Ayah 47:22فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوآ ارحامکم (22)
منافین کو نصیحت
اوپر کی آیات میں ان منافقین کے رویہ پر جو تبصرہ ہوا ہے وہ تمام تر غائب کے اسلوب میں ہے لیکن اس آیت میں ان سے براہ راست خطاب ہے۔ اسلوب کی یہ تبدیلی اس موعظت کو زیادہ مئوثر بنانے کے لئے ہے جو اس میں ان کو کی گئی ہے۔ فرمایا کہ اگر تم نے اس دعوت سے اعراض کیا تو اس سے تم اپنے آپ کو یا اپنی قوم کو کوئی نفع نہ پہنچائو گے۔ بس یہی کرو گے کہ دور جاہلیت میں جس فساد فی الارض اور جس قطع رحم و برادر کشی میں مبتلا رہے ہو اسی میں پھر مبتلا ہو جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اسی چیز کے خواہاں ہو تب تو تم آزاد ہو کہ جو راہ چاہو اختیار کرو اور اس کا انجام دیکھو لیکن اگر فساد کی جگہ حقیقی امن و عدل مطلوب ہے اور باہمی تعلقات کو اخوت و مئودت کی صحیح بنیاد پر استوار دیکھنے کے خواہاں ہو تو واحد راہ اس کی یہی ہے کہ اس دین کو مستحکم کرنے کے لئے جی جان کی بازی لگائو جو شرک اور قبائلی و گروہی عصبیات جاہلیت کو ڈھاکر تمام نبی آدم کو اللہ کی بندگی و اطاعت اور وحدت آدم کے عقیدے پر مجتمع کر رہا ہے۔
امن اور صلح کی اصلی راہ
ان منافقین کو خاص اہمتام کے ساتھ خطاب کر کے یہ نصیحت کرنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ ان کے اندر ایک گروہ ان لوگوں کا بھی تھا جو کفار قیش کے ساتھ سمجھوتے کا خواہشمند تھا۔ سورة بقرہ میں بھی اس قسم کے ایک گروہ کا ذکر گزر چکا ہے اور اس سورة کی آیت 35 میں بھی اسی کا ذکر آ رہا ہے۔ یہ لوگ قریش اور یہود کو یہ اطمینان بھی دلاتے رہتے تھے کہ ہم اگرچہ مسلمانوں کے اندر شامل ہیں لیکن بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ آگے اسی سورة کی آیت 26 میں بھی اس گرروہ کا ذکر آئے گا یہ لوگ اپنی اس منافقانہ پالیسی پر اس وقت تک تو پردہ ڈالنے میں ایک حد تک کامیاب رہے جب تک جنگ کا مرحلہ سامنے نہیں آیا تھا لیکن جب یہ مرحلہ سر پر آگیا تو ان کے لئے چھپنے کا موقع باقی نہیں رہا۔ قریش اور ان کے حلیفوں کے خلاف یہ لوگ تلوار اٹھانے پر تیار نہیں تھے اور اب مسلمانوں کے اندر شامل رہنے کے لئے اس چیز سے کوئی مضرباقی نہیں رہا تھا چناچہ اپنے نفاق پر پردہ ڈالے رکھنے کے لئے ان لوگوں نے یہ وسوسہ اندازی شروع کردی کہ ہم بھائیوں بھائیوں کے اندر خون ریزی پسند نہیں کرتے بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اور قریش اور اس ملک کے دوسرے عناصر سب مل جل کر صلح اور محبت کے ساتھ رہیں۔ یہی راہ اصلاح کی ہے۔ اگر اس سے ہٹ کر جنگ کی راہ اختیار کی گئی تو اس ملک میں ایسا فساد برپا ہوجائے گا جس کو دبانا ناممکن ہوگا۔ یہ لوگ اپنی اسی منافقانہ پالیسی کی وجہ سے اپنے کو مصلح اور امن پسند کہتے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ مسلمان ان کی یہ پالیسی اپنا لیں تاکہ ان کے نفاق پر پردہ بھی پڑا رہے اور اسلام کے دشمنوں کا مقصد بھی پورا ہوجائے۔ ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر آیت زیر بحث میں فرمایا کہ یہ راہ جو تم نے اختیار کی ہے اور جس کو چاہتے ہو کہ دوسرے بھی اختیار کریں ام ن اور صلح کی راہ نہیں ہے بلکہ یہ اسی فساد اور برادر کشی کی طرف تمہاری رجعت ہے جس میں تم پہلے مبتلا رہے ہو۔ امن اور اخوت کی راہ یہ ہے کہ سب ایک اللہ کے بندے اور ایک آدم کی اولاد کی حیثیت سے زندگی بسر کریں اور اس نظام زندگی کو اپنائیں جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور آدم کی وحدت کے عقیدے پر قائم ہے اور جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے یہ چیز اس جاہلی نظام زندگی کو برقرار رکھنے سے حاصل نہیں ہوگی جس میں قبیلہ قبیلہ کا خدا بھی جدا ہے اور ہر ایک کا باوا آدم بھی الگ الگ ہے۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ اسلام میں نظام اجتماعی کی بنیاد پر وحدت الہ اور وحدت آدم کے عقیدے پر ہے۔ اس مسئلہ پر سورة نساء کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 47:23اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم و اعمی ابصارھم 23
