ہی سے آپ کو چیخ چیخ کر پکارنا شروع کردیتے۔ اس قسم کی حرکت بجائے خود بھی نہایت ناشائستہ ہے لیکن اس کا باطنی محرک اس کے ظاہر سے بھی زیادہ مکروہ تھا۔ یہ لوگ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا اور آگے اس کی پوری وضاحت آئے گی، اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے بغیر لڑے بھڑے جو اسلام قبول کرلیا تو یہ اسلام اور پیغمبر ﷺ پر ان کا بہت بڑا احسان ہے اس وجہ سییہ اپنا حق سمجھتے تھے کہ جب یہ آئیں تو پیغمبر ﷺ بلاتا خیر ان کا خیر مقدم کریں۔ اگر کسی وقت نبی ﷺ مجلس میں تشریف فرما نہ ہوتے تو انتظار کی زحمت گواران نہ کرتے بلکہ فوراً ازواج مطہرات کے حجروں کا چکر لگانا اور چیخ چیخ کر نہایت بھونڈے طریقہ سے، آپ کا نام لے لے کر پکارنا شروع رک دیتے۔ فرمایا ہے ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔ اکثرھم لایعقلون کے الفاظ میں ان لوگوں کی ناسمجھی پر ملامت بھی ہے اور لطیف انداز میں ان کی اس نادانی سے درگزر کرنے کا اشارہ بھی کہ ہرچند ہے تو ان کی یہ حرتک نہایت ناشائستہ لیکن ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نہ ضیغمبر ﷺ کے مرتبہ و مقام سے آشنا ہیں اور نہ اپنی اس حرکت کے انجام سے، اس وجہ سے یہ تربیت کے محتاج اور درگزر کے لائق ہیں۔ من ورآء الحجرات میں لفظ درآء جو آیا ہے اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ حجروں کے پیچھے سے پکارتے تھے اس وجہ سے ان کی یہ حرکت قابل اعتراض صھہری، لفظ ورآء پیچھے یا پچھواڑے کے مفہوم کے لئے خاص نہیں ہے۔ عربی میں نادانی من ورآء الدار کا مفہوم صرف یہ ہوگا کہ اس نے گھر کے باہر سے مجھے پکارا، قطع نظر اس سے کہ مکان کے پیچھے سے پکارا یا مکان کے سامنے سے قابل اعتراض ان کا اس بھونڈے طریقہ سے پکارنا تھا۔ یہ امر واضح رہے کہ ایک عام مسلمان کو بھی اس طرح پکارنا اسلامی تہذیب کے خلاف ہے چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو سورة نور کی تفسیر میں یہ وہ طریقہ آپ پڑھ آئے ہیں جو کسی صاحب خانہ سے ملاقات کے لئے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اگر یہ لوگ صبر کے ساتھ اتنا انتظار کرلیتے کہ تم خود ان کے پاس نکل کے آجاتے تو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہوتی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

ولوا نھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرالھم واللہ غفور رحیم (5) یہ ان کو صحیح ادب کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر وہ صبر کے ساتھ تمہارے نکلنے تک انتظار کرلیتے تو یہ چیز ان کے لئے بڑے خیر و برکت کا موجب ہوتی ! آیت کا اسلوب ان کی محرومی پر اظہار حسرت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جس چشمہ فیض پر پہنچے تھے اگر انہوں نے اس کی صحیح قدر پہچانی ہوتی تو اس سے سیراب ہو کر لوٹتے لیکن یہ ان کی محرومی ہے کہ وہاں سے کچھ پانا تو درکنار اپنی نادانی و ناقدر شناسی کے باعث یہ کچھ وھو کے پلٹے ! واللہ غفور رحیم یہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اپنی صفات غفور رحیم کی یاد دہانی فرمائی ہے اور مقصود اس سے نہایت لطیف اناز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلان ہے کہ اگرچہ ان کی یہ حرکتیں نہایت ناگوار ہیں لیکن یہ سمجھ رکھنے والے لوگ نہیں ہیں اس وجہ سے ابھی ان کی اس طرح کی باتوں سے درگزر کرو۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے اور یہی عفور و درگزر اس کے رسول کے بھی شایان شان ہے۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسقک وئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے

یا یھا الذین امنوآ ان جآء کم فاسق بنیاء فتبینوآ ان تصیبوا قومآ بجھالۃ فتصبحوا علی مافعلتم ندمین (6) خبر کے قبول کرنے کے معاملہ میں احتیاط کی تاکید یہ مرکز (یعنی مدینہ) کے مسلمانوں کو اس طرح کے لوگوں کی طرف سے ایک سیاسی خطرہ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ اطراف مدینہ کے بدوی قبائل کے بعض سرداروں کا رویہ بیان ہوا ہے۔ ان کے اندر تربیت سے محرومی کے باعث جس طرح نبی ﷺ کی عظمت کا صحیح شعور مفقود تھا اسی طرح اسلامی اخوت کے صحیح اسح اس سے بھی یہ لوگ ابھی نا آشنا باقی تھے۔ یہ لوگ مدینہ آتے تو ان میں سے بعض اپنے حریفوں کے خلاف غلط فحیح اطلاعات دے کر نبی ﷺ کو بھی بدگمان کرنے کی کوشش کرتے اور صحابہ میں سے بھی، جن پر ان کا اثر کارگر ہوتا ان کو اپنے حق میں ہموار کرتے تاکہ مدینہ کی مرکزی طاقت کو اپنے حریفوں کے خلاف اپنے حق میں استعمال کرسکیں۔ یہ صورت حال ایک نازک صورت حال تھی۔ مدینہ کی حکومت اول تو ابھی اچھی طرح مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ ثانیاً اس قسم کی بےبنیاد افواہ انگیزیوں کی بنا پر اس کا کوئی اقدام خاص طور پر مسلمانوں ہی کے کسی گروہ کے خلاف، عدل اور اجتماعی مصلحت دونوں کے خلاف ہوتا۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ مرکز کے مسلمانوں کو یہ ہدیات کردی جائے کہ وہ اس طرح کے اہم معاملات میں فیصلہ کلیتۃ نبی ﷺ کی صواب دید پر چھوڑیں، غیر ثقہ لوگوں کی روایات پر اعتماد کر کے پیغمبر ﷺ کو اپنی رائے سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ چناچہ ان کو ہدایت ہوئی کہ اگر کوئی فاسق شخص کسی اہم بات کی خبر دے تو نفس واقعہ کی اچھی طرح تحقیق کئے بغیر اس کی بات پر اعتماد کر کے کوئی اقدام کر گزرو جس پر تمہیں بعد میں پچھتانا پڑے۔ فاسق سے مراد شریعت کے حدود وقیوم سے بےپروا لوگ ہیں۔ لفظ بناء کی تحقیق اس کے محل میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس سے مراد کوئی اہم خبر ہوتی ہے جس کو باور کرلینے یا اس پر عمل کرنے سے دور رس نتائج کے پیدا ہونے کا امکان ہو۔ اس طرح کی اہم خبر اگر کوئی ایسا شخص دے جو دینی و اخلقای اعتبار سے ناقابل اعتبار ہو تو عقل اور اخلقا دونوں کا تقاضا یہی ہے کہ اس کی بات اس وقت تک باور نہ کی جائے جب تک خبر اور مخبر دونوں کی اچھی طرح تحقیق نہ کرلی جائے۔ ہوسکتا ہے کہ خبر دینے والے نے فاسد محرکات کے تحت خبر دی ہو اور خبر یا تو بالکل جھوٹی ہو یا کسی بدنیتی سے اس میں ایسی کمی بیشی کردی گئی ہو کہ سننے والوں کے جذبات میں اس سے جوش و اشتعال پیدا ہو۔ لفظ جہالت یہاں جوش و ہیجان کے معنی میں ہے اس کی تحقیق جگہ جگہ اس کتاب میں ہم کرچکے ہیں۔
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور اچھی طرح جان رکھو کہ تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہاری بات مان لیا کرے تو تم بڑی مصیبت میں پھنس جائو گے لیکن اللہ نے تمہارے سامنے ایمان کو محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں کھبایا اور کفر و فسق اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں مغبوض کیا۔

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جو اللہ کے فضل و انعام سے راہ راست پانے والے بنے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے

واعلموآ ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم ولکن اللہ جب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفروا الفسوق و العصیان اولٓئک ھم الرشدون، فضلاً من اللہ و نعمۃ ط واللہ علیم حکیم (8-7) صحیح رویہ یہ اسی تنبیہ کی مزید توکید ہے کہ جب تمہارے اندر اللہ کا رسول موجود ہے تو تمہیں اپنی رایوں اور اپنے مشوروں کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئے کہ رسول کو اپنے پیچھے چلان ی کی کوشش کرو بلکہ تمہیں ان کے پیچھے چلنا ہے۔ وہ جو قدم بھی اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں اٹھاتے ہیں اس وجہ سے تمہاری دنیا اور آخرت کی فلاح ان کی پیروی میں ہے نہ کہ اپنے جذبات کی پیروی میں، اگر تمہیں کوئی رائے پیش کرتی ہو تو ادب سے اپنی رائے پیش کر کے فیصلہ رسول کی صوابدید پر چھوڑ دو یہ خواہش نہ کرو کہ تمہاری ہر رائے لازماً مان ہی لیجائے۔ اچھی طرح یاد رکھو کہ تمہاری بہت سی رائیں خام ہوتی ہیں۔ اللہ کا رسول ان سب کو اگر مان لیا کرے تو تم بڑی مصیبت میں پھنس جائو گے وہ تہاری انہی رایوں کو مانتے ہیں جو صائب ہوتی ہیں۔ ان کی بدولت مت ہیں ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی راہنمائی حاصل ہے تو اس نعمت کی قدر کرو اور اپنے رب کے شکر گزار ہو۔ عنت کے معنی زحمت اور مشقت کے ہیں۔ لعنتم یعنی تم بڑی مشقت و مصیبت میں پھنس جائو گے۔ اگر کوئی مریض طبیب کی صوابدید پر عمل کرنے کے بجائے چاہے کہ طبیب اس کے مشوروں پر عمل پیرا ہو تو ایسے مریض کا خطرے میں پڑجانا ایک امر بدیہی ہے۔ زبان کے بعض لطائف ولکن اللہ حبیب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفر والفسوق و العصیان، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس رحمت و مشقت سے بچانے ہی کے لئے یہ اہتمام فرمایا کہ ایمان کو تمہاری نگاہوں میں محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں رچایا بسایا اور کفر، فسق اور عصیان کو تمہاری نگاہوں میں مکروہ و مبغوض ٹھہرایا تو اس اہتمام کا حق یہ ہے کہ اب تمہارے اندر ایمان کی محبت و محبوبیت قائم و دائم رہے اور کبھی تمہارے کسی قول و فعل سے اس پر کفر و عصیان کا کوئی دھبہ نہ پڑنے پائے۔ جتب اور کوہ کے بعد الی کا صلہ اس اہتمام خاص کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی نگاہوں میں ایمان کو محبوب اور کفر و فسق کو مبغوض بنانے کے لئے اپنے رسول کے ذریعہ سے فرمایا۔ دور جاہلیت کی تاریکی میں تمام اقدام بالکل تلپٹ ہوگئے تھے۔ شیطان نے ایمان کو لوگوں کی نگاہوں میں مکروہ و مبغوض اور کفر و فسق کو محبوب و مطلوب بنا دیا تھا۔ ایمان اس طرح تہ بہ تہ پردوں کے اندر معجوب و مسوتر ہوگیا تھا کہ ان کو چاک کر کے ایمان کے حقیقی حسن و جمال کو خلق کے لئے بےنقاب کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف بن گیا تھا۔ اسی طرح کفر کو شیطان نے مصنوعی غازوں سے اس طرح پرفریب بنا دیا تھا کہ اس کی اصل گھنونی شکل و صورت لوگوں کو دکھانا ہفت خواں طے کرنے کے برابر تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوئی کہ اس نے اپنا رسول بھیجا جس نے ایک طویل جدوجہد اور جہاد کے بعد ایمان کو اس کی اصلی محبوب شکل میں لوگوں کو دکھایا اور اس کے جمال کو ان کے دلوں میں بسایا۔ اسی طرح کفر کے چہرے کے مصنوعی غازہ کو اتار کر اس کی اصل مکرہ اور گھنونی شکل سے لوگوں کو آشنا اور اس سے بیزار کیا۔ اسی مضمون کو یہاں حبب الی اور کرہ الی کے الفاظ سے ادا فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دونوں کو ان کی حقیقی شکل و صورت میں تمہارے آگے پیش کیا جس سے تم ایمان کے دلدادہ بنے اور کفر سے بیزار ہوئے۔ گویا یہ دونوں فعل قدم کے مضموکن پر متضمن ہیں اور حرف الی اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہاں حبتب کے مفعول کی حیثیت سے تو صرف ایمان کا ذکر ہے لیکن کرہ کے ساتھ کفر، فسق اور عصیان تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے کردار پر تبصرہ ہو رہا ہے وہ ابھی جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ ان باتوں سے اچھی طرح آشنا نہیں تھے جو ایمان کی ضد ہیں یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان کو وضاحت سے یہ بات بتائی جائے کہ صرف کفر ہی ایمان کے منافین ہیں ہے بلکہ فسق و عصیان کے قسم کی ساری باتیں بھی اسی شجرہ ملعونہ کے برگ و بار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی مبغوض ٹھہرایا۔ لفظ فسق یوں تو قرآن میں کفر کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے لیکن یہاں چونکہ یہ کفر کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہوگی جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتے ہوئے کرے۔ لفظ عصیان یہاں موقع و محل اشارہ کر رہا ہے کہ رسول کی نافرمانی کے لئے آیا ہے۔ رسول کیخلفاء و امراء کی نافرمانی بھی چونکہ بالواسطہ رسول ہی کی نافرمانی ہے اس وجہ سے یہ چیز بھی اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔ اولئک ھم الرشدون فضلاً من اللہ و نعمۃ وللہ علیم حکیم فرمایا کہ یہی لوگ جن کے دلوں میں ایمان کا جمال گھر کئے ہوئے ہے اور جو کفر فسق اور عصیان کے ہر شائبہ سے بیزار و نفوذ ہیں، درحقیقت اصل ہدایت پر ہیں اور یہ ہدایت ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے حاصل ہوئی ہے اس وجہ سے ان کو اس پر اپنے رب ہی کا شکر گزار رہنا چاہئے، خام کاروں کی طرح اس وہم میں کسی کو نہیں مبتلا ہونا چاہئے کہ اس کو یہ چیز از خود مل گئی ہے اور وہ خدا و رسول کا کوئی محسن بن گیا ہے۔ علیم حکیم کی صفات کا حوالہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کی تقسیم کسی اندھے کی تقسیم نہیں ہے۔ وہ اپنے دین کی نعمت انہی کو دیتا ہے جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے۔ یہ آیت مدینہ کے مسلمانوں کی تعریف میں ہے جو نبی ﷺ کی صحبت سے برابر فیضیاب اور اللہ کے رنگ میں اچھی طرح رنگے ہوئے تھے اور سیاق وسباق دلیل ہے کہ اس میں ان خام کار مسلمانوں پر تعریف بھی ہے جن کی خامیوں پر سورة کی ابتداء ہی سے تبصرہ ہو رہا ہے اور جن کا تعلق اطراف مدینہ کے قبائل سے تھا۔ ایک بےبنیاد شان نزول آیت 6 کے تحت ہمارے مفسرین نے، اپنی عادت کے مطابق، ایک شان نزول کا بھی ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ نے ولید بن عقبہ کو تحصیل زکواۃ کے لئے بنی مططلق کے پاس بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو بنی مصطلق کے لوگ بشکل جوس ان کے خیر مقدم کے لئے نکلے۔ ولید نے گمان کیا کہ یہ لوگ ان سے لڑنے کو نکلے ہیں۔ وہ ڈر کر فوراً وہاں سے واپس آگئے اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ وہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں اور زکوۃ ادا کرنے سے انہوں نے انکار کردیا 1 یہ خبر سن کر حضور ﷺ بنی مصطلق پر نہایت برہم ہوئے اور ان کی سرکبوی کے لئے آپ نے ایک دستہ بھیج دیا یا بھیجنے کا فیصلہ فرما لیا کہ تانے میں بنی مصطلق والوں کو اطلاع ہوگئی اور ان کے سردار نے فوراً مدینہ حاضر ہو کر بقیہ قسم حضور ﷺ کو اطمینان دلایا کہ ہم نے تو ولید کی شکل بھی نہیں دیکھی، زکواۃ روکنے کا کیا سوال ؟ ان کی طرف سے صفائی کے بعد ان کا معاملہ تو رفع دفع ہوگیا لیکن ہمارے مفسرین کے نزدیک ولید کی اسی روایت کی بنا پر یہ آیت اتری اور مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے کوئی عاجلانہ قدم نہ اٹھایا کریں۔ ہمارے مفسرین کوئی نہ کوئی شان نزول تو تقریباً ہر آیت کے تحت درج کرتے ہیں، اوپر آیت ان الذین ینادونک … الایۃ کے تحت بھی انہوں نے ایک شان نزول کا حوالہ دیا ہے لیکن اس سے ہم نے اس وجہ سے تعرض نہیں کیا کہ بعض ناقدین نے اس پر جرح بھی کردی ہے مگر اس شان نزول پر سبق متفق ہیں اس وجہ سے اس سے تعرض ناگزیر ہے۔ شان نزول سے متعلق وہ اصولی حقیت ہمیشہ مستحضر رکھیے جس کا ذکر ہم نے مقدمہ تفسیر میں کیا ہے کہ سلف کسی آیت کے تحت اگر کسی واقعہ کا ذکر شان نزول کی حیثیت سے کرتے ہیں تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ بعینہ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب ہوا ہے بلکہ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ آیت سے اس واقعہ کا حکم بھی مستنبط ہوتا ہے۔ یہ رائے اصول تفسیر 1۔ بعض راویوں کا بیان ہے کہ ڈرے نہیں بلکہ ان کے دل میں پہلے سے بنی مصطلق کے خلاف رنجش تھی اسی وجہ سے ان کے سملے بغیر واپس آگئے اور یہ بات بنائی کہ انہوں نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کردیا۔ کے ماہرین کی ہے اس وجہ سے میں نے اس کا حوالہ دیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی معلوم ہے کہ شان نزول سے متعلق روایات بیشتر ضعیف بلکہ بےبنیاد ہیں، اس وجہ سے ان کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھے بغیر مان لینے سے اسی فتنہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہے جس سے آیت زیر بحث میں اہل ایمان کو روکا گیا ہے۔ اس شان نزول کو درایت کی کسوٹی پر جانچیے تو معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔ س سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت میں فاسق کی روایت پر اعتماد کرنے سے روکا گیا ہے جب کہ ولید کے متعلق اس واقعے سے پہلے کوئی بات بھی ایی لوگوں کے سامنے نہیں آئی تھی جس سے معلوم ہوسکتا کہ نعوذ باللہ وہ فاسق ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے فسق کی کوئی شہادت موجود نہیں تھی بلکہ ان کی ثقاہت و عدالت کا یہ مرتبہ تھا کہ خود نبی ﷺ نے ان کو تحصیل زکواۃ کے ذمہ دارانہ منصب پر مامور فرمایا۔ اگر ان کے اندر اس قسم کا کوئی کھوٹ ہوتا تو حضور ان کو اس اہم خدمت کے لئے کس طرح منتخب فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس شان نزول کو باور کر لیجیے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ سے اتنے ناواقف تھے کہ ایسے لوگوں کو ذمہ دارانہ مناصب پر مامور فرما دیتے تھے جو اپنی دروغ بافی سے حکومت اور رعایا دونوں کو خطرے میں ڈال دیں۔ اس قسم کی بےبصیرتی ایک عام معقول آدمی سے بھی بعید از قیاس ہے چہ جائیکہ اس کا صدور سرور عالم ﷺ سے ہو۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر ولید استقبال کرنے والی پارٹی کو جنگجو پارٹی سمجھ کر اس سے ڈر کے واپس آگئے تھے اور اپنا تاثر انہوں نے حضور کے سامنے یہ بیان کیا کہ نبی مصطلق نے زکوۃ ادا کنے سے انکار کردیا ہے تو ان کی یہ بات سادہ لوحی اور کمزوری کو قرار دی جاسکتی ہے لیکن ازروائے شریعت اس کو فسق نہیں کہا جاسکتا۔ پھر تو اس مضمون کی آیت اترنی تھی کہ مسلمانو تم اپنے ذمہ دارانہ عہدے ایسے سادہ لوحوں کے سپرد نہ کیا کرو جو استقبال کرنے والوں اور لڑنے والوں کے درمیان امتیاز کرنے سے بھی قاصر ہوں، غور کرنے کی بات ہے کہ ولید اتنے سادہ لوح ہوتے تو کیا حضور ﷺ ان کو ایسی اہم مالی اور سیاسی ذمہ داری سپرد کردیتے ؟ کیا کسی شخص کے اندر سادہ لوحی کوئی ناگہانی طور پر پیدا ہوجانے والی چیز ہے جو لوگوں سے مخفی رہے، یہاں تک کہ خود حضور ﷺ کو بھی اس کا اندازہ نہ ہو سکے ! چوتھی بات یہ ہے کہ یہی ولید ہیں جن کو سیدنا عثمان غنی نے اپنے دور خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا۔ غور کیجیے کہ کیا حضرت عثمان غنی اس بات سے واقف نہیں تھے کہ یہ شخص ازروائے نص قرآن فاسق قرار پا چکا ہے اور گورنری تو درکنار اسلامی قانون کی رو سے یہ کسی روایت یا شہادت کا بھی اہل نہیں ہے ؟ اگر ناواقف تھے تو یہم انیے کہ حضرت عثمان جیسے خلیفہ راشد، جن کو جامع قرآن ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، نعوذ باللہ، قرآن کا اتنا علم بھی نہیں رکھتے تھے جتنا علم شان نزول کی روایتیں کرنے والے ان راویوں کو تھا۔ میں نے اس شان نزول کے صرف چند پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا ہے، ورنہ اضطراب اس کے ہر پہلو میں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور ﷺ نے تادیبی دستہ روانہ کردیا تھا، بعض میں ہے کہ روانہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا تھا اور بنی مصطلق کو الٹی میٹم دے دیا تھا کہ اگر تم لوگ اپنی حرکت سے باز نہ آئے تو میں تمہاری سرکوبی کے لئے ایسے شخص کو بھیجوں گا جو عندی کنفسی، (جو میرے نزدیک میری اپنی ذات کی طرح ہے) ساتھ ہی حضرت علی کے شانے پر تھپتھپاتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی کہ اس مہم کو یہ سر کریں گے۔ بعض روایات میں اس کے برخلاف یہ ہے کہ اس مہم پر آپ نے حضرت خالد کو بھجیا۔ غرض جتنے منہ ہی اتنی ہی باتیں ہیں، حالانکہ لویطیعکم فی کثیر من الامر سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے اس طرح کی کوئی بات آئی بھی تو آپ نے ٹال دی اور لوگوں کو تنبیہ کردی گئی کہ وہ پیغمبر کو اپنی رایوں سے متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میرے نزدیک یہ شان نزول روا فض کی ایجادات میں سے ہے جس سے انہوں نے صرف ولید ہی کو بدنام کرنا نہیں چاہا بلکہ حضرت عثمان کو بھی مطعون کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے یہ جانتے بوجھتے کہ یہ شخص فاسق ہے محض از راہ کنبہ پر پروری اس کو کفوہ کا گورنر بنا دیا ہے۔ پھر کوفہ کی گورنری کے دوران میں ان ظالموں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بلکہ ان کے فسق کے ایسے واقعات کی روایت کی ہے جن کو سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی ان ظالموں کی ذہانت پر آتی ہے اور رونا اپنے مفسرین کی سادگی پر کہ اس قسم کی بےسروپاروایتیں تفسیر کی کتابوں میں نقل کردیتے ہیں حالانکہ آیت کے الفاظ اور اس کے سیاق و سبقا سے ان کو کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان مصالحت کر ائو پس اگر ان میں سے ایک دوسرے پر تعدی کرے تو اس سے جنگ کرو جو تعدی کرے۔ تآنکہ وہ اللہ کے فصلہ کی طرف رجوع کرے۔ پس اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور ٹھیک ٹھیک انصاف کرو۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

وان طآئفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھا فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفی الی امر اللہ فان فآءت فاصلحوا بنھما بالعدل وا قسطوا ط ان اللہ یغب المقسطین 9 یہ امر واضح رہے کہ حضرت ولید سیدنا عثمان غین کے رشتہ دار بھ تھے۔ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں تصادم ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری اوپر کی آیت میں اس بات کی ممانعت فرمائی گی ہے کہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ہو مسلمانوں کی کسی جماعت کے خلاف کوئی اقدام کر بیٹھیں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہ اگر آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کرو۔ اگر دونوں میں سے کوئی ایک پارٹی مصالحت پر آمادہ نہ ہو یا مصالحت کے بعد مصالحت کے شرائط کے خلاف دوسری پارٹی پر تعدی کرے تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو تعدی کرنے والی پارٹی سے جنگ کرنی چاہئے یہاں تک کہ وہ حق کے آگے جھکنے پر مجبور ہوجائے۔ تفیء الی امر اللہ سے مراد اس فیصلہ کے آگے جھکنا ہے جو مصالحت کرانے والوں نے فریقین کے سامنے رکھا ہے۔ اگر کوئی پارٹی اس مصالحت سے گریز اختیار کر رہی ہے تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھکنے سے گریز اتخیار کر رہی ہے۔ اس لئے کہ اس صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا حکم دیا ہے اور جب اللہ نے اس کا حکم دیا ہے تو اس کی حیثیت امر اللہ کی ہے۔ فان فآءت فاصلحوا بینھما بالعدل وا قسطوا یعنی مسلمانوں کے اس اجتماع ایکشن کے بعد اگر وہ فصلہ کے آگے سر جھکا دے تو اس بنیاد پر اس کے خلاف کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی کہ اس نے سرکشی کی روش اختیار کی، بلکہ فریقین کے درمیان انصاف کے تقاضوں کے مطابق صلح کرا دی جائے گی جس فریق کا نقصان ہوا ہے اس کی تلافی ٹھیک ٹھیک کر ادی جائے گی۔ لفظ اقسطوا اسی عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ کسی کے ساتھ بےرجا رعایت کی جائے نہ کسی کو انصاف کے خلاف دبایا جائے بلکہ بےرو رعایات جو کچھ عدل کا تقاضا ہے وہ پورا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ہی انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ چند اجتماعی اصول جو آیت سے نکلتے ہیں اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمان اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نہ تو اس سے بالکل الگ تھلگ رہیں اور نہ ان کے لئے یہ جائز ہے کہ بغیر اس بات کی تحقیق کئے کہ کون حق پر ہے کون ناحق پر، محض خاندانی، قبائلی اور گروہ عصبیت کے جوش میں کسی کے ساتھی اور اکسی کے مخالف بنج ائیں بلکہ انہیں ساری صورت معاملہ سمجھ کر فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ایک فریق مصالحت پر راضی نہ ہو بلکہ جنگ ہی پر ضد کرے یا مصالحت کے لئے من مانے طور پر ایسی شرطیں پیش کرے جو عدل کے منافی ہوں تو اس صورت میں مسلمانوں کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اس کے خلاف طاقت اسعتمال کر کے اس کو مصالحت کے شرائط کے آگے جھکنے پر مجبور کریں۔ اس طرح کی نزاعات میں غیر جاندبار مسلمان اللہ و رسول کی ہدایات اور عدل کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کے مصالحت کے لئے جو شرطیں طے کریں گے فریقین پر ان کی اطاعت اسی طرح لازمی ہوگی جس طرح شریعت کے احکام کی اطاعت لازمی ہے، یہاں تک کہ جو فریق اس سے انحراف اختیار کرے گا اس سے جنگ کی جائے گی۔ مصالحت ہوجانے کے بعد اس کی شرئاط کے خلاف اگر کوئی فریق دوسرے فریق پر تعددی کرے گا تو وہ تعدی کرنے والا قرار پائے گا۔ مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ اس کی سرکوبی کریں۔ موجود ہزمانے کی ایک مشکل یہ امر واضح رہے کہ یہ ہدایات اس صورتحال کے لئے دی گئی ہیں جب نزاع مسلمانوں کے دوگروہوں کے درمیان واقع ہو اور ان کی ایک مرکزی طاقت فریقین کے درمیان مداخلت کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ اس زمانے میں پیہ پیچیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ بہت سی چھوٹی بڑی مسلمان حکومتیں الگ الگ قائم ہوگئی ہیں۔ ان کے درمیان اگر خدانخواستہ کوئی جنگ چھڑ جائے تو دوسری مسلمان حکومتوں کے لئے اس قضیہ سے بالکل الگ تھلگ رہنا تو جائز نہیں ہے، مصالحت کی کوشش، جس کا آیت میں حکم دا گیا ہے، ہر ایک کو کرنی ہوگی البتہ عملاً مداخلت کا معاملہ صورتحال پر منحصر ہے۔ جس کا تعلق وقت کے سیاسی تقاضوں سے ہے۔ اگر صورتحال اجازت دے گی تو تعدی کرنے والے فریق کو حق کے آگے جھکانے کے لئے اس کے خلاف طاقت استعمال کرنا بالکل جائز ہوگا اور اگر سے مزید بین الملی یا بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہو تو عملی مداخلت سے تو گریز اختیار کیا جائے گا لیکن مصالحت کی جدوجہد سے گریز کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمان باہمدگر بھائی بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کر ائو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ تم پر رحم کیا جائے

انما المومنون اخوۃ فاصلحوابین اخویکم واتقوا اللہ لعلکم ترحمون 10 یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کے درمیان کسی نزاع کا برپا ہونا ہی اول تو ان کی باہمی اخوت کے مناقی ہے لیکن شیطان کی انگیخت سے کوئی نزاع برپا ہو ہی جائے تو دوسرے مسلمانوں کو ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ اس آگ کو مزید بھڑکانے کی واتقوا اللہ لعلکم ترحمون یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اگر تمہارے ہاتھوں کوئی ایسا کام ہوا جو بھائیوں اور بھائیوں کے درمیان قتل و خون کا سبب ہوا یا تم محض قومی، قبائلی، علاقائی یا سیاسی مصلحتوں کی خاطر کسی پہلو سے اس خون خرابے میں حصہ لینے والے بنے تو یاد رکھو کہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکو گے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق وہی ٹھہریں گے جو اس کی قائم کی ہوئی اس اخوت کو ہمیشہ استوار و پائیدار رکھنے کی کوشش کریں گے نہ خود اس میں کوئی رخنہ پیدا کریں گے نہ اپنے امکان کے حد تک کسی کو اس میں کوئی رخنہ پیدا کرنے کا موقع دیں گے۔ بین اخویکم میں مثنیٰ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ جنگ دو بھائیوں ہی کے درمیان ہو، بلکہ یہ مثنیٰ مسلمانوں کے دو گروہوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثنیٰ کا اس طرح اسعتمال عربی میں معروف ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ -2 قرآن میں جرح و تعدیل کا ماخذ ہمارے محدثین اور فن رجال کے ائمہ نے سورة حجرات کی اسی آیت … ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا … کو ماخذ قرار دیا ہے راویوں پر جرح و تنقید کے حکم کا جس کی بدولت اسماء الرجال کا عظیم الشان فن وجود میں آیا جو ان علوم میں سے ایک ہے جن کے بانی ہونے کا شرف دنیا میں سب سے پہلے مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی فاسق کسی اہم واقعے کی خبر دے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ یہ حکم یوں تو عام ہے، ہر ایسی خبر کی تحقیق ضروری ہے جو دور رس نتائج کی حامل ہو لیکن کوئی شخص رسول اللہ ﷺ سے منسوب کر کے کوئی روایت کرے تو اس کی تحقیق و تنقید بدرجہ اولیٰ ضروری ہے۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور واجب الاطاعت ہادی ہیں۔ آپ کی ہر بات بلکہ ہر ادا امت کے لئے اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر حضور ﷺ کی ذات سے منسوب کر کے کوئی غلط روایت کردی جائے اور وہ تحقیق کے بغیر قوبل کر لیج ائے تو یہ چیز دنیا میں بھی موجب خسران بن سکتی ہے اور آخرت میں بھی۔ آیت میں اگرچہ فاسق ہی کو روایت کی تحقیق کا حکم ہے لیکن اس سے آپ سے آپ یہ بات بھی نکلی کہ اگر کوئی راوی مجہول ہو، نہ اس کا فسق معلوم ہو نہ اس کی ثقاہت تو اس کی تحقیق بھی ضروری ہوگی، کیونکہ ایک مجہوی راوی کی روایت قبول کرلینے میں اندیشہ ہے کہ ممکن ہے راوی فاسق ہو۔ چناچہ محدثین نے مجہول راویوں کی بھی اچھی طرح تحقیق کی تاکہ ان کا فسق یا ان کی عدالت واضح ہوجائے۔ اگر کسی راوی کی تحقیق میں ان کو کامیابی نہیں ہوئ تو اس کو مجہول قرار دے کر اس کی روایت انہوں نے رد کردی۔ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ یہ تحقیق اسی صورت میں ضروری ہوگی جب فاسق کو ایسی روایت کرے جو دور رس نتائج کی حامل ہو، اس لئے کہ یہاں لفظ نباء وارد ہوا ہے جو کسی اہم اور دور رس نتائج کے حامل خبر ہی کے لئے آتا ہے۔ عام خبر یا واقعہ کے لئے یہ لفظ نہیں آتا۔ چناچہ روزمرہ زندگی کے عام معاملات میں فاسق یا کافر کی خبر مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آیت میں راوی اور روایت دونوں کی تحقیق کا حکم دیا گیا ہے اس لئے کہ فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو۔ ظاہر ہے کہ یہاں تبینوا مفعول راوی بھی ہے اور روایت بھی بلکہ روایت کا مفعول ہوتا زیادہ واضح ہے اس لئے کہ راوی کا فسق تو یہاں معلوم ہی ہے کسی روایت کی تحقیق میں جس طرح راوی کی ثقاہت، عدالت اور فقاہت اہمیت رکھتی ہے اسی طرح خود روایت کے الفاظ، اس کا موقع و محل، دوسری روایات باب کے ساتھ اس کی مخالفت یا موافقت، عقل و نقل کی کسوٹی پر اس کا مرتبہ اور سب سے زیادہ خدا کی کتاب کے ساتھ اس کی ہمہ آہنگی اور اس قبیل کی دوسری چیزیں بھی اس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر صرف راوی کی تحقیق پر کفایت کر کے یہ چیزیں نظر انداز کردی جائیں تو تحقیق کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ ہمارے محدثین زیادہ زور صرف راوی کی تحقیق پر صرف کرتے ہیں، نفس متن پر ان پہلوئوں سے غور کرنے کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ حالانکہ ان پہلوئوں سے تحقیق کئے بغیر تحقیق کا حق، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ہرگز ادا نہیں ہوسکتا۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فقہاء نے متن حدیث پر غور کرنے کے لئے اصول وضع کئے اور اس کا نام درایت رکھا۔ اس خدمت خاص میں سب سے بڑا حصہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کا ہے۔ یہ خدمت انجام دے کر انہوں نے صرف قہ ہی پر احسان نہیں کیا ہے، بلکہ فن حدیث کی بھی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے، اگر ہمارے علماء ان اصولوں کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی توفیق پاتے تو حدیث کے خلاف وہ فتنہ ہرگز نہ اٹھ سکتا جو فتنہ پردازوں نے اٹھا دیا اور جس نے گمراہ فرقوں کے لئے دین میں دراندازی کی بہت سی راہیں کھول دیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تدبر، حدیث، پر اپنی پیش نظر کتاب لکھنے کی توفیق اور مہلت بخشی تو اس کے مقدمہ میں انشاء اللہ ان اصولوں کی قدر و قیمت میں واضح کروں گا۔ اوپر کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہمارے محدثین کرام نے فاسق اور مجہول راویوں کی جو پردہ دری کی ہے وہ قرآن کے اسی واضح اور قطعی حکم کی تعمیل میں کی ہے لیکن اس زمانے میں بعض خوش فہم حضرات نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ راویوں کے عیوب کھولنا ہے تو غیبت جس کو قرآن نے اسی سورة کی آیت 12 میں حرام قرار دیا اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر فرمایا ہے لیکن محدثین نے حکمت عملی کے تحت اس حرام کو جائز بنایا تکہ فاسق راویوں کی روایات سے دین کو بچائیں۔ پھر اس نکتہ سے ان حضرات نے ایک اور اس سے بھی زیادہ عمیق و دقیق نکتہ پیدا کرل یا کہ شریعت کی تمام حرمتیں ابدی نہیں ہیں اس وجہ سے ایک قائد تحریک اسلامی، کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت جب ضرورت محسوس کرے کسی حرمت کو حلت سے بدل دیا کرے۔ ان نکات پر اپنے ناچیز خیالات ہم اپنے مقالات میں ظاہر کرچکے ہیں۔ یہاں ان پر تنقید کی نہ ضرورت ہے نہ گنجائش۔ بس اتنی بات یاد رکھیے کہ جب قرآن نے فاسق اور مجہول راویوں کی پردہ دری اور ان کی روایات کی تحقیق کا حکم خود اس صراحت کے ساتھ دیا ہے تو محدثین اس خدمت کے لئے غیبت جیسی ناپاک چیز کو حکمت عملی کے تحت جائز بنانے کی زحمت کیوں اٹھاتے۔ یہ بات بھی یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ راویوں پر جرح کو غیبت قرار دینے کا سہرا ہمارے ارباب تصوف کے سر ہے۔ تصوف کی ساری عمارت، چونکہ ضعیف اور بےبنیاد روایات ہی پر قائم ہے، اس وجہ سے جب محدثین نے راویوں کی چھان بین کا کام شروع کیا تو ان حضرات کو محسوس ہوا کہ اگر محدثین اسی بےخوفی کے ساتھ یہ کام کرتے رہے تو تصوف کی پوری عمارت زمین پر آ رہے گی۔ اس خطرے سے تصوف کو بچانے کے لئے ان حضرات نے یہ نکتہ نکالا کہ یہ محدث حضرات تو لوگوں کی غیبت کرتے پھرتے ہیں۔ صوفیوں کا یہ نکتہ ان کے اپنے حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ ان کے اسی نکتہ کو ہمارے اس دور کے بعض ذہنوں نے اپنی حکمت عملی کے لئے اپنا لیا اور اس کے بل پر ایک ایسا اصول وضع کردیا جو سارے دین ہی کا تیاپانچا کر کے رکھ دے۔ آخر میں اس آیت سے متعلق ایک بات اور یاد رکھیے۔ بعض محدثین اور فقہاء فاسق کی روایت قبول کرنے کے باب میں اس کے فسق عملی کو تواہمیت دیتے ہیں لیکن اس کے عقائدی فسق کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ کوئی شخص اگر کسی عملی فسق مثلاً جھوٹ اور بدکرداری وغیرہ میں مبتلا ہو تو اس کی روایت یا شہادت تو بیشک قبول نہیں کی جائے گی، لیکن اگر وہ صرف کسی فاسقانہ عقیدہ میں مبتلا ہے تو مجرد اس کے فساد عقیدہ کی بننا پر اس کی روایت یا شہادت رد نہیں کی جائے گی۔ ہمارے نزدیک یہر ائے بالکل غلط ہے۔ تجربہ گواہ ہے کہ جتنی جھوٹی روایتیں فساد عقیدہ میں مبتلا راویوں نے گھڑی ہیں اتنی فساد عمل میں مبتلا راویوں نے نہیں گھڑی ہیں۔ یہ انہی کی گھڑی ہوئی روایتیں ہیں جو سیرت، تفسیر، تصوف اور تاریخ کی کتابوں میں بھری ہوئی ہیں اور جن سے اہل بدعت و ضلالت نے اپنی دکانیں سجائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان علماء پر رحم فرمائے جنہوں نے فاسد العقیدہ راویوں کو یہ چھوٹ دے کر ملت کو ایک ایسے فتنہ سے دوچار کردیا جس سے اہل حق کے لئے عہدہ برآ ہونا نہایت دشوار کام ہوگیا ہے۔ ہمارے نزدیک فسق عملی و فسق عقائدی کی یہ تقسیم بےمعنی ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ اوپر جو کلیہ عام فاسقوں کے بارے میں بیان ہوا ہے وہی فاسد العقیدہ راویوں کے بارے میں بھی عقل و نقل کے موافق ہے یعنی ان کی روایت اور شہادت ان امور میں تو قبول کی جائے گی جن میں ایک کافر کی روایت بھی قبول کی جاسکتی ہے، لیکن اہم امور بالخصوص معاملات دین میں ان کی روایت یا شہادت قبول کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