Ayah 48:11 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
انا فتحنا لک فتحاً مبینا 1
معاہدہ مدعیہ کے فتح مبین ہونے کے چند پہلو
فتح مبین سے یہاں مراد معاہدہ حدیبیہ ہے، اس کے سوا کسی اور فتح کو مراد لنیے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اس کو فتح مبین قرار دینے کے متعدد پہلو بالکل واضح ہیں۔ مثلاً
ایک یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ قریش نے علانیہ بیت اللہ پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا اور یہ تسلیم کرنا بطور احسان نہیں بلکہ مسلمانوں سے دب کر ہوا۔ آگے آیت 24 سے واضح ہوگا کہ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور جنگ چھڑتی تو مسلمانوں کی فتح یقینی تھی۔ قریش نے صورت حال کا اچھی طرح انداز ہکر لیا تھا اس وجہ سے وہ معاہدہ کے دل سے خواہشمند تھے۔ البتہ اپنی ناک ذرا اونچی رکھنے کے لئے یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اسی سال عمرہ کرنے پر اصرار نہ کریں بلکہ آئندہ سال آئیں۔ مسلمانوں کو اس بات پر راضی کرنے کے لئے انہوں نے بہت بڑی رشوت بھی دی کہ تین دن کے لئے وہ شہر بالکل خالی کردیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔ قریش کی طرف سے یہ پیش کش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
دوسرا یہ کہ قریش نے اس معاہدے کی رو سے مسلمانوں کو اپنے برابر کی ایک حریف قوت عرب میں تسلیم کرلیا۔ ان کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت اب باغیوں اور غداروں کی نہیں رہی تھی، جیسا کہ وہ علانیہ اب تک کہتے رہے تھے، بلکہ مساوی درجے کی ایک سیاسی قوت کی ہوگئی چناچہ انہوں نے عالنیہ ان کے لئے یہ حق تسلیم کرلیا کہ عرب کے جو قبائل ان کے حلیف بننا چاہیں وہ ان کو اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔
تیسرا یہ کہ قریش نے مسلمانوں کی جنگی صلاحیت کا لوہا بھی اس حد تک مان لیا کہ خود اصرار کر کے معاہدے میں دس سال کے لئے جنگ بندی کی شرط رکھوائی۔
چوتھا یہ کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں کو جنگ کی اجازت جو نہیں دی تو اس کی وجہ مسلمانوں کی کوئی کمزوری نہیں تھی بلکہ صرف یہ تھی کہ مکہ میں بہت سے ظاہر اور مخفی مسلمان تھے جو وہاں سے ابھی ہجرت نہیں کرسکے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں ان کو خود مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچ جائے گا۔
غرض اس کے ایک فتح مبین ہونے کے گونگاوں پہلو واضح تھے جو مسلمانوں سے مخفی نہیں ہو سکتے تھے لیکن قریش نے اپنی حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کیا اور بعض واقعات نہایت اشتعال انگیز مثلاً ابوجندل کا واقعہ … اس دوران میں ایسے پیش آگئے کہ مسلمان کے اندر عام احساس یہ پیدا ہوگیا کہ یہ معاہدہ دب کر کیا جا رہا ہے۔ جذبات کے ہیجان میں لوگ اس کے ہر پہلو پر غور کر کے یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ اس معاہدے کی رو سے انہوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اس سورة نے جب اصل حقائق کی طرف توجہ دلائی تب لوگوں کو محسوس ہوا کہ فی الواقع انہوں نے معاہدے کی مضمرات سمجھنے میں غلطی کی اور جب اس کے نتائج سامنے آئے تو ہر شخص نے کھلی آنکھ سے دیکھ لیا کہ فی الواقع یہی معاہدہ فتح مکہ کی تمہید ثابت ہوا۔
Ayahs 48:2–3لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک ومات خرویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراط مستقیماً وینصرک اللہ نصراً عزیزا (3-2)
اس فتح مبین کے چند نتائج
’ ل ‘ یہاں غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے یہ فتح مبین جو عنایت فرمائی ہے یہ تمہید ہے جو منتہی ہوگی مندرجہ ذیل باتوں پر جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں سرفراز فرمانے والا ہے۔
ایک یہ کہ اب وہ وقت قریب ہے کہ تم اپنے مشن کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جائو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر کے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت تمام کرنے والا ہے۔
تیسری یہ کہ ہدایت کی صحیح راہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کھول دے گا۔
چوتھی یہ کہ تمہیں اللہ تعالیٰ ایسا غلبہ عطا فرمائے گا جس کو چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
یہ چاروں باتیں یہاں اجمال کے ساتھ مذکور ہوئی ہیں۔ ان کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ضرورت ہے کہ قرآن کے نظائر کی روشنی میں ان کی وضاحت کی جائے۔
لیغفرلک اللہ ماتقدمن ذنبک وماتاخر یہ نبی ﷺ کو اس بات کی بشارت دی گئی ہے کہ اس فتح مبین کے بعد فریضہ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا وقت آپ کے لئے قریب آگیا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے آیا ہے۔ مثلاً سورة نصر میں فرمایا ہے۔
اذا جآء نصرا اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا فسبح بحمد ربک استغفرہ ط انہ کان تواباً (3-1)
جب اللہ کی مدد اور فتح ظاہر ہوجائے اور تم دیکھو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
اس سورة میں فتح و غلبہ کی بشارت کے ساتھ یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کے بعد فریضہ رسالت کی ذمہ داریوں سے بکدوش ہونے کا وقت آپ کے لئے قریب آجائے گا لیکن صاف الفاظ میں اس کی بشارت دینے کی بجائے اس کے لئے تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ تسبیح، نماز اور استغفار سے اس کے لئے تیاری کرو۔ آیت زیر نظر میں یہی مضمون مقع و محل کے تقاضے سے نہایت واضح بشارت کے اسلوب میں آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فتح مبین جو تمہیں حاصل ہوئی ہے اس کے بعد اب وہ وقت قریب ہے کہ تمہارے رب نے جو ذمہ داری تم پر ڈالی تھی اس سے فارغ فرمائے گا اور نہایت سرخروئی و سرفرازی کے ساتھ اس طرح فارغ فرمائے گا کہ تمہارے تمام اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا۔ نبی ﷺ کے لئے سب سے بڑی بشارت کوئی ہو سکتی تھی تو لاریب یہی ہو سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس عظیم مشن پر مامور فرمایا تھا اس سے آپ کو اس طرح فارغ فرمائے کہ اس کے متعلق کوئی بھی چھوٹی یا بڑی مسئولیت آپ پر باقی نہ رہے بلکہ یہ اطمینان ہوجائے کہ آپ نے یہ فریضہ ٹھیک ٹھیک اپنے رب کی مرضی کے مطابق انجام دے دیا۔ اس ٹکڑے میں آپ کو خوشنودی کا یہی پروا نہ عطا ہوا ہے۔
اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑا پروانہ کوئی اور آپ کے لئے نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی کی شکر گزاری نے آخری دور میں جب آپ کی عبادت کی سرگرمیوں میں بہت اضافہ کردیا تو لوگ آپ سے سوال کرتے کہ یا رسول اللہ، آپ کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہیں تو آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ آپ اس کا جواب دیتے کہ افلا اکون عبدالشکوراً (کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟)