منافقین کے دل زنگ آلود ہوچکے ہیں
فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے۔ اس لعنت کے اثر سے ان کے کان بہیر اور ان کی آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو روشنی دکھائی اور یہ بات ان پر اچھی طرح واضح بھی ہوگئی کہ یہ روشنی اللہ نے اتاری ہے لیکن یہ لوگ مڑ مڑ کر اپنی اسی جاہلیت کی تاریکی ہی کو دیکھتے اور اسی میں واپس جانے کے متمنی ہیں۔ ان کی اس ناقدری کے سبب سے اللہ نے ان پر لعنت کردی اور اپنی روشنی ان سے سلب کرلی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ان کے کان حق نیوشی کی صلاحیت سے اور ان کی آنکھیں بصیرت سے محروم ہیں۔
Ayah 47:24دلوں کا فرنگ قرآن کے تدبر سے دور ہوتا ہے۔
افلایتذبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا (24)
فرمایا کہ دلوں کو زندہ کرنے والی چیز قرآن ہے بشرطیکہ یہ اس پر تدبر کرتے لیکن یہ ناقدرے لوگ کبھی اس پر غور نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دلوں جو جو زنگ لگتے ہیں وہ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گئے ہیں کہ جس طرح قفل سے دروازے بند ہوجاتے ہیں اسی طرح ان کے دل بھی اس زنگ سے بند ہوچکے ہیں۔
لفظ قلوب کی تنکیر یہاں اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے۔ اس کی مثال سورة نساء کی آیت 47 میں گزر چکی ہے۔ وہاں اہل کتاب کو مخاطبط کر کے فرمایا ہے۔ امنوا بما نزلنا مصدقاً لما معکم من قبل ان لطمس وجوھاً فنرلھا علی ادبارھا (ایمان لائو اس چیز پر جو ہم نے اتاری ہے تصدیق کر تیہ وئی اس چیز کی جو تمہارے پاس موجود ہے، قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا کر ان کے پیچھے کی طرف موڑ دیں) یہاں جس طرح وجوھا کی تنکیر اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے اسی طرح آیت زیر بحث میں لفظ قلوب کی تنکیر بھی اظہار کراہت کے لئے ہے۔ گویا یہ دل ایسے قابل نفرت اور گھنونے ہیں کہ متکلم کو تعین کے ساتھ ان کی طرف اشارہ بھی گوارا نہیں اقفالھا سے مراد وہ چیزیں ہیں جو دلوں کو روگ یا زنگ کی طرح لگتی ہیں۔ اس قسم کے روگوں کا ذکر اس سورة میں بھی ہوا ہے۔ (مثلاً اوپر آیت 20 اور آگے آیت 29 میں) اور قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی ان کا ذکر تفصیل سے موجود ہے۔ دنیا کی محبت، موت کا ڈر، بخل، بزدلی، کینہ، حسد، نفاق اور اس قبیل کی دوسری چیزیں اس کے نمایاں اجزاء ہیں۔ اگر ریاست و امارات حاصل ہو تو کبرو غرور کا بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور قساوت بھی اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوجاتی ہے۔ ان بیماریوں کا علاج قرآن کو سننا اور سمجھنا ہے، جیسا کہ سورة انفال کی آیات 24-23 کے تحت اس کی وضاحت ہوچکی ہے لیکن اس طرح کے لوگوں کو سب سے زیادہ وحشت قرآن ہی سے ہوتی یہ۔ اس وجہ سے ان کا علاج ناممکن ہوجاتا ہے۔
Ayah 47:25ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدی الشیطان سول لھم واملی لھم 25
نفاق ارتداد ہے
