Ayah 47:11 الفاظ کی تحقیق و آیات کی وضاحت
الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم 1
کفار قریش کو وعید
سورة احقاف کفار کے لئے جس تہدید ووعید پر ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے یہ سورة بلا کسی تمہید کے، اس طرح شروع ہوگئی ہے گویا اسی تہدیدو وعید کا یہ عملی ظہور ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکا اللہ نے ان کی تمام کوششیں رائیگاں کردیں۔ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ اس کتفصیل سوروہ فتح کی آیت 25 کے تحت آئے گی۔ اعمال سے مرادان کی وہ سرگرمیاں ہیں جو انہوں نے اللہ کے بندوق کو ایمان اور عمل صالح کی راہ سے روکنے کے لئے صرف کیں۔ لفظ اضلال یہاں اسی مفہو میں ہے جس مفہوم میں سورة فیل میں لفظ تضلیل استعمال ہوا ہے۔ وہاں فرمایا ہے : الم یجعل کیدھم فی تضلیل (الفیل :2) کیا ان کی ساری چال اللہ نے نابود نہ کردی ؟) یہ مضمون اسی سورة کی آیات 4، 32 اور 33 میں بھی آئے گا۔
یہاں یہ امر خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ وعید اگرچہ ہے تو مستقبل سے متعلق اس لئے کہ اس سورة کے نزول کے وقت قریش ابھی مکہ پر مسلط تھے لیکن اس کا بیان ماضی کے صیغہ سے ہوا ہے اس کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ جو بات اللہ تعالیٰ کے ہاں قطعی طور پر طے ہوگئی اور جس کا ظہور لازمی ہے وہ گویا واقع ہوچکی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس قطعیت کو ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی وعیدیں قرآن میں ماضی کے صیغوں سے بھی بیان ہوئی ہیں۔ یہ اسلوب ہر زبان میں مصروف ہے اور اس کے فوائد بالکل واضح ہیں۔
Ayah 47:2والذین امنوا وعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد وھوا لحق من ربھم لا کفرعنھم سیاتھم واصلح بالھم 2
اہل ایمان کے لئے بشارت
اوپر کی آیت میں کفار کے لئے جس درجے کی تہدید ووعید ہے اس آیت میں، اسی اسلوب بیان میں، اہل ایمان کے لئے، دنیا اور آخرت دونوں میں، فیروز مندی کی بشارت ہے، فرمایا ہے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح بھی کئے، ان کے گناہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیئے اور ان کے تمام احوال بالکل درست کردیئے۔
جس طرح کفار کے لئے تہدید قطعیت کے اظہار کے لئے ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔ اسی طرح اہل ایمان کے لئے بشارت بھی ماضی کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔
دین حق وہی ہے جو رسول اللہ صلعم پر نازل ہوا۔
اس آیت میں فامنوا بما نزل علی محمد وھوا الحق من ربھم کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ ہوگا بلکہ اس کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ اس چیز پر ایمان لائے جو محمد پر اتاری گئی ہے، پھر مزید تصریح یہ ہے کہ اب خدا کی طرف سے حق یہی ہے۔ اس تصریح کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس دور میں ایک گروہ ان لوگوں کا بھی پیدا ہوگیا تھا جو کفر اور سالام دونوں کے درمیان سمجھوتے کی باتیں کرنے لگا تھا۔ اس کا نقطہ نظریہ تھا کہ مسلمانوں کا اپنی انفرادیت پر اصرار ٹھیک نہیں ہے بلکہ کچھ گنجائش دوسروں کے لئے بھی تسلیم کرنی چاہئے۔ اہل کتاب کے اندر بھی ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو کہتا تھا کہ مومن تو ہم بھی ہیں، اس سے کیا فرق پیدا ہوا کہ ہم محمد (ں) پر ایمان نہیں لائے۔ اس قسم کے باطل رجحانات کی بیخ کنی قرآن نے پچھلی سورتوں میں بھی کی ہے۔ یہاں بھی مذکورہ بالا تصریح نے اسی رجحان پر ضرب لگائی ہے کہ اب ایمان و ہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جس کی دعوت محمد ﷺ دے رہے ہیں، اس سے ہٹ کر کوئی راہ نہیں ہے۔
واصلح بالھم لفظ بال ایک جامع لفظ ہے۔ یہ ظاہر و باطن دونوں قسم کے احوال پر حاوی ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن اور دنیا و آخرت دونوں کے تمام احوال درست کر دے گا۔
Ayah 47:3ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الحق من ربھم ط کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم 3
قوت صرف حق کے اندر ہے
یہ وجہ بتائی ہے اس بات کی کہ کیوں کفار کی تمام مساعی رائیگاں ہوں گی اور کیوں اہل ایمان اپنی کوششوں میں سرخ رو اور فائز المرام ہوں گے فرمایا ہے ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ کفار نے شیطان کے سکھائے ہونے باطل کی پیروی کی ہے اور اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ باطل کے لئے ان کی عقلی اور اس کی فطرت کے اندر کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کی مثال خودرو جھاڑی کی ہے جو کسان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس کی زمین میں اگ پڑتی ہے۔ اگر وہ اکھاڑی نہ جائے تو زمین میں جڑ پکڑ لیتی ہے اور اگر کھاڑ دی جائے تو وہ بالکل بےثبات ہوتی ہے۔ چناچہ اب جب کہ اہل حق اس باطل سے نبرد آزمائی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو اس کا مٹ جانا یقینی ہے۔ جآء الحق و زھق الباطل ط ان الباطل کان ذھوقاً (بنی اسرآئیل :81) (حق آگیا اور باطل نابود ہوا، بیشک باطل نابود ہی ہونے والی چیز ہے)۔
اس کے برعکس اہل ایمان نے اس حق کی پیروی کی ہے جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ حق کی فطرت میں ثبات و استحکام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق حق ہے اور اس نے یہ دنیا بالحق پیدا کی ہے۔ اس کا اصل مزاج باطل کی پرورش نہیں بلکہ حق کی پرورش ہے۔
اب جب کہ حق آگیا ہے تو اس باطل کو لازماً ٹھکرا دے گی جو اکاس بیل کی طرح اس پر مسلط ہوگیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصلی زور و قوت اسباب و وسائل کے اندر نہیں بلکہ حق کے اندر ہے۔ اگر کشمکش باطل اور باطل کے درمیان ہی برپا ہو تب تو فیصلہ کی میزان اسباب و وسائل کے ہاتھ ہی میں ہوتی ہے لیکن کشمکش اگر حق اور باطل کے درمیان ہو تو اصلی فیصلہ کن اہمیت حق کو حاصل ہوگی، اسباب و وسائل کی حیثیت ثانوی ہوجائے گی۔
کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم مومنین اور کفار کا یہ انجام جو بیان ہوا ہے اس کی نوعیت چونکہ اس اس مرحلہ میں ابھی ایک پیشین گوئی ہی کی تھی، اس نے واقعہ کی شکل نہیں اختیار کی تھی اس وجہ سے اس کو مثال بیان کرنے سے تعبیر فرمایا۔ للناس سے مراد یہی اہل ایمان اور کفار ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے انجام کی یہ تمثیل بیان فرما دی ہے اور اس کی حقیقت عنقریب سب کے سامنے آ کے رہے گی۔