انبیاء (علیہم السلام) سے کس طرح کے گناہ صادر ہوتے ہیں
یہاں نبی ﷺ کی طرف جس ذنب کی نسبت کی گئی ہے اس سے متعلق یہ وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں حضرات انبیاء (علیہم السلام) سے اتباع ہوا کی نوعیت کے گناہ تو کبھی صادر نہیں ہوئے لیکن اقامت دین کی جدوجہد میں نیک دوامی کے تحت، کبھی کبھی ان سے بھی ایسی باتیں صادر ہوگئی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کی گرفت فرمائی ہے۔ مثلاً نبی ﷺ کے پاس منافقین آتے اور کوئی بہانہ پیدا کر کے یہ چاہتے کہ ان کو جہاد میں شرکت سے رخصت دی جائے۔ آپ کو علم ہوتا کہ یہ لوگ محض بہانہ سازی کر رہے ہیں لیکن کریم النفسی کے سبب سے آپ ان کو رخصت دے دیتے کہ ان کا فضیحتانہ ہو۔ نبی ﷺ کی یہ نرمی اگرچہ آپ کی کریم النفسی کا نتیجہ تھی، اس میں اتباع ہوا کا کوئی شائبہ نہیں تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس پر آپ کی گرفت فرمائی اس لئے کہ نبی ہر معاملے میں حق وعدل کی کسوٹی ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ شریفانہ سلوک کرنے کے معاملے میں بھی اس حد سے متجاوز نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے شریفانہ سلوک کے لئے ٹھہرا دی ہے۔
اسی طرح نبی ﷺ کبھی کبھی اپنی قوم کے سرداروں کی دلداری، اس خیال سے، زیادہ فرماتے کہ اگر یہ لوگ ایمان لائیں گے تو یہ دعوت کی تقویت و ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔ ہر چیز بجائے خود کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ دین کی مصلحت کا ایک نہایت اہم تقاضا ہے لیکن اگر یہ اتنی زیادہ ہوجائے کہ اس سے اصلی حق داروں کے حق سے غفلت ہونے لگے یا نا اہلوں کی رعونت میں اس سے اضافہ ہونے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے روک دیتا ہے۔ سورة عیس میں ایک نابیناکا جو واقعہ بیان ہوا ہے وہ اسی نوعیت کا ہے۔
اسی طرح کے واقعات دوسرے انبیاء کی زندگیوں میں بھی پیش آئے جن کی وضاحت ہم نے اپنی اس کتاب میں ان کے محل میں کی ہے۔ آیت زیر بحث میں بھی نبی ﷺ کی طرف جس گناہ کی نسبت کی گئی ہے اس کی نوعیت یہی ہے۔ اس طرح کی تمام باتوں کے متعلق آپ کو بشارت دے دی گئی کہ یہ ساری چیزیں آپ کو بخش دی جائیں گی۔
اگلے اور پچھلے کے الفاظ اصلاً تو احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہیں۔ لیکن ان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس بشارت سے پہلے کی غلطیاں بھی معاف اور اس کے بعد بھی اگر کوئی غلطی ہوئی تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہے۔ اس کے لئے کسی نئی بشارت کی ضرورت نہیں ہے۔
ویم نعمتہ علیک یہ نعمت دین کے اتمام اور اس کی تکمیل کی بشارت ہے۔ چناچہ حجتہ الوداع کے موقع پر جب اس نعمت کی تکمیل ہوگئی تو یہ اعلان کردیا گیا کہ الیوم اکملت لکم دینکم والمت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (المائدۃ 3) (اب میں نے تمہاری رہنمائی کے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا۔)
تکمیل دین کی نعمت کا ثمرہ
ویھدیک صراطاً مستقیماً یہ تکمیل دین کی نعمت کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں اس صراط مستقیم کی ہدایت بخشے گا، جس سے شیطان نے لوگوں کو ہٹا دیا تھا یہ امر یہاں واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ہدایت کے لئے جو دین نازل فرمایا تھا یہود اور نصاریٰ نے بھی اس کو ضائع کردیا تھا اور اہل عرب نے بھی حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہا السلام) کے تعمیر کردہ مرکز توحید کو ایک بت خانہ کی شکل میں تبدیل کر کے، اصل نشان راہ گم کردیا تھا۔ جس سے خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ بالکل ناپید ہوچکی تھی۔ یہ راہ خلق کے لئے از سر نو اس وقت باز ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے ذریعہ سے اپنے دین کی تجدید و تکمیل فرمائی ہے اور حضرت ابراہیم ؑ کا تعمیر کردہ مینارہ توحید کفر کے نرغہ سے نکل کر اپنے اصل ابراہیمی جمال و شان میں نمایاں ہا ہے۔ اس ٹکڑے میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اب دین بھی نکھر کر سامنے آجائے گا اور وہ مرکز نور بھی بےنقاب ہوجائے گا جو ہدایت کی اصل شاہراہ کی طرف رہنمائی کے لئے تعمیر ہوا تھا۔
یہاں یہ بشارت نبی ﷺ کو خطاب کر کے دی گئی ہے۔ یہی بشارت اسی سورة کی آیت 20 میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے دی گئی ہے۔ وہاں انشاء اللہ ہم اس پر مزید روشنی ڈالیں گے۔
نصر عزیز کا صحیح مفہوم
وینصرک اللہ نصراً عزیزاً نصر عزیز سے مراد کفر کے مقابل میں ایسی فتح و نصرت ہے جس کو چیلنج نہ کیا جاسکے۔ اس طرح کی نصرت ظاہر ہے کہ اسی شکل میں آپ کو حاصل ہو سکتی ھی جب کفر کا زور بالکل ہی ٹوٹ جائے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ جب قریش کا زور بالکل ختم ہوجائے اور بیت اللہ مسلمانوں کی تحویل میں آجائے اب تک مسلمانوں کو قریش کے مقابل میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں وہ بھی اہم تھیں لیکن ایسی نہیں تھیں کہ ان کو چیلنج نہ کیا جاسکے۔ قریش جب تک مکہ پر مسلط تھے اس وقت تک وہ بہرحال ایک طاقت تھے لیکن واقعہ حدیبیہ نے ان کی یہ طاقت متزلزل کردی اور وہ وقت اب دور نہیں رہ گیا تھا کہ ان کے اقتدار کی یہ کہنہ عمارت ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہوجائے۔ یہ اسی نصر عزیز کی بشارت دی گئی ہے۔ عزیز کے معنی غالب و مقتدر کے ساتھ منیع کے بھی ہیں یعنی جس تک کسی کی پہنچ نہ ہو سکے۔
ترتیب بیان کی ایک بلاغت
یہاں ان بشارتوں کے ظہور کی ترتیب میں جو بلاغت ہے وہ بھی قابل توجہ ہے کہ جو چیز سب سے پہلے ظہور میں آنے والی ہے اس کا ذکر سب سے آخر میں ہوا اور جو چیز سب کا خلاصہ ہے اور سب سے آخر میں ظاہر ہوگی اس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ یہ ترتیب نزول ہے یعنی بیان مطالب میں نیچے سے اپور چڑھنے کی نہیں بلکہ اوپر سے نیچے اترنے کی ترتیب اختیار فرمائی گئی ہے اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ موقع آنحضرت ﷺ کو بشارت دینے کا تھا فتح مکہ کی بشارت بھی اگرچہ اہم بشارت تھی لیکن اس سے بھی بڑی بلکہ سب سے بڑی بشارت آپ کے لئے یہ تھی کہ وہ انعام اخروی آپ کے سامنے رکھ دیا جائے جو آپ کو ملنے والا ہے اور جس کے ملنے میں اب زیاہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔
Ayah 48:4وللہ جند السموت والارض ط وکان اللہ علیماً حکیما 4
وعدہ نصرت کی دلیل