فرمایا کہ ان منافقین کی یہ روشن ارتداد کی روش ہے۔ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ راہ حق یہی ہے جس کی طرف پیغمبر دعوت دے رہے ہیں۔ چناچہ آگے بڑھ کر انہوں نے اس کو قبول بھی کرلیا لیکن جب آزمائشوں سے سابقہ پڑا تو شیطان نے ان کو فریب دیا اور یہ اس کے فریب میں مبلا ہوگئے اور خدا نے بھی ان کو ڈھل دے دی اس لئے کہ جو لوگ جان بوجھ کر محض اپنی خواہشوں کی پیروی میں راہ حق سے انحراف اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو ڈھیل دے دیتا ہے کہ وہ جس وادی میں ہرزہ گردی کرنا چاہتے ہیں کرلیں۔
نفاق کو ارتداد ہونا قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی واضح ہے۔ سورة مائدہ آیت 54 میں انہی منافقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ“ (اے ایمان لانے والوچ جو تم میں سے اپنے دین سے برگشتہ ہونا چاہتا ہے وہ برگشتہ ہوجائے، خدا کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ”عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور جو اس سے محبت کریں گے)
املی کا فاعل یہاں اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن میں یہ فعل اللہ تعالیٰ ہی کے لئے استعمال ہوا ہے اور اسی کے لئے اس کا استعمال موزوں ہے۔ شیطان کی طرف اس کی نسبت کسی طرح موزوں نہیں ہیغ۔ قرینہ موجود ہو تو مجر و فعل ہی بتا دیتا ہے کہ اس کا فاعل کون ہے۔ اس کی متعدد نظریں قرآن میں موجود ہیں۔
سورة یوسف کی آیت 110 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 47:26ذلک بانھم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ سنطیعکم فی بعض الامر واللہ یعلم اسراھم 26
منافقین کے راندہ درگاہ ہونے کا بب
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وجہ سے شیطان کے حوالہ کردیا کہ حق کے اچھی طرح واضح ہو چکنے کے بعد بھی ان کا ساز باز اسلام کے ان دشمنوں کے ساتھ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب سے سخت نفرت کرنے والے ہیں۔ یہ ان کو اطمینان دلاتے ہیں کہ بعض معاملات میں ہم آپ ہی لوگوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ للذین کرھوا مانزل اللہ سے اشارہ یہود اور قریش کے لیڈروں کی طرف ہے جن کی اسلام کے ساتھ دشمنی بالکل واضح تھی لیکن یہ منافقین ان کو اطمینان دلاتے رہتے تھے کہ ہرچند ہم مسلمانوں میں شامل ہوگئے ہیں لیکن اس کے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں کہ اب آپ لوگوں کے ساتھ ہمارا کوئی رابطہ باقی ہی نہیں رہا۔ اگر آپ لوگوں پر کوئی مشکل وقت آیا تو آپ دیکھیں گے کہ ہم آپ ہی کا ساتھ دیں گے اور اس معامیل میں ہم کسی کی بھی خوشی یا ناخوشی کی پرواہ کرنے والے نہیں ہیں۔ انہی منافقین کے متعلق سورة حشر میں بیان ہوا ہے کہ یہ بہود کے پاس جا جا کر ان کو اطمینان دلاتے ہیں کہ اگر آپ لوگ یہاں سے نکالے گئے تو ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ نکل جائیں گے اور آپ کے معاملے میں ہرگز کسی کی بات کا لحاظ نہیں کریں گے۔ لئن اخرجتم لنخرجن معکم ولانطیع فیکم احدا بدا (الحشر :11) اگر آپ لوگ نکالے گئے تو آپ لوگوں کے ساتھ ہم بھی نکلیں گے اور آپ لوگوں کے بارے میں ہم کسی کی بات بھی کبھی ماننے والے نہیں ہیں۔)
واللہ یعلم اسراھم اسرار سے مراد ان کا یہی ساز باز ہے جس کی طرف اوپروالے ٹکڑے میں اشارہ ہوا ہے اور یہ جملہ مجرد خیر کا نہیں بلکہ تہدید و وعید کا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان راز داریوں سے اچھی طرح واقف ہے اور اس کا انجام عنقریب ان کے سامنے آئے گا۔
Ayah 47:27فکیف اذا توفتھم الملٓئکۃ یضربون و جو ھھم وادبار ھم (27)
منافقین کا حال موت کے وقت
یہ ان کا انجام بیان ہوا ہے کہ اسلام کے خلا اس طرح کی سازشیں کرنے والوں کو ان کے جرم کی سزا اسی وقت سے ملنی شروع ہوجاتی ہے جب فرشتے ان کی روحیں قبضک رنے آتے ہیں تو یہ لوگ سوچ لیں کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب خدا کے سخت گیر فرشتے ان کی روحیں ان کے مونہوں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے قبضک ریں گے اور کوئی بھی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔
Ayah 47:28ذلک بانھم اتبعوا مآ اسخط اللہ وکرھوا رضوانہ فاحبط اعمالھم (28)
یعنی ان لوگوں کے ساتھ یہ خاص معاملہ اس وجہ سے ہوگا کہ ان کی ساری بھاگ دوڑ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں رہی ہے۔ جو باتیں اللہ کو ناراض کرنے والی تھیں وہ انہوں نے اختیار کیں اور جو کام اس کو خوش کرنے والے تھے ان سے یہ بیزار رہے۔ اس کی پاداش میں فرشتے ان کی موت کے وقت ہی سے ان پر عذاب کی مار شروع کردیں گے اور ان کے وہ سارے اعمال اللہ تعالیٰ حبط کر دے گا۔ جو انہوں نے اسلام کے دعوے کے ساتھ بظاہر نیکی کے کئے۔
Ayah 47:29ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانھم (29)
منافقین کا پردہ اللہ چاک کر کے رہے گا
یہ بھیان کو دھمکی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ ریشہ دوانیاں جو کہ رہے ہیں تو کیا ان کا گمان ہے کہ ان حرکتوں پر ہمیشہ پردہ ہی پڑا رہے گا، کبھی اللہ ان کو بےنقاب نہیں کرے گا ؟ اگر ان کا گمان یہ ہے تو بالکل غلط ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کے چہرے کی نقاب الٹ دی جائے تاکہ سب ان کو اچھی طرح پہچان لیں، کسی کو یہ فریب میں مبتلا نہ کرسکیں۔
مرض سے مراد نفاق بھی ہے اور کینہ و حسد بھی جو ان منافقین کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تھا اور جس کے سبب سے وہ ان حرکتوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کا ذکر اوپر ہوا۔ نفاق بجائے خود بھی مرض ہے لیکن یہ مرض شدید تر ہوجاتا ہے جب اس کے اوپر حسد اور کینہ کا اضافہ ہوجائے۔ یہاں لفظ اضغان سے اسی حسد اور کینہ کی طرف اشعارہ ہے۔ اضغان جمع ہے صن کی جس کے معنی کینہ کے ہیں۔
Ayah 47:30ولونشآء لارینکھم فلمرنتھم بسیمھم ولتحرفنھم فی الحن القول ط واللہ یعلم اعمالکم (30)
لفظ لحن توریہ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یعنی آدمی بات اس طرح کرے کہ اپنے دل میں تو اس کا مفہوم کچھ اور رکھے لیکن دور سے کو اس کا کچھ اور مفہوم سمجھانے کی کوشش کرے۔ منافقین اس فن میں بڑے مشاق تھے۔ وہ بات ایسے ہیر پھیر سے کرتے کہ کفار اور مسلمانوں دونوں کو بیک وقت یہ باور کرانا چاہتے کہ ان کی تمام ہمدردیاں انہی کے ساتھ ہیں۔
یہ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے منافقین کو دھمکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ ذرا مشکل نہیں ہے کہ ان کو اس طرح بےنقاب کر دے کہ تم ان میں سے ہر ایک کو اس کی خاص علامت امتیاز سے پہچان جائو کہ یہ منافق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کر رہا ہے تو یہ اس کی ستاری ہے تاہم تمہارے لئے ان کا پہچان لینا کچھ مشکل نہیں ہے۔ تم ان کی باتوں کے ایچ پیچ، ان کے کلام کے دورے پن اور ان کے لہجہ کے تذبذب سے ان کو نہایت آسانی سے تاڑ سکتے ہو۔
واللہ یعلم اعمالکم یہ اسی سیاق میں منافقین کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تم مسلمانوں کو اپنے کلام کے دو رخ یپن سے دھوکا دینے میں کامیاب بھی ہو جائو تو یہ کامیابی تمہارے لئے کوئی خوش انجام چیز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے ہی اور جب وہ باخبر ہے تو تم دوسروں سے چھپا کر کیا فائدہ اٹھا سکو گے۔
Ayah 47:31کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کے لئے امتحان
ولنبلونکم حتی نعلم المجھدین منکم والصبرین لا ونبلوا اخبار کم 31