Ayah 47:4فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب ط حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد و اما فدآء حتی تضع العرب اوزادھا، ذلک ولویشآء اللہ لانتصرمنھم ولکن لیبلوا بعضکم ببعض والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم 4
کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے۔
کفار کے اندر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہے
یہ مسلمانوں کو ابھارا ہے کہ کفار حق کے سہارے سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے اندر ریڑھ کی ہڈی گویا نہیں ہے تو جب جنگ میں ان سے مقابلہ ہو تو بےدریغ ان کی گردنیں مارو، اللہ نے ان کو تمہارے لئے شکار اور تمہاری تلواروں کے لئے ایک لقمہ تر بنا دیا ہے۔ یہی بات سورة انفال میں یوں فرمائی گئی ہے۔ فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان (الانفال :12) (پس ان کی گردنوں پر ماروا اور ان کے پورا پور اور جوڑ جوڑ پر مارو)
حتی اذا اثخنتموھم فشداوالوثاق اثخان کے معنی ہیں اچھی طرح خون ریزی کرنا اور وثاق بندھن کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اچھی طرح خون ریزی کر کے ان کے کسی بل نکال چکو تو جو بچ رہیں ان کو اچھی طرح بندھنوں میں باندھ لو۔ یہ تمہارے سامنے چوں نہیں کرسکیں گے۔
فاما منا بعدواما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا یعنی اس کے بعد اگر یہ تمہارے ہاتھ سے چھوئیں تو صرف دو ہی شکلوں سے چھوٹیں، یا تو تمہایر احسان کا قلاوہ اپنی گردن میں لے کر یا فدیہ دے کر اور تمہارا یہی معاملہ اس وقت تک ان کے ساتھ رہے جب تک ان کے اندر جنگ کا حوصلہ بالکل سرد نہ پڑجائے اور یہ تمہارے آگے ڈگ نہ ڈال دیں۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں فرمائی گئی : وقاتلوا ھم حتی لاتکون فتۃ ویکون الدین کلمہ للہ، (الانفال :39) (اور ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ اس سر زمین سے فتنہ کا خاتمہ ہوجائے اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہوجائے)
بنی اسمعیل کے معاملے کی خاص نوعیت
یہ امر واضح رہے کہ جہاں تک مشرکین عرب یا بالفظ دیگر مشرکین بنی اسماعیل کا تعلق ہے ان پر اللہ تعالیٰ نے انہی کے اندر سے ایک رسول بھیج کر ان پر حجت تمام کردی اس وجہ سے دوسرے غیر مسلموں کی طرح ان کے لئے یہ رعایت نہیں تھی کہ وہ اسلامی حکومت کے اندر ذمی یا معاہد بن کر رہ سکیں یا ان کو غلام بنایا جاسکے۔ ان کے لئے صرف دو ہی راستے تھے یا اسلام قبول کریں یا تولار۔ اس کے وجوہ کی تفصیل سورة برأت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ کسی مسلمان قیدی کیف دیہ میں یا نقدو جنس کی شکل میں فدیہ لے کر یا احسانا ان کے کسی قیدی کو چھوڑا بھی جاسکتا تھا اور اگر ان میں سے کوئی اپنے رویہ پر غور کرنے کے لئے امان کا طالب ہو تو اس کو امان بھی دی جاسکتی تھی لیکن بحیثیت جماعت ان کے ساتھ جنگ کی حالت اس وقت تک باقی رہنی تھی جب تک سر زمین حرم کفر و شرک کے ہر شائبہ سے پاک نہ ہوجائے۔ اس مسئلہ میں فقہاء کے اندر جو اختلافات ہیں وہ بڑی الجھن میں ڈالنے والے ہیں۔ اس کی وضاحت سورة برأت کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں معاملہ زیر بحث مشرکین بنی اسماعیل کا ہے، دوسرے غیر مسلموں کے مسئلہ پر یہاں بحث نہیں ہوئی ہے۔ امام ابوحنیفہ جو یہ فرماتے ہیں کہ مشرکین کے قیدیوں کے باب میں احسان اور فدیہ کی اجازت منسوخ ہوگئی، وہ صرف قتل کئے جاسکتے ہیں یا غالم بنائے جاسکتے ہیں تو اس کا اتنا حصہ صحیح ہے کہ مشرکین عرب کے ساتھ یہ رعایت مقوف تھی جو بالآخر فتح مکہ کے بعد ختم ہوگئی لیکن ان کا یہ فرمانا کہ وہ غلام بنائے جاسکتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ مشرکین عرب نہ غلام بنائے جاسکتے تھے نہ ذمی نہ معاہد
امام شافعی کے نزدیک امام کو اختیار ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو پیش نظر رکھ کر، اس قسم کے قیدیوں کے ساتھ چار باتوں میں سے جو بات بھی مناسب خیال کرے، کرسکتا ہے چاہے قتل کرا دے، چاہے غلام بنا لے، چاہے فدیہ لے کر چھوڑ دے، چاہے احساناً چھوڑ دے۔ ہمارے نزدیک امام شافعی کی یہ رائے عام غیر مسلم قیدیوں کے حد تک تو صحیح ہے لیکن مشرکین عرب کے باب میں یہ کلیہ صحیح نہیں ہے۔ وہ ذمی یا غلام نہیں بنائے جاسکتے تھے۔ یہاں اس مسئلہ کی تفصیلات میں جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ تفصیل کے طالب ہماری کتاب ”اسلامی ریاست“ میں باب اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق“ کا مطالعہ کریں۔
ذلک ولو یشآء اللہ لانتصرمنھم لا ولکن لیبلوا ابعضکم ببعض ذلک ایک جملہ کا قائم مقام ہے۔ اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ یہ کام ہے جو تمہارے کرنے کا ہے۔ یا یہ کام ہے جس کے لئے کمر ہمت باندھو یا کام ہے جس کے لئے تمہیں ہدایت کی جاتی ہے۔ اس قسم کے اجمالی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر تفصیل بھی سما جاتی ہے اور جملہ کے اندر زور بھی پیدا ہوجاتا ہے۔
جہاد کی مصلحت
ولو یشآء اللہ …الآیۃ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے جنگ کا حکم جو دے رہا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ان سے نمٹنے کے لئے تمہارا یا کسی کا محتاج ہے۔ وہ چاہتا تو خود ہی کوئی ارضی یا سماوی آفت بھیج کر ان کو ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ ان سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے چشم زدن میں اپنے کسی عذاب سے تباہ کردیا۔ اسی طرح اللہ ان کو بھی تباہ کردیتا لیکن اس نے تمہیں ان سے جنگ کا حکم اس لئے دیا کہ اس طرح تمہارا اور ان کا دونوں کا امتحان ہو۔ وہ اپنے باطل کی حمایت کے لئے جو جوش و جذبہ رکھتے ہیں وہ بھی سامنے آجائے اور تم اپنے حق کے لئے جو جذبہ فدویت و وفاداری رکھتے ہو وہ بھی بالکل ظاہر ہوجائے نیز یہ بھی معلوم ہوجائے کہ تمہارے اندر کتنے ہیں جو راستباز و وفار شعار ہیں اور کتنے ہیں جو محض منافقانہ اپنے مفادات کے لئے تمہاری صفوں میں آگھسے ہیں۔
ایک سنت الٰہی