اوپر والی آیت میں جس نصرت کا وعدہ فرمایا گیا ہے یہ اس کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ یہ اللہ ہی کی نصرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے مومنوں کے دلوں میں یہ حوصلہ پیدا کیا کہ وہ تمہاری دعوت پر عمرہ کے لئے تمہارے ہم رکاب ہوگئے تاکہ جو دولت ایمان ان کو حاصل تھی اس پر وہ اپنی اس حوصلہ مندی اور بنی کی رفاقت سے مزید اضاصہ کرلیں۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ سفر اگرچہ عمر کے لئے تھا لیکن اس کا ارادہ نبی ﷺ نے نہایت خطرناک حالات میں فرمایا تھا۔ قریش سے بزابر جنگ کی حالت قائم تھی اور اب تک ان کے حوصلہ کا یہ عالم تھا کہ وہ برابر امنڈا منڈ کر مدینہ پر حملے کر رہے تھے ایسی حالت میں کسی طرح بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ مسلمان جماعتی حیثیت سے عمرہ کے لئے جائیں گے تو وہ بغیر مزاحمت کے آسانی سے ان کو مکہ میں داخل ہونے دیں گے۔ چناچہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا کہ منافقین اسی بنا پر یہ گمان رکھتے تھے کہ مسلمان موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اب کے اس سفر سے ان کو گھر پلٹنا نصیب نہیں ہوگا۔ ایسے حالات کے اندر چودہ پندرہ سو صحابہ کا اپنے گھروں کو چھوڑ کر ڈھائی سو میل دور کے سفر کے لئے اٹھ کھڑے ہونا اور وہ بھی بالکل غیر مسلح کوئی معمولی بات نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان میں برکت دی، ان پر خاص اپنے پاس سے عزم و حوصلہ اتارا اور وہ اس سفر کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے تمہارے ساتھیوں کو اس موقع پر یہ حوصلہ عطا فرمایا وہ آگے کے مراحل میں بھی ان کی حوصلہ افزائی فرمائے گا اور اللہ تم سے جس نصر عزیز کا وعدہ فرما رہا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔
اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں دھا کے ایمان کی جانچ کے لئے پیش آتی ہیں
لیزدا دوآ ایماناً مع ایمانھم میں دین کی اس حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں اہل ایمان کو جو آزمائشیں پیش آتی ہیں وہ درحقیقت ان کے ایمان کی جانچ کے لئے پیش آتی ہیں۔ اگر وہ اس جانچ میں پورے اترتے جاتے ہیں تو ان کے ایمان کی قوت میں مزید اضافہ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو نفس مطمئنہ، کی بادشاہی حاصل ہوجاتی ہے اور اگر وہ فیل ہوجاتے ہیں اور برابر فیل ہی ہوتے رہتے ہیں تو بالاخر ان کا نور ایمان بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔
ایمان کے گھٹنے بڑھنے سے متعلق امام ابوحنیفہ ؒ کے ملک کا صحیح پہلو
ان کا نور ایمان بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔
اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں اور اس سنت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان ایک گھٹنے بڑھنے والی چیز ہے۔ اگر وہ کوئی جامد شے ہوتا تو اس امتحان کی ضرورت نہیں تھی۔ حضرت امام ابوحنیفہ سے یہ بات جو منسوب کی جاتی ہے کہ وہ ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے قائل نہیں تھے تو اس کا ایک خاص محل ہے۔ اس سے ان کی مراد وہ قانونی ایمان ہے جس پر ایک اسلامی ریاست میں ایک مسلمان کے شہری حقوق قائم ہوتے ہیں، نہ کہ وہ ایمان جس پر آخرت کے مدارج و مقامات مبنی ہیں، قانونی و فقہی ایمان کے اعتبار سے ہر مسلمان جو ضروریات دین کا قائل ہ، برابر ہے اور اسلامی ریاست سب کے ساتھ مسلمان ہی کی حیثیت سے معاملہ کرے گی۔ اس پہلو سے ایک بدوی اور ایک شہری میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ رہا آخرت کا معاملہ تو اس کا انحصار حقیقی ایمان پر ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوسکتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ فرمائے گا۔ امام صاحب ؒ کا یہ مسلک بجائے خود ہمارے نزدیک بالکل صحیح ہے لیکن اس کی وکالت بھی بالکل غلط طریقہ پر کی جاتی ہے اور اعتراض کرنے والوں نے ان کی بات سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
جو رسول کی مدد کرتے ہیں اپنے لئے کسب سعادت کی راہ کھولتے ہیں
وللہ جنود السموت والارض ط وکان اللہ علیماً حکیماً یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تمہاری رفاقت کے لئے جو آمادہ کردیا تو یہ ان پر اس نے احسان فرمایا کہ وہ اپنی اس نیکی سے اپنے ایمان پر مزید ایمان کا اضافہ کرلیں ورنہ وہ اپنے رسول اور اپنے دین کی نصرت کے لئے کسی کا محتاج نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام قوتیں اور تمام فوجیں اللہ ہی کے تصرف میں ہیں وہ جب چاہے کفار سے اپنی ان فوجوں کے ذریعہ انتقام لے سکتا ہے لیکن اس نے اہل ایمان کو اپن رسول کی نصرت کی دعوت دے کر یہ چاہا کہ ان کے لئے ایک فوز عظیم کے حصول کی راہ کھولے۔ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ اس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے اور اس کے اس کام میں بھی اس کی عظیم حکمت ہے۔ اس مضمون کو مزید وضاحت مطلوب ہو تو سورة محمد کی آیت 4 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آگ یہی آیت ایک اور پہلو سے آرہی ہے۔ وہاں اس کی مزیدوضاحت ہوجائے گی۔
Ayah 48:5لیدخل المومنین و المومنت جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ویکفرعنھم سیاتھم، وکان ذلک عند اللہ فوزاً عظیماً (5)
ازدیاد ایمان کا صلہ
یہ لیزدادو ایماناً مع ایمانھم کا صلہ بیان ہوا ہے اور اسلوب بیان بدیست کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نور باطن میں اضافہ کی راہیں جو کھولتا ہے تو اس لئے کہ اس طرح وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور ان سے ان کے سارے گناہ دور فرما دے گا یعنی یہ کوئی خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ تمام تر نفع ہی نفع ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ممکن ہے کہ کسی ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ دخول جنت کا ذکر پہلے ہے اور گناہوں کے جھاڑنے کا ذکر بعد میں حالانکہ لوگ جنت میں گناہوں کے جھاڑے جانے کے بعد داخل ہوں گے ؟ ہمارے نزدیک یہ تقدیم و تاخیر محض ظاہری ہے۔ بشارت کے پہلو کو نمایاں کرنے کے لئے دخول جنت کا ذکر پہلے کردیا گیا ہے، مقصود یہی بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک کر کے جنت میں داخل کرے۔
منافقین پہ تعریض
وکان ذلک عند اللہ نوراً عظیماً یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصلی اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے تو مبارک ہیں وہ جنہوں نے یہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے تمام خطرات سے بےپروا ہو کر بازی کھیلی یہ ٹکڑا تمہید ہے منافقین کے ذکر کی جو آگے آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ وہ قریش کے ڈر سے گھروں میں دبک کر بیٹھ رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ان کی سیاست بڑی کامیاب رہی اور بڑی ہوشیاری سے انہوں نے اپنے کو ایک بہت بڑے خطرے سے بچا لیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے کو خطرے سے بچایا نہیں بلکہ خطرے میں جھونک دیا ہے جس کا اندازہ ان کو بہت جلد ہوجائے گا۔