یعنی مختلف قسم کے نرم و گرم حالات کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ لازماً تمہارا امتحان کرے گا یہاں تک کہ وہ اچھی طرح پرکھ لے گا کہ تمہارے اندر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے کون ہیں اور کون محض زبان کے غازی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ تو نہیں ہے کہ وہ ہر منافق کی قشانی پر لکھ دے کہ یہ منافق ہے لیکن اس کی یہ سنت بالکل لازمی اور قطعی ہے کہ وہ مختلف امتحانتا کے ذریعہ سے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کرتا ہے اور یہ بات چونکہ اس کی سنت کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس امتحان سے تمہیں بھی لازماً گزرنا پڑے گا اور وہ لوگ اپنے کو زیادہ دنوں تک چھپائے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جو محض فریب کے جامے میں مسلمانوں کے اندر گھسے رہنا چاہتے ہیں۔ اس آیت پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے اشارۃ یہ بات بھی نکلی کہ ان امتحانوں کا اصل مقصد تو مجاہیدن و صابرین کو ممیز کردینا ہے لیکن اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ان لوگوں کے حالات بھی کسوٹی پر آجائیں گے جو محض فریب سے اپنے آپ کو اس زمان کے اندر گھسائے رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ و نبوا اخبارکم میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اخبار سے مراد ان کے حالات ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ تو لوگوں کو اس لئے بلوتا ہے کہ ان کے اندر جو مکھن ہے وہ نکل کر سامنے آجائے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ چھاچھ بھی سامنے آجاتا ہے۔
یہ امتحان چونکہ سنت الٰہی کا تقاضا ہے اس وجہ سے اس کا بیان لام تاکید کے ساتھ ہوا ہے۔ اور علم یعلکم کے معنی یہاں پرکھنے اور امتیاز کرنے کے ہیں۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
Ayah 47:32ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ وساقوا الرسول من بعد ماتبین لھم الھدی لن یضرواللہ شیاء وسیحبط اعمالھم 32
منافقین کو تنبیہ
یہ سورة کے آخر میں اس مضون کا پھر اعادہ فرمایا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا اور مقصود اس کے اعادے سے، جیسا کہ آگے کے مضمون سے واضح ہوگا، منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ اللہ اور رسول سے جو زور آزمائی کفار کر رہے ہیں اس سے وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے بلکہ یہ خود منہ کی کھائیں گے۔ ان کی متام کوششیں اس دنیا میں بھی رائیگاں ہو کے رہیں گی اور آخرت میں بھی یہ خوار ہونے والے ہیں۔ تو ان کے پیچھے لگ کر تم اپنی دنیا اور آخرت برباد نہ کرو بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اگر تم نے کمزوری نہ دکھائی تو اللہ تمہی کو سربلند کرے گا اور یہ مخالفین ذلیل و خوار ہوں گے۔
کفار قریش اور ان کے خلفاء کی تباہی لازمی ہے
ان الذین کفروا وصداوا عن سبیل اللہ کے الفاظ دلیل ہیں کہ یہاں قریش اور ان کے خلفاء مراد ہیں۔ آیت 1 میں بھی انہی الفاظ سے ان کا ذکر ہوا ہے۔ وشاقوآء الرسول من بعدما تبین لھم الھدی، انہی کی تعریف مزید ہے کہ ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے کہ اللہ کا رسول ان کو جس دین کی دعوت دے رہا ہے وہ بالکل حق ہے لیکن یہ محض اپنی سیادت کے زعم میں اس کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ مخالفت اللہ کے دین کو تو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی البتہ یہ خود اپنے کو تباہ کرلیں گ۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ الگہ کے رسول کو اس کا رسول جانتے ہوئے اور اس کی دعوت کو پہچانتے ہوئے اس کی مخالفت کے لئے اٹھے ہیں تو ان کا یہ بناوٹی دم خم کتنی دیر تک ان کا ساتھ دے گا۔ بالآخر یہ ڈگ ڈال دیں گے اور ذلیل ہوں گے۔