یہاں اس سنت الٰہی پر بھی نگاہ رہے کہ رسولوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یوں رہا ہے کہ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوئی ہے تو رسول اور اس کے ساتھیوں کو ہجرت کا حکم ہوا ہے اور اس کے تمام مکذبین کو اللہ نے کسی ارضی یا سماوی عذاب سے تباہ کردیا ہے اور اگر رسول کے ساتھیوں کی تعداد بھی معتدبہ ہوئی ہے تو ان کو جاد کا حکم ہوا ہے اور ان کے ہاتھوں اللہ نے ان کے دشمنوں سے انتقامل لیا ہے اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ آپ سے پہلے بھی نبیوں اور رسولوں کو جہاد کرنا پڑا ہے۔ فرعون کے مقابل میں حضرت موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کی مدد اللہ تعالیٰ نے سمندر کے طوفان سے کی۔ پھر دری پار کرنے کے بعد ان کو متعدد چھوٹی بڑی جنگیں خود لڑنی پڑیں جن میں بنی اسرائیل کا اچھی طرح امتحان ہوگیا۔ وہ بیشتر امتحانوں میں ناکام رہے جس کی ان کو سزا بھگتنی پڑی۔
منافقین کی ایک گمان کی تردید
والذین قتلوا فی سبیل اللہ فلن یضل اعمالھم فرمایا کہ اس جہاد میں جو لوگ شہید ہوں گے وہ اطمینان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی رائیگاں نہیں کرے گا بلکہ اس قربانی کا بھرپور صلح ہان کو دے گا۔ فلن یضل اعمالھم کے الفاظ ان منافقین کے خیال کو سامنے رکھ کر ارشاد ہوئے ہیں جن کا ذکر تفصیل سے آگے آ رہا ہے۔ یہ لوگ چونکہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تھے اس وجہ سے ہر وہ قربانی ان کے نزدیک خسارہ کے حکم میں تھی جس کا نفع ان کو نقد نقد حاصل نہ ہوجائے۔ یہ الفاظ انہی کے خیال پر ضرب لگانے کے لئے ارشاد ہوئے ہیں۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے باب میں یہ جو ارشدا ہوا ہے کہ ان کو مردہ نہ خیال کرو، وہ زندہ ہیں، وہ بھی اسی قسم کے لوگوں کی تردید میں ہے۔
والذین قتلوا میں مستقبل کی جگہ ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ یہ بشارت ان لوگوں پر بھی حاوی ہوجائے جو راہ حق میں اس سے پہلے قتلے ہوئے۔
Ayahs 47:5–6سیدھیھم ویصلح بالھم ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم 6-5
اوپر والی آیت میں جو بات فلن یضل اعمالھم کے منفی اسولب میں فرمائی گئی ہے وہی بات یہ مثبت اسلوب میں ارشاد ہوی تاکہ بات پوری طرح واضح اور موکد ہوجائے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راہ یاب کرے گا اور ان کے جملہ حالات سنوار دے گا۔ ہدایت یاب کرنے سے مقصود یہاں منزل مقصود کی ہدایت ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی آخری منزل جنت … سے ان کو ہمکنار کرے گا۔
لفظ ہدایت، قرآن میں جگہ جگہ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں، آگے بھی آئیں گی۔ یصلح بالھم کے اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو اہل جنت کی سرفرازی و فیروز مندی سے متعلق قرآن میں مذکور ہوئی ہے بلکہ اس اجمال کے اندر ایک نہایت لطیف اشارہ ان فیروز مندیوں کی طرف بھی ہے جن کا ذکر فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین (السجدۃ :17) کے الفاظ سے ہوا ہے۔
جنت کا وعدہ کوئی مبہم وعدہ نہیں ہے
ویدخلھم الجنۃ یہ اسی ہدایت کی تفصیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اس جنت کے باب میں فرمایا کہ عرفھا لھم اللہ نے اچھی طرح اس کی شناخت کرا دی ہے۔ اس تفریح کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جنت کا یہ وعدہ ایک مجمل و مبہم وعدہ ہے، کچھ نہیں معلوم کہ اس اسم کا مسمی کیا ہے ! اگر کوئی معاہدہ مبہم ہو، اس کی تفصیلات واضح نہ ہوں تو کمزور فریق برابر اندیشہ میں رہتا ہے کہ معلوم نہیں وقت پر اس کی کیا تفسیر و تاویل سامنے آئے۔ جنت کے وعدے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس قسم کے اندیشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ کیا ہے کہ اس کی ساری تفصیلات سے ان کو قرآن میں آگاہ کردیا ہے اور جو باتیں تعبیر وبیان کی گرفت میں نہیں آسکتی ہیں ان کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے تاکہ بندوں کو پورا اطمینان رہے کہ جس چیز کے عوض میں انہوں نے اپنی جانیں اپنے رب کے حوالہ کی ہیں وہ کوئی مبہم شے نہیں ہے بلکہ اس کی ساری تفصیلات طے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان میں سے ہر بات کے پورا کرنے کا ذمہ لیا ہے بلکہ ان پر مزید اضافوں کا وعدہ فرمایا ہے جنت کی یہ تعریف یوں تو پورے قرآن ہی میں بیان ہوئی ہے لیکن خاص طور پر اس سورة میں بھی اس کی تفصیل مذکور ہوئی ہے۔ ماحظہ ہو آیت 15 یہ وامر واضح رہے کہ عرفھا لھم کے الفاظ یہاں جنت کی صفت کے طور پر نہیں آئے ہیں۔ ایسا ہوتا تو لفظ جنت کو نکرہ آتا تھا بلکہ ان کی حیثیت مستقل جملہ کی ہے اور اس کے مستقل جملہ ہونے ہی سے وہ مفہوم پیدا ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔
Ayahs 47:7–9یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم، والذین کفروا فتعسا لھم واضل اعمالھم ذلک بانھم کھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم 9-7
نصرت الٰہی کا ظہور کب ہوتا ہے
یہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے کہ تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ اور اس کے دین کی نصرت کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔ اگر تم عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تو آگے کا کام تمہارا رب سنبھال لے گا۔ وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم اس طرح جمائے گا کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہ سکے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی راہ میں پہلا قدم وہ اٹھائیں۔ اگر انہوں نے یہ قدم اٹھا دیا تو اس کے بعد اس کی شامیں ظاہر ہوں گی۔ ان لوگوں کے لئے اس کی مدد نہیں نازل ہوتی جو گھروں میں بیٹھے بیٹھے اس کا انتظار کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے نازل ہوتی ہے جو اپنے آپ کو میدان میں ڈال دیتے ہیں پھر اس کی نصرت کا انتظار کرتے ہیں۔
والذین کفروا فتعسلھم، یہ کفارکا حشر بتایا کہ ان کے لئے خدا کی پھٹکار ہے اور ان کے تمام اعمال برباد اور ائیگاں ہو کر رہیں گے ان کو جو مہلت ملی وہ محض امحتان اور اتمام حجت کے لئے ملی اب اگر تم ان سے نمٹنے کے لئے اٹھ کھڑے ہو گے تو دیکھو گے کہ ان کی ساری کوششیں نابود ہوجائیں گی۔ تعسالھم لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے اور اس کا استعمال اسی طرح معروف ہے۔
کفار کی نامرادی کا سبب
ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ فاحبط اعمالھم یہ سبب بتایا ہے اس بات کا کہ کیوں یہ اس قدر بودے بےثابت اور خدا کی لعنت کے مستحق بن گئے ہیں ؟ فرمایا کہ یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اس چیز سے نفرت کی جو ان کی ہدیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے اتاری اور اپنی بدعتوں اور ضلالتوں کے ساتھ چمٹے رہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے وہ اعمال بھی خدا نے رائیگاں کردیئے جو انہوں نے دین کے کام سمجھ کر کئے۔ یہ ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو تھے تو نیکی کے لیکن ان کے شرک کے سبب سے وہ بالکل لا حاصل ہو کے رہ گئے۔ اس طرح کے کاموں میں سے بعض کا قرآن نے سورة برأت میں حوالہ بھی دیا ہے۔ مثلاً حرم کا اہتمام و انتظام اور حجاج کی خدمت مشرکین کو اپنی ان خدمات پر بڑا ناز تھا۔ لیکن یہ تمام دنی داریاں خدا کی میزان میں بالکل بےوزن ثابت ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول صرف وہی اعمال ہوتے ہیں جو اس کے شرائط پر انجام دیئے جائیں وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے کہ جس طرح بھی کوئی نیک عمل کردیا جائے وہ ممنون ہو کر اس کو قبول کرلے۔
Ayahs 47:10–11افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمرا اللہ علیھم واللکفرین امثالھا 10
کفار قریش کی بےبصیرتی
یہ ان مشرکین کی کور چشمی اور بےبصیرتی پر اظہار افسوس ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے ملک میں اس مقصد سے چلے پھرے نہیں کہ ان قوموں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، اللہ نے ان کو بالکل پامال کردیا ! آیت کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ لوگ چلے پھرے تو ہیں، اپنی تجارتی سفروں پر برابر نکلتے رہے ہیں لیکن ان بستیوں پر کبھی عبرت کی نگاہ انہوں نے نہیں الی جو کسی زمانے میں عظیم قوموں کا مکسن تھیں لیکن اب وہ ویرانوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ یہ اشارہ ان قوموں کی طرف ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں۔
وللکافرین امثالھا فرمایا کہ کافروں کے لئے تو انہی کی مثالیں ہیں یعنی جب وہ اپنے کفر اور اپنی تکذیب کے نتیجہ میں اس انجام کو پہنچیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ (قریش) انہی کی روش اختیار کر کے اس سے کسی مختلف انجام سے دوچار ہوں۔ اللہ کا قانون سب کے لئے ایک ہی ہے … اوپر آیت 3 کزلک یضرب اللہ للناس امثالھم کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ ذلک بان اللہ مولی الذین امنوا و ان الکفرین لا مولی لھم 11
کفار کا کوئی کار ساز نہیں
یعنی اس کائنات کا حقیقی کار ساز و کار فرما تو اللہ تعالیٰ ہے اور وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے تو وہ کفاران کے مقابل میں کیا وزن رکھتے ہیں جن کا کوئی کار ساز نہیں۔ وہ جن کو اپنا کار ساز سمجھے ہوئے ہیں وہ نہ تو اس دنیا میں ان کے کام آنے والے ہیں، نہ آخرت میں … اوپر آیت 3 میں یہی مضمون ایک دوسرے اسلوب سے گزر چکا ہے۔ وہ بھی پیش نظر رہے۔
Ayah 47:12ان اللہ یدخل الذین امنوا و عملوا الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر ط والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم 12
یہ اہل ایمان کے اعمال کے ثمر اور کفار کے اعمال کے رائیگاں ہونے کی مزید وضاحت اور اس شہ کا جواب ہے کہ جب کفار کے اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو اس دنیا میں وہ کیوں دندناتے پھر رہے ہیں ؟ فرمایا کہ اہل ایمان کو تو اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی رہے یہ کفار تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس دنیا میں ان کو کھانے بسنے کی جو مہلت ملی ہے یہ کوئی خوش انجام چیز نہیں ہے۔ ان کا کھانا پینا جانوروں کے مانند ہے۔ یہ عقل و خرد سے عاری اور ان حقوق کے شعور سے بالکل نابلد ہیں جو اللہ کی نعمتیں ان پر عائد کرتی ہیں اس وجہ سے یہ چند روز ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا لیں لیکن یہ ان کے لئے موجب وبال ہوں گی اور ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
Ayah 47:13وکاین من قریۃ ھی اشدقوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلانا صرالھم 13
یعنی کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ آج قریش بڑا زور و دبدبہ حاصل ہے، جب انہوں نے رسول اور اس کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال چھوڑا تو ایسے زور آور لوگوں کو کون زیر کرسکتا ہے ! فرمایا کہ کتنی بستیاں تھیں جو قوت و شوکت میں اس سے بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن اللہ نے ان کو تباہ کردیا اور کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ بن سکا۔ یہ عاد ثمود وغیرہ کی طرف اشارہ ہے جن کی سرگزشتیں پچھلی سورتوں میں سنائی جا چکی ہیں اور قریش کو جن کی شوکت و عظمت کا پورا اعتراف تھا۔ فلا ناصر لھم میں ان کی اس دنیوی جمعیت کی نصرت کی بھی نفی ہے جس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا اور ان مزعمومہ شرکاء کی نصرت کی بھی نفی ہے جن کو وہ خدا کے مقابل میں اپنی سپر سمجھے ہوئے تھے۔
Ayah 47:14افمن کان علی بتینۃ من ربہ کمن زین لہ سورء عملہ واتبعوآ اھرآء ھم 14
اہل ایمان کے حسن انجام پر عقل و فطرت کو گواہی
اوپر کی آیت میں ان کے دنیوی انجام کی طرف اشارہ تھا اور اس کی دلیل تاریخ کی مثالوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ ان کے اخروی انجام کی طرف اشارہ ہے اور اس پر انسان کی عقل و فطرت کو گواہ ٹھہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں اور اس روشنی میں وہ چلتے ہیں اور وہ لوگ جن کی نگاہوں میں ان کی بدعملی کھیادی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں دونوں یکساں ہوجائیں گے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ یہ بات عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے اور اس کا بنانے والا نعوذ باللہ ایک کھلنڈرا ہے !
لفظ بینۃ پر سورة یونس میں مفصل بحث ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک حجت قاطع خود انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور اس کی مزید تائید اپنی وحی کی روشنی سے کی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کے باطن کو جیسا کہ سورة نور کی تفسیر میں وضاحت ہوچکی ہے۔ نور علی نور بنا دیتی ہے جس کی جگمگاہٹ لازماً اس کی ظاہری زندگی میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔ برعکس ای کے جو شخص اپنی فطرت کے چراغ کو گل کردیتا ہے وہ وحی کے نور سے بھی محروم رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ظاہر و باطن دونوں ہی تاریک ہوتا ہے۔ طملب یہ ہے کہ جن کے ظاہر اور باطن دونوں میں اتنا عظیم تفاوت ہے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں کس طرح ہو سکتے ہیں !
اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ اہل ایمان کے ذکر میں تو صرف ان کے باطن کو نمایاں کیا ہے، ان کے ظاہر کا ذکر نہیں کیا ہے اور اہل کفر کے ذکر میں ان کے ظاہر کا حوالہ دیا ہے، ان کے باطن کو نظر انداز کردیا ہے۔ آپ تقابل کے اس اصول کی روشنی میں جس کی مثالیں ہم دیتے آ رہے ہیں، اس خلا کو بھر لیجیے تب اس آیت کی بلاغت واضح ہوگی۔
آیت میں من کے لئے ضمیریں اور فعل واحد اور جمع دونوں شکلوں میں استعمال ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واحد جمع، مذکر و مئونث، سب میں مشترک ہے۔
Ayah 47:15مثل الجنۃ التی وعد المتقون فیھا انھر من مآء غیر اسن، وانھرمن لبن لم یتغیر طمعہ وانھر من عسل مصفی ط ولھم فیھا من کل المثرات ومغفرۃ من ربھم ط کمن ھو خالد فی النار وسقوا مآء حمیماً فقطع امعآء ھم 15
جنت کی تمثیل
یعنی جب دونوں گروہوں کا انجام یکساں ہونا عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے تو لازم ہے کہ جس نے پاکیزہ فطرت اور اللہ کی ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاری اللہ تعالیٰ اس کو اپنی رحمت سے نوازے اور جس نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی وہ اپنی ضلالت پسندی کی قرار واقعی سزا بھگتے۔ چناچہ دونوں کا انجام بالکل مختلف ہوگا۔ اللہ نے اپنے متقی بندوں سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے جس کی تمثیل یہ ہے کہ اس میں بےآمیز خالص پانی کی نہریں ہوں گی، غیر متغیر دودھ کے چشمے ہیں گے، شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لئے ہر فساد و ضرر سے پاک، یکسر لذت ہی لذت ہوں گی، اسی طرح صاف شفاف شہد کی نہریں ہوں گی، مزید برآں ان کے لئے ہر قسم کے میوے بھی ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مستقل مغفرت کی بشارت بھی۔ برعکس اس کے دوسرے گروہ کے لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کی پہلی ہی ضیافت ایسے گرم پانی سے ہوگی جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔
نعمتوں کے جے آمیز ہونے کے پہلو پر ایک نظر یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہوا ہے ان کے خالص اور بےآمیز ہونے کو خاص طور پر نمایاں فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نعمتیں جتنی بھی ہیں سب کا اصلی منبع جنت ہی ہے لیکن اس عالم ناسوت میں جب ہمیں وہ ملتی ہیں تو اتنے مراحل اور اتنے وسائل و وسائط سے گزر کر ملتی ہیں کہ ان کی حقیقت و ماہیت بھی بالکل بدل جاتی ہے اور ان کی شکل و صورت بھی بالکل مسخ کے رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر سب سے زیادہ عام چیز پانی ہی کو لیجیے، یہ فضائوں، بادلوں، ہوائوں، دریائوں، ندیوں، نالوں اور زمین کی تہوں کے کتنے مراحل طے کر کے ہم تک پہنچتا ہے ! ظاہر ہے کہ ہر مرحلہ کے اثرات سے یہ متاثر ہوتا ہے جس کے سبب سے اس کا وہ مزاج، جو اس کے اصل منبع یعنی جنت میں ہے، بالکل بدل جاتا ہے۔
علی ہذا القیاس دودھ کو لیجیے اس دنیا میں یہ جن راستوں سے گزر کر ہمیں ملتا ہے اس کے متعلق خود قرآن کا بیان ہے کہ وہ من بین فرث ودم (النحل :66) یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ غور کیجیے کہ جنت کی جو نعمت اس راستہ سے گزر کر ہم تک پہنچے گی وہ اپنی اصلی مزاجی خصوصیات پر کس طرح باقی رہ سکے گی۔ اس وجہ سے جنت کے دودھ اور شہد اور اس دنیا کے دودھ اور شہد میں اتنا ہی فرق ہے جتنا فرق آسمان و زمین میں ہے۔ یہا کی نعمتوں سے وہاں کی نعمتوں کا ایک مبہوم سا تصور تو آپ کرسکتے ہیں اور یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی بھی اسی لئے ہیں کہ ہم ان مجازی نعمتوں سے ان حقیقی نعمتوں کا تصور کرسکیں لیکن دونوں میں نسبت ہبرحال حقیقت و مجاز ہی کی ہے۔ اس نسبت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
خالص نعمتیں سلیم الفطرت لوگوں کے لئے خاص ہیں
آیت 14 کے ساتھ اس آیت کے ربط پر اگر اچھی طرح تدبر کیجیے تو یہ حقیقت بھی سامنے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں، ان کی اصل شکل میں، اپنے ان بندوں کے لئے خاص کر رکھی ہیں جو اپنی فطرت کو جس کو اللہ تعالیٰ نے فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا (الروم :30) سے تعبیر فرمایا ہے، ہر قسم کے غلل و فساد سے محفوظ رکھیں گے اور قلب سلیم کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی فطرت کو مسخ کر کے اپنی خواہشوں کے غلام بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قلب سلیم کو گندگیوں سے آلودہ کرلیں گے تو ان کے لئے ان نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے جتنا فائدہ اٹھانا تھا اس دنیا میں اٹھا لیا۔ آخرت میں ان کے لئے وہ عذاب ہی ہے جو اپنی فطرت کو مسخ کرنے کا لازمی نتیجہ ہے۔
آیت کا مدعا سمجھ لینے کے بعد ایک نظر الفاظ اور جملوں کے در و بست پر بھی ڈال لیجیے
اسن صفت کے طور پر اس پانی کے لئے آتا ہے جس کا رنگ اور ذائقہ تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ فاسد پانی سے جو فساد نظام جسم میں پیدا ہوتا ہے اس کا علاج کسی طبیب کے پاس نہیں ہے۔
دودھ سے متعلق فرمایا کہ لم یتغیر طمعمہ (اس کا ذائقہ تبدیل نہ ہوا ہوگا۔) اس سے مردا ذائقہ کی وہ تبدیلی ہے جو اس کے فساد سے نمایا ہوتی ہے۔ دودھ فطری غذا کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے اس کا فساد بھی ایک اہم فساد ہے۔
خمر کی صفت لذت میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے جس طرح زید عدل میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ یعنی وہ یکسر لذت ہی لذت ہوگی، پینے والے اس سے نہ کسی قسم کی تلخی، ناگواری یا خمار کا اسح اس کریں گے نہ وہ بدمستی اور گناہ کی محرک ہوگی۔
عسل کے ساتھ مصفی کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اس دنیا میں جو شہد میسر آتا ہے وہ بہر حال مکھیوں ہی کے واسطہ سے میسر آتا ہے جو ان کے غل و غش سے پاک نہیں ہوسکتا۔ جنت کا شہد اپنے اصل منبع سے نکلا ہوا ہوگا۔ اس پر کوئی مگس کی قے ہونے کی پھبتی چست نہ کرسکے گا۔
ومغفرۃ من ربھم کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لئے کہ خدا کی مغفرت اور خشونودی ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن بھی ہوگی اور اسی سے آگے کے مدارج کی راہیں بھی کھلیں گی۔
کمن ھو خالد فی النار سے پہلے افمن کان لہ مثل ھذہ الجنۃ یا اس کے ہم معنی الفاظ برنبائے قرینہ محذوف ہیں۔ استفہامیہ اور شرطیہ جملوں میں اس قسم کا حذف معروف ہے۔ پیچھے اس کی مثالیں گزر چکی ہیں۔
مآء جمیع کا ذکر اہل دوزخ کے لئے نزل یعنی اولین سامان ضیافت کی حیثیت سے آگاہ ہے۔
قرآن میں جگہ جگہ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اہل دوزخ کی پہلی ضیافت کھولتے پانی سے ہوگی۔ اس کے بعد ان کے لئے ہر قسم کے عذاب کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔
Ayah 47:162 آگے آیات 38-16 کا مضمون
آگے منافقین کے رویہ پر تبصرہ ہے اور یہی مضمون سورة کے آخر تک چلا گیا ہے۔ منافقین کا ذکر یہاں بھی بعینہ اسی تقریب سے آیا ہے جس تقریب سے سورة نساء، سورة مائدہ، سورة انفال اور سورة برأت وغیرہ میں زگر چکا ہے۔ جب مسلمانوں کو ایک عظیم مہم کے لئے تیار ہونے کا حکم دیا گیا تو ضروری ہوا کہ ان کے اندر کے اس گروہ کو بےنقاب کردیا جائے جو مال آستین بن کر چھپا ہوا تھا اور آگے کے مراحل میں جس کی کمزوریاں اور ریشہ دوانیاں مسلمانوں کے لئے خطرہ بن سکتی تھیں۔ یہ مضمون تین حصوں میں تقسیم ہے۔
پہلے آنحضرت ﷺ کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو تمہاری بات سنتا تو ہے لیکن سمجھتا کچھ بھی نہیں۔ یہ لوگ تمہاری باتوں پر یقین کرنے کے لئے کسی نشانی عذاب کے منتظر ہیں ان کو پتہ نہیں ہے کہ رسول کی بعثت ان لوگوں کے لئے عذاب کا دیباچہ ہوتی ہے۔ جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔
اس کے بعد ان کی بزدلی سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ زبان سے تو یہ جہاد کے لئے بڑے ولولہ کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن اب جب کہ نہایں واضح الفاظ میں اس کا حکم دے دیا گیا تو خوف سے ان کے اوپر موت کی غشی طاری ہو رہی ہے۔ یہ لوگ درحقیقت دین سے منہ موڑ چکے ہیں اور دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اب آزمائشوں کے ذریعہ سے وہ ان کے دلوں کے کھوٹ اور نفاق کو ظاہر کر کے رہے گا۔
آخر میں ابتدائے سورة کے مضمون کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کو بالعموم اور منافقین کو بالخصوص آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کا سہارا ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرو جن کی تباہی مقدر ہوچکی ہے۔ اب ان لوگوں کے ساتھ سمجھوتے کی راہیں سونچنے کی جگہ عزم و حوصلہ کے ساتھ دین کو سربلند کرنے کے لئے اٹھو۔ اللہ تم کو سرفرازی بخشے گا۔ اگر تم دنیا کی محبت میں پھنس کر اللہ سے منہ موڑ لو گے تو اللہ کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لائے گا جو تمہاری طرح بزدل اور منافق نہیں ہوں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا من عندک قالوا الذین اوتوا العلم ماذا قال انف قف اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوا ھوآھم 16
منفاقین کے ایک گروہ کی طرف اشارہ
یہ نبی ﷺ کو ان لوگوں سے خبردار کیا ہے جو بظاہر تھے تو مسلمانوں کے ساتھ لیکن ان کی ہمدردیاں تمام تر اسلام کے مخالفین کے ساتھ تھیں ان لوگوں سے خبردار کرنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو جس مہم کے لئے تیار ہونے کی ہدایت فرمائی گئی ہے اس کو سب سے زیادہ نقصان اسی طرح کے لوگوں سے پہنچ سکتا تھا۔ فرمایا کہ انہی میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تمہاری بات سننے کے لئے کان تو لگاتا ہے لیکن سنتا سمجھتا کچھ بھی نہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جب یہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو مجلس کے دوسرے اصحاب علم سے پوچھتے ہیں کہ بھائی، ابھی ابھی انہوں نے کیا فرمایا !
منھم کی ضمیر کا مرجع وہ گروہ ہے جس کا ذکر اوپر کرھوا مآ انزل اللہ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یعنی ایک گروہ تو تمہارے پاس اپنی بیزاری کی شدت کے باعث پھٹکتا ہی نہیں اور انہی میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تمہایر پاس آتا تو ہے لیکن سننے مسجھنے کے لئے نہیں بلکہ بالکل منفقانہ آتا ہے۔
ماذا قال انفاً کے سوال سے ایک تاثر تو وہ لوگوں کو یہ دینا چاہتے کہ جہاں تک بات سننے کا تعلق ہے وہ تو ہم نے بھی سنی اور اس پر عمل کرنے کے لئے بھی ہم جی جان سے حاضر ہیں لیکن ابھی تو بات ہی ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ فرمان کیا چاہتے ہیں ؟ اس طرح وہ اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے۔
دوسرا تاثر یہ دنیا چاہتے کہ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ بےسوچے سمجھے ان پر آمنا و صدقنا کہہ دیا جائے بلکہ ان پر اچھی طرح غور کرنے اور ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گویا در پردہ وہ ان مسلمانوں کی جو آنحضرت ﷺ کی ہر بات پر آمنا و صدقنا کہتے، اپنے اس فقرے سے دل شکنی کرتے کہ تم لوگ محض سادہ لوحی کے سبب سے ان کی ہر بات پر سر تسلیم خم کردیتے ہو، ہم تو ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں لیکن ان کی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ واضح رہے کہ یہ طریقہ کسی کی عمدہ سے عمدہ بات کو مشتبہ بنا دینے کے لئے ایک نہایت کار گر طریقہ ہے۔ اسی مقصد سے یہ منافقین بعض اوقات یہ بھی کرتے کہ جب کوئی سورة نازل ہوتی اور آنحضرت ﷺ اس کو سناتے تو یہ مجلس سے اٹھنے کے بعد طنزیہ انداز میں یہ سوال کرتے کہ بھئی ! بتائو اس سورة سے کس کس کا ایمان تازہ ہوا ہے ! سورة توبہ میں ان کی اس شرارت کا ذکر یوں آیا ہے۔
واذا ما انزلت سورة فمنھم من یقول انکم زادتہ ھذہ ایماناً فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانا وھم یستبشرون واما الذین فی قلوبھم مومن فزادتھم رجا الی رجیسھم وما نوا وھم کافرون (التوبۃ 125-124)
اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ان میں بعض یہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کس کس کا ایمان اس نے تازہ کیا ہے ! تو جو ایمان لائے ان کے ایمان کو تو اس نے زیادہ کیا اور وہ اس سے بشارت حال کرتے ہیں رہے وہ جن کے دلوں میں روگ ہے تو اس نے ان کی ناپاکی پر مزید ناپاکی کا اضافہ کیا اور وہ کفر ہی کے حال میں مرے۔
”اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوآ اھوآء ھم فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ یہ اوپر کی آیت 14 کمن زین لہ سوآء عملہ واتبعوآ ھوآء ھم کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی بد عملی ان کی نگاہوں میں کھبا دی گئی ہے اور یہ اپنی خواہشوں کے پیرو بن گئے ہیں اس وجہ سے اب یہ اسی انجام سے دوچار ہوں گے جو اس طرح کے لوگوں کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے آپ کو اس نور بصیرت سے محروم کرلیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت فرمایا ہے اس وجہ سے وہ وحی کے نور سے محروم ہی رہتے ہیں اور ان کی بدعملی کے سبب سے ان کے دلوں پر مہر دی جاتی ہے۔
Ayah 47:17والذین اھتدوا ازدھم ھدی واتھم تقوھم 17
جنہوں نے اپنے نور فطرت کی ان کے نور میں اضافہ ہوا