Ayah 48:6ویعذب المنفقین والمنفقت والمشرکین و المشرکت الظانین باللہ ظن السوہ علیھم دآئرۃ السوء ج وغضب اللہ علیھم ولعنھم واعدلھم جھنم وسآءت مصیراً (6)
اللہ تعالیٰ کے امتحان کا دوسرا پہلو
یہ اس امتحا ن کے دوسرے پہلو کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ جس امتحان سے اہل ایمان کے لئے فوز عظیم کی راہ کھولتا ہے وہی امتحان لازماً منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کے لئے سب سے بڑی تباہی یعنی دوزخ کی راہ کھولتا ہے اس لئے کہ اس سے ان کے کھوٹ ابھر کر سامنے آجاتے ہیں اور اللہ کی حجت ان تمام ہوجاتی ہے۔
الظالین باللہ ظن السوء سے ان منافقین کے ان گمانوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آیت 14 میں بدین الفاظ آیا ہے۔ بل طننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابدآ وزین ذلک فی قلوبکم وظنن تم ظن السوء سے وکنتم قوماً یوراً ، (بلکہ تم نے یہ گمان گیا کہ رسول اور مسلمانوں کو اس سفر سے اپنے گھر والوں کی طرف کبھی پلٹنا نصیب نہ ہوگا۔ یہ گمان تمہارے دلوں میں رچ بس گیا اور تم نے برے برے گمان کئے اور اس طرح تم ہلاک ہونے والے بنے۔)
منافقین اور مشرکین میں مماثلت
منافقین و منانقات کے ساتھ مشرکین و مشرکات کا جوڑ اس گہری قلبی و ذہنی مماثلت کی بنا پر ہے جو دونوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جس طرح ایک مشرک اپنے رب کے ساتھ عہد بندگی کا مدعی ہوتے ہوئے دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک منافق بھی اللہ و رسول کے ساتھ عہد ایمان و اطاعت کا مدعی ہوتے ہوئے غیرون سے مسنطیعکم فی بعض الامر (ثور :26) (بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کے ساتھ رہیں گے) کی سازشیں کرتا ہے۔ اس اشتراک کی بنا پر قرآن نے نفاق کو شرک قرار دیا ہے جس کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب ”حقیقت شرک“ میں کی ہے یہاں منافقین کا ذکر مشرکین کے ساتھ کر کے قرآن نے ان کا درجہ معین کردیا کہ اس طرح کے مدعیان ایمان کا حشر بالآخر ان مشرکوں کے ساتھ ہی ہوگا جن کے یہ ہم مسلک و ہم مشرب ہیں۔
ایک بلیغ جملہ معترضہ
علیھم وآئرۃ السوء کا فقرہ بطور جملہ معترضہ ہے۔ جب اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل سے متعلق ان کے برے گمانوں اور ان کی بری تمنائوں کا ذکر آیا توسلسلہ کلام کے بیچ میں بغیر توقف کے، فرما دیا کہ یہ لوگ مسلمانوں کے اوپر بری گردش کے منتظر ہیں حالانکہ بری گردش درحقیقت خود انہی کے اوپر ہے اس لئے کہ یہ لوگ جن لوگوں سے لو لگائے ہوئے ہیں ان کا انجام بہت جلد ان کے سامنے آجانے والا ہے اور اسی انجام سے یہ بھی دوچار ہوں گے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے، ان کے لئے اللہ نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔
مردوں کے پہلو بہ پہلو عورتوں کے ذکر کی حکمت
یہاں ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے۔ اوپر اہل ایمان کے بیان میں بھی اور پھر منافقین و مشکین کے ذکر میں بھی مردوں کے ساتھ عورتوں کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آزمائش کے دور کے حالات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ اس دور میں اگر کسی گروہ کے اندر نفاق پورش پاتا ہے تو اس کی پرورش میں بڑا دخل بیوی بچوں کا ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ منافقین کے اس قول سے بھی ہو رہا ہے جس کا حوالہ آگے آیت 11 میں ہے کہ شغلتنا اموالنا واھلونا (ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے پھنسائے رکھا) اور حدیث میں بھی ارشاد ہے کہ الولد مبغلہ مجبنہ، (آل و اولاد سب سے زیادہ بخل و بزدلی میں مبتلا کرنے والے ہیں) اسی طرح اگر کسی گروہ کے اندر ایمان مستحکم ہوتا ہے تو اس میں بھی بیوی بچوں کے عزم و صبر اور ان کے اعتماد علی اللہ کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق دونوں کے ذکر میں عورتوں کا کردار بھی سامنے آجائے تاکہ مومنات اور منافاقات دونوں اپنی اپنی جگہ پر واقف ہوجائیں کہ ان کا رب نہ اپنی مونہ بندیوں کی جاں نثاریوں سے بیخبر ہے اور نہ منافقات کی تن آسانیوں اور دنیا پرستیوں سے۔
Ayah 48:7وللہ جنود السموت ولارض ط وکان اللہ عزیز حکیماً 7
منافقین سے اظہار بیزاری
یہی ٹکڑا صرف ایک لفظ عزیز کے فرق کے ساتھ اوپر آیت 4 میں بھی شامل ہے۔ وہاں یہ ایک خاص پہلو سے آیا ہے۔ یہاں یہ ان منافقین کے اظہار سے بیزاری و بےنیازی کے لئے وارد ہوا ہے کہ اگر یہ منافقین جہنم ہی کے ایندھن بننا چاہتے ہیں تو بن جائیں خس کم جہاں پاک، اللہ کو ان بزدل لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اس کے اپنے ہیں۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے اور ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے۔ اپنی حکمت کے تحت وہ ان لشکروں کو جس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ کسی کی بزدلی اور پست ہمتی اس کے ارادوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
Ayahs 48:8–95۔ آگے آیات 21-8 کا مضمون
آگے کی آیات میں پہلے نبی ﷺ کا مرتبہ و مقام واضح فرمایا ہے پھر اس مرتبہ و مقام کے تقاضے سے اہل ایمان پر آپ کے جو حقوق قائم ہوئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت سے جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوئیں ان کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر ان منافقین کے رویہ پر تفصیل سے تبصرہ کیا ہے جو اس موقع پر جھوٹے بہانے پیدا کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے۔ عمرہ کے لئے اس ڈر سے نہیں نکلے کہ مسلمانوں کو اس سفر سے پلٹنا نصیب نہیں ہوگا۔ پھر ان جاں باز مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے جنہوں نے نہایت بےسرو سامانی کے حال میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی اور اپنے اخاصو صدق نیت کے صلہ میں اللہ تعالیٰ کی ابدی خوشنودی کے حق دار اور دنیا میں اس کی تائید و نصرت کے سزا وار قرار پائے … آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-6 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
انا ارسلنک شاھداً ومبشراً فنذیراً لتومنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ وتوقرہ وتسبحوہ بکرۃ و اصیلاً (9-8)
نبی صلعم کے مرتبہ و مقام کا بیان
نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے تم کو لوگوں کی طرف اپنے دین کی گواہی دینے والا اور مبشر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ گواہی دینے والا یعنی اپنے دین کی گواہی دینے والا کہ ہم اپنے بندوں کو کس چیز کا حکم دیتے اور کس بات سے روکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس لئے بھی بھیجا ہے کہ ان لوگوں کو جنت کی بشارت دو جو تمہاری گواہی قبول کر کے اپنی زندگیاں سنوار لیں اور ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرائو جو تمہاری گواہی کو رد کردیں یا اس کو وہ اہمیت نہ دیں جس کی یہ سزا وار ہے۔ یہ بات اگرچہ ایک عام کلیہ کی حیثیت سے ارشاد ہوئی ہے لیکن کلام کے تدریجی ارتقاء سے یہ حقیقت آپ سے آپ واضح ہوجائے گی کہ روئے سخن منافقین کی طرف ہے۔ جنہوں نے نبی ﷺ کی رسالت کا زبان سے اقرار تو کرلیا تھا لیکن اس اقرار کے تضمنات سے وہ گریز اختیار کرنے کی راہیں ڈھونڈھتے رہتے تھے۔
شاہد کا مفہوم
شاھد کے معنی ہیں گواہی دینے والا، یعنی لوگوں کے سامنے اللہ کے دین کی گواہی دینے والا عام طور پر لوگوں نے اس سے وہ گواہی مراد لی ہے جو آپ آخرت میں دیں گے لیکن ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آخرت میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) جو گواہی دیں گے وہ اسی بناء پر تو دیں گے کہ انہوں نے اس دنیا میں لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دی ہے۔ اس گواہی پر الاحزاب کی آیات 47-45 کے تحت ہم بحث کر آئے ہیں۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ حضرات انبیاء جو گواہی آخرت میں دیں گے المآئدۃ کی تفسیر میں اسپر مفصل بحث ہوچکی ہے۔
رسول اللہ صلعم کی بعثت کا مقصد اور امت پر آپ کا حق
لتومنوا باللہ ورسولہ و تعزروہ وتوقرہ ط وتسبحوہ بکرۃ و اصیلاً ، یہ مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ ہم نے اپنے رسول کو شاہد اور مبشر اور نذیر بنا کر اس مقصد سے بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، رسول کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور اللہ کی صبح و شام تسبیح کرو۔ ایمان سے مراد ظاہر ہے کہ سچا اور پکا ایمان ہے اللہ پر بھی اور اس کے رسول پر بھی۔ اس کے بعد سعودی ترتیب سے یعنی نیچے سے اوپر کو چڑھتے ہوئے اس ایمان کے وہ تقاضے بیان ہوئے جو بالکل بدیہی ہیں۔ رسول پر ایمان کا یہ تقاضا بیان فرمایا کہ اللہ کے دین کی اقامت کے لئے جدوجہد وہ کر رہے ہیں اس میں ان کے دست و باز و بنوا اور ان کی توقیر و تعظیم اللہ کے رسول کی حیثیت سے کرو۔ پھر اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ بیان فرمایا کہ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔
مفسرین کی ایک غلط فہمی کا ازالہ
عام طور پر لوگوں نے تعزروہ و توقروہ کا تعلق بھی اللہ تعالیٰ ہی سے مانا ہے۔ ان کے خیال میں اگر ضمیر مفعول کا مرجع رسول مانا جائے تو اس سے بعد پیدا ہوجاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ خیال غلط فہمی پر مبنی ہے۔ یہاں تر تیب، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سعودی ہے، اس وجہ سے بعد نہیں پیدا ہوتا۔ اللہ و رسول پر ایمان کے مطالبہ کے بعد پہلے رسول کا حق اس نے بیان فرمایا کہ رسول کا ذکر ترتیب میں مئوخر تھا اس وجہ سے اس کے ذکر سے متصل ہی اس کا حق بیان فرما دیا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا حق بیان فرمایا۔ یہ ترتیب بیان قرآن میں جگہ جگہ اختیار فرمائی گئی ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اگر تعزروہ وتوقرہ کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے نہ مانا جائے تو اس سے کلام میں بعض خرابیاں پیدا ہوجائیں گی جن سے کلام کو پاک ہونا چاہئے۔ مثلاً
ایک یہ کہ یہ آیت نبی ﷺ کے حقوق کے بیان کے سیاق وسباق میں ہے اس میں غایت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کس مقصد سے شاہد اور مبشر و نذیر بنا کر بھیجا لیکن یہ تاویل اختیار کرلی جائے تو آیت آپ کے حقوق کے ذکر سے خالی رہ جاتی اور سیاق و سبقا سے کٹ جاتی ہے۔
دوسری یہ کہ یہاں روئے سخن اصلاً منافقین کی طرف ہے جن کی اصلی کمزوری یہ تھی کہ وہ، ایمان کے مدعی ہونے کے باوجود نبی ﷺ کی اطاعت، جہاد میں آپ کی نصرت اور آپ کی صحیح تعظیم و توقیر (جس کی وضاحت اگلی سورة میں آئے گی) سے عاری تھے۔ یہ صورتحال مقتضی تھی کسان کو رسول پر ایمان کے یہ بدیہی تقاضے بتائے جائیں۔ اگر تعزروہ و توقروہ کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے نہ مانا جائے تو آیت اپنے موقع و محل سے بےتعلق ہوجائے گی۔
تیسری یہ کہ تعزیر اور توقیر کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے موزوں نہیں ہیں، یہ اپنے مواقع استعمال کے لحاظ سے رسول ہی کے لئے موزوں ہیں۔ توقروہ کا لفظ تو اللہ تعالیٰ کے لئے بالکل ہی ناموزوں ہے۔ تعزروہ بھی کہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں استعمال ہوا ہے جہاں بھی استعمال ہوا ہے رسولوں ہی کے لئے ہوا ہے۔ ملاحظہ ہوا المآئدۃ :12 اور الاعراف 157 الفاظ کی موزونیت پر ہم نے سورة محمد کی آیت 25 کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ قرآن میں بہت سی آیتیں ایسی ہیں جن میں مختلف افعال استعمال ہئے ہیں اور صرف فعل سے یہ متعین ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی فعل کا فاعل یا مفعول کون ہے۔ اس چیز کا تعلق زبان کے ذوق سے ہے۔ اگر اس کا پورا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس سے آیات کی تاویل میں بڑی غلط فہمیاں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔
Ayah 48:10ان الذین یبایعونک انمایبا یعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ج ومن اونی بما عھد علیہ اللہ فستیرتیہ اجراً عظیماً 10
رسول کے ہاتھ پر بیعت کی ذمہ داریاں
یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید تائید ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ تمہارے ہاتھ پر سمع و طا اعت کی بیعت کرتے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ تم سے بیعت نہیں کرتے بلکہ درحقیقت وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ بیعت کے وقت ان کے ہاتھوں کے اوپر جو ہاتھ ہوتا ہے وہ تمہارا نہیں بلکہ اللہ کا ہوتا ہے۔ اگر وہ یہ بیعت کر کے ان کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کریں گے اور اپنے عمل سے اس عہد کو توڑیں گے جس کو اپنے قول سے انہوں نے باندھا ہے تو یاد رکھیں کہ اس کا وبال انہی کے اوپر آئے گا اس لئے کہ اس معاہدے میں اصل فریق اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کے ساتھ بد عہدی کرنے والا خود ہی خسارے میں پڑتا ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جو شخص وہ ذمہ داری پورے کرے گا جس کے اٹھانے کا اس نے عہد کیا ہے وہ ہرگز خسارے میں نہیں رہے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس وہ اس کا بہت بڑا اجر پائے گا۔ عام طور پر لوگوں نے اس آیت کو بیعت رضوان سے متعلق سمجھا ہے حالانک ہ اس کو بیعت رضوان سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ بیعت رضوان کا ذکر آگے آیت 18 میں آئے گا۔ یہ سمع وطاعت کی اس عام بیعت کا ذکر ہے جو ہر ایمان لانے والے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر کرتا تھا۔ یہاں اس کی عظمت و اہمیت اور اس کی ذمہ داریاں منافقین کو غیرت دلانے کے لئے بیان کی گئی ہیں کہ وہ رسول کے ہاتھ پر بیعت تو کر بیٹھے لیکن جب اس کے مطالبات پورے کرنے کا وقت آیا تو منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ ان پر یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت درحقیقت اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ہے۔ اگر کوئی اس بیعت کی ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرتا ہے تو وہ اللہ سے کئے ہوئے معاہدے کو توڑتا ہے اور اس کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی ہے۔