Ayah 47:33یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ وا طیعوا الرسول ولا تبطلوآ اعمالکم 33
خدا کی اطاعت اپنے ذاتی مصالح سے بالاتر ہو کر کرو
خطاب اگرچہ عام ہے لیکن انداز کلام دلیل ہے کہ روئے سخن خاص طور پر ان کی کمزور قسم کے مسلمانوں ہی کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے فرمایا کہ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، تمہارے اس ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں فعل اطیعوا اپنے کامل اور حقیقی مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کا صحیح مدعا یہ ہوگا کہ ہر طرح کے حالات میں اپنے ذاتی مفادات و مصالح سے بےپروا ہو کر اللہ اور رسول کے ہر حکم کی اطاعت کو۔
ولا طبطلوا اعمالکم یعنی اسی طرح کی اطاعت سے تمہارے اعمال مثمر اور نتیجہ خیز ہوں گے اگر تم نے اس اطاعت کو اپنے مصالح کے تابع رکھا تو یاد رکھو کہ تمہایر تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اگرچہ وہ اعمال دین ہی کے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہی قبول ہوتا ہے جو اس کے شرائط کے کے مطابق ہو، جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لانا اور صرف اپنے مصالح کے حد تک اس کی اطاعت کرنا چاہتے ہیں ان کی دینداری ان کے منہ پر پھینک ماری جانی ہے تو اس طرح کی کوئی بات کر کے اپنے اعمال رائیگاں نہ کرو۔
Ayah 47:34ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم 34
یعنی ان کافروں کو اللہ تعالیٰ کبھی بخشنے والا نہیں ہے جنہوں نے خود بھی کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا اور پھر اسی کفر پر جمے ہوئے مر گئے۔ مطلب یہ ہے کہ یہی انجام ان لوگوں کا بھی ہونا ہے جو ان کا سہارا لیں گے اور ان کے ساتھ اپنی دوستی برقرار رکھنے کے لئے سازشیں کریں گے۔
Ayah 47:35فلاتھنوا وتدعوآ الی السلم وانتم الاعلون واللہ معکم ولن یترکم اعمالکم (35)
اپنی بزدلی پر پردہ ڈلانے کے لئے منافقین کی ایک تدبیر
سلم کے معنی صلح اور سمجھوتے کے ہیں اوپر آیات 23, 22 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں کہ منافقین چونکہ جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تے اس وجہ سے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیتے کہ جنگ کے بجائے صلحخ سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی دعوت وہ قریش کو بھی دیتے وہ اپنے آپ کو ایک صلح پسند پارٹ کی حیثیت سے پیش کرتے اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہی پالیسی اختیار کرنے میں اس ملک کی خیر ہے ورنہ یہاں بھائیوں کا خون بھائیوں کے ہاتھوں رہے گا اور پوری قوم کا شیرازہ ابتر ہوجائے گا۔ ان کی یہ پالیسی مبنی تو تھی تمام تر ان کی بزدلی اور مفاد پرستی پر لیکن وہ اس کی دعوت صلح پسند اور امن دوستی کے روپ میں دیتے اور ان لوگوں کو متاثر کرلیتے جن کے اندر نفاق کے جراثیم ہوتے۔ اس آیت میں ان کی اسی کمزوری سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ تم بزدل ہو کر صلح اور سمجھوتے کے داعی نہ ہو بلکہ عزم و ایمان کے ساتھ جہاد کے لئے اٹھو۔ اگر تم سچے ایمان کے ساتھ جہاد کے لئے اٹھو گے تو تمہی سربلند رہو گے اور تمہارے دشمن ذلیل و خوار ہوں گے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہے تو اس کی مدد و نصرت ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوگی اور یہ اطمینان رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال کے صلہ کے معاملے میں کوئی خلاف وعدگی و بےوفائی ہرگز نہیں کرے گا بلکہ تمہارے ہر عمل کا، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، بھرپور صلہ دے گا۔