یہ وہی مضمون ہے جو سورة توبہ کی اس آیت میں بیان ہوا ہے جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے کہ جن کا نور فطرت سمجھا نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس کو محفوظ رکھا اللہ نے اپنے نبی کی صحبت سے ان کی ہدیات میں اضافہ فرمایا اور ان کی استعداد اور طلب کے اعتبار سے ان کے تقویٰ میں برکت بخشی۔ رہے وہ لوگ جو اپنے اندر نفاق کی پرورش کرتے رہے تو ان سے وہ بھی چھین لیا گیا جو ان کو بخشا گیا تھا۔
Ayah 47:18فھد ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ ج فقد جآء اشواطھا فانی لھم اذا جآء تھم ذکر ھم 18
جو عذاب کے منتظر ہیں ان کے لئے عذاب ہی ہے
یعنی اگر پیغمبر ﷺ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اب فیصلہ کی گھڑی ہی کے انتظار میں ہیں کہ وہ اچانک ہی ان کے سر پر آدھکے الساعۃ سے مراد قیامت بھی ہو سکتی ہے اور وہ فیصلہ کن عذاب بھی جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازمًا اس کی قوم پر آجاتا ہے۔ اللہ کے رسول ان دونوں ہی عذابوں سے اپنی اپنی قوموں کو آگاہ کرتے رہے ہیں اور ان دونوں میں نسبت مقدمہ اور تتمہ کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان لوگوں پر اپنا کرم فرمایا کہ خطرہ سے آگاہ کردینے کے لئے اپنا رسول بھیجا اور اپنی کتاب نازل فرمائی تاکہ جب وہ فیصلہ کی گھڑی آئے تو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا لیکن ان کا حال یہ ہے کہ یہ جان کر انجان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ انجان بن رہے ہیں تو بنیں اللہ تو اپنا رسول آخری اتمام حجت کے لئے بھیجتا ہے۔ اگر اس کی تذکیر سے بھی ان کے کان نہ کھلے تو اب آخری چیز عذاب اور قیامت ہی ہے۔ اب یہ اسی سے دوچار ہوں گے اور جب یہ پیشگی آگاہی کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچانک ہی ان پر آجائے۔
عذاب کی علامتیں
فقد جآء اشرطھا یعنی عذاب کی گھڑی کا اتنظار ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی علامتیں اب نمایاں ہوچکی ہیں۔ یہ اشارہ اس سنت الٰہی کی طرف ہے جس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں تفصیل سے ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ کن عذاب اس وقت تک کسی قوم پر نہیں بھیجتا جب تک اس کی مرکزی بستی میں اپنا رسول نہ بھیج لے۔ یہ چیز واقع ہوچکی اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھ رہا ہے کہ قوم کے لوگ رسول کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ اب تک قوم نے جو کچھ کیا ہے وہ مقتضی تو عذاب ہی کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ مزید مہلت دے رہا ہے کہ جس کو سنبھلنا ہو وہ چاہے تو اب بھی سنبھل جائے۔
اگر لوگ اب بھی نہ سنبھلے تو خدا کا قانون ہو کے رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو الگ کرے گا اور ان لوگوں کو تباہ کر دے گا جو سرکشی اور فساد میں اڑے رہ جائیں گے۔ اس انجام کے آثار آفاق اور انفس دونوں میں نمایاں ہو رہے ہیں اور آگے یہ مزید نمایاں ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کی عدالت اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کر دے گا اور یہ عدالت تمہید اور توطیہ ہوگی اس عدالت کبریٰ کی جو اس کے بعد آخرت میں قائم ہوگی۔ آخری رسول کی بعثت اور اس کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اب آگے اسی کا مرحلہ ہے۔ چناچہ بعض احادیث میں حضور نے بھی اس حقیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی دو انگلیوں کو اٹھا کر فرمایا کہ جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے اسی طرح میری بعثت اور قیامت کے مابین بھی کوئی فاصل نہیں ہے۔
فانی لھم اذا جآء تھم ذکر ئھم جآئت کا فاعل الساعۃ ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ رسول پر ایمان لانے کے لئے فیصلہ کی گھڑی کے منتظر ہیں تو خواہ وہ فیصلہ کن عذاب کی شکل میں ظاہر ہو یا قیامت کی صورت میں، اس وقت ان کے لئے یاد دہانی اور نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا ! اس تذکیر سے فائدہ اٹھانے کا موقع تو اسی وقت تک ہے جب تک وہ پردے میں ہے۔ اس کے بےنقاب ہوجانے کے بعد تو کسی کے ایمان کی قیمت دو کوڑی کے برابر بھی نہ ہوگی۔
Ayah 47:19فاعلم انہ لا الہ الا اللہ و استغفرلذنبک واللمومنین والمومنت ط واللہ یعلم متقلبکم ومثولکم 19
یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اب فیصلہ کی گھڑی قریب آ لگی ہے تو تم اس بات کو اچھی طرح جان رکھو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتائوں کے بل پر اس سے نچنت ہیں ان کو اس وقت اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ خدا کے مقابل میں کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
عذاب سے بچنے کے لئے تیاری کی ہدایت
واستغفرلذبنک وللمومنین والمومنت یہ اس وقت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لئے نبی ﷺ کو تیاری کی ہدایت ہے کہ جو لوگ اس سے نچنت ہیں ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تم اپنی کوتاہیوں اور مومنین و مومنات کی کوتاہیوں کی اپنے رب سے معافی مانگتے رہو۔
یہ خطاب نبی ﷺ سے امت کے وکیل اور شفیع کی حیثیت سے ہے۔ اللہ کا رسول اپنے تمام ساتھیوں کا، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، بوجھ اپنے سر پر اٹھائے ہوئے برابر اپنے لئے بھی اور ان کے لئے بھی استغفار کرتا رہتا ہے۔ اس عمل کو مزید اہتمام و سرگرمی کے ساتھ جاری رکھنے کی یہ ہدایت ہوئی تاکہ فیصلہ کی گھڑی جب ظاہر ہو تو اہل ایمان اس کی آفتوں سے محفوظ رہیں۔
یہاں نبی ﷺ کی طرف ذنب کی نسبتا ول تو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے نہ کہ براہ راست اس کے ذمہ دار کی حیثیت سے۔ پھر انبیاء (علیہم السلام) سے جو خصائیں صادر ہوتی ہیں وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتیں بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی وہ اتباع حق میں اس کے متعین حدود سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ اس قسم کا تجاوز بجائے خود کوئی معصیت نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لئے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔
پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت
واللہ یعلم متقلبکم ومثولکم متقلب مصدری معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور ظرف کے مفہوم میں بھی۔ ہم نے لفظ مثوی کی رعایت سے اس کو ظرف کے مفہوم میں لیا ہے۔ یعنی آمد و شد کی جگہ۔
یہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے کہ اگر تم برابر اپنے رب سے استغفار کرتے رہے تو جہاں کہیں بھی ہوگئے اللہ تعالیٰ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ وہ تمہاری آمد و شد کی جگہوں اور تمہارے ٹھکانوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم عذاب کی زد میں آجائو۔