ایک نحوی شبہ کا ازالہ
اس آیت میں علیہ اللہ کی ضمیر مجرور پر جو ضمہ ہے اس کی بنا پر بعض مستشرقین نے قرآن کی نحو پر اعتراض کیا ہے۔ ان بیچاروں کو پتہ نہیں ہے کہ نحو کی کتابیں قرآن کے اسلوب و اعراب کو پرکھنے کے لئے کسوٹی نہیں ہیں بلکہ قرآن نحو کی کتابوں کے جانچنے کے لئے کسوٹی ہے۔ قرآن قریش کی ٹکسالی زبان کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اور ہر پہلو سے بالکل محفوظ بھی ہے۔ اس وجہ سے اگر اس کی کوئی چیز نحو کے مروجات کے خلاف نظر آئے گی تو اس کی بنا پر قرآن کو متہم نہیں کریں گے بلکہ اس کو اہل نحو کے تتبع کے نقص پر محمول کریں گے۔ سیبویہ فن نحو کا امام ہے۔ میرے استاذ مولانا فراہی بھی اس کو امام مانتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کے متعدد مسائل پر کلام عرب کی روشنی میں تنقید کر کے بتایا ہے کہ معروف اسلوب وہ ہے جو قرآن نے اختیار کیا ہے نہ کہ وہ جو سیبو یہ نے قرار دیا ہے۔
فصیح عربی میں صرف آہنگ و صورت کے تقاضوں کے تحت بھی الفاظ، حروف اور ضمیروں پر ایسے ایسے تصرفات ہوئے ہیں کہ اگر کسی شخص کا علم صرف نحو کی کتابوں ہی تک محدود ہو تو وہ ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ یہ ضمیروں ہی کا مسئلہ لیجیے۔ قرآن میں متعدد مثالیں ایسی موجود ہیں کہ ضمیر لفظ کے اندر بالکل مدغم ہو کے رہ گئی ہے اور اس کی وجہ آہنگ و صورت کے تقاضے کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ مثلاً الاعراف کی آیت 111 میں ہے ارجہ واخاہ (اس کو اور اس کے بھائی کو ابھی ٹالو) اسی طرح سورة نور کی آیت 52 میں ہے۔ یخش اللہ ویتقہ (اللہ سے ڈرے اور اس سے تقویٰ اختیار کرے۔)
آیت زیر بحث میں جس طرح ضمہ لوگوں کو عجیب ملعوم ہوتا ہے بعینہ یہی صورت سورة کہف آیت 63 میں بھی ہے : وما انسنیہ الا الشیطن (اور مجھے اس سے نہیں غافل کیا مگر شیطان نے) یہاں مثالوں کا استقصار مقصود نہیں ہے۔ اس مسئلہ کی مزید تحقیق کے خواہشمندوں کو آخری گروپ کی سورتوں میں بہت سی مثالیں ملیں گی کہ صرف آہنگ و صوت کے تقاضے سے حروف، الفاظ الفاظ اور ضمیروں کی ہئیت میں ایسی تبدیلیاں ہوگئی ہیں جن کی اہل نحو کوئی توجیہ نہیں کر پاتے۔ یہاں بھی وہی صورت ہے۔
Ayah 48:11سیقول لک المخلفون من الاعراب شغلتنآ اموالنا واھلونا فاستغفرلنا ج یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم ط قل فمن یملک لکم من اللہ شیاء ان ارادیکم ضراً اوآرادبکم نفعاً ط بل کان اللہ بما تعملون خبیراً 11
منافقین کی پردہ داری
اب یہ وہ اصل بات ارشاد ہوئی ہے جس کے لئے اوپر کی تمہید استوار کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جب تم اس سفر سے بخیریت گھر پہنچو گے تو بدویوں میں سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے۔ جھوٹے عذرات لے کر تمہارے پاس آئیں گے کہ مال مویشی کی ذمہ داریوں اور بیوی بچوں کی دیکھ بھال کی مصروفیتوں نے ہمیں آپ کی ہمرکابی کے شرف سے محروم رکھا ہماری مجبوریوں پر نگاہ فرما کر اس کوتاہی کی معافی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمایئے۔ ان لوگوں کی یہ معذرت درخور اعتنا نہیں۔ یہ زبانوں سے وہ بات کہیں گے جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔
قل فمن یملک ککم من اللہ شیاء ان ارادبکم ضراً و ارادبکم نفعاً یعنی ان لوگوں سے پوچھو کہ اگر اپنے مفادات و مصالح کی اتنی اہمیت ہے کہ ان کی خاطر خدا اور رسول کے حقوق نظر انداز کرتے ہو تو بتائو کہ خدا اگر تمہیں کوئی ضرر یا نفع پہنچانا چاہے تو اس کے مقابل میں کون آڑے آئے گا !
بل کان اللہ بما تعملون خبیراً یعنی اس قسم کے لاطائل عذرات کی آڑ میں چھپنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ تمہارے تمام کارناموں سے، جو پس پردہ تم کرتے رہو ہو، اچھی طرح باخبر ہے۔
لفظ مخلف کا مفہوم
یہاں ان منافقین کے لئے لفظ مخلفون استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے درآنحالیہ یہ لوگ خود پیچھے رہ جانے والے تھے۔ اس کی وجہ ہم سورة برأت میں بسلسلہ منافقین غزوہ تبوک واضح کرچکے ہیں کہ جب ان لوگوں نے پیچھے بیٹھ رہنے ہی کو اپنی دانش مندانہ سیاست سمجھا تو اللہ نے بھی ان کو پیچھے پھینک دیا، جیسا کہ فرمایا ہے فلما زاغوآ ازغ اللہ قلوبھم (الصف : 5) یعنی یہ لوگ اپنی بزدلی کے سبب سے آگے بھڑنے والے نہ بنے۔ اس وجہ سے خدا نے بھی ان کو پیچھے دھکیل دیا۔ یہ لوگ زیادہ تر اطراف مدینہ کے دیہاتوں یس تعلق رکھنے والے تھے اس وجہ سے ان کے لئے لفظ اعراب استعمال ہوا ہے جو اہل بدو کے لئے معروف ہے۔
قل فمن یملک لکم من اللہ شیئاً من یملک متضمن ہے یمنع کے معنی پر اور من کا صلہ اس تضمین پر دلیل ہے۔ ترجمہ میں ہم نے لفظ کے اس مضمر مفہوم کو کھول دیا ہے۔
Ayah 48:12بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابداً وذین ذلک فی قلوبکم و ظننتم ظن السوہ وکنتم قوماً بوراً 12
منافقین کے دلوں کا اصلی بھید
اوپر والی آیت میں ان کے دلوں کے جس بھید کی طرف اشارہ فرمایا ہے یہ اس کی وضاحت ہے کہ اصل چیز جس نے تم کو اس سفر سے روکا وہ تمہارا یہ گمان تھا کہ اب کے قریش ان مسلمانوں کو کچا ہی کھا جائیں گے اور کبھی ان کو اور ان کے پیغمبر کو اپنے اہل و عیال کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا۔
وزین ذلک فی قلوبکم وظننتم ظن السوء یعنی یہ گمان چونکہ تمہارا ایک دل پسند گمان تھا اس وجہ سے تم نے اپنے دلوں میں اس کو اچھی طرح آراستہ کیا اور سنت الٰہی کے مطابق یہ تمہارے دلوں میں اچھی طرح کھبا دیا گیا۔ پھر اس کے زیر اثر تم نے اسلام کے مستقبل سے متعلق نہایت برے برے گمان کئے اور یہ سمجھ بیٹھے ہ بس اب چند دنوں کے اندر اندر اس کا قصہ تمام ہوا جاتا ہے۔
وکنتم قوماً بوراً ، یعنی تم تو اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کے منتظر رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے علم الرغم ان کو فتح مبین عطا فرمائی البتہ تم لوگ جو اس بات پر نازاں رہے کہ پیغمبر کا ساتھ نہ دے کہ تم نے بڑے دانش مندانہ اور کامیاب سیاست اختیار کی، اپنے آپ کو ہلاکت کے کھڈ میں گرانے والے بنے۔
بور جمع ہے بائر کی اس کے معنی ہلاک ہونے والے کے ہیں۔