زبان کا ایک نکتہ
فلا تھنوا وتدعوآ الی السلم، میں عربیت کا وہی اسلوب ہے جو البقرۃ کی آیت 42 ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق کے تحت زیر بحث آچکا ہے۔ جہاں معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں ایک ہی حقیقت ظاہر کی گئی ہو وہاں لائے تھی کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی صورت آیت زیر بحث میں بھی ہے۔ ان منافقین کی یہ دعوت صلح چونکہ ان کی بزدلی ہی کا نتیجہ تھی اس وجہ سے تدعوا کو فلاتھنوا پر عطف کردیا اور لا کو حذف کردیا تاکہ اسلوب کلام ہی سے یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ دعوت صلح اس لئے نہیں دے رہے ہو کہ تم بڑے صلح پسند ہو بلکہ یہ محض اپنی بزدلی پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام سعی ہے۔
وترہ حقہ کے معنی ہوں گے اس نے اس کے حق میں خیانت یا کمی کی۔ لن یترکم اعمالکم کی معنی ہوں گے کہ اللہ سے یہ اندیشہ نہ رکھو کہ وہ تمہارے اعمال کے صلہ کے باب میں تمہارے ساتھ کوئی بےوفائی یا خیانت کرے گا بلکہ وہ بھرپور صلہ دے گا جب ہر عمل کا بھرپور صلہ ملنے والا ہے تو اس کی راہ میں قربانی سے جی چرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayah 47:36انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وان تومنوا وتتقوا یوتکم اجورکم ولا یسئلکم اموالکم 36
بے حوصلہ لوگوں کی حوصلہ افزائی
یعنی دنیا کی محبت میں پھنس کر خدا کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہ کرو۔ اس دنیا کے مال و متاع کی قدر و قیمت اگر کچھ ہے تو اسی شکل میں ہے جب اس سے آخرت کی کچھ کمائی کرلی جائے اگر کسی نے آخرت کی کمائی نہیں کی تو اس نے اپنی زندگی بوالہوسی و بےحاصل میں گزار دی۔ اطمینان رکھو کہ اگر تم ایمان اور تقویٰ کی زندگی اختیار اور پانا مال خدا کی راہ میں خرچ کرو گے تو یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل کا بھرپور صلہ دے گا اور تم اس دنیا کے خزف ریزوں کے عوض ابدی بادشاہی کا تخت و تاج حاصل کرو گے۔
ولایسئلکم اموالکم کے بعد لفظ احفاء مخدوف ہے۔ بعد والی آیت میں اس کی وضاحت آرہی ہے اس وجہ سے یہاں بربنائے قرینہ اس کو حذف کردیا۔ تفصیل سے پہلے اجمال کا اسلوب قرآن میں بہت معروف ہے۔ سوالوں کے نقل کرنے میں بھی اسی وجہ سے اجمال کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ جواب سے اس اجمال کی وضاحت خود ہوجاتی ہے۔ احفاء کے معنی کسی شے کو سمیٹ کر پوری کی پوری لے لینے یا کسی شے کا الحاج و اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنے کے ہیں۔ یہ ان بےحوصلہ لوگوں کو اطمینان دہانی ہے کہ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس امتحان میں کبھی نہیں ڈالے گا کہ تم سے تمہارا کل مال سمیٹ کر طلب کرے بلکہ وہ اس کا ایک حصہ ہی طلب کرے گا اور اس کا بھی وہ تمہیں بھرپور صلہ دے گا تو اس کی راہ میں انفاق سے ہراساں ہونے اور اس کی دعوت انفاق سے تنگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
Ayah 47:37ان یسئلکم ھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اضغانکم 37
اللہ تعالیٰ بندوں کا امتحان لینے میں نہایت کریم ہے
یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کل مال کا مطالبہ اس وجہ سے نہیں کرے گا کہ وہ ایسا کرے تو تمہارا سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا پھر تم لازماً بخل کرو گے اور اس طرح تمہارا وہ حسد اور کینہ جو تم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے سنیوں میں چھپائے ہوئے ہو سب پر آشکارا ہوجائے گا اوپر آیت 29 میں ان منافقین ہی کے لئے یہ دھمکی گزر چکی ہے کہ یہ اس مغالطہ میں نہ رہیں کہ اللہ ان کے حسد و کینہ پر ہمیشہ پردہ ڈالے رکھے گا۔ وہ ان کو کسی آزمائش میں ڈال کر جب چاہے ان کا سارا پول کھول دے۔ وہی بات یہاں دوسرے پہلو سے ارشاد ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو تم سے یہ مطالبہ کرسکتا ہے کہ اپنا سارا مال لیا اس کا بہت بڑا حصہ اس کے حوالہ کر دو اس لئے کہ یہ مال اسی کا عطا کردہ ہے لیکن وہ ایسا اس لئے نہیں کرتا کہ اس طرح کے امتحان سے ان لوگوں کا سارا بھرم کھل جائے گا جن کی بخالت اور نفاق پر ابھی پردہ پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس کریمی کے شکر گزار بنو کہ اس نے تمہیں اس قسم کے کسی کڑے امتحان میں نہیں ڈالا اور نہ وہ چاہے تو ابھی تمہارے چہرے کی نقاب نوچ کر پھینک دے۔
Ayah 47:38ھانتم ھولاء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ، طو اللہ الغنی وانتم الفقرآء وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکوانوآء امثالکم 38
بخیلوں کو دھمکی
ھانتم ھولاء کے اسلوب کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی ہے یہ ان منافقین کے حال پر افسوس اور حسرت کا اظہار ہے کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کی جو دعوت دی جاتی ہے تو تم بخالت کر رہے ہو گو یا کسی اور کر دے رہے ہو حالانکہ خدا سے بخالت کرنا خود اپنے سے بخالت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم سے مانگتا ہے تو اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی لئے مانگتا ہے کہ وہ اس کے صلہ میں تم کو ابدی بادشاہی بخشے اللہ بالکل بےنیاز ہے، محتاج اگر ہو تو تم ہو، اللہ محتاج نہیں ہے۔
وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکونوا امثالکم یہ ان منافقین کو دھمکی ہے کہ تہاری یہ روش ارتداد کی روش ہے۔ اگر تم ارتداد کی راہ اختیار کرنی چاہتے ہو تو جائو کرو۔ اللہ کو تمہاری کوئی پروا نہیں ہے۔ وہ تمہاری جگہ دوسروں کو اپنے دین کی خدمت کے لئے اٹھائے گا جو تمہاری طرح ہیز اور نکمے نہیں ہوں گے۔ سورة مائدہ میں یہی بات اسی قسم کے منافقین کو خطاب کر کے یوں فرمائی گئی ہے۔ یا یھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکفرین 54 (اے ایمان کا دعویٰ کرنے والو ! جو تم میں سے اپنے دین سے برگشتہ ہوجائیں گے تو برگشتہ ہوجائیں اللہ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اللہ عنقریب ایسے لوگوں کو لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور جو اس سے محبت کریں گے، وہ اہل ایمان کے لئے نرم خاہ اور کفار پر گراں ہوں گے۔)
سورة مائدہ کی اس آیت کی روشنی میں ثم لایکونوا امثالکم کے اجمال کی وضاحت کیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم تو اللہ سے عناد رکھنے والے اور اس کی رضا طلبی سے بیزار ہو اس وجہ سے خدا بھی تم سے بیزار ہے۔ تمہارے برعکس وہ اللہ سے محبت کرنے والے اور اس کی رضامندی کے طالب ہوں گے اس وجہ سے اللہ بھی ان سے محبت کرے گا۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم کفار کے لئے بہت ہی نرم چارہ ہو، تم ان سے دوستی کے طالب ہو اور وہ تم کو جس طرح چاہتے ہیں اپنے افراض کے لئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ برعکس اس کے وہ اہل ایمان کے لئے تو بیشک نہایت ہی کریم اور نیک خو ہوں گے لیکن کفار اگر ان کے اندر انگلی دھنسا نے اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تو ان کو پتھر کی چٹان پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی توفیق بخشی سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک
رحمان آباد 9 ستمبر 1976 ء، 13 رمضان المبارک 1396 ھ