Ayah 47:20ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة فاذآ انزلت سورة محکمۃ وذکر فیھا القتال رایت الذین فی قلوبھم مرض ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموت فاولی لھم (20)
منافقین کا جہاد سے فرار
یہ انہیں منافقین کے اس رویے کی طر اشارہ ہے جو انہوں نے جہاد کا حکم بالفاظ صریح (مذکورہ آیت نمبر 4) سننے کے بعد اختیار کیا۔ فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ مسلمانوں پر اپنے دعوائے ایمان کی دھونس جمائے رکھنے کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ جہاد کے باب میں کوئی واضح حکم نازل نہیں ہوتا لیکن جب ایک سورة نازل کردی جاتی ہے اور اس میں نہایت غیر مبہم الفاظ میں جہاد کا ذکر آتا ہے تو جن کے دلوں میں نفاق اور حسد کا روگ ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ شخص دیکھتا ہے جس پر سکرات موت کی غشی طاری ہ۔
یقول سے پہلے ہمارے نزدیک عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقض مخدوف ہے یعنی یہ مدعیان ایمان کہتے تھے۔
الذین امنوا میں فعل دعوائے فعل کے مفہوم میں ہے اور فعل کا اطلاق دعوائے فعل پر عربی میں معروف ہے۔ مثلاً یا ایھا الذین امنوا امنوا باللہ وسولہ (النسآء، 136)
(اے وہ لوگو ! جنہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان لائو۔
ولولا انزلت سورة کے بعد فی الجھاد یا فی القتال کے الفاظ محذوف ہیں۔ قرآن میں یہ اسلوب بھی معروف ہے کہ اگر ایک چیز کی تفصیل آگے آرہی ہو تو پہلے اس کا ذکر اجمال کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ آگے اسی سورة کی آیت 36 میں بھی اس کی مثال آرہی ہے۔ لوگوں کے سوالات نقل کرنے میں بھی اجمال کا یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ یسئولنک عن الاھلۃ (البقرۃ 189) کے تحت ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے تو یہ لوگ بہت بڑھ چڑھ کر مطالبہ کر رہے تھے کہ صریح الفاظ میں کفار کے خلاف جہاد کا حکم کیوں نہیں نازل ہوتا لیکن اب جبکہ جہاد کا حکم دے دیا گیا اور بالکل قطعی الفاظ میں دے دیا گیا تو یہ مدعیان ایمان چھپتے پھرتے ہیں۔
لفظ سورة لفظ کتاب کی طرح قرآن کی کسی سورة کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے اور اس کے کسی اہم حکم کے لئے بھی یہاں دونوں معافی بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ محکمۃ کی فت اس کی قطعیت اور مستغنی عن التاویل ہونے کو ظاہر کر رہی ہے۔ یعنی اس میں نہ کسی قسم کا اجمال و ابہام ہے کہ وہ تعبیر و تاویل کا محتاج ہو، نہ وہ متشابہات کی قسم کی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اس کی تاویل معلوم نہ ہو۔
رایت الذین فی قلوبھم مرض مرض سے مراد نفاق بھی ہے اور وہ کینہ و حسد بھی جو ان منافقین کے اندر اسلام اور پیغمبر ﷺ کے خلاف تھا۔ آگے اسی سورة کی آیات 29 اور 37 کے تحت اس کی وضاحت آرہی ہے۔ البقرۃ کی تفسیر میں اس کی تحقیق بیان ہوچکی ہے۔
یہاں ان منافقین کو جو تصویر پیش کی گئی ہے یہی تصویر ان کی سورة نساء میں بھی ہے۔
الم ترالی الذین قیل لھم کفوآ ایدیکم واقیمو الصلوۃ و اتوا الزکوۃ فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کغشیۃ اللہ اواشد خشیۃ (النسآء :77)
تم نے ان لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ ابھی اپنے ہاتھ جنگ سے روکے رکھو اور نماز کا اہتمام کرو اور زکوۃ دیتے رہو تو جب ان پر جنگ واجب کردی گئی تو ان میں سے ایک گروہ کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ کہ کچھ اس سے بھی سوا۔
یعنی جب تک جہاد کا حکم نہیں ہوا تھا اس وقت تک تو اللہ و رسول کے ساتھ اپنی وفاداری اور جاں نثاری کا مظاہرہ کرنے کے لئے جہاد کا بڑا ولولہ ظاہر کرتے تھے لیکن جب جہاد کا حکم دے دیا گیا تو اللہ سے زیادہ ان کے اندر آدمیوں کا ڈر سمایا ہوا ہے اور چھپتے پھرتے ہیں۔
فاولی لھم لعنت اور اظہار نفرت کا کلمہ ہے۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو ویل لھم کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان کے دعوے کے ساتھ جب انہوں نے اپنے اندر اس نفاق اور بزدلی کی پرورش کی ہے تو ان پر خدا کی پھٹکار ہو !
Ayah 47:21طاعۃ وقول معروف قف فاذا عز مرالامر قف فلوصدقو اللہ لکان خیر الھم 21
ایمان کا صحیح تقاضا
یعنی ان کے لئے صحیح روش تو یہ تھی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور اس حکم جہاد کا سمعنا واطعنا کے قول معروف سے خیر مقدم کرتے۔ پھر جب جہاد کا فصلہ ہوجاتا تو اپنے عمل سے ثابت کردیتے کہا نہوں نے اپنے رب سے جو عہد باندھا اس میں سچے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یہ روش ان کے لئے بہتر ہوتی لیکن انہوں نے اپنے لئے ہلاکت کی راہ اتخیار کی۔
طاعۃ وقول معروف مبتداء کے محل میں ہے اور خبر یہاں بر بنائے قرینہ و بتقاضائے بلاغت محذوف ہے۔ ہم جگہ جگہ عربیت کے اس اسلوب کا حوالہ دیتے آ رہے ہیں کہ جب مخاطب کی توجہ پوری طرح مبتداء پر مرکوز کرانی ہو تو خبر کو حذف کردیتے ہیں۔ قول معروف سے مراد سمعنا واطعنا کا کلمہ ہے۔ اللہ و رسول کے معاملے میں یہی کلمہ دسوتر اور اہل ایمان کی روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ کے مخلص اور وفادار بندوں نے ہمیشہ اسی کلمہ سے اللہ اور اس کے رسولوں کی ہر بات کا خیر مقدم کیا۔ یہی بات ان کے شایان شان بھی تھی جب کہ انہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا تھا لیکن ان کا حال یہ ہوا کہ جہاد کا ذکر سنتے ہی ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی۔
فاذا عزم الامر عزم الامر کے معنی ہیں معاملے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اس کے لئے اقدام کا تہیہ ہوگیا۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے شایان شان بات تو یہ تھی کہ جہاد کا ذکر سن کر سمعنا وطاعنا کے معروف قول سے اس کا خیر مقدم کرتے پھر جب اللہ و رسول کی طرف سے اس کا حتمی اور آخری فیصلہ ہوجاتا تو اپنے عمل سے اس قول کی صداقت کا ثبوت دیتے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس سورة کی آیت 4 میں جو حکم دیا گیا ہے اس کی نوعیت حکم جہاد کی نہیں بلکہ جہاد کے لئے تیار رہنے کی ہدایت اور اہل ایمان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ عملی اقدام کی نوبت اس کے بعد آئی۔
فلوصدقوا اللہ لکان خیراً لھم یعنی اب تک تو اللہ کے رسول کے لئے انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کی نوعیت محض دعوے کی ہے۔ اس دعوے کی صداقت کے امتحان کا مرحلہ تو اب آیا تھا۔ اس مرحلے میں اگر یہ اپنے عمل سے ثابت کردیتے کہ یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو یہ چیز انکے لئے بہت بڑے خیر کا دروازہ کھولتی لیکن انہوں نے یہ راہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے لئے بزدلی کی راہ پسند کی۔