Ayah 48:13ومن لم یومن باللہ و رسولہ فانا اعتدنا للکفرین سعیراً 13
منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ
یہ انہی منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنا فیصلہ سنایا ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہوئے اللہ و رسول کے حقوق ادا کرنے کے معاملے میں ایسے بزدل اور اسلام کے غلبہ کے بجائے اس کی تباہی کی آرزوئیں اپنے دلوں میں پرورش کر رہے ہیں وہ اللہ اور رسول پر ایمان رکھنے والے نہیں بلکہ کافر ہیں اور یہ کافر لوگ یاد رکھیں کہ ہم نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
Ayah 48:14وللہ ملک السموت والارض یغفرلمن یشآء و یعذب من یشآء وکان اللہ غفوراً رحیما 14
اور یہ لوگ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ خدا کی پکڑ سے کوئی اور بچانے والا نہیں ہوگا۔ آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے کوئی دوسرا اس کی اس بادشاہی میں شریک نہیں ہے۔ وہی جس کو چاہے گا بخشے گا جس کو چاہے گا سزا دے گا۔
وکان اللہ غفوراً رحیماً البتہ یہ اطمینان ہر شخص کو رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ وہ لوگوں کو پکڑنا اور سزا دینا نہیں بلکہ ان پر مہربانی کرنا چاہتا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو چاہئے کہ وہ غلط سہارے ڈھونڈنے کے بجائے اس کی رضا طلبی کی وہ راہ اتخیار کریں جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعہ سے لوگوں کے لئے کھولی ہے۔
Ayah 48:15سیقول الملخقون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوھا ذرونا نتبعکم یریدون ان یبدلوا کلم اللہ ط قل لن تتبعونا کذلکم قال اللہ من قبل فسیقولون بل تحسدوننا، بل کانوا لایفھون الا قلیلاً 15
یعنی اس موقع پر تو یہ بزدل لوگ بہانے بنا کر اپنے گھروں میں بٹھ رہے لیکن آگے جب ایسے مواقع آئیں گے جن میں تم کو بغیر کسی جنگ کے بھرپور مال غنیمت حاصل ہونے کی توقع ہوگی تو یہ بھی بڑے شیر مرد بن کر تمہارے پاس آئیں گے کہ انہیں بھی ساتھ چلنے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح وہ چاہیں گے کہ اللہ نے ان کے بارے میں جو فیصلہ فرمایا ہے اس کو بھی بدل دیں اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے مال غنیمت بھی حاصل کرلیں۔ فرمایا کہ جب اس طرح کا موقع آئے تو ان سے کہہ دنیا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے۔ اللہ نے اسی طرح کا حکم تمہیں اس سیپہلے بھی دیا لیکن اس وقت تم اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تو اب ہمارے ساتھ نکلنے کے لئے کیوں بےچین ہوا۔
الی مغانم لتاخذوھا سے خیبر وغیرہ کی ان غنیمتوں کی طرف اشارہ ہے جو واقعہ حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ ان غنیمتوں کے لئے مسلمانوں کو کوئی خاص جنگ نہیں کرنی پڑی بلکہ دشمن نے مسلمانوں سے مرعوب ہو کر خود ہی میدان خالی کردیا۔ خیبر کے یہودی بڑے مالدار تھے اس وجہ سے مسلمانوں کو کثیر مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔ لتاخذوا کے ا لفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ گویا مسلمان گھروں سے نکلے ہی اس لئے کہ بغیر لڑے بھڑے مال غنیمت باندھ کر واپس آجائیں۔
یریدون ان یبدلوا کلام اللہ یعنی یہم ناقین اس طرح کے مواقع پر ساتھ دینے کی پیشکش کر کے یہ چاہیں گے کہ اللہ کی اس بات کو بدل دیں جو انکے بارے میں اس نے فرمائی ہے۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے جو اوپر آیت 6 میں بدیں الفاظ ارشاد ہوئی ہے۔ ویعذب المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت الظآنین باللہ ظن السوء علیھم دآئرۃ السوہ وغضب اللہ علیھم ولضھم واعدلھم جھنم وسآءت مصیراً (اور تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرکین و مشرکات کر جو اللہ کے باب میں برے گمان رکھنے والے ہیں۔ برائی کی گردش انہی پر ہے ! اور ان پر اللہ کا غضب ہوا اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم اس نے تیار کر رکھی ہیچ اور وہ برا ٹھکانا ہے) مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں دین کے لئے کچھ کرنا تو نہ پڑے لیکن دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے فوائد ان کو حاصل ہوں لیکن ان کی یہ خواہش پوری ہونے والی نہیں ہے۔ ان کے باب میں اللہ کی بات اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک وہ اپنی حالت دین کے صحیح تقاضوں کے مطابق بدل نہ لیں۔
قل لن تتبعوماکذلکم قال اللہ من قبل یعنی اگر وہ تمہایر ساتھ نکلنے کی اجازت چاہیں گے تو ان کو اجازت نہ دیجیو بلکہ ان سے صاف صاف کہہ دیجیو کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے۔ اسی طرح کا حکم تو اللہ نے تم کو پہلے دیا تھا لیکن تم نے اس کی تعمیل نہ کی بلکہ دبک کر گھروں میں بیٹھ رہے۔ ہمارے نزدیک یہ اشارہ عمرہ کی اس منادی عام کی طرف ہے جو آنحضرت ﷺ نے کرائی لیکن ان منفاین نے اس کی تعمیل سے، جیسا کہ اوپر تفصیل سے واضح ہوا گریز اختیار کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس سے پہلے تم رسول اور مسلمانوں کے ساتھ نکلنے سے گریز اختیار کرچکے ہو تو اب اس کے لئے اتنے کیوں لے قرار ہو ؟ کیا اس لئے کہ اب کے تمہیں بغیر کسی خطرے کے لقمہ ترکی توقع ہے۔
ایک غلط فہمی
بعض لوگوں نے کذلکم قال اللہ من قبل سے اس قول کو مردا لیا ہے جس کا ذکر سورة توبہ کی آیت 82 میں ہے۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہو سکتی۔ سورة توبہ میں ان منافقین کا ذکر ہے جنہوں نے غزوہ تبوک کے موقع پر بزدلی دکھائی تھی۔ یہ غزوہ حدیبیہ کے واقعہ کے بہت بعد پیش آیا اور یہاں اشارہ کسی ایسے واقعات کی طرف ہے جو حدیبیہ سے پہلے پیش آیا ہو من قبل کے الفاظ اس پر دلیل ہیں۔
فسیقولون بل تحسدوننا … الایۃ یعنی اگرچہ یہ لوگ اجازت نہ دینے پر بہت جزبز ہوں گے اور حسد کرنے کا طعنہ دیں گے لیکن ان کے اس طعنہ کی مطلق پروا نہ کی جائے اس لئے کہ یہ نہایت کم فہم لوگ ہیں۔ اپنی کم فہمی کے سبب سے یہ چاہتے ہیں کہ دین کے نام پر فوائد تو سب حاصل کریں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن قربانی ان کو کوئی نہ دینی پڑے۔ ان پر اب یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ ان کی اس طرح کی طفلانہ آرزوئیں پوری ہونے والی نہیں ہیں۔
Ayah 48:16قل للمخلقین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونہم اویسلمون، ج فان تطیعوا یوتکم اللہ اجراً حسنا ج و ان تتولوا کما تولیتم من قبل یعذبکم عذراباً الیماً 16
منافقین کے لئے امتحان کی ایک کسوٹی
یہ ان مناففقین کے سامنے امتحان کے لئے ایک کسوٹی رکھ دی گئی ہے کہ ان کو آگاہ کردیا جائے کہ اگر تم فی الواقع اللہ و رسول کے وفادار ہو تو اس کا ثبوت تم اس طرح نہیں پہنچا سکتے کہ بغیر کوئی خطرہ مول لیے مال غنیمت حاصل کرنے کی توقع کرو بلکہ آگے وقت آ رہا ہے جب تمہیں ایک طاقتور گروہ سے جنگ کی دعوت دی جائے گی جس سے تمہیں اس عزم کے ساتھ جنگ کرنی پڑے گی کہ یا تو وہ اسلام قبول کرے یا تلوار۔ اگر تم نے یہ دعوت قبول کی اور اس دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں نہایت اچھا صلہ دے گا اور اگر تم اس وقت بھی بزدل ثابت ہوئے، جیسا کہ اس سے پہلیثابت ہوچکے ہو تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہایت درد ناک عذاب دے گا۔
بیت اللہ کی آزدای کے لئے قریش سے فیصلہ کن جنگ ناگزیر تھی
قوم اولی باس شدید سے مراد قریش ہیں۔ عرب میں انہی کی قوت و صولت ایسی تھی جس کی تعبیر کے لئے یہ الفاظ موزوں ہو سکتے ہیں۔ ان سے اگرچہ جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا تھا لیکن بیت اللہ کو ان کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ ناگزیر تھی۔ نبی ﷺ کے مقصد بعثت کی تکمیل اس کے بغیر نہیں ہو سکت تھی۔
شرکین عرب کے بےدوہی راہیں تھیں۔ اسلام یا تلوار
تقاتلونھم او یسلمون قریش کی طرف نبی ﷺ کی بعثت چونکہ براہ راست ہوئی تھی، اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث کر کے، انہی کی زبان میں، ان پر حجت تمام کردی تھی اس وجہ سے ان کے لئے دوہی راہیں باقی رہ گئی تھیں یا تو اسلام بول کریں یا تلوار دوسری قوموں کے لوگ ذمی اور معاہد بنائے جاسکتے تھے لیکن مشرکین بنی اسماعیل کے لئے اس قسم کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہاں تک کہ وہ غلام بھی نہیں بنائے جاسکتے تھے۔ بنی اسماعیل کے معاملے کی اس خاص نوعیت پر سورة برأت میں ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔
وان تتولوا اکماتولیتم من قبل یعنی اگر اس وقت بھی تم نے وہی بزدلی دکھائی جو اس سے پہلے عمرہ کے موقع پر دکھا چکے ہو تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اسیرح طک اد رد ناک عذاب دے گا جس طرح کا عذبا اس نے اسلام کے کھلے ہوئے معاندین کے لئے مقدر کر رکھا ہے۔
Ayah 48:17لیس علی الاعمی حرج ولا علی اعراج حرج ولا علی المریض حرج و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر ج و من یتول یعذبہ عذاباً الیماً 17
معذورین کا ابیان
یہ ان معذورین کا بیان ہے جن کی جہاد سے غیر حاضری نفاق پر محمول نہیں کی جائے گی۔ فرمایا کہ اندھے لنگڑے اور مریض پر کوئی الزام نہیں ہے اگر وہ جہاد میں حصہ نہ لے سکیں، بشرطیکہ وہ صدق دل سے اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہیں۔ اگر وہ اللہ و رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے تو اپنی اس مجبورانہ کوتاہی خدمت کے سبب سے جنت سے محروم نہیں کئے جائیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو بہشت میں داخل کرے گا اور اگر وہ اللہ و رسول سے اعراض کی روش اختیار کریں گے تو وہ بھی اسی درد ناک عذاب سے دوچار ہوں گے۔ جو دوسرے کفار و معاندین کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔
ان معذورین کا بیان سورة توبہ کی آیات 93-91 میں بھی ہوا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں اس کے بعض وہ پہلو واضح ہوگئے ہیں جو یہاں واضح نہیں کئے گئے ہیں۔
Ayahs 48:18–19لقد ؓ عن المومنین اذیبا یعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم واثا بھم فتحاً قریباً ومغانم کثیرۃ یا خذونھا وکان اللہ عزیزاً حکیماً 19-18
جاں بازوں کا صلہ
نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر چکنے کے بعد اس بیعت کے حقوق سے گریز اختیار کرنے والوں کے ذکر کے بعد یہ ان لوگوں کا بیان ہے جنہوں نے نہایت نازک حالات میں آپ کے ہاتھ پر حدیبیہ میں جہاد کی بیعت کی اور اس بیعت کا پورا پورا حق ادا کیا۔ ان بیعت کرنے والوں کے ذکر کا آغاز ہی لقد ؓ عن المومنین کے الفاظ سے فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جانبازوں کی اس بیعت ہی نے اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ایسی قدر کی جگہ پائی کہ ان کے لئے ابدی خوشنودی کا اعلان ہوگیا چناچہ اسلام کی تاریخ میں یہ بیعت بیعت رضوان کے نام سے موسوم ہے۔ یہ بیعت جن حالات میں آپ نے کی اور مسلمانوں نے جس جوش و خروش کے ساتھ عین دشمن کے مرکز میں، یہ بیعت کی، اس کی طرف ہم سورة کی تمہیں میں اشارہ کرچکے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسکنت کا نزول
اذیبا یعونک تحت الشجرۃ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیعت کیکر کے ایک درخت کے نیچے ہوئی تھی۔ الشجرۃ سے اشارہ کیکر کے اسی درخت کی طرف ہے۔ اس اشارے سے مقصود غربت و مسافرت کی اس حالت کو سامنے لانا ہے جس میں اسلام کی تاریخ کا یہ عظیم واقعہ پیش آیا۔
نعلم مافی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم اس بیعت میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد چودہ پندرہ سو سے زیادہ نہیں تھی۔ عمرہ کی پابندیوں کے سبب سے وہ نہتے بھی تھے۔ صرف حمیت دینی کے تقاضے سے، اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بھروسے پر قریش کی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لئے وہ کمربستہ ہوگئے۔ ایسے حالات میں ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ وانابت کی جو حالت طاری رہی ہوگی اس کا اندازہ اللہ تعالیٰ کے سوا کون کرسکتا ہے ؟ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا اور ان کی دلداری کے لئے خاص اپنے پاس سے ان پر سکنیت و طمانیت نازل فرمائی۔ یہ بات اس سنت الٰہی کے مطابق ہوئی جس کا ذکر اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جب اللہ کے بندے اس کی راہ میں جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ظاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد ہوں لیکن رب کریم ان کی حوصلہ افزائی فرماتے ہیں اور یہی حوصلہ افزائی وہ اصل قوت ہے۔ جس کو کوئی طاقتور سے طاقتور دشمن بھی شکست نہیں دے سکتا۔
حدیبیہ کے بعد کی فتوحات کی طرف اشارہ
وثابھم فتحاً قریباً ، ومغانم کثیرۃ یا خذونھا یہ اشارہ فتح خیبر اور ان غنائم کی طرف ہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد معاً مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور جن سے مسلمانوں کے دلوں کے اندر یہ اعتماد راسخ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فتح و نصرت کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ پورے ہوں گے اور حدیبیہ کے معاہدہ ان کی شکست نہیں بلکہ فتح مبین ہے اور یہ فتح مبین انشاء اللہ فتح مکہ کا دیباچہ ثابت ہوگی۔
وکان اللہ عزیزاً حکیما یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان صفات کا حوالہ دیا ہے جو اس بات کی ضمانت ہیں کہ اس کے تمام وعدے ضرور پورے ہوں گے۔ ظاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد ہوں لیکن اس کی قدرت و حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